Al-Haaqqa 69:16

Al-Haaqqa · from ayah 16

69:16

وَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَىِٕذٍ وَّاهِیَةٌ ۟ۙوَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِىَ يَوۡمَئِذٍ وَّاهِيَةٌ ۙ‏

اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the heaven will split [open], for that Day it is infirm.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:16

اُس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہوجائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آسمان پھٹ پھڑے گا اور وہ اس دن بالکل بودا پڑجائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن اس کا پتلا حال ہوگا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (سب) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے اور یہ کائنات (ایک نظام میں مربوط اور حرکت میں رکھنے والی) قوت کے ذریعے (سیاہ) شگافوں٭ پر مشتمل ہو جائے گی، ٭ واھیۃ.... الوَھی: وَھِی، یَھِی، وَھیًا کا معنیٰ ہے: شق فی الادیم والثوب ونحوھما، یقال: وَھِیَ الثوب أی انشَقّ وَ تَخَرّقَ (چمڑے، کپڑے یا اس قسم کی دوسری چیزوں کا پھٹ جانا اور ان میں شگاف ہو جانا۔ اِسی لئے کہا جاتا ہے: کپڑا پھٹ گیا اور اس میں شگاف ہوگیا).... (المفردات، لسان العرب، قاموس المحیط، المنجد وغیرہ)۔ اسے جدید سائنس نے بلیک ہولز سے تعبیر کیا ہے۔

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن کمزور ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن وہ نہایت پھس پھساہو گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور پھٹ پڑے گا آسمان سو وہ اس روز (اپنی بندشیں ڈھیلی پڑجانے سے) بالکل بودا ہوجائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

اور آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس روز (بالکل) بودا ہوگا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن بہت بودا سا ہوجائے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آسمان پھٹ جائے گا پھر وہ اس دن کمزور ہوجائے (بکھر جائے) گا

— محترمہ رفعت اعجاز

when the sky will be rent asunder, the grip holding it together having loosened on that Day,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and the sky will burst apart, while it will have become frail on that day.

— Muhammad Taqi Usmani

and the sky will burst apart, while it will have become frail on that day.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the heaven will be rent asunder, for that Day it will be frail and torn up.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the heaven will split asunder, for that day it will be frail.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the heaven will split [open], for that Day it is infirm.

— Saheeh International

and the heavens will be rent asunder,

— Muhammad Sarwar

And the heaven shall cleave asunder, so that on that day it shall be frail,

— Muhammad Habib Shakir

And the heaven shall be rent in sunder, it on that Day shall be frail.

— Abdul Majid Daryabadi

And the sky will be rent asunder, for it will that Day be flimsy,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–18

آواز کا بم صور اسرافیل قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہوگا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر نفخہ پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہوجائے گی مگر جسے اللہ چاہے پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوجائے گی یہاں اسی پہلے نفخہ کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا نفخہ ایک ہی ہے اس لئے کہ جب اللہ کا حکم ہوگیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہوسکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع فرماتے ہیں اس سے مراد آخری نفخہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–16

سورة الْحَآقَّة 10 آگے آنے والی بات کو پڑھتے ہوئے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ قرآن مجید میں کہیں تو قیامت کے تین مراحل الگ الگ بیان کیے گئے ہیں جو یکے بعد دیگرے مختلف اوقات میں پیش آئیں گے، اور کہیں سب کو سمیٹ کر پہلے مرحلے سے آخری مرحلے تک کے واقعات کو یکجا بیان کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورة نمل آیت 87 میں پہلے نفخ صور کا ذکر کیا گیا ہے جب تمام دنیا کے انسان یک لخت ایک ہولناک آواز سے گھبرا اٹھیں گے۔ اس وقت نظام عالم کے درہم برہم ہونے کی وہ کیفیات ان کی آنکھوں کے سامنے پیش آئیں گی جو سورة حج آیات 1۔ 2، سورة یٰسین آیات 49۔ 50 اور سورة تکویر آیات 1۔ 6 میں بیان ہوئی ہیں۔ سورة زمر آیات 67…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–16

(آیت) فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمر کی مرفوع حدیث ہے کہ صور کوئی سینگ (کی شکل کی کوئی چیز) ہے جس میں قیامت کے روز پھونکا جائے گا۔ نفختہ واحدة سے مراد یہ ہے کہ یکبارگی اچانک یہ صورت کی آواز ہوگی اور ایک آواز مسلسل رہے گی یہاں تک کہ اس آواز سے سب مر جائیں گے۔ قرآن و سنت کی نصوص سے قیامت میں صور کے دو نفخے ہونا ثابت ہیں پہلے نفخہ کو نفخہ صعق کہا جاتا ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں (آیت) فصعق من فی السموت ومن فی الارض ہے یعنی اس نفخہ سے تمام آسمان والے فرشتے اور زمین پر بسنے والے جن وانس اور تمام جانور بیہوش ہوجائیں گے (پھر اسی بیہوشی میں سب کو موت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت کے دن آسمان کا حال: زمین اور اس کے پہاڑوں کا حشر بیان کرنے کے بعد یہ آسمان کا حال بتایا کہ اس دن یہ بھی پھٹ جائے گا۔ ’فَہِیَ یَوْمَئِذٍ وَاہِیَۃٌ‘ یعنی آج تو یہ دیکھنے والوں کو نہایت ٹھوس اور محکم نظر آتا ہے، کہیں ڈھونڈے سے بھی اس میں کسی نقص یا شگاف کا کوئی نشان نہیں مل سکتا لیکن اس دن یہ بالکل بودا اور پھس پھسا ہو جائے گا اور روئی کے گالوں اور دھوئیں کی طرح اڑے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یعنی اس میں کوئی قوت اور استحکام نہیں رہے گا جو چیز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے۔ اس میں استحکام کس طرح رہ سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–18

5: اس سے مراد اس طوفان کا پانی ہے جو حضرت نوع ؑ کی قوم پر عذاب کے طور پر بھیجا گیا تھا، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حضرت نوح ؑ پر ایمان لے آئے تھے، انہیں پانی کی طغیانی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی میں سوار کردیا جس کا مفصل واقعہ سورة ہود : 36 تا 48 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانشقت ................ واھیة (96 : 61) ” اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی “۔ اور ہمیں معلوم نہیں ہے کہ اس آسمان سے کون سا آسمان مراد ہے۔ جس کے شق کا یہاں ذکر ہے۔ لیکن یہ آیات اور دوسری آیات اشارہ اس طرح کررہی ہیں کہ قیامت کے دن ہولناک فلکی تغیرات اور تضادات ہوں گے ۔ مقصد یہ ہے کہ کر ات فلکی کی چولیں کھل جائیں گی اور جس چیزنے اس نظام کو ایک منظم طریقے سے ٹکارکھا ہے ، اس کا نظم کھل جائے گا۔ اور جب یہ نظام کھل گیا تو اس کا انتشار دیدنی ہوگا۔ اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ آج کل علمائے فلک نے آخر کار موجودنظام کے خاتمے کی جو صورت اپنے مشاہدات سے تجویز کی ہے وہ بعینہ وہی ہے ، جو قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–17

4 یعنی آج جو آسمان اس قدر مضبوط و محکم ہے کہ لاکھوں سال گزرنے پر بھی کہیں ذرا سا شگاف نہیں پڑا اس روز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ اور جس وقت درمیان سے پھٹنا شروع ہوگا تو فرشتے اس کے کناروں پر چلے جائیں گے۔ 5 اب عرش عظیم کو چار فرشتے اٹھا رہے ہیں جن کی بزرگی اور کلانی کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس دن ان چار کے ساتھ چار اور لگیں گے۔ تفسیر عزیزی میں اس عدد کی حکمتوں اور ان فرشتوں کے حقائق پر بہت دقیق و بسیط بحث کی گئی ہے۔ جس کو شوق ہو وہاں دیکھ لے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–19

آیت 13 { فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ } ”تو جب صور میں پھونکا جائے گا یکبارگی۔“ یعنی اس وقت کو یاد رکھو جب ایک ہی بار صور میں پھونک مار دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

12 یہی قیامت کا دن ہوگا پھر اس کے اثرات زمین تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ آسمان بھی ایک بوسیدہ کپڑے کی طرح پھٹنا شروع ہوجائے گا اس میں کئی شگاف اور دراڑیں پڑجائیں گی اور فرشتے جو آسمانوں کے درمیان تدبیر امور پر مامور ہیں سب آسمان کے کناروں کی طرف چلے جائیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آسمانوں کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–17

6۔ (جس وقت آسمان پھٹنا شروع ہوگا) ذکر ان فرشتوں کا ہے جو آسمان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” وحملت الارض واجبال “۔ یعنی اپنے اپنے مقام وحیز سے یہ چیزیں ہٹادی جائیں گی، ذکر قیامت کے نفخہ اول کا چل رہا ہے۔ (آیت) ” والملک “۔ ملک۔ یہاں بطور اسم جنس آیا ہے۔ سورة مفرد ومعنی جمع۔ للجنس بمعنی الجمع (مدارک) لم یردبہ ملکا واحد بل ارادالجنس والجمع (کبیر) 7۔ (جیسا کہ اس وقت چار اٹھائے ہوئے ہیں) عرش الہی کی کیفیت یا ماہیت اور اس کی تفصیلات سب علم و شعور انسانی کی موجودہ سطح سے بالاتر ہیں اس لئے بجز اجمالی بیان سن لینے اور اس کی اجمالی تصدیق کردینے کے بندوں کے لئے کوئی چارہ نہیں۔ البتہ محققین نے لکھا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–16

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانشقت السماء فھی یومئذ واھیۃ . اور آسمان پھٹ جائے گا اور کمزور ہو کر اس کی بندش ڈھیلی ہوجائے گی جو مضبوطی اور قوّت اب ہے وہ اس میں نہیں رہے گی ‘ فراء نے کہا : آسمان کی کمزوری پھٹ جانے کی وجہ سے ہوگی ‘ کسی چیز میں شگاف پڑجانے کو وھیٌ کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے وھٰی وہ پھٹ گیا اور اس کے بندھن ڈھیلے پڑگئے۔ (قاموس)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 15–16

(15۔ 16) تو اس روز قیامت ہوجائے گی اور اللہ کے ہیبت و جلال اور نزول ملائکہ سے آسمان پھٹ جائے گا اور وہ آسمان اس روز بالکل بودا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 16–18

(1) وانشقت السمآء …:”واھیۃ“ ”وھی بھی وھبا“ (ض ، س ، ف) (کمزور ہونا، بودا ہونا) سے اسم فاعل ہے۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ یہ مضبوط آسمان جس میں لاکھوں کروڑوں سال سے ایک شگاف بھی نہیں پڑا، بالکل کمزور ہو کر پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر چلے جائیں گے۔ اس دن آٹھ فرشتے عرش الٰہی کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے، پھر ؓ اور فرشتے صف در صف زمین پر تشریف لائیں گے۔ ادھر ایک طرف جہنم لائی جائے گی (دیکھیے فجر 21 تا 23) ، دوسری طرف جنت قریب لائی جائے گی۔ (دیکھیے شعرائ : 90، 91) اس وقت سب لوگ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جائیں گے، کسی شخص کا کوئی عمل چھپا نہیں رہ سکے گا۔ (2)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–17

فیومئذ وقعت الواقعۃ۔ جس روز قیامت قائم ہوگی (1) وانشقت السمآء آسمان پھٹ جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ پھٹ جائے گا کہ جو فرشتے اس میں ہیں وہ نیچے اتر آئیں گے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ویوم تشق السمآء بالغمام ونزل الملٓئکۃ تنزیلاً ۔ (الفرقان) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے فھی یومئذ واھیۃ وہ اس دن کمزور ہوگا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : وھی البناء یھی وھیافھو واہ جب وہ بہت کمزور ہوجائے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : کلام واہ ضعیف کلام۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی سختی کے بعد کمزوری میں اون کی طرح ہوجائیں گے۔ یہ فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے ہوگا جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

4۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آتی وانشقت السماء اور آسمان پھٹ جائے گا اسی کو فرمایا آیت وفتحت السماء فکانت ابوابا اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے ہوں گے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فہی یومئذ واہیۃ یعنی اس دن آسمان پھٹا ہوا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ : اور پھٹ جائے گا آسمان ][ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ : تو وہ (آسمان) اس دن ][ وَّاهِيَةٌ : بوسیدہ ہوگا ] و ھـ ی [وَھْیًا : (ض۔ ح) کسی چیز کا بوسیدہ ہو کر پھٹ جانا۔ شگاف پڑنا۔ بوسیدہ ہونا۔] وَاھٍی مؤنث وَاھِیَۃٌ۔ اسم الفاعل ہے۔ پھٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–18

قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا، زمین اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے عرش الٰہی کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے ان آیات میں روز قیامت کے مناظر ذکر فرمائے ہیں پہلے تو یوں فرمایا کہ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھا دیئے جائیں گے اور وہ دونوں ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی یعنی قیامت آجائے گی اور آسمان پھٹ پڑے گا سو وہ اس دن ضعیف ہوگا اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور آپ کے رب کے عرش کو اس دن اپنے اوپر آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ عرش کو آٹھ فرشتوں کا اٹھانا نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا اس کے بعد قیامت کے دن کی پیشی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

8:۔ ” وانشقت السماء “ اس دن شدت زلزلہ کی وجہ سے آسمان نہایت کمزور ہوں گے اور ان میں شگاف پڑجائیں گے اور جو فرشتے آسمانوں میں رہتے ہیں وہ آسمانوں کے ان اطراف و جوانب میں ہوں گے جہاں شگاف نہیں ہوں گے۔ ای جوانب السماء واطرافھا التی بقیت بعد الانشقاق (مظہری ج 10 ص 52) ۔ ” ویحمل عرش ربک “ اس دن اللہ تعالیٰ کے عرش کو فرشتوں کی آٹھ صفیں اٹھائے ہوں گی جن کی مجموعی تعداد کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں یہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے بعض نے کہا مراد آٹھ فرشتے ہیں۔ قال ابن عباس ثمانیۃ صفوٖ من الملائکۃ لایعلم عددھم الا اللہ، وقال ابن زیدھم ثمانیۃ املاک (قرطبی ج 18 ص 266) ۔ قیامت کے دن کسی شخص کی کوئی بات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–24

گزشتہ سے پیوستہ : اس سورة کا موضوع جزائے عم ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ پہلی آیات میں کا ذکر فرمایا۔ چند گزشتہ اقوام کا ذکر کیا جو قیامت کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حاقہ واقع کیا اور یہ دو قسم سے وار ہوتا ہے۔ ایک ابتلا ہوتی ہے ، وقتی طور پر تکلیف آئی اور دور ہوگئی۔ اس کے بعد پھر موقع مل گیا۔ سز کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ مذکورہ اقوام کو اس دنیا میں ہی سزا ملی اور پھر اٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عالم برزخ میں سزا پا رہے ہیں۔ ان اقوام میں شرک و کفر تھا اور انکا رسالت بھی ، یہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ تو یہ قیامت کے جھٹلانے کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ دنیا میں ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاہِيَۃٌ۝ 16 ۙ شق الشَّقُّ : الخرم الواقع في الشیء . يقال : شَقَقْتُهُ بنصفین . قال تعالی: ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا[ عبس/ 26] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ، وَانْشَقَّتِ السَّماءُ [ الحاقة/ 16] ، إِذَا السَّماءُ انْشَقَّتْ [ الانشقاق/ 1] ، وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [ القمر/ 1] ، وقیل : انْشِقَاقُهُ في زمن النّبيّ عليه الصلاة والسلام، وقیل : هو انْشِقَاقٌ يعرض فيه حين تقرب القیامة وقیل معناه : وضح الأمروالشِّقَّةُ : القطعة الْمُنْشَقَّةُ کالنّصف، ومنه قيل : طار فلان من الغضب شِقَاقًا، وطارت منهم شِقَّةٌ ، کقولک : قطع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–37

ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–17

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَادَکَّۃً وَّاحِدَۃً ۔ فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ۔ وَانْشَقَّتِ السَّمَـآئُ فَھِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاھِیَۃٌ۔ وَّالْمَلَکُ عَلٰٓی اَرْجَـآئِھَا ط وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 13 تا 17) (پس جب ایک ہی دفعہ صور میں پھونک ماری جائے گی۔ اور اٹھائے جائیں گے زمین اور پہاڑ، پھر پاش پاش کردیئے جائیں گے ایک ہی بار۔ اس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔ اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن پھس پھسا ہوجائے گا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے، اور آٹھ فرشتے اس روز آپ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–16

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود، قوم عاد اور آل فرعون کی ذلّت اور انجام ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ جو لوگ قرآن مجید کے بیان کردہ واقعات اور نصائح توجہ کے ساتھ سنتے ہیں انہیں اس دن سے پہلے نصیحت حاصل کرنی چاہیے جس دن ایک ہی دفعہ صور پھونکنے سے ہر چیز الٹ پلٹ ہوجائے گی اور اس دن مجرموں کو زنجیروں کے ساتھ جکڑ دیا جائے گا۔ اس سورت کی ابتدا اس فرمان سے ہوئی ہے کہ قیامت ہر صورت واقع ہو کر رہے گی اور اس کے لیے ” اَلْحَاقَّۃُ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا ایک معنٰی یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کو ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردینے والی۔ اب اسی کی تھوڑی سی تفصیل بیان کی جاری ہے۔ اسرافیل کے صورپھونکنے کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : وَانْشَقَّتِ السَّمَآئُ (اور آسمان پھٹ جائے گا) کھل کر دروازے دروازے ہوجائے گا۔ فَہِیَ یَوْمَپذٍ وَّ اھِیَۃٌ (اور وہ اس روز بالکل بودا ہوگا) ڈھیلا کہ جس کی قوت ختم ہوچکی حالانکہ پہلے بہت مضبوط تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–18

13۔ 18۔ یہ پہلے صور سے لے کر دوسرے صور سے بعد تک کا حال ہے زمین اور پہاڑوں کے ٹوٹنے پھوٹنے کا حال تو پہلے صور کے وقت کا ہے اور آسمان میں دروازے ہو کر اللہ تعالیٰ کا محشر کے میدان میں نزول فرمانا اور اس نزول کے وقت آٹھ فرشتوں کا عرش کو اٹھانا اور اس نزول کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب کے لئے حاضر کیا جانا یہ دوسرے صور کے بعد کا حال ہے۔ معتبر سند سے طبرانی 1 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسرافیل اپنا ایک گھٹنا ٹیک کر اور دوسرا گھٹنا کھڑا کرکے صور پھونکنے کی حالت میں ہر وقت تیار اور حکم کے منتظر رہتے ہیں مستدرک حاکم میں صحیح سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–16

(وحملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدۃ) ۔ یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے وہ نیست ونابود ہو کر رزق خاک ہوجائیں گے، یعنی ان کو ڈھا کر زمین کے برابر کردیا جائے گا چناچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے، یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہوگا، رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہوگا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہوجائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہوجائیں گے اور یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر ہوگا جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہوگا جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14 قیامت کے روز آسمان کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آسمان پھٹ پڑے گا اور اس روز یہ بالکل بودا ہو کر رہ جائے گا۔ اور آج جس تماسک و تجاذب کی بنآء پر یہ اس قدر مضبوطی سے قائم ہے وہ سب کچھ اس روز ختم ہوجائے گا کہ اس روز اس کے خالق ومالک کے حکم و ارشاد سے یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا کہ یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف زمین اور اس کے پہاڑوں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب یہ آسمان کا حال بیان فرمایا جا رہا ہے ‘ کہ جس آسمان میں آج ڈھونڈے سے بھی کسی نقص یا شگاف کا کوئی نشان نہیں مل سکتا ‘ اس روز یہ بالکل بودا اور پھس پھسا ہو کر رہ جائے گا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–18

قیامت کا نقشہ تشریح :۔ جدید Cosmology کا اہم موضوع آج کل یہی ہے کہ کائنات کا انجام کیا ہوگا ؟ سائنس کے تجربات اس بارے میں ہمیشہ بدلتے رہیں گے کیونکہ وہ اس کے خالق نہیں ہیں۔ اس کے خالق نے قرآن پاک میں جو حقیقت اور جو اصل نقشہ بتا دیا ہے وہی سوفیصد سچ اور حقیقت بھی ہے۔ یہاں جو نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ یعنی صور پھونکا جائے گا جس کی آواز ناقابل برداشت ہوگی۔ اس آواز کی وضاحت سلطان بشیر صاحب نے یوں کی ہے۔ زمین اپنے اندر بھی اپنی تباہی کے سامان چھپائے ہوئے ہے اس کے پیٹ میں ہزاروں درجہ حرارت پر سخت دباؤ میں پگھلا ہوا مادہ ہے ” اگر کہیں یہ پھٹ جائے تو فوری قیامت آسکتی ہے اور یہ سب کچھ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–16

ف 8 جیسا کہ پچھلیآیات کے تحت بیان کیا جا چکا ہے۔ صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلی مرتبہ اس وقت جب تمام مخلوقات فنا ہوجائے گی اور دوسرا اس وقت جب تمام لوگ زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکلیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:16) وانشقت السماء فہی یؤمئذ واھیۃ واؤ عاطفہ۔ انشقت کا عطف وقعت پر ہے یومئذ ظرف ہے واھیۃ کا۔ انشقت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب انشقاق (افعال) مصدر سے جس کا معنی شق ہوجانا۔ پھٹ جانا۔ اور (اس روز) آسمان پھٹ جائے گا۔ فہی میں ہی ضمیر کا مرجع السماء ہے واھیۃ وہی (باب ضرب، فتح، سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ، بمعنی کمزور، بوسیدہ۔ پھٹا ہوا۔ وہی کے معنی مشک پھٹ جانا۔ رسی کا بند کمزور اور ڈھیلا ہوجانا۔ ابر کا ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا۔ گرپڑنا۔ کمزور ہوجانا۔ دیوار کا گرنے کے قریب ہوجانا ہے۔ فہی یومئذ واہیۃ : پس وہ (یعنی آسمان) اس روز بالکل بودا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) یعنی آج جو آسمان اس قدر مضبوط محکم ہے کہ لاکھوں سال گذرنے پر بھی کہیں ذراساشگاف نہیں پڑا۔ اس روز ہیبت رحمن جل جلالہ اور ہجوم ملائکہ سے اور ان کے اترنے سے پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–24

صور پھونکا جائے گا 2: نرسنگے میں پھونکنے کے دو معنی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور اعلان وعلام کے ہوگا ۔ جس سے معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ اس بساط لہو و لعب کو الٹ دیا جائے ۔ اور یا خود اس آواز میں یہ اثر ہوگا ۔ کہ اس کی وجہ سے عالم کون ومکان درہم برہم ہوجائے گا ۔ اور عقلاً اس میں کوئی استحالہ نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ آواز میں تاثیر پیدا کردیں ۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے ۔ کہ جب یہ موجودہ وقت آجائے گا ۔ اس وقت یہ سقف زرنگار پھٹ جائے گا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر آلگیں گے ۔ اور رب قدوس کی تجلیات عرش جلالت پر ہے تو انگن ہوں گی ۔ جس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا ایک ایک شخص کو اس کے روبرو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ چناچہ پھٹ جانا دلیل ضعف ہے، یعنی جیسا اس وقت وہ مضبوط ہے اور اس میں کہیں فطورو شقوق نہیں اس روز اس میں یہ بات نہ رہے گی بلکہ ضعف و انشقاق ہوجاوے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمان پھٹ جائے گا اور اس روز وہ بالکل بودا ہو گا 16 ؎ (واھیۃ) اسم فاعل واحد مؤنث وھی مصدر۔ معنی ہیں کمزور ، بوسیدہ ، پھٹا ہوا۔ آسمان کی بوسیدگی کیا ہے ؟ فراء نے کہا کہ : وھیھا یشققھا آسمان کی بوسیدگی اس کے پھٹنے سے ہے اور پھٹنے سے مراد بوسیدگی ہے کیونکہ بوسیدہ چیز معمولی ضرب سے بھی پھٹ جاتی ہے یا پھٹنا شروع ہوجاتی ہے اور وھی مصدر ہے پھٹ جانا۔ اس کا بند کمزور ہوجانا۔ ڈھیلا پڑجانا اور اسی طرح ابر کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے پر بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ آسمان پھٹ جائے گا۔ اس پر ظاہر ہے کہ تعجب کا ہونا ضروری تھا اس لئے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ وہ بہت بوسیدہ ہوچکا ہوگا۔ جس کا صاف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–16

فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ‌ نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ (Then, when the Trumpet will be blown for the first time…69:13). Tirmidhi records a Hadith on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Umar ؓ that صور sur 'trumpet' is a horn- like object which will be blown on Doomsday. نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ ('for the first time…69:13). It means that it will be a sudden and a single continuing sound that will last until all die. The texts of Qur'an and Sunnah show that the trumpet will be blown twice on the Day of Judgment. The first trumpet is called nafkhat-us-sa` aq 'the trumpet of swoon', in connection with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–16

10 While reading the following verses one should keep in mind that at some places in the Qur'an the three stages of Resurrection which will occur one after the other at different times have been mentioned separately, and at others all the three have been combined and mentioned as a single event. For example, in Surah An-Naml: 87 the first blowing of the Trumpet has been mentioned, when everyone will be suddenly struck with terror. At that time they will witness the general confusion and the upsetting of the order of the universe, as described in Al-Hajj: 1-2, Ya Sin 49-50 and At-Takvir: 1-6.…

Read the full tafseer →