Al-Haaqqa 69:29

Al-Haaqqa · from ayah 29

69:29

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْ ۟ۚهَلَكَ عَنِّىۡ سُلۡطٰنِيَهۡ‌ۚ‏

(ہائے) میری سلطنت خاک میں مل گئی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Gone from me is my authority."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:29

میرا سارا اقتدار ختم ہو گیا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(ہائے) میری سلطنت خاک میں مل گئی

— مولانا فتح محمد جالندہری

میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا

— مولانا محمد جوناگڑہی

میرا سارا زور مجھ سے جاتا رہا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

میرا سب زور جاتا رہا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مجھ سے میری قوت و سلطنت (بھی) جاتی رہی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

میری حکومت مجھ سے برباد ہوگئی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میری حکومت بھی برباد ہوگئی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

میرا اقتدار مجھ سے چھن گیا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہلاک (اور رخصت) ہوگیا مجھ سے میرا (جاہ و) اقتدارف

— مولانا اسحاق مدنی

میرا جاہ (بھی) مجھ سے گیا گزرا ہوا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

میرا اقتدار بھی مجھ سے چھن گیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی

— محترمہ رفعت اعجاز

and my authority has vanished.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

My power has gone from me for good.

— Muhammad Taqi Usmani

My power has gone from me for good.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"My power has gone from me!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Gone from me is my authority."

— Saheeh International

and our belief has destroyed us".

— Muhammad Sarwar

My authority is gone away from me.

— Muhammad Habib Shakir

There hath perished from me my authority.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 69:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–37

بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–33

سورة الْحَآقَّة 19 اصل الفاظ ہیں ھلک عنی سلطٰنیہ سلطان کا لفظ دلیل و حجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اقتدار کے لیے بھی۔ اگر اسے دلیل و حجت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جو دلیل بازیاں میں کیا کرتا تھا وہ یہاں نہیں چل سکتیں، میرے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کے لیے اب کوئی حجت نہیں رہی۔ اور اقتدار کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ دنیا میں جس طاقت کے بل بوتے پر میں اکڑتا تھا وہ یہاں ختم ہوچکی ہے۔ اب یہاں کوئی میرا لشکر نہیں، کوئی میرا حکم ماننے والا نہیں، میں ایک بےبس اور لاچار بندے کی حیثیت سے کھڑا ہوں جو اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) هَلَكَ عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْ ، سلطان کے لفظی معنے غلبہ و تسلط کے ہیں، اسی لئے حکومت کو سلطنت اور حاکم کو سلطان کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو مجھے دوسرے لوگوں پر بڑائی اور غلبہ حاصل تھا میں سب میں بڑا مانا جاتا تھا آج وہ بڑائی اور غلبہ بھی کچھ کام نہ آیا اور سلطان بمعنے حجت بھی لیا جاسکتا ہے تو معنے یہ ہوں گے کہ افسوس آج میرے ہاتھ میں کوئی حجت و سند نہیں جس کے ذریعہ عذاب سے نجات حاصل ہو سکے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ہَلَکَ عَنِّیْ سُلْطَانِیْہْ‘۔ ’ہَلَکَ‘ کے بعد ’عَنِّیْ‘ اس بات کا قرینہ ہے کہ ’ہَلَکَ‘ یہاں ’ذَھَبَ‘ یا ’بَعُدَ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ ’سُلْطَانٌ‘ کے معنی اقتدار کے ہیں یعنی وہ نہایت حسرت سے کہیں گے کہ وہ اقتدار بھی چھن گیا جس پر ہمیں ناز تھا اور جس کے گھمنڈ نے آج کے دن سے ہمیں اندھا بنائے رکھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 29–30

29۔ 1 یعنی جس طرح مال میرے کام نہ آیا، جاہ و مرتبہ اور سلطنت و حکومت بھی میرے کام نہ آئی۔ آج میں اکیلا ہی سزا بھگت رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–35

6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 28–29

ما اغنی عنی مالیہ (06 : 82) ” آج یہاں میرا مال میرے کچھ کام نہیں آیا “۔ بلکہ میرا سب کا سب اقتدار جاتا رہا ہے ، نہ مال مفید ہے اور نہ میرا اقتدار مفید رہا ہے۔ بات کی ٹون نہایت ہی حسرت اور یاس سے بھری ہوئی ہے۔ اور قرآن کریم نے اس کے لئے جو قافے چنے ہیں وہ اسے نہایت طویل کردیتے ہیں (جس طرح کوئی میت پر روتا ہے) یوں کہ آخر میں ہا۔ اور اس سے قبل یا۔ اور اس سے قبل الف۔ کتابیہ ، حسابیہ ، قاضیہ ، مالیہ اور سلطانیہ۔ الفاظ بھی ایک قسم کا مد ہے اور حسرت آمیز ہے۔ اور نہایت ہی فصیح وبلیغ انداز میں۔ یہ نہایت ہی حسرت ناک ٹون اس وقت ختم ہوتی ہے ، جب عدالت خداوندی سے ایک زور دار ڈگری کے ساتھ تعمیل کے احکام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 25–29

1 یعنی پیٹھ کی طرف سے بائیں ہاتھ میں جس کا اعمالنامہ دیا جائے گا، سمجھ لے گا کہ کم بختی آئی، اس وقت نہایت حسرت سے تمنا کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ میں اعمالنامہ نہ دیا جاتا اور مجھے کچھ خبر نہ ہوتی کہ حساب کتاب کیا چیز ہے کاش موت میرا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام کردیتی۔ مرنے کے بعد پھر اٹھنا نصیب نہ ہوتا۔ یا اٹھا تو اب موت آکر میرا لقمہ کرلیتی۔ افسوس وہ مال دولت اور جاہ و حکومت کچھ کام نہ آئی۔ آج ان میں سے کسی چیز کا پتہ نہیں۔ نہ میری کوئی حجت اور دلیل چلتی ہے نہ معذرت کی گنجائش ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 29–33

آیت 29 { ہَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ۔ } ”میرا اقتدار بھی مجھ سے چھن گیا۔“ میرے دنیوی اختیار و اقتدار اور میری شان و شوکت میں سے کچھ بھی باقی نہ بچا ‘ سب کچھ نیست و نابود ہوگیا۔ ایسے ہر شخص کے لیے فرشتوں کو حکم دیا جائے گا :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 29–31

18 سلطانیۃ سلطان کا لفظ بادشاہی اور اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس صورت میں اس سے مراد وہ علاقہ ہے جو کسی شخص یا ادارہ یا سلطان کے زیرنگین ہو اور اس پر اس کا تسلط ہو۔ سلطان کا دوسرا معنی حجت، دلیل اور برہان ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جتنی دلیلیں آخرت کے انکار پر دیا کرتا تھا۔ آج ان میں سے کوئی دلیل بھی مجھے یاد نہیں آرہی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 28–29

11۔ یعنی دنیا کا مال وجاہ لینے میں پڑا ہوا میں مست وغافل اور آخرت کی طرف سے بھولا ہوا رہتا تھا۔ ان کی بےحقیقتی آج عیاں ہورہی ہے۔ دنیا میں غفلت پیدا کرنے والی چیزیں یہی دو ہوتی ہیں۔ ایک مال دوسرے جاہ، اس لئے صراحت سے ذکر انہیں دونوں کا کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–37

ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھلک عنی سلطانیہ . میری حکومت اور سلطنت مجھ سے جاتی رہی یا وہ حجتیں جاتی رہیں جو دنیا میں پیش کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–32

(29۔ 32) اور میرا عذر بھی مجھ سے گیا گزرا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ اس کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دو پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش فرشتوں کے گزوں کے حساب سے ستر گز ہے جکڑ دو۔ یعنی اس کی شرم گاہ میں اسے داخل کر کے اس کے منہ سے نکال دو اور بقیہ زنجیر کو اس کی گردن پر لپیٹ دو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 25–29

واما من اوتی کتبہ بشمالہ…: جن لوگوں کو بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ نہایت پریشانی میں یہ باتیں کہیں گے جو ان آیات میں ذکر ہوئی ہیں۔ یہ بائیں ہاتھ میں اعمال نامے والے لوگ کافر ہوں گے، اس کی دلیل ایمان والوں کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، البتہ وہ ایمان والے جو کچھ عرصہ آگ میں رہیں گے ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ انہیں اعمال نامہ آگ میں جانے سے پہلے ملے گا یا آگ سے نکلنے کے بعد، راجح یہی ہے کہ آگ سے نکلنے کے بعد ملے گا، کیونکہ اعمال نامہ ملنے کے بعد اگر انہیں آگ میں بھیجا جا رہا ہو تو ان کے منہ سے ”ھآوم اقرء و کتبۃ“ کے خوشی کے الفاظ نہیں نکل سکتے۔ (التسہیل) ”یلیتھا کانت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–34

ھلک عنی سلطنیہ۔ حضرت ابن عباس نے یہ تفسیر بیان کی ہے : مجھ سے میری محبت ہلاک ہوگئی (1) ، یہ مجاہد، عکرمہ، سعدی اور ضحاک کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : یہاں سلطان سے مراد دنیا میں جو حکومت و بادشاہت تھی۔ یہ آدمی ایسا تھا جس کے ساتھی اطاعت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خذوہ فغلوہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک لاکھ فرشتے اس کی طرف جلدی کریں گے پھر اس کے ہاتھ کو اس کی گردن کے ساتھ جمع کردیا جائے گا اللہ تعالیٰ کے فرمان فغلوہ کا یہی مفوہم ہے اسے طوق کے ساتھ جکڑ دو ثم الجحیم صلوۃ۔ اسے یوں بنا دو کہ وہ جہنم کی آگ کو تاپتا رہے۔ ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعاً اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہاں کون…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

3۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہلک عنی سلطنیہ سے مراد ہے کہ میری حجت بھی جاتی رہی۔ 4۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہلک عنی سلطنیہ یعنی اس کی حجت بھی جاتی رہی۔ 5۔ سعید بن منصور نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت یلیتہا کان القاضیہ سے مراد ہے میری حجت یعنی اے کاش میری حجت فیصلہ کن ہوتی۔ 6۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ہلک عنی سلطنیہ یعنی ہر دلیل مجھ سے جاتی رہی اور انہوں نے مجھے کسی بھی قسم کا نفع نہیں دیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 28–29

﴿ مَاۤ اَغْنٰى عَنِّيْ مَالِيَهْۚ0028﴾ (میرے مال نے مجھے فائدہ نہ دیا) ﴿ هَلَكَ عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْۚ0029﴾ (دنیا میں جو اقتدار اور اختیار اور عہدہ اور منصب تھا وہ سب ختم ہوگیا اس نے بھی کوئی فائدہ نہیں دیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–29

10:۔ ” واما من اوتی کتبہ بشمالہ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ کافر اور مشرک کو جب اعمالنامہ بائیں میں دیا جائے گا تو وہ حسرت و یاس سے کہے گا کاش ! مجھے اعمالنامہ دیا ہی نہ جاتا اور نہ میں اپنا حساب کتاب ہی جانتا ! اے کاش ! موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور اس کے بعد مجھے دوبارہ نہ اٹھایا جاتا اور میں اپنے اعمالنامے کو نہ دیکھتا۔ آج نہ مال میرے کسی کام آیا اور نہ سلطنت ہی باقی رہی۔ الغرض اس پر مکمل مایوسی اور ناامیدی چھائی ہوگی۔ یہ معاملہ جزاء وسزا کے فیصلہ سے پہلے کا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–37

گذشتہ سے پیوستہ : قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔ بائیں ہاتھ والے : اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہَلَكَ عَنِّيْ سُلْطٰنِيَہْ۝ 29 ۚ هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–37

ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–29

مَـآ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ ۔ ھَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ ۔ (الحآقۃ : 28، 29) (میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔ میرا اقتدار مجھ سے چھن گیا۔ ) ہر مجرم نہایت حسرت سے کہے گا کہ جس مال کو میں نے نہایت اہتمام سے جمع کیا اور گن گن کر رکھا اور میرا گمان یہ تھا کہ مال کی قوت سے ہر کام کرایا جاسکتا اور ہر شخص کو خریدا جاسکتا ہے، لیکن آج وہ میرا مال بھی میرے کسی کام نہ آیا۔ اور پھر مجھے اپنے اقتدار پر کس قدر بھروسہ تھا، میں کسی کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہ تھا، میں اپنے لشکر کی قوت کو فیصلہ کن سمجھتا تھا اور اسی اقتدار کے بل بوتے پر اکڑتا پھرتا اور ظلم توڑتا تھا لیکن آج وہ سب کچھ مجھ سے چھن گیا۔ آج…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–37

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔ رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

29 : ھَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ (میرا جاہ مجھ سے گیا گزرا) میری حکومت اور لوگوں پر تسلط جاتا رہا اور میں فقیر و ذلیل رہ گیا۔ قول ابن عباس ؓ : میری دلیل مجھ سے گم ہوگئی یعنی وہ دلیل جس سے میں دنیا میں دلیل بنایا کرتا تھا وہ باطل ہوگئی۔ ربط : پس اللہ جل شانہ جہنم کے نگرانوں کو فرمائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–37

25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ھلک عنی سلطانیہ) ۔ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، سازوسامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم وہموم اور محتاجی نے آگھیرا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

25 اور ان کا اقتدار بھی ان کے کچھ کام نہ آسکے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص کہے گا اور کھو گیا مجھ سے میرا جاہ و اقتدار۔ جس پر مجھے بڑا گھمنڈ اور ناز تھا ‘ اور جس کو حاصل کرنے کیلئے میں طرح طرح کے پاپڑ بیلا کرتا تھا ‘ اور سلطان کا دوسرا معنی حجت اور دلیل بھی آتا ہے یعنی وہ کہے گا کہ میری وہ دلیل اور حجت بازی بھی مجھے آج کچھ کام نہ آسکی جس کی بدولت میں دنیا میں دوسروں کو دبا دیا کرتا تھا ‘ بہرکیف وہ یاس و حسرت بھرے انداز میں کہے گا کہ دنیا میں میرے جس اقتدار اور حجت بازی پر مجھے بڑا ناز ہوا کرتا تھا ‘ اور جس نے مجھے ایسا اوندھا اور اوندھا کردیا تھا ‘ کہ میں کسی ناصح کی بات کو سننے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 19–37

برُے اور اچھے لوگوں کا حال تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 29–31

ف 3 ” سلطان “ سے مراد دلیل و حجت اور دولت و حکومت چیز ہوسکتی ہے۔ مقاتل کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ اقتدار ہے جو ہر شخص کو اپنے ہاتھ پائوں پر ہوتا ہے چناچہ قیامت کے روز جب کافر کے ہاتھ پائوں اس کے خلاف گواہی دینگے تو وہ کہے گا ” ھلک عنی سلطانیہ “ آج میرا اقتدار مجھ سے جاتا رہا۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:29) ہلک عنی سلطنیہ : ہلک ماضی واحد مذکر غائب ہلک (باب ضرب) مصدر۔ وہ مرگیا وہ جاتا رہا۔ عنی حرف جار۔ ن وقایہ ی ضمیر متکلم مجرور۔ مجھ سے۔ سلطنیہ ۃ سکنہ کی۔ سلطانی مضاف مضاف الیہ ۔ میری حکومت۔ میری سلطنت، میری وہ حجتیں جو میں دنیا میں پیش کیا کرتا تھا۔ اور میری سلطنت مجھے سے جاتی رہی۔ میرا اقتدار مجھ سے جاتا رہا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–29

(ف 2) جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے وہ لوگ اس میں اول سے آخرت کی بدیاں لکھی ہوئیں دیکھیں گے تو اس وقت نہایت حسرت سے تمنا کریں گے کہ کاش ہمار ہاتھ میں اعمال نامہ نہ دیاجاتا اورہ میں کچھ خبر نہ ہوتی کہ حساب کتاب کا کیا چیز ہے کاش موت ہمارا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام کردیتی مرنے کے بعد پھر اٹھنانصیب نہ ہوتا ، یا اٹھا تھا تو اب موت آکر ہمارا لقمہ لیتی۔ افسوس وہ مال و دولت اور جاہ و حکومت کچھ کام نہ آئی، آج ان میں سے کسی چیز کا پتہ نہیں نہ ہماری حجت اور دلیل چلتی ہے نہ معذرت کی گنجائش ہے اس کے بعد ان دوزخیوں کا انجام بیان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–41

ف 1: ہم دنیا میں اپنے مال و دولت پر مفرور تھے ۔ اور سمجھتے تھے ۔ کہ یہ ثروت ۔ یہ کنوز اور خزائن ۔ ہمیں عاقبت میں بھی عزت وافتخار تخشیں گے ۔ اور جس طرح دنیا میں ہم تمول کی وجہ سے ہر نوع کی آسودگی حاصل کرلیتے ہیں ۔ شاید آخرت میں بھی اس کی بدولت جنت اور اس کی آسائشوں کو خریدا جاسکے گا ۔ مگر آہ کہ یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ ان کو پکڑلو ۔ اور طوق وسلاسل پہنادو ۔ اور پھر ایک طویل زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ کیونکہ ان لوگوں کا اللہ پر ایمان نہ تھا ۔ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی نہ تھی ۔ ان کے دل غریبوں کو دیکھ کر پسیجتے نہ تھے ۔ یہ اپنے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میرا غلبہ اور میری حکومت بھی مجھ سے جاتی رہی 29 ؎ (ھلک) واحد مذکر غائب ماضی ھلک اور تھکلۃ مصدر۔ وہ مر گیا ، وہ گیا گزرا۔ وہ جاتا رہا۔ عنی مجھ سے یعنی مجھ سے میرا مال بھی جاتا رہا۔ وہ گیا گزرا۔ سلطنیہ میری حکومت۔ سلطان مضاف ” ی “ ضمیر واحد متکلم مضاف الیہ ہ سکتہ کی ہے۔ یعنی میری حکومت بھی مجھ سے چھینی گئی اور اس جگہ وہ میرے کچھ کام نہ آئی۔ ان تاسف اور افسوس کے الفاظ پر ذرا غور تو کرو کہ وہ کس طرح پکار پکار کر کہتا ہے کہ کہاں گئے میرے دولت کے وہ انبار ؟ کہاں گئی میری حکومت اور سلطانی ؟ کہاں گئے میرے اعوان و انصار اور میرے درباری ؟ آج تو کوئی بھی میرے قریب نہیں آ رہا ہے۔ کہاں گیا اقتدار اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ (My power has gone from me for good...69:29). The word sultan, literally, yields the sense of 'power or overpowering'. Therefore, a government or state is referred to as saltanah and a ruler is referred to as sultan. In other words, when people gain power and political ascendancy in the world, they become proud, hold sway over other people, perpetrate injustices and commit atrocities. But in the Hereafter all that will vanish and be lost, and the unjust and proud rulers will have no army to obey or support them. They will be miserable and helpless creatures who…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–33

19 The word sultan of the Text is used both for an argument and for power and authority. If it is taken in the sense of an argument, the meaning would be: "The arguments that I used to give would not work here: here, I have no argument which 1 can present in self-defence." And if it is taken in the sense of power, it would imply: "The power of which I was so proud in the world is no more: I have no army here and there is none to obey me: 1 stand as a miserable, helpless creature, who can do nothing to defend himself."

Read the full tafseer →