Explained with ayahs 19–24
دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بیحد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لئے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہوگئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں، پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں، عبدالرحمٰن بن زید فرماتے ہیں (ھا) کے بعد لفظ (ؤم) زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ (ھاؤم) معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
سورة الْحَآقَّة 14
یعنی وہ اپنی خوش قسمتی کی وجہ یہ بتائے گا کہ وہ دنیا میں آخرت سے غافل نہ تھا بلکہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ ایک روز اسے خدا کے حضور حاضر ہونا اور اپنا حساب دینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
(آیت) هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ۔ لفظ ھاؤم، خذو کے معنے میں ہے جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگا گا کہ لو یہ میرا جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگے گا کہ لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔
Read the full tafseer →یعنی اس طرح کے باغوں میں انھیں اتار کر یہ کہا جائے گا کہ لو اب آرام سے کھاؤ پیو۔ یہ کھانا پینا تمہارے لیے رچتا پچتا اور راس آنے والا ہو گا۔ دنیا کی نعمتیں تو وبال بن سکتی ہیں اگر ان میں اعتدال ملحوظ نہ رہ سکے یا ان کا صحیح شکر نہ ادا ہو سکے لیکن ان نعمتوں میں اس طرح کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ لفظ ’ہَنِیْئًا‘ کی لغوی تحقیق اور نحوی حیثیت سورۂ طور کی تفسیر میں واضح کی جا چکی ہے۔
’بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِی الْأَیَّامِ الْخَالِیَۃِ‘۔ یعنی یہ تمہیں جو کچھ ملا ہے یہ تمہارے دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا صلہ ہے۔ یہاں تمہیں اب کچھ بھی نہیں کرنا ہے۔ تم اس کے پورے حق دار ہو اور یہ تمہارے لیے ہمیشہ باقی رہنے والی…
Read the full tafseer →24۔ 1 یعنی دنیا میں اعمال صالحہ کئے، یہ جنت ان کا صلہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
اس کے بعد علی الاعلان بتادیا جائے گا کہ ان لوگوں کے لئے اللہ نے یہ یہ نعمتیں تیار کررکھی ہیں۔ یہاں اس کے سامنے ایسی حسی اور مادی نعمتیں گنوائی جارہی ہیں۔ جن کو عرب اچھی طرح مادی ترقی کا کمال سمجھتے تھے۔ اس وقت لوگ چونکہ دور جاہلیت سے ابھی ابھی ایک بدوی معاشرہ سے نکل کر آئے تھے ، اس لئے ان کے مزاج کے مطابق بعض پسندیدہ باتیں یہاں گنوائی جاتی ہیں۔ کیونکہ نہ تو وہ زیادہ ترقی یافتہ تھے اور نہ جنت کی نعمتوں کا کوئی تصور کرسکتا ہے۔
فھوفی ............................ الخالیة (42) (06 : 12 تا 42) پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا ، عالی مقام جنت میں ، جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے…
Read the full tafseer →10 یعنی دنیا میں تم نے اللہ کے واسطے اپنے نفس کی خواہشوں کو روکا تھا اور بھوک پیاس وغیرہ کی تکلیفیں اٹھائی تھیں، آج کوئی روک ٹوک نہیں، خوب رچ پچ کر کھاؤ پیو، نہ طبیعت منغصّ ہوگی نہ بدہضمی نہ بیماری نہ زوال کا کھٹکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
آیت 21 { فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ۔ } ”پس وہ پسندیدہ زندگی بسر کرے گا۔“
وہ خوش نصیب دل پسند عیش میں ہوگا۔ اسے ایسی زندگی عطا کی جائے گی جس میں ہر طرح کی رضا ہی رضاہو گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
16 داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے والے کی خوشی کا منظر :۔ چونکہ مجھے یہ یقین تھا کہ مجھ سے میرے اعمال کی بازپرس ہونے والی ہے۔ لہذا میں نے دنیا میں محتاط زندگی گزاری تھی۔ اور ہر ممکن کوشش کی تھی کہ مجھ سے اللہ کی کوئی نافرمانی نہ ہونے پائے۔ ایسے شخص کو فیصلہ کے بعد بلند وبالا باغات میں رہائش کے لیے جگہ ملے گی، کھانے کو لذیذ، مزیدار اور وافر اشیاء اور باغوں کے درختوں کے پھل ان کے سامنے جھک رہے ہونگے۔ تاکہ انہیں اپنے حسب پسند پھل توڑنے کے لیے معمولی سی زحمت بھی گوارا نہ کرنی پڑے۔ یہ سب کچھ پیش کرنے کے بعد انہیں کہا جائے گا کہ خوب مزے اڑاؤ۔ جہاں سے جی چاہے کھاؤ اور جتنا جی چاہے بلاتکلف کھاؤ۔ دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
9۔ (یعنی دنیا میں) (آیت) ” قطوفھا .... دانیۃ “۔ یعنی جنت میں میوہ دار درختوں کے لذیذ پھل اور خوشے اہل جنت پر جھکے ہوئے ہر حال میں ان سے ایسے قریب ہوں گے کہ وہ بیٹھے لیٹے، کھڑے، جس وضع وحالت میں بھی چاہیں گے انہیں پاسکیں گے۔ (آیت) ” فی عیشۃ راضیۃ “۔ جنت کی زندگی ہر قسم کے فکر وترود، مرض ومصیبت، زوال وموت عیب ونقص سے قطعا خالی ہوگی، اس ساری کیفیت کو ایک مختصر لفظ (آیت) ” عیشۃ راضیۃ “۔ تعبیر فرمایا دیا گیا ہے۔ (آیت) ” بما اسلفتم “۔ اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ اعمال طاعت موجبات اجر وصلہ ہوتے ہیں، اور اہل جنت کو جو صلہ ملے گا اس کے وہ مستحق ہوں گے، یدل علی انھم انما استحقوا ذلک الثواب بسبب عملھم وذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–37
ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →کلوا واشربوا ھنیئا . ھنئ : ایسی چیز جس کے حصول میں نہ کچھ دشواری ہو نہ ناگواری کی تکلیف۔ اس جملہ سے
پہلے قول محذوف ہے یعنی ان سے کہا جائے گا خواشگواری کے ساتھ بغیر کسی تکلیف کے کھاؤ ‘ پیو۔ ھو ضمیر اگرچہ واحد کی ہے اور کلوا اور اشربو جمع کے صیغے ہیں لیکن معنی کے لحاظ سے ھو جمع ہے اس لیے کلو اور اشربوا کہنا صحیح ہے۔ اس صورت میں یہ جملہ ھُوَ کی خبر دوئم ہوگی اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو۔
بما استلفتم . اپنے سابق نیک اعمال کے صلہ میں کھاؤ ‘ پیو۔ سلف میں بمعنی متقدم (سابق) ۔
فی الایام الخالیۃ . یعنی دنیا کے اندر گزشتہ ایام میں خالی وہ زمانہ اور مکان جس کا کوئی بھرنے والا نہ ہو۔ خالی زمانہ
میں جس…
Read the full tafseer →اور حکم خداوندی ہوگا کہ ان میوؤں کو کھاؤ اور نہروں سے پانی پیو اس سے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوگی اور نہ موت آئے گی ان نیک اعمال کے صلہ میں یا یہ کہ نماز و روزہ کے صلہ میں جو کہ تم نے گزشتہ ایام دنیا میں کیے ہیں۔
Read the full tafseer →کلو واشربوا ھنیٓئاً …:”ھنیٓئًا ”ھنو یھنو“ (ک) سے ”فعیل“ کے وزن پر ہے، جس کے حاصل ہونے میں کوئی مشقت ہو نہ کھانے کے بعد معدے پر کوئی بوجھ ہو، ادھر کھایا ادھر ہضم ہوا۔ ”بما اسلفتم“ ان اعمال کی وجہ سے جو تم نے آگے بھیجے۔ معلوم ہوا نیک اعمال جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
کلووا شربوا انہیں یہ کہا جائے گا : کھائو اور پیو۔ ھنیا مبارک ہو اس میں کوئی تکرار اور بدمزگی نہ ہوگ ی۔ بما اسلفتم کے بعد کلوا فرمایا کیونکہ پہلے فرمایا، فاما من اوتی من اپنے ضمن میں جمع کا معنی لئے ہوئے ہے۔ ضحاک نے یہ ذکر کیا ہے کہ یہ آیت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالسلاد مخزوی کے حق میں نازل ہوئی، یہ مقاتل کا قول ہے۔ وہ آیت جو اس کے بعد آرہی ہے وہ اس کے بھائی اسود بن عبدالاسد کے حق میں نازل ہوئی، یہ حضرت ابن عباس اور ضحاک کا قول ہے۔ یہ ثعلبی نے کہا ہے : یہ اور اس کا بھائی ان آیات کے نزول کا سبب ہوگا معنی تمام اہل شقاوت اور اہل سعادت کو عام ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کلوا واشربوا دلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
36۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلوا واشربو ہنیئا بما اسلفتم فی الایام الخالیۃ کھاؤ اور یو ان کاموں کے بدلے میں جو تم نے گذشتہ دنوں میں کئے تھے۔ یعنی یہ تمہارے یہ دن ایام خالیہ اور فنا ہونے والے ہی۔ جو باقی رہنے والے ایام تک پہنچانے والے ہیں پس تم ان دنوں عمل کرکے خیر اور نیکی آگے بھیجو اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو اور اللہ کے سوا کوئی قوت اور طاقت والا نہیں۔
اہل جنت کی مہمان نوازی
37۔ ابن المنذر نے یوسف بن یعقوب حنفی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ اے میرے دوستو ! طویل عرصہ گزر گیا کہ میں تمہاری طرف دنیا میں متوجہ نہیں…
Read the full tafseer →[كُلُوْا وَاشْرَبُوْا : (کھا جائے گا) تم لوگ کھائو اور پیو ][ هَنِيْۗئًۢا : خوشگوار ہوتے ہوئے ][ بِمَآ اَسْلَفْتُمْ : بسبب اس کے جو تم لوگوں نے آگے بھیجا ][ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ : گزرنے والے دنوں میں ]
Read the full tafseer →﴿كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِيْٓـًٔۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 0024﴾ (ان سے کہا جائے گا کہ کھاؤ پیو تمہارا کھانا پینا مبارک ہے اس وجہ سے کہ تم نے گزشتہ دنوں میں یعنی دنیا میں اچھی زندگی گزاری تھی اور اعمال صالحہ اختیار کیے تھے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
9:۔ ” فاما من اوتی کتبہ بیمینہ “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے “ ” ھاءم اقرؤوا کتابیہ “ سے تنازع فعلین میں بصریوں کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔ بصریوں کے نزدیک عمل دوسرے فعل کو دیا جاتا ہے اور پہلے فعل کا معمول مقدر ہوتا ہے اور کو فیوں کے نزدیک اس کے برعکس۔ یہاں بصریوں کے مذہب کے مطابق کتابیہ، اقرء وا کا مفعول ہے اگر وہ ھاءم کا مفعول ہوتا تو اقرء وا کا مفعول ضمیر ہوتا اور اصل عبارت اقرء وہ ہوتی، کیونکہ جہاں مفعول کا اضمار ممکن ہو وہاں ترک اضمار اولی اور مختار کے خلاف ہے اس طرح کو فیوں کا مذہب اختیار کرنے میں خلاف مختار کا ارتکاب لازم آتا ہے (مظہری۔ روح۔ بیضاوی) ۔ کتابیہ، حسابیہ، مالیہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
گزشتہ سے پیوستہ :
اس سورة کا موضوع جزائے عم ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ پہلی آیات میں کا ذکر فرمایا۔ چند گزشتہ اقوام کا ذکر کیا جو قیامت کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حاقہ واقع کیا اور یہ دو قسم سے وار ہوتا ہے۔ ایک ابتلا ہوتی ہے ، وقتی طور پر تکلیف آئی اور دور ہوگئی۔ اس کے بعد پھر موقع مل گیا۔ سز کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ مذکورہ اقوام کو اس دنیا میں ہی سزا ملی اور پھر اٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عالم برزخ میں سزا پا رہے ہیں۔ ان اقوام میں شرک و کفر تھا اور انکا رسالت بھی ، یہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ تو یہ قیامت کے جھٹلانے کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ دنیا میں ہی…
Read the full tafseer →كُلُوْا وَاشْرَبُوْا ہَنِيْۗـــــًٔــــۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَۃِ 24
أكل
الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35]
( ا ک ل ) الاکل
کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔
شرب
الشُّرْبُ : تناول کلّ مائع، ماء کان أو غيره . قال تعالیٰ في صفة أهل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–37
ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ
1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ
2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…
Read the full tafseer →کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ھَنِیْئًا م بِمَـآ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَۃِ ۔ (الحآقۃ : 24)
(کھائو اور پیو مزے سے اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے۔ )
ھَنِیْئًا … فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ اس کے معنی ہیں ” راس آنے والی اور مزیدار چیز۔ “ بعض اہل علم نے اسے حال کے مفہوم میں لیا ہے۔ لیکن بعض اہل علم کے نزدیک اس آیت میں یہ مصدر محذوف کی صفت واقع ہے۔ پورا جملہ اس طرح ہے کُلُوْا وَاشْرَبُوْا اَکَلاً وَ شَرْبًا ھَنِیًٔا۔
جنت کی نعمتوں کی خصوصیت اور اہل جنت کا اعزاز
اہلِ جنت کو بلند وبالا باغوں میں اتار کر یہ کہا جائے گا کہ تم نہایت اطمینان، خوشدلی اور چاہت سے جنت کی نعمتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا اور رب ذوالجلال کے عرش کو آٹھ ملائکہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
اسرافیل کے پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد زمین و آسمانوں کی موجودہ حالت ختم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو نئی صورت میں بنائیں گے جن کے بارے میں ارشاد فرمایا :
” اس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی بدل دیا جائے گا اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ (ابراہیم : 48)
اللہ تعالیٰ کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس حالت میں رب ذوالجلال زمین پر جلوہ افروز ہوں گے جس طرح اس کی ذات کے لائق ہے۔ ہمیں یہ بات سوچنے سے…
Read the full tafseer →24 : ان کو کہا جائے گا۔ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ھَنِیْئًام (تم کھائو اور پیو مزے کے ساتھ) کھانا اور پینا خوشگوار۔ دونوں میں کوئی ناگواری نہ ہوگی اور نہ ایذاء۔ نمبر 2۔ ھنیئًا کو مصدر مان لیں تو یہ مفعول مطلق ہوگا۔ ھنئتم ھنیئًا تم کھانے سے لطف اندوزہو، لطف اندوزہونا۔ بِمَآ اَسْلَفْتُمْ (ان اعمال کے صلہ میں جو تم نے گزشتہ دنوں میں کئے) جو اعمال صالحہ کر کے تم نے آگے بھیجے۔ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَۃِ (صلہ کی امید سے گزشہ ایام میں) خالیہؔ دنیا میں گزرے ہوئے دنوں میں۔ قول ابن عباس ؓ : یہ روزہ داروں کے متعلق ہے۔ یعنی تم کھائو اور پیو اس کے بدلے میں جو تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کیلئے اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →23 ۔” قطوفھا دانیۃ “ اس کے پھل قریب ہیں حاصل کرنے والے کے لئے ان کو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے حاصل کرلے گا اور جیسے چاہیں گے کاٹیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
19۔ 24۔ ابو داؤود 1 ؎ کی حضرت عائشہ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حشر کے دن تین موقعوں پر لوگوں کو بڑی سخت پریشانی ہوگی۔ ان تین موقعوں پر ایک موقع تو یہی نامہ اعمال کے تقسیم ہونے کا ہے اس وقت ہر ایک شخص کے دل میں یہ خوف ہوگا کہ دیکھئے اس کا اعمال نامہ سیدھے ہاتھ میں آتا ہے یا الٹے ہاتھ میں۔ باقی دو موقعے اعمال کے تولے جانے اور پل صراط سے گزرنے کے وقت کے ہیں۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے ان میں بعض تو ایسے ہوں گے جن کی نیکیاں خود ہی زیادہ اور بدیاں کم ہوں گی اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کی بدیاں اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کے…
Read the full tafseer →(ھنیئا) ۔ کسی تکدر اور ناگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمہیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے (بما اسلفتم فی الایام الخالیہ) ۔ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ، زکوۃ، حج، مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت کی اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
23 اصحاب الشمال کے انجام اور ان کی بدبختی کا ذکر وبیان : سو اس سے اصحاب الشمال یعنی بائیں بازو والوں کی بدبختی اور ان کی یاس و حسرت کا منظر پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ یاس و حشرت کے مارے کہے گا کہ اے کاش مجھے میرا نامہ اعمال دیا ہی نہ گیا ہوتا اور مجھے پتہ ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے ؟ اور میرے لئے میری وہ دنیا والی موت ہی خاتمہ کردینے والی ہوجاتی ‘ تاکہ مجھے اس ذلت اور رسوائی سے دوچار نہ ہونا پڑتا ‘ مگر بےوقت کے اس پچھتاوے سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے اور اس کی تیزی کے ‘ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–37
برُے اور اچھے لوگوں کا حال
تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ف 12 یعنی اتنے نیچے ہوں گے کہ آدمی انہیں ہاتھ سے توڑے گا۔
Read the full tafseer →(69:24) کلوا واشربوا : ای قیل لہم کلوا واشربوا۔ ان سے کہا جائے گا کھاؤ اور پیو۔ ھو کی ضمیر (آیت 21 متذکرۃ الصدر) اگرچہ واحد کی ہے اور کلوا واشربوا جمع کے صیغے ہیں۔ لیکن معنی کے لحاظ سے ھو جمع ہے۔ اس لئے کلواواشربوا کہنا صحیح ہے۔ اس صورت میں یہ جملہ ھو کی خبر ہوگی۔ ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو۔
ھنیئا : ھناء (باب فتح و نصر) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ خوش مزہ، پاکیزہ، ھناء مصدر بمعنی خوراک کا خوشگوار ہونا۔ ھنیئا ضمیر کلوا سے حال ہے۔ خوشگواری کے ساتھ بغیر کسی تکلیف کے کھاؤ پئو۔ مرے لے لے کر کھاؤ پیئو۔ یا یہ مفعول مطلق کی صفت ہے اور کلام یوں ہے کلوا واشربوا اکلا وشرایا ھنیئا۔
بما اسلفتم : ب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
(ف 1) جو اچھے لوگ کہ نامہ اعمال ان کے سیدھے ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے وہ اپنے اعمال صالحہ پر جو دنیا میں کیے تھے وثوق کرکے اور خوش ہوکر پڑھیں گے اور جو کوئی رشتہ دار کنبہ والایاجان پہچان والا اس وقت نظر آئے گا خوشی کے مارے اس سے بھی کہیں گے لوہمارانامہ اعمال پڑھ کردیکھو کہ میری کتاب اس میں کیا کیا ثواب و کرامت ہے اور یہ بھی کہیں گے کہ ہم کو تو دنیا میں ہی یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن حساب وکتاب دینے والے ہیں اور یہ بات پیش آنے والی ہے۔ اس خیال سے ہم ڈرتے رہے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہے پس جو ایسا شخص ہوگا وہ ایسے عیش میں ہوگا کہ اس کی جان اس سے نہایت خوش اور راضی ہوگی اور جنت بالاتر مرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–31
[12] یعنی دنیا میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
صور پھونکا جائے گا
2: نرسنگے میں پھونکنے کے دو معنی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور اعلان وعلام کے ہوگا ۔ جس سے معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ اس بساط لہو و لعب کو الٹ دیا جائے ۔ اور یا خود اس آواز میں یہ اثر ہوگا ۔ کہ اس کی وجہ سے عالم کون ومکان درہم برہم ہوجائے گا ۔ اور عقلاً اس میں کوئی استحالہ نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ آواز میں تاثیر پیدا کردیں ۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے ۔ کہ جب یہ موجودہ وقت آجائے گا ۔ اس وقت یہ سقف زرنگار پھٹ جائے گا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر آلگیں گے ۔ اور رب قدوس کی تجلیات عرش جلالت پر ہے تو انگن ہوں گی ۔ جس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا
ایک ایک شخص کو اس کے روبرو…
Read the full tafseer →(24) کہا جائے گا جو اعمال تم گزشتہ زمانے میں صلے کی امید پر کرچکے ہو ان کے بدلے میں خوب مزے کے ساتھ کھائو پیو۔ مطلب یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے کی وجہ سے کہے گا مجھ کو تو پہلے ہی اس امر کا یقین تھا کہ میراحساب ہوگا یعنی میں قیامت اور روز جزا کا قائل تھا۔
غرض وہ ایک من مانی اور عیش کی زندگی گزارے گا جو اونچے اونچے باغ یعنی بہشت بریں میں ہوگی ان اونچے باغوں کے میوے اس قدر قریب اور نیچے جھکے ہوئے ہوں گے جو بآسانی حاصل کئے جاسکیں گے اور ان کے استعمال میں کوئی دشواری نہ ہوگی اور ارشاد ہوگا جو اعمال تم نے گزشتہ زمانے میں اس امید پر کئے تھے کہ اس کا صلہ اللہ تعالیٰ کی جناب سے ملے گا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ف 1۔ یعنی میں قیامت و حساب کا معتقد تھا، مطلب یہ کہ میں ایمان و تصدیق رکھتا تھا، خدا نے اس کی برکت سے آج مجھ کو نوازا۔
Read the full tafseer →خوب لطف سے ان کا استعمال کرو یہ صلہ ہے اس کا جو تم گزشتہ دنوں میں بھیج چکے
24 ؎ (ھنینا) صیغہ صفت مشبہ ھناء مصدر۔ خوش مزہ ، خوش ذائقہ ، پاکیزہ وزن۔ فعل واحد و جمع دونوں کے لئے آتا ہے اس نے فاعل کی ضمیر جمع سے خالی ہے۔ حنی خوشگوار مبارک وہ چیز جو بغیر محنت کے حاصل ہوجائے۔ ھانی نوکر ، خادم وغیرہ کو کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت سے کہا جائے گا کہ کھائو اور پیئو اور مزے سے رہو یہ ان اعمال کی جزا ہے جو تم نے آگے بھیجے تھے ، گزرے ہوئے دنوں میں یعنی دنیا کی زندگی میں جو تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اعمال کئے تھے ان اعمال کی جزا ہے۔ السلف المتقدم من الشیء اس لئے سلف صالحین ان لوگوں کو کہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ (Come here, read my book… 69:19). The word ha'umu, literally means, "come" but, idiomatically, it is used in the sense of the plural imperative verb khudhu "take'. In other words, one who is given his record book in his right hand, he will be elated and, looking at the people around him, will say 'Here, take my account book and read it!'
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
14 That is, ". He was fortunate because he had been conscious of the Hereafter in the world and had lived his life with the belief that he would have to appear before God one day and render his account to Him.
Read the full tafseer →