Explained with ayahs 1–12
حاقہ
قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لئے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا تم اس حاقہ کی صحیح کیفیت سے بیخبر ہو، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑے اور کلیجوں کو پاش پاش کردینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ وبالا ہوجاتے ہیں، پس بقول حضرت قتادہ (طاغیہ) کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کردیئے گئے، ربیع بن انس اور ابن زید کا قول…
Read the full tafseer →سورة الْحَآقَّة 9
یعنی وہ کان نہیں جو سنی ان سنی کردیں اور جن کے پردے پر سے آواز چٹ کر گزر جائے، بلکہ وہ لوگ جو اس واقعہ کو سن کر اسے یاد رکھیں، اس سے عبرت حاصل کریں اور اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ آخرت کے انکار اور خدا کے رسول کی تکذیب کا انجام کیسا ہولناک ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
سَبْعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ ، بعض روایات میں ہے کہ بدھ کی صبح سے یہ آندھی کا عذاب شروع ہو کر دوسرے بدھ کی شام تک رہا اس طرح دن تو آٹھ ہوگئے اور راتیں سات آئیں۔
حسوماً حاسم کی جمع ہے جس کے معنی قطع کرنے اور استیصال کرنے یعنی بالکل فنا کردینے والے کے ہیں
وَالْمُؤْتَفِكٰت۔ کے معنے باہم مختلط اور ملے جلے کے ہیں۔ حضرت لوط ؑ کی بستیوں کو مؤتفکات یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سب آپس میں ملی ہوئی بستیاں تھیں اور یا اس لئے کہ عذاب آنے کے وقت جب ان کا تختہ الٹا گیا تو سب گڈ مڈ ہوگئیں۔
Read the full tafseer →سرگزشتیں سنانے کا مقصد:
ضمیر مفعول کا مرجع صرف ’جَارِیَۃ‘ (کشتی) نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و نقمت کی یہ پوری سرگزشت ہے۔ اس طرح ضمیر لانے کی متعدد مثالیں اس کتاب میں گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ طوفان نوح سے بچ رہنے والوں کو ہم نے اپنی رحمت و نقمت کی یہ شان بھول جانے کے لیے نہیں بلکہ یاد رکھنے، نصیحت حاصل کرنے اور اسلاف کی طرف سے اس کو اخلاف کو منتقل کرنے کے لیے دکھائی تھی۔ لیکن افسوس ہے کہ تم اس کو بھول گئے اور آج اسی طرح اپنے رسول سے لڑنے کو اٹھ کھڑے ہوئے جس طرح قوم نوح اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →12۔ 1 یعنی یہ فعل کہ کافروں کو پانی میں غرق کردیا اور مومنوں کو کشتی میں سوار کرا کے بچا لیا تمہارے لیے اس کو عبرت و نصیحت بنادیں تاکہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو اور اللہ کی نافرمانی سے بچو۔ یعنی سننے والے اسے سن کر یاد رکھیں اور وہ بھی اس سے عبرت پکڑیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
5: اس سے مراد اس طوفان کا پانی ہے جو حضرت نوع ؑ کی قوم پر عذاب کے طور پر بھیجا گیا تھا، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حضرت نوح ؑ پر ایمان لے آئے تھے، انہیں پانی کی طغیانی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی میں سوار کردیا جس کا مفصل واقعہ سورة ہود : 36 تا 48 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →یہ پانی کی پہاڑوں کی طرح موجیں اور ان پرچلنے والی کشتی کا منظر ، دونوں اس سورت کی خوفناک فضا کی خوفناک یوں میں اضافہ کرنے والے ہیں۔ اور سورت کے مناظر کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں اور جاریہ اور داعیہ کے الفاظ قافیہ کو یکساں کرتے ہیں۔ اور پھر یہ نصیحت آموز تبصرہ۔
لنجعلھا ................ واعیة (06 : 21) ” تاکہ اس واقعہ کو تمہارے لئے ایک سبق آموز یادگار بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں “۔ یہ نصیحت جامد اور پتھردل پر بھی اثر کرتی ہے۔ اور یہ آواز ایسے کانوں سے بھی پار ہوجاتی ہے ، جن پر کوئی آواز اثر نہیں کرتی۔ جو ہر چیز کو سننے سے انکار کرتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔ رسولوں کا انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
2 یعنی نوح کے زمانہ میں جب پانی کا طوفان آیا تو بظاہر اسباب تم انسانوں میں سے کوئی بھی نہ بچ سکتا تھا۔ یہ ہماری قدرت و حکمت اور انعام و احسان تھا کہ سب منکروں کو غرق کر کے نوح کو مع اس کے ساتھیوں کے بچا لیا۔ بھلا ایسے عظیم الشان طوفان میں ایک کشتی کے سلامت رہنے کی کیا توقع ہوسکتی تھی۔ لیکن ہم نے اپنے قدرت و حکمت کا کرشمہ دکھلایا۔ تاکہ لوگ رہتی دنیا تک اس واقعہ کو یاد رکھیں اور جو کان کوئی معقول بات سن کر سمجھتے اور محفوظ رکھتے ہیں وہ کبھی نہ بھولیں کہ اللہ کا ہم پر ایک زمانہ میں یہ احسان ہوا ہے اور سمجھیں کہ جس طرح دنیا کے ہنگامہ داروگیر میں فرمانبرداروں کو نافرمان مجرموں سے علیحدہ رکھا جاتا…
Read the full tafseer →آیت 12 { لِنَجْعَلَہَا لَکُمْ تَذْکِرَۃً وَّتَعِیَہَآ اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ۔ } ”تاکہ ہم اس کو تمہارے لیے ایک یاددہانی بنا دیں اور وہ کان جو حفاظت کرنے والے ہیں اس کو پوری حفاظت سے یاد رکھیں۔“
ان آیات میں ”التَّذْکِیر بایَّامِ اللّٰہ“ کا بیان تھا۔ اس کے بعد اب آخرت کا ذکر آ رہا ہے۔ ایک لحاظ سے تو یہ بھی اَیَّام اللّٰہ ہی کے تذکرے کا حصہ ہے ‘ کیونکہ وقت کی ڈور میں ایک طرف اگر گزشتہ اقوام کے عبرت ناک واقعات پروئے ہوئے ہیں تو اسی ڈور کا دوسرا سرا آخرت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
9 طوفان نوح اور کشتی :۔ یعنی طوفان کا یہ حال تھا کہ پانی کی اتنی کثیر مقدار جمع ہوگئی تھی کہ پہاڑ تک اس طوفان میں ڈوب گئے تھے۔ اتنے مہیب طوفان کے مقابلہ میں ایک کشتی کی بھلا حقیقت ہی کیا تھی جو اس طوفان کے تھپیڑوں کا مقابلہ کرسکتی۔ خصوصاً جب کہ اس میں سوار لوگوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان کی منزل مقصود کس سمت کو ہے ؟ ظاہری اسباب پر انحصار کیا جائے تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ نہ اس کشتی کے بچنے کی کوئی صورت تھی اور نہ اس میں سوار انسانوں کی۔ یہ ہماری قدرت اور ہمارا احسان ہی تھا کہ اس کشتی کے ذریعہ ہم نے اپنے فرمانبرداروں کو بچا لیا اور لوگوں کو اپنی قدرت و حکمت کا ایسا کرشمہ دکھا دیا کہ رہتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
5۔ یعنی سننے والوں کو چاہیے کہ عبرت کے کانوں سے اس واقعہ کو سنیں اور اسے یاد رکھ کر موجبات عقوبت سے بچیں۔ (آیت) ” انا ... الجاریۃ “۔ اشارۃ واقعہ طوفان نوح کی جانب ہے۔ (آیت) ” جعلنکم “۔ ضمیر جمع مخاطب سے مراد موجودہ نسل مخاطبین کے اسلاف ہیں۔ (آیت) ” لنجعلھا “۔ ضمیر ھا اس واقعہ غرقابی کی طرف راجع ہے جو مخاطبین کو خوب اچھی طرح معلوم تھا، گویہاں مذکور نہ ہو ایسے موقع پر محض ضمیر سے کام لینا عربی اسلوب بیان کے عین مطابق ہے۔ قال الزجاج انہ عائد لای الواقعۃ التیھی معلومۃ وان کانت ھھنا غیر مذکورۃ (کبیر) الضمیر للفعلۃ وھی نجاۃ ال مومنین واغراق الکفرۃ (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…
Read the full tafseer →لنجعلھا . تاکہ ہم اس کشتی کو یا پانی کے حد سے بڑھے ہوئے طوفان میں کشتی کے ذریعہ اہل ایمان کی نجات کو۔
لکم تذکرۃ . تمہارے لیے عبرت اور نصیحت بنا دیں کیونکہ اس سے خالق کی قدرت ‘ حکمت ‘ رحمت اور وفور غضب کا
علم ہوتا ہے۔
و تعیھا اذن واعیۃ . اور اس لیے بھی کہ یاد رکھنے والے اس کو یاد رکھیں ‘ سمجھیں اور غور کریں۔ کان سننے اور یاد
رکھنے کا ذریعہ ہے اس لیے یادداشت کا فاعل کان کو قرار دیا ‘ ورنہ حقیقت میں یاد رکھنے والا دل یا نفس ہے یا کان سے مراد ہیں کانوں والے یعنی اصحاب اذن۔ مضاف (اصحاب) کو حذف کر کے مضاف الیہ (اذن) کو اس کے قائم مقام کردیا (اوّل مجاز فی الاسناد ہے اور دوسرا مجاز لغوی یا مجاز فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(11۔ 12) اور ہم نے جبکہ نوح کے وقت میں پانی کو طغیانی ہوئی تو اے محمد تم کو اور تمام مخلوقات کو جو کہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، نوح کی کشتی میں سوار کیا تاکہ ہم اس کشتی کو یا اس واقعہ کو تمہارے لیے ایک عبرت بنا دیں جس سے تم نصیحت حاصل کرسکو اور یاد رکھنے والے دل اس کو محفوظ رکھیں یا یہ کہ سننے والے کان اس کو سن کر اس سے فائدہ حاصل کریں۔
Read the full tafseer →لنجعلھا لکم تذکرۃ :”لنجعلھا“ میں ”ھا“ ضمیر اس واقعہ کی طرف جا رہی ہے، یعنی ”تاکہ ہم اس واقعہ کو تمہارے لئے ایک نصیحت اور یادگار بنادیں۔“ نوح ؑ کی قوم کا یہ واقعہ پشت در پشت نقل ہو کر آرہا تھا اور عرب کے لوگ اچھی طرح اس سے واقف تھے۔ بعض مفسرین نے اس ضمیر ”ھا“ سے مراد ”الجاریۃ“ (کشتی) بھی لیا ہے، مگر اس کے بعد آنے والے الفاظ ”وتعیھا اذن واعیۃ“ (اور اسے یاد رکھنے والا کان یاد رکھے) سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ضمیر سے مراد ”واقعہ“ ہے، کیونکہ ”وعی یعی“ کا معنی سوچ سمجھ کر سننا اور یاد رکھنا ہوتا ہے۔ ”اذن“ (کان) سے مراد کانوں والے انسان ہیں جو واقعہ کو سنیں تو اس سے عبرت پکڑیں کہ آخرت کے انکار اور اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ان لما طغا المآء جب پانی بلند ہوگیا۔ حضرت علی شیرخ دا نے کہا، پانی سے اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کی وجہ سے فرشتوں میں سے خازنوں پر سرکش ہوگیا (2) وہ خزان اسے قابو رکھنے پر قادر نہ ہوئے۔ قتادہ نے کہا، ہر چیز پر پندرہ ہاتھ بلند ہوگیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں پانی اپنے خازنوں پر سرکش ہوگیا، وہ ان پر بہت زیادہ ہوگیا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کتنا پانی نکلا۔ اس سے قبل اور اس کے بعد کوئی قطرہ نازل نہیں ہوتا مگر معلوم پیمانہ کے ساتھ نازل ہوتا صرف اس دن ایسی صورت نہ تھی۔ سورت کے آغاز میں مرفوع حدیث گزر چکی ہے۔ ان امتوں کے واقعات کے ذکر کرنے کا مقصود اور جو عذاب ان پر آئے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
حضرت علی ؓ کی فضیلت
29۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت وتعیہا اذن واعیہ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ حضرت علی ؓ کے کان اس طرح بنادے، مکحول ؓ نے کہا کہ علی ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کوئی بات رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنی کہ میں اسے بھول گیا ہوں۔ یعنی میں کسی بات کو نہیں بھولا۔
30۔ ابن جریر وابن ابی حاتم واحدی وابن مردویہ وابن عساکر وابن مردویہ وابن عساکر وابن البخاری نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ کو قریب کروں اور تجھ کو…
Read the full tafseer →[لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ : تاکہ ہم بنائیں اس (کشتی) کو تمہارے لیے ][ تَذْكِرَةً : ایک یاددہانی ][ وَّتَعِيَهَآ : اور تاکہ یاد رکھے اس کو ][ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ : کوئی یاد رکھنے والا کان ]
Read the full tafseer →﴿ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ0012﴾ (تاکہ اس کو یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اس کو یاد رکھیں) کیونکہ اس میں اہل فکر اور اہل نظر کے لیے عبرت اور نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
6:۔ ” انا لما طغا الماء “ یہ تخویف دنیوی کا پانچواں نمونہ ہے۔ ” طغا الماء “ یعنی اپنی حد معتاد سے تجاوز کرگیا یہاں تک کہ اونچے اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی کئی گز اوپر چڑھ گیا۔ جواز حد المعتاد حتی انہ علا علی اعلی جبل خمس عشرۃ ذراعا (روح ج 9 ص 42) ۔ مراد طوفان نوح (علیہ السلام) ہے۔ ” حملناکم “ میں تجوز ہے یعنی تمہارے آباء و اجداد کو کشتی میں اٹھایا اور تم ان کی صلبوں میں تھے۔ حملناکم ای فی اصلاب آباء کم فی الجاریۃ (بحر ج 8 ص 322) ۔ واللفظ لہ بیضاوی ج 2 ص 394 ۔ ہم نے طوفان نوح میں تمام مشرکین کو غرق کردیا اور تمہارے باپ دادوں کو کشتی نوح میں سوار کر کے طوفان سے بچا لیا تاکہ ہم اس واقعہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
کوائف سورة :
اس سورة کا نام سورة لحاقہ ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی باون آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة دو سوچھپن کلمات اور ایک ہزار چار سو اسی حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ :
سابقہ سورة میں رسالت کا ذکر تھا۔ اللہ کے بنی اور رسول کو مجنون کہنے والوں کا رد تھا۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ یہ محض امتحان کے لیے ہیں کسی کی مقبولیت کی نشانی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ باغ والوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ نے ان کا بھی امتحان لیا تھا۔ اس کے علاوہ منکرین قیامت کا رد فرمایا۔ اور انکے ساتھ آخرت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر فرمایا آخر میں پھر رسالت کے…
Read the full tafseer →لِنَجْعَلَہَا لَكُمْ تَذْكِرَۃً وَّتَعِيَہَآ اُذُنٌ وَّاعِيَۃٌ 12
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
تَّذْكِرَةُ
: ما يتذكّر به الشیء، وهو أعمّ من الدّلالة والأمارة، قال تعالی: فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ، كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] ، أي : القرآن . وذَكَّرْتُهُ
التذکرۃ
جس کے ذریعہ کسی چیز کو یاد لایا جائے اور یہ دلالت اور امارت سے اعم ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ترکیب : من موصلۃ قبلہ قراء الجمہور بفتح القاف و سکون الباء ای ومن حقدومن الامم و قراء ابوعمرو و عاصم والکسائی بکسر القاف وفتح الباء معناہ من جہتہ وطرفہ وعلی الوجہین ھو صلۃ والمجموع معطوف علی فرعون وھو فاعل جاء و۔ المؤتفکات معطوف علیہ بالخاطئۃ مفعول جاء و ‘ الباء للتعدیۃ والخاطئۃ امامصدر کالحظاء واما الفعلۃ ای بالفعلۃ الخاطئۃ رسول ربہم مفعول عصوا ای عصیٰ کلواحد رسول ربہ اخذۃً مفعول مطلق رابیۃً صفۃ من ربا الشیء اذا زاد انا مبتداء حملنا کم خبرہ فی الجاریۃ حال من مفعولہ اذ فی متعلقہ بمحذوف لیست بصلۃ للحمل لماطغا الماء ظرف لحملنا دخلت بین المبتداء وخبرہ لنجعلہا واللام متعلقہ بمحذوف ای…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَـآئُ حَمَلْنٰـکُمْ فِی الْجَارِیَۃِ ۔ لِنَجْعَلَھَا لَـکُمْ تَذْکِرَۃً وَّ تَعِیَھَـآ اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 11، 12)
(اور جب پانی حد سے گزر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کردیا۔ تاکہ ہم اس واقعہ کو تمہارے لیے ایک درس موعظت بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں۔ )
طوفانِ نوح سے بچ جانے والوں کا تذکرہ
قومِ عاد وثمود اور فرعون اور قوم لوط کے انجام سے عبرت دلانے کے بعد اب ایسے واقعہ کا ذکر کیا جارہا ہے جو متذکرہ بالا قوموں کے واقعات سے بہت پہلے کا ہے، یعنی اس سے مراد طوفانِ نوح اور اس میں پیش آنے والے واقعات ہیں۔ اس طرح سے پروردگار نے رسولوں کی پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
فہم القرآن
ربط کلام : قوم ثمود، عاد اور فرعون سے پہلے ہلاک ہونے والی بستیوں اوراقوام میں سرفہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے شدید طوفان کے ذریعے ہلاک کیا جس کا یہاں مختصر ذکر کیا گیا ہے۔
قرآن مجید نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے جرائم میں جس جرم کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ شرک ہے جس کی ابتدا اس قوم سے ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کی وجہ سے اس قوم کو سیلاب کے ذریعے ہلاک کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو ایک کشتی کے ذریعے سیلاب سے محفوظ فرما لیا۔ جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا جارہا ہے کہ جب پانی کا طوفان حد سے بڑھا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا تاکہ ہم…
Read the full tafseer →12 : لِنَجْعَلَھَا (تاکہ ہم اس معاملہ کو بنادیں) معاملے سے ایمان والوں کی نجات اور کفارکا غرق ہونا مراد ہے۔ لَکُمْ تَذْکِرَۃً (تمہارے لئے ایک یاد گار) نصیحت و عبرت وَّ تَعِیَھَآ (اور یاد رکھیں اس کو) اس کو یاد کرلیں۔ اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ (کان یاد رکھنے والے) سننے والی بات کو محفوظ کرنے والے کان۔
قول قتادہ :
وہ کان جو اللہ تعالیٰ کی بات کو سمجھنے والے اور جو کچھ سنا اس سے فائدہ اٹھانے والے ہوں۔
Read the full tafseer →11 ۔” انا لما طغی المائ “ یعنی سرکشی اور حد سے تجاوز کیا حتیٰ کہ ہر چیز پر چڑھا اور اس پر بلند ہوگیا یعنی نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں۔ ” حملنا کم “ یعنی ہم نے تمہارے آباء کو اٹھایا اور تم ان کی پشتوں میں تھے۔ ” فی الجاریۃ “ اس کشتی میں جو پانی میں چلتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
1۔ 12۔ قیامت کی جس سزا و جزا کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے قیامت کے دن وہ سزا و جزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونا مان لیں گے اس لئے قیامت کا نام حاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا و جزا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے تاکہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اللہ کے حکم کی…
Read the full tafseer →(لنجعلھا) تاکہ ہم اس کو بنادیں۔ یعنی کشتی اور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمہارے لیے (تذکرۃ) یادگار، جو تمہیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کرڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان (وتعیھا اذن واعیۃ) ۔ اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ یعنی خڑد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا…
Read the full tafseer →12 امم بائدہ کے قصوں کے ذکر سے اصل مقصد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب سرگزشتیں اس لئے سنائی گئیں کہ تاکہ یہ سامان عبرت و بصیرت ہو رہتی دنیا کیلئے اور تاکہ اس کو یاد رکھیں یاد رکھنے والے کان۔ اور یہ حقیقت ہمیشہ ان کے سامنے رہے کہ حق کی تکذیب اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی توہین کا انجام بہرحال تباہی اور بربادی ہی ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو طوفان نوح سے بچ رہنے والوں کو ہم نے اپنی رحمت و نقمت کی یہ شان اس لئے دکھائی کہ تاکہ یہ نصیحت اور یاددہانی ہو تم سب کیلئے اور تاکہ اس کو یاد رکھیں یاد رکھنے والے کان اور وہ اس سے نصیحت حاصل کریں اور اسلاف کی طرف سے اخلاف کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
قیامت کی خوفناک خبر کے منکرین کا انجام
تشریح :۔ جیسا کہ ترجمہ سے مطلب واضح ہو رہا ہے کہ قیامت کا آنا بالکل ضروری لازم ہے اور وہ بڑا ہی سخت پریشان کن اور تباہ کن واقعہ ہوگا۔ تو اس بات پر ثمود عاد قوم نوح (علیہ السلام) قوم لوط اور قوم فرعون نے یقین نہ کیا اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور برے کاموں میں غرق ہو کر موت اور آخرت کو قیامت کو بالکل بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے شدید عذاب بھیجے کہ وہ بالکل نیست و نابود ہوگئے تو ان کی تباہی کو دیکھو ” پڑھو اور سنو تو تمہیں یقین آجائے گا کہ قیامت کیسی ہوگی اور قیامت کے منکرین کا کیا حال دنیا میں ہوا اور کیا حال آخرت میں ہوگا۔
اصل میں مسلمان کے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →ف 6 ” ھا “ کی ضمیر کشتی کے لئے بھی ہوسکتی ہے اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کشتی کو تمہارے لئے یادگار بنائیں۔ اس صورت میں کشتی سے مرا خاص حضرت نوح کی کشتی بھی ہوسکتی ہے اور ہر کشتی بھی کیونکہ وہ اس کی جنس سے ہونے کی وجہ سے اس کی یادگار ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت نوح کی کشتی کو اس امت کے ابتدائی لوگوں نے دیکھا ہے۔ (ابن کثیر)7 مراد ہر وہ شخص ہے جو واقعات کو سن کر انہیں سمجھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
Read the full tafseer →(69:12) لنجعلہا تذکرۃ : لنجعلہا لام تعلیل کا ہے۔ نجعل فعل مضارع جمع متکلم ۔ جعل (باب فتح) مصدر سے۔ ہم بنادیں۔ ہم کردیں۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ مراد اس سے وہ فعل ہے جس سے مؤمنوں کو بجات نصیب ہوئی اور کافر ہلاک ہوگئے۔
الضمیر للفعلہ وہی نجاۃ المؤمنین واغرق الکفرۃ : الکشاف : ضمیر نجات المؤمنین واغراق الکفرین کے فعل کی طرف راجع ہے۔
فراء نے لکھا ہے کہ ضمیر الجاریۃ (السفینۃ) کے لئے ہے۔
صاحب السیر التفاسیر کا بھی یہی قول ہے۔ لکھتے ہیں :۔ وقولہ لنجعلہا لکم تذکرۃ : ای لنجعل السفینۃ تذکرۃ لکم و موعظۃ وعبرۃ تفعلۃ باب تفعیل کا مصدر ہے۔ اور فعل نجعل کا مفعول ثانی ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ تاکہ ہم اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
(ف 1) قیامت کی جس سزا وجزا کا ذکر قرآن مجید وحدیث شریف میں ہے قیامت کے دن وہ سزا وجزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونامان لیویں گے اسی لیے قیامت کا نام ھاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی ، حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا اور جزا اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اور اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
[6] اشارہ ہے طوفان نوح کی طرف۔
[7] اگرچہ کشتی میں نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی سوار ہوئے تھے لیکن کیونکہ بعد کی پوری انسانی نسل انہیں لوگوں سے چلی اس لئے فرمایا کہ ہم نے تم کو کشتی میں سوار کردیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–12
ف 2: ان آیات میں یہ قانون واضح فرمایا ہے ۔ کہ کوئی قوم زندگی کا اس وقت تک استحقاق نہیں رکھتی ۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کی اطاعت نہ کرے ۔ اور اپنی خواہشات کو اس کے ارادہ اور منسا کے تابع نہ کردے ۔ کیونکہ مقدرات میں سے ہے ۔ کہ کوئی نفس اس سرچشمہ حیات وور سے الگ رہ کر اپنی انفرادیت باقی نہیں رکھ سکتا ۔ چناچہ جب کسی قوم نے اس اصول کو نہیں سمجھا ۔ اور اللہ کے حکموں کی پرواہ نہیں کی ۔ اس کا غصہ بھڑکا ۔ اور اس کو زندگی سے محروم کردیا ۔ ثمود وحاد کی قوم مٹادی گئی ۔
فرعون اور اس کا لاؤ لشکر قلزم میں اپنی عزت و حکمت سمیت ڈبودیا گیا ۔ قوم لوط کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور اسی طرح جب بھی…
Read the full tafseer →(12) تاکہ ہم اس واقعہ کو تمہارے لئے ایک یادگار بنادیں اور محفوظ رکھنے والے کان اس کو محفوظ رکھیں کانوں کو محفوظ رکھنے والا یا یادرکھنے والا مجازاً فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کو یاد رکھیں اور سبب عذاب اور موجبات عقاب سے بچیں۔ یہاں تک مکذبین کے واقعات اور حاقہ کی تمثیلات مذکور ہیں اب آگے اصل حاقہ یعنی قیامت کی ہولناکی اور اس دن کی تخریب کا ذکر فرماتے ہیں، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ف 3۔ یہ قصے تو مکذبین قیامت کے ہوئے، آگے قیامت کے اہوال کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →اس واقعہ کو ہم نے تمہارے لئے باعث نصیحت بنا دیا اور یاد رکھنے کی ایک بات
12 ؎ اس واقعہ کو بعد میں آنے والی قوموں کے لئے ایک نصیحت بنا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ قوم اپنے نبی و رسول کی جب مخالفت کرے اور مخالفت کرتی ہی چلی جائے اور حق کو سمجھنے کی کوشش ہی نہ کرے تو پھر اس بات کا لحاظ نہیں کیا جاتا کہ ایک طرف پوری قوم ہے اور دوسری طرف چند نفوس ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مدد ان چند نفوس ہی کے لئے سہارے کا باعث ہوتی رہی ہے اور ان کے مقابلہ میں پوری کی پوری قوم کو تباہی کے گڑھے میں دبا دیا جاتا رہا ہے اور اب بھی یہی کچھ ہوگا جو پیچھے سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ (تعیھا) اور (واعیۃ) دونوں کا مادہ و ع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ (seven nights and eight consecutive days'... 69:7). According to some of the narratives, the punishment of windstorm started on Wednesday morning, and lasted till the following Wednesday evening. In this way, it makes up eight days and seven nights.
The word husuman (in verse 7) is the plural of hasim and means 'cutting them off entirely' or 'causing them to perish completely'.
The word مُؤْتَفِكَاتُ mu'tafikat (in verse 9) means 'adjacent to one another'. The towns of Sayyidna Lut Sodom and Gomorrah, are so called because they were adjacent to each…
Read the full tafseer →9 "The retaining ears,..": the ears which may hear it consciously and take it in. Although the word ear has been used, it unplies the hearers who may hear the event and always remember it, take heed from it, and may never forget what dreadful fate the deniers of the Hereafter and the disbelievers of the Messenger of God would ultimately suffer.
Read the full tafseer →