Al-Haaqqa 69:11

Al-Haaqqa · from ayah 11

69:11

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِ ۟ۙاِنَّا لَمَّا طَغَا الۡمَآءُ حَمَلۡنٰكُمۡ فِى الۡجَارِيَةِ ۙ‏

جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں) کو کشتی میں سوار کرلیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, when the water overflowed, We carried your ancestors in the sailing ship

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Haaqqa

All translations of 69:11

جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں) کو کشتی میں سوار کرلیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھا ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک جب (طوفانِ نوح کا) پانی حد سے گزر گیا تو ہم نے تمہیں رواں کشتی میں سوار کر لیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کرگیا، تمہیں کشتی میں سوار کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب پانی کا طوفان حد سے بڑھا تو ہم نے ہی تمہیں کشتی میں سوار کردیا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب پانی حد سے گزر گیا تو ہم ہی نے تم کو کشتی میں سوار کر ایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ ہم ہی نے سوار کیا تھا تم کو (اپنی رحمت و عنایت سے نوح کی) اس کشتی میں جبکہ (طوفان کا) پانی کر اس کر گیا تھا سب حدوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

ہم ہی نے جب کہ پانی میں طغیانی ہوئی تمہیں کشتی میں سوار کیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جب (سیلابِ نوح ؑ کا) پانی طغیانی پر آیا تھا تو ہم نے تمہیں سوار کرا لیا تھا کشتی پر۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم لوگوں کو کشتی پر سوار کرلیا

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily when the water rose to great heights, We bore you upon a floating vessel (i.e. the Ark)

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When the water overflowed (in the Deluge of NuH) , We let you (O mankind,) board the floating ship,

— Muhammad Taqi Usmani

When the water overflowed (in the Deluge of NuH) , We let you (O mankind,) board the floating ship,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the ship.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! when the waters rose, We carried you upon the ship

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, when the water overflowed, We carried your ancestors in the sailing ship

— Saheeh International

When the flood rose high and covered the whole land, We carried you in the Ark.

— Muhammad Sarwar

Surely We bore you up in the ship when the water rose high,

— Muhammad Habib Shakir

Verily We! when the water rose, We bare you upon the traversing ark.

— Abdul Majid Daryabadi

We, when the water (of Noah's Flood) overflowed beyond its limits, carried you (mankind), in the floating (Ark),

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 69:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–12

حاقہ قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لئے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا تم اس حاقہ کی صحیح کیفیت سے بیخبر ہو، پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑے اور کلیجوں کو پاش پاش کردینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہ وبالا ہوجاتے ہیں، پس بقول حضرت قتادہ (طاغیہ) کے معنی چنگھاڑ کے ہیں، اور مجاہد فرماتے ہیں اسے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کردیئے گئے، ربیع بن انس اور ابن زید کا قول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحَآقَّة 7 اشارہ ہے طوفان نوح کی طرح جس میں ایک پوری قوم اسی خطائے عظیم کی بنا پر غرق کردی گئی اور صرف وہ لوگ بچا لیے گئے جنہوں نے اللہ کے رسول کی بات مان لی تھی۔ سورة الْحَآقَّة 8 اگرچہ کشتی میں سوار وہ لوگ کیے گئے تھے جو ہزاروں برس پہلے گزر چکے تھے، لیکن چونکہ بعد کی پوری انسانی نسل انہی لوگوں کی اولاد ہے جو اس وقت طوفان سے بچائے گئے تھے، اس لیے فرمایا کہ ہم نے تم کو کشتی میں سوار کرا دیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم آج دنیا میں اسی لیے موجود ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس طوفان میں صرف منکرین کو غرق کیا تھا، اور ایمان لانے والوں کو بچا لیا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–12

سَبْعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ ، بعض روایات میں ہے کہ بدھ کی صبح سے یہ آندھی کا عذاب شروع ہو کر دوسرے بدھ کی شام تک رہا اس طرح دن تو آٹھ ہوگئے اور راتیں سات آئیں۔ حسوماً حاسم کی جمع ہے جس کے معنی قطع کرنے اور استیصال کرنے یعنی بالکل فنا کردینے والے کے ہیں وَالْمُؤْتَفِكٰت۔ کے معنے باہم مختلط اور ملے جلے کے ہیں۔ حضرت لوط ؑ کی بستیوں کو مؤتفکات یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سب آپس میں ملی ہوئی بستیاں تھیں اور یا اس لئے کہ عذاب آنے کے وقت جب ان کا تختہ الٹا گیا تو سب گڈ مڈ ہوگئیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قوم نوح کی طرف اشارہ: یہ آخر میں قوم نوح کے واقعہ کی طرف بھی اشارہ فرما دیا جو مذکورہ واقعات سے بھی پہلے پیش آ چکا تھا۔ گویا اس طرح بالاجمال رسولوں کی پوری تاریخ مخاطب کے سامنے آ گئی۔ اس واقعہ کے ذکر کا انداز مخاطب (قریش) پر امتنان و اظہار احسان کا ہے۔ ان کو یاددہانی فرمائی گئی ہے کہ تم جن اسلاف کے اخلاف ہو ان کو ہم ہی نے اپنے فضل سے نوح کی کشتی میں پناہ دی۔ اس پناہ کے مستحق وہ اس وجہ سے ٹھہرے کہ وہ اللہ کے رسول۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام۔۔۔ پر ایمان لائے۔ اگر وہ ایمان نہ لائے ہوتے تو وہ بھی اسی طرح غرق کر دیے گئے ہوتے جس طرح ان کی پوری قوم غرق کر دی گئی۔ جب تم انہی کے اخلاف ہو تو ہمارا یہ احسان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 یعنی پانی بلندی میں تجاوز کر گیا، یعنی پانی خوب چڑھ گیا۔ 11۔ 2 کُم سے مخاطب عہد رسالت کے لوگ ہیں، مطلب ہے کہ تم جن آبا کی پشتوں سے ہو، ہم نے انہیں کشتی میں سوار کرکے بپھرے ہوئے پانی سے بچایا تھا۔ اَلْجَارِیَۃ سے مراد سفینہ نوح ؑ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–18

5: اس سے مراد اس طوفان کا پانی ہے جو حضرت نوع ؑ کی قوم پر عذاب کے طور پر بھیجا گیا تھا، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حضرت نوح ؑ پر ایمان لے آئے تھے، انہیں پانی کی طغیانی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی میں سوار کردیا جس کا مفصل واقعہ سورة ہود : 36 تا 48 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–11

فرعون مصر میں تھا۔ یہ حضرت موسیٰ کے دور کا فرعون تھا۔ اس سے قبل اس کی تفصیلات نہیں آئیں۔ الموتفکت سے وہ بستیاں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں ، تباہ ہوئیں ، تلپٹ ہوئیں۔ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں تھیں ، جن کو ہلاک کیا گیا اور یوں کہ انہیں الٹ دیا گیا ۔ لفظ موتفکت کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں آتی ہیں۔ ان سب لوگوں کے کام اور بدعملی کو الخاطئہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی انہوں نے غلط فعل کا ارتکاب کیا۔ یہ الخطیئة سے ماخوذ ہے یعنی عظیم غلطی۔ یہاں فعصوارسول ربھم (96 : 01) ” ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی “۔ حالانکہ انہوں نے کئی رسولوں کی بات نہ مانی تھی۔ ایک رسول نہ تھا لیکن اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 11–12

2 یعنی نوح کے زمانہ میں جب پانی کا طوفان آیا تو بظاہر اسباب تم انسانوں میں سے کوئی بھی نہ بچ سکتا تھا۔ یہ ہماری قدرت و حکمت اور انعام و احسان تھا کہ سب منکروں کو غرق کر کے نوح کو مع اس کے ساتھیوں کے بچا لیا۔ بھلا ایسے عظیم الشان طوفان میں ایک کشتی کے سلامت رہنے کی کیا توقع ہوسکتی تھی۔ لیکن ہم نے اپنے قدرت و حکمت کا کرشمہ دکھلایا۔ تاکہ لوگ رہتی دنیا تک اس واقعہ کو یاد رکھیں اور جو کان کوئی معقول بات سن کر سمجھتے اور محفوظ رکھتے ہیں وہ کبھی نہ بھولیں کہ اللہ کا ہم پر ایک زمانہ میں یہ احسان ہوا ہے اور سمجھیں کہ جس طرح دنیا کے ہنگامہ داروگیر میں فرمانبرداروں کو نافرمان مجرموں سے علیحدہ رکھا جاتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 1 { اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآئُ حَمَلْنٰـکُمْ فِی الْْجَارِیَۃِ۔ } ”جب سیلابِ نوح علیہ السلام کا پانی طغیانی پر آیا تھا تو ہم نے تمہیں سوار کرا لیا تھا کشتی پر۔“ اس سیلاب کے بعد نوع انسانی کی نسل حضرت نوح علیہ السلام کے انہی تین بیٹوں سے چلی جو اس کشتی میں سوار تھے ‘ اس لیے آیت کے اسلوب سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے پوری نوع انسانی کشتی میں سوار تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 اس آیت میں طوفان سے مراد طوفان نوح ہے۔ اور تمہیں سے مراد وہ تمام بنی نوع انسان ہیں۔ جو دنیا میں اس وقت آباد تھے اور یہ ان لوگوں کی ہی اولاد ہیں جنہیں طوفان نوح کے وقت کشتی میں سوار کرلیا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–12

5۔ یعنی سننے والوں کو چاہیے کہ عبرت کے کانوں سے اس واقعہ کو سنیں اور اسے یاد رکھ کر موجبات عقوبت سے بچیں۔ (آیت) ” انا ... الجاریۃ “۔ اشارۃ واقعہ طوفان نوح کی جانب ہے۔ (آیت) ” جعلنکم “۔ ضمیر جمع مخاطب سے مراد موجودہ نسل مخاطبین کے اسلاف ہیں۔ (آیت) ” لنجعلھا “۔ ضمیر ھا اس واقعہ غرقابی کی طرف راجع ہے جو مخاطبین کو خوب اچھی طرح معلوم تھا، گویہاں مذکور نہ ہو ایسے موقع پر محض ضمیر سے کام لینا عربی اسلوب بیان کے عین مطابق ہے۔ قال الزجاج انہ عائد لای الواقعۃ التیھی معلومۃ وان کانت ھھنا غیر مذکورۃ (کبیر) الضمیر للفعلۃ وھی نجاۃ ال مومنین واغراق الکفرۃ (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–16

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما لما طغی الماءُ . یعنی حضرت نوح کے زمانہ میں پانی حد سے گزر گیا اور ہر چیز سے اونچا ہوگیا تھا۔ حملنکم فی الجاریۃ . تو ہم نے تمہارے آباء و اجداد کو نوح کی کشتی میں جو پانی میں چل رہی تھی سو ار کردیا اس وقت تم اپنے اسلاف اعلیٰ کی پشتوں میں تھے (تو گویا تم کو سوار کردیا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–12

(11۔ 12) اور ہم نے جبکہ نوح کے وقت میں پانی کو طغیانی ہوئی تو اے محمد تم کو اور تمام مخلوقات کو جو کہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، نوح کی کشتی میں سوار کیا تاکہ ہم اس کشتی کو یا اس واقعہ کو تمہارے لیے ایک عبرت بنا دیں جس سے تم نصیحت حاصل کرسکو اور یاد رکھنے والے دل اس کو محفوظ رکھیں یا یہ کہ سننے والے کان اس کو سن کر اس سے فائدہ حاصل کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(انا لما طغا المآئ…: نوح ؑ کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کا ذکر کیا ہے، فرمایا نوح ؑ کی قوم کے کفر و شرک پر اصرار کی وجہ سے سے جب پانی اتنا بڑھا کہ عام حدوں سے کہیں اونچا ہوگیا تو ہمیں تھے جنہوں نے تمہیں اس ہلے ہی کشتی میں سوار کرلیا اور پھر اتنے بےحساب پانی میں اس کشتی کو محفوظ رکھا، ورنہ اس طوفان سے بچنے کی کوئی صورت نہ تھی۔ یہاں اگرچہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد کے زمانے کے لوگوں سے خطاب ہو رہا ہے ، مگر مراد یہی ہے کہ تمہارے آباء کو سوار کیا، وہ سوار ہوئے تو تم بھی سوار ہوئے، کیونکہ تم ان کی پشتوں میں تھے۔ اگر وہ اس کشتی میں سوار ہو کر طوفان سے نجات نہ پاتے تو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–12

ان لما طغا المآء جب پانی بلند ہوگیا۔ حضرت علی شیرخ دا نے کہا، پانی سے اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کی وجہ سے فرشتوں میں سے خازنوں پر سرکش ہوگیا (2) وہ خزان اسے قابو رکھنے پر قادر نہ ہوئے۔ قتادہ نے کہا، ہر چیز پر پندرہ ہاتھ بلند ہوگیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں پانی اپنے خازنوں پر سرکش ہوگیا، وہ ان پر بہت زیادہ ہوگیا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کتنا پانی نکلا۔ اس سے قبل اور اس کے بعد کوئی قطرہ نازل نہیں ہوتا مگر معلوم پیمانہ کے ساتھ نازل ہوتا صرف اس دن ایسی صورت نہ تھی۔ سورت کے آغاز میں مرفوع حدیث گزر چکی ہے۔ ان امتوں کے واقعات کے ذکر کرنے کا مقصود اور جو عذاب ان پر آئے،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

25۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت انا الما طغا الماء یعنی کہ پانی اپنے ذمہ دار فرشتوں پر غالب آگیا اور نازل ہوا حالانکہ آسمان سے کوئی پانی نہیں نازل ہوا۔ مگر پیمانے اور وزن کے ساتھ سوائے نوح (علیہ السلام) کے زمانہ کے کیونکہ وہ اپنے اوپر مقرر فرشتوں پر غالب آگیا اس لیے وہ بغیر وزن اور کیل کے نازل ہوا۔ 26۔ ابن المنذر وابو شیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آسمان سے کبھی کوئی قطرہ نازل نہیں ہوتا مگر ذمہ دار فرشتوں کے علم سے مگر اس وقت جب کہ پانی غالب آگیا کیونکہ وہ اس وقت غضب میں تھا اللہ کے غضب کی وجہ سے پس وہ ذمہ دار فرشتوں پر غالب آگیا۔ اور وہ نکلا اتنی مقدار…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِنَّا لَمَّا : بیشک ہم نے، اس وقت جب ][ طَغَا الْمَاۗءُ : جوش میں آیا پانی ][ حَمَلْنٰكُمْ : سوار کیا تم لوگوں کو ][ فِي الْجَارِيَةِ : اس جاری ہونے والی (کشتی) میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا ذکر : ﴿ اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِۙ0011﴾ (بلاشبہ جب پانی میں طغیانی آئی تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا) اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا تذکرہ ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشی میں مومنین سوار ہوگئے تھے جن کی تھوڑی سی تعداد تھی پھر انہی سے دنیا میں آبادی بڑھی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل پھلی پھولی، نزول قرآن کے وقت جو لوگ موجود تھے اور جواب موجود ہیں مومن ہوں یا کافر سب انہی لوگوں کی نسل ہیں جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر نجات پا گئے چونکہ ان لوگوں کا وجود ان لوگوں کی نجات سے متعلق ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–37

ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔ ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 11–12

6:۔ ” انا لما طغا الماء “ یہ تخویف دنیوی کا پانچواں نمونہ ہے۔ ” طغا الماء “ یعنی اپنی حد معتاد سے تجاوز کرگیا یہاں تک کہ اونچے اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی کئی گز اوپر چڑھ گیا۔ جواز حد المعتاد حتی انہ علا علی اعلی جبل خمس عشرۃ ذراعا (روح ج 9 ص 42) ۔ مراد طوفان نوح (علیہ السلام) ہے۔ ” حملناکم “ میں تجوز ہے یعنی تمہارے آباء و اجداد کو کشتی میں اٹھایا اور تم ان کی صلبوں میں تھے۔ حملناکم ای فی اصلاب آباء کم فی الجاریۃ (بحر ج 8 ص 322) ۔ واللفظ لہ بیضاوی ج 2 ص 394 ۔ ہم نے طوفان نوح میں تمام مشرکین کو غرق کردیا اور تمہارے باپ دادوں کو کشتی نوح میں سوار کر کے طوفان سے بچا لیا تاکہ ہم اس واقعہ کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–12

کوائف سورة : اس سورة کا نام سورة لحاقہ ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی باون آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة دو سوچھپن کلمات اور ایک ہزار چار سو اسی حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ : سابقہ سورة میں رسالت کا ذکر تھا۔ اللہ کے بنی اور رسول کو مجنون کہنے والوں کا رد تھا۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ یہ محض امتحان کے لیے ہیں کسی کی مقبولیت کی نشانی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ باغ والوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ نے ان کا بھی امتحان لیا تھا۔ اس کے علاوہ منکرین قیامت کا رد فرمایا۔ اور انکے ساتھ آخرت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر فرمایا آخر میں پھر رسالت کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَۃِ۝ 11 ۙ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–12

ترکیب : من موصلۃ قبلہ قراء الجمہور بفتح القاف و سکون الباء ای ومن حقدومن الامم و قراء ابوعمرو و عاصم والکسائی بکسر القاف وفتح الباء معناہ من جہتہ وطرفہ وعلی الوجہین ھو صلۃ والمجموع معطوف علی فرعون وھو فاعل جاء و۔ المؤتفکات معطوف علیہ بالخاطئۃ مفعول جاء و ‘ الباء للتعدیۃ والخاطئۃ امامصدر کالحظاء واما الفعلۃ ای بالفعلۃ الخاطئۃ رسول ربہم مفعول عصوا ای عصیٰ کلواحد رسول ربہ اخذۃً مفعول مطلق رابیۃً صفۃ من ربا الشیء اذا زاد انا مبتداء حملنا کم خبرہ فی الجاریۃ حال من مفعولہ اذ فی متعلقہ بمحذوف لیست بصلۃ للحمل لماطغا الماء ظرف لحملنا دخلت بین المبتداء وخبرہ لنجعلہا واللام متعلقہ بمحذوف ای…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–12

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَـآئُ حَمَلْنٰـکُمْ فِی الْجَارِیَۃِ ۔ لِنَجْعَلَھَا لَـکُمْ تَذْکِرَۃً وَّ تَعِیَھَـآ اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 11، 12) (اور جب پانی حد سے گزر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کردیا۔ تاکہ ہم اس واقعہ کو تمہارے لیے ایک درس موعظت بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں۔ ) طوفانِ نوح سے بچ جانے والوں کا تذکرہ قومِ عاد وثمود اور فرعون اور قوم لوط کے انجام سے عبرت دلانے کے بعد اب ایسے واقعہ کا ذکر کیا جارہا ہے جو متذکرہ بالا قوموں کے واقعات سے بہت پہلے کا ہے، یعنی اس سے مراد طوفانِ نوح اور اس میں پیش آنے والے واقعات ہیں۔ اس طرح سے پروردگار نے رسولوں کی پوری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–12

فہم القرآن ربط کلام : قوم ثمود، عاد اور فرعون سے پہلے ہلاک ہونے والی بستیوں اوراقوام میں سرفہرست نوح (علیہ السلام) کی قوم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے شدید طوفان کے ذریعے ہلاک کیا جس کا یہاں مختصر ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے جرائم میں جس جرم کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ شرک ہے جس کی ابتدا اس قوم سے ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کی وجہ سے اس قوم کو سیلاب کے ذریعے ہلاک کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو ایک کشتی کے ذریعے سیلاب سے محفوظ فرما لیا۔ جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا جارہا ہے کہ جب پانی کا طوفان حد سے بڑھا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا تاکہ ہم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

طوفانِ نوح : 1 1 : اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآ ئُ (ہم نے جبکہ پانی کو طغیانی ہوئی) وہ پانی طوفان کے وقت دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیوں سے پندرہ ہاتھ بلند ہوگیا۔ حَمَلْنٰکُمْ (ہم نے سوار کیا) تمہارے آباء و اجداد کو فِی الْجَارِیَۃِ (کشتی میں) نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” فعصوا رسول ربھم “ یعنی لوط اور موسیٰ (علیہما السلام) ” فاخذھم اخذۃ رابیۃ “ بڑھنے والا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سخت۔ اور کہا گیا ہے امتوں کے عذاب پر زائد۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–12

1۔ 12۔ قیامت کی جس سزا و جزا کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے قیامت کے دن وہ سزا و جزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونا مان لیں گے اس لئے قیامت کا نام حاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا و جزا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے تاکہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اللہ کے حکم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

منجملہ ان قوموں کے نوح کی قوم بھی تھی جن کو اللہ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین میں پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہوگیا۔ حضرت نوح کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا (فی الجاریۃ) ۔ کشتی میں جب کہ یہ اپنے باپوں اور ماؤں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرو، اس کا شکر کرو جس نے تمہیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کرڈالا اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

11 قوم نوح کے ہولناک انجام کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور بلاشبہ ہم نے تم لوگوں کو سوار کیا اس کشتی میں جو حضرت نوح نے بنائی تھی۔ سو تم لوگوں کو اس میں سوار کیا یعنی تمہارے ان باپ دادا کو جن کی نسل سے تم لوگ ہو ‘ پس اس عظیم انعام کو یاد کرکے تم لوگ اپنے جد امجد حضرت نوح کی طرح سچے دل سے اپنے رب کے حضور جھک جاؤ ‘ اور اس کے شکر گزار بن جاؤ۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ذریۃ من حملنا مع نوح انہ کان عبداً شکوراً (بنی اسرائیل : 3) یعنی اے اولاد ان لوگوں کی جن کو ہم نے سوار کیا نوح کے ساتھ بلاشبہ وہ بڑے ہی شکر گزار بندے تھے۔ سو یہاں سے معلوم ہوا کہ باپ دادا پر کیا ہوا انعام و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

قیامت کی خوفناک خبر کے منکرین کا انجام تشریح :۔ جیسا کہ ترجمہ سے مطلب واضح ہو رہا ہے کہ قیامت کا آنا بالکل ضروری لازم ہے اور وہ بڑا ہی سخت پریشان کن اور تباہ کن واقعہ ہوگا۔ تو اس بات پر ثمود عاد قوم نوح (علیہ السلام) قوم لوط اور قوم فرعون نے یقین نہ کیا اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور برے کاموں میں غرق ہو کر موت اور آخرت کو قیامت کو بالکل بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے شدید عذاب بھیجے کہ وہ بالکل نیست و نابود ہوگئے تو ان کی تباہی کو دیکھو ” پڑھو اور سنو تو تمہیں یقین آجائے گا کہ قیامت کیسی ہوگی اور قیامت کے منکرین کا کیا حال دنیا میں ہوا اور کیا حال آخرت میں ہوگا۔ اصل میں مسلمان کے یہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–37

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(69:11) انا لما طغی المائ : انا مبتدائ۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔ تحقیق ہم نے۔ تحقیق ہم۔ حملنکم مبتداء کی خبر۔ لما طغی الماء ظرف حملنکم کا۔ فی الجاریۃ ای فی سفینۃ نوح علیہ السلام۔ لما بمعنی جب۔ طغی ماضی واحد مذکر غائب۔ طغیان باب نصر و سمع) مصدر سے وہ حد سے نکل گیا۔ (جب نگاہ اپنی حد سے گزر جاتی ہے تو بہکنے لگتی ہے اور جب پانی اپنی حد سے متجاوز ہوتا ہے تو طغیانی آجاتی ہے) یہاں مراد ہے : جب پانی ہر چیز سے اونچا ہوگیا تھا۔ الجاریۃ۔ کشتی۔ ترجمہ ہوگا :۔ جب پانی حد سے گزر گیا تھا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کرلیا تھا۔ فائدہ : حملنکم میں کم ضمیر جمع مذکر حاضر ہے اس سے مراد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–52

لغات القرآن۔ الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں) رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔ دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–12

(ف 1) قیامت کی جس سزا وجزا کا ذکر قرآن مجید وحدیث شریف میں ہے قیامت کے دن وہ سزا وجزا سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور پھر اس کا کوئی منکر باقی نہ رہے گا سب اس کا حق ہونامان لیویں گے اسی لیے قیامت کا نام ھاقہ ہے جس کے معنی حق ثابت ہونے والی ، حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک جتنی قوموں نے قیامت کی سزا اور جزا اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور اس جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں ہلاک ہوئی تھیں ان سب کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہ قصے اس بات کی ایک یادگار اور نصیحت ہوجائیں کہ اب بھی جو لوگ ان لوگوں کے سے کام کریں گے قیامت کو قیامت کے عذاب کو اللہ کے رسول کو جھٹلائیں گے اور اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 11–12

[6] اشارہ ہے طوفان نوح کی طرف۔ [7] اگرچہ کشتی میں نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی سوار ہوئے تھے لیکن کیونکہ بعد کی پوری انسانی نسل انہیں لوگوں سے چلی اس لئے فرمایا کہ ہم نے تم کو کشتی میں سوار کردیا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–12

ف 2: ان آیات میں یہ قانون واضح فرمایا ہے ۔ کہ کوئی قوم زندگی کا اس وقت تک استحقاق نہیں رکھتی ۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کی اطاعت نہ کرے ۔ اور اپنی خواہشات کو اس کے ارادہ اور منسا کے تابع نہ کردے ۔ کیونکہ مقدرات میں سے ہے ۔ کہ کوئی نفس اس سرچشمہ حیات وور سے الگ رہ کر اپنی انفرادیت باقی نہیں رکھ سکتا ۔ چناچہ جب کسی قوم نے اس اصول کو نہیں سمجھا ۔ اور اللہ کے حکموں کی پرواہ نہیں کی ۔ اس کا غصہ بھڑکا ۔ اور اس کو زندگی سے محروم کردیا ۔ ثمود وحاد کی قوم مٹادی گئی ۔ فرعون اور اس کا لاؤ لشکر قلزم میں اپنی عزت و حکمت سمیت ڈبودیا گیا ۔ قوم لوط کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور اسی طرح جب بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) ہم نے جس وقت پائی کو حد معتاد سے اونچا کردیا یعنی طوفان کے وقت تو تم کو کشتی میں سوار کرلیا یعنی تمارے بڑوں اور بزرگوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور ان کی قوم پر طوفان آیا اور طوفان کا پانی بلند ہونا شروع ہوا توہم نے تمہارے سے بزرگوں کو جو مسلمان تھے اور نوح (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے ان کو کشتی میں سوار کرلیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب پانی میں طغیانی آئی تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا 11 ؎ قوم فرعون اور اس سے پہلی قوموں کی طرف اشارہ کیا تھا اور پہلی قوموں کے بعض ناموں کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ اب قوم نوح کا ذکر اشارتاً کیا گیا ہے کیونکہ طغیانی جو آئی تھی وہ نوح (علیہ السلام) ہی کی قوم پر آئی تھی اور نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے لوگوں کے لئے جو کشتی تیار کروائی گئی تھی اس کشتی پر ان کو سوار کر کے اس طوفان سے بچالیا گیا تھا اور زیر نظر آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–12

سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ (seven nights and eight consecutive days'... 69:7). According to some of the narratives, the punishment of windstorm started on Wednesday morning, and lasted till the following Wednesday evening. In this way, it makes up eight days and seven nights. The word husuman (in verse 7) is the plural of hasim and means 'cutting them off entirely' or 'causing them to perish completely'. The word مُؤْتَفِكَاتُ mu'tafikat (in verse 9) means 'adjacent to one another'. The towns of Sayyidna Lut Sodom and Gomorrah, are so called because they were adjacent to each…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 The illusion is to the Deluge of the Prophet Noah, in which a whole nation was drowned because of this very crime, and only those people were saved, who had listened to and obeyed the Messenger of Allah. 8 "We boarded you...", because the whole human race that exists today has descended from the people who were boarded in the Ark thousands of years ago and thus saved from the Deluge. It means: "You exist in the world today because in that Deluge Allah had caused only the infidels to be drowned and had saved the believers.

Read the full tafseer →