Explained with ayahs 25–37
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
سورة الْحَآقَّة 18
یعنی دنیا میں مرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے معدوم ہوگیا ہوتا اور کوئی دوسری زندگی نہ ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
(آیت) هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ۔ لفظ ھاؤم، خذو کے معنے میں ہے جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگا گا کہ لو یہ میرا جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگے گا کہ لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
اصحاب الشمال کا حال: یہ ان لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ وہ دیکھتے ہی اپنے سر پیٹیں گے، کہیں گے کاش! ہمارا اعمال نامہ ہمیں دیا ہی نہ گیا ہوتا اور ہمیں یہ معلوم ہی نہ ہوا ہوتا کہ ہمارا حساب کیا ہے؛ کاش! وہی موت، جو دنیا میں آئی تھی، فیصلہ کن ہو گئی ہوتی! ضمیر کا مرجع موت ہے۔ قرینہ موجود ہو تو مرجع کے بغیر اس طرح ضمیر لانے میں کوئی عیب نہیں ہے اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27۔ 1 یعنی موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تاکہ یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
اب یہ شخص جان چکا ہے کہ اس کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور اس کا انجام کار آخر کار جہنم رسیدگی ہے۔ یہ اس میدان میں نہایت ہی حسرتناک انجام لئے کھڑا ہے۔ نہایت درجے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اور درج بالا تبصرہ وہ کرتا ہے۔
نہایت طویل منظر ہے اس شخص کا۔ اس کی حسرت کو ذرا اطوالت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس قدر کہ ایک قاری یہی سمجھتا ہے کہ یہ بیان ختم ہی نہ ہوگا۔ لہجہ بھی مایوس کن ہے لیکن یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کہ وہ بعض مناظر ومواقف کو طوالت دیتا ہے اور بعض کو چند جملوں میں بیان کردیتا ہے۔ اور اس طرح نفس انسانی پر نہایت ہی مفید اثرات چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ حسرت اور پشیمانی کی سوچوں کو ذرا اطوالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
1 یعنی پیٹھ کی طرف سے بائیں ہاتھ میں جس کا اعمالنامہ دیا جائے گا، سمجھ لے گا کہ کم بختی آئی، اس وقت نہایت حسرت سے تمنا کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ میں اعمالنامہ نہ دیا جاتا اور مجھے کچھ خبر نہ ہوتی کہ حساب کتاب کیا چیز ہے کاش موت میرا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام کردیتی۔ مرنے کے بعد پھر اٹھنا نصیب نہ ہوتا۔ یا اٹھا تو اب موت آکر میرا لقمہ کرلیتی۔ افسوس وہ مال دولت اور جاہ و حکومت کچھ کام نہ آئی۔ آج ان میں سے کسی چیز کا پتہ نہیں۔ نہ میری کوئی حجت اور دلیل چلتی ہے نہ معذرت کی گنجائش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
آیت 27{ یٰـلَیْتَہَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ۔ } ”اے کاش کہ وہی موت قصہ پاک کردینے والی ہوتی !“
کاش کہ وہی موت جو مجھے دنیا میں آئی تھی فیصلہ کن ہوتی ‘ اس موت کے بعد میں معدوم ہوگیا ہوتا اور میرے دوبارہ زندہ ہونے کی نوبت نہ آتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
17 بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے والے کی حسرت ویاس :۔ جس طرح مومن کو مرنے کے ساتھ ہی ایسے واضح اشارات ملنے لگتے ہیں کہ اس کا انجام کیسا ہونے والا ہے اسی طرح اللہ کے منکروں کو بھی موت کے ساتھ ہی اپنا انجام معلوم ہونے لگتا ہے۔ جب اسے اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ نہایت حسرت و یاس سے کہے گا کہ کاش مجھے میرے عملوں کی سزا اعمال نامہ دیئے بغیر ہی دے دی جاتی۔ اور اس طرح سب لوگوں کے سامنے میری رسوائی نہ ہوتی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے یہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میرا نامہ اعمال اس قدر احتیاط کے ساتھ محفوظ کیا جارہا ہے کیا اچھا تھا کہ مرنے کے ساتھ ہی میرا سارا قصہ پاک ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
10۔ (ہمیشہ ہمیش کیلئے اور آج اس جزاء وسزا کی نوبت ہی نہ آتی) یہ کلمات اہل دوزخ کی زبان پر انتہائی حسرت ویاس کی حالت میں آئیں گے۔ (آیت) ” واما من ..... بشمالہ “۔ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا دوزخی ہونے کی علامت ہوگا۔ (آیت) ” یلیتھا “۔ ضمیرھا موت کی جانب ہے۔ اگرچہ لفظ موت مذکور نہیں۔ شدت ظہور کے باعث ضرورت بھی اس کے ذکر کی نہ تھی۔ الضمیر یعود الی الموۂ الاولی وھی وان لم تکن مذکورۃ الاانھا لظھورھا کانت کالمذکور (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–37
ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →یلیتھا . یعنی اے کاش ! وہ نفخہ یا دنیوی زندگی کے بعد موت یا زندگی کے بعد عدم کی حالت۔
کانت القاضیۃ . کام تمام کردینے والی ہوتی ‘ زندگی کو بالکل ختم کردیتی ہے ‘ اس کے بعد مجھے زندہ ہی نہ
کیا جاتا۔ قتادہ نے کہا : دنیا میں اس کے لیے ناگوار ترین چیز موت تھی مگر قیامت کے دن وہ موت کی تمنا کرے گا۔ اعمال نامہ نہ ملنے اور حساب نہ جاننے کی تمنا سے درپردہ مراد ہے دوبارہ زندہ نہ ہونا اور یٰلیتھا کانت القاضیۃ میں صراحت کے ساتھ عدم بعث کی تمنا ہے۔ اس لیے دونوں جملوں کا مضمون ایک ہی ہوا (ہاں اوّل درپردہ اظہار ہے اور دوسرا صراحۃً ) اور دوسرا جملہ اوّل جملہ کی تاکید ہوگیا ‘ اسی وجہ سے حرف عطف کو ذکر نہیں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(27۔ 28) اور موت کی تمنا کر کے کہے گا کہ کیا اچھا ہوتا پہلی موت ہی میرا خاتمہ کرچکی ہوئی میرا دنیا میں جمع کیا ہوا مال عذاب خداوندی کے سامنے کچھ کام نہ آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
واما من اوتی کتبہ بشمالہ…: جن لوگوں کو بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ نہایت پریشانی میں یہ باتیں کہیں گے جو ان آیات میں ذکر ہوئی ہیں۔ یہ بائیں ہاتھ میں اعمال نامے والے لوگ کافر ہوں گے، اس کی دلیل ایمان والوں کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، البتہ وہ ایمان والے جو کچھ عرصہ آگ میں رہیں گے ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ انہیں اعمال نامہ آگ میں جانے سے پہلے ملے گا یا آگ سے نکلنے کے بعد، راجح یہی ہے کہ آگ سے نکلنے کے بعد ملے گا، کیونکہ اعمال نامہ ملنے کے بعد اگر انہیں آگ میں بھیجا جا رہا ہو تو ان کے منہ سے ”ھآوم اقرء و کتبۃ“ کے خوشی کے الفاظ نہیں نکل سکتے۔ (التسہیل)
”یلیتھا کانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
کلووا شربوا انہیں یہ کہا جائے گا : کھائو اور پیو۔ ھنیا مبارک ہو اس میں کوئی تکرار اور بدمزگی نہ ہوگ ی۔ بما اسلفتم کے بعد کلوا فرمایا کیونکہ پہلے فرمایا، فاما من اوتی من اپنے ضمن میں جمع کا معنی لئے ہوئے ہے۔ ضحاک نے یہ ذکر کیا ہے کہ یہ آیت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالسلاد مخزوی کے حق میں نازل ہوئی، یہ مقاتل کا قول ہے۔ وہ آیت جو اس کے بعد آرہی ہے وہ اس کے بھائی اسود بن عبدالاسد کے حق میں نازل ہوئی، یہ حضرت ابن عباس اور ضحاک کا قول ہے۔ یہ ثعلبی نے کہا ہے : یہ اور اس کا بھائی ان آیات کے نزول کا سبب ہوگا معنی تمام اہل شقاوت اور اہل سعادت کو عام ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کلوا واشربوا دلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
1۔ عبد بن حمید قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یلیتہا کانت القاضیۃ کاش وہ موت خاتمہ کرنے والی ہوتی یعنی وہ موت کی تمنا کریں گے۔ حالانکہ ان کے نزدیک دنیا میں موت سے بڑھ کوئی چیز زیادہ ناپسندیدہ نہ تھی۔ ہلک عنی سلطنیہ۔ مجھ سے میری حکومت بھی جاتی رہی اللہ کی قسم ہر کوئی جو جہنم میں داخل ہو وہ بستی کا امیر تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا اور ان کو مسلط کیا ان کے بدنوں پر اور ان کو اپنی اطاعت کا حکم دیا اور ان کو منع کیا اپنی نافرمانی سے۔
2۔ ہناد نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت یلیتہا کانت القاضیۃ یعنی اے کاش موت ہوتی اور اس کے بعد زندگی نہ ہوتی۔
Read the full tafseer →[يٰلَيْتَهَا كَانتِ : اے کاش وہ (موت ہی) ہوتی ][ الْقَاضِيَةَ : فیصلہ کرنے (قصّہ چکانے) والی ]
(آیت۔ 27) کَانَتْ کا اسم اس میں شامل ھِیَ کی ضمیر ہے جب کہ اَلْقَاضِیَۃَ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
بائیں ہاتھ میں اعمالنامے ملنے والوں کی بدحالی :
اس کے بعد ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا جن کے بائیں ہاتھ میں کتاب دی جائے گی فرمایا ﴿ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ 1ۙ۬ فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِيَهْۚ0025 وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْۚ0026﴾ (اور جس کے بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا تو وہ کہے گا کیا اچھا ہوتا کہ میری کتاب مجھے نہ دی جاتی اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے)
جس شخص کے حساب میں گڑبڑ ہو وہ یہی چاہتا ہے کہ میرا حساب مجھے نہ دکھایا جاتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے تو اچھا ہوتا۔ ﴿يٰلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَۚ0027﴾ (ہائے كاش دنیا میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
10:۔ ” واما من اوتی کتبہ بشمالہ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ کافر اور مشرک کو جب اعمالنامہ بائیں میں دیا جائے گا تو وہ حسرت و یاس سے کہے گا کاش ! مجھے اعمالنامہ دیا ہی نہ جاتا اور نہ میں اپنا حساب کتاب ہی جانتا ! اے کاش ! موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور اس کے بعد مجھے دوبارہ نہ اٹھایا جاتا اور میں اپنے اعمالنامے کو نہ دیکھتا۔ آج نہ مال میرے کسی کام آیا اور نہ سلطنت ہی باقی رہی۔ الغرض اس پر مکمل مایوسی اور ناامیدی چھائی ہوگی۔ یہ معاملہ جزاء وسزا کے فیصلہ سے پہلے کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
گذشتہ سے پیوستہ :
قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔
بائیں ہاتھ والے :
اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ…
Read the full tafseer →يٰلَيْتَہَا كَانَتِ الْقَاضِيَۃَ 27 ۚ
ليت
يقال : لَاتَهُ عن کذا يَلِيتُهُ : صرفه عنه، ونقصه حقّا له، لَيْتاً. قال تعالی: لا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمالِكُمْ شَيْئاً [ الحجرات/ 14] أي : لا ينقصکم من أعمالکم، لات وأَلَاتَ بمعنی نقص، وأصله : ردّ اللَّيْتِ ، أي : صفحة العنق . ولَيْتَ : طمع وتمنٍّ. قال تعالی: لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَلِيلًا [ الفرقان/ 28] ، يَقُولُ الْكافِرُ يا لَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] ، يا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا [ الفرقان/ 27] ، وقول الشاعر : ولیلة ذات دجی سریت ... ولم يلتني عن سراها ليت
«1» معناه : لم يصرفني عنه قولي : ليته کان کذا .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–37
ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ
1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ
2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیْ کِتٰـبَہٗ بِشِمَالِـہٖ 5 لا فَیَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰـبِیَـہْ ۔ وَلَمْ اَدْرِمَا حِسَابِیَہْ ۔ یٰـلَیْتَھَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ ۔ (الحآقۃ : 25 تا 27)
(اور رہا وہ شخص جس کو اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا، کاش میرا اعمال نامہ مجھے دیا ہی نہ گیا ہوتا۔ اور مجھے خبر ہی نہ ہوتی کہ کیا ہے میرا حساب۔ اے کاش ! وہی موت فیصلہ کن ہوئی ہوتی۔ )
اصحابُ الشمال کا حال
اس سے پہلے ان لوگوں کا حال بیان ہوا ہے جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ اب ان لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
فہم القرآن
ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔
رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام…
Read the full tafseer →27 : یٰلَیْتَہَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ (کیا اچھا ہوتا کہ موت ہی خاتمہ کرچکتی) ہائے افسوس ! وہ موت جو مجھ پر واقعہ ہوئی وہ میرے معاملے کو ختم کرنے والی ہوتی اور اس کے بعد میں نہ اٹھایا جاتا۔ اور مجھے اس چیز کا سامنا ہے۔ یہ سامنا نہ کرنا پڑتا۔ القاضیہؔ معاملے کا فیصلہ کرنے والی۔
Read the full tafseer →26 ۔” ولم ادر ما حسابیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(ولم ادر ماحسابیہ) ۔ اور کاش میں بھولا بسرا ہوگیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا، (یلیتھا کانت القاضیہ) کاش میری موت، ایسی موت ہوتی ہے جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
23 اصحاب الشمال کے انجام اور ان کی بدبختی کا ذکر وبیان : سو اس سے اصحاب الشمال یعنی بائیں بازو والوں کی بدبختی اور ان کی یاس و حسرت کا منظر پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ یاس و حشرت کے مارے کہے گا کہ اے کاش مجھے میرا نامہ اعمال دیا ہی نہ گیا ہوتا اور مجھے پتہ ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے ؟ اور میرے لئے میری وہ دنیا والی موت ہی خاتمہ کردینے والی ہوجاتی ‘ تاکہ مجھے اس ذلت اور رسوائی سے دوچار نہ ہونا پڑتا ‘ مگر بےوقت کے اس پچھتاوے سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے اور اس کی تیزی کے ‘ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–37
برُے اور اچھے لوگوں کا حال
تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 2 یعنی کاش ! میں مرنے کے بعد دو برہ زندہ ہی نہ کیا جاتا۔
Read the full tafseer →(69:27) یلیتھا : یاء حرف نداء ۔ منادی محذوف۔ لیت حرف مشبہ بالفعل۔ ھا اسم اے قوم کاش وہ ۔۔ ھا سے مراد وہ نفخہ یا دنیاوی زندگی کے بعد موت ہے یا زندگی کے بعد عدم کی حالت ہے۔
کانت القاضیۃ : کانت ماضی واحد مؤنث غائب ۔ کون (باب نصر) مصدر۔ وہ ہوگئی وہ ہوگئی ہوتی۔ (ماضی تمنائی) کانت کا اسم فاعل یل تھا کی ھا ہے یعنی دنیاوی زندگی کے بعد موت یا عدم کی حالت۔
القاضیۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث، قضاء (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی فیصلہ کرنا۔ طے کرنا۔ آخری قطعی حکم اور قطعی عمل آیت ہذا میں عملی قضاء مراد ہے؛ یعنی ختم کردینے والی ایسی موت جس کے بعد زندگی نہ ہو۔ کام تمام ہوجائے۔ القاضیۃ خبر ہے کانت کی لہٰذا منصوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
(ف 2) جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے وہ لوگ اس میں اول سے آخرت کی بدیاں لکھی ہوئیں دیکھیں گے تو اس وقت نہایت حسرت سے تمنا کریں گے کہ کاش ہمار ہاتھ میں اعمال نامہ نہ دیاجاتا اورہ میں کچھ خبر نہ ہوتی کہ حساب کتاب کا کیا چیز ہے کاش موت ہمارا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام کردیتی مرنے کے بعد پھر اٹھنانصیب نہ ہوتا ، یا اٹھا تھا تو اب موت آکر ہمارا لقمہ لیتی۔ افسوس وہ مال و دولت اور جاہ و حکومت کچھ کام نہ آئی، آج ان میں سے کسی چیز کا پتہ نہیں نہ ہماری حجت اور دلیل چلتی ہے نہ معذرت کی گنجائش ہے اس کے بعد ان دوزخیوں کا انجام بیان فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–31
[12] یعنی دنیا میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
معتوب گروہ
2: یہ معتوب لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ہوگا ۔ اپنی ذلت وتحقیر کا آپ اعلان ہوں گے یہ جب دیکھیں گے ۔ کہ اس دفتر اکمال میں کوئی خوشخبری نہیں ہے ۔ تو ازراہ تحسر کہیں گے ۔ کہ اے کاش ہم کو یہ نہ ملا ہوتا ۔ اور ہم اپنے اعمال سے آگاہ نہ ہوتے ۔ اے کاش موت کے بعد یہ لمحات زندگی نہ عطا کئے جاتے ۔ اور موت ہی ہمارے لئے فیصلہ کن ثابت ہوتی
حل لغات : ھلیا ۔ خوشگواری کے ساتھ ۔ مزے کے ساتھ ۔
Read the full tafseer →(27) کیا اچھا ہوتا کہ وہ پہلی موت ہی آخری فیصلہ کرنے والی ہوتی۔ یعنی موت اول کے بعد دوبارہ بعث اور زندہ ہونا نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ف 1۔ یعنی میں قیامت و حساب کا معتقد تھا، مطلب یہ کہ میں ایمان و تصدیق رکھتا تھا، خدا نے اس کی برکت سے آج مجھ کو نوازا۔
Read the full tafseer →ہائے افسوس مجھ کو ، میری موت مجھے ختم کرگئی ہوتی
27 ؎ (القاضیۃ) اسم فاعل واحد مؤنث۔ اس جگہ عمل قضا مراد ہے یعنی ختم کردینے والی ایسی موت جس کے بعد زندگی نہ ہو اور کام تمام ہوجائے۔ (محل ، حازن) یعنی ہائے افسوس کہ میری زندگی کا قصہ پاک کردیا جاتا اور مجھے کبھی دوبارہ زندگی نہ ملتی۔ تو تو بڑے زور و شور سے کہتا تھا کہ یہی دنیا کی زندگی بس زندگی ہے اور آخرت و اخرت کچھ نہیں اور اب جو پیش آنا تھا وہ آگیا تو اب تو کہتا ہے کہ کاش میرا کام تمام کردیا گیا ہوتا اور مجھے دوبارہ زندگی نہ ملتی۔ اب تیرے افسوس سے تو کچھ نہیں ہوگا اور اگر تو خودکشی کرنا چاہے تو بھی نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ (Come here, read my book… 69:19). The word ha'umu, literally means, "come" but, idiomatically, it is used in the sense of the plural imperative verb khudhu "take'. In other words, one who is given his record book in his right hand, he will be elated and, looking at the people around him, will say 'Here, take my account book and read it!'
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
18 That is, "I should have become extinct after death in the world and should have experienced no other life after death."
Read the full tafseer →