Explained with ayahs 19–24
دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بیحد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لئے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہوگئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں، پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں، عبدالرحمٰن بن زید فرماتے ہیں (ھا) کے بعد لفظ (ؤم) زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ (ھاؤم) معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
سورة الْحَآقَّة 14
یعنی وہ اپنی خوش قسمتی کی وجہ یہ بتائے گا کہ وہ دنیا میں آخرت سے غافل نہ تھا بلکہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ ایک روز اسے خدا کے حضور حاضر ہونا اور اپنا حساب دینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
(آیت) هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ۔ لفظ ھاؤم، خذو کے معنے میں ہے جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگا گا کہ لو یہ میرا جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگے گا کہ لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔
Read the full tafseer →ساتھ ہی وہ اپنی اس عظیم کامیابی کا سبب بھی بتائے گا کہ میں نے ہمیشہ اپنے دل میں یہ گمان رکھا کہ مجھے ایک دن اپنے زندگی کے حساب کتاب سے دوچار ہونا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسی گمان نے میری حفاظت کی اور میں ایک ایسا اعمال نامہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جس کو دوسروں کے سامنے نہایت خوشی کے ساتھ پیش کر سکوں۔
جزا اور سزا کو ماننے کے لیے ظن غالب کافی ہے: ’ظَنٌّ‘ یہاں ظن غالب کے مفہوم میں ہے۔ آفاق و انفس اور انبیاء و حکماء کی تعلیم میں جزا و سزا کے ایسے دلائل موجود ہیں کہ آدمی بالکل ہی بلید اور لاابالی نہ ہو تو اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ زندگی یوں ہی نہیں تمام ہو جائے گی بلکہ ایک دن جزا اور سزا سے سابقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20۔ 1 یعنی آخرت کے حساب و کتاب پر میرا کامل یقین تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
یہ کہ اعمال نامہ دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں دیئے جانے اور آگے اور پیچھے سے دئے جانے کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ عملاً ایسا ہوگا اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ عربی زبان کے یہ محاورے میں ، اچھے سلوک کی تعبیر دائیں ہاتھ سے اور برے سلوک کی تعبیر بائیں سے کی گئی ہے یا برے سلوک کی صورت میں اعمال نامہ پیچھے سے دیا جانا تعبیر کیا گیا ہے جو بھی مفہوم ہو۔ اس لئے ہم اس بحث میں نہیں پڑتے ، اصل مقصود یہ بتاتا ہے کہ ناکام لوگوں کے ساتھ وہاں اچھا سلوک نہ ہوگا۔
جو منظر یہاں پیش کیا گیا ہے ، وہ اس شخص کا ہے جو کامیاب ہوگیا وہ دن نہایت ہی خوفناک ہوگا ، اس لئے اس منظر میں یہ شخص نہایت ہی فرحاں و شاداں ادھر ادھر…
Read the full tafseer →8 یعنی میں نے دنیا میں خیال رکھا تھا کہ ایک دن ضرور میرا حساب کتاب ہونا ہے اس خیال سے میں ڈرتا رہا اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہا آج اس کا دل خوش کن نتیجہ دیکھ رہا ہوں کہ خدا کے فضل سے میرا حساب بالکل صاف ہے۔
Read the full tafseer →آیت 20{ اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَہْ۔ } ”وہ کہے گا : مجھے یقین تھا کہ مجھے اپنے حساب سے دوچار ہونا ہے۔“
مجھے یقین تھا کہ مجھے میرے اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
16 داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے والے کی خوشی کا منظر :۔ چونکہ مجھے یہ یقین تھا کہ مجھ سے میرے اعمال کی بازپرس ہونے والی ہے۔ لہذا میں نے دنیا میں محتاط زندگی گزاری تھی۔ اور ہر ممکن کوشش کی تھی کہ مجھ سے اللہ کی کوئی نافرمانی نہ ہونے پائے۔ ایسے شخص کو فیصلہ کے بعد بلند وبالا باغات میں رہائش کے لیے جگہ ملے گی، کھانے کو لذیذ، مزیدار اور وافر اشیاء اور باغوں کے درختوں کے پھل ان کے سامنے جھک رہے ہونگے۔ تاکہ انہیں اپنے حسب پسند پھل توڑنے کے لیے معمولی سی زحمت بھی گوارا نہ کرنی پڑے۔ یہ سب کچھ پیش کرنے کے بعد انہیں کہا جائے گا کہ خوب مزے اڑاؤ۔ جہاں سے جی چاہے کھاؤ اور جتنا جی چاہے بلاتکلف کھاؤ۔ دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
8۔ یعنی میں تو خود دنیا میں ایمان وتصدیق رکھتا تھا اور یوم آخرت اور وقوع جزاء کا شروع ہی سے معتقد تھا۔ (آیت) ” لا .... خافیۃ “۔ یعنی اے انسانو ! حق تعالیٰ سے اس وقت تمہارا کوئی سا بھی راز چھپا ہوا نہ ہوگا۔ (آیت) ” فاما ..... بیمینہ “۔ نامہ اعمال کا داہنے ہاتھ میں ملنا جتنی ہونے کی علامت ہوگا۔ (آیت) ” فیقول “۔ وہ جنتی خوش ہو کر اپنے آس پاس والوں سے کہے گا۔ (آیت) ” ھآؤم “۔ ھا کے معنی ” لو “ کے آئے ہیں اور ھآؤم کا استعمال موقع جمع پر ہوتا ہے۔ ھاؤ صوت یصوت فیفھم بہ معنی خذ (کبیر) ویقال للاثنین ھاؤما وللجمع ھاؤموا وھاؤم (کبیر) ھا کلمۃ فی معنی الاخذ وھو نقیض ھات اے اعط ویقال ھاؤم ھاؤما وھاؤموا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–37
ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →انی ظننت انی ملاق حسابیہ . یعنی بیشک میں تو جانتا تھا مجھے تو یقین تھا کہ مجھے میرے اعمال کا حساب
پیش آئے گا۔ حساب کا یقین رکھنے کے بعد نیک اعمال کرنا لازم ہیں اس لیے حساب پر یقین ظاہر کرنے سے درپردہ اس کی مراد ہے نیک اعمال کرنا۔ یعنی وہ کہے گا اسی لیے تو میں نے اچھے عمل کیے تھے مگر اظہار عجز کے طور پر صراحۃً وہ یہ بات نہیں کرے گا یہی اعتراف فروتنی اس کا باعث ہوگا کہ وہ یقین کو ظن سے تعبیر کرے گا۔ اللہ علام الغیوب کے سامنے یقین کا دعویٰ کرنے سے اس کو اپنی ذات کا استحقار روکے گا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ چونکہ علوم نظریہ وسوسوں سے خالی نہیں ہوتے اس لیے یقین کی تعبیر بلفظ ظن (غالب خیال) کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(18۔ 20) یا یہ کہ تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہ ہوگی سو پھر جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ مثلا حضرت ام سلمہ کے خاوند ابو سلمہ بن عبدالاسد تو وہ خوشی میں اپنے ساتھیوں سے کہے گا آؤ میرا نامہ اعمال دیکھ لو اس میں جو ثواب و جزا ہے میرا یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب پیش آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →انی ظننت انی ملق حسابیہ :”انی ظننت“ یقینا میں نے سمجھ لیا تھا۔”ظن“ کا لفظ وہم، گمان اور قین تینوں چیزوں کے لئے آتا ہے، کیونکہ یہ اصل میں علامات اور نشانیوں کے ذریعے سے حاصل ہونے والی چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ نشانیاں کمزور ہوں تو وہم یا گمان تک معاملہ رہتا ہے، اگر مضبوط ہوں تو غالب گمان اور علم و یقین کا معنی دیتا ہے۔ خصوصاً جب اس کے ساتھ ”ان“ بھی ہو۔ (مفردات) یہاں ”ظننت“ کا لفظ غالب گمان کے معنی میں ہے، جو دن بدن دلائل کے ساتھ یقین میں بدلتا جاتا ہے، اسی غالب گمان ہی کی وجہ سے انسان قیامت کے دن کے حساب سے ڈر کر اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ اگر مکمل یقین کے بغیر وہ اللہ کی نافرمانی چھوڑنے…
Read the full tafseer →انی ظنت مجھے یقین اور علم ہے (3) حضرت ابن عبسا اور دوسرے علماء سے یہ مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، مجھے یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ میرا میرے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ کرے گا۔ اس نے مجھے معاف کرنے کے ساتھ مجھ پر فضل و احسان فرمایا اور میرا مواخذہ نہ کیا۔ ضحاک نے کہا، قرآن حکیم میں جہاں بھی لفظ ظن استعمال ہوا ہے اس کی نسبت مومن کی طرف ہے (4) تو وہ یقین کے معنی میں ہے اور کافر کی طرف نسبت ہو تو وہ شک کے معنی میں ہے۔ مجاہد نے کہا، آخرت کا ظن یقین ہے اور دنیا کا ظن شک ہے۔ حضرت حسن بصری نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : مومن اپنے رب کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہے تو وہ اچھا عمل کرتا ہے اور منافق اپنے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
30۔ جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انی ظننت سے مراد ہے بلاشبہ مجھے یقین تھا۔
Read the full tafseer →[اِنِّىْ ظَنَنْتُ : بیشک میں نے خیال کیا ][اَنِّىْ مُلٰقٍ : کہ میں ملاقات کرنے والا ہوں ][ حِسَابِيَهْ : اپنے حساب سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اعمال ناموں کی تفصیل اور دائیں ہاتھ میں اعمال نامے ملنے والوں کی خوشی :
اس کے بعد اعمال ناموں کی تفصیل ذکر فرمائی، ارشاد فرمایا ﴿ فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ 1ۙ فَيَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْۚ0019﴾ (سو جس کے دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا وہ خوشی خوشی لوگوں سے کہے گا آؤمیری کتاب پڑھ لو) داہنے ہاتھ میں کتاب کا دیا جانا ہی دلیل اس بات کی ہوگی کہ یہ شخص کامیاب ہوگیا ﴿ اِنِّيْ ظَنَنْتُ اَنِّيْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْۚ0020﴾ (مجھے پتہ تھا کہ بلاشبہ میں اپنے حساب سے ملاقات کرنے والا ہوں) مجھے دنیا میں پیشی کا اور اعمالنامے دیئے جانے کا یقین تھا، اسی لیے دنیا میں سنبھل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
9:۔ ” فاما من اوتی کتبہ بیمینہ “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے “ ” ھاءم اقرؤوا کتابیہ “ سے تنازع فعلین میں بصریوں کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔ بصریوں کے نزدیک عمل دوسرے فعل کو دیا جاتا ہے اور پہلے فعل کا معمول مقدر ہوتا ہے اور کو فیوں کے نزدیک اس کے برعکس۔ یہاں بصریوں کے مذہب کے مطابق کتابیہ، اقرء وا کا مفعول ہے اگر وہ ھاءم کا مفعول ہوتا تو اقرء وا کا مفعول ضمیر ہوتا اور اصل عبارت اقرء وہ ہوتی، کیونکہ جہاں مفعول کا اضمار ممکن ہو وہاں ترک اضمار اولی اور مختار کے خلاف ہے اس طرح کو فیوں کا مذہب اختیار کرنے میں خلاف مختار کا ارتکاب لازم آتا ہے (مظہری۔ روح۔ بیضاوی) ۔ کتابیہ، حسابیہ، مالیہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
گزشتہ سے پیوستہ :
اس سورة کا موضوع جزائے عم ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ پہلی آیات میں کا ذکر فرمایا۔ چند گزشتہ اقوام کا ذکر کیا جو قیامت کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حاقہ واقع کیا اور یہ دو قسم سے وار ہوتا ہے۔ ایک ابتلا ہوتی ہے ، وقتی طور پر تکلیف آئی اور دور ہوگئی۔ اس کے بعد پھر موقع مل گیا۔ سز کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ مذکورہ اقوام کو اس دنیا میں ہی سزا ملی اور پھر اٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عالم برزخ میں سزا پا رہے ہیں۔ ان اقوام میں شرک و کفر تھا اور انکا رسالت بھی ، یہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ تو یہ قیامت کے جھٹلانے کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ دنیا میں ہی…
Read the full tafseer →اِنِّىْ ظَنَنْتُ اَنِّىْ مُلٰقٍ حِسَابِيَہْ 20 ۚ
ظن
والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ،
( ظ ن ن ) الظن
اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–37
ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ
1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ
2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…
Read the full tafseer →اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَـہْ ۔ (الحآقۃ : 20)
(مجھے یقین تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے۔ )
ظن کا مفہوم
عربی زبان میں ” ظن “ جس طرح محض گمان کے معنی میں آتا ہے، اسی طرح غالب گمان اور یقین کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں غالب گمان یا یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جس مومن کو اعمال نامہ دہنے ہاتھ میں ملے گا وہ اپنے دوستوں کو دکھاتا ہوا، خوشی اور اعتماد سے یہ بات کہے گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اعزاز حاصل کرنے میں اس لیے کامیاب ہوا ہوں کہ مجھے دنیا میں اس بات کا یقین تھا کہ قیامت کا تصور محض ایک افسانہ نہیں، ایک یقینی عقیدہ ہے۔ ہم یقینا ایک نہ ایک دن اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا اور رب ذوالجلال کے عرش کو آٹھ ملائکہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
اسرافیل کے پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد زمین و آسمانوں کی موجودہ حالت ختم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو نئی صورت میں بنائیں گے جن کے بارے میں ارشاد فرمایا :
” اس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی بدل دیا جائے گا اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ (ابراہیم : 48)
اللہ تعالیٰ کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس حالت میں رب ذوالجلال زمین پر جلوہ افروز ہوں گے جس طرح اس کی ذات کے لائق ہے۔ ہمیں یہ بات سوچنے سے…
Read the full tafseer →20 : اِنِّیْ ظَنَنْتُ (میں اعتقاد رکھتا تھا) یہ ظننت ‘ علمت کے معنی میں ہے۔ یہاں ظن کو علم کی جگہ لایا گیا۔ کیونکہ ظن غالب عادات، احکامات میں علم کے بمنزلہ ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ جو چیز اجتہاد سے پائی جائے وہ کم وبیش ہی وساوس و خیالات سے بچی ہوتی ہے۔ وہ گمانوں کی طرف لے جاتی ہے اس لئے ظن کا اطلاق اس پر ظن سے خالی نہ ہونے کی بناء پر ہے۔ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَہْ (کہ مجھکو میرا حساب پیش آنے والا ہے) میں اپنے حساب کا معائنہ کرنے والا ہوں۔
Read the full tafseer →19 ۔” فاما من اوتی کتاب بیمینہ فیقول ھائوم اقرئوا کتابیہ “ ھائ ” کنابیہ “ میں وقف کی ھاء ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
19۔ 24۔ ابو داؤود 1 ؎ کی حضرت عائشہ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حشر کے دن تین موقعوں پر لوگوں کو بڑی سخت پریشانی ہوگی۔ ان تین موقعوں پر ایک موقع تو یہی نامہ اعمال کے تقسیم ہونے کا ہے اس وقت ہر ایک شخص کے دل میں یہ خوف ہوگا کہ دیکھئے اس کا اعمال نامہ سیدھے ہاتھ میں آتا ہے یا الٹے ہاتھ میں۔ باقی دو موقعے اعمال کے تولے جانے اور پل صراط سے گزرنے کے وقت کے ہیں۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے ان میں بعض تو ایسے ہوں گے جن کی نیکیاں خود ہی زیادہ اور بدیاں کم ہوں گی اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کی بدیاں اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کرنے کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے، اس وقت ان میں سے کوئی فروخت و سرور اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا، (ھاء م اقروا کتابیہ) ۔ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو۔ یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایاوہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے…
Read the full tafseer →19 اس عظیم کامیابی کے سبب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا کہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ میں نے اپنا حساب پانا ہے۔ سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ دولت ایمان و یقین اور عقیدئہ آخرت اس عظیم الشان اور بےمثال کامیابی کی اولین اساس ہے۔ پس یہاں پر ظن کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ درس ہے کہ آفاق وانفس کید لائل میں غور کرنے سے اور حضرات انبیاء و حکماء کے ارشاد فرمودہ دلائل وبراہین کے ذریعے آخرت کے بارے میں اس طرح کا یقین تو اگرچہ نہیں ہوسکتا ‘ جیسا کہ آنکھوں دیکھی چیز سے ہوا کرتا ہے الا ماشاء اللہ۔ مگر ایک ظن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–37
برُے اور اچھے لوگوں کا حال
تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 11 اس آیت میں ” یقین “ کے لئے اصل لفظ ” ظن “ اسعتمال ہوا ہے۔ ظن کے لفظی معنی اگرچہ گمان کے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد یقین لنیا ضروری ہے کہ آخرت میں نجات کا انحصاریقین پر ہے۔ ضحاک کہتے ہیں کہ قرآن میں جہاں لفظ ظن مومن کی طرف منسوب ہوا ہے وہاں اس کے معنی یقین کے ہیں اور جہاں کافر کی طرف ہوا ہے اس سے مراد شک ہے۔
Read the full tafseer →(69:20) ظننت ماضی واحد متکلم ظن (باب نصر) مصدر۔ میں نے یقین کیا۔ میں نے جانا۔
انی : بیشک میں۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ی ضمیر واحد متکلم سے مرکب ہے۔
انی : بیشک میں ۔ ان ھرف مشبہ بالفعل اور ی ضمیر واحد متکلم سے مرکب ہے۔
ملاق : ملاقاۃ (مفاعلۃ) مصدر سے ۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے اصل میں ملاقی تھا۔ پہنچنے والا۔ پانے والا۔ مضاف
حسابیہ : حسابی مضاف ، مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ میرا حساب ۃ وقف کی ہے ملاحظہ ہو کتبیہ : آیت 69:19 متذکرۃ الصدر۔ ملاق حسابیہ : اپنے حساب کو، (یعنی اپنے اعمال کی سزا و جزائ) پالینے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
(ف 1) جو اچھے لوگ کہ نامہ اعمال ان کے سیدھے ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے وہ اپنے اعمال صالحہ پر جو دنیا میں کیے تھے وثوق کرکے اور خوش ہوکر پڑھیں گے اور جو کوئی رشتہ دار کنبہ والایاجان پہچان والا اس وقت نظر آئے گا خوشی کے مارے اس سے بھی کہیں گے لوہمارانامہ اعمال پڑھ کردیکھو کہ میری کتاب اس میں کیا کیا ثواب و کرامت ہے اور یہ بھی کہیں گے کہ ہم کو تو دنیا میں ہی یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن حساب وکتاب دینے والے ہیں اور یہ بات پیش آنے والی ہے۔ اس خیال سے ہم ڈرتے رہے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہے پس جو ایسا شخص ہوگا وہ ایسے عیش میں ہوگا کہ اس کی جان اس سے نہایت خوش اور راضی ہوگی اور جنت بالاتر مرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[11] یعنی میں دنیا میں یہ سمجھتا تھا کہ ایک دن ضرور میرا حساب کتاب ہونا ہے۔ اس خیال سے میں نے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہا۔ آج اس کا دل خوش کن نتیجہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا
حساب بالکل صاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
صور پھونکا جائے گا
2: نرسنگے میں پھونکنے کے دو معنی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور اعلان وعلام کے ہوگا ۔ جس سے معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ اس بساط لہو و لعب کو الٹ دیا جائے ۔ اور یا خود اس آواز میں یہ اثر ہوگا ۔ کہ اس کی وجہ سے عالم کون ومکان درہم برہم ہوجائے گا ۔ اور عقلاً اس میں کوئی استحالہ نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ آواز میں تاثیر پیدا کردیں ۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے ۔ کہ جب یہ موجودہ وقت آجائے گا ۔ اس وقت یہ سقف زرنگار پھٹ جائے گا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر آلگیں گے ۔ اور رب قدوس کی تجلیات عرش جلالت پر ہے تو انگن ہوں گی ۔ جس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا
ایک ایک شخص کو اس کے روبرو…
Read the full tafseer →(20) مجھ کو اس بات کا یقین تھا کہ مجھے میرا حساب پیش آنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ف 1۔ یعنی میں قیامت و حساب کا معتقد تھا، مطلب یہ کہ میں ایمان و تصدیق رکھتا تھا، خدا نے اس کی برکت سے آج مجھ کو نوازا۔
Read the full tafseer →مجھے یقین تھا کہ ایک روز مجھے نامہ اعمال ضرور ملے گا
20 ؎ (ظن) کے معنی بعض اوقات گمان اور شک کے ہوتے ہیں اور بعض اوقات یقین کے اور بعض اوقات علم کے معنوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں (ظن) شک اور گمان کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ یقین یا کم از کم علم کے معنوں میں اس کو تسلیم کیا جاسکتا ہے جب اس کے رزلٹ اور نتیجہ اور نتیجہ کو دیکھیں گے تو وہ نہایت خوشی کے ساتھ کہے گا کہ مجھے پورا یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا اور بحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل کیا اور میرے حال پر رحم فرماتے ہوئے مجھے کامیابی کی سند عطا فرما دی کہ آج مجھے دنیاوی دکھوں اور تکلیفوں کا محض ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ (Come here, read my book… 69:19). The word ha'umu, literally means, "come" but, idiomatically, it is used in the sense of the plural imperative verb khudhu "take'. In other words, one who is given his record book in his right hand, he will be elated and, looking at the people around him, will say 'Here, take my account book and read it!'
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
14 That is, ". He was fortunate because he had been conscious of the Hereafter in the world and had lived his life with the belief that he would have to appear before God one day and render his account to Him.
Read the full tafseer →