قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ ۟قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ
جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Its [fruit] to be picked hanging near.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ ۟قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ
جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Its [fruit] to be picked hanging near.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa
جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے
جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے
جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے
جس کے پھل جھکے پڑ رہے ہوں گے۔
جس کے خوشے جھکے ہوئے
جس کے خوشے (پھلوں کی کثرت کے باعث) جھکے ہوئے ہوں گے،
جس کے میوے قریب ہوں گے۔
جس کے پھلوں کے گچھے جھک رہے ہوں گے
اس کے پھل قریب لٹک رہے ہوں گے۔
جس کے خوشے جھکے پڑ رہے ہوں گے
جس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے
اس کے خوشے جھکے ہوئے ہوں گے۔
جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے
the clusters of whose fruit will be hanging low to be within reach (of the inmates of Paradise).
the fruits of which will be close at hand.
the fruits of which will be close at hand.
The fruits in bunches whereof will be low and near at hand.
Whereof the clusters are in easy reach.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Its [fruit] to be picked hanging near.
with fruits within easy reach.
The fruits of which are near at hand:
Clusters whereof shall be near at hand.
The Fruits whereof (will hang in bunches) low and near.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 19–24
دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بیحد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لئے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہوگئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں، پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں، عبدالرحمٰن بن زید فرماتے ہیں (ھا) کے بعد لفظ (ؤم) زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ (ھاؤم) معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
سورة الْحَآقَّة 14 یعنی وہ اپنی خوش قسمتی کی وجہ یہ بتائے گا کہ وہ دنیا میں آخرت سے غافل نہ تھا بلکہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ ایک روز اسے خدا کے حضور حاضر ہونا اور اپنا حساب دینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
(آیت) هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ۔ لفظ ھاؤم، خذو کے معنے میں ہے جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگا گا کہ لو یہ میرا جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگے گا کہ لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
باغ بلند اور خوشے قریب: ’عَالِیَۃ‘ اور ’دَانِیَۃ‘ کے تقابل پر نظر رہے کہ باغ تو بلند ہوں گے لیکن ان کے پھل اور خوشے، جو اصل مطلوب ہیں، وہ نہایت قریب ہوں گے۔ اہل عرب کے باغوں میں کنارے کنارے کھجوروں کی قطاریں اور بیچ بیچ میں اناروں کے درخت اور انگوروں کی بیلیں ہوتی تھیں۔ ان کے لیے اس ’عَالِیَۃ‘ اور ’دَانِیَۃ‘ کے سمجھنے میں کوئی زحمت نہیں تھی۔ یوں بھی باغ کا نمایاں حسن یہی ہے کہ وہ بلندی پر ہو اور اس کے خوشے سروں پر لٹک رہے اور دسترس کے اندر ہوں۔
Read the full tafseer →23۔ 1 یعنی بالکل قریب ہونگے کوئی لیٹے لیٹے بھی توڑنا چاہے گا تو ممکن ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
اس کے بعد علی الاعلان بتادیا جائے گا کہ ان لوگوں کے لئے اللہ نے یہ یہ نعمتیں تیار کررکھی ہیں۔ یہاں اس کے سامنے ایسی حسی اور مادی نعمتیں گنوائی جارہی ہیں۔ جن کو عرب اچھی طرح مادی ترقی کا کمال سمجھتے تھے۔ اس وقت لوگ چونکہ دور جاہلیت سے ابھی ابھی ایک بدوی معاشرہ سے نکل کر آئے تھے ، اس لئے ان کے مزاج کے مطابق بعض پسندیدہ باتیں یہاں گنوائی جاتی ہیں۔ کیونکہ نہ تو وہ زیادہ ترقی یافتہ تھے اور نہ جنت کی نعمتوں کا کوئی تصور کرسکتا ہے۔ فھوفی ............................ الخالیة (42) (06 : 12 تا 42) پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا ، عالی مقام جنت میں ، جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
9 جو کھڑے بیٹھے، لیٹے، ہر حالت میں نہایت سہولت سے چنے جاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
آیت 21 { فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ۔ } ”پس وہ پسندیدہ زندگی بسر کرے گا۔“ وہ خوش نصیب دل پسند عیش میں ہوگا۔ اسے ایسی زندگی عطا کی جائے گی جس میں ہر طرح کی رضا ہی رضاہو گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
16 داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے والے کی خوشی کا منظر :۔ چونکہ مجھے یہ یقین تھا کہ مجھ سے میرے اعمال کی بازپرس ہونے والی ہے۔ لہذا میں نے دنیا میں محتاط زندگی گزاری تھی۔ اور ہر ممکن کوشش کی تھی کہ مجھ سے اللہ کی کوئی نافرمانی نہ ہونے پائے۔ ایسے شخص کو فیصلہ کے بعد بلند وبالا باغات میں رہائش کے لیے جگہ ملے گی، کھانے کو لذیذ، مزیدار اور وافر اشیاء اور باغوں کے درختوں کے پھل ان کے سامنے جھک رہے ہونگے۔ تاکہ انہیں اپنے حسب پسند پھل توڑنے کے لیے معمولی سی زحمت بھی گوارا نہ کرنی پڑے۔ یہ سب کچھ پیش کرنے کے بعد انہیں کہا جائے گا کہ خوب مزے اڑاؤ۔ جہاں سے جی چاہے کھاؤ اور جتنا جی چاہے بلاتکلف کھاؤ۔ دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
9۔ (یعنی دنیا میں) (آیت) ” قطوفھا .... دانیۃ “۔ یعنی جنت میں میوہ دار درختوں کے لذیذ پھل اور خوشے اہل جنت پر جھکے ہوئے ہر حال میں ان سے ایسے قریب ہوں گے کہ وہ بیٹھے لیٹے، کھڑے، جس وضع وحالت میں بھی چاہیں گے انہیں پاسکیں گے۔ (آیت) ” فی عیشۃ راضیۃ “۔ جنت کی زندگی ہر قسم کے فکر وترود، مرض ومصیبت، زوال وموت عیب ونقص سے قطعا خالی ہوگی، اس ساری کیفیت کو ایک مختصر لفظ (آیت) ” عیشۃ راضیۃ “۔ تعبیر فرمایا دیا گیا ہے۔ (آیت) ” بما اسلفتم “۔ اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ اعمال طاعت موجبات اجر وصلہ ہوتے ہیں، اور اہل جنت کو جو صلہ ملے گا اس کے وہ مستحق ہوں گے، یدل علی انھم انما استحقوا ذلک الثواب بسبب عملھم وذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–37
ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →قطوفھا دانیہ ان کو یعنی ان کے پھلوں کو توڑنا تم سے دور نہ ہوگا۔ کھڑے ‘ بیٹھے ‘ لیٹے (ہر طرح) انکا حصول سہل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
(21۔ 23) غرض کہ وہ شخص پسندیدہ عیش یعنی بہشت بریں میں ہوگا کہ جس کے پھل اور میوے اس قدر جھکے ہوں گے کہ جس حالت میں چاہیں گے لے سکیں گے۔
Read the full tafseer →قطوفھا دانیۃ :”قطف یقطف“ (ض) پھل توڑنا۔ ”قطوف“”قطف“ (قاف کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، وہ پھل جو توڑے جائیں۔ ”’ انیۃ“ قریب۔ یعنی وہ خوشے اور پھل جھکے ہوئے ہوں گے کہ آدمی کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں انہیں لے سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فی جنۃ عالیۃ۔ ایسی جنت جو نفوس میں عظیم شان والی ہے۔ قطوفھا دانیۃ۔ اس کے گچھے قریب ہونگے آسانی سے انہیں حاصل کیا جاسکے گا، کھڑا ہوا، بیٹھا وہا اور لیٹا وہا اسے توڑ لے گا۔ اس کی وضاحت سورة الدخان میں آئے گی۔ قطوف یہ قطف کی جمع ہے اس سے مراد وہ پھل ہیں جنہیں توڑا جاتا ہے۔ قطف یہ مصدر ہے قطاف یہ توڑنے کا وقت ہے۔
Read the full tafseer →31۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ آیت قطوفہا دانیہ اسکے میوے جھکے ہوئے ہو گے یعنی قریب ہوں گے۔ 32۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قطوفہا دانیۃ یعنی ان کے خوشے قریب ہیں ان کے ہاتھوں کو ان سے دوری واپس نہیں لوٹائے گی اور نہ کوئی کانٹا واپس لوٹائے گا یعنی کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنے گی۔ 33۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے براء ؓ سے روایت کیا کہ آیت قطوفہا دانیۃ سے مراد ہے کہ آدمی اس کے پھلوں کو کھڑے کھڑے بھی کھاسکے گا یعنی وہ اتنے قریب ہوں گے۔ 34۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت قطوفہا سے مراد ہے اس کے پھل 35۔ عبدالرزاق وابن المنذر…
Read the full tafseer →[قُطُوْفُهَا دَانيَةٌ: جس کے میوے قریب ہونے والے (جھکے ہوئے) ہوں گے ] ق ط [قَطْفًا : (ض) پھل چننا۔] قِطْفٌ ج قُطُوْنٌ۔ اسم ذات ہے۔ پھل۔ میوہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
﴿فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ0021﴾ (سو یہ شخص ایسی زندگی میں ہوگا جس سے راضی ہوگا اور خوش ہوگا) ۔ ﴿ فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ0022﴾ (بہشت بریں یعنی اونچی جنت میں ہوگا) ۔ ﴿قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ0023﴾ (اس کے پھل قریب ہوں گے) ۔ جیسا کہ سورة ٴ رحمٰن میں فرمایا ﴿ وَ جَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانٍۚ0054﴾ (اور دونوں جنتوں کے پھل قریب ہوں گے یعنی ہر شخص جو پھل بھی چاہے گا بآسانی کھڑے ہوئے لیٹے بیٹھے توڑ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
9:۔ ” فاما من اوتی کتبہ بیمینہ “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے “ ” ھاءم اقرؤوا کتابیہ “ سے تنازع فعلین میں بصریوں کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔ بصریوں کے نزدیک عمل دوسرے فعل کو دیا جاتا ہے اور پہلے فعل کا معمول مقدر ہوتا ہے اور کو فیوں کے نزدیک اس کے برعکس۔ یہاں بصریوں کے مذہب کے مطابق کتابیہ، اقرء وا کا مفعول ہے اگر وہ ھاءم کا مفعول ہوتا تو اقرء وا کا مفعول ضمیر ہوتا اور اصل عبارت اقرء وہ ہوتی، کیونکہ جہاں مفعول کا اضمار ممکن ہو وہاں ترک اضمار اولی اور مختار کے خلاف ہے اس طرح کو فیوں کا مذہب اختیار کرنے میں خلاف مختار کا ارتکاب لازم آتا ہے (مظہری۔ روح۔ بیضاوی) ۔ کتابیہ، حسابیہ، مالیہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
گزشتہ سے پیوستہ : اس سورة کا موضوع جزائے عم ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ پہلی آیات میں کا ذکر فرمایا۔ چند گزشتہ اقوام کا ذکر کیا جو قیامت کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حاقہ واقع کیا اور یہ دو قسم سے وار ہوتا ہے۔ ایک ابتلا ہوتی ہے ، وقتی طور پر تکلیف آئی اور دور ہوگئی۔ اس کے بعد پھر موقع مل گیا۔ سز کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ مذکورہ اقوام کو اس دنیا میں ہی سزا ملی اور پھر اٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عالم برزخ میں سزا پا رہے ہیں۔ ان اقوام میں شرک و کفر تھا اور انکا رسالت بھی ، یہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ تو یہ قیامت کے جھٹلانے کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ دنیا میں ہی…
Read the full tafseer →قُـطُوْفُہَا دَانِيَۃٌ 23 قطف يقال : قَطَفْتُ الثّمرة قَطْفاً ، والْقِطَفُ : الْمَقْطُوفُ منه، وجمعه قُطُوفٌ. قال تعالی: قُطُوفُها دانِيَةٌ [ الحاقة/ 23] وقَطَفَتِ الدّابّةُ قَطْفاً فهي قَطُوفٌ ، واستعمال ذلک فيه استعارة، وتشبيه بِقَاطِفِ شيء كما يوصف بالنّقض علی ما تقدّم ذكره، وأَقْطَفَ الكَرْم : دنا قِطَافُهُ ، والْقِطَافَةُ : ما يسقط منه کالنّفاية . ( ق ط) قطفت ( ض ) التمرۃ قطفا کے معنی پھل چننا کے اور درخت سے توڑے ہوئے پھل کو قطف کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع قطوف آتی ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ قُطُوفُها دانِيَةٌ [ الحاقة/ 23] جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے ۔ جانور کا آہستہ چلنا اور ایسے جانور کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–37
ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ۔ فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ۔ قُطُوْفُھَا دَانِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 21 تا 23) (پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔ ایک بلند وبالا باغ میں۔ اس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ ) اعمال نامے کا دائیں ہاتھ میں ملنا گویا جنت میں داخلے کی علامت کہئے یا سرٹیفکیٹ۔ اس کے بعد کے مراحل آسانی سے سر ہوجائیں گے۔ آخر یہ خوش قسمت جنت میں پہنچ جائے گا۔ اس جنت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں انسان کو وہ زندگی، وہ ماحول، وہ سہولت اور وہ نعمتیں میسر آئیں گی جو اس کے لیے دل پسند ہوں گی۔ وہ جس چیز کی خواہش کرے گا چاہے وہ آج کی دنیا میں ناممکنات میں سے ہو، وہ اسے فوراً عطا کردی جائے گی اور کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا اور رب ذوالجلال کے عرش کو آٹھ ملائکہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اسرافیل کے پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد زمین و آسمانوں کی موجودہ حالت ختم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو نئی صورت میں بنائیں گے جن کے بارے میں ارشاد فرمایا : ” اس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی بدل دیا جائے گا اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ (ابراہیم : 48) اللہ تعالیٰ کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس حالت میں رب ذوالجلال زمین پر جلوہ افروز ہوں گے جس طرح اس کی ذات کے لائق ہے۔ ہمیں یہ بات سوچنے سے…
Read the full tafseer →23 : قُطُوْفُھَا دَانِیَۃٌ (جس کے میوے جھکے ہوئے ہونگے) اس کے پھل قریب ہونگے جو چاہے گا وہ حاصل کرلے گا۔ بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے کی طرح ہوگا۔ ہر طرح توڑ سکے گا۔
Read the full tafseer →22 ۔” فی جنۃ عالیۃ “ بلند۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
19۔ 24۔ ابو داؤود 1 ؎ کی حضرت عائشہ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حشر کے دن تین موقعوں پر لوگوں کو بڑی سخت پریشانی ہوگی۔ ان تین موقعوں پر ایک موقع تو یہی نامہ اعمال کے تقسیم ہونے کا ہے اس وقت ہر ایک شخص کے دل میں یہ خوف ہوگا کہ دیکھئے اس کا اعمال نامہ سیدھے ہاتھ میں آتا ہے یا الٹے ہاتھ میں۔ باقی دو موقعے اعمال کے تولے جانے اور پل صراط سے گزرنے کے وقت کے ہیں۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے ان میں بعض تو ایسے ہوں گے جن کی نیکیاں خود ہی زیادہ اور بدیاں کم ہوں گی اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کی بدیاں اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کے…
Read the full tafseer →(قطوفھا دانیہ) اس کے پھل اور مختلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہوگا، اہل جنت کھڑے، بیٹھے۔ لیٹے ہوئے ہر حالت میں ان کو حاصل کرسکیں گے اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا (کلو واشربوا) ہر قسم کالذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
21 بےمثال باغ اور اس کے بےمثال پھل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایسی عالیشان اور بلند مرتبہ جنت میں ہوں گے جس کے خوشے جھکے ہوئے ہوں گے ‘ تاکہ وہ لیٹے بیٹھے ‘ جب اور جیسے چاہے ان سے بہرہ ور اور لطف اندوز ہوسکے ‘ اللھم شرفنا بھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین ویا اکرام الاکرمین بہرکیف جنب کی اس عظیم الشان اور بےمثال زندگی میں انسان کو وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہے گا ‘ اور جس کی وہ خواہش کرے گا ‘ اس کے باغوں اور پھلوں کے بارے میں یہاں پر دو صفتیں بیان فرمائی گئی ہیں ‘ ایک عالیہ اور دوسری دانبۃ ‘ یعنی وہ باغ ہوں گے تو بڑے بلند اور نہایت عالیشان ‘ لیکن ان کے پھل اور خوشے جو کہ اصل مقصود ہیں وہ جھکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–37
برُے اور اچھے لوگوں کا حال تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ف 12 یعنی اتنے نیچے ہوں گے کہ آدمی انہیں ہاتھ سے توڑے گا۔
Read the full tafseer →(69:23) قطوفھا دانیۃ : قطوف جمع ہے قطف کی۔ قطوف مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث مضاف الیہ ، قطب مصدر۔ (باب ضرب) بمعنی پھل توڑنا درخت سے، قطف (ق کی کسرہ سے) وہ پھل جو درخت سے توڑے جائیں یعنی خود گرے ہوئے نہ ہوں۔ (خواہ توڑ لئے گئے ہوں یا توڑے نہ گئے ہوں مگر توڑے جانے کے قابل ہوں) ۔ آیت میں وہ پھل مراد ہیں جو اہل جنت بیٹھے کھڑے توڑ سکیں گے ؟ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنۃ کے لئے ہے قطوفھا سے مراد قطوف اثمارھا ہے یعنی ان باغوں کے پھل ہیں۔ دانیۃ : دلو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے نزدیک ، جھکی ہوئی، جھکنے والی۔ لٹکی ہوئی، لٹکنے والی۔ ان باغوں کے پھل جھکے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
(ف 1) جو اچھے لوگ کہ نامہ اعمال ان کے سیدھے ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے وہ اپنے اعمال صالحہ پر جو دنیا میں کیے تھے وثوق کرکے اور خوش ہوکر پڑھیں گے اور جو کوئی رشتہ دار کنبہ والایاجان پہچان والا اس وقت نظر آئے گا خوشی کے مارے اس سے بھی کہیں گے لوہمارانامہ اعمال پڑھ کردیکھو کہ میری کتاب اس میں کیا کیا ثواب و کرامت ہے اور یہ بھی کہیں گے کہ ہم کو تو دنیا میں ہی یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن حساب وکتاب دینے والے ہیں اور یہ بات پیش آنے والی ہے۔ اس خیال سے ہم ڈرتے رہے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہے پس جو ایسا شخص ہوگا وہ ایسے عیش میں ہوگا کہ اس کی جان اس سے نہایت خوش اور راضی ہوگی اور جنت بالاتر مرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[11] یعنی میں دنیا میں یہ سمجھتا تھا کہ ایک دن ضرور میرا حساب کتاب ہونا ہے۔ اس خیال سے میں نے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہا۔ آج اس کا دل خوش کن نتیجہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا حساب بالکل صاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
صور پھونکا جائے گا 2: نرسنگے میں پھونکنے کے دو معنی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور اعلان وعلام کے ہوگا ۔ جس سے معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ اس بساط لہو و لعب کو الٹ دیا جائے ۔ اور یا خود اس آواز میں یہ اثر ہوگا ۔ کہ اس کی وجہ سے عالم کون ومکان درہم برہم ہوجائے گا ۔ اور عقلاً اس میں کوئی استحالہ نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ آواز میں تاثیر پیدا کردیں ۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے ۔ کہ جب یہ موجودہ وقت آجائے گا ۔ اس وقت یہ سقف زرنگار پھٹ جائے گا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر آلگیں گے ۔ اور رب قدوس کی تجلیات عرش جلالت پر ہے تو انگن ہوں گی ۔ جس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا ایک ایک شخص کو اس کے روبرو…
Read the full tafseer →(23) اس بہشت کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ف 1۔ یعنی میں قیامت و حساب کا معتقد تھا، مطلب یہ کہ میں ایمان و تصدیق رکھتا تھا، خدا نے اس کی برکت سے آج مجھ کو نوازا۔
Read the full tafseer →جس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے 23 ؎ (قطوفھا) قطوف جمع ہے قطف واحد قطوف مضاف ھا ضمیر مضاف الیہ قطف درخت سے پھل توڑنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ قطف وہ پھل جو درخت سے توڑے جائیں خواہ وہ توڑ لئے گئے ہوں یا توڑے نہ گئے ہوں بلکہ توڑے جانے کے قابل ہوں۔ زیر نظر آیت میں ایسے پھل مراد ہیں جو اہل جنت کے لئے (دانیۃ) خود بخود ہی جھک کر قریب آجائیں گے تاکہ اہل جنت بغیر کسی سعی و کوشش کے ان میں سے جس کو انتخاب کریں اور انتخاب کرتے ہی یعنی ان کی خواہش ہوتے ہی وہ ان کے قریب آ کر ٹوٹ پڑیں۔ مقصود صرف یہ ہے کہ وہاں جو کچھ ملے گا بغیر محنت کے ملے گا بلکہ اس کے لئے محنت تو انہوں نے دنیوی زندگی میں کرلی جو کرلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ (Come here, read my book… 69:19). The word ha'umu, literally means, "come" but, idiomatically, it is used in the sense of the plural imperative verb khudhu "take'. In other words, one who is given his record book in his right hand, he will be elated and, looking at the people around him, will say 'Here, take my account book and read it!'
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
14 That is, ". He was fortunate because he had been conscious of the Hereafter in the world and had lived his life with the belief that he would have to appear before God one day and render his account to Him.
Read the full tafseer →