Explained with ayahs 57–60
حضرت ابراہیم ؑ کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انھوں نے بتلایا کہ ہم لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لئے آئے ہیں۔ مگر حضرت لوط ؑ کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی بچ نہیں سکتی؛ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
سورة الْحِجْر 34
اشارے کا یہ اختصار صاف بتارہا ہے کہ قوم لوط کے جرائم کا پیمانہ اس وقت اتنا لبریز ہوچکا تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ جیسے باخبر آدمی کے سامنے اس کا نام لینے کی قطعا ضرورت نہ تھی، بس ”ایک مجرم قوم“ کہہ دینا بالکل کافی تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–71
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
تفسیر آیت 58 تا 60: قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمٍ مُجْرِمِينَ (58)إِلا آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ (59)إِلا امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَا إِنَّهَا لَمِنَ الْغَابِرِينَ (60)۔ فرشتوں نے جواب دیا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں، اس اسلوب بیان سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک تو اس سے فرشتوں کے اس غصہ و غضب کا اظہار ہو رہا ہے جو ان کو قوم لوط پر تھا۔ چناچہ انہوں نے بجائے یہ کہنے کہ ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے یہ کہا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے اندر اس قوم کے خلاف اتنی شدید نفرت تھی کہ ان کو اس کا نام لینا بھی گوارا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
57۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے ان فرشتوں کی گفتگو سے اندازہ لگا لیا کہ یہ صرف اولاد کی بشارت دینے ہی نہیں آئے ہیں بلکہ ان کی آمد کا اصل مقصد کوئی اور ہے۔ چناچہ انہوں نے پوچھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–62
21: حضرت لوط ؑ اپنی قوم کی بد فطرتی سے واقف تھے کہ یہ لوگ اجنبیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ حضرت لوط ؑ کی اس بد نہاد قوم کے مختصر تعارف کے لیے دیکھئے۔ سورة اعراف آیت 80 پر ہمارا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
آیت نمبر 57 تا 60
یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرشتوں سے اچھا خاصا تکرار کیا ، جیسا کہ سورة ہود میں بتایا گیا ہے بلکہ یہاں فرشتے پوری کی پوری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کیونکہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آل لوط پر رحمت خداوندی کی تصدیق کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں ان کی بیوی کے بارے میں فیصلہ ذرا مختلف ہے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے (غابرین یعنی پیچھے قوم کے ساتھ رہ جانے والوں سے ہوگئی اور اس کا انجام قوم کے ساتھ ہوا ۔ یہ لفظ غبرہ سے نکلا ہے ، جس کا اطلاق اس دودھ پر ہوتا ہے جو مویشی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
3 یعنی وہ باقی کفار کے ساتھ عذاب میں مبتلا رہے گی۔ (تنبیہ) ظاہر ہے کہ (قَدَّرْنَآ ۙاِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِيْنَ ) 15 ۔ الحجر :60) مقولہ ملائکہ کا ہے جو عذاب لے کر آئے تھے چونکہ اس وقت وہ قضاوقدر کا فیصلہ نافذ کرنے کے لیے سرکاری ڈیوٹی پر آئے تھے اس لیے تقدیر (ٹھہرانے) کی نسبت نیابۃً اپنی طرف کردی۔ اور ممکن ہے (قَدَّرْنَآ ۙاِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِيْنَ ) 15 ۔ الحجر :60) حق تعالیٰ کا کلام ہو۔ تب کوئی اشکال نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
آیت 57 قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ
اب حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ لوگوں کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے ؟ آپ کو کیا مہم درپیش ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
31 سیدنا ابراہیم کے ڈرنے کی وجہ :۔ ان فرشتوں کی آمد سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ کسی خاص مہم پر آئے ہیں۔ ورنہ لڑکے کی خوشخبری دینے کے لیے تو ایک فرشتہ بھی کافی تھا نیز یہ کہ کئی فرشتوں کا انسانی شکل میں آناغیر معمولی حالات میں ہی ہوا کرتا ہے۔ لہذا آپ نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ تمہاری اس طرح آمد کی اصل غرض وغایت کیا ہے ؟ واضح رہے کہ قرآن نے یہاں خطب کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور یہ لفظ کسی ناگوار صورت حال کے لیے آتا ہے گویا آپ ان فرشتوں کی آمد سے فی الواقع ڈر رہے تھے۔ پھر جب فرشتوں نے بتایا کہ وہ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں تو آپ کا ڈر جاتا رہا۔
Read the full tafseer →51۔ (اس قوم معذب کے ساتھ۔ اور انہی لوگوں کے ساتھ ہلاک ہوگی) حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کافرہ تھی، اور یہ ضرور نہیں کہ آپ (علیہ السلام) کو اس کا علم بھی ہو۔ (آیت) ” قدرنا “۔ اس تجویز کے عمل کو فرشتوں نے منسوب اپنی جانب کیا، حالانکہ یہ فعل براہ راست حق تعالیٰ کا تھا۔ یہ نسبت مجازی عجب نہیں جو فرشتوں کے مرتبہ قرب واختصاص کے اظہار کے لئے ہو :۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
آیت نمبر 45 تا 60
ترجمہ : (شرک و کفر سے) بچنے والے (متقی) باغوں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے، ان سے کہا جائیگا ہر گھبراہٹ سے سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ، (یعنی) حال یہ کہ تم ہر خطرہ سے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یا سلام کے ساتھ، یعنی سلام کرو اور داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگئی ہم اس کو نکالدیں گے وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے (اخوانا) ھم ضمیر سے ھال ہے (متقابلین) بھی اخوانا سے حال ہے یعنی کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا، اسلئے کہ ان کے تخت دائرہ کی شکل میں ہوں گے، نہ وہاں انھیں کسی مشقت سے پالا پڑے گا…
Read the full tafseer →الا امرأتہ : ہم لوط کی بیوی کے سوا قدرنا انھا لمن الغبرین ہم نے طے کردیا ہے کہ وہ (عذاب میں) باقی رہنے والوں (یعنی کافروں) میں شامل ہوگی۔
تقدیر بمعنی قضا کے ہے ‘ یعنی ہم نے کہہ دیا ‘ یا ہم نے طے کردیا۔ لغت میں تقدیر کا معنی ہے : کسی چیز کو دوسری چیز کے اندازہ کے موافق بنا دینا ‘ یا کردینا۔ حقیقت میں یہ فعل اللہ کا ہے ‘ لیکن فرشتوں کو اللہ سے خصوصی قرب حاصل تھا ‘ اسلئے فعل تقدیر کی نسبت فرشتوں کی طرف کردی گئی۔ یا ملائکہ کی طرف فعل تقدیر کی نسبت کرنے کی یہ وجہ ہے کہ وہ تو محض قاصد جو نامہ بر تھے ‘ ان کا ہر قول و فعل اللہ کا قول و فعل تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
(58۔ 59۔ 60) انہوں نے کہا ہم ایک مشرک قوم یعنی حضرت لوط ؑ کی قوم کو سزا دینے کے لیے بھیجے گئے ہیں جنہوں نے بریکام کرکے خود اپنی ہلاکت کا سامان پیدا کرلیا ہے مگر لوط ؑ کے خاندان کو یعنی ان کی دونوں صاحبزادیوں زاعورا اور دیثاء اور ان کی اس بیوی کو جو نیکوکار ہے ہلاکت سے بچا لیں گے سوائے ان کی منافقہ بیوی کے کہ اس کی نسبت ہم نے تجویز کر رکھا ہے کہ وہ ضرور ہلاک ہونے والی قوم میں رہ جائے گی اور ان کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ : غالباً ابراہیم ؑ قرائن سے سمجھ گئے کہ فرشتوں کے آنے کا مقصد محض مجھے خوش خبری دینا نہیں، کیونکہ عموماً فرشتے کسی بڑی مہم ہی کے لیے آیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ) [ الحجر : 8 ] ”ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
آیت نمبر 57 تا 60
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: جب آپ نے جان لیا کہ یہ ملائکہ ہیں کیونکہ انہوں نے آپ کو خارق عادت امر کے بارے خبر دی اور وہ ان کے بچے کی ولادت کے بارے خوشخبری دینا ہے۔ تو آپ نے کہا : تم کس اہم کام کے لئے آئے ہو ؟ اور الخطب کا معنی ہے الامر الخطیر اہم ذی مرتبہ کام، یعنی تمہارا کام اور مقصد کیا ہے اور کس کام کی غرض سے تم آئے ہو ؟ قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین انہوں نے کہا : بیشک ہم مشرک اور گمراہ قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ اور کلام میں اضمار ہے : ای أرسلنا الی قوم مجرمین لنھلکم (ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ہم انہیں ہلاک کردیں) ۔ الا ال لوط سوائے آپ کی پیروی کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔
4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[اِلَّا : سوائے ] [ امْرَاَتَهٗ : ان (علیہ السلام) کی عورت کے ] [ قَدَّرْنَآ ۙ: ہم نے مقرر کیا ] [انهَا : بیشک وہ ] [ لَمِنَ الْغٰبِرِيْنَ : لازماً پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–71
یہ مہمان فرشتے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دے کر فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا
یہ فرشتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد یہ کام بھی کیا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں ان کی ہلاکت کا قصہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے ان لوگوں کو یہ عادت بد پڑی ہوئی تھی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے سورة عنکبوت میں ہے کہ جب ان کو عذاب آنے کی وعید سنائی جاتی تھی تو اس پر یقین نہیں کرتے تھے اور نصیحت کا الٹا اثر لیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–77
ذکر نعمائے اہل جنت
قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔
تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
22:۔ ” قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ “ تا ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ “ رکوع 5) ۔ یہ تخویف دنیوی کا پہلا نمونہ ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ اپنی واقعی ترتیب کے ساتھ سورة ہود میں مذکور ہے یہاں قصہ کی مختلف کڑیوں میں تقدیم و تاخیر ہے ” فَلَمَّا جَاءَ اٰلَ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلُوْنَ “ یہ قصہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ ” قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ الخ “ سے پہلے حذف ہے ای ماجئنٰک لضرک۔ یعنی ہم تیرے پاس تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچانے نہیں آئے بلکہ ہم تیری سرکش قوم کے لیے وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس سے تم ان کو ڈراتے رہے ہو اور جس کی آمد میں وہ شک کرتے رہے ہیں۔” فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ “ لہذا تم اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی نعمت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں شیطان کے اغواء اور اس کی طرف سے اللہ کے حکم کی سرتابی کا ذکر کیا اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا ، پھر اس نے مہلت طلب کی تو اللہ نے قیامت تک کے لیے مہلت بھی دے دی شیطان نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا رہے گا ، البتہ مخلص بندوں پر اس کا وار کارگر نہیں ہوسکے گا ، اللہ نے فرمایا یہ اخلاص ہی میرا سیدھا راستہ ہے ، میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا ، البتہ گمراہ لوگ تیری پیروی کرکے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیں گے جو ان کے وعدے کی جگہ ہے ، پھر فرمایا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اور ہر دروازے…
Read the full tafseer →اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَآ ۙاِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِيْنَ 60ۧ
غبر
الْغَابِرُ : الماکث بعد مضيّ ما هو معه . قال :إِلَّا عَجُوزاً فِي الْغابِرِينَ [ الشعراء/ 171] ، يعني : فيمن طال أعمارهم، وقیل : فيمن بقي ولم يسر مع لوط . وقیل : فيمن بقي بعد في العذاب، وفي آخر : إِلَّا امْرَأَتَكَ كانَتْ مِنَ الْغابِرِينَ [ العنکبوت/ 33] ، وفي آخر : قَدَّرْنا إِنَّها لَمِنَ الْغابِرِينَ [ الحجر/ 60]
( غ ب ر ) الغابر
اسے کہتے ہیں جو ساتھیوں کے چلے جانے کے بعد پیچھے رہ جائے چناچہ آیت کریمہ :إِلَّا عَجُوزاً فِي الْغابِرِينَ [ الشعراء/ 171] مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی ۔ کی تفسیر میں بعض نے اس سے پیغمبر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–60
ترکیب : بسلام حال ہے فاعل ادخلوا سے۔ ای سالمین اومسلما علیھم۔ اخوانا حال ہے ھم سے علی سرر بھی حال ہے اور متقابلین بھی۔ علٰی ان موضع حال میں ہے ای بشر تمونی کبیرا۔ تبشرون کے نون کو مکسور پڑھا ہے نون وقایہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
قَالُـْوٓ ا اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ ۔ اِلاَّ ٓ اٰلَ لُوْطٍ ط اِنَّا لَمُنَجُّوْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلاَّ امْرَاَتَہٗ قَدَّرْنَآ لااِنَّھَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 58۔ 59۔ 60)
(فرشتوں نے کہا : ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ مگر لوط کے گھر والے ہم ان سب کو بچا لیں گے۔ بجز اس کی بیوی کے، ہم نے اس کو تاک رکھا ہے، وہ بیشک پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔ )
فرشتوں کا جواب
فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ یہ نہایت مختصر ساجواب ہے۔ اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس قوم کا ارادہ رکھتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کا عملی ثبوت پیش کیا گیا ہے اور اب حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں اس کے غضب کی ایک مثال پیش کی جا رہی ہے۔ تاکہ ملائکہ کے نزول کا مطالبہ کرنے والے ملائکہ کے نزول کا پوری طرح فرق سمجھ لیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے خوشخبری سننے اور اس پر اطمینان کا اظہار کرنے کے بعد ان سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری آمد کا اور مقصد کیا ہے ؟ ملائکہ نے عرض کیا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ سوائے حضرت لوط (علیہ السلام) اور اس کی آل کے ان کو عذاب سے بچا لیا جائے گا۔ البتہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →60: اِلَّا امْرَاَتَہٗ (مگر ان کی بیوی) لَمُنَجُّوْھُمْ کی ضمیر مجرور سے یہ مستثنیٰ ہے یہ استثناء سے استثناء نہیں اور یہ اسمیں ہوتا ہے جب اس کا حکم اختیار کرلے جیسے کہتے ہیں اہلکنا ھم الا آل لوط الا امراتہٗ ۔ مگر یہاں دونوں حکم مختلف ہیں کیونکہ اِلَّا اٰلَ لُوْط یہ اَرْسَلْنَا کے متعلق ہے یا مجرمین سے متعلق ہے اور الا امراتہٗ یہ منجوھم کے متعلق ہے۔ پھر استثناء سے استثناء کس طرح ہوگا۔
قراءت : لمنجوھم ؔ حمزہ، علی نے تخفیف سے پڑھا ہے۔ قَدَّ رْنَآ (ہم نے طے کردیا) ۔ قراءت : ابوبکر نے تخفیف سے پڑھا اِنَّھَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ (بیشک وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہوگی) عذاب میں باقی رہنے والوں میں…
Read the full tafseer →(60)” الا امرتہ “ اس سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں۔ ” قدرنا “ قضاء کے معنی ہے۔ ” انھا لمن الغابرین “ وہ عذاب باقی رہنے والوں میں شمار ہوگا۔ استثناء نفی سے اثبات کی طرف ہے اور اثبات سے نفی کی طرف۔ اس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا استثناء کیا ہے کہ وہ بھی ان ہلاک شدگان میں شامل ہوں گی۔ ابوبکر (رح) نے یہاں پر ” قدرنا “ دال کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة نمل میں دال کی تخفیف کے ساتھ اور باقی قراء اس کو تشدید کے ساتھ پڑھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
57۔ 60۔ جب فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اولاد کی خوشی سنادی اور ان کے دل سے خوف جاتا رہا تو انہوں نے فرشتوں سے پوچھا کہ اے خدا کے بھیجے ہوئے فرشتوں تمہارا ارادہ کس کام کا ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ فقط بشارت ہی دینے کو نہیں آئے ہیں ان کا آنا کسی اور کام کی غرض سے ہوا ہے اگر خوشی صرف سنانی تھی تو ایک آتا ابراہیم (علیہ السلام) کے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی مجرم قوم پر عذاب لے کر بھیجے گئے ہیں سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے سب لوگ گاؤں کے گاؤں ہلاک ہوجائیں گے اسی میں لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی ہلاک ہوں گی یہ دل میں منافق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–78
آیت 57
(قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
50۔ لوط (علیہ السلام) کی بیوی ہلاک ہونے والوں میں۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے کہا کہ لوط (علیہ السلام) کے آل اور ان کے متعلقین سب کو ہم بچا لیں گے، بجز لوط کی بیوی کے، کہ وہ بھی انہی کے ساتھ ہلاک ہو کر اپنے کیفر کردار کو پہنچے گی کہ وہ بھی ایمان نہیں لائی تھی۔ معلوم ہوا کہ جب تک اپنا عقیدہ و ایمان درست نہ ہو تو پھر پیغمبر کے ساتھ تعلق داری بھی کچھ کام نہیں آسکتی۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا۔ جس طرح کہ ہمارے دور اور ہمارے ملک کے کچھ کلمہ گو مشرکوں اور اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور نہ ہی ہدایت سے نوازکرراہ راست پر لے آنا اور دلوں کو بدل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب
تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور زندگی اطاعت الہی میں بسر کرتے ہیں یقینا باغوں اور چشموں کی بہترین سرزمین میں رہیں گے ایک ایسی جگہ جہاں کا داخلہ ہی ہر طرح کے امن کی ضمانت ہے اور جہاں داخلے پر کہہ دیا جائے گا جاؤ یہاں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز اگر دنیا میں کبھی ایک دوسرے کے درمیان رنجش بھی رہی ہوگی تو اس کا طبعی اثر یا خفگی جنت میں داخلے کے وقت دور کردی جائے گی ۔
(مزاج برزخ میں وہی رہتا ہے جو دنیا میں ہو)
گویا انسانی مزاج کو موت تبدیل نہیں کرتی نہ علم کو فنا کرتی ہے لہذا برزخ میں وہی مزاج رہتا ہے جو دنیا میں رہا ہو اور محبت وناراضگی کے اثرات دل میں موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
ف 9 یعنی عذاب میں باقی رہنے والے کافروں کے ساتھ مبتلائے عذاب ہوگی۔ بظاہر یہ فرشتوں کا کلام معلوم ہوتا ہے۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ کرنے آئے تھے اس لئے ممکن ہے انہوں نے بوجہ قرب و اختصاص کے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو اپنے فیصلہ کے لفظ سے تعبیر کردیا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
(15:60) الا امرأتہ۔ سوائے اس کی بیوی کے۔ اس کا مستثنیٰ منہ آل لوط (ضمیرہم) ہے یعنی خاندانِ لوط کے سارے لوگوں کو ہم بچا لیں گے سوائے اس کی بیوی کے۔
قدرنا۔ ماضی جمع متکلم تقدیر (تفعیل) مصدر۔ ہم نے طے کیا ہے۔
فرشتوں کا فعل کی نسبت اپنی طرف کرنا بدیں وجہ ہوسکتا ہے کہ قرب واختصاص کے پیش نظر مصاحب اکثر مالک کے حکم کو جمع متکلم کے صیغہ سے ظاہر کرتے ہیں مثلاً بادشاہ کا سفیر جب یہ کہے کہ ہمارا یہ موقف ہے۔ تو اس کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ بادشاہ کا یہ موقف ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ طے کر رکھا ہے۔ یا اس کا مطلب ترجمہ یہ ہوسکتا ہے کہ باامر الٰہی ہم نے طے کیا ہے۔ اور اس قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60
ضعیف مہمان۔ وجلون (وجل) ۔ ڈرنے والے لاتوجل تو خوف نہ کر۔ تو نہ ڈر۔ نبشرک ہم خوش خبری دیتے ہیں تم کو۔ غلام علیم علم رکھنے والا لڑکا۔ الکبر بڑھاپا۔ القانطین مایوس ہونے والے۔ الضالون بہکنے والے، گمراہ ۔ ماخطب کیا اصل کام ہے ؟ المرسلون بھیجے ہوئے ۔ منجوھم ہم ان کو بچا لیں گے قدرنا ہم نے فیصلہ کرلیا۔ اندازہ کرلیا۔ الغبرین پیچھے رہ جانے والے ۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60
اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ ہزاروں گناہوں اور مسلسل خطاؤں کے باوجود وہ کسی کو ہر خطا پر نہیں پکڑتا لیکن جب کوئی بندہ یا کوئی قوم گناہ پر گناہ اور اللہ کی نافرمانیوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
جب فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اولاد کی خوشی سنادی اور ان کے دل سے خوف جاتا رہا تو انہوں نے فرشتوں سے پوچھا کہ اے خدا کے بھیجے ہوئے فرشتو ! تمہارا ارادہ کس کام کا ہے، فرشتوں نے کہا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی مجرم قوم پر عذاب لے کر بھیجے گئے ہیں سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے سب لوگ یعنی بستی کی بستی ہلاک ہوجائے گی۔ اسی میں لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی ہلاک ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–62
[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–65
(ف 1) قرآن حکیم کا یہ مخصوص شیوہ بیان ہے کہ احکام کا ذکر کرتے ہوئے عبروبصائر کا انبار لگا دیتا ہے ، اور درمیان میں قوام وملل کے قصص بھی بیان کرتا جاتا ہے کہ حالات کا موازنہ ہوتا رہے ۔ اس سے قبل دعوت رسالت کا ذکر تھا ، پھر مکہ والوں کے تعصب کو بیان کیا ، پھر نوع انسانی کو اپنے ابتدائی حالات کی جانب توجہ دلائی ، تاکہ وہ اپنے اصلی مقام کو پہچانیں ، اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم لوط (علیہ السلام) کے حالات ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں (آیت) ” انی انا الغفور الرحیم “۔ کی تشریح ہے ، اور قوم لوط (علیہ السلام) کی داستان میں (آیت) ” وان عذابی وھو ال عذاب الالیم “۔ کی ۔
بات یہ…
Read the full tafseer →60 ۔ الا یہ کہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی نہیں بچے گی ہم نے طے کرلیا ہے اور اس کی نسبت ہم نے ٹھہرا لیا ہے اور تجویز کرلیا ہے کہ وہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی یقینا رہ جانے والوں میں رہے گی ۔ یعنی جو لوگ عذاب میں مبتلا ہوں گے وہ عورت ان میں شامل رہے گی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ عورت دل سے منافق تھی لیکن اللہ تعالیٰ بغیر ظاہر کی تقصیر کے عذاب نہیں کرتا ایک حکم ایسا بھیجا کہ اس سے نہ ہوگا وہ یہ کہ منہ پھیر کر نہ دیکھیو پھر اس گناہ پر عذاب میں پکڑا ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 7۔ اور ان کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوگی۔
Read the full tafseer →ہاں ! لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی اس عذاب الہی کی لپیٹ میں آنے والی ہے ۔
60۔ ہاں ! ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہم لوط (علیہ السلام) کو ساری بات بتادیں کہ اللہ کے حکم میں یہ بات بھی ہے کہ لوط (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے سارے لوگ وہاں سے ہجرت کرکے نکل جائیں گے اور وہ ہماری اس اطلاع کو خبر پا کر وہاں سے نکل جائیں گے مگر آپ (علیہ السلام) کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی اور پھر ظاہر ہے کہ اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو دوسرے لوگوں کا ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–71
From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
34. The fact that the angels did not name the people of Lot (peace be upon him) but merely referred to them as the wicked people, shows that these people had become so notorious for their wicked deeds that there was no need to mention them by name before Prophet Abraham (peace be upon him), who was well acquainted with the moral condition of all the people around him.
Read the full tafseer →