Al-Haaqqa 69:15

Al-Haaqqa · from ayah 15

69:15

فَیَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ۟ۙفَيَوۡمَئِذٍ وَّقَعَتِ الۡوَاقِعَةُ

تو اس روز ہو پڑنے والی (یعنی قیامت) ہو پڑے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then on that Day, the Resurrection will occur,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:15

اُس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اس روز ہو پڑنے والی (یعنی قیامت) ہو پڑے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دن ہو پڑنے والی (قیامت) ہو پڑے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو اس دن وہ واقعہ پیش آجائے گا جسے پیش آنا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو اُس وقت واقع ہونے والی (قیامت) برپا ہو جائے گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اس دن ہونے والی ہوجائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو اس دن ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو اس دن ہو کر رہے گی وہ ہو پڑنے والی

— مولانا اسحاق مدنی

تو اس روز وہ ہونے والی چیز ہو پڑے گی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس روز وہ واقعہ رونما ہوجائے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اس روز ہوجانے والی، یعنی قیامت (بپا) ہوجائے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

on that Day shall that indubitable event come to pass;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

then on that Day the Happening will happen,

— Muhammad Taqi Usmani

then on that Day the Happening will happen,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then on that Day shall the Event occur.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then, on that day will the Event befall.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then on that Day, the Resurrection will occur,

— Saheeh International

On that day, the inevitable event will take place

— Muhammad Sarwar

On that day shall the great event come to pass,

— Muhammad Habib Shakir

Then on that Day shall happen the Event.

— Abdul Majid Daryabadi

On that Day shall the (Great) Event come to pass.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–18

آواز کا بم صور اسرافیل قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہوگا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر نفخہ پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہوجائے گی مگر جسے اللہ چاہے پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوجائے گی یہاں اسی پہلے نفخہ کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا نفخہ ایک ہی ہے اس لئے کہ جب اللہ کا حکم ہوگیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہوسکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع فرماتے ہیں اس سے مراد آخری نفخہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–16

سورة الْحَآقَّة 10 آگے آنے والی بات کو پڑھتے ہوئے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ قرآن مجید میں کہیں تو قیامت کے تین مراحل الگ الگ بیان کیے گئے ہیں جو یکے بعد دیگرے مختلف اوقات میں پیش آئیں گے، اور کہیں سب کو سمیٹ کر پہلے مرحلے سے آخری مرحلے تک کے واقعات کو یکجا بیان کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورة نمل آیت 87 میں پہلے نفخ صور کا ذکر کیا گیا ہے جب تمام دنیا کے انسان یک لخت ایک ہولناک آواز سے گھبرا اٹھیں گے۔ اس وقت نظام عالم کے درہم برہم ہونے کی وہ کیفیات ان کی آنکھوں کے سامنے پیش آئیں گی جو سورة حج آیات 1۔ 2، سورة یٰسین آیات 49۔ 50 اور سورة تکویر آیات 1۔ 6 میں بیان ہوئی ہیں۔ سورة زمر آیات 67…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–16

(آیت) فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمر کی مرفوع حدیث ہے کہ صور کوئی سینگ (کی شکل کی کوئی چیز) ہے جس میں قیامت کے روز پھونکا جائے گا۔ نفختہ واحدة سے مراد یہ ہے کہ یکبارگی اچانک یہ صورت کی آواز ہوگی اور ایک آواز مسلسل رہے گی یہاں تک کہ اس آواز سے سب مر جائیں گے۔ قرآن و سنت کی نصوص سے قیامت میں صور کے دو نفخے ہونا ثابت ہیں پہلے نفخہ کو نفخہ صعق کہا جاتا ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں (آیت) فصعق من فی السموت ومن فی الارض ہے یعنی اس نفخہ سے تمام آسمان والے فرشتے اور زمین پر بسنے والے جن وانس اور تمام جانور بیہوش ہوجائیں گے (پھر اسی بیہوشی میں سب کو موت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’فَیَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ‘۔ فرمایا کہ اس دن وہ واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی جس کو تم بہت بعید از امکان خیال کیے بیٹھے ہو۔ اوپر کی آیات میں قیامت کو ’حَآقَّۃ‘ اور ’قَارِعَۃ‘ وغیرہ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے یہاں اس کو لفظ ’وَاقِعَۃ‘ سے تعبیر کیا ہے جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی اس کو بعید از امکان چیز سمجھتا ہے تو سمجھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ایک امر واقعی ہے جو لازماً ایک دن پیش آ کے رہے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

14۔ 1 یعنی اپنی جگہوں سے اٹھا لیے جائیں گے اور قدرت الہی سے اپنی قرار گاہوں سے ان کو اکھیڑ لیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–18

5: اس سے مراد اس طوفان کا پانی ہے جو حضرت نوع ؑ کی قوم پر عذاب کے طور پر بھیجا گیا تھا، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حضرت نوح ؑ پر ایمان لے آئے تھے، انہیں پانی کی طغیانی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی میں سوار کردیا جس کا مفصل واقعہ سورة ہود : 36 تا 48 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فیومئذ ................ الواقعة (96 : 51) اور واقعہ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ جس طرح الحاقہ اور القارعہ ایک نام ہے۔ واقعہ اس لئے کہ اس نے واقع ہونا ہے۔ اس کی اصل حقیقت ایک واقعہ ہی کی ہے۔ یہ اس قسم کا نام ہے جس میں ایک خاص اشارہ ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو اس میں شک کرتے رہیں۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ تو واقعہ ہے۔ اور معاملہ یہیں تک محدود نہیں ہے کہ زمین اور پہاڑوں کو ایک گیند کی طرح اٹھا کر زمین پر مار دیا جائے گا اور یہ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے بلکہ آسمان میں بھی تغیرات رونما ہوں گے۔ آسمان صحیح سلامت نہ رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–15

3 یعنی صور پھنکنے کے ساتھ زمین اور پہاڑ اپنے حِیّز کو چھوڑ دیں گے اور سب کو کوٹ پیٹ کر ایک دم ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ بس وہ ہی وقت ہے قیامت کے ہو پڑنے کا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–19

آیت 13 { فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ } ”تو جب صور میں پھونکا جائے گا یکبارگی۔“ یعنی اس وقت کو یاد رکھو جب ایک ہی بار صور میں پھونک مار دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

12 یہی قیامت کا دن ہوگا پھر اس کے اثرات زمین تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ آسمان بھی ایک بوسیدہ کپڑے کی طرح پھٹنا شروع ہوجائے گا اس میں کئی شگاف اور دراڑیں پڑجائیں گی اور فرشتے جو آسمانوں کے درمیان تدبیر امور پر مامور ہیں سب آسمان کے کناروں کی طرف چلے جائیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آسمانوں کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–17

6۔ (جس وقت آسمان پھٹنا شروع ہوگا) ذکر ان فرشتوں کا ہے جو آسمان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” وحملت الارض واجبال “۔ یعنی اپنے اپنے مقام وحیز سے یہ چیزیں ہٹادی جائیں گی، ذکر قیامت کے نفخہ اول کا چل رہا ہے۔ (آیت) ” والملک “۔ ملک۔ یہاں بطور اسم جنس آیا ہے۔ سورة مفرد ومعنی جمع۔ للجنس بمعنی الجمع (مدارک) لم یردبہ ملکا واحد بل ارادالجنس والجمع (کبیر) 7۔ (جیسا کہ اس وقت چار اٹھائے ہوئے ہیں) عرش الہی کی کیفیت یا ماہیت اور اس کی تفصیلات سب علم و شعور انسانی کی موجودہ سطح سے بالاتر ہیں اس لئے بجز اجمالی بیان سن لینے اور اس کی اجمالی تصدیق کردینے کے بندوں کے لئے کوئی چارہ نہیں۔ البتہ محققین نے لکھا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–16

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فیومئذ وقعت الواقعۃ . پس اس روز یعنی نفخ صور کے دن وہ انتظار کی گھڑی آجائے گی جس کا آنا قرآن اور حدیث کی رو سے لازم ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جن امور کا واقع ہونا ضروری اور لازمی ہے مثلاً حساب اور اعمال کا بدلہ وہ واقع ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 15–16

(15۔ 16) تو اس روز قیامت ہوجائے گی اور اللہ کے ہیبت و جلال اور نزول ملائکہ سے آسمان پھٹ جائے گا اور وہ آسمان اس روز بالکل بودا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فیومئذ وقعت الواقعۃ :”الواقعۃ“ واقع ہونے والی۔ یعنی قیامت کے منکروں کا دنیا میں انجام ذکر کرنے کے بعد اب اس کے واقع ہونے کی کیفیت بیان ہوتی ہے کہ صور میں اچانک ایک پھونک ماری جائے گی، اس کے ساتھ ہی زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی بار ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا اور تمام زندہ لوگ مر کر گرجائیں گے۔ یہ واقعہ یک لخت ہوگا، اس کے وقت کا کسی کو بھی علم نہیں، حتیٰ کہ صور میں پھونکنے والے کو بھی نہیں۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(کیف انعم و صاحب القرن قد التقم القرن واستمع الاذن متی یومر بالنفع فینفخ (ترمذی، صفۃ القیامۃ و الرفاق، باب ماجاء فی شان الصور، 2331، وصححہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–17

فیومئذ وقعت الواقعۃ۔ جس روز قیامت قائم ہوگی (1) وانشقت السمآء آسمان پھٹ جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ پھٹ جائے گا کہ جو فرشتے اس میں ہیں وہ نیچے اتر آئیں گے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ویوم تشق السمآء بالغمام ونزل الملٓئکۃ تنزیلاً ۔ (الفرقان) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے فھی یومئذ واھیۃ وہ اس دن کمزور ہوگا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : وھی البناء یھی وھیافھو واہ جب وہ بہت کمزور ہوجائے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : کلام واہ ضعیف کلام۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی سختی کے بعد کمزوری میں اون کی طرح ہوجائیں گے۔ یہ فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے ہوگا جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–15

1۔ الحاکم وصححہ اور بیہقی نے البعث والنشور میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ آیت وحملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدہ زمین اور پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اٹھالیا جائے گا اور ایک دم سب کو توڑ پھوڑ دیا جائے گا۔ یعنی زمین اور پہاڑ دونوں کو ریزہ ریزہ ہو کر کافروں کے چہروں پر غبار بن جائیں گے نہ مکہ مومنین کے چہروں پر اور اس کو فرمایا آیت ووجوہ یومئذ علیہا غبرۃ ترھقہا قترہ۔ کافروں کے چہروں پر اس دن غبار یا کدورت ہوگی ان پر سیاہی چھائی ہوگی۔ 2۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فدکتا دکۃ واحدہ۔ کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ : تو اس دن واقع ہوگی ][ الْوَاقِعَةُ : وہ واقع ہونے والی (قیامت)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–18

قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا، زمین اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے عرش الٰہی کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے ان آیات میں روز قیامت کے مناظر ذکر فرمائے ہیں پہلے تو یوں فرمایا کہ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھا دیئے جائیں گے اور وہ دونوں ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی یعنی قیامت آجائے گی اور آسمان پھٹ پڑے گا سو وہ اس دن ضعیف ہوگا اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور آپ کے رب کے عرش کو اس دن اپنے اوپر آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ عرش کو آٹھ فرشتوں کا اٹھانا نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا اس کے بعد قیامت کے دن کی پیشی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–15

7:۔ ” فاذا نفخ “ یہ تخویف اخروی ہے نفخہ سے نفخہ اولی مراد ہے جس میں سارا نظام کائنات درہم برہم ہوجائیگا یہی وہ قت ہے جب قیامت قائم ہوگی، زلزلہ قیامت اس قدر شدید ہوگا کہ زمین اور پہاڑ اپنی اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں گے اور قدرت الٰہیہ سے دونوں کو یکبارگی ایک زبردست جھٹکے سے ایک دوسرے پر اس شدت سے مار دیا جائیگا کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کوہ و دریا اور بحر و بر بالکل ہموار اور برابر ہوجائیں گے اور کہیں بلندی و پستی نظر نہیں آئے گی۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” فیذرھا قاعا صفصفا، لا تری فیھا عوجا ولا امتا “ (طہ رکوع 6) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–24

گزشتہ سے پیوستہ : اس سورة کا موضوع جزائے عم ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ پہلی آیات میں کا ذکر فرمایا۔ چند گزشتہ اقوام کا ذکر کیا جو قیامت کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حاقہ واقع کیا اور یہ دو قسم سے وار ہوتا ہے۔ ایک ابتلا ہوتی ہے ، وقتی طور پر تکلیف آئی اور دور ہوگئی۔ اس کے بعد پھر موقع مل گیا۔ سز کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ مذکورہ اقوام کو اس دنیا میں ہی سزا ملی اور پھر اٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عالم برزخ میں سزا پا رہے ہیں۔ ان اقوام میں شرک و کفر تھا اور انکا رسالت بھی ، یہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ تو یہ قیامت کے جھٹلانے کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ دنیا میں ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ۝ 15 ۙ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–37

ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ 1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ 2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–17

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَادَکَّۃً وَّاحِدَۃً ۔ فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ۔ وَانْشَقَّتِ السَّمَـآئُ فَھِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاھِیَۃٌ۔ وَّالْمَلَکُ عَلٰٓی اَرْجَـآئِھَا ط وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 13 تا 17) (پس جب ایک ہی دفعہ صور میں پھونک ماری جائے گی۔ اور اٹھائے جائیں گے زمین اور پہاڑ، پھر پاش پاش کردیئے جائیں گے ایک ہی بار۔ اس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔ اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن پھس پھسا ہوجائے گا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے، اور آٹھ فرشتے اس روز آپ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–16

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود، قوم عاد اور آل فرعون کی ذلّت اور انجام ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ جو لوگ قرآن مجید کے بیان کردہ واقعات اور نصائح توجہ کے ساتھ سنتے ہیں انہیں اس دن سے پہلے نصیحت حاصل کرنی چاہیے جس دن ایک ہی دفعہ صور پھونکنے سے ہر چیز الٹ پلٹ ہوجائے گی اور اس دن مجرموں کو زنجیروں کے ساتھ جکڑ دیا جائے گا۔ اس سورت کی ابتدا اس فرمان سے ہوئی ہے کہ قیامت ہر صورت واقع ہو کر رہے گی اور اس کے لیے ” اَلْحَاقَّۃُ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا ایک معنٰی یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کو ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردینے والی۔ اب اسی کی تھوڑی سی تفصیل بیان کی جاری ہے۔ اسرافیل کے صورپھونکنے کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15 : فَیَوْمَپذٍ (تو اس روز) یعنی اس وقت وَّ قَعَتِ الْوَاقِعَۃُ (ہونے والی چیزہو پڑے گی) یعنی قیامت اتر پڑے گی آجائیگی۔ نحو : اذا کا جواب وقعت الواقعہ ہے اور یومئذ یہ اذا سے بدل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” وحملت الارض والجبال “ ان کی جگہیں اٹھالی گئیں۔ ” قد کتا “ دونوں توڑے گئے۔ ” دکۃ “ توڑنا ” واحدۃ “ پس وہ دونوں ریزہ ریزہ ہوکر ہوا میں بکھر گئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–18

13۔ 18۔ یہ پہلے صور سے لے کر دوسرے صور سے بعد تک کا حال ہے زمین اور پہاڑوں کے ٹوٹنے پھوٹنے کا حال تو پہلے صور کے وقت کا ہے اور آسمان میں دروازے ہو کر اللہ تعالیٰ کا محشر کے میدان میں نزول فرمانا اور اس نزول کے وقت آٹھ فرشتوں کا عرش کو اٹھانا اور اس نزول کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب کے لئے حاضر کیا جانا یہ دوسرے صور کے بعد کا حال ہے۔ معتبر سند سے طبرانی 1 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسرافیل اپنا ایک گھٹنا ٹیک کر اور دوسرا گھٹنا کھڑا کرکے صور پھونکنے کی حالت میں ہر وقت تیار اور حکم کے منتظر رہتے ہیں مستدرک حاکم میں صحیح سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–16

(وحملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدۃ) ۔ یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے وہ نیست ونابود ہو کر رزق خاک ہوجائیں گے، یعنی ان کو ڈھا کر زمین کے برابر کردیا جائے گا چناچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے، یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہوگا، رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہوگا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہوجائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہوجائیں گے اور یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر ہوگا جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہوگا جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–15

13 ہنگامہ قیامت کے وقوع کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب پھونک مار دی جائے گی صور میں ایک ہی مرتبہ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر اور کوٹ کر چورا چورا کردیا جائے گا ایک ہی چوٹ میں۔ سو اس روز واقع ہو کر رہے گی وہ ہو پڑنے والی۔ اور پھٹ پڑے گا اس روز آسمان۔ یعنی مضبوط بندشوں والا یہ آسمان جو زمانہ ہائے دراز سے ایسا چلا آرہا ہے کہ اس میں نہ کوئی شگاف ہے نہ ھٹن ‘ اور جو بغیر کسی ٹوٹ پھوٹ ‘ فتور و قصور کے اور بدوں کسی نقص و فساد کے قائم ہے اس روز یہ پھٹ پڑے گا کہ اس کے رب کا اس کو یہی حکم ہوگا اور یہ حکم مانے گا اپنے رب کا ‘ اور اس کے آگے سر تسلیم کردے گا ‘ سبحانہ و تعالیٰ واذنت لربھا و حقت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–18

قیامت کا نقشہ تشریح :۔ جدید Cosmology کا اہم موضوع آج کل یہی ہے کہ کائنات کا انجام کیا ہوگا ؟ سائنس کے تجربات اس بارے میں ہمیشہ بدلتے رہیں گے کیونکہ وہ اس کے خالق نہیں ہیں۔ اس کے خالق نے قرآن پاک میں جو حقیقت اور جو اصل نقشہ بتا دیا ہے وہی سوفیصد سچ اور حقیقت بھی ہے۔ یہاں جو نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ یعنی صور پھونکا جائے گا جس کی آواز ناقابل برداشت ہوگی۔ اس آواز کی وضاحت سلطان بشیر صاحب نے یوں کی ہے۔ زمین اپنے اندر بھی اپنی تباہی کے سامان چھپائے ہوئے ہے اس کے پیٹ میں ہزاروں درجہ حرارت پر سخت دباؤ میں پگھلا ہوا مادہ ہے ” اگر کہیں یہ پھٹ جائے تو فوری قیامت آسکتی ہے اور یہ سب کچھ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–16

ف 8 جیسا کہ پچھلیآیات کے تحت بیان کیا جا چکا ہے۔ صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلی مرتبہ اس وقت جب تمام مخلوقات فنا ہوجائے گی اور دوسرا اس وقت جب تمام لوگ زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکلیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:15) فیومئذ وقعت الواقعۃ :تعقیب کا ہے ۔ یومئذ ظرف وقعت کا پس اس روز وقوع پذیر ہوجائے گی وقوع پذیر ہونے والی۔ یعنی قیامت برپا ہوجائے گی۔ الواقعۃ : وقع سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث وقع (باب فتح) مصدر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–15

پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال۔ ایماندار اور کافر کی پہچان۔ (ف 1) یعنی صور پھونکنے کے ساتھ زمین اور پہاڑ اپنی جگہ کو چھوڑ دیں گے اور آپس میں ٹکرا ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے یا یہ کہ زمین پر سے درخت پہاڑ مکانات وغیرہ سب چیزیں دور کردی جائیں گی اور ساراعالم زیروزبر ہوجائے گا پس وہی وقت ہے قیامت کے ہونے کا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–24

صور پھونکا جائے گا 2: نرسنگے میں پھونکنے کے دو معنی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور اعلان وعلام کے ہوگا ۔ جس سے معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ اس بساط لہو و لعب کو الٹ دیا جائے ۔ اور یا خود اس آواز میں یہ اثر ہوگا ۔ کہ اس کی وجہ سے عالم کون ومکان درہم برہم ہوجائے گا ۔ اور عقلاً اس میں کوئی استحالہ نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ آواز میں تاثیر پیدا کردیں ۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے ۔ کہ جب یہ موجودہ وقت آجائے گا ۔ اس وقت یہ سقف زرنگار پھٹ جائے گا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر آلگیں گے ۔ اور رب قدوس کی تجلیات عرش جلالت پر ہے تو انگن ہوں گی ۔ جس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا ایک ایک شخص کو اس کے روبرو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–15

ف 3۔ یہ قصے تو مکذبین قیامت کے ہوئے، آگے قیامت کے اہوال کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس اس وقت جس کا ہونا یقینی ہے واقع ہوجائے گی 15 ؎ یہی وہ دن ہے یعنی جس دن کو زمین اور آسمان دونوں کو اٹھا لیا جائے گا کہ وہ جس کو واقع ہونا ہے وہ واقع ہوجائے گی۔ مکہ والوں کو اس کے ہونے اور جس طرح اس کو ہونا ہے اس کی وضاحت بتائی جا رہی ہے اور اس سے سارے انسانوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھ لیں اور اپنی انفرادی زندگی سے اس کی حقیقت کا سراغ پا لیں کہ وہ ہر انسان کی اپنی موت ہی کے ساتھ وابستہ کردی گئی ہے اس لئے کہ جب کوئی شخص اس دنیا سے اٹھا لیا جاتا ہے تو اس کو دوبارہ واپس اس دنیا میں نہیں بھیجا جاسکتا اور جب وہ واپس نہیں آئے گا تو ظاہر ہے کہ وہ اسی روز اٹھے گا جو روز اس کے اٹھنے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–16

فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ‌ نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ (Then, when the Trumpet will be blown for the first time…69:13). Tirmidhi records a Hadith on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Umar ؓ that صور sur 'trumpet' is a horn- like object which will be blown on Doomsday. نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ ('for the first time…69:13). It means that it will be a sudden and a single continuing sound that will last until all die. The texts of Qur'an and Sunnah show that the trumpet will be blown twice on the Day of Judgment. The first trumpet is called nafkhat-us-sa` aq 'the trumpet of swoon', in connection with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–16

10 While reading the following verses one should keep in mind that at some places in the Qur'an the three stages of Resurrection which will occur one after the other at different times have been mentioned separately, and at others all the three have been combined and mentioned as a single event. For example, in Surah An-Naml: 87 the first blowing of the Trumpet has been mentioned, when everyone will be suddenly struck with terror. At that time they will witness the general confusion and the upsetting of the order of the universe, as described in Al-Hajj: 1-2, Ya Sin 49-50 and At-Takvir: 1-6.…

Read the full tafseer →