فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ ۟ۙفَهُوَ فِىۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ
پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا
— Fateh Muhammad Jalandhari
So he will be in a pleasant life -
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ ۟ۙفَهُوَ فِىۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ
پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا
— Fateh Muhammad Jalandhari
So he will be in a pleasant life -
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa
پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا
پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا
پس وه ایک دل پسند زندگی میں ہوگا
چنانچہ وہ من پسند عیش میں ہوگا۔
تو وہ من مانتے چین میں ہے،
سو وہ پسندیدہ زندگی بسر کرے گا،
پس وہ ایک خوشی والی زندگی میں ہوگا۔
پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا
پس وہ تو ایک دل پسند عیش میں ہوگا ،
پس وہ تو ایک بڑی ہی (عمدہ و پاکیزہ اور) پسندیدہ گزران میں ہوگا
تو وہ شخص خوب مزے کے عیش میں ہوگا
پس وہ پسندیدہ زندگی بسر کرے گا۔
پس وہ شخص من مانے عیش میں ہوگا
Then he shall find himself in a life of bliss;
So he will be in a well-pleasing life
So he will be in a well-pleasing life
So, he shall be in a life, well-pleasing.
Then he will be in blissful state
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
So he will be in a pleasant life -
They will have a pleasant life
So he shall be in a life of pleasure,
Then he shall be in a life well-pleasing -
And he will be in a life of Bliss,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 19–24
دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بیحد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لئے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہوگئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں، پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں، عبدالرحمٰن بن زید فرماتے ہیں (ھا) کے بعد لفظ (ؤم) زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ (ھاؤم) معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
سورة الْحَآقَّة 14 یعنی وہ اپنی خوش قسمتی کی وجہ یہ بتائے گا کہ وہ دنیا میں آخرت سے غافل نہ تھا بلکہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ ایک روز اسے خدا کے حضور حاضر ہونا اور اپنا حساب دینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
(آیت) هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ۔ لفظ ھاؤم، خذو کے معنے میں ہے جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگا گا کہ لو یہ میرا جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگے گا کہ لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔
Read the full tafseer →فرمایا کہ یہ لوگ اپنے پسندیدہ عیش میں ہوں گے۔ انھیں وہ سب کچھ حاصل ہو گا جو وہ چاہیں گے وہ بلند باغوں میں ہوں گے جن کے خوشے بالکل ان کے سروں پر لٹک رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20۔ 1 یعنی آخرت کے حساب و کتاب پر میرا کامل یقین تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
اس کے بعد علی الاعلان بتادیا جائے گا کہ ان لوگوں کے لئے اللہ نے یہ یہ نعمتیں تیار کررکھی ہیں۔ یہاں اس کے سامنے ایسی حسی اور مادی نعمتیں گنوائی جارہی ہیں۔ جن کو عرب اچھی طرح مادی ترقی کا کمال سمجھتے تھے۔ اس وقت لوگ چونکہ دور جاہلیت سے ابھی ابھی ایک بدوی معاشرہ سے نکل کر آئے تھے ، اس لئے ان کے مزاج کے مطابق بعض پسندیدہ باتیں یہاں گنوائی جاتی ہیں۔ کیونکہ نہ تو وہ زیادہ ترقی یافتہ تھے اور نہ جنت کی نعمتوں کا کوئی تصور کرسکتا ہے۔ فھوفی ............................ الخالیة (42) (06 : 12 تا 42) پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا ، عالی مقام جنت میں ، جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
9 جو کھڑے بیٹھے، لیٹے، ہر حالت میں نہایت سہولت سے چنے جاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
آیت 21 { فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ۔ } ”پس وہ پسندیدہ زندگی بسر کرے گا۔“ وہ خوش نصیب دل پسند عیش میں ہوگا۔ اسے ایسی زندگی عطا کی جائے گی جس میں ہر طرح کی رضا ہی رضاہو گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
16 داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے والے کی خوشی کا منظر :۔ چونکہ مجھے یہ یقین تھا کہ مجھ سے میرے اعمال کی بازپرس ہونے والی ہے۔ لہذا میں نے دنیا میں محتاط زندگی گزاری تھی۔ اور ہر ممکن کوشش کی تھی کہ مجھ سے اللہ کی کوئی نافرمانی نہ ہونے پائے۔ ایسے شخص کو فیصلہ کے بعد بلند وبالا باغات میں رہائش کے لیے جگہ ملے گی، کھانے کو لذیذ، مزیدار اور وافر اشیاء اور باغوں کے درختوں کے پھل ان کے سامنے جھک رہے ہونگے۔ تاکہ انہیں اپنے حسب پسند پھل توڑنے کے لیے معمولی سی زحمت بھی گوارا نہ کرنی پڑے۔ یہ سب کچھ پیش کرنے کے بعد انہیں کہا جائے گا کہ خوب مزے اڑاؤ۔ جہاں سے جی چاہے کھاؤ اور جتنا جی چاہے بلاتکلف کھاؤ۔ دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
9۔ (یعنی دنیا میں) (آیت) ” قطوفھا .... دانیۃ “۔ یعنی جنت میں میوہ دار درختوں کے لذیذ پھل اور خوشے اہل جنت پر جھکے ہوئے ہر حال میں ان سے ایسے قریب ہوں گے کہ وہ بیٹھے لیٹے، کھڑے، جس وضع وحالت میں بھی چاہیں گے انہیں پاسکیں گے۔ (آیت) ” فی عیشۃ راضیۃ “۔ جنت کی زندگی ہر قسم کے فکر وترود، مرض ومصیبت، زوال وموت عیب ونقص سے قطعا خالی ہوگی، اس ساری کیفیت کو ایک مختصر لفظ (آیت) ” عیشۃ راضیۃ “۔ تعبیر فرمایا دیا گیا ہے۔ (آیت) ” بما اسلفتم “۔ اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ اعمال طاعت موجبات اجر وصلہ ہوتے ہیں، اور اہل جنت کو جو صلہ ملے گا اس کے وہ مستحق ہوں گے، یدل علی انھم انما استحقوا ذلک الثواب بسبب عملھم وذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–37
ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →فھو فی عیشۃ راضیہ . تو وہ پسندیدہ عیش میں ہوگا۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ راضیہ (اسم فاعل) بمعنی مرضیہ (اسم مفعول) ہے یعنی پسندیدہ رُضِیَتِ الْعِیْشَۃُ بصیغۂ مجہول کہا جاتا ہے رُضِیَتِ الْعِیْشَۃُ بصیغۂ معروف نہیں بولا جاتا۔ بیضاوی نے راضیۃ کا ترجمہ کیا ہے پسندیدگی والی۔ گویا صیغۂ اسم فاعل پسندیدگی کی نسبت کو بتارہا ہے یا رضاء کی نسبت عیشۃ کی طرف مجازی ہے ( عیشہ کو پسند کیا جاتا ہے عیشہ بجائے خود پسند کرنے والی چیز نہیں پسندیدہ چیز ہوتی ہے ‘ مجازی طور پر عیشہ کو پسند کرنے والا قرار دیا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
(21۔ 23) غرض کہ وہ شخص پسندیدہ عیش یعنی بہشت بریں میں ہوگا کہ جس کے پھل اور میوے اس قدر جھکے ہوں گے کہ جس حالت میں چاہیں گے لے سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فھو فی عیشۃ راضیۃ…: جنت میں کوئی فکر و غم ہوگا نہ مرض، نہ موت، نہ تھکاوٹ ، نہ بڑھاپا، نہ کوئی نقص، نہ عیب اور نہ کمزوری۔ ہر نعمت جو دل چاہے گا بلکہ جو خیال کی رسائی سے بھی بلند ہے، ملے گی۔ ان تمام باتوں کو ”عیشۃ راضیۃ“ کے لفظ سے ادا فرما دیا ہے۔
Read the full tafseer →فھو فی عیشۃ راضیۃ۔ وہ ایسی زندگی میں ہوگا جس پر وہ راضی ہوگا اس میں کوئی نپاسندیدہ چیز نہ ہوگ ی۔ ابو عبیدہ اور فراء نے کہا، راضیۃ سے مراد مرضیۃ ہے جس طرح تیرا قول ہے : ماء دافق یہ مدفوق کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ذات رضا کے معنی میں ہے یعنی اس سے اس کا صاحب راضی ہوگا، جس طرح لابن اور تامر سے مراد دودھ والا کھجور والا ہے۔ صحیح میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : ” وہ زندہ رہیں گے کبھی بھی نہیں مریں گے، وہ صحت مند رہیں گے وہ کبھی بھی بیمار نہیں ہونگے وہ نعمتوں میں ہونگے کبھی تکلیف نہ دیکھیں گے، وہ جوان رہیں گے کبھی بھی بوڑھے نہ ہوں گے۔ “ (1)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
30۔ جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انی ظننت سے مراد ہے بلاشبہ مجھے یقین تھا۔
Read the full tafseer →[ فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ : تو وہ من بھاتی زندگی گزارنے میں ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
﴿فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ0021﴾ (سو یہ شخص ایسی زندگی میں ہوگا جس سے راضی ہوگا اور خوش ہوگا) ۔ ﴿ فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ0022﴾ (بہشت بریں یعنی اونچی جنت میں ہوگا) ۔ ﴿قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ0023﴾ (اس کے پھل قریب ہوں گے) ۔ جیسا کہ سورة ٴ رحمٰن میں فرمایا ﴿ وَ جَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانٍۚ0054﴾ (اور دونوں جنتوں کے پھل قریب ہوں گے یعنی ہر شخص جو پھل بھی چاہے گا بآسانی کھڑے ہوئے لیٹے بیٹھے توڑ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
9:۔ ” فاما من اوتی کتبہ بیمینہ “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے “ ” ھاءم اقرؤوا کتابیہ “ سے تنازع فعلین میں بصریوں کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔ بصریوں کے نزدیک عمل دوسرے فعل کو دیا جاتا ہے اور پہلے فعل کا معمول مقدر ہوتا ہے اور کو فیوں کے نزدیک اس کے برعکس۔ یہاں بصریوں کے مذہب کے مطابق کتابیہ، اقرء وا کا مفعول ہے اگر وہ ھاءم کا مفعول ہوتا تو اقرء وا کا مفعول ضمیر ہوتا اور اصل عبارت اقرء وہ ہوتی، کیونکہ جہاں مفعول کا اضمار ممکن ہو وہاں ترک اضمار اولی اور مختار کے خلاف ہے اس طرح کو فیوں کا مذہب اختیار کرنے میں خلاف مختار کا ارتکاب لازم آتا ہے (مظہری۔ روح۔ بیضاوی) ۔ کتابیہ، حسابیہ، مالیہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
گزشتہ سے پیوستہ : اس سورة کا موضوع جزائے عم ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ پہلی آیات میں کا ذکر فرمایا۔ چند گزشتہ اقوام کا ذکر کیا جو قیامت کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حاقہ واقع کیا اور یہ دو قسم سے وار ہوتا ہے۔ ایک ابتلا ہوتی ہے ، وقتی طور پر تکلیف آئی اور دور ہوگئی۔ اس کے بعد پھر موقع مل گیا۔ سز کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ مذکورہ اقوام کو اس دنیا میں ہی سزا ملی اور پھر اٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عالم برزخ میں سزا پا رہے ہیں۔ ان اقوام میں شرک و کفر تھا اور انکا رسالت بھی ، یہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ تو یہ قیامت کے جھٹلانے کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ دنیا میں ہی…
Read the full tafseer →فَہُوَفِيْ عِيْشَۃٍ رَّاضِيَۃٍ 21 ۙ عيش العَيْشُ : الحیاة المختصّة بالحیوان، وهو أخصّ من الحیاة، لأنّ الحیاة تقال في الحیوان، وفي الباري تعالی، وفي الملک، ويشتقّ منه المَعِيشَةُ لما يُتَعَيَّشُ منه . قال تعالی: نَحْنُ قَسَمْنا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا[ الزخرف/ 32] ، مَعِيشَةً ضَنْكاً [ طه/ 124] ، لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الأعراف/ 10] ، وَجَعَلْنا لَكُمْ فِيها مَعايِشَ [ الحجر/ 20] . وقال في أهل الجنّة : فَهُوَ فِي عِيشَةٍ راضِيَةٍ [ القارعة/ 7] ، وقال عليه السلام : «لا عَيْشَ إلّا عَيْشُ الآخرة ( ع ی ش ) العیش خاص کر اس زندگی کو کہتے ہیں جو حیوان میں پائی جاتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–37
ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ۔ فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ۔ قُطُوْفُھَا دَانِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 21 تا 23) (پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔ ایک بلند وبالا باغ میں۔ اس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ ) اعمال نامے کا دائیں ہاتھ میں ملنا گویا جنت میں داخلے کی علامت کہئے یا سرٹیفکیٹ۔ اس کے بعد کے مراحل آسانی سے سر ہوجائیں گے۔ آخر یہ خوش قسمت جنت میں پہنچ جائے گا۔ اس جنت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں انسان کو وہ زندگی، وہ ماحول، وہ سہولت اور وہ نعمتیں میسر آئیں گی جو اس کے لیے دل پسند ہوں گی۔ وہ جس چیز کی خواہش کرے گا چاہے وہ آج کی دنیا میں ناممکنات میں سے ہو، وہ اسے فوراً عطا کردی جائے گی اور کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا اور رب ذوالجلال کے عرش کو آٹھ ملائکہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اسرافیل کے پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد زمین و آسمانوں کی موجودہ حالت ختم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو نئی صورت میں بنائیں گے جن کے بارے میں ارشاد فرمایا : ” اس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی بدل دیا جائے گا اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ (ابراہیم : 48) اللہ تعالیٰ کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس حالت میں رب ذوالجلال زمین پر جلوہ افروز ہوں گے جس طرح اس کی ذات کے لائق ہے۔ ہمیں یہ بات سوچنے سے…
Read the full tafseer →21 : فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّ اضِیَۃٍ (غرض وہ شخص پسندیدہ عیش) رضا مندی والی جس کو وہ پسند کرے گا۔ یہ راضیہ لابن کی طرح ہے۔ ای ذات رضا۔ نمبر 2۔ راضیہ بمعنی مرضیہ رضا کی نسبت عیشہ کی طرف مجازی ہو )
Read the full tafseer →20 ۔” انی ظننت “ میں نے جانا اور یقین کیا۔ ” انی ملاق حسابیہ “ یعنی میرا آخرت میں حساب کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
19۔ 24۔ ابو داؤود 1 ؎ کی حضرت عائشہ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حشر کے دن تین موقعوں پر لوگوں کو بڑی سخت پریشانی ہوگی۔ ان تین موقعوں پر ایک موقع تو یہی نامہ اعمال کے تقسیم ہونے کا ہے اس وقت ہر ایک شخص کے دل میں یہ خوف ہوگا کہ دیکھئے اس کا اعمال نامہ سیدھے ہاتھ میں آتا ہے یا الٹے ہاتھ میں۔ باقی دو موقعے اعمال کے تولے جانے اور پل صراط سے گزرنے کے وقت کے ہیں۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے ان میں بعض تو ایسے ہوں گے جن کی نیکیاں خود ہی زیادہ اور بدیاں کم ہوں گی اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کی بدیاں اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(فھو فی عیشۃ راضیہ) ۔ پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا، یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہوگی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی ان کا حال یہ ہوگا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ (فی جنۃ عالیہ) بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →20 اصحاب یمین کیلئے پسندیدہ گزران کا مژدئہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ پسندیدہ گزراں میں ہوگا : دنیاوی زندگی چونکہ اس نے اپنی خواہشات کو کچل کر خدا چاہی زندگی کے طور پر گزاری تھی ‘ اس لئے اس کے صلہ میں وہ اکرم الاکرمین اس کو وہاں پر من چاہی زندگی کی ایسی عظیم الشان نعمت سے نوازے گا جو اس دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی فایاک نسال اللھم التوفیق والسداد لما تحب وترضی من القول والعمل۔ سو ایمان و یقین کی زندگی اور رضاء خداوندی کو مقصود حیات بنانے کی روش وہ پاکیزہ اور پسندیدہ روش ہے جو انسان کو آخرت کی ابدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–37
برُے اور اچھے لوگوں کا حال تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 11 اس آیت میں ” یقین “ کے لئے اصل لفظ ” ظن “ اسعتمال ہوا ہے۔ ظن کے لفظی معنی اگرچہ گمان کے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد یقین لنیا ضروری ہے کہ آخرت میں نجات کا انحصاریقین پر ہے۔ ضحاک کہتے ہیں کہ قرآن میں جہاں لفظ ظن مومن کی طرف منسوب ہوا ہے وہاں اس کے معنی یقین کے ہیں اور جہاں کافر کی طرف ہوا ہے اس سے مراد شک ہے۔
Read the full tafseer →(69:21) فھو فی عیشۃ راضیۃ :تعقیب کا یا ترتیب کا ہے۔ ھو سے مراد وہ شخص ہے جسے اس کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ لادیا گیا ہو۔ عیشۃ زندگانی، گزران، عاش یعیش (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ جس کے معنی جینے کے ہیں۔ موصوف ہے۔ راضیۃ : رضی ۔ رضی (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ پسندیدہ، من بھاتی۔ خوش، صفت، ھو مبتداء فی عیشۃ راضیۃ اس کی خبر۔ ترجمہ :۔ پس وہ شخص پسندیدہ زندگی بسر کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
(ف 1) جو اچھے لوگ کہ نامہ اعمال ان کے سیدھے ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے وہ اپنے اعمال صالحہ پر جو دنیا میں کیے تھے وثوق کرکے اور خوش ہوکر پڑھیں گے اور جو کوئی رشتہ دار کنبہ والایاجان پہچان والا اس وقت نظر آئے گا خوشی کے مارے اس سے بھی کہیں گے لوہمارانامہ اعمال پڑھ کردیکھو کہ میری کتاب اس میں کیا کیا ثواب و کرامت ہے اور یہ بھی کہیں گے کہ ہم کو تو دنیا میں ہی یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن حساب وکتاب دینے والے ہیں اور یہ بات پیش آنے والی ہے۔ اس خیال سے ہم ڈرتے رہے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہے پس جو ایسا شخص ہوگا وہ ایسے عیش میں ہوگا کہ اس کی جان اس سے نہایت خوش اور راضی ہوگی اور جنت بالاتر مرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[11] یعنی میں دنیا میں یہ سمجھتا تھا کہ ایک دن ضرور میرا حساب کتاب ہونا ہے۔ اس خیال سے میں نے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہا۔ آج اس کا دل خوش کن نتیجہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا حساب بالکل صاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
صور پھونکا جائے گا 2: نرسنگے میں پھونکنے کے دو معنی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور اعلان وعلام کے ہوگا ۔ جس سے معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ اس بساط لہو و لعب کو الٹ دیا جائے ۔ اور یا خود اس آواز میں یہ اثر ہوگا ۔ کہ اس کی وجہ سے عالم کون ومکان درہم برہم ہوجائے گا ۔ اور عقلاً اس میں کوئی استحالہ نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ آواز میں تاثیر پیدا کردیں ۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے ۔ کہ جب یہ موجودہ وقت آجائے گا ۔ اس وقت یہ سقف زرنگار پھٹ جائے گا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر آلگیں گے ۔ اور رب قدوس کی تجلیات عرش جلالت پر ہے تو انگن ہوں گی ۔ جس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا ایک ایک شخص کو اس کے روبرو…
Read the full tafseer →(21) غرض وہ ایک پسندیدہ اور من مانی زندگی گزارتا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ف 1۔ یعنی میں قیامت و حساب کا معتقد تھا، مطلب یہ کہ میں ایمان و تصدیق رکھتا تھا، خدا نے اس کی برکت سے آج مجھ کو نوازا۔
Read the full tafseer →پس وہ آخرت میں خاطر خواہ زندگی بسر کرے گا 21 ؎ (عیشۃ) زندگانی ، گزران ، عاش یعیش کا مصدر ہے جو باب ضرب سے آتا ہے اور جس کے معنی جینے کے ہیں اور بعض نے لکھا ہے کہ بروزن فعلۃ عیش سے بیان نوع کے لئے ہے۔ (غرائب القرآن ج 29 ص 34 برحاشیہ تفسیر ابن جریر طبری امام راغب (رح) فرماتے ہیں کہ عیش اس زندگی کو کہتے ہیں جو حیوان کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ حیاۃ سے اخص ہے کیونکہ حیاۃ کا استعمال ہر حیوان ، اللہ رب ذوالجلال والاکرام اور فرشتوں سب کے لئے یکساں ہے۔ (راضیۃ) پسندیدہ ، خوش ، من بھاتی ، راضی۔ رضی سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ ایسی زندگی جس پر وہ مکمل طور پر راضی ہوگا اور خوشی سے اس کو زندگی گزارنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ (Come here, read my book… 69:19). The word ha'umu, literally means, "come" but, idiomatically, it is used in the sense of the plural imperative verb khudhu "take'. In other words, one who is given his record book in his right hand, he will be elated and, looking at the people around him, will say 'Here, take my account book and read it!'
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
14 That is, ". He was fortunate because he had been conscious of the Hereafter in the world and had lived his life with the belief that he would have to appear before God one day and render his account to Him.
Read the full tafseer →