Explained with ayahs 13–18
آواز کا بم صور اسرافیل
قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہوگا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر نفخہ پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہوجائے گی مگر جسے اللہ چاہے پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوجائے گی یہاں اسی پہلے نفخہ کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا نفخہ ایک ہی ہے اس لئے کہ جب اللہ کا حکم ہوگیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہوسکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع فرماتے ہیں اس سے مراد آخری نفخہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة الْحَآقَّة 11
یہ آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہے۔ ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کیا چیز ہے اور نہ یہی سمجھ سکتے ہیں کہ قیامت کے روز آٹھ فرشتوں کے اس کو اٹھانے کی کیفیت کیا ہوگی۔ مگر یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوگا اور آٹھ فرشتے اس کو عرش سمیت اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ آیت میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوا ہوگا، اور ذات باری کا جو تصور ہم کو قرآن مجید میں دیا گیا ہے وہ بھی یہ خیال کرنے میں مانع ہے کہ وہ جسم اور جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے۔ اس لیے کھوج کرید کر کے اس کے…
Read the full tafseer →(آیت) يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ۔ یعنی اس روز اپنے رب کے سامنے پیش ہوں گے، کوئی چھپنے والا چھپ نہ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کے علم و بصر سے تو آج بھی کوئی نہیں چھپ سکتا اس روز کی خصوصیت شاید یہ کہ میدان حشر میں تمام زمین ایک سطح مستوی ہوجائے گی نہ کوئی غار رہے گا نہ پہاڑ نہ کوئی تعمیر و مکان نہ کسی درخت وغیرہ کی آڑ، یہی چیزیں ہیں جن کے پیچھے دنیا میں چھپنے والے چھپا کرتے ہیں وہاں ان میں سے کوئی چیز نہ ہوگی، کسی کے چھپنے کا امکان ہی نہ رہے گا۔
Read the full tafseer →جزا و سزا کی تفصیل:
فرمایا کہ اس دن تم سب پیش کیے جاؤ گے اور تمہاری کوئی چیز بھی ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی۔ پیش کیے جانے سے مراد ظاہر ہے کہ خدا کے حضور پیش کیا جانا ہے۔ اس دن آسمانوں اور زمینوں کی ساری بساط لپیٹ کر رکھ دی جائے گی اس وجہ سے نہ تو کسی کے لیے کوئی جگہ چھپنے کی ہو گی اور نہ کوئی چیز چھپانے کی۔
Read the full tafseer →18۔ 1 یہ پیشی اس لیے نہیں ہوگی کہ جن کو اللہ نہیں جانتا ان کو جان لے گا وہ تو سب کو ہی جانتا ہے یہ پیشی خود انسانوں پر حجت قائم کرنے کے لیے ہوگی ورنہ اللہ سے تو کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
5: اس سے مراد اس طوفان کا پانی ہے جو حضرت نوع ؑ کی قوم پر عذاب کے طور پر بھیجا گیا تھا، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حضرت نوح ؑ پر ایمان لے آئے تھے، انہیں پانی کی طغیانی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی میں سوار کردیا جس کا مفصل واقعہ سورة ہود : 36 تا 48 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →سب کے سب کھلے اور ننگے ہوں گے۔ جسم بھی ، ضمیر بھی ، عمل بھی اور انجام بھی۔ وہ تمام راز جو پردوں کے نیچے تھے ، کھل کر سامنے آجائیں گے۔ انسانی نفس ننگا ہوگا ، انسانی جسم ننگا ہوگا ، انسانی عیوب سامنے آجائیں گے۔ گواہ سامنے آجائیں گے۔ انسان کی مکاریاں اور فن کاریاں کافور ہوجائیں گی۔ سب حیلے تدبیریں بےاثر ہوں گی۔ اور وہ باتیں بھی کھل جائیں گی جن کو وہ اپنے آپ سے چھپاتا تھا۔ یہ کس قدر شرمندگی ہوگی کہ وہ راز طشت ازبام ہوں گے۔ لوگوں کی نظروں میں انسان کس قدر شرمندہ ہوں گے۔ رہے اللہ تو اس کے سامنے تو پہلے بھی سب کچھ کھلا تھا۔ اب بھی کھلا ہے لیکن انسان کے ذہن میں یہ بات شعور طور پر بیٹھی نہیں ہے۔ اس…
Read the full tafseer →6 یعنی اس دن اللہ کی عدالت میں حاضر کیے جاؤ گے اور کسی کی کوئی نیکی یا بدی مخفی نہ رہے گی۔ سب منظر عام پر آجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
آیت 13 { فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ } ”تو جب صور میں پھونکا جائے گا یکبارگی۔“
یعنی اس وقت کو یاد رکھو جب ایک ہی بار صور میں پھونک مار دی جائے گی۔
Read the full tafseer →14 یہی وہ دن ہوگا جب تم اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اس پیشی میں تمہارے ارادہ کو کچھ دخل نہ ہوگا بلکہ اضطراراً تمہیں پیش کیا جائے گا اور تمہیں پیش ہونا پڑے گا۔ کوئی شخص اس دن پیشی سے چھپا نہیں رہ سکتا۔ نہ ہی اللہ کے سامنے کوئی بات چھپانا ممکن ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
8۔ یعنی میں تو خود دنیا میں ایمان وتصدیق رکھتا تھا اور یوم آخرت اور وقوع جزاء کا شروع ہی سے معتقد تھا۔ (آیت) ” لا .... خافیۃ “۔ یعنی اے انسانو ! حق تعالیٰ سے اس وقت تمہارا کوئی سا بھی راز چھپا ہوا نہ ہوگا۔ (آیت) ” فاما ..... بیمینہ “۔ نامہ اعمال کا داہنے ہاتھ میں ملنا جتنی ہونے کی علامت ہوگا۔ (آیت) ” فیقول “۔ وہ جنتی خوش ہو کر اپنے آس پاس والوں سے کہے گا۔ (آیت) ” ھآؤم “۔ ھا کے معنی ” لو “ کے آئے ہیں اور ھآؤم کا استعمال موقع جمع پر ہوتا ہے۔ ھاؤ صوت یصوت فیفھم بہ معنی خذ (کبیر) ویقال للاثنین ھاؤما وللجمع ھاؤموا وھاؤم (کبیر) ھا کلمۃ فی معنی الاخذ وھو نقیض ھات اے اعط ویقال ھاؤم ھاؤما وھاؤموا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–37
ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →یومئذ تعرضون . (تمام آدمیوں کو خطاب ہے) یعنی اے انسانو ! اس روز حساب کے لیے اللہ کے سامنے تمہیں جانا ہوگا۔ یہ پیشی نفخۂ بعث کے بعد ہوگی۔
لا تخفی منکم خافیۃ . تمہاری کوئی پوشیدہ حرکت بھی چھپی نہیں رہے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی۔ دو پیشیاں تو جھگڑا کرنے اور معذرتوں کے لیے ہوں گی اور تیسری پیشی کے وقت اعمالنامے ہاتھوں میں نمودار ہوجائیں گے۔ کوئی دائیں ہاتھ میں لینے والا ہوگا ‘ کوئی بائیں ہاتھ میں۔
(ترمذی بروایت حضرت ابوہریرہ و ابن ماجہ بروایت حضرت ابو موسیٰ اشعری و بیہقی بروایت حضرت ابن مسعود)
حکیم ترمذی نے یہ بھی کہا ہے کہ جھگڑا کرنے کے لیے پیشی دشمنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(18۔ 20) یا یہ کہ تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہ ہوگی سو پھر جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ مثلا حضرت ام سلمہ کے خاوند ابو سلمہ بن عبدالاسد تو وہ خوشی میں اپنے ساتھیوں سے کہے گا آؤ میرا نامہ اعمال دیکھ لو اس میں جو ثواب و جزا ہے میرا یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب پیش آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(1) وانشقت السمآء …:”واھیۃ“ ”وھی بھی وھبا“ (ض ، س ، ف) (کمزور ہونا، بودا ہونا) سے اسم فاعل ہے۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ یہ مضبوط آسمان جس میں لاکھوں کروڑوں سال سے ایک شگاف بھی نہیں پڑا، بالکل کمزور ہو کر پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر چلے جائیں گے۔ اس دن آٹھ فرشتے عرش الٰہی کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے، پھر ؓ اور فرشتے صف در صف زمین پر تشریف لائیں گے۔ ادھر ایک طرف جہنم لائی جائے گی (دیکھیے فجر 21 تا 23) ، دوسری طرف جنت قریب لائی جائے گی۔ (دیکھیے شعرائ : 90، 91) اس وقت سب لوگ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جائیں گے، کسی شخص کا کوئی عمل چھپا نہیں رہ سکے گا۔
(2)…
Read the full tafseer →لاتخفی منکم خافیۃ۔ وہ تمہارے اعمال میں سے ہر عمل کو جانتا ہے اس تعبیر کی بنا پر خافیۃ خفیہ کے معین میں ہے وہ اپنے اعمال چھپایا کرتے تھے، یہ ابن شجرہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کوئی انسان اس پر مخفی نہیں رہے گا یعنی کوئی انسان باقی نہیں رہے گا جس کا محاسبہ نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کہا، مومن کافر سے اور نیک فاجر سے مخفی نہیں رہے گا (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہاری شرمگاہیں پردہ میں نہ ہوں گی۔ جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” لوگ ننگے پائوں اور ننگے بدن اٹھائے جائیں گے۔ “ (4) عاصم کے علاوہ کو فیوں نے لایخفی پڑھا ہے کیونکہ خافیۃ کی تانیث غیر حقیقی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →21۔ عبد الرزاق اور ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یومئذ تعرضون جس دن تم پیش کیے جاؤ یعنی تم تین مرتبہ پیش کیے جاؤ گے دو پیشیوں میں تو خصومت اور جھگڑا ہوگا اور تیسری پیشی کے وقت اعمال نامہ اڑا کر ہاتھوں میں دے دیا جائے گا۔
22۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یومئذ تعرضون لا تخفی منکم خافیۃ اس دن تم پیش کیے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ حرکت بھی چھپی نہیں رہے گی۔ ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ قیامت کے دن تین مرتبہ پیش ہوں گے۔ پس دو پیشیوں میں تو خصومات عذر اور جھگڑے ہوں گے اور تیسری پیشی میں نامہ اعمال اڑ کر ہاتھوں میں آجائے گا اے اللہ ! ہم کو ان…
Read the full tafseer →[يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ : اس دن تم لوگ سامنے لائے جائو گے ][ لَا تَخْفٰى: چھپی نہیں ہوگی ][ مِنْكُمْ خَافِيَةٌ: تمہاری کوئی چھپنے والی (بات)]
(آیت۔ 18) ثلاثی مجرد اور باب افعال، دونوں کا مضارع مجہول ہم شکل ہوجاتا ہے۔ عبارت کا سیاق وسباق بتا رہے ہے کہ یہاں تُعْرِضُوْنَ بابِ افعال کا نہیں بلکہ ثلاثی مجرد کا مضارع مجہول ہے۔ خَفِیَ کے ساتھ صلہ کے استعمال سے مفہوم بدلتا ہے۔ خَفِیَ عَلَیْہِ (پوشیدہ ہوا اس پر یعنی اس سے پوشیدہ ہوا۔ ) خَفِیَ مِنْہُ ۔ (پوشیدہ ہوا اس سے یعنی اس کا کوئی کام پوشیدہ ہوا) ترجمہ کرتے وقت اردو محاورے کا لحاظ کرنا ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا، زمین اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے عرش الٰہی کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے
ان آیات میں روز قیامت کے مناظر ذکر فرمائے ہیں پہلے تو یوں فرمایا کہ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھا دیئے جائیں گے اور وہ دونوں ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی یعنی قیامت آجائے گی اور آسمان پھٹ پڑے گا سو وہ اس دن ضعیف ہوگا اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور آپ کے رب کے عرش کو اس دن اپنے اوپر آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا۔
مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ عرش کو آٹھ فرشتوں کا اٹھانا نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا اس کے بعد قیامت کے دن کی پیشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
8:۔ ” وانشقت السماء “ اس دن شدت زلزلہ کی وجہ سے آسمان نہایت کمزور ہوں گے اور ان میں شگاف پڑجائیں گے اور جو فرشتے آسمانوں میں رہتے ہیں وہ آسمانوں کے ان اطراف و جوانب میں ہوں گے جہاں شگاف نہیں ہوں گے۔ ای جوانب السماء واطرافھا التی بقیت بعد الانشقاق (مظہری ج 10 ص 52) ۔ ” ویحمل عرش ربک “ اس دن اللہ تعالیٰ کے عرش کو فرشتوں کی آٹھ صفیں اٹھائے ہوں گی جن کی مجموعی تعداد کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں یہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے بعض نے کہا مراد آٹھ فرشتے ہیں۔ قال ابن عباس ثمانیۃ صفوٖ من الملائکۃ لایعلم عددھم الا اللہ، وقال ابن زیدھم ثمانیۃ املاک (قرطبی ج 18 ص 266) ۔ قیامت کے دن کسی شخص کی کوئی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
گزشتہ سے پیوستہ :
اس سورة کا موضوع جزائے عم ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ پہلی آیات میں کا ذکر فرمایا۔ چند گزشتہ اقوام کا ذکر کیا جو قیامت کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حاقہ واقع کیا اور یہ دو قسم سے وار ہوتا ہے۔ ایک ابتلا ہوتی ہے ، وقتی طور پر تکلیف آئی اور دور ہوگئی۔ اس کے بعد پھر موقع مل گیا۔ سز کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ مذکورہ اقوام کو اس دنیا میں ہی سزا ملی اور پھر اٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عالم برزخ میں سزا پا رہے ہیں۔ ان اقوام میں شرک و کفر تھا اور انکا رسالت بھی ، یہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ تو یہ قیامت کے جھٹلانے کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ دنیا میں ہی…
Read the full tafseer →يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَۃٌ 18
يَوْمَئِذٍ
ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ .
اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–37
ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ
1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ
2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…
Read the full tafseer →یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لاَ تَخْفٰی مِنْـکُمْ خَافِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 18)
(اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمہاری کوئی بات بھی ڈھکی چھپی نہیں رہے گی۔ )
اس دن، یعنی قیامت کے دن۔ جب آسمانوں اور زمینوں کی بساط لپیٹ کر رکھ دی جائے گی، تم اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کیے جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے تو کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔ لیکن اس روز چونکہ ایک نئی زمین وجود میں آئے گی جس کی سطح مستوی ہوگی۔ جس میں نہ کوئی پہاڑ ہوگا اور نہ کوئی غار۔ نہ مکان ہوں گے اور نہ کوئی درخت، جن کے پیچھے کسی چیز کو چھپایا جاسکے۔ ایسی حالت میں تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور تمہارے لیے بالکل اس بات کا امکان نہیں ہوگا کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا اور رب ذوالجلال کے عرش کو آٹھ ملائکہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
اسرافیل کے پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد زمین و آسمانوں کی موجودہ حالت ختم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو نئی صورت میں بنائیں گے جن کے بارے میں ارشاد فرمایا :
” اس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی بدل دیا جائے گا اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ (ابراہیم : 48)
اللہ تعالیٰ کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس حالت میں رب ذوالجلال زمین پر جلوہ افروز ہوں گے جس طرح اس کی ذات کے لائق ہے۔ ہمیں یہ بات سوچنے سے…
Read the full tafseer →18 : یَوْمَپذٍ تُعْرَضُوْنَ (جس روز تم پیش کیے جائو گے) حساب و کتاب اور سوالوں کیلئے۔ اس پیشی کو بادشاہ کے سامنے لشکر کو معائنہ کیلئے جیسے پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے حالات سے واقف ہو سے تشبیہ دی ہے۔ لَاتَخْفٰی مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ (تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ ہوگی) خافیہ : سریرۃٌ، مخفی، جو دنیا میں حالت چھپی رہتی تھی۔
قراءت : عاصم کے علاوہ کوفی قراء نے یخفٰیپڑھا ہے۔ حدیث میں وارد ہے لوگوں کی تین پیشیاں ہونگی دو پیشیوں میں جھگڑا کرنا اور معذرتیں ہونگی اور تیسری پیشی کے وقت صحائف اعمال اڑکر کامیاب لوگوں کے دائیں ہاتھ میں مل جائیں گے۔ اور ناکام کو نامہ عمل بائیں میں ملے گا۔ ] رواہ احمد، 4/414،…
Read the full tafseer →17 ۔” والملک “ یعنی فرشتے۔ ” علی ارجائھا “ اس کے ارد گرد اور اطراف میں۔ جب تک اس سے نہ پھٹے گا۔ اس کا واحد رجا ہے اور تثنیہ رجوان۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں فرشتے اس کے کناروں پر ہیں حتیٰ کہ ان کو رب تعالیٰ حکم دیں گے پس وہ اتریں گے پھر زمین کو گھیر لیں گے اور جو لوگ زمین پر ہیں۔ ” ویحمل عرش ربک فوقھم “ یعنی ان کے سروں کے اوپر یعنی اٹھانے والے۔” یومئذ “ قیامت کے دن۔ ” ثمانیۃ “ یعنی آٹھ فرشتے۔ حدیث میں آیا ہے کہ وہ آج چار ہیں۔ پس جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان کو چار دوسروں کے ساتھ قوت دیں گے تو آٹھ ہوجائیں گے۔ پہاڑی بکرے کی صورت میں ان کے کھروں سے ان کے گھٹنوں کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
13۔ 18۔ یہ پہلے صور سے لے کر دوسرے صور سے بعد تک کا حال ہے زمین اور پہاڑوں کے ٹوٹنے پھوٹنے کا حال تو پہلے صور کے وقت کا ہے اور آسمان میں دروازے ہو کر اللہ تعالیٰ کا محشر کے میدان میں نزول فرمانا اور اس نزول کے وقت آٹھ فرشتوں کا عرش کو اٹھانا اور اس نزول کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب کے لئے حاضر کیا جانا یہ دوسرے صور کے بعد کا حال ہے۔ معتبر سند سے طبرانی 1 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسرافیل اپنا ایک گھٹنا ٹیک کر اور دوسرا گھٹنا کھڑا کرکے صور پھونکنے کی حالت میں ہر وقت تیار اور حکم کے منتظر رہتے ہیں مستدرک حاکم میں صحیح سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی…
Read the full tafseer →(لاتخفی منکم خافیہ) ۔ تمہارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمہارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے نہ تمہارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے تمام بندے ننگے پاؤں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت می، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال کی جاز دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
Read the full tafseer →16 روز قیامت کی پیشی اور حضور عدالت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز تم سب کو پیش کیا جائے گا تمہارے رب کے حضور اس حال میں کہ تمہاری کوئی بھی بات چھپی نہیں رہے گی۔ بلکہ زندگی بھر کا سب کچھ کیا کرایا تمہارے سامنے ہوگا اور اسی کے مطابق تمہیں اپنے کئے کرائے کا بدلہ ملے گا تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں ‘ سو جب تم کو تمہارے رب کے حضور پیش کیا جائے گا ‘ تو تمہارے احوال و کو ائف میں سے کوئی بھی چیز اس سے مخفی و مستور نہیں رہے گی ‘ کہ وہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے ‘ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز اس سے مخفی نہیں رہ سکتی ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " وما یخفی علی اللہ من شیء فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
قیامت کا نقشہ
تشریح :۔ جدید Cosmology کا اہم موضوع آج کل یہی ہے کہ کائنات کا انجام کیا ہوگا ؟ سائنس کے تجربات اس بارے میں ہمیشہ بدلتے رہیں گے کیونکہ وہ اس کے خالق نہیں ہیں۔ اس کے خالق نے قرآن پاک میں جو حقیقت اور جو اصل نقشہ بتا دیا ہے وہی سوفیصد سچ اور حقیقت بھی ہے۔ یہاں جو نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ یعنی صور پھونکا جائے گا جس کی آواز ناقابل برداشت ہوگی۔ اس آواز کی وضاحت سلطان بشیر صاحب نے یوں کی ہے۔ زمین اپنے اندر بھی اپنی تباہی کے سامان چھپائے ہوئے ہے اس کے پیٹ میں ہزاروں درجہ حرارت پر سخت دباؤ میں پگھلا ہوا مادہ ہے ” اگر کہیں یہ پھٹ جائے تو فوری قیامت آسکتی ہے اور یہ سب کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 9 کیونکہ وہ درمیان سے پھٹ جائیگا۔ ضحاک کہتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتوں کے حکم دے گا تو وہ زمین پر اتر آئیں گے اور اسے اور اس کے رہنے والوں کو گھیر لیں گے۔ (شوکانی)10 یا ” فرشتوں کی آٹھ صفیں اٹھائینگی جن کی تعداد صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جیسا کہ ابن عباس سے متعدد طرق کے ساتھ مروی ہے مگر قرآن کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹھ فرشتے ہونگے اور اس کی تائید بعض صحیح روایات سے بھی ملتی ہے۔ ابن عربی نیفتوحات میں ملۃ العرش پر مفصل بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ عظمت الٰہی کی ہے اور لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ عظمت الٰہی کی تمثیل ہو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا حساب سے کنایہ ہو۔…
Read the full tafseer →(69:18) یومئذ : یوم اسم ظرف منصوب۔ مضاف اذ مضاف الیہ۔ اسی دن، اسی روز، ایسے واقعات کے دن۔
یعرضون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ عرض (باب ضرب) مصدر سے ۔ جس کے معنی ہیں، سامنے ہونا۔ ظاہر و آشکار کرنا۔ تم پیش کئے جاؤ گے۔ تم رو برلائے جاؤ گے۔ تم سامنے کئے جاؤ گے۔ (یہ پیشی نفخہ بعث کے بعد ہوگی۔ خطاب تمام آدمیوں سے ہے یعنی اسے انسانو ! اس روز حساب کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہیں جانا ہوگا) ۔
لا یخفی منکم خافیۃ۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ خفاء (باب سمع) مصدر سے نہیں چھپی رہے گی تم سے۔ خافیۃ خفاء سے اسم فاعل کا سیغہ واحد مؤنث۔ چھپنے والی پوشیدہ ہونے والی۔ بھید۔ مترجمین نے حسب ذیل اس کے ترجمے کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →(ف 5) دوسرے صور پر جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا ہے وہ سب بھولے ہوئے ہوں گے اس لیے اعمال کے یاد دلانے کی غرض سے پہلے ان کو ان کے اعمال نامے اس طرح دیے جائیں گے کہ نیکوں کے دائیں ہاتھ میں اور بدوں کے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں اور پھر حساب وکتاب کے لیے ان سب کو اللہ کے روبرو پیش کیا جائے گا اس دن اللہ کی عدالت میں کسی کی کوئی نیکی یابدی مخفی نہ رہے گی۔ سب منظر عام پر آجائیں گی ، اور اس دن ان پڑھ اور پڑھے ہوئے سب اپنااعمال نامہ پڑھ سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[10] یہ آیت متشابہات میں سے ہے۔ عرش کی حقیقت کیا ہے اور فرشتوں کا اس کو اٹھانا کس صورت سے ہے یہ سب وہ چیزیں ہیں جن کا احاطہ عقل انسانی نہیں کرسکتی۔ صحابہ اور تابعین کا مسلک ان جیسے معاملات میں یہ ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے کہ ان سے جو مراد اللہ جل شانہ کی ہے وہ حق ہے اور بس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
صور پھونکا جائے گا
2: نرسنگے میں پھونکنے کے دو معنی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور اعلان وعلام کے ہوگا ۔ جس سے معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ اس بساط لہو و لعب کو الٹ دیا جائے ۔ اور یا خود اس آواز میں یہ اثر ہوگا ۔ کہ اس کی وجہ سے عالم کون ومکان درہم برہم ہوجائے گا ۔ اور عقلاً اس میں کوئی استحالہ نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ آواز میں تاثیر پیدا کردیں ۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے ۔ کہ جب یہ موجودہ وقت آجائے گا ۔ اس وقت یہ سقف زرنگار پھٹ جائے گا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر آلگیں گے ۔ اور رب قدوس کی تجلیات عرش جلالت پر ہے تو انگن ہوں گی ۔ جس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا
ایک ایک شخص کو اس کے روبرو…
Read the full tafseer →(18) اس دن تم لوگ حضرت حق تعالیٰ کے روبروپیش کئے جائو گے اور تمہاری کوئی خفیفہ سے خفیفہ بات پوشیدہ نہ رہے گی۔
اوپر کی آیتوں میں حضرت حق جل مجدہ نے بعض قوموں کی تباہی اور بعض زمین کے حصوں کی بربادی کا ذکر فرمایا تھا تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ جو قادر مطلب اور مالک و مختار زمین اور زمین کی بسنے والی بعض قوموں کے ہلاک و برباد کرنے پر قادر ہے وہ تمام چیزوں کو بھی اگر چاہے تو فنا کرسکتا ہے اور ایک عالم سفلی پر کیا موقوف ہے وہ عالم علوی کو بھی چاہے تو ختم کرسکتا ہے اور اسی ختم کرنے کا نام حاقہ ہے ، لہٰذا ان تمام تمثیلات اور نظائر کا ذکر کرنے کے بعد اب حاقہ یعنی قیامت کے بعض مقدمات کا ذکر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 5۔ اس سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ آسمان بیچ میں سے پھٹ کر چاروں طرف سمٹنا شروع ہوں گے اس لئے فرشتے بھی بیچ میں سے کناروں پر آرہیں گے۔
6۔ حدیث میں ہے اب عرش کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →اس دن تم اللہ کے سامنے حاضر کئے جائو گے ، تمہاری کوئی بات چھپی نہیں رہے گی
18 ؎ گزشتہ سارے استعارات و اشارات کا ماحصل بیان کیا جا رہا ہے کہ اس نظام کو درہم برہم کرنے کے بعد جب نیا نظام قائم کیا جائے گا اور وہ نظام اس نظام سے بہت بڑا اور بہت ہی مضبوط نظام ہوگا اور تم سب کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور دنیاوی زندگی میں تم نے جو کچھ کیا ہوگا وہ سب کا سب تمہارے سامنے پیش کردیا جائے گا اور تمہاری کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں رہے گی اور جو کچھ تم کرنے کے بعد بھول چکے ہو گے اور جو کچھ تمہاری یادداشت میں موجود ہوگا وہ سب کا سب تمہارے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ گویا جس وقت تم جہاں رہ کر بھی…
Read the full tafseer →يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌ (On that day, you will be brought forward in a way that no secret of yours will remain secret...69:18). In other words, on the Day of Judgment people will be exposed - no concealed act they did will stay concealed. Nothing is concealed from Divine knowledge and sight even today. The Plain of Gathering has been particularly mentioned in this connection probably because the entire ground will be levelled out as a plain surface. There will be no caves nor mountains, no buildings nor houses nor barriers of any trees. These are the things…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
11 This is au ambiguous verse the meaning of which is difficult to determine We can neither know what the Throne is nor can understand what will be the nature of the eight angels upholding it on the Day of Resurrection. It is, however. inconceivable that Allah Almighty would be sitting on the Throne and the eight angels would be upholding it along with Him The verse also does not say that Allah at that time would be sitting on the Throne. Besides, the conception of God that the Qur'an gives also prevents one from imagining that the Being Who is free from physical existence as to body,…
Read the full tafseer →