فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا ۟ۙفَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا
پھر (پانی کا) بوجھ اٹھاتی ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And those [clouds] carrying a load [of water]
— Saheeh International
Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا ۟ۙفَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا
پھر (پانی کا) بوجھ اٹھاتی ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
And those [clouds] carrying a load [of water]
— Saheeh International
Juz 26 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
Read the whole surah · Surah Adh-Dhaariyat
پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں
پھر (پانی کا) بوجھ اٹھاتی ہیں
پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو
پھر ان کی جو (بادلوں کا) بوجھ اٹھاتی ہیں۔
پھر بوجھ اٹھانے والیاں
اور (پانی کا) بارِ گراں اٹھانے والی بدلیوں کی قَسم،
پھر ایک بڑے بوجھ (بادل) کو اٹھانے والی ہیں۔
پھر ان کی جو (بادلوں کا) بوجھ اٹھانے والی ہیں۔
پھر اٹھالیتی ہیں بوجھ۔
پھر ان بادلوں کو جو اٹھاتے ہیں ایک (بھاری بھر کم) بوجھ کو
پھر بوجھ اٹھانے والے بادلوں کی
پھر بوجھ اٹھا کر لانے والی ہیں۔
پھر پانی کا بوجھ اٹھاتی ہیں
which carry clouds laden with water,
then those that bear load (of clouds),
then those that bear load (of clouds),
And the laden Hamilat;
And those that bear the burden (of the rain)
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And those [clouds] carrying a load [of water]
by the clouds which are heavily loaded with water,
Then those clouds bearing the load (of minute things in space).
And the clouds bearing a load.
And those that lift and bear away heavy weights;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–15
خلیفۃ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفے کے منبر پر چڑھ کر ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی جس آیت کی بابت اور جس سنت رسول ﷺ کی بابت تم کوئی سوال کرنا چاہتے ہو کرلو۔ اس پر ابن الکواء نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا، پوچھا (حاملات) سے ؟ فرمایا ابر۔ کہا (جاریات) سے ؟ فرمایا کشتیاں، کہا (مقسمات) سے ؟ فرمایا فرشتے اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے۔ بزار میں ہے (صبیغ) تمیمی امیر المومنین حضرت عمر کے پاس آیا اور کہا بتاؤ (ذاریات) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہوا۔ اور اسے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوا نہ ہوتا تو میں کبھی یہ مطلب نہ کہتا۔ پوچھا (مقسمات) سے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
سورة الذّٰرِیٰت 1 اس امر پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ الذاریات سے مراد پراگندہ کرنے والی اور گردو غبار اڑانے والی ہوائیں ہیں، اور اَلْحٰمِلٰتِ وِقْراً ، (بھاری بوجھ اٹھانے والیوں) سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو سمندروں سے لاکھوں کروڑوں گیلن پانی کے بخارات بادلوں کی شکل میں اٹھا لیتی ہیں۔ یہی تفسیر حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر اور مجاہد، سعید بن جبیر، حسن بصری، قتادہ اور سدی ؓ وغیرہ حضرات سے منقول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
خلاصہ تفسیر قسم ہے ان ہواؤں کی جو غبار وغیرہ کو اڑاتی ہیں پھر ان بادلوں کی جو بوجھ (یعنی بارش کو) اٹھاتے ہیں پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں پھر ان فرشتوں کی جو (حکم کے موافق اہل ارض میں) چیزیں تقسیم کرتے ہیں (مثلاً جہاں جس قدر بارش کا حکم ہوتا ہے جو مادہ ہے رزق کا وہاں بادلوں کے ذریعہ اسی قدر پہنچاتے ہیں، اسی طرح حسب حدیث رحم مادر میں بچے کی صورت میں مذکر و مونث پوچھ کر بناتے ہیں اور سکینہ اور رعب بھی تقسیم کرتے ہیں، آگے ان قسموں کا جواب ہے کہ) تم سے جس (قیامت) کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ بالکل سچ ہے اور (اعمال کی) جزا (و سزا) ضرور ہونے والی ہے (ان قسموں میں اشارہ ہے استدلال کی طرف یعنی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات ا کی وضاحت والذریت ذروا، فالحملت وقراہ فالجریت یسوآء فالمقسمت امراً (4-1) جو اقسم کے لئے ہے اور قسم شہادت کے لئے والذریت میں ’ و ‘ قسم کے لئے ہے اور اس بات کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اس طرح اشیاء کی جو س میں کھائی گئی ہیں اس کا مقصود ان اشیاء کی تعظیم نہیں، بلکہ ان کو اس دعوت پر شہادت کے لئے پیش کرنا ہے جو قسم کے بعد مذکور ہوتا ہے یا سیاق کلام سے سمجھا جاتا ہے، چناچہ یہ قسم بھی شہادت ہی کے لئے ہے۔ اس کا ترجمہ اگر شہادت کے لفظ سے کیا جائے تو ہمارا خیال ہے کہ یہ زیادہ معنی خیز ہوگا۔ ذاریت ذاریات غبار اڑانے والی ہوائوں کو کہتے ہیں۔ یہ…
Read the full tafseer →2۔ 1 وقر، ہر وہ بوجھ جسے کوئی جاندار لے کر چلے، حاملات، وہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو اٹھائے ہوئے ہیں یا پھر وہ بادل ہیں جو پانی کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہیں جیسے چوپائے، حمل کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
یہ سرسری اور مختصر آیات وضربات ہیں۔ ایسے الفاظ کے ساتھ جن کا مفہوم واضح نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا پردہ احساس پر ایک خاص تاثر چھوڑتی ہیں۔ دل کو ایک نہایت ہی اہم بات سے جوڑ دیتی ہیں اور ایسے معاملے کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ جو توجہ کا مستحق ہے۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کو حضور اکرم ﷺ کی زبان سے سنا ان کو بھی ان الفاظ کا مفہوم ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کہ ذاریات ، حاملات ، جاریات اور مقسمات کا مفہوم کیا ہے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ، شعبہ ابن الحجاج نے روایت کی ، سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے سنا نیز روایت کی شعبہ نے قاسم ابوبزہ سے ، انہوں نے ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
8 اول زور کی ہوائیں اور آندھیاں چلتی ہیں جن سے غبار وغیرہ اڑتا ہے اور بادل بنتے ہیں، پھر ان میں پانی بنتا ہے۔ اس بوجھ کو اٹھائے پھرتی ہیں۔ پھر برسنے کے قریب نرم ہوا چلی ہے پھر اللہ کے حکم کے موافق بارش میں جس جگہ کہ جتنا حصہ ہوتا ہے وہ تقسیم کرتی ہیں۔ ان ہواؤں کی اللہ قسم کھاتا ہے۔ بعض علماء نے " ذاریات، سے ہوائیں۔ " حاملات " سے بادل، " جاریات " سے ستارے اور " مقسمات " سے فرشتے مراد لیے ہیں۔ گویا مقسم بہ کی ترتیب نیچے سے اوپر کو ہوئی اور حضرت علی ؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ " ذاریات " ہوائیں۔ " حاملات "۔ بادل، " جاریات " کشتیاں، اور " مقسمات " فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے رزق وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 2{ فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا۔ } ”پھر بوجھ اٹھا کر لانے والی ہیں۔“ ہوائیں اربوں کھربوں ٹن پانی سمندر سے اٹھا کر بادلوں کی شکل میں ہزاروں میل دور لے جاتی ہیں اور پھر مختلف علاقوں میں بارش برساتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 بارش سے تعلق رکھنے والی ہوائیں اور ان کی قسم :۔ ان ابتدائی چار آیات میں مختلف قسم کی ہواؤں کا ذکر ہے جو بارش کے نظام پر دلالت کرتی ہیں۔ پہلے کچھ گردو غبار اڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ پھر آسمان کے کسی کونے سے لاکھوں اور کروڑوں ٹن پانی کا بوجھ اٹھانے والی گھٹائیں نمودار ہوجاتی ہیں۔ پھر ٹھنڈی اور نرم ہوائیں چلتی ہیں جو بارش کی خوشخبری لاتی اور دلوں کو راحت و سرور بخشتی ہیں۔ پھر یہی ہوائیں بادلوں کو ان علاقوں کی طرف لے جاتی ہیں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کو بارش برسانا منظور ہوتا ہے اور جس قدر بارش برسانا منظور ہوتا ہے بعض مفسرین نے (فَالْجٰرِيٰتِ يُسْرًا ۙ ) 51 ۔ الذاریات :3) سے مراد کشتیاں لی ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ (اس لیے تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے عمل کی ذمہ داری پوری محسوس کرے) قرآن مجید کے پیش نظر ایک ایسی امت تیار کرنا ہے، جس کا ہر ہر فرد اپنے ایک ایک عمل میں زندگی کے ایک ایک جزئیہ میں، اپنی ذمہ داری کا پورا پورا احساس رکھتا ہو، اور کسی حال میں اس کے قدم کو لغزش نہ ہو۔ انسان کو ہمہ وقت صراط مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے حشر کا اعتقاد ہی نہیں، بلکہ اس کا استحضار بھی لازمی ہے۔ (آیت) ” الذریت ذروا “۔ مرا دوہ ہوائیں ہیں جو غبار وغیرہ اڑاتی رہتی ہیں۔ (آیت) ” فالحملت وقرا “۔ مراد وہ بادل ہیں جو بارش سے لدے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فالمقسمت امرا “۔ مراد وہ فرشتے ہیں جو مخلوقات میں مادی وغیر مادی ہر طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے قسم ہے ان ہوائوں کی جو غبار وغیرہ کو پراگندہ کرتی ہیں (ذروا) مصدر ہے اور کہا جاتا ہے تذریہ ذریاً یعنی ہوائیں غبار کو اڑاتی ہیں پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھانے والے ہیں وقراً حاملات کا مفعول ہے، پھر قسم ہے ان کشتیوں کی جو پانی کی سطح پر سہولت کے ساتھ چلتی ہیں یسراً مصدر ہے حال کی جگہ میں یعنی حال یہ کہ وہ سبک رفتاری سے چلتی ہیں پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو ایک بڑے اہم کام کی یعنی رزق اور بارش وغیرہ کی بندوں اور شہروں کے درمیان تقسیم کرنے والے ہیں اور جو تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ما مصدریہ ہے یعنی ان سے بعث…
Read the full tafseer →فالحملت وقرًا . پھر ان بادلوں کی جو (بارش کا) بوجھ اٹھاتے ہیں۔ بوجھ یعنی وہ ہوائیں جو بادلوں کا بار اٹھاتی ہیں یا وہ عورتیں جو نطفے اور حمل کا بوجھ اٹھاتی ہیں یا وہ بادل جو بارش کے پانی کو اٹھاتے ہیں یا ان کے (سماوی و ارضی) اسباب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) قسم ہے ان ہواؤں کی جو کہ لوگوں کے مقامات پر غبار اڑاتی ہیں اور پھر ان بادلوں کی قسم کھتا ہوں جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی جو کہ نرمی کے ساتھ چلتی ہیں اور پھر ان فرشتوں یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت کی جو بندوں میں حکم کے مطابق چیزیں تقسیم کرتے ہیں غرض ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ قیامت ضرور قائم ہوگی اور حساب و کتاب یعنی اعمال کی جزا و سزا ضرور ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →(فالحملت وقراً :”وقراً“ بوجھ، اس پر تنوین تعظیم کے لئے ہے، بھاری بوجھ، یہ بھی ہواؤں ہی کی صفت ہے کہ پھر وہ ہوائیں سورج کی حرارت کے ساتھ سمندر سے اٹھنے والے آبی بخارتا سے بننے والے کروڑوں اربوں ٹن وزنی بھاری بادلوں کی اٹھاتی ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ عربی زبان میں عام طور پر جب صفات کا عطف فاء کے ساتھ ہو تو ایک تو وہ سب ایک ہی موصوف کی صفتیں ہوتی ہیں، دوسرا ان میں ترتیب ہوتی ہے، جیسا کہ سورة عادیات میں ہے :(والعدیت ضبحاً ، فالموریت قدحا، فالمغیرت صبحاً ، فاثرن بہ نقعاً ، فوسطن بہ جمعاً) (العادیات : 1 تا 5)”قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو پیٹ اور سینے سے آواز نکالتے ہوئے دوڑنے والے ہیں ! پھر جو سم مار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
والذریت ذروا، ابوبکر انباری نے کہا عبدا للہ بن ناجیہ، یعقوب بن ابراہیم سے وہ مکی بنی ابراہیم سے وہ جعید بن عبدالرحمن سے وہ یزدبن خصیفہ سے وہ سائب بن یزد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر ؓ سے عرض کی : میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا وہ مشکل القرآن کی تفسیر کے بارے میں پوچھتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے دعا کی : اے اللہ ! مجھے اس پر قدرت دے۔ ایک روز وہ آدمی حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ وہ لباس اور عمامہ زیب تن کئے ہوئے تھا جب کہ حضرت عمر ؓ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے جب آپ قرآن پڑھنے سے فارغ ہوئے تو وہ آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : اے امیر المومنین ! والذریت ذروا کیا ہے ؟ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور والحارث بن ابی اسامہ وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) وابن الانباری فی المصاحف والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والذریت ذروا '' (قسم ہے ان ہواؤں کی جو خاک وغیرہ اڑاتی ہیں) یعنی ہوائیں (آیت ) '' فالحملت وقرا '' (پھر ان بادلوں کی جو بارش کا بوجھ اٹھاتے ہیں یعنی بادل (آیت ) '' فالجریت یسرا '' (پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں) یعنی کشتیاں (آیت ) '' المقسمت امرا '' پھر ان فرشتوں کی جو حکم کے موافق تقسیم کرتے ہیں) یعنی فرشتے۔ 2:۔ البزار والدارقطنی فی الافراد وابن مردویہ وابن عساکر (رح) نے…
Read the full tafseer →فَالْحٰمِلٰتِ [ پھر اٹھانے والیوں کی ] وِقْرًا [ بوجھ (بادل ) کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قیامت ضرور واقع ہوگی، منکرین عذاب دوزخ میں داخل ہوں گے یہاں سے سورة الذاریات شروع ہو رہی ہے اس میں الذاریات اور الحاملات اور الجاریات اور المقسمات کی قسم کھائی ہے اور اس میں ذروا اور یسرًا تو مفعول مطلق ہے اور وقراً اور امراً مفعول بہ ہیں۔ صاحب روح المعانی نے حضرت عمر اور حضرت علی ؓ سے یہی تفسیر نقل کی ہے جو ترجمہ میں لکھ دی گئی ہے چاروں چیزوں کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ تم سے جو وعدہ کیا جا رہا ہے وہ سچ ہے اور جزا یعنی اعمال کا بدلہ ضرور ملنے والا ہے یعنی قیامت ضرور قائم ہوگی بنی آدم میدان حشر میں حاضر ہوں گے اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے، جن چیزوں کی قسم کھائی ہے ان میں فرشتے ہیں، جو آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔ (ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
2:۔ ” والذاریات ذروا۔ تا۔ فالمقسمت امرا “ یہ حشر و نشر اور جزاء پر شاہد ہے۔ قسم ہے ہواؤں کی جو اٹھاتی اور پھیلاتی ہیں۔ پھر بوجھ (پانی بادلوں کی شکل میں) کو اٹھاتی اور آہستہ آہستہ چلتی ہیں پھر اللہ کے حکم سے امر الٰہی کو تقسیم کرتی ہیں۔ یعنی کہیں بارش برستی ہے اور کہیں اولے پڑتے ہیں۔ ” انما توعدون۔ تا۔ لواقع “ یہ جواب قسم ہے جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے یعنی حشر و نشر وہ حق ہے اور قیامت کے دن جزاء وسا ضرور ہوگی۔ ” انما توعدون لصادق “ پہلے دو قسموں سے متعلق ہے یعنی جس طرح ہوا بادلوں کو اٹھاتی ہے اسی طرح تم بھی اٹھائے جاؤ گے یہ دنیا میں حشر و نشر کا ایک نمونہ ہے۔ ” ان الدین لواقع “ یہ دوسری…
Read the full tafseer →فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا 2 ۙ فالحملت وقرا :عاطفہ ہے الحملت اٹھانے والیاں۔ الحاملۃ کی جمع ہے۔ حمل ( باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے معطوف ہے اس کا عطف الذریت پر ہے۔ اس سے قبل وائو قسمیہ مقدرہ ہے وقرا قائم مقام مصدر کے ہے۔ جیسے کہتے ہیں ضرب سوطا۔ یا مفعول بہ ہے۔ وقرا بمعنی بوجھ۔ اضواء البیان میں ہے۔ حامِلاتِ والحُمُولَة : لما يحمل، والحَمَل : للمحمول، وخصّ الضأن الصغیر بذلک لکونه محمولا، لعجزه، أو لقربه من حمل أمّه إياه، وجمعه : أَحْمَال وحُمْلَان وبها شبّه السّحاب، فقال عزّ وجل : فَالْحامِلاتِ وِقْراً [ الذاریات/ 2] ، والحَمِيل : السّحاب الکثير الماء، لکونه حاملا للماء والحمِيل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
ترکیب : والذاریات الو او للقسم ذروا منصوب علی انہ مصدر۔ یقال ذرت الریح التراب تذر وہ ذر وا و آذرتہ تذریہ ذریا۔ فالحاملات عطف علی الذاریات و قس علیھا البواقی۔ و قرا قرء الجمہور بکسر الوا و فھو اسم اقیم مقام المصدر کما یقال ضربہ سوطا۔ او مفعول بہ کما یقال حمل فلاں عدلا ثقیلا (کبیر) و قریٰ بفتح الواو علی انہ مصدر یسرا منصوب علی انہ صفۃ مصدر تقدیرہ جریا ذا یسر امرا منصوب علی انہ مفعول بہ کمایقال فلاں قسم الرزق او حال انما تو عدون جواب القسم و ما مصدریۃ او موصولۃ، یوفک عنہ الضمیر الرسول ( علیہ السلام) اوالقرآن او الایمان۔ یوم ھم منصوب علی الظرفیۃ والناصب یقع۔ وقیل موضعہ رفع، ھم مبتدء یفتنون خبرہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
وَالذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا۔ فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا۔ فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا۔ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا۔ (الذریٰت : 1 تا 4) (قسم ہے ان ہَوائوں کی جو گرد اڑانے والی ہیں۔ پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں۔ پھر سبک رفتاری سے چلنے والی ہیں۔ پھر ایک بڑے کام کی تقسیم کرنے والی ہیں۔ ) قسم اور جوابِ قسم کی وضاحت ہم متعدد مواقع پر اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ ” وائو “ قسم کے لیے بھی آتا ہے اور ان آیات میں ” وائو “ قسم کے لیے آیا ہے۔ جس لفظ پر یہ ” وائو “ داخل ہوتا ہے اسے قسم کہا جاتا ہے۔ گویا وہ ایک طرح کی دلیل اور ایک طرح کی شہادت ہوتا ہے اور اس کے بعد آنے والا جملہ وہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ کہلاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن ربط سورت : سورة ق کا اختتام قیامت کے ذکر پر ہوا۔ الذّاریات کی ابتدا بھی قیامت کے ذکر اور اس کے دلائل سے کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق میں سے کسی کی قسم اٹھانا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلے بھی عرض ہوچکا ہے کہ اس سے دیگر مقاصد کے ساتھ اس چیز کی اہمیت بتلانا بھی مقصود ہوتا ہے۔ جنس (gender) کے اعتبار سے ہوا ایک ہے لیکن کام اور اثرات کے لحاظ سے اس کی کئی اقسام ہیں یہاں چار قسم کی ہواؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ قسم ہے گردوغبار اڑانے والی، بادلوں کا بوجھ اٹھانے والی پھر سبک رفتار چلنے والی اور پانی کو بارش کی صورت میں برسانے والی ہواؤں کی۔ یاد رہے کہ قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں میں ہوابھی اللہ…
Read the full tafseer →آیت 2 : فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا اس سے مراد بادل ہیں کیونکہ وہ بارش کو اٹھاتے ہیں۔ وِقْرًا یہ حاملات کا مفعول ہے۔
Read the full tafseer →1 ۔” والذاریات ذروا “ یعنی ہوائیں جو مٹی کے ذرات کو اڑاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے ” ذرت الریح التراب وازرت “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تفسیر سورة الذریت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں، جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لامحالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل وبراہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کرسکتے ہیں۔ (الذاریات) یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں (ذروا) اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
[ 2] پانی کا بوجھ اٹھانے والے بادلوں کی قسم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو اٹھاتے ہیں بھاری بھرکم بوجھ۔ " وقر حمل " کی طرح ہے وزن کے اعتبار سے بھی اور معنی کے اعتبار سے بھی، اور یہ تینوں کلمات [ ذروا، قورایسرا ] ترکیب میں یہاں پر مفعول واقع ہو رہے ہیں، جب کہ امراً مفعول یہ ہے [ جامع البیان وغیرہ ] وقر کا لفظ اگرچہ عام ہے اور ہر طرح کے بوجھ کو شامل ہے، لیکن عام اور دوسرے نظائر کی بنا پر اس سے مراد بارش اور پانی کا وہ بوجھ ہے جو بادلوں کے دوش پر رواں دواں ہوتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وھوالذی یرسل الریح بشراً م بین یدی رحمتہٖ ط حتی اذا اقلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ہواؤں کی قسم اور ہواؤں کے معمولات تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت اپنے بندوں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ہواؤں کی قسم کھاتے ہوئے یقین دلاتا ہے کہ ” انصاف کا دن ضرور واقع ہوگا “۔ ہواؤں کی قسم اس لیے کھاتا ہے کہ یہ بھی کائنات کے کارخانہ کا ایک بڑا اہم اور عام فہم سا پرزہ ہے۔ مگر ہے بڑا اہم کیونکہ ان کی موجودگی انسانی زندگی اور اس کی ضروریات زندگی پورا کرنے والے اہم اجزاء کی تکمیل حیات اور نشوونما کے لیے بےحد ضروری ہے۔ کیونکہ دنیا کی ہر چیز زندہ ہے اور زندگی کی بقاء کے لیے ہوا بےحد ضروری جزو ہے۔ تیز چلتی ہیں تو تخم پاشی یعنی بیجوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں اور یہ بیج لگانے کا قدرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرداڑاتی ہیں اور ان بادلوں کو جو پانی کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں اور ان سواریوں کی جو سبک رفتار ہیں اور ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے ہر شے تقسیم کرتے ہیں قسم سے مراد گواہی اور شہادت ہے کہ یہ نظام اور اس کا صد فیصد درست ہونا اور ہمیشہ ہمیشہ بغیر کسی نقص وکوتاہی کے رواں دواں رہنا جیسے خشک ہوائیں جو گرداڑاتی پھرتی ہیں مگر ساتھ پانی کو بخارات بنا کر بھی اڑادیتی ہیں وہ بخارات خوبصورت بادلوں میں ڈھل رہے ہیں اور پھر بارش برس کر انسانی رزق کا ذریعہ بن رہے ہیں اسی طرح زمین ہوا اور سطح آب پر سبک رفتار سواریاں جو لوگوں کے حصول مقصد کا بہت بڑا ذریعہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 5 ان آیات کی یہ تفسیر حضرت عمر، حضرت علی اور بعض دوسرے صحابہ سے مروی ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(51:2) فالحملت وقرا :عاطفہ ہے الحملت اٹھانے والیاں۔ الحاملۃ کی جمع ہے۔ حمل (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے معطوف ہے اس کا عطف الذریت پر ہے۔ اس سے قبل وائو قسمیہ مقدرہ ہے وقرا قائم مقام مصدر کے ہے۔ جیسے کہتے ہیں ضرب سوطا۔ یا مفعول بہ ہے۔ وقرا بمعنی بوجھ۔ اضواء البیان میں ہے :۔ وقرا۔ ای ثقلا من الماء یعنی پانی کا بوجھ : اس معنی کے لحاظ سے الحملت وقرا (پانی کا بوجھ اٹھانے والیاں) سے مراد سحاب یعنی بادل ہے۔ قرآن مجید میں بادلوں کی صفت الثقال ۔ (بوجھل۔ ثقیل کی جمع) بیان فرمائی گئی ہے جیسے و ینشیء السحاب الثقال (13:12) اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ ترجمہ :۔ پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–23
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 23 ذاریات (ذاریۃ) اڑ کر بکھیرنے والیاں الحاملات اٹھانے والیاں ۔ وقر بوجھ۔ جاریات چلنے والیاں۔ یسر آسانی، سہولت۔ المقسمات تقسیم کرنے والیاں۔ توعدون تم جو وعدہ کئے گئے ہو الحبک (حبیکۃ) راستے۔ یوفک پھیرا جاتا ہے افک پھیرا گیا ہے۔ الخراصون انکل کے تیرچ لانے والے غمرۃ غفلت ساھون بھونے والے، غفلت کرنے والے ایان کب۔ یفتون الٹ پلٹ کئے جائیں گے۔ تستعجلون تم جلدی مچاتے ہو عیون (عین) چشمے۔ یعجعون تھوڑا سا سونا۔ السائل سوال کرنے والا، مانگنے والا۔ المحروم غریب، مفلس، محروم رہنے والا۔ تنطقون تم بولتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 23 اصل میں وہ لوگ جو آخرت کا انکار کرتے تھے انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
عجائبات قدرت اور منکرین کی حالت اور انجام۔ (ف 1) والذاریات ، فالحملت، فالجریات، فالمقسمت، یہ سب صفتیں ہیں ، الذاریات وہ تیز ہوا ہے جو خاک اڑاتی پھرتی ہیں ، ادھر ادھر دوڑتی ہیں اور شہروں کو برباد کردیتی ہے، مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہیں ، فالحملت وہ بادل جو بھاری بھاری بوجھ لاکھوں من پانی کا اٹھائے ہوئے ہوا میں معلق پھرتے ہیں، فالجاریات وہ کشتیاں جو مزے مزے سے آہستہ آہستہ دریا میں اور ندی نالوں میں ہزاروں من بوجھ سے چلتی ہیں جن سے تجارت ہوتی ہے اور وہ ڈوبتی ہیں فالمقسمت وہ فرشتے جو تمام شہروں میں بارش ورزق وغیرہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں یعنی جبرائیل میکائیل واسرافیل…
Read the full tafseer →(2) پھران بدلیوں کی قسم جو بوجھ کو اٹھانے والی ہیں۔
Read the full tafseer →قسم ہے ان ہوائوں کے رب کی جو پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں 2 ۔ (الذایات) سے مراد اگر وہ ہوائیں ہیں جو بخارات بناکر پانی کو اڑانے والی ہیں (حملت) سے وہ ہوائیں مراد ہیں جو اس بخارات شدہ پانی کو اکٹھا کرکے جوڑ کر بادل کی شکل میں دکھاتی ہیں (حملت) حاملۃ کی جمع ہے اسم فاعل کا صیغہ جمع مونث اور اس کے معنی ہیں اٹھانے والیاں ( وقرا) اسم مفرد اوقار جمع بوجھ اور خصوصاً پانی کا بوجھ۔ وہ ہوائیں جو پانی کا بوجھ اٹھاکر لاتی ہیں اور اس کو بادل کی صورت میں دکھاتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
Affirmation of After-Life The subject-matter of Surah Adh-Dhariyat, like its predecessor Surah Qaf, is mainly the Hereafter, Resurrection, Reckoning, Judgment, and Allah's reward and punishment. The first few verses contain an oath from Allah that the promise of Resurrection is true, and shall come to pass. In these verses Allah swears an oath by four phenomena, as follows: وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا ﴿1﴾ فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا ﴿2﴾ فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا ﴿3﴾ فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا ﴿4﴾ (I swear) by those (winds) that scatter dust, then by those (clouds) that bear loads, then by those…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 All the commentators are agreed that adh-dhariyat implies the winds that disperse and mist up the dust, and al-hamilat-i wiqran implies the winds that Iift up millions of tons of water vapours from the oceans in the form of clouds. This same commentary has been reported from Hadrat `Umar, Hadrat `Ali, Hadrat 'Abdullah bin `Abbas, Hadrat `Abdullah bin `Umar, and also from Mujahid, Said bin Jubair, Hasan Basri, Qatadah, Suddi and other scholars.
Read the full tafseer →