Explained with ayahs 13–18
آواز کا بم صور اسرافیل
قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہوگا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے پھر نفخہ پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہوجائے گی مگر جسے اللہ چاہے پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوجائے گی یہاں اسی پہلے نفخہ کا بیان ہے۔ یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا نفخہ ایک ہی ہے اس لئے کہ جب اللہ کا حکم ہوگیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہوسکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی، امام ربیع فرماتے ہیں اس سے مراد آخری نفخہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
سورة الْحَآقَّة 10
آگے آنے والی بات کو پڑھتے ہوئے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ قرآن مجید میں کہیں تو قیامت کے تین مراحل الگ الگ بیان کیے گئے ہیں جو یکے بعد دیگرے مختلف اوقات میں پیش آئیں گے، اور کہیں سب کو سمیٹ کر پہلے مرحلے سے آخری مرحلے تک کے واقعات کو یکجا بیان کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورة نمل آیت 87 میں پہلے نفخ صور کا ذکر کیا گیا ہے جب تمام دنیا کے انسان یک لخت ایک ہولناک آواز سے گھبرا اٹھیں گے۔ اس وقت نظام عالم کے درہم برہم ہونے کی وہ کیفیات ان کی آنکھوں کے سامنے پیش آئیں گی جو سورة حج آیات 1۔ 2، سورة یٰسین آیات 49۔ 50 اور سورة تکویر آیات 1۔ 6 میں بیان ہوئی ہیں۔ سورة زمر آیات 67…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(آیت) فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمر کی مرفوع حدیث ہے کہ صور کوئی سینگ (کی شکل کی کوئی چیز) ہے جس میں قیامت کے روز پھونکا جائے گا۔
نفختہ واحدة سے مراد یہ ہے کہ یکبارگی اچانک یہ صورت کی آواز ہوگی اور ایک آواز مسلسل رہے گی یہاں تک کہ اس آواز سے سب مر جائیں گے۔ قرآن و سنت کی نصوص سے قیامت میں صور کے دو نفخے ہونا ثابت ہیں پہلے نفخہ کو نفخہ صعق کہا جاتا ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں (آیت) فصعق من فی السموت ومن فی الارض ہے یعنی اس نفخہ سے تمام آسمان والے فرشتے اور زمین پر بسنے والے جن وانس اور تمام جانور بیہوش ہوجائیں گے (پھر اسی بیہوشی میں سب کو موت…
Read the full tafseer →دنیا کے عذاب آخرت کے عذاب کی شہادت ہیں:
عذاب کے تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد یہ ظہور قیامت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح قوموں پر عذاب لانے کے لیے ہمیں کوئی خاص اہتمام نہیں کرنا پڑا بلکہ جب چاہا چشم زدن میں عذاب آ گیا اسی طرح قیامت کے لانے کے لیے بھی ہمیں کوئی تیاری نہیں کرنی پڑے گی۔ بلکہ صُور میں صرف ایک پھونک ماری جائے گی جس سے قیامت کی ہلچل برپا ہو جائے گی۔
Read the full tafseer →13۔ 1 مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد اب بتلایا جارہا ہے کہ یہ الحاقہ کس طرح واقع ہوگی اسرافیل کی ایک ہی پھونک سے یہ برپا ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
5: اس سے مراد اس طوفان کا پانی ہے جو حضرت نوع ؑ کی قوم پر عذاب کے طور پر بھیجا گیا تھا، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حضرت نوح ؑ پر ایمان لے آئے تھے، انہیں پانی کی طغیانی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی میں سوار کردیا جس کا مفصل واقعہ سورة ہود : 36 تا 48 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →ہمارا ایمان ہے کہ ایک دن صور پھونکا جائے گا اور اس کے بعد پھر علی الترتیب یہ واقعات ہوں گے۔ ان واقعات کی تفصیلات اور ان کی کیفیات کو ہم یہاں قلم بند نہیں کرسکتے۔ کیونکہ یہ واقعات عالم غیب میں ہونے والے ہیں۔ اور ہمارے پاس چونکہ یہ آیات ہی ہیں جو مجمل ہیں اور کوئی ذریعہ ایسا نہیں ہے جس میں تفصیلات دی گئی ہوں۔ اور ان نصوص میں اگر تفصیلات دے بھی دی جاتیں تو اصل مقصد جو یہاں دینا مقصود تھا ، اس میں کوئی اضافہ نہ ہوتا تھا۔ لہٰذا ان تفصیلات کے پیچھے پڑنا ایک عبث بات ہے۔ محض ظنوں اور قیاسات سے شریعت نے منع کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
3 یعنی صور پھنکنے کے ساتھ زمین اور پہاڑ اپنے حِیّز کو چھوڑ دیں گے اور سب کو کوٹ پیٹ کر ایک دم ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ بس وہ ہی وقت ہے قیامت کے ہو پڑنے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
آیت 13 { فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ } ”تو جب صور میں پھونکا جائے گا یکبارگی۔“
یعنی اس وقت کو یاد رکھو جب ایک ہی بار صور میں پھونک مار دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
9 طوفان نوح اور کشتی :۔ یعنی طوفان کا یہ حال تھا کہ پانی کی اتنی کثیر مقدار جمع ہوگئی تھی کہ پہاڑ تک اس طوفان میں ڈوب گئے تھے۔ اتنے مہیب طوفان کے مقابلہ میں ایک کشتی کی بھلا حقیقت ہی کیا تھی جو اس طوفان کے تھپیڑوں کا مقابلہ کرسکتی۔ خصوصاً جب کہ اس میں سوار لوگوں کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان کی منزل مقصود کس سمت کو ہے ؟ ظاہری اسباب پر انحصار کیا جائے تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ نہ اس کشتی کے بچنے کی کوئی صورت تھی اور نہ اس میں سوار انسانوں کی۔ یہ ہماری قدرت اور ہمارا احسان ہی تھا کہ اس کشتی کے ذریعہ ہم نے اپنے فرمانبرداروں کو بچا لیا اور لوگوں کو اپنی قدرت و حکمت کا ایسا کرشمہ دکھا دیا کہ رہتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
6۔ (جس وقت آسمان پھٹنا شروع ہوگا) ذکر ان فرشتوں کا ہے جو آسمان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” وحملت الارض واجبال “۔ یعنی اپنے اپنے مقام وحیز سے یہ چیزیں ہٹادی جائیں گی، ذکر قیامت کے نفخہ اول کا چل رہا ہے۔ (آیت) ” والملک “۔ ملک۔ یہاں بطور اسم جنس آیا ہے۔ سورة مفرد ومعنی جمع۔ للجنس بمعنی الجمع (مدارک) لم یردبہ ملکا واحد بل ارادالجنس والجمع (کبیر)
7۔ (جیسا کہ اس وقت چار اٹھائے ہوئے ہیں) عرش الہی کی کیفیت یا ماہیت اور اس کی تفصیلات سب علم و شعور انسانی کی موجودہ سطح سے بالاتر ہیں اس لئے بجز اجمالی بیان سن لینے اور اس کی اجمالی تصدیق کردینے کے بندوں کے لئے کوئی چارہ نہیں۔ البتہ محققین نے لکھا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، برپا ہونے والی، قیامت، کہ جس میں وہ چیز ثابت ہوگی جس کا انکار کیا گیا ہے، یعنی بعث اور حساب اور جزاء یا ان (مذکورہ) چیزوں کو ظاہر کرنے والی، کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی ؟ یہ اس کی عظمت شان کا بیان ہے (ما الحاقۃ) مبتداو خبر ہے اور مبتدا خبر سے مل کر اول حاقہ کی خبر ہے اور آپ ﷺ کو کیا خبر کہ کیسی کچھ ہے وہ برپا ہونے والی چیز ؟ یہ بھی اس کی عظمت شان کی زیادتی کا بیان ہے (ما اولی (یعنی ما ادراک) میں ما مبتداء ہے اور اس کا مابعد (یعنی ادراک) اس کی خبر ہے ثمود اور عاد نے کھڑکھڑا دینے والی قیامت کو جھٹلایا قیامت کو قارعہ اس لئے…
Read the full tafseer →فاذا نفخ فی الصور . حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے ‘ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : صور ایک سینگ ہوگا ‘ جس میں پھونکا جائیگا۔
نفخۃ واحدۃ . جب صور میں ایک بار پھونک ‘ پھونکی جائے گی۔ اس سے مراد نفخۂ بیہوشی ہے یعنی وہ نفخ جس
کی آوازسن کر ہر زندہ بیہوش ہوجائے گا (اور مرجائے گا) ۔
کتنی مرتبہ صور پھونکا جائے گا ‘ تعداد میں علما کا اختلاف ہے۔ بعض کا قول ہے تین بار نفخ صور ہوگا :
1) نفخہ فزع : (جس کو سن کر سب گھبرا جائیں گے) ۔
2) نفخہ صعق : (جس کو سن کر سب بیہوش ہوجائیں گے اور مرجائیں گے) ۔
3) نفخہ بعث : (جس کو سن کر سب جی اٹھیں گے) ۔
اللہ نے (نفخہ فزع کے متعلق) فرمایا : و یوم ینفخ فی الصور ففزع من فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(13۔ 14) اور پھر جب صور میں ایک ہی بار پھونک مار دی جائے گی یعنی نفخہ اولی ہوگا تو اس وقت زمین پر جو عمارتیں اور پہاڑ ہیں وہ اپنی جگہ سے اٹھائے جائیں گے پھر دونوں ایک ہی دفعہ میں ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فاذا نفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ…: قرآن مجید میں بعض مقامات پر پہلے نفخہ کے وقت پیش آنے والے واقعات ذکر کئے گئے ہیں، بعض پر دوسرے نفخہ کے وقتا ور بعض مقامات پر انہیں اکٹھا ہی ذکر کردیا گیا ہے۔ ان آیات میں بھی پہلے نفخہ سے لے کر دوسرے نفخہ کے بعد تک کے حالات بیان ہوئے ہیں، زمین اور پہاڑوں کے ٹوٹنے کا سلسلہ تو پہلے نفخہ کے وقت کا ہے اور آسمان کا پھٹنا، فرشتوں کا اس کے کناروں پر ہونا، عرش الٰہی کو آٹھ فرشتوں کا اٹھائے ہوئے ہونا، اللہ تعالیٰ کا میدان محشر میں نزول فرمانا اور سب بندوں کا حساب کتاب کے لئے پیش کیا جانا، یہ سب کچھ دوسرے نفخہ کے بعد کا ہے۔
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس نے کہا، یہ قیامت کے برپا ہونے کے وقت پہلا نفخہ ہے (1) اس وقت ہر کوئی مر جائے گا۔ نفخ کو مذکر لانا بھی جائز ہے کیونکہ نفخہ کی تانیث غیر حقیقی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نفخہ سے مراد دوسرا نفخہ ہے۔ فرمایا : نفخۃ واحدۃ یعنی اس کو دوبارہ نہیں پھونکا جائے گا۔ اخفش نے کہا، فعل، نفخہ پر واقع ہوا کیونکہ اس سے پہلے کوئی اسم مرفوع نہیں تو اسے نفخۃ کہا۔ یہ بھی جائز ہے کہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے منصوب ہو۔ ابو سمال نے اسے یوں ہی پڑھا ہے یا کہا جاتا ہے، صرف فعل کے ساتھ خبر دینے پر اقتصار کیا گیا ہے جس طرح تو کہتا ہے : ضرب ضربا زجاج نے کہا، فی الصور نائب فاعل کے قائم مقام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
حضرت علی ؓ کی فضیلت
29۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت وتعیہا اذن واعیہ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ حضرت علی ؓ کے کان اس طرح بنادے، مکحول ؓ نے کہا کہ علی ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کوئی بات رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنی کہ میں اسے بھول گیا ہوں۔ یعنی میں کسی بات کو نہیں بھولا۔
30۔ ابن جریر وابن ابی حاتم واحدی وابن مردویہ وابن عساکر وابن مردویہ وابن عساکر وابن البخاری نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ کو قریب کروں اور تجھ کو…
Read the full tafseer →[فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ : پھر جب پھونکا جائے گا صور میں ][ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ: ایک ہی بار پھونکنا ]
ترکیب : (آیت۔ 13) آگے قیامت کے واقعات کا ذکر ہے اس لیے (دیکھیں آیت۔ 2:27، نوٹ۔ 3) اور بات اِذَا شرطیہ سے شروع ہوا ہی، اس لیے بھی آگے افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔ نُفِخَ کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے نَفْخَۃٌ حالت رفع میں ہے۔
نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیات کو پڑھتے ہوئے یہ بات ذہن میں ہونی چاہیے کہ قرآن مجید میں کہیں تو قیامت کے تین مراحل الگ الگ بیان کیے گئے ہیں جو یکے بعد دیگرے مختلف اوقات میں پیش آئیں گے۔ اور کہیں پہلے مرحلے سے آخری مرحلے تک کے واقعات کو سمیٹ کر یکجا بیان کردیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا، زمین اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے عرش الٰہی کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے
ان آیات میں روز قیامت کے مناظر ذکر فرمائے ہیں پہلے تو یوں فرمایا کہ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھا دیئے جائیں گے اور وہ دونوں ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی یعنی قیامت آجائے گی اور آسمان پھٹ پڑے گا سو وہ اس دن ضعیف ہوگا اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور آپ کے رب کے عرش کو اس دن اپنے اوپر آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا۔
مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ عرش کو آٹھ فرشتوں کا اٹھانا نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا اس کے بعد قیامت کے دن کی پیشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
ذکر احوال قیامت وبیان انجام مکذبین ومنکرین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الحآقۃ ماالحآقۃ ............. الی ........... الا الخاطؤن “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا موضوع بیان آنحضرت ﷺ کی رسالت کی عظمت وحقانیت کو ثابت کرتے ہوئے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وہ کس طرح ہلاک وتباہ ہوئے۔
ارشاد فرمایا وہ چمٹ جانے والی چیز کیا ہے وہ چمٹ جانے والی چیز اور اے مخاطب تو نے کیا سوچا کیا ہے وہ مسلط وہ جانے والی ؟ کسی کی سوچ اور فکر نہیں اندازہ کرسکتی کہ وہ مسلط ہوجانے والی چیز یعنی قیامت کی گھڑی جس کا وقوع علم الہی ازلی سے طے ہوچکا اس قدر ہیبت ناک اور عظیم ہے اور وہ بیشک واقع ہو کر رہنے والی ہے اور جب واقع ہوگی تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
7:۔ ” فاذا نفخ “ یہ تخویف اخروی ہے نفخہ سے نفخہ اولی مراد ہے جس میں سارا نظام کائنات درہم برہم ہوجائیگا یہی وہ قت ہے جب قیامت قائم ہوگی، زلزلہ قیامت اس قدر شدید ہوگا کہ زمین اور پہاڑ اپنی اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں گے اور قدرت الٰہیہ سے دونوں کو یکبارگی ایک زبردست جھٹکے سے ایک دوسرے پر اس شدت سے مار دیا جائیگا کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کوہ و دریا اور بحر و بر بالکل ہموار اور برابر ہوجائیں گے اور کہیں بلندی و پستی نظر نہیں آئے گی۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” فیذرھا قاعا صفصفا، لا تری فیھا عوجا ولا امتا “ (طہ رکوع 6) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
گزشتہ سے پیوستہ :
اس سورة کا موضوع جزائے عم ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ پہلی آیات میں کا ذکر فرمایا۔ چند گزشتہ اقوام کا ذکر کیا جو قیامت کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حاقہ واقع کیا اور یہ دو قسم سے وار ہوتا ہے۔ ایک ابتلا ہوتی ہے ، وقتی طور پر تکلیف آئی اور دور ہوگئی۔ اس کے بعد پھر موقع مل گیا۔ سز کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ مذکورہ اقوام کو اس دنیا میں ہی سزا ملی اور پھر اٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عالم برزخ میں سزا پا رہے ہیں۔ ان اقوام میں شرک و کفر تھا اور انکا رسالت بھی ، یہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ تو یہ قیامت کے جھٹلانے کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ دنیا میں ہی…
Read the full tafseer →فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ 13 ۙ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–37
ترکیب : نفتحہ واحدۃ بالرفع علی انھا مفعول مالم یسم فاعلہ من نفخ المجھول وانما حسن تذکیرا لفعل للفصل اوان التانیث غیرحقیقی و قریٔ بالنصب ان فی الصور مفعول مالم یسم فاعلہ ثم نصب نفتحہ علی انھا مفعول مطلق واحدۃ تاکید لھا۔ وحملت الارض الخ بالتخفیف و قریٔ
1 ؎ والقطوف قطف وھوالمقطوع ای الثمر ما اسلفتم ای قدتم من اعمالکم الصالحۃ الاسلاف تقدیم ما ترجوا ان یعود علیک بخیر فھو کالا قراض و منہ یقال اسلف فی کذا اذا قدم فیہ مالہ ذرعھا الخ صفۃ لسلسلۃ غسلین فعلین من الغسل ھو وماء یسیل من الجروح بعد الغسل من صدید قیح دوم 12 منہ
2 ؎ یالیتھا الضمیر یعودالی الموتۃ الاولی فانھا کالمذکورا والی الحالۃ التی شاھدھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ۔ وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَادَکَّۃً وَّاحِدَۃً ۔ فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ ۔ وَانْشَقَّتِ السَّمَـآئُ فَھِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاھِیَۃٌ۔ وَّالْمَلَکُ عَلٰٓی اَرْجَـآئِھَا ط وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ۔ (الحآقۃ : 13 تا 17)
(پس جب ایک ہی دفعہ صور میں پھونک ماری جائے گی۔ اور اٹھائے جائیں گے زمین اور پہاڑ، پھر پاش پاش کردیئے جائیں گے ایک ہی بار۔ اس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔ اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن پھس پھسا ہوجائے گا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے، اور آٹھ فرشتے اس روز آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
فہم القرآن
ربط کلام : قوم ثمود، قوم عاد اور آل فرعون کی ذلّت اور انجام ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ جو لوگ قرآن مجید کے بیان کردہ واقعات اور نصائح توجہ کے ساتھ سنتے ہیں انہیں اس دن سے پہلے نصیحت حاصل کرنی چاہیے جس دن ایک ہی دفعہ صور پھونکنے سے ہر چیز الٹ پلٹ ہوجائے گی اور اس دن مجرموں کو زنجیروں کے ساتھ جکڑ دیا جائے گا۔
اس سورت کی ابتدا اس فرمان سے ہوئی ہے کہ قیامت ہر صورت واقع ہو کر رہے گی اور اس کے لیے ” اَلْحَاقَّۃُ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا ایک معنٰی یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کو ٹکرا کر ریزہ ریزہ کردینے والی۔ اب اسی کی تھوڑی سی تفصیل بیان کی جاری ہے۔ اسرافیل کے صورپھونکنے کی وجہ سے…
Read the full tafseer →13 : فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ (پس جب صور میں یک بارگی پھونک ماری جائے گی) اس سے نفخہ اولیٰ مراد ہے۔ جس سے تمام لوگوں پر موت طاری ہوجائے گی۔ اور دوسرے نفخہ سے تمام کو اٹھایا جائیگا۔
Read the full tafseer →12 ۔” لنجعلھا “ یعنی تاکہ ہم اس فعل کو جو ہم نے کیا نوح (علیہ السلام) کی قوم کو غرق کرنے اور ان کو نجات دینے کا جن کو ہم نے اس میں سوار کیا۔ ” لکم تذکرۃ “ عبرت ونصیحت۔ ” وتعیھا “ قو اس اس نے ابن کثیر (رح) سے اور سلیم نے حمزہ (رح) سے عین کے اختلاس کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اس کی زیر کے ساتھ یعنی اس کی حفاظت کرے گی۔ ” اذن واعیۃ “ یعنی حفاظت کرنے والی اس کی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے گی۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اذن کانوں نے جو سنا اور جو سنا وہ سمجھا۔ فراء (رح) فرماتے ہیں تاکہ اس کی حفاظت ہر کان کرے۔ پس یہ عبرت اور نصیحت ہوجائے ان کے لئے جو بعد میں آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
13۔ 18۔ یہ پہلے صور سے لے کر دوسرے صور سے بعد تک کا حال ہے زمین اور پہاڑوں کے ٹوٹنے پھوٹنے کا حال تو پہلے صور کے وقت کا ہے اور آسمان میں دروازے ہو کر اللہ تعالیٰ کا محشر کے میدان میں نزول فرمانا اور اس نزول کے وقت آٹھ فرشتوں کا عرش کو اٹھانا اور اس نزول کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب کے لئے حاضر کیا جانا یہ دوسرے صور کے بعد کا حال ہے۔ معتبر سند سے طبرانی 1 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسرافیل اپنا ایک گھٹنا ٹیک کر اور دوسرا گھٹنا کھڑا کرکے صور پھونکنے کی حالت میں ہر وقت تیار اور حکم کے منتظر رہتے ہیں مستدرک حاکم میں صحیح سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی…
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انہیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا۔ یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے ان میں سے اولین واقعہ یہ ہوگا کہ اسرافیل (فی الصور) صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے (نفختہ واحدہ) ۔ ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہوجائے گی تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
13 ہنگامہ قیامت کے وقوع کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب پھونک مار دی جائے گی صور میں ایک ہی مرتبہ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر اور کوٹ کر چورا چورا کردیا جائے گا ایک ہی چوٹ میں۔ سو اس روز واقع ہو کر رہے گی وہ ہو پڑنے والی۔ اور پھٹ پڑے گا اس روز آسمان۔ یعنی مضبوط بندشوں والا یہ آسمان جو زمانہ ہائے دراز سے ایسا چلا آرہا ہے کہ اس میں نہ کوئی شگاف ہے نہ ھٹن ‘ اور جو بغیر کسی ٹوٹ پھوٹ ‘ فتور و قصور کے اور بدوں کسی نقص و فساد کے قائم ہے اس روز یہ پھٹ پڑے گا کہ اس کے رب کا اس کو یہی حکم ہوگا اور یہ حکم مانے گا اپنے رب کا ‘ اور اس کے آگے سر تسلیم کردے گا ‘ سبحانہ و تعالیٰ واذنت لربھا و حقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
قیامت کا نقشہ
تشریح :۔ جدید Cosmology کا اہم موضوع آج کل یہی ہے کہ کائنات کا انجام کیا ہوگا ؟ سائنس کے تجربات اس بارے میں ہمیشہ بدلتے رہیں گے کیونکہ وہ اس کے خالق نہیں ہیں۔ اس کے خالق نے قرآن پاک میں جو حقیقت اور جو اصل نقشہ بتا دیا ہے وہی سوفیصد سچ اور حقیقت بھی ہے۔ یہاں جو نقشہ پیش کیا گیا ہے وہ بڑا ہی ہولناک ہے۔ یعنی صور پھونکا جائے گا جس کی آواز ناقابل برداشت ہوگی۔ اس آواز کی وضاحت سلطان بشیر صاحب نے یوں کی ہے۔ زمین اپنے اندر بھی اپنی تباہی کے سامان چھپائے ہوئے ہے اس کے پیٹ میں ہزاروں درجہ حرارت پر سخت دباؤ میں پگھلا ہوا مادہ ہے ” اگر کہیں یہ پھٹ جائے تو فوری قیامت آسکتی ہے اور یہ سب کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
سورة الحاقہ۔
آیات 1 تا 37۔
اسرار ومعارف۔
دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔
کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ف 8 جیسا کہ پچھلیآیات کے تحت بیان کیا جا چکا ہے۔ صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلی مرتبہ اس وقت جب تمام مخلوقات فنا ہوجائے گی اور دوسرا اس وقت جب تمام لوگ زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکلیں گے۔
Read the full tafseer →(69:13) فاذا نفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ :عاطفہ ، اذا ظرف زمان ہے، پھر جب۔ نفخ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ نفخ (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھونکنا، پھونک مارنا۔ نفیخ۔ ڈھولچی، وہ شخص جس کے ذمہ پھونکنے کی خدمت ہو۔ نفخۃ ایک بار پھونک مارنا۔ الصور ترسنگہا۔ سینگ۔ شاخ۔ وہ چیز کہ جس کو حضرت اسرافیل (علیہ السلام) خلق کو مارنے اور جلانے کے لئے پھونکیں گے۔ نفخۃ واحدۃ مفعول مالم یسم فاعلہ۔
ترجمہ ہوگا :۔ پھر جب صور میں ایک بار پھونک مار دی جائے گی۔
فائدہ : آیات 5:20، 36:51، 18:99، میں نفخ سے مراد نفخۂ دوم ہے آیت 39:68: ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض میں نفخہ اول مراد ہے اور اسی آیت میں ثم نفخ فیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–52
لغات القرآن۔
الموتفکت۔ الٹی ہوئی بستیاں (قوم لوط کی بستیاں)
رابیۃ۔ سخت۔ طغا المائ۔ پانی نے جوش مارا۔ پانی کھولنے لگا۔ الجاریۃ۔ چلنے والی (کشتی) تعی۔ محفوظ رکھا۔ واعیۃ۔ حفاظت سے رکھنا۔ دکتا۔ کوٹ دیا جائے گا۔ واھیۃ۔ کمزور۔ بےجان۔ ارجاء (رجائ) ۔ کنارے۔ ھائوم۔ آئو (دیکھو) لو۔ ظننت۔ میں نے خیال رکھا تھا۔ انی ملق۔ بیشک میں ملنے والا ہوں۔ عیشۃ راضیۃ۔ من پسند زندگی کا عیش۔ عالیۃ۔ اونچی۔ بلند۔ قطوف۔ پھل ۔ میوے۔
دانیۃ۔ قریب۔ لم اوت۔ نہ دیا گیا ہوتا۔ القاضیۃ۔ فیصلہ کرنے والی۔ غلوا۔ طوق ڈالو۔ صلوہ۔ اس کو ڈال دو ۔ سلسلۃ۔ زنجیریں۔ ذرع۔ لمبائی۔ سبعون۔ ستر۔ اسلکوا۔ جکڑ لو۔ لا یحض۔ آمادہ نہ کرتا تھا۔ حمیم۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال۔ ایماندار اور کافر کی پہچان۔
(ف 1) یعنی صور پھونکنے کے ساتھ زمین اور پہاڑ اپنی جگہ کو چھوڑ دیں گے اور آپس میں ٹکرا ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے یا یہ کہ زمین پر سے درخت پہاڑ مکانات وغیرہ سب چیزیں دور کردی جائیں گی اور ساراعالم زیروزبر ہوجائے گا پس وہی وقت ہے قیامت کے ہونے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
[8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طہٰ حاشیہ 45 صفحہ 740۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–24
صور پھونکا جائے گا
2: نرسنگے میں پھونکنے کے دو معنی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور اعلان وعلام کے ہوگا ۔ جس سے معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ اس بساط لہو و لعب کو الٹ دیا جائے ۔ اور یا خود اس آواز میں یہ اثر ہوگا ۔ کہ اس کی وجہ سے عالم کون ومکان درہم برہم ہوجائے گا ۔ اور عقلاً اس میں کوئی استحالہ نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ آواز میں تاثیر پیدا کردیں ۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے ۔ کہ جب یہ موجودہ وقت آجائے گا ۔ اس وقت یہ سقف زرنگار پھٹ جائے گا ۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر آلگیں گے ۔ اور رب قدوس کی تجلیات عرش جلالت پر ہے تو انگن ہوں گی ۔ جس کو آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا
ایک ایک شخص کو اس کے روبرو…
Read the full tafseer →(13) پھر جب صور میں پھونکاجائے ایک بار پھونکنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ف 3۔ یہ قصے تو مکذبین قیامت کے ہوئے، آگے قیامت کے اہوال کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →پھر جب ایک بار صور میں پھونک ماری جائے گی
13 ؎ (نفخ صور) کا لفظ قرآن کریم میں دس بار ذکر کیا گیا ہے اور اس کو قیامت کے آنے اور میدان حشر میں حاضر ہونے کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ (صور) کے لفظی معنی نر سنگھا کے ہیں۔ اس کی اصل یہ ہے کہ قدیم الایام بابلیوں ، کنعانیوں ، آرامیوں اور عبرانیوں وغیرہ تمام پرانی قوموں میں بادشاہی جلال و جلوس اور اعلان جنگ کے موقع پر نر سنگھا پھونکا جاتا تھا اور اس کو لوگ بگل بجانے سے تعبیر کرتے ہیں یا وہ بھی اس طرح کی علامت کے لئے بجایا جاتا ہے۔ بہرحال نر سنگھا پھونکنا شاہی جلال کے اظہار کے باعث ہے یا غیر معمولی خطرہ کا نشان ہے اور اس کو اعلان سے بھی تعبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ (Then, when the Trumpet will be blown for the first time…69:13). Tirmidhi records a Hadith on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Umar ؓ that صور sur 'trumpet' is a horn- like object which will be blown on Doomsday.
نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ ('for the first time…69:13). It means that it will be a sudden and a single continuing sound that will last until all die. The texts of Qur'an and Sunnah show that the trumpet will be blown twice on the Day of Judgment. The first trumpet is called nafkhat-us-sa` aq 'the trumpet of swoon', in connection with…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
10 While reading the following verses one should keep in mind that at some places in the Qur'an the three stages of Resurrection which will occur one after the other at different times have been mentioned separately, and at others all the three have been combined and mentioned as a single event. For example, in Surah An-Naml: 87 the first blowing of the Trumpet has been mentioned, when everyone will be suddenly struck with terror. At that time they will witness the general confusion and the upsetting of the order of the universe, as described in Al-Hajj: 1-2, Ya Sin 49-50 and At-Takvir: 1-6.…
Read the full tafseer →