Al-Hijr 15:75

Al-Hijr · from ayah 75

15:75

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ ۟اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ

بےشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لیے نشانی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed in that are signs for those who discern.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:75

اِس واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو صاحب فراست ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لیے نشانی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلاشبہ بصیرت والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ اس سارے واقعے میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اس میں نشانیاں ہیں فراست والوں کے لیے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اس (واقعہ) میں اہلِ فراست کے لئے نشانیاں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اس مینگہری نظر سے دیکھنے والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ اس واقعہ میں بھی صاحب فراست لوگوں کے لئے کئی نشانیاں ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بے اس سرگزشت میں بصیرت حاصل کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں (عقل و) فراست والوں کیلئے،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اس (واقعہ) میں اہل بصیرت کے لئے نشانیاں ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو حق کے متلاشی ہوتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک اس قصے میں اہل فراست (عقلمندوں) کے لیے نشانیاں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There are great Signs in this for those endowed with intelligence.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, in that there are signs for those who read signs.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, in that there are signs for those who read signs.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Surely, in this are signs for those who see.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! therein verily are portents for those who read the signs.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed in that are signs for those who discern.

— Saheeh International

In this there is evidence (of the Truth) for the prudent ones.

— Muhammad Sarwar

Surely in this are signs for those who examine.

— Muhammad Habib Shakir

Verily therein are signs for men of sagacity.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold! in this are Signs for those who by tokens do understand.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 73–77

آل ہود کا عبرتناک انجام سو رج نکلنے کے وقت آسمان سے ایک دل دہلانے والی اور جگر پاش پاش کردینے والی چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اور ساتھ ہی ان کی بستیاں اوپر کو اٹھیں اور آسمان کے قریب پہنچ گئیں اور وہاں سے الٹ دی گئیں اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر ہوگیا ساتھ ہی ان پر آسمان سے پتھر برسے ایسے جیسے پکی مٹی کے کنکر آلود پتھر ہوں۔ سورة ھود میں اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے۔ جو بھی بصیرت و بصارت سے کام لے، دیکھے، سنے، سوچے، سمجھے اس کے لئے ان بستیوں کی بربادی میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ ایسے پاکباز لوگ ذرا ذرا سی چیزوں سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں پند پکڑتے ہیں اور غور سے ان واقعات کو دیکھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 74–75

سورة الْحِجْر 41 یہ پکی ہوئی مٹی کے پتھر ممکن ہے کہ شہاب ثاقب کی نوعیت کے ہوں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آتش فشانی انفجار کی بدولت زمین سے نکل کر اڑے ہوں اور پھر ان پر بارش کی طرح برس گئے ہوں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک سخت آندھی نے یہ پتھراؤ کیا ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–76

جن بستیوں پر عذاب ہوا ان سے عبرت حاصل کرنا چاہئے (آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ۔ اس میں حق تعالیٰ نے ان بستیوں کا محل وقوع بیان فرمایا جو عرب سے شام تک جانے والے راستہ پر ہیں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ ان میں اہل بصیرت کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی بڑی نشانیاں ہیں۔ ایک دوسری آیت میں ان کے متعلق یہ بھی ارشاد ہوا ہے (آیت) لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِيْلًا یعنی یہ بستیاں عذاب الہی کے ذریعہ ویران ہونے کے بعد پھر دوبارہ آباد نہیں ہوئیں بجز چند بستیوں کے اس مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ نے ان بستیوں اور ان کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 75–77

تفسیر آیات 75 تا 77: إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ (75) وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُقِيمٍ (76)إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ (77)۔ " توسم " کے معنی بھانپنے تاڑنے اور کسی عبرت انگیز چیز سے درس عبرت حاصل کرنے کے ہیں۔ " سبیل مقیم " چلتا راستہ، عام گزرگاہ۔ قریش کے لیے درس عبرت : قوم لوط کی سرگزشت سنانے کے بعد اب یہ پہلے کفار قریش کو توجہ دلائی کہ اگر وہ آنکھیں رکھتے ہیں تو معذب بستیوں سے درس عبرت حاصل کریں جو ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے چلتے راستہ پر واقع ہیں جن سے آئے دن ان کو گزرنا پڑتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ سدوم اور عمورہ کی بستیاں حجاز اور شام کے تجارتی راستہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

75۔ 1 گہری نظر سے جائزہ لینے اور غور وفکر کرنے والوں کو مُتَوَسِّمِیْنَ کہا جاتا ہے۔ مُتَوَسِّمِیْنَ کے لئے اس واقعے میں عبرت کے پہلو اور نشانیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 72–76

25: حضرت لوط ؑ کی بستیاں اردن کے بحیرہ مردار کے آس پاس واقع تھیں، اور عرب کے لوگ جب شام کا سفر کرتے تو ان بستیوں کے آثار ان کے راستے میں پڑتے تھے۔ آیت 72 کے بارے میں یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے سوا کسی کی قسم کھانا انسانوں کے لیے جائز نہیں۔ دیکھئے سورة صافات کا حاشیہ نمبر 1

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 75–77

آیت نمبر 75 تا 77 یہ تھی تصدیق ایک سچے ڈرانے والے کی ، فرشتوں کا نزول دراصل اعلان نزول عذاب الٰہی تھا اور جب یہ عذاب آتا ہے تو پھر وہ ٹلتا نہیں اور نہ اس میں تاخیر ممکن ہوتی ہے اور نہ پھر مہلت عمل ملتی ہے۔ ٭٭٭ یہی صورت حال اصحاب ایکہ کو پیش آئی جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم دعوت تھے۔ (ایکہ کا مفہوم گھنے جنگلات والے ، حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب ایکہ اور قوم مدین کی طرف بھیجے گئے تھے ) یہی حالات قوم صالح کے ساتھ پیش آئے جنہیں حجر والے بھی کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 " متوسم " اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بعض ظاہری علامات و قرائن دیکھ کر محض فراست سے کسی پوشیدہ بات کا پتہ لگالے۔ حدیث میں ہے " اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہ، یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ " بعض روایات میں " وَبِتَوْفِیْقِ اللّٰہِ " کی زیادت ہے، یعنی مومن کی فراست سے ڈرتے رہو، وہ خدا تعالیٰ کے عطا کیے ہوئے نور توفیق سے دیکھتا ہے۔ شاید " کشف " اور " فراست " میں بقول امیر عبدالرحمن خاں مرحوم اتنا ہی فرق ہو جتنا ٹیلیفون اور ٹیلیگراف میں ہوتا ہے۔ بہرحال آیت کا مطلب یہ ہے کہ دھیان کرنے اور پتہ لگانے والوں کے لیے " قوم لوط " کے قصہ میں عبرت کے بہت نشان موجود ہیں۔ انسان سمجھ سکتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 75 اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ ”متوسمین“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو آیات آفاقیہ ‘ آیات تاریخیہ ‘ آیات انفسیہ یا آیات قرآنیہ کے ذریعے سے حقیقت کو جاننا اور پہچاننا چاہیں۔ اسم اصل مادہ ”س م و“ ہے۔ الف اس کے حروف اصلیہ میں سے نہیں ہے کے معنی علامت کے ہیں۔ اردو میں لفظ ”اسم“ کو نام کے مترادف کے طور پر جانا جاتا ہے ‘ اس لیے کہ کسی چیز یا شخص کا نام بھی ایک علامت کا کام دیتا ہے جس سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔ لہٰذا جو اصحاب بصیرت علامتوں سے متوسم باب تفعل ہوتے ہیں ‘ ان کے لیے ایسے واقعات میں سامان عبرت موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 75–77

39 متوسم سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرائن و علامات اور آثار سے کسی نتیجہ پر پہنچنے کی اہلیت رکھتے ہوں یعنی غور و فکر اور دھیان کرنے والے اہل دانش کے لیے اس واقعہ لوط میں عبرت کے بہت سے نشان موجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

63۔ (اللہ کی قدرت وحاکمیت کی، اور بدی کی مکافات کی) (آیت) ” للمتوسمین “۔ وسم وتوسم کے معنی فراست وفہم کے ہیں۔ وھذا التوسم ھوالذی سماہ قوم الزکانۃ وقوم الفراسۃ وقوم الفطنۃ (راغب) اور متوسمین وہ لوگ ہیں جو نصیحت قبول کریں اور اہل عبرت وعرفان میں سے ہوں، اے للمعتیرین العارفین المتعظین (راغب) اے للمتفرسین المتاملین (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–79

آیت نمبر 61 تا 79 ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان فی ذلک لایت للمتوسمین اسی واقعہ میں کئی نشانیاں ہیں اہل بصیرت کیلئے۔ حضرت ابن عباس نے مُتَّوَسِّمِیْن کا ترجمہ کیا ہے : ” دیکھنے والے “۔ مجاہد نے کہا : شناخت کرنے والے۔ قتادہ نے کہا : عبرت حاصل کرنے والے۔ مقاتل نے کہا : غور کرنے والے۔ میں کہتا ہوں : وسم کا معنی ہے : اثر کرنا ‘ نشان پیدا کرنا اور سِمَۃٌ کا معنی ہے : اثر ‘ نشان۔ یعنی جو لوگ ظاہری علامات و آثار کو دیکھ کر اندرونی نتائج و معانی کی شناخت کرنے والے ہیں ‘ ان کیلئے اس واقعہ میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 73–75

(73۔ 74۔ 75) چناچہ سورج نکلتے نکلتے ان کو عذاب نے پکڑا اور پھر ہم نے ان بستیوں کا اوپر کا تختہ نیچے کر کردیا اور نیچے کا تختہ اوپر کردیا اور پھر ان لوگوں پر اور ان مسافروں پر آسمان سے کنکر کے پتھر برسانا شروع کیے ہم نے ان لوگوں کے ساتھ جو معاملہ کیا اس میں اہل بصیرت اور متفکر اور دیکھنے اور اعتبار کرنے والوں کے لیے چند نشانیاں اور عبرتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ۔۔ : ”لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ“ یہ ”وَسْمٌ، سِمَۃٌ“ سے باب تفعل کا اسم فاعل ہے۔ ”وَسْمٌ“ کا معنی نشان ہے، خصوصاً جو گرم لوہے کے ساتھ اونٹ یا گھوڑے پر لگایا جاتا ہے۔ ”مِیْسَمٌ“ گرم کرکے نشان لگانے کا آلہ۔ نشانات کو دیکھ کر بات کی تہ تک پہنچنا ”تَوَسَّم“ کہلاتا ہے، یعنی غور و فکر کرنے والوں اور گہری نظر والوں کے لیے ان بستیوں میں عبرت کے بہت سے نشان موجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 75 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : للمتوسمین ترمذی الحکیم نے ” نوادر الاصول “ میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : للمتفرسین (نظر جما کر دیکھنے والوں کے لئے، اہل فراست کے لئے) اور یہی حضرت مجاہد (رح) کا قول ہے۔ اور ابو عیسیٰ ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ (تم مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے) پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ان فی ذلک لایت للمتوسمین ترمذی نے کہا : یہ حدیث غریب ہے۔ اور مقاتل اور ابن زید نے کہا ہے : للمتوسمین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–77

1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔ 4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [ لِلْمُتَوَسِّمِيْنَ : صاحب فراست لوگوں کے لئے ] و س م [وَسْمًا : (ض) کسی چیز پر نشان لگانا۔ داغ دینا۔ سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ (ہم داغ دیں گے اس کو ناک پر) 68:16] [تَوَسُّمًا : (تفعل) نشان اور علامات دیکھ کر حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرنا۔ صاحب فراست ہونا۔ مُتَوَسِّمٌ اسم الفاعل ہے۔ صاحب فراست۔ زیر مطالعہ آیت۔ 75 ۔ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 72–77

رحمتہ للعالمین ﷺ کا بہت بڑا اعزاز، اللہ جل شانہ نے آپ کی جان کی قسم کھائی ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے (لَعَمْرُکَ اِنَّھُمْ لَفِیْ سَکْرَتِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) جو فرمایا ہے اس میں اپنے حبیب مصطفیٰ ﷺ کی جان کی قسم کھائی ہے صاحب روح المعانی ص 42 ج 14 نے امام بیہقی کی دلائل النبوۃ سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی جان سے بڑھ کر کوئی معزز و مکرم جان پیدا نہیں فرمائی اللہ تعالیٰ نے آپ کی حیات کے علاوہ کسی بھی حیات کی قسم نہیں کھائی، یہاں سرسری طور پر جو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر اللہ کی قسم کھانا تو ممنوع ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی جان کی قسم کیوں کھائی ؟ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–77

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 73–77

25:۔ ترتیب قصہ میں یہ ” مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ “ کے بعد ہے۔ ” مُشْرِقِیْنَ “ یہ ” اَخَذْتُھُمْ “ میں ضمیر مفعول سے حال ہے یعنی عذاب نے ان کو سورج چمکنے تک اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عذاب کی ابتداء صبح صادق سے ہوئی اور سورج چمکنے تک ان کا کام تمام کردیا گیا۔ قیل اول العذاب کان عند الصبح وامتد الی شروق الشمس فکان تمام الہلاک عند ذلک (قرطبی ج 10 ص 42) ۔ ” اَلْمُتَوَسِّمِیْنَ اي الْمُتَفَکِّرِیْنَ “ یعنی دھیان دینے اور غور و فکر کرنے والے اصل میں اس کے معنی ہیں الناظرین الی سمۃ الشیء۔ یہاں سوچ بچار سے کنایہ ہے۔ ” سَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ “ شاہراہ عام جرنیلی سڑک، قائم اور ثابت راستہ جو ابھی تک موجود ہے اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–79

(ربط آیات) گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ لوط مہمانوں کے بارے میں قوم سے لجاجت کر رہے تھے کہ خدا کے لیے مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کی بےآبروئی نہ کرو ، مگر لوگوں نے کہا کہ تم خواہ مخواہ اجنبی لوگوں کو اپنے گھر میں ٹھہراتے ہو ، ہم تمہیں منع کرچکے ہیں کہ جہان والوں میں سے کسی کی بھی حمایت نہ کیا کرو ، غرضیکہ بدمعاش قوم نے اپنے قبیح فعل کے جواز کے لیے الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کو بدنام کرنے کی کوشش کی ، (لوط (علیہ السلام) کی پیش کش) اب لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو دوسرے طریقین سے سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ ناپاک کام نہ کرو ، اس کی بجائے (آیت) ” قال ھؤلاء بنتی “۔ یہ میری…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ 75؀ وسم الوَسْمُ : التأثير، والسِّمَةُ : الأثرُ. يقال : وَسَمْتُ الشیءَ وَسْماً : إذا أثّرت فيه بِسِمَةٍ ، قال تعالی: سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ [ الفتح/ 29] ، وقال : تَعْرِفُهُمْ بِسِيماهُمْ [ البقرة/ 273] ، وقوله : إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ [ الحجر/ 75] ، أي : للمعتبرین العارفین المتّعظین، وهذا التَّوَسُّمُ هو الذي سمّاه قوم الزَّكانةَ ، وقوم الفراسة، وقوم الفطنة . قال عليه الصلاة والسلام : «اتّقوا فراسة المؤمن فإنّه ينظر بنور الله» «3» وقال تعالی: سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ [ القلم/ 16] ، أي : نعلّمه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 70–75

ترکیب : اولم ننہک الاستفہام للانکار والو اوللعطف علی مقدر ‘ ای لم تتقدم الیک ولم ننھک عن ان تکلمنا فی شان احداذقصد ناہ بالفاحشتہ۔ لعمرک العمر بالفتح و الضم واحد لکنھم خصوا القسم بالفتح اختیار اللاخف لکثرۃ الاستعمال واتفق المفسرون انہ قسم بحیاۃ محمد ﷺ وانہا الضیر بقریۃ لوط وھی سدوم۔ بسبیل مقیم اے طریق ثابت والباء بمعنی فی اے ہذاء القریۃ فی سبیل واضح عن المدینۃ الی الشام یری آثار غضب اللہ الی زماننا ھذا، ھؤلاء مبتدا بناتی خبر یعمہون حال ضمیر سکرتہم سے والعامل السکرۃ اومعنی الاضافۃ، مشرقین وقت شروق الشمس حال ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 73–77

فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیْحَۃُ مُشْرِقِیْنَ ۔ فَجَعَلْنَا عَلِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ ۔ اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ ۔ وَاِنَّھَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ ۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 73۔ 74۔ 75۔ 76۔ 77) (پس آلیا ان کو ایک سخت کڑک نے جب سورج نکل رہا تھا۔ پس ہم نے ان کی بستی کو زیروزبر کردیا اور ہم نے ان پر برسائے کھنگر کے پتھر۔ بیشک اس سرگزشت میں بصیرت حاصل کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ اور یہ بستی ایک شاہراہِ عام پر ہے بیشک اس سرگزشت کے اندر اہل ایمان کے لیے بڑی نشانی ہے۔ ) نزولِ عذاب قومِ لوط (…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 73–77

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بدمعاشوں کی بدمعاشی کا منظر پیش کرنے کے بعد ان کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ ملائکہ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو پہلے ہی بتلا دیا تھا کہ صبح کے وقت آپ کی قوم کو اللہ کا عذاب آلے گا۔ جونہی عذاب کی گھڑی آپہنچی تو حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) نے پوری بستی کو اٹھایا اور اس قدر اونچا لے جا کر اسے الٹ کر زمین پردے مارا کہ بستی والوں کے چیخنے کی آوازیں آسمان کے ملائکہ تک نے سنیں۔ جس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ سورج نکلنے کے قریب ہی وہ پکڑے گئے اور ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصہ کو نیچے کردیا اور پھر ان پر پتھر برسائے گئے جن پر مخصوص نشان لگے ہوئے تھے۔ (الذاریات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آثار دیدہ عبرت ہیں : 75: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ (اس واقعہ میں کئی نشانیاں ہیں دیکھنے والوں کیلئے) ظاہری علامات سے اندرونی نتائج معلوم کرنے غور کرنے والوں کیلئے۔ گویا کہ وہ ظاہر علامت سے ان چیزوں کے باطن کو پہچان لیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(75) ان فی ذلک لایات للمتوسمین “ ابن عباس ؓ کا قول ہے اس سے مراد دیکھنے والے اور مجاہد (رح) کا قول ہے شناخت کرنے والے، قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد عبرت حاصل کرنے والے۔ مقاتل (رح) نے کہا غور کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–85

73۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–78

آیت 57 (قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

61۔ فہم و فراست رکھنے والوں کے لیے بڑی بھاری نشانیاں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں عقل و فراست رکھنے والوں کے لیے یعنی ان کیلئے جو نگاہ عبرت و بصیرت سے کام لیتے ہیں اور ان آثار و نشانات کو دیکھ کر وہ حق اور حقیقت تک رسائی حاصل کرتے ہیں کہ ایسے لوگ غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور وہ صحیح نتائج اخذ کرنے کے لیے اپنی بصیرت اور بصارت دونوں سے صحیح کام لیتے ہیں۔ جب کہ دوسرے لوگوں کا دیکھنا محض حیوانی آنکھوں سے دیکھنا ہوتا ہے اور بس۔ اس لیے وہ صحیح نتائج اخذ واعتبار سے عاری رہتے ہیں۔ اور متوسم یعنی صاحب فراست ایک طرف تو نورباطن سے سرفراز و سرشار ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت نبی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–79

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 73–76

ف 8 یعنی جو قافلے حجاز سے شام یا عرقا سے مصر جاتے ہیں یہ بستی ان کے راستے میں پڑتی ہے۔ مگر لوگ ہیں کہ اس میں تباہی کے آثار دیکھ کر کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ جدید محققین کا خیال ہے کہ یہ بستی سجرمیت کے (جسے بحر لوط بھی کہتے ہیں) جنوب مشرق میں واقع تھی بلکہ اس زمانہ میں اردن کی حکومت سحرمیت کے جنوبی حصہ سے اس کے تباہ شدہ آثار برآمد کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ (تنبیہ) اس عذاب کے وقت کے متعلق تین الفاظ آئے ہیں ” مشرقین، مصبحین اور بکرۃ “ صبح سے مراد صبح عرفی ہو تو یہ اشراق و بکرۃ کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے بعض نے لکھا ہے کہ صبح یعنی طلوع فجر سے عذاب شروع ہوا اور اشراق یا بکرہ تک ان کا تقصہ تمام کردیا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:75) متوسمین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ المتوسم واحد توسم (تفعل) مصدر۔ اہل فراست۔ علامات سے اندازہ کرنے والے۔ نتیجے اخذ کرتے ہیں۔ الوسم (باب ضرب) کے معنی داغ اور نشان لگانے کے ہیں۔ اور سمۃ علامت اور نشان کو کہتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ سنسمہ علی الخرطوم۔ (68:16) ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–79

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79 منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 72–78

جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جاکر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک آدمی بھی جانبر نہ ہوسکا۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت حاصل کرنے والوں اور غور فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ بستی سدوم ملک شام کی طرف بدبو دار پانی کے چشمہ کی صورت میں آج تک باقی ہے، اور دوسری بستی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مدین ہے وہاں کے لوگ بھی بڑے بدکار تھے اس قوم سے انتقام لیا جو زلزلہ وغیرہ سے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 66–76

قوم لوط کی ہلاکت : (ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) جس قوم کی جانب معبوث ہو کر آئے یہ وہ لوگ تھے جو حد درجہ کے شہوانی تھے ، یہ فواحش کے ارتکاب میں نہایت دلیر تھے ، اور اس درجہ پست اور ذلیل قسم کے جذبات کے مالک تھے کہ تسکین نفس کے لئے لونڈوں کو بہ نسبت عورتوں کے پسند کرتے ، قوم کی قوم اس خبیث مرض میں مبتلا تھی ، اخلاقی حس مردہ ہوچکی تھی ، ہر آن شہوت پرستی میں مشغول اور بدمست رہتے ۔ حضرت لوط کو ان کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ، انہوں نے ہرچند عفت وپاکبازی کی تلقین کی ، مگر یہ بدبخت کہاں مانتے تھے بدمعاشی رگ رگ میں سرایت کرچکی تھی ، بالآخر اللہ کی غیرت نے فیصلہ کرلیا کہ اس ناپاک قوم کو فنا کر کے گھاٹ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ مثلا ایک یہ کہ فعل بد کا نتیجہ بد ہوتا ہے، ایک یہ کہ ایمان و اطاعت سے نجات ہوتی ہے، ایک یہ کہ اللہ کو بڑی قدرت ہے کہ اسباب طبعیہ کے خلاف جو چاہے کردے وغیر ذلک۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس واقعہ میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو پہچان رکھنے والے ہیں : 75۔ ” المتوسمین “ اسم فاعل جمع مذکر مجرور المتوسم مفرد توسم مصدر (باب تفعل) اہل فرات ‘ دیکھنے والے علامات دیکھ کر شناخت کرنے والے توسم کے معنی ہیں علامت دیکھ کر شناخت کرلینا نبی اعظم وآخر ﷺ کی شان میں عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا تھا : انی توسمت فیک الخیرا اعرفہ واللہ یعلم انی ثابت البصر : ” میں نے اپنی جانی بوجھی ہوئی خوبیاں آپ کے اندر پہلے ہی سے دیکھ کر شناخت کرلیا تھا ‘ خدا گواہ ہے کہ میری نظر غلطی نہیں کرتی ۔ “ اس قصہ لوط (علیہ السلام) میں اللہ کی قدرت وحاکمیت کی اور بدی کی مکافات کی بہت نشانیاں ہیں لیکن ان نشانیوں سے وہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–76

Learn Your Essential Lesson From Sites Ruined by Divine Punishment In verses 75 and 76: إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ ﴿75﴾ وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُّقِيمٍ ﴿76﴾ (Surely, in that there are signs for those who read signs. And surely, it [ their city ] is located on the straight road), Allah Ta’ ala has pointed out to the geographical location of such ruined cities which fall on the main road which takes people from Arabia to Syria. Also said with it was that in them there are great signs of the perfect power of Allah Ta’ ala for those who believe and have the necessary hindsight…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 74–75

41. These“stones of baked clay”might have been meteoric showers or volcanic eruptions that flew and rained upon them, or these might have been blown by a strong wind.

Read the full tafseer →