Al-Haaqqa 69:17

Al-Haaqqa · from ayah 17

69:17

وَّالْمَلَكُ عَلٰۤی اَرْجَآىِٕهَا ؕ— وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِیَةٌ ۟ؕوَّالۡمَلَكُ عَلٰٓى اَرۡجَآئِهَا ‌ؕ وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَئِذٍ ثَمٰنِيَةٌ

اور فرشتے اس کے کناروں پر (اُتر آئیں گے) اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اپنے سروں پر اُٹھائے ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the angels are at its edges. And there will bear the Throne of your Lord above them, that Day, eight [of them].

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:17

فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور فرشتے اس کے کناروں پر (اُتر آئیں گے) اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اپنے سروں پر اُٹھائے ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے، اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے، اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے، اور آپ کے رب کے عرش کو اس دن ان کے اوپر آٹھ (فرشتے یا فرشتوں کے طبقات) اٹھائے ہوئے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور اس دن آٹھ فرشتے آپ کے پروردگار کے عرش کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور اٹھائے ہوں گے تمہارے رب کے عرش کو اپنے اوپر اس روز آٹھ فرشتے

— مولانا اسحاق مدنی

اور فرشتے اسکے کنارے پر ہوں گے۔ اور آپ کے پروردگار کے عرش کو اپنے اوپر اس روز آٹھ (فرشتے) اٹھائے ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور فرشتے ہوں گے اس کے کناروں پر۔ اور اس دن تیرے رب کے عرش کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے آٹھ فرشتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے اور تمہارے رب کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

and the angels will stand on the sides, with eight of them bearing aloft the Throne of your Lord on that Day.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the angels will be on its borders. And on that Day, the Throne of your Lord will be carried above them by eight (angels) .

— Muhammad Taqi Usmani

And the angels will be on its borders. And on that Day, the Throne of your Lord will be carried above them by eight (angels) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the angels will be on its sides, and eight angels will, that Day, bear the Throne of your Lord above them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the angels will be on the sides thereof, and eight will uphold the Throne of thy Lord that day, above them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the angels are at its edges. And there will bear the Throne of your Lord above them, that Day, eight [of them].

— Saheeh International

and will turn frail, losing all force. The angels will be around the heavens and on that day eight of them will carry the Throne of your Lord above all the creatures.

— Muhammad Sarwar

And the angels shall be on the sides thereof; and above them eight shall bear on that day your Lord's power.

— Muhammad Habib Shakir

And the angels shall be on the borders thereof; and on that Day eight shall bear over them the Throne of thy Lord.

— Abdul Majid Daryabadi

And the angels will be on its sides, and eight will, that Day, bear the Throne of thy Lord above them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–18

آواز کا بم صور اسرافیل قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہوگا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر نفخہ پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہوجائے گی مگر جسے اللہ چاہے پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوجائے گی یہاں اسی پہلے نفخہ کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا نفخہ ایک ہی ہے اس لئے کہ جب اللہ کا حکم ہوگیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہوسکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع فرماتے ہیں اس سے مراد آخری نفخہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة الْحَآقَّة 11 یہ آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہے۔ ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کیا چیز ہے اور نہ یہی سمجھ سکتے ہیں کہ قیامت کے روز آٹھ فرشتوں کے اس کو اٹھانے کی کیفیت کیا ہوگی۔ مگر یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوگا اور آٹھ فرشتے اس کو عرش سمیت اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ آیت میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوا ہوگا، اور ذات باری کا جو تصور ہم کو قرآن مجید میں دیا گیا ہے وہ بھی یہ خیال کرنے میں مانع ہے کہ وہ جسم اور جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے۔ اس لیے کھوج کرید کر کے اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ۔ یعنی قیامت کے روز عشر رحمٰن کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ بعض روایات حدیث میں ہے کہ قیامت سے پہلے تو یہ کام چار فرشتوں کے سپرد ہے قیامت کے روز ان کے ساتھ اور چار بڑھا دیئے جاویں گے۔ رہا یہ معاملہ کہ عرش رحمن کیا چیز ہے اس کی حقیقت اور حقیقی شکل و صورت کیا ہے اور فرشتوں کا اس کو اٹھانا کسی صورت سے ہے یہ سب چیزیں وہ ہیں کہ نہ عقل انسانی ان کا احاطہ کرسکتی ہے نہ ان مباحث میں ان کو غور و فکر کرنے اور سوالات کرنے کی اجازت ہے۔ سلف صالحین صحابہ و تابیعن کا مسلک اس جیسے تمام معاملات میں یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے کہ اس سے جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت کے دن فرشتوں کا حال: آسمان کے پھٹ جانے کے بعد آسمان کے فرشتوں کا جو حال ہو گا یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت وہ اس کے اطراف اور کناروں میں سمٹے ہوئے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس ہلچل سے ان پر بھی ایک سراسیمگی کی حالت طاری ہو گی۔ یہ ان مشرکین کی آگاہی کے لیے واضح فرمایا ہے جو فرشتوں سے لو لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کے مرجع بنیں گے اور ان کی سفارش کریں گے۔ ’وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ‘۔ یعنی اس انقلاب حال سے سارا عملہ تو اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر ایک طرف ہو جائے گا، بس عرش الٰہی کے اٹھانے والے رہ جائیں گے سو اس کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ قرآن مجید میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17۔ 1 یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہوجائے گا پھر فرشتے کہاں ہونگے فرمایا کہ وہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرشتے آسمان پھٹنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے زمین پر آجائیں گے۔ یعنی اب مخصوص فرشتوں نے عرش الٰہی کو اپنے سروں پر اٹھایا ہوا ہوگا، یہ بھی ممکن ہے اس عرش سے مراد وہ عرش ہو جو فیصلوں کے لئے زمین پر رکھا جائے گا، جس پر اللہ تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–18

5: اس سے مراد اس طوفان کا پانی ہے جو حضرت نوع ؑ کی قوم پر عذاب کے طور پر بھیجا گیا تھا، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حضرت نوح ؑ پر ایمان لے آئے تھے، انہیں پانی کی طغیانی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی میں سوار کردیا جس کا مفصل واقعہ سورة ہود : 36 تا 48 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والملک ................................ ثمنیة (96 : 71) ” فرشتے ان کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے “۔ فرشتے اس کائنات وسماوات کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور اس کائنات کے اوپر عرش الٰہی ہوگا اور اس کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ آٹھ طبقات ہوں گے یا یہ آٹھ اللہ کے علم میں ہوں گے کہ وہ کیا ہوں گے ؟ یہ آٹھ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ اس کی تفصیلات کا بھی ہمیں علم نہیں ہے۔ نہ ہمیں عرش کی کیفیت کا علم ہے نہ اٹھانے کی کیفیت کا علم ہے۔ ہم ان تمام امور کو ایک طرف چھوڑ دیتے ہیں ، اس لئے کہ ان کا تعلق غیبی معاملات سے ہے جن کا تفصیلی علم ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–17

4 یعنی آج جو آسمان اس قدر مضبوط و محکم ہے کہ لاکھوں سال گزرنے پر بھی کہیں ذرا سا شگاف نہیں پڑا اس روز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ اور جس وقت درمیان سے پھٹنا شروع ہوگا تو فرشتے اس کے کناروں پر چلے جائیں گے۔ 5 اب عرش عظیم کو چار فرشتے اٹھا رہے ہیں جن کی بزرگی اور کلانی کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس دن ان چار کے ساتھ چار اور لگیں گے۔ تفسیر عزیزی میں اس عدد کی حکمتوں اور ان فرشتوں کے حقائق پر بہت دقیق و بسیط بحث کی گئی ہے۔ جس کو شوق ہو وہاں دیکھ لے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–19

آیت 13 { فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ } ”تو جب صور میں پھونکا جائے گا یکبارگی۔“ یعنی اس وقت کو یاد رکھو جب ایک ہی بار صور میں پھونک مار دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 یعنی اس وقت اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ اس دن آٹھ فرشتے اس عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ عرش کتنا بڑا ہے اس کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ زمین کو پہلا آسمان محیط ہے۔ دوسرا آسمان پہلے سے بڑا اور اس کو محیط ہے۔ علی ہذا القیاس ساتواں آسمان چھٹے کو محیط ہے۔ پھر اس کے اوپر آٹھواں آسمان ہے جسے کرسی بھی کہتے ہیں اور فلک افلاک بھی۔ پھر اس کے اوپر اللہ کا عرش ہے جیسے محیط ہونے کے لحاظ سے نواں آسمان کہہ لیجئے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اتنی بڑائی کی باوجود اللہ کا عرش اللہ سے بہرحال چھوٹا ہے اور اکبر اللہ ہی ہے۔ رہی یہ بات کہ فرشتے اللہ کے عرش کو آج کیسے اٹھائے ہوئے ہیں اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–17

6۔ (جس وقت آسمان پھٹنا شروع ہوگا) ذکر ان فرشتوں کا ہے جو آسمان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” وحملت الارض واجبال “۔ یعنی اپنے اپنے مقام وحیز سے یہ چیزیں ہٹادی جائیں گی، ذکر قیامت کے نفخہ اول کا چل رہا ہے۔ (آیت) ” والملک “۔ ملک۔ یہاں بطور اسم جنس آیا ہے۔ سورة مفرد ومعنی جمع۔ للجنس بمعنی الجمع (مدارک) لم یردبہ ملکا واحد بل ارادالجنس والجمع (کبیر) 7۔ (جیسا کہ اس وقت چار اٹھائے ہوئے ہیں) عرش الہی کی کیفیت یا ماہیت اور اس کی تفصیلات سب علم و شعور انسانی کی موجودہ سطح سے بالاتر ہیں اس لئے بجز اجمالی بیان سن لینے اور اس کی اجمالی تصدیق کردینے کے بندوں کے لئے کوئی چارہ نہیں۔ البتہ محققین نے لکھا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–37

ویحمل عرش رب فوقھم یومئذ ثمنیۃ اس رکوع کی اکثر آیات کی تشریح، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے، زیر نظر آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہیں ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کی حقیقت کیا ہے اور نہ یہ جان سکتے ہیں کہ قیامت کے روز عرش کو آٹھ فرشتوں کے اٹھانے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ لیکن یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں، کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھے ہوئے ہونگے، اور ذات باری کا جو تصور قرآن پیش کرتا ہے وہ بھی اس خیال کے کرنے سے مانع ہے کہ وہ جسم، جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے، اس لئے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والملک علی ارجاءھا . آسمان کے جو اطراف اور کنارے پھٹ جانے کے بعد باقی رہیں گے ‘ ان پر فرشتے ہوں گے ‘ ملک سے فرشتوں کی جنس مراد ہے (کوئی خاص فرشتہ مراد نہیں ہے) ۔ و یحمل عرش ربک . اور تمہارے رب کے عرش (تخت) کو اٹھائے ہوں گے تخت کی نسبت اللہ کی طرف تخت کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے ہے اور یہ وجہ بھی ہے کہ عرش ‘ خصوصی طور پر تجلی گاہ نور ہے۔ فوقھم یومئذ ثمانیۃ . اپنے اوپر یا ان فرشتوں کے اوپر جو آسمان کے کناروں پر ہوں گے آٹھ ملائکہ (یعنی قیامت کے دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر یا اطراف آسمان پر مقیم ملائکہ کے اوپر) اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوں گے۔ ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ بن عبدالمطلب کا قول نقل کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور فرشتے آسمان کے کناروں پر ہوجائیں گے اور آپ کے پروردگار کے عرش کو قیامت کے دن آٹھ فرشتے اپنی گردنوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے ان میں سے ہر ایک فرشتے کے چار مونہ ہوں گے انسان کا چہرہ، چیتے کا چہرہ، شیر کا چہرہ، بیل کا مونہ اور کہا گیا ہے کہ ان فرشتوں کی آٹھ صفیں ہوں گی۔ یا یہ کہ ساتویں آسمان والوں یعنی کروبیین کے آٹھ حصے ہوں گے اور قیامت کے دن جبکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تین مرتبہ تمہاری پیشی ہوگی۔ (1) حساب و کتاب اور عذر و معذرت کے لیے (2) قصاص اور خصوصیات کی پیشی کے لیے (3) نامہ اعمال ملنے اور ان کے سنائے جانے کے لیے اور تم میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑا جائے گا یا یہ کہ تم میں سے کسی کی کوئی خفیہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 16–18

(1) وانشقت السمآء …:”واھیۃ“ ”وھی بھی وھبا“ (ض ، س ، ف) (کمزور ہونا، بودا ہونا) سے اسم فاعل ہے۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ یہ مضبوط آسمان جس میں لاکھوں کروڑوں سال سے ایک شگاف بھی نہیں پڑا، بالکل کمزور ہو کر پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر چلے جائیں گے۔ اس دن آٹھ فرشتے عرش الٰہی کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے، پھر ؓ اور فرشتے صف در صف زمین پر تشریف لائیں گے۔ ادھر ایک طرف جہنم لائی جائے گی (دیکھیے فجر 21 تا 23) ، دوسری طرف جنت قریب لائی جائے گی۔ (دیکھیے شعرائ : 90، 91) اس وقت سب لوگ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جائیں گے، کسی شخص کا کوئی عمل چھپا نہیں رہ سکے گا۔ (2)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–17

فیومئذ وقعت الواقعۃ۔ جس روز قیامت قائم ہوگی (1) وانشقت السمآء آسمان پھٹ جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ پھٹ جائے گا کہ جو فرشتے اس میں ہیں وہ نیچے اتر آئیں گے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ویوم تشق السمآء بالغمام ونزل الملٓئکۃ تنزیلاً ۔ (الفرقان) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے فھی یومئذ واھیۃ وہ اس دن کمزور ہوگا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : وھی البناء یھی وھیافھو واہ جب وہ بہت کمزور ہوجائے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : کلام واہ ضعیف کلام۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی سختی کے بعد کمزوری میں اون کی طرح ہوجائیں گے۔ یہ فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے ہوگا جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والملک علی ارجاۂا۔ یعنی فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ 7۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن انس ؓ آیت والملک علی ارجاۂا کے بارے میں روایت کیا کہ فرشتے آسمان کی ایک طرف پر ہوں گے اور زمین والوں کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ جو ان پر گھبراہٹ اور خوف طاری ہوگا۔ 8۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر اور ضحاک رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت والملک علی ارجاۂا یعنی فرشتے آسمان کے اس حصہ پر ہوں گے جو ابھی نہیں پھٹا ہوگا۔ 9۔ عبد بن حمید نے ضحاک قتادہ اور سعید بن جبیررحمہم اللہ سے روایت کیا کہ آیت والملک علی ارجاۂا سے مراد ہے کہ آسمان کے کناروں پر ہوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ: اور فرشتے اس کے کنارون پر ہوں گے ][ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ : اور اٹھائیں گے تیرے رب کا عرش ][ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ : اپنے اوپر اس دن ][ ثَمٰنِيَةٌ: آٹھ (فرشتے)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–18

قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا، زمین اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے عرش الٰہی کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے ان آیات میں روز قیامت کے مناظر ذکر فرمائے ہیں پہلے تو یوں فرمایا کہ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھا دیئے جائیں گے اور وہ دونوں ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی یعنی قیامت آجائے گی اور آسمان پھٹ پڑے گا سو وہ اس دن ضعیف ہوگا اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور آپ کے رب کے عرش کو اس دن اپنے اوپر آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ عرش کو آٹھ فرشتوں کا اٹھانا نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا اس کے بعد قیامت کے دن کی پیشی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

8:۔ ” وانشقت السماء “ اس دن شدت زلزلہ کی وجہ سے آسمان نہایت کمزور ہوں گے اور ان میں شگاف پڑجائیں گے اور جو فرشتے آسمانوں میں رہتے ہیں وہ آسمانوں کے ان اطراف و جوانب میں ہوں گے جہاں شگاف نہیں ہوں گے۔ ای جوانب السماء واطرافھا التی بقیت بعد الانشقاق (مظہری ج 10 ص 52) ۔ ” ویحمل عرش ربک “ اس دن اللہ تعالیٰ کے عرش کو فرشتوں کی آٹھ صفیں اٹھائے ہوں گی جن کی مجموعی تعداد کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں یہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے بعض نے کہا مراد آٹھ فرشتے ہیں۔ قال ابن عباس ثمانیۃ صفوٖ من الملائکۃ لایعلم عددھم الا اللہ، وقال ابن زیدھم ثمانیۃ املاک (قرطبی ج 18 ص 266) ۔ قیامت کے دن کسی شخص کی کوئی بات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–24

گزشتہ سے پیوستہ : اس سورة کا موضوع جزائے عم ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ پہلی آیات میں کا ذکر فرمایا۔ چند گزشتہ اقوام کا ذکر کیا جو قیامت کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حاقہ واقع کیا اور یہ دو قسم سے وار ہوتا ہے۔ ایک ابتلا ہوتی ہے ، وقتی طور پر تکلیف آئی اور دور ہوگئی۔ اس کے بعد پھر موقع مل گیا۔ سز کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ مذکورہ اقوام کو اس دنیا میں ہی سزا ملی اور پھر اٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عالم برزخ میں سزا پا رہے ہیں۔ ان اقوام میں شرک و کفر تھا اور انکا رسالت بھی ، یہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ تو یہ قیامت کے جھٹلانے کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ دنیا میں ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕہَا۝ 0 ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَہُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَۃٌ۝ 17 ۭ فرشته الملائكة، ومَلَك أصله : مألك، وقیل : هو مقلوب عن ملأك، والمَأْلَك والمَأْلَكَة والأَلُوك : الرسالة، ومنه : أَلَكَنِي إليه، أي : أبلغه رسالتي، والملائكة تقع علی الواحد والجمع . قال تعالی: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا [ الحج/ 75] . قال الخلیل : المَأْلُكة : الرسالة، لأنها تؤلک في الفم، من قولهم : فرس يَأْلُكُ اللّجام أي : يعلك . ( ا ل ک ) الملئکۃ ( فرشتے ) اور ملک اصل میں مالک ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ملاک سے معلوب ہے اور مالک وما لکۃ والوک کے معنی رسالت یعنی پیغام کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–37

ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–17

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَادَکَّۃً وَّاحِدَۃً ۔ فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ۔ وَانْشَقَّتِ السَّمَـآئُ فَھِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاھِیَۃٌ۔ وَّالْمَلَکُ عَلٰٓی اَرْجَـآئِھَا ط وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 13 تا 17) (پس جب ایک ہی دفعہ صور میں پھونک ماری جائے گی۔ اور اٹھائے جائیں گے زمین اور پہاڑ، پھر پاش پاش کردیئے جائیں گے ایک ہی بار۔ اس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔ اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن پھس پھسا ہوجائے گا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے، اور آٹھ فرشتے اس روز آپ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–24

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا اور رب ذوالجلال کے عرش کو آٹھ ملائکہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اسرافیل کے پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد زمین و آسمانوں کی موجودہ حالت ختم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو نئی صورت میں بنائیں گے جن کے بارے میں ارشاد فرمایا : ” اس دن اس زمین کو دوسری زمین کے ساتھ بدل دیا جائے گا اور آسمان بھی بدل دیا جائے گا اور لوگ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، جو اکیلا اور بڑا زبر دست ہے۔ “ (ابراہیم : 48) اللہ تعالیٰ کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس حالت میں رب ذوالجلال زمین پر جلوہ افروز ہوں گے جس طرح اس کی ذات کے لائق ہے۔ ہمیں یہ بات سوچنے سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حاملین عرش کی تعداد میں اضافہ : 17 : وَّالْمَلَکُ (اور فرشتے) جنس ملائکہ مراد ہے جمع کے معنی میں ہے۔ یہ الملائکہ جمع کی بنسبت عام ہے۔ عَلٰٓی اَرْجَآپھَا ( اور اس کے کناروں پر آجائیں گے) ارجاء اطراف اس کا واحد رجاء مقصور ہے۔ آسمان فرشتوں کا مسکن ہے جب وہ پھٹ جائے گا تو وہ اس کے کناروں میں پناہ گزیں ہونگے۔ وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ (اور آپ کے رب کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہونگے) ان فرشتوں سے اوپر جو آسمان کی اطراف میں ہونگے۔ یَوْمَپذٍ ثَمٰنِیَۃٌ (اس دن آٹھ فرشتے) انہی فرشتوں میں سے آج چار فرشتے اس کو اٹھانے والے ہیں۔ قیامت کے دن اور چار کا اضافہ کردیا جائے گا۔ قول ضحاک آٹھ صفیں ایک اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” وانشقت السماء فھی یومئذ واھیۃ “ کمزور ہے ۔ فرائؒ فرماتے ہیں ” وھیھا “ اس کا پھٹ جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–18

13۔ 18۔ یہ پہلے صور سے لے کر دوسرے صور سے بعد تک کا حال ہے زمین اور پہاڑوں کے ٹوٹنے پھوٹنے کا حال تو پہلے صور کے وقت کا ہے اور آسمان میں دروازے ہو کر اللہ تعالیٰ کا محشر کے میدان میں نزول فرمانا اور اس نزول کے وقت آٹھ فرشتوں کا عرش کو اٹھانا اور اس نزول کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب کے لئے حاضر کیا جانا یہ دوسرے صور کے بعد کا حال ہے۔ معتبر سند سے طبرانی 1 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسرافیل اپنا ایک گھٹنا ٹیک کر اور دوسرا گھٹنا کھڑا کرکے صور پھونکنے کی حالت میں ہر وقت تیار اور حکم کے منتظر رہتے ہیں مستدرک حاکم میں صحیح سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(والملک) اور مکرم فرشتے (علی ارجاءھا) آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے (ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمانیۃ) ۔ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جوا نتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہوگا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا (یومئذتعرضون) اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

15 قیامت کے روز فرشتوں کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز فرشتے آسمان کے کناروں پر ہوں گے اور اس روز تمہارے رب کے عرش کو اوپر اٹھائے ہوں گے آٹھ فرشتے۔ جب کہ اس سے پہلے اس کو اٹھایا ہوگا چار فرشتوں نے (مدارک ‘ معارف ‘ بحر اور صفوہ وغیرہ) اور حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ یہاں پر آٹھ سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں ‘ نہ کہ آٹھ فرشتے ‘ فرشتوں کی تعداد اللہ پاک ہی کے علم میں ہے (ابن کثیر ‘ مدارک ‘ جامع ‘ محاسن ‘ صفوہ اور معارف وغیرہ) یہ آیت کریمہ بھی دراصل ان متشابہات میں سے ہے جن کی صحیح اور حقیقی مراد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پس اس میں بہتر اور سلامتی کی راہ وہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–18

قیامت کا نقشہ تشریح :۔ جدید Cosmology کا اہم موضوع آج کل یہی ہے کہ کائنات کا انجام کیا ہوگا ؟ سائنس کے تجربات اس بارے میں ہمیشہ بدلتے رہیں گے کیونکہ وہ اس کے خالق نہیں ہیں۔ اس کے خالق نے قرآن پاک میں جو حقیقت اور جو اصل نقشہ بتا دیا ہے وہی سوفیصد سچ اور حقیقت بھی ہے۔ یہاں جو نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ یعنی صور پھونکا جائے گا جس کی آواز ناقابل برداشت ہوگی۔ اس آواز کی وضاحت سلطان بشیر صاحب نے یوں کی ہے۔ زمین اپنے اندر بھی اپنی تباہی کے سامان چھپائے ہوئے ہے اس کے پیٹ میں ہزاروں درجہ حرارت پر سخت دباؤ میں پگھلا ہوا مادہ ہے ” اگر کہیں یہ پھٹ جائے تو فوری قیامت آسکتی ہے اور یہ سب کچھ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 17–19

ف 9 کیونکہ وہ درمیان سے پھٹ جائیگا۔ ضحاک کہتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتوں کے حکم دے گا تو وہ زمین پر اتر آئیں گے اور اسے اور اس کے رہنے والوں کو گھیر لیں گے۔ (شوکانی)10 یا ” فرشتوں کی آٹھ صفیں اٹھائینگی جن کی تعداد صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جیسا کہ ابن عباس سے متعدد طرق کے ساتھ مروی ہے مگر قرآن کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹھ فرشتے ہونگے اور اس کی تائید بعض صحیح روایات سے بھی ملتی ہے۔ ابن عربی نیفتوحات میں ملۃ العرش پر مفصل بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ عظمت الٰہی کی ہے اور لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ عظمت الٰہی کی تمثیل ہو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا حساب سے کنایہ ہو۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:17) والملک علی ارجائھا۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ فیومئذ وقعت الواقعۃ پر ہے۔ الملک سے مراد فرشتوں کی جنس ہے کوئی خاص فرشتہ مراد نہیں ارجائھا مضاف مضاف الیہ۔ ارجاء رجا کی جمع ہے یعنی کنارے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ صاحب ضیاء القرآن اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ وہ فرشتے جو آج اپنے قیام ، رکوع، سجود، سے آسمان کے چپہ چپہ کو مزین کئے ہوئے ہیں۔ جب آسمان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا تو وہ صفیں باندھ کر کناروں پر کھڑے ہوجائیں گے۔ ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمنیۃ : اس جملہ کا عطف بھی سابقہ جملہ کی طرح فیومئذ وقعت الواقعۃ پر ہے۔ فوقھم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) یعنی جن فرشتوں کا مسکن آسمان ہے وہ اس کے پھٹنے پر اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے پھر بحکم الٰہی اترکرزمین کا احاطہ کریں گے۔ (ف 4) حدیث شریف میں ہے کہ حاملین عرش آج کل چار ہیں۔ روز قیامت ان کی تائید کے لیے چار اور کا اضافہ کیا جائے گا آٹھ ہوجائیں گے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس سے ملائکہ کی آٹھ صفیں مراد ہیں جن کی تعداد اللہ ہی جانے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–19

[10] یہ آیت متشابہات میں سے ہے۔ عرش کی حقیقت کیا ہے اور فرشتوں کا اس کو اٹھانا کس صورت سے ہے یہ سب وہ چیزیں ہیں جن کا احاطہ عقل انسانی نہیں کرسکتی۔ صحابہ اور تابعین کا مسلک ان جیسے معاملات میں یہ ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے کہ ان سے جو مراد اللہ جل شانہ کی ہے وہ حق ہے اور بس۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–24

صور پھونکا جائے گا 2: نرسنگے میں پھونکنے کے دو معنی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور اعلان وعلام کے ہوگا ۔ جس سے معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ اس بساط لہو و لعب کو الٹ دیا جائے ۔ اور یا خود اس آواز میں یہ اثر ہوگا ۔ کہ اس کی وجہ سے عالم کون ومکان درہم برہم ہوجائے گا ۔ اور عقلاً اس میں کوئی استحالہ نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ آواز میں تاثیر پیدا کردیں ۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے ۔ کہ جب یہ موجودہ وقت آجائے گا ۔ اس وقت یہ سقف زرنگار پھٹ جائے گا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر آلگیں گے ۔ اور رب قدوس کی تجلیات عرش جلالت پر ہے تو انگن ہوں گی ۔ جس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا ایک ایک شخص کو اس کے روبرو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) اور فرشتے اس کے کناروں پر سمٹ آئیں گے اور اس دن آپ کے پروردگار کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–19

ف 5۔ اس سے ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ آسمان بیچ میں سے پھٹ کر چاروں طرف سمٹنا شروع ہوں گے اس لئے فرشتے بھی بیچ میں سے کناروں پر آرہیں گے۔ 6۔ حدیث میں ہے اب عرش کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جبکہ حاملین عرش کی تعداد آٹھ ہو گی 17 ؎ (ارجائھا) کی اصل ر ج و ہے اور بعض نے ر ج ا بتائی ہے اور آسمان کا رحاء اس کا کنارہ ہے۔ (راغب) (ارجا) کا لفظ قرآن کریم میں صرف اسی جگہ ایک بار استعمال ہوا ہے اور کسی دوسری جگہ اس کا استعمال نہیں ہوا اور اس کے معنی و مفہوم کو اس طرح بیان کیا گیا ہے : الا رجاء جمتع الرجا و ھو الجانب من کل شیء اس مادہ سے اور الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں جیسے ترجون ، ترجو ، ترجوھا ، یرجو ، یرجون ، ارجوا ، مرجوا ، ترجی ، ارجہ ، مرجون ، ارجائھا جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس میں عالم انسانی کی ہدایت اور راہنمائی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَيَحْمِلُ عَرْ‌شَ رَ‌بِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ (...And on that Day, the Throne of your Lord will be carried above them by eight [ angels ]....69:17). In other words, on the Day of Judgment, eight angels will bear the Throne of the Rahman above their heads. According to some of the Prophetic narratives, before the Judgment Day this task will be carried out by four angels. On the Judgment Day, four more angels will be added to carry out the task. As to what is the Throne of the Rahman, what is its reality, its form and shape, how the angels carry it - are transcendental matters…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

11 This is au ambiguous verse the meaning of which is difficult to determine We can neither know what the Throne is nor can understand what will be the nature of the eight angels upholding it on the Day of Resurrection. It is, however. inconceivable that Allah Almighty would be sitting on the Throne and the eight angels would be upholding it along with Him The verse also does not say that Allah at that time would be sitting on the Throne. Besides, the conception of God that the Qur'an gives also prevents one from imagining that the Being Who is free from physical existence as to body,…

Read the full tafseer →