Explained with ayahs 25–37
بائیں ہاتھ اور نامہ اعمال
یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کردیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے، یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا حکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق…
Read the full tafseer →سورة الْحَآقَّة 15
سورة انشقاق میں فرمایا گیا ہے " اور جس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا "۔ غالباً اس کی صورت یہ ہوگی کہ مجرم کو چونکہ پہلے ہی سے اپنے مجرم ہونے کا علم ہوگا اور وہ جانتا ہوگا کہ اس نامہ اعمال میں اس کا کیا کچا چٹھا درج ہے، اس لیے وہ نہایت بددلی کے ساتھ اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کر اسے لے گا اور فوراً پیٹھ کے پیچھے چھپا لے گا تاکہ کوئی دیکھنے نہ پائے۔
سورة الْحَآقَّة 16
یعنی مجھے یہ نامہ اعمال دے کر میدان حشر میں علانیہ سب کے سامنے ذلیل و رسوا نہ کیا جاتا اور جو سزا بھی دینی تھی دے ڈالی جاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
(آیت) هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ۔ لفظ ھاؤم، خذو کے معنے میں ہے جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگا گا کہ لو یہ میرا جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگے گا کہ لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
اصحاب الشمال کا حال: یہ ان لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ وہ دیکھتے ہی اپنے سر پیٹیں گے، کہیں گے کاش! ہمارا اعمال نامہ ہمیں دیا ہی نہ گیا ہوتا اور ہمیں یہ معلوم ہی نہ ہوا ہوتا کہ ہمارا حساب کیا ہے؛ کاش! وہی موت، جو دنیا میں آئی تھی، فیصلہ کن ہو گئی ہوتی! ضمیر کا مرجع موت ہے۔ قرینہ موجود ہو تو مرجع کے بغیر اس طرح ضمیر لانے میں کوئی عیب نہیں ہے اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →25۔ 1 کیونکہ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا بدبختی کی علامت ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
اب یہ شخص جان چکا ہے کہ اس کے خلاف فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور اس کا انجام کار آخر کار جہنم رسیدگی ہے۔ یہ اس میدان میں نہایت ہی حسرتناک انجام لئے کھڑا ہے۔ نہایت درجے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اور درج بالا تبصرہ وہ کرتا ہے۔
نہایت طویل منظر ہے اس شخص کا۔ اس کی حسرت کو ذرا اطوالت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس قدر کہ ایک قاری یہی سمجھتا ہے کہ یہ بیان ختم ہی نہ ہوگا۔ لہجہ بھی مایوس کن ہے لیکن یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کہ وہ بعض مناظر ومواقف کو طوالت دیتا ہے اور بعض کو چند جملوں میں بیان کردیتا ہے۔ اور اس طرح نفس انسانی پر نہایت ہی مفید اثرات چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ حسرت اور پشیمانی کی سوچوں کو ذرا اطوالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
1 یعنی پیٹھ کی طرف سے بائیں ہاتھ میں جس کا اعمالنامہ دیا جائے گا، سمجھ لے گا کہ کم بختی آئی، اس وقت نہایت حسرت سے تمنا کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ میں اعمالنامہ نہ دیا جاتا اور مجھے کچھ خبر نہ ہوتی کہ حساب کتاب کیا چیز ہے کاش موت میرا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام کردیتی۔ مرنے کے بعد پھر اٹھنا نصیب نہ ہوتا۔ یا اٹھا تو اب موت آکر میرا لقمہ کرلیتی۔ افسوس وہ مال دولت اور جاہ و حکومت کچھ کام نہ آئی۔ آج ان میں سے کسی چیز کا پتہ نہیں۔ نہ میری کوئی حجت اور دلیل چلتی ہے نہ معذرت کی گنجائش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
{ فَیَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰبِیَہْ۔ } ”وہ کہے گا : اے کاش ! مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ گیا ہوتا۔“
”مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے“ کاش ! میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
16 داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے والے کی خوشی کا منظر :۔ چونکہ مجھے یہ یقین تھا کہ مجھ سے میرے اعمال کی بازپرس ہونے والی ہے۔ لہذا میں نے دنیا میں محتاط زندگی گزاری تھی۔ اور ہر ممکن کوشش کی تھی کہ مجھ سے اللہ کی کوئی نافرمانی نہ ہونے پائے۔ ایسے شخص کو فیصلہ کے بعد بلند وبالا باغات میں رہائش کے لیے جگہ ملے گی، کھانے کو لذیذ، مزیدار اور وافر اشیاء اور باغوں کے درختوں کے پھل ان کے سامنے جھک رہے ہونگے۔ تاکہ انہیں اپنے حسب پسند پھل توڑنے کے لیے معمولی سی زحمت بھی گوارا نہ کرنی پڑے۔ یہ سب کچھ پیش کرنے کے بعد انہیں کہا جائے گا کہ خوب مزے اڑاؤ۔ جہاں سے جی چاہے کھاؤ اور جتنا جی چاہے بلاتکلف کھاؤ۔ دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
10۔ (ہمیشہ ہمیش کیلئے اور آج اس جزاء وسزا کی نوبت ہی نہ آتی) یہ کلمات اہل دوزخ کی زبان پر انتہائی حسرت ویاس کی حالت میں آئیں گے۔ (آیت) ” واما من ..... بشمالہ “۔ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا دوزخی ہونے کی علامت ہوگا۔ (آیت) ” یلیتھا “۔ ضمیرھا موت کی جانب ہے۔ اگرچہ لفظ موت مذکور نہیں۔ شدت ظہور کے باعث ضرورت بھی اس کے ذکر کی نہ تھی۔ الضمیر یعود الی الموۂ الاولی وھی وان لم تکن مذکورۃ الاانھا لظھورھا کانت کالمذکور (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–37
ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →واما من اوتی کتابہ بشمالہ . اس سے مراد کافر ہے ‘ کافر کا بایاں ہاتھ پشت کے پیچھے کر کے اس میں
اعمالنامہ دیا جائے گا (کذا اخرج البیہقی عن مجاہد) ابن سائب نے کہا بائیں ہاتھ کو موڑ کر پشت کے پیچھے کر کے اعمالنامہ دیا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کافر کا بایاں ہاتھ سینہ کے اندر سے کھینچ کر پشت کے پیچھے کردیا جائے گا۔
فیقول . تو وہ اپنے اعمالِ بد اور ان کا برا انجام دیکھ کر کہے گا۔
یلیتنی . منادیٰ محذوف ہے یعنی اے قوم کاش مجھے
لم اوت کتبیہ . میرا اعمالنامہ نہ دیا جاتا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(25۔ 26) جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا مثلا اسود بن عبدالاسد وہ کہے گا کہ مجھ کر میرا یہ نامہ اعمال ہی نہ ملتا اور مجھ کو یہ بھی خبر نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
واما من اوتی کتبہ بشمالہ…: جن لوگوں کو بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ نہایت پریشانی میں یہ باتیں کہیں گے جو ان آیات میں ذکر ہوئی ہیں۔ یہ بائیں ہاتھ میں اعمال نامے والے لوگ کافر ہوں گے، اس کی دلیل ایمان والوں کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا، البتہ وہ ایمان والے جو کچھ عرصہ آگ میں رہیں گے ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ انہیں اعمال نامہ آگ میں جانے سے پہلے ملے گا یا آگ سے نکلنے کے بعد، راجح یہی ہے کہ آگ سے نکلنے کے بعد ملے گا، کیونکہ اعمال نامہ ملنے کے بعد اگر انہیں آگ میں بھیجا جا رہا ہو تو ان کے منہ سے ”ھآوم اقرء و کتبۃ“ کے خوشی کے الفاظ نہیں نکل سکتے۔ (التسہیل)
”یلیتھا کانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
کلووا شربوا انہیں یہ کہا جائے گا : کھائو اور پیو۔ ھنیا مبارک ہو اس میں کوئی تکرار اور بدمزگی نہ ہوگ ی۔ بما اسلفتم کے بعد کلوا فرمایا کیونکہ پہلے فرمایا، فاما من اوتی من اپنے ضمن میں جمع کا معنی لئے ہوئے ہے۔ ضحاک نے یہ ذکر کیا ہے کہ یہ آیت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالسلاد مخزوی کے حق میں نازل ہوئی، یہ مقاتل کا قول ہے۔ وہ آیت جو اس کے بعد آرہی ہے وہ اس کے بھائی اسود بن عبدالاسد کے حق میں نازل ہوئی، یہ حضرت ابن عباس اور ضحاک کا قول ہے۔ یہ ثعلبی نے کہا ہے : یہ اور اس کا بھائی ان آیات کے نزول کا سبب ہوگا معنی تمام اہل شقاوت اور اہل سعادت کو عام ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کلوا واشربوا دلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
36۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلوا واشربو ہنیئا بما اسلفتم فی الایام الخالیۃ کھاؤ اور یو ان کاموں کے بدلے میں جو تم نے گذشتہ دنوں میں کئے تھے۔ یعنی یہ تمہارے یہ دن ایام خالیہ اور فنا ہونے والے ہی۔ جو باقی رہنے والے ایام تک پہنچانے والے ہیں پس تم ان دنوں عمل کرکے خیر اور نیکی آگے بھیجو اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو اور اللہ کے سوا کوئی قوت اور طاقت والا نہیں۔
اہل جنت کی مہمان نوازی
37۔ ابن المنذر نے یوسف بن یعقوب حنفی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ اے میرے دوستو ! طویل عرصہ گزر گیا کہ میں تمہاری طرف دنیا میں متوجہ نہیں…
Read the full tafseer →[وَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ : اور وہ جو ہے جس کو دی گئی ][ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ : اس کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں ][ ڏ فَيَقُوْلُ : تو وہ کہے گا ][ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ : اے کاش مجھ کو دی ہی نہ جاتی ][ كِتٰبِيَهْ : میری کتاب ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
بائیں ہاتھ میں اعمالنامے ملنے والوں کی بدحالی :
اس کے بعد ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا جن کے بائیں ہاتھ میں کتاب دی جائے گی فرمایا ﴿ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ 1ۙ۬ فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِيَهْۚ0025 وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْۚ0026﴾ (اور جس کے بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا تو وہ کہے گا کیا اچھا ہوتا کہ میری کتاب مجھے نہ دی جاتی اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے)
جس شخص کے حساب میں گڑبڑ ہو وہ یہی چاہتا ہے کہ میرا حساب مجھے نہ دکھایا جاتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے تو اچھا ہوتا۔ ﴿يٰلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَۚ0027﴾ (ہائے كاش دنیا میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
10:۔ ” واما من اوتی کتبہ بشمالہ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ کافر اور مشرک کو جب اعمالنامہ بائیں میں دیا جائے گا تو وہ حسرت و یاس سے کہے گا کاش ! مجھے اعمالنامہ دیا ہی نہ جاتا اور نہ میں اپنا حساب کتاب ہی جانتا ! اے کاش ! موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور اس کے بعد مجھے دوبارہ نہ اٹھایا جاتا اور میں اپنے اعمالنامے کو نہ دیکھتا۔ آج نہ مال میرے کسی کام آیا اور نہ سلطنت ہی باقی رہی۔ الغرض اس پر مکمل مایوسی اور ناامیدی چھائی ہوگی۔ یہ معاملہ جزاء وسزا کے فیصلہ سے پہلے کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
گذشتہ سے پیوستہ :
قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔
بائیں ہاتھ والے :
اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ…
Read the full tafseer →وَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ 0ۥۙ فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِيَہْ 25 ۚ
«أمَّا»
و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–37
ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ
1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ
2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیْ کِتٰـبَہٗ بِشِمَالِـہٖ 5 لا فَیَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰـبِیَـہْ ۔ وَلَمْ اَدْرِمَا حِسَابِیَہْ ۔ یٰـلَیْتَھَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ ۔ (الحآقۃ : 25 تا 27)
(اور رہا وہ شخص جس کو اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا، کاش میرا اعمال نامہ مجھے دیا ہی نہ گیا ہوتا۔ اور مجھے خبر ہی نہ ہوتی کہ کیا ہے میرا حساب۔ اے کاش ! وہی موت فیصلہ کن ہوئی ہوتی۔ )
اصحابُ الشمال کا حال
اس سے پہلے ان لوگوں کا حال بیان ہوا ہے جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ اب ان لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
فہم القرآن
ربط کلام : جنتی کے مقابلے میں جہنمی کا حال اور ان کی بدنصیبی۔
رب ذوالجلال کے حکم سے نیک لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں پہنچ چکے ہوں گے اور انہیں جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے، جونہی برے شخص کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا ہائے افسوس ! کاش کہ مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا اور مجھے یہ علم ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے، کاش ! دنیا کی موت ہی آخری موت ثابت ہوتی۔ آج نہ میرا مال میرے کام آیا اور نہ ہی میرے اقتدار اور اختیار نے مجھے فائدہ دیا یہاں اختصار سے کام…
Read the full tafseer →اصحاب شمال کا بدلہ :
25 : وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰبِیَہْ (اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ پس وہ کہے گا کیا اچھا ہوتا کہ مجھ کو میرا نامہ عمل ہی نہ ملتا) کیونکہ ساری رذالتیں اس میں لکھی پائے گا۔
Read the full tafseer →24 ۔ ان کو کہا جائے گا ” کلوا واشربوا ھنیئا بما اسلفتم “ تم نے اپنی آخرت کے لئے جو نیک اعمال آگے بھیجے۔ ” فی الایام الخالیۃ “ گزشتہ مراد دنیا کے ایام ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں…
Read the full tafseer →(یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے۔ جائیں گے جن میں اعمال بددرج ہوں گے پس ان میں سے کوئی حزن وغم سے کہے گا۔ (یلیتنی لم اوت کتابیہ) ۔ اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی، کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی، خوش خبری) سناتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
23 اصحاب الشمال کے انجام اور ان کی بدبختی کا ذکر وبیان : سو اس سے اصحاب الشمال یعنی بائیں بازو والوں کی بدبختی اور ان کی یاس و حسرت کا منظر پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ یاس و حشرت کے مارے کہے گا کہ اے کاش مجھے میرا نامہ اعمال دیا ہی نہ گیا ہوتا اور مجھے پتہ ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے ؟ اور میرے لئے میری وہ دنیا والی موت ہی خاتمہ کردینے والی ہوجاتی ‘ تاکہ مجھے اس ذلت اور رسوائی سے دوچار نہ ہونا پڑتا ‘ مگر بےوقت کے اس پچھتاوے سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے اور اس کی تیزی کے ‘ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–37
برُے اور اچھے لوگوں کا حال
تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ف 12 یعنی اتنے نیچے ہوں گے کہ آدمی انہیں ہاتھ سے توڑے گا۔
Read the full tafseer →(69:25) فاما من اوتی کتبہ بشمالہ : شمالہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے بائیں طرف اس کے بائیں ہاتھ میں ۔ (نیز ملاحظہ ہو 69:19 متذکرۃ الصدر)
فیقول : میںتعقیب کی ہے۔ جس پر وہ (اپنے اعمال بد اور ان کا برا انجام دیکھ کر کہے گا۔
یلیتنی : یاء حرف نداء منادی محذوف (یعنی اے قوم) لیت حرف مشبہ بالفعل : اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع۔ تمنا کے لئے مستعمل ہے۔ کاش ! فی اسم ہے۔ یلیتنی : کاش مجھے۔
لم ادت : مضارع مجہول نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد متکلم ۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ اوت اصل میں اوتی تھا۔ لم کے عمل سے ی حذف ہوگئی۔ اور مضارع ماضی کے معنی میں تبدیل ہوگیا۔ کتبیہ : ۃ ساکنہ۔ (دیکھو متذکرۃ الصدر) کتابی میرا اعمال نامہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
(ف 2) جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے وہ لوگ اس میں اول سے آخرت کی بدیاں لکھی ہوئیں دیکھیں گے تو اس وقت نہایت حسرت سے تمنا کریں گے کہ کاش ہمار ہاتھ میں اعمال نامہ نہ دیاجاتا اورہ میں کچھ خبر نہ ہوتی کہ حساب کتاب کا کیا چیز ہے کاش موت ہمارا قصہ ہمیشہ کے لیے تمام کردیتی مرنے کے بعد پھر اٹھنانصیب نہ ہوتا ، یا اٹھا تھا تو اب موت آکر ہمارا لقمہ لیتی۔ افسوس وہ مال و دولت اور جاہ و حکومت کچھ کام نہ آئی، آج ان میں سے کسی چیز کا پتہ نہیں نہ ہماری حجت اور دلیل چلتی ہے نہ معذرت کی گنجائش ہے اس کے بعد ان دوزخیوں کا انجام بیان فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–31
[12] یعنی دنیا میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
معتوب گروہ
2: یہ معتوب لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ہوگا ۔ اپنی ذلت وتحقیر کا آپ اعلان ہوں گے یہ جب دیکھیں گے ۔ کہ اس دفتر اکمال میں کوئی خوشخبری نہیں ہے ۔ تو ازراہ تحسر کہیں گے ۔ کہ اے کاش ہم کو یہ نہ ملا ہوتا ۔ اور ہم اپنے اعمال سے آگاہ نہ ہوتے ۔ اے کاش موت کے بعد یہ لمحات زندگی نہ عطا کئے جاتے ۔ اور موت ہی ہمارے لئے فیصلہ کن ثابت ہوتی
حل لغات : ھلیا ۔ خوشگواری کے ساتھ ۔ مزے کے ساتھ ۔
Read the full tafseer →(25) اور بہرحال جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں اور الٹے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا اے کاش میرا نامہ اعمال اور میرا لکھا مجھ کو نہ ملتا اور مجھ کو دیا ہی جاتا۔ یعنی حسرت سے کہہ گا کہ کیا اچھا ہوتا کہ میرا عمل نامہ مجھ کو دیا ہی نہ جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ف 1۔ یعنی میں قیامت و حساب کا معتقد تھا، مطلب یہ کہ میں ایمان و تصدیق رکھتا تھا، خدا نے اس کی برکت سے آج مجھ کو نوازا۔
Read the full tafseer →جس کو اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ کہے گا کہ کاش مجھے اعمال نامہ نہ دیا جاتا
25 ؎ یہ بات ہم بار بار عرض کرچکے ہیں کہ جہاں اہل جنت کا ذکر ہوتا ہے وہاں ساتھ ہی دوزخ کا بھی کیا جاتا ہے اور جس جگہ اہل دوزخ کا ذکر کیا جا رہا ہے ساتھ ہی اہل جنت کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ پیچھے ان لوگوں کا ذکر تھا جن کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا اور ان کو اہل جنت قرار دے کر ان کے انعام و اکرام کا ذکر کیا گیا اور زیر نظر آیت سے ان لوگوں کا ذکر شروع کیا جا رہا ہے جن لوگوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور یہ وہ لوگ ہیں جو بدعمل ، بداخلاق ، کافر ، منافق تھے۔ فرمایا جونہی اعمال نامہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ (Come here, read my book… 69:19). The word ha'umu, literally means, "come" but, idiomatically, it is used in the sense of the plural imperative verb khudhu "take'. In other words, one who is given his record book in his right hand, he will be elated and, looking at the people around him, will say 'Here, take my account book and read it!'
Read the full tafseer →15 In Surah Al-Inshiqaq it has been said: "And the one whose record is given him behind his back..." Probably it will be like this: As the culprit would already be knowing that he was a culprit, and would be aware of what his record contained, he would dejectedly extend his left hand forward to receive it, and then would immediately hide it behind his back so that no one else saw what he had received.
16 That is, "1 should not have been given this record in the Plain of Assembly and thus publicly disgraced before all mankind, but should have been awarded secretly whatever punishment I…
Read the full tafseer →