Explained with ayahs 19–24
دائیں ہاتھ اور نامہ اعمال
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بیحد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو اور یہ اس لئے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہوگئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں، پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں، عبدالرحمٰن بن زید فرماتے ہیں (ھا) کے بعد لفظ (ؤم) زیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ (ھاؤم) معنی میں…
Read the full tafseer →سورة الْحَآقَّة 12
سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال کا دیا جانا ہی ظاہر کر دے گا کہ اس کا حساب بےباق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں مجرم کی حیثیت سے نہیں بلکہ صالح انسان کی حیثیت سے پیش ہو رہا ہے۔ اغلب یہ ہے کہ اعمال ناموں کی تقسیم کے وقت صالح انسان خود سیدھا ہاتھ بڑھا کر اپنا نامہ اعمال لے گا، کیونکہ موت کے وقت سے میدان حشر میں حاضری تک اس کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہوگا اس کی وجہ سے اس کو پہلے ہی یہ اطمینان حاصل ہوچکا ہوگا کہ میں یہاں انعام پانے کے لیے پیش ہو رہا ہوں نہ کہ سزا پانے کے لیے۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ بڑی صراحت کے ساتھ بتائی گئی ہے کہ موت کے وقت ہی سے یہ بات انسان پر واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
(آیت) هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ۔ لفظ ھاؤم، خذو کے معنے میں ہے جمع کے لئے بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگا گا کہ لو یہ میرا جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آئے گا وہ خوشی کے مارے آس پاس کے لوگوں سے کہنے لگے گا کہ لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیشی کے بعد اب یہ اس جزا و سزا کی تفصیل آ رہی ہے جس سے ہر ایک کو سابقہ پیش آنا ہے۔ پہلے اہل ایمان کا حال بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ جس کو اس کا اعمال نامہ دہنے ہاتھ میں پکڑایا جائے گا وہ تو دیکھتے ہی خوشی سے اچھل پڑے گا۔ دوسروں سے کہے گا، یہ لو میرا اعمال نامہ پڑھو!
’ھا‘ کی حیثیت ہے تو مجرد ایک آواز کی جیسے ’ارے‘ یا ’اُف‘ وغیرہ لیکن یہ اس موقع پر بولتے ہیں جب کہنا ہو ’یہ لو‘۔ یہاں ’ھا‘ اور ’اِقْرَؤُوْا‘ کے بیچ میں ’ؤُمْ‘ محض اس خلا کو بھرنے کے لیے آ گیا ہے جو دونوں کے بیچ میں ہے۔ اس طرح کے زوائد کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ ’کِتَابِیْہْ‘ میں ’ہ‘ سکتہ کی ہے جو محض قافیہ…
Read the full tafseer →19۔ 1 یعنی جو اس کی سعادت، نجات اور کامیابی کی دلیل ہوگا۔ یعنی وہ مارے خوشی کے ہر ایک کو کہے گا کہ لو، میرا اعمال نامہ پڑھ لو میرا اعمال نامہ تو مجھے مل گیا، اس لئے کہ اسے پتہ ہوگا کہ اس میں اس کی نیکیاں ہی نیکیاں ہوں گی، کچھ برائیاں ہونگی تو اللہ نے معاف فرما دی ہونگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
6: نیک لوگوں کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور برے لوگوں کو بائیں ہاتھ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
یہ کہ اعمال نامہ دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں دیئے جانے اور آگے اور پیچھے سے دئے جانے کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ عملاً ایسا ہوگا اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ عربی زبان کے یہ محاورے میں ، اچھے سلوک کی تعبیر دائیں ہاتھ سے اور برے سلوک کی تعبیر بائیں سے کی گئی ہے یا برے سلوک کی صورت میں اعمال نامہ پیچھے سے دیا جانا تعبیر کیا گیا ہے جو بھی مفہوم ہو۔ اس لئے ہم اس بحث میں نہیں پڑتے ، اصل مقصود یہ بتاتا ہے کہ ناکام لوگوں کے ساتھ وہاں اچھا سلوک نہ ہوگا۔
جو منظر یہاں پیش کیا گیا ہے ، وہ اس شخص کا ہے جو کامیاب ہوگیا وہ دن نہایت ہی خوفناک ہوگا ، اس لئے اس منظر میں یہ شخص نہایت ہی فرحاں و شاداں ادھر ادھر…
Read the full tafseer →7 یعنی اس دن جس کا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا گیا جو ناجی و مقبول ہونے کی علامت ہے وہ خوشی کے مارے ہر کسی کو دکھاتا پھرتا ہے کہ لو آؤ ! یہ میرا اعمالنامہ پڑھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
آیت 13 { فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ } ”تو جب صور میں پھونکا جائے گا یکبارگی۔“
یعنی اس وقت کو یاد رکھو جب ایک ہی بار صور میں پھونک مار دی جائے گی۔
Read the full tafseer →15 دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی عدالت میں اس کا شمار اللہ کے فرمانبرداروں اور صالحین میں سے ہوگا۔ اور اس بات کی طرف واضح اشارات موت سے ہی ملنا شروع ہوجاتے ہیں۔ پھر جب اسے اس کے حساب کتاب کا رجسٹر دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا خود وہ دائیں ہاتھ سے وصول کرے گا تو اسے اس بات سے اتنی خوشی ہوگی کہ وہ پھولا نہ سمائے گا اور وہ دوسروں کو دعوت دے گا کہ ذرا میرا یہ اعمال نامہ تو دیکھو۔ مجھے اس امتحان میں کتنے اچھے نمبر ملے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
8۔ یعنی میں تو خود دنیا میں ایمان وتصدیق رکھتا تھا اور یوم آخرت اور وقوع جزاء کا شروع ہی سے معتقد تھا۔ (آیت) ” لا .... خافیۃ “۔ یعنی اے انسانو ! حق تعالیٰ سے اس وقت تمہارا کوئی سا بھی راز چھپا ہوا نہ ہوگا۔ (آیت) ” فاما ..... بیمینہ “۔ نامہ اعمال کا داہنے ہاتھ میں ملنا جتنی ہونے کی علامت ہوگا۔ (آیت) ” فیقول “۔ وہ جنتی خوش ہو کر اپنے آس پاس والوں سے کہے گا۔ (آیت) ” ھآؤم “۔ ھا کے معنی ” لو “ کے آئے ہیں اور ھآؤم کا استعمال موقع جمع پر ہوتا ہے۔ ھاؤ صوت یصوت فیفھم بہ معنی خذ (کبیر) ویقال للاثنین ھاؤما وللجمع ھاؤموا وھاؤم (کبیر) ھا کلمۃ فی معنی الاخذ وھو نقیض ھات اے اعط ویقال ھاؤم ھاؤما وھاؤموا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–37
ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →فاما من اوتی کتابہ بیمینہ . یہ تیسری پیشی کی تفصیل ہے اور دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ مؤمن کو دیا جائے گا۔
فیقول ھاؤم . یعنی جس کا اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا : لو۔ ھاء اسم (بمعنی فعل) ہے یعنی لے ‘ اس کا استعمال واحد اور تثنیہ ‘ مذکر نیز واحد اور تثنیہ مؤنث کے لیے ہوتا ہے (یعنی لے تو اور لو تم دونوں) لیکن جمع مذکر کے لیے ھَاؤُمُ آتا ہے (لو تم سب مرد) اور جمع مؤنث کے لیے ھاؤن آتا ہے (لو تم سب عورتیں) ۔
اقرء واکتبیہ . پڑھو میرا اعمالنامہ۔ کتابیہ اور مالیہ اور سلطانیہ میں ہاء سکتہ ہے۔ وقف کی صورت میں باقی رہتی ہے اور
وصل (بعد والے کلام کے ساتھ ملانا) کی حالت میں ساقط ہوجاتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(18۔ 20) یا یہ کہ تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہ ہوگی سو پھر جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ مثلا حضرت ام سلمہ کے خاوند ابو سلمہ بن عبدالاسد تو وہ خوشی میں اپنے ساتھیوں سے کہے گا آؤ میرا نامہ اعمال دیکھ لو اس میں جو ثواب و جزا ہے میرا یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب پیش آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →فاما من اوتی کتبہ بیمینہ…:”ھآوم“ اس فعل ہے، ابن عطیہ نے فرمایا :”اس کا معنی ہے، آؤ !“ زمخشری نے فرمایا :”ھآوم“ ایک آواز ہے جس سے ”خذ“ یعنی ”لو پکڑو“ کا مفہوم سمجھا جاتا ہے۔“ (التسہیل)”کتبیہ“ اصتل میں ”کتابی“ ہے، اس میں ”ہ“ وقف کے لئے ہے، ضمیر نہیں ہے، جیسے ”ماھیہ“ میں ہے۔ (دیکھیے قارعہ : 10) ”حسابیۃ“ ، ”مالیہ“ اور ”سلطنیہ“ میں بھی ایسے ہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا وہ اتنا خوش ہوگا کہ دوسروں کو بلا بلا کر دکھاتا پھرے گا، جیسے دنیا میں بھی انسان کو بڑی خوشی ملنے پر پکار پکار کر دوسروں کو اس میں شریک کرتا ہے۔
Read the full tafseer →فاما من اوتی کتبہ بیمینہ دائیں ہاتھ میں کتاب دینا یہ نجات کی دلیل ہے (1) حضرت ابن عباس نے کہا : اس امت میں سب سے پہلے جسے دائیں ہاتھ میں کتاب دی جائے گی وہ حضرت عمر بن خطاب ہونگے، اس کی شعاع یوں ہوگی جس طرح سورج کی شعاع ہوتی ہے۔ ان سے پوچھا جائے گا : ابوبکر کہاں ہیں ڈ حضرت عمر کہیں گے : بہت دور بہت دورچ فرشتے اسے گھیرے میں لے کر جنت کی طرف لے گئے ہیں، ثعلبی نے اس کا ذکر کیا ہے ہم نے ” تذکرہ ‘ کتاب میں حضرت زید بن ثابت سے مرفوع حدیث انہیں الفاظ اور معین کے ساتھ نقل کی ہے۔ الحمد للہ
فیقول ھآوم اقرء وا کتبید۔ وہ اسلام پر اعتماد کترے ہوئے اور اپنی نجات پر خوش ہوتے ہوئے یہ کہے گا کیونکہ یمین عربوں…
Read the full tafseer →27۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت کے دن کھڑا کریں گے اور اس پر اس کے اعمال نامے سے اس کی برائیوں کو ظاہر فرمائیں گے۔ پھر اس سے فرمائیں گے کیا تو نے یہ عمل کیے تھے وہ کہے گا ہاں اے میرے رب۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے بلاشبہ میں نے تجھ کو رسوا نہیں کیا اور میں نے تجھ کو بخش دیا ہے اور وہ اس وقت کہے گا آیت ھاءم اقرء وا کتبیہ۔ انی ظننت انی ملق حسابیہ جب وہ نجات پائے گا قیامت کے دن اپنی رسوائی سے۔
مومن کا اعمال نامہ پردے میں دیا جائے گا
28۔ ابن المبارک میں الزہد میں وعبد بن حمید وابن المنذر والخطیب نے ابو عثمان النہدی (رح) سے…
Read the full tafseer →[فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ : پس وہ جو ہے جس کو دی گئی ][ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ ۙ: اس کی کتاب اس کے داہنے ہاتھ میں ][ فَيَقُوْلُ هَاۗؤُمُ : تو وہ کہے گا یہ لو ][ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ : پڑھو میری کتاب ]
(آیت۔ 19) اُوْتِیْ کا نائب فاعل مَنْ ہے جو محلا حالت رفع میں ہے، جبکہ کِتٰبَہٗ میں کتب مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ کِتٰبِیَہْ (دراصل کتابی ہے جس پر ہائے سکت لگی ہوئی ہے۔ (دیکھیں آیت 2:259، نوٹ۔ 2) ۔ اسی طرح آگے حِسَابِیَہْ ۔ مَالِیَہْ ۔ سُلْطٰنِیَہْ وغیرہ میں بھی ہائے متکلم کے آگے ہائے سکت لگی ہے۔ نوٹ کرلیں کہ ثائے ثانیث پر جب وقف کرتے ہیں تو وہ بھی با کی آواز دیتی ہے لیکن کتابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اعمال ناموں کی تفصیل اور دائیں ہاتھ میں اعمال نامے ملنے والوں کی خوشی :
اس کے بعد اعمال ناموں کی تفصیل ذکر فرمائی، ارشاد فرمایا ﴿ فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ 1ۙ فَيَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْۚ0019﴾ (سو جس کے دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا وہ خوشی خوشی لوگوں سے کہے گا آؤمیری کتاب پڑھ لو) داہنے ہاتھ میں کتاب کا دیا جانا ہی دلیل اس بات کی ہوگی کہ یہ شخص کامیاب ہوگیا ﴿ اِنِّيْ ظَنَنْتُ اَنِّيْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْۚ0020﴾ (مجھے پتہ تھا کہ بلاشبہ میں اپنے حساب سے ملاقات کرنے والا ہوں) مجھے دنیا میں پیشی کا اور اعمالنامے دیئے جانے کا یقین تھا، اسی لیے دنیا میں سنبھل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
9:۔ ” فاما من اوتی کتبہ بیمینہ “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے “ ” ھاءم اقرؤوا کتابیہ “ سے تنازع فعلین میں بصریوں کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔ بصریوں کے نزدیک عمل دوسرے فعل کو دیا جاتا ہے اور پہلے فعل کا معمول مقدر ہوتا ہے اور کو فیوں کے نزدیک اس کے برعکس۔ یہاں بصریوں کے مذہب کے مطابق کتابیہ، اقرء وا کا مفعول ہے اگر وہ ھاءم کا مفعول ہوتا تو اقرء وا کا مفعول ضمیر ہوتا اور اصل عبارت اقرء وہ ہوتی، کیونکہ جہاں مفعول کا اضمار ممکن ہو وہاں ترک اضمار اولی اور مختار کے خلاف ہے اس طرح کو فیوں کا مذہب اختیار کرنے میں خلاف مختار کا ارتکاب لازم آتا ہے (مظہری۔ روح۔ بیضاوی) ۔ کتابیہ، حسابیہ، مالیہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
گزشتہ سے پیوستہ :
اس سورة کا موضوع جزائے عم ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ پہلی آیات میں کا ذکر فرمایا۔ چند گزشتہ اقوام کا ذکر کیا جو قیامت کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حاقہ واقع کیا اور یہ دو قسم سے وار ہوتا ہے۔ ایک ابتلا ہوتی ہے ، وقتی طور پر تکلیف آئی اور دور ہوگئی۔ اس کے بعد پھر موقع مل گیا۔ سز کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ مذکورہ اقوام کو اس دنیا میں ہی سزا ملی اور پھر اٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عالم برزخ میں سزا پا رہے ہیں۔ ان اقوام میں شرک و کفر تھا اور انکا رسالت بھی ، یہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ تو یہ قیامت کے جھٹلانے کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ دنیا میں ہی…
Read the full tafseer →فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَہٗ بِيَمِيْنِہٖ 0 ۙ فَيَقُوْلُ ہَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَہْ 19 ۚ
«أمَّا»
و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–37
ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ
1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ
2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…
Read the full tafseer →فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰـبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ لا فَیَقُوْلُ ھَـآؤُمُ اقْرَئُ وْا کِتٰبِـیَـہْ ۔ (الحآقۃ : 19)
(اس وقت جس کا نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا، پڑھو میرا اعمال نامہ۔ )
جزاء و سزا کی تفصیل
قیامت کے لانے کا مقصد انسانوں کو جزاء و سزا سے گزارنا ہے۔ چناچہ اس جزاء و سزا کی کسی حد تک تفصیل بیان فرماتے ہوئے سب سے پہلے اہل ایمان کا حال بیان کیا ہے، کہ جو شخص ایمان و عمل کا سرمایہ لے کر پہنچے گا، اس کا نامہ عمل ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ دیکھتے ہی خوشی سے اچھل پڑے گا اور جس طرح کسی شخص کو ایوارڈ ملے تو وہ اپنے دوستوں کو خوشی اور فخر سے دکھاتا ہے، اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا اور رب ذوالجلال کے عرش کو آٹھ ملائکہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
اسرافیل کے پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد زمین و آسمانوں کی موجودہ حالت ختم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو نئی صورت میں بنائیں گے جن کے بارے میں ارشاد فرمایا :
” اس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی بدل دیا جائے گا اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ (ابراہیم : 48)
اللہ تعالیٰ کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس حالت میں رب ذوالجلال زمین پر جلوہ افروز ہوں گے جس طرح اس کی ذات کے لائق ہے۔ ہمیں یہ بات سوچنے سے…
Read the full tafseer →اصحاب ِیمین کا ذکر اور ان کا بدلہ :
19 : فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَیَقُوْلُ (پس پھر وہ شخص جس کو نامہ عمل دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ تو کہے گا) اپنی جماعت کو اس پر خوش ہو کر اس لئے کہ وہ نامہ عمل میں نیکیاں ہی پائے گا۔ ھَآؤُمُ (یعنی لو) یہ اسم فعل ہے۔ اقْرَئُ وْا کِتٰبِیَہْ (میر انامہ عمل پڑھ لو)
نحو : تقدیر کلام اس طرح ہے۔
ھاؤم کتابی اقرء وا کتابیہ : تو اول کو حذف کیا کیونکہ کتابیہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ اور کتابیہ کا عامل بصریین کے ہاں اقرء وا ہے۔ کیونکہ وہ اقرب کو عمل دیتے ہیں۔
قراءت : کتابیہ، حسابیہ، مالیہ، سلطانیہ کی ھاء ہائے سکتہ ہے۔ اور اس کا حق تو یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →18 ۔” یومئذ تعرضون “ اللہ پر۔ ” لاتخفی “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تاء کے ساتھ۔ ” منکم خافیۃ “ یعنی کوئی فعل مخفی۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ پر تمہاری کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ ابو موسیٰ (رح) فرماتے ہیں لوگ تین مرتبہ پیش کیے جائیں گے۔ بہرحال دو مرتبہ پیشیاں تو جھگڑوں اور معذرت کی ہوں گی اور تیسری پیشی کے وقت اعمال نامے اڑیں گے پس وہ اپنے دائیں ہاتھ اور وہ اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
19۔ 24۔ ابو داؤود 1 ؎ کی حضرت عائشہ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حشر کے دن تین موقعوں پر لوگوں کو بڑی سخت پریشانی ہوگی۔ ان تین موقعوں پر ایک موقع تو یہی نامہ اعمال کے تقسیم ہونے کا ہے اس وقت ہر ایک شخص کے دل میں یہ خوف ہوگا کہ دیکھئے اس کا اعمال نامہ سیدھے ہاتھ میں آتا ہے یا الٹے ہاتھ میں۔ باقی دو موقعے اعمال کے تولے جانے اور پل صراط سے گزرنے کے وقت کے ہیں۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے ان میں بعض تو ایسے ہوں گے جن کی نیکیاں خود ہی زیادہ اور بدیاں کم ہوں گی اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کی بدیاں اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور بعض ایسے ہوں گے کہ جن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کرنے کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے، اس وقت ان میں سے کوئی فروخت و سرور اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا، (ھاء م اقروا کتابیہ) ۔ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو۔ یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایاوہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے…
Read the full tafseer →17 کامیاب ہونے والے خوش نصیبوں کا ذکر وبیان : سو وہاں کی اس عدالت کبریٰ میں کامیاب ہونے والوں کو ان کے نامہ ہائے اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ سو داہنے ہاتھ میں اعمال نامے کا ملنا خوش بختی کی علامت ہوگی کیونکہ نامہ اعمال کا داہنے ہاتھ میں ملنا کامیابی اور فائزالمرامی کی علامت و نشانی ہوگی ‘ اللہ پاک ہم سب کو اپنے فضل و کرم سے ایسے ہی خوش نضیبوں میں سے کرے آمین ثم آمین ‘ بہرکیف یہاں سے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیشی کے بعد سزا و جزا کی تفصیل کو بیان فرمایا جا رہا ہے ‘ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ‘ وہ اس کو دیکھتے ہی خوشی سے اچھل پڑے گا ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–37
برُے اور اچھے لوگوں کا حال
تشریح : یہ سب غیب کی خبریں ہیں۔ جن کی وضاحت کوئی حکیم ” سائنسدان ” مفکر ” منجم اور عالم دین اس سے زیادہ نہیں کرسکتا جو وضاحت قرآن پاک میں یہاں بڑی آسان اور واضح آیات کی صورت میں کردی گئی ہے۔ ان پر پوری طرح سے ایمان و یقین لانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اللہ کا پیغام نبی ﷺ کے ذریعہ دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت اور سچ کو یوں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 9 کیونکہ وہ درمیان سے پھٹ جائیگا۔ ضحاک کہتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتوں کے حکم دے گا تو وہ زمین پر اتر آئیں گے اور اسے اور اس کے رہنے والوں کو گھیر لیں گے۔ (شوکانی)10 یا ” فرشتوں کی آٹھ صفیں اٹھائینگی جن کی تعداد صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جیسا کہ ابن عباس سے متعدد طرق کے ساتھ مروی ہے مگر قرآن کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹھ فرشتے ہونگے اور اس کی تائید بعض صحیح روایات سے بھی ملتی ہے۔ ابن عربی نیفتوحات میں ملۃ العرش پر مفصل بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ عظمت الٰہی کی ہے اور لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ عظمت الٰہی کی تمثیل ہو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا حساب سے کنایہ ہو۔…
Read the full tafseer →(69:19) فاما من اوتی کتبہ بیمینہ :ترتیب کا ہے بمعنی پھر، اما حرف شرط تفصیلیہ ہے بمعنی لیکن، یا ۔ سو۔ من مفعول مالم یسم فاعلہ۔ اوتی ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ کتبہ مضاف الیہ مل کر مفعول اوتی کا۔ ب تعدیہ کا۔ یمینہ مضاف مضاف الیہ۔ دایاں ہاتھ۔ پس جو دیا جائے گا ، یا دیا گیا۔ اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں۔ جملہ شرطیہ ہے۔
فیقول :جزائیہ ہے۔ جملہ جزائیہ ہے۔ پس وہ کہیگا۔
ھاؤم اقرء وا کتبیہ۔ یہ فعل یقول کا مقولہ ہے۔ ھا عربی میں تین طرح آتا ہے :۔
(1) اسم فعل ، یعنی اسم بمعنی فعل امر۔ لے ۔ لو۔ اس وقت الف کو ممدودہ پڑھنا بھی جائز ہے اور دونوں شکلوں میں اس کے بعد کبھی ک خطاب تمام حالات میں آتا ہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
(ف 1) جو اچھے لوگ کہ نامہ اعمال ان کے سیدھے ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے وہ اپنے اعمال صالحہ پر جو دنیا میں کیے تھے وثوق کرکے اور خوش ہوکر پڑھیں گے اور جو کوئی رشتہ دار کنبہ والایاجان پہچان والا اس وقت نظر آئے گا خوشی کے مارے اس سے بھی کہیں گے لوہمارانامہ اعمال پڑھ کردیکھو کہ میری کتاب اس میں کیا کیا ثواب و کرامت ہے اور یہ بھی کہیں گے کہ ہم کو تو دنیا میں ہی یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن حساب وکتاب دینے والے ہیں اور یہ بات پیش آنے والی ہے۔ اس خیال سے ہم ڈرتے رہے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہے پس جو ایسا شخص ہوگا وہ ایسے عیش میں ہوگا کہ اس کی جان اس سے نہایت خوش اور راضی ہوگی اور جنت بالاتر مرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[10] یہ آیت متشابہات میں سے ہے۔ عرش کی حقیقت کیا ہے اور فرشتوں کا اس کو اٹھانا کس صورت سے ہے یہ سب وہ چیزیں ہیں جن کا احاطہ عقل انسانی نہیں کرسکتی۔ صحابہ اور تابعین کا مسلک ان جیسے معاملات میں یہ ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے کہ ان سے جو مراد اللہ جل شانہ کی ہے وہ حق ہے اور بس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
صور پھونکا جائے گا
2: نرسنگے میں پھونکنے کے دو معنی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور اعلان وعلام کے ہوگا ۔ جس سے معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ اس بساط لہو و لعب کو الٹ دیا جائے ۔ اور یا خود اس آواز میں یہ اثر ہوگا ۔ کہ اس کی وجہ سے عالم کون ومکان درہم برہم ہوجائے گا ۔ اور عقلاً اس میں کوئی استحالہ نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ آواز میں تاثیر پیدا کردیں ۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے ۔ کہ جب یہ موجودہ وقت آجائے گا ۔ اس وقت یہ سقف زرنگار پھٹ جائے گا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر آلگیں گے ۔ اور رب قدوس کی تجلیات عرش جلالت پر ہے تو انگن ہوں گی ۔ جس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا
ایک ایک شخص کو اس کے روبرو…
Read the full tafseer →(19) پھر جس شخص کانامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیاجائیگا تو وہ لوگوں سے کہے گا آئو ذرا میرانامہ اعمال تو پڑھو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر ایک کے اعمال کے کاغذ اڑا دیں گے جس کے داہنے ہاتھ میں آیا نشان ہوا بھلائی کا اور جو بانویں ہاتھ میں پیٹھ کی طرف سے تو نشان ہوابرائی کا۔
خلاصہ : یہ کہ سیدھے ہاتھ میں کاغذ آئے گا تو خوشی کے مارے ہر ایک سے کہے گا لینا ذرا یہ کاغذ پڑھنا اور میرے نامہ اعمال کو پڑھنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 5۔ اس سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ آسمان بیچ میں سے پھٹ کر چاروں طرف سمٹنا شروع ہوں گے اس لئے فرشتے بھی بیچ میں سے کناروں پر آرہیں گے۔
6۔ حدیث میں ہے اب عرش کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →جس کو اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ دوسروں کو پڑھنے کی دعوت دے گا
19 ؎ میدان حشر میں ہر انسان کا نتیجہ آئوٹ (Result Out) ہونے اور اس کے فیل اور پاس ہونے کی ایک ایسی علامت بیان کردی گئی کہ کروڑوں کیا اربوں ، کھربوں انسان ہوں تو بھی ان کا نتیجہ سناتے اتنی دیر لگے گی جتنا کہ ایک انسان کو اس کا مجمل نتیجہ بنانے پر صرف ہوتا ہے۔ نتیجہ کے مجمل سنانے اور مفصل سنانے میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ مجمل میں فقط فیل اور پاس کی علامت دی جاتی ہے اور مفصل میں ایک ایک پرچہ کی پوری وضاحت دی گئی ہوتی ہے کہ اس میں اتنے نمبر تھے اور امتحان دینے والے نے اتنے نمبر حاصل کئے ہیں۔ پھر نتیجہ پیش کئے جانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ (Come here, read my book… 69:19). The word ha'umu, literally means, "come" but, idiomatically, it is used in the sense of the plural imperative verb khudhu "take'. In other words, one who is given his record book in his right hand, he will be elated and, looking at the people around him, will say 'Here, take my account book and read it!'
Read the full tafseer →12 The record's being given in the right hand will by itself show that the concerned person's account is clear and settled and he is appearing in the Divine Court as a righteous man and not as a culprit. It is probable that at the time the records are distributed the righteous man himself will extend his right hand forward to receive his record. For on account of the good treatment that he would have received right from the moment of death till his appearance in the Plain of Assembly at Resurrection, would have given him the satisfaction that he was there to be blessed and not to be punished.…
Read the full tafseer →