Al-Hijr 15:57

Al-Hijr · from ayah 57

15:57

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ ۟قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ‏

پھر کہنے لگے کہ فرشتو! تمہیں (اور) کیا کام ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Abraham] said, "Then what is your business [here], O messengers?"

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:57

پھر ابراہیمؑ نے پوچھا "اے فرستادگان الٰہی، وہ مہم کیا ہے جس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر کہنے لگے کہ فرشتو! تمہیں (اور) کیا کام ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پوچھا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا ایسا کیا اہم کام ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

(پھر) انہوں نے پوچھا کہ : اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو ! اب آپ کے سامنے کیا مہم ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا پھر تمہارا کیا کام ہے اے فرشتو!

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ابراہیم ؑ نے دریافت کیا: اے (اللہ کے) بھیجے ہوئے فرشتو! (اس بشارت کے علاوہ) اور تمہارا کیا کام ہے (جس کے لئے آئے ہو)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا تو اے بھیجے ہوؤ ! تمہارا معاملہ کیا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان سے پوچھا : اے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو ! تمہارا کیا معاملہ ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے پوچھا اے فرستادو ! آپ لوگوں کے سامنے مہم کیا ہے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر پوچھا اچھا تو تمہاری اصل مہم کیا ہے، اے فرستادگان الٰہی ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(ابراہیم ؑ نے) کہا کہ اپنے پروردگار کی رحمت سے ناامید ہوتا ہی کون ہے بجز گمراہوں کے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ نے پوچھا : اے فرستادو ! تمہاری کیا مہم ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر کہنے لگے فرشتو ! تمہیں اور کیا کام ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

He added: "What is your errand O sent ones?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Then, what is your mission, O messengers?

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Then, what is your mission, O messengers?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "What then is the business for which you have come, O messengers"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: And afterward what is your business, O ye messengers (of Allah)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Abraham] said, "Then what is your business [here], O messengers?"

— Saheeh International

Messengers, what is your task?"

— Muhammad Sarwar

He said: What is your business then, O apostles?

— Muhammad Habib Shakir

He said: what is your errand, sent ones?

— Abdul Majid Daryabadi

Abraham said: "What then is the business on which ye (have come), O ye messengers (of Allah)?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:57

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–60

حضرت ابراہیم ؑ کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انھوں نے بتلایا کہ ہم لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لئے آئے ہیں۔ مگر حضرت لوط ؑ کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی بچ نہیں سکتی؛ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحِجْر 33 حضرت ابراہیم ؑ کے اس سوال سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا ہمیشہ غیر معمولی حالات ہی میں ہوا کرتا ہے اور کوئی بڑی مہم ہی ہوتی ہے جس پر وہ بھیجے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–71

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ۔ لفظ " خطب " کا غالب استعمال کسی اہم معاملہ اور کسی امر عطیم کے لیے ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم یہ بشارت سن کر اپنے معاملے میں تو مطئن ہوگئے لیکن ان کے دل میں یہ کھٹک پیدا ہوئی کہ محض ایک فرزند کی ولادت کی خوش خبری پہنچانے کے لیے تو اس طرح فرشتوں کی ایک پوری جماعت کے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کا اس صورت میں آنا تو ضرور کسی اہم مقصد ہی کے لیے ہوسکتا ہے۔ پھر قریب ہی قوم لوط کا اخلاق فساد اپنی آخری حد کو پہنچ چکا تھا اور ان کے حالات سے حضرت ابراہیم بیخبر نہیں تھے اس وجہ سے ہوسکتا ہے کہ ان کے دل میں یہ خیال بھی گزرا ہو کہ ہو نہ ہو یہ بجلی اسی خرمن فساد پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 57–61

57۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے ان فرشتوں کی گفتگو سے اندازہ لگا لیا کہ یہ صرف اولاد کی بشارت دینے ہی نہیں آئے ہیں بلکہ ان کی آمد کا اصل مقصد کوئی اور ہے۔ چناچہ انہوں نے پوچھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–62

21: حضرت لوط ؑ اپنی قوم کی بد فطرتی سے واقف تھے کہ یہ لوگ اجنبیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ حضرت لوط ؑ کی اس بد نہاد قوم کے مختصر تعارف کے لیے دیکھئے۔ سورة اعراف آیت 80 پر ہمارا حاشیہ۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–60

آیت نمبر 57 تا 60 یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرشتوں سے اچھا خاصا تکرار کیا ، جیسا کہ سورة ہود میں بتایا گیا ہے بلکہ یہاں فرشتے پوری کی پوری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کیونکہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آل لوط پر رحمت خداوندی کی تصدیق کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہاں ان کی بیوی کے بارے میں فیصلہ ذرا مختلف ہے ، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے (غابرین یعنی پیچھے قوم کے ساتھ رہ جانے والوں سے ہوگئی اور اس کا انجام قوم کے ساتھ ہوا ۔ یہ لفظ غبرہ سے نکلا ہے ، جس کا اطلاق اس دودھ پر ہوتا ہے جو مویشی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی کیا محض یہ بشارت سنانے کے لیے ہی بھیجے گئے ہو۔ یا کوئی اور مہم ہے جس پر مامور ہو کر آئے ہو۔ غالباً قرائن سے ابراہیم (علیہ السلام) سمجھے کہ اصل مقصد تشریف آوری کا کچھ اور ہے۔ ممکن ہے جو خوف انھیں دیکھ کر پیدا ہوا تھا اسی سے خیال گزرا ہو کہ خالص بشارت لانے والوں کو دیکھ کر خوف کیسا ضرور کوئی دوسری خوفناک چیز بھی ان کے ساتھ ہوگی۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 57–61

آیت 57 قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ اب حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ لوگوں کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے ؟ آپ کو کیا مہم درپیش ہے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 57–61

31 سیدنا ابراہیم کے ڈرنے کی وجہ :۔ ان فرشتوں کی آمد سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ کسی خاص مہم پر آئے ہیں۔ ورنہ لڑکے کی خوشخبری دینے کے لیے تو ایک فرشتہ بھی کافی تھا نیز یہ کہ کئی فرشتوں کا انسانی شکل میں آناغیر معمولی حالات میں ہی ہوا کرتا ہے۔ لہذا آپ نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ تمہاری اس طرح آمد کی اصل غرض وغایت کیا ہے ؟ واضح رہے کہ قرآن نے یہاں خطب کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور یہ لفظ کسی ناگوار صورت حال کے لیے آتا ہے گویا آپ ان فرشتوں کی آمد سے فی الواقع ڈر رہے تھے۔ پھر جب فرشتوں نے بتایا کہ وہ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں تو آپ کا ڈر جاتا رہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

48۔ قرآن مجید کی تعلیم رجائیت سے بھری پڑی ہے اور یاس وناامیدی کی جڑ کاٹ رہی ہے۔ اسلام کی اس بنیادی حقیقت کا راز دان ابراہیم خلیل (علیہ السلام) سے بڑھ کر اور ہو کون سکتا تھا چناچہ آپ نے اسی کا یہاں اظہار کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–60

آیت نمبر 45 تا 60 ترجمہ : (شرک و کفر سے) بچنے والے (متقی) باغوں اور چشموں میں ہوں گے جو باغوں میں جاری ہوں گے، ان سے کہا جائیگا ہر گھبراہٹ سے سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ، (یعنی) حال یہ کہ تم ہر خطرہ سے سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یا سلام کے ساتھ، یعنی سلام کرو اور داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگئی ہم اس کو نکالدیں گے وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر مسہریوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے (اخوانا) ھم ضمیر سے ھال ہے (متقابلین) بھی اخوانا سے حال ہے یعنی کوئی کسی کی گدی (پشت) کو نہ دیکھے گا، اسلئے کہ ان کے تخت دائرہ کی شکل میں ہوں گے، نہ وہاں انھیں کسی مشقت سے پالا پڑے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال فما خطبکم ایھا المرسلون ابراہیم نے کہا : اے فرستادگان (الٰہی) تمہارا (آنے کا) معاملہ کیا ہے ؟ یعنی اس بشارت کے علاوہ اصل سبب تمہارے نازل ہونے کا کیا ہے ‘ وہ کیا بڑا کام ہے جس کیلئے تم کو بھیجا گیا ہے۔ شاید حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ متعدد فرشتوں کے آنے کی غرض یہ خوشخبری تو ہو نہیں سکتی ‘ بشارت دینے کیلئے تو ایک بھی کافی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت زکریا اور حضرت مریم کو ایک ہی فرشتہ نے بشارت دی تھی۔ یا حضرت ابراہیم یہ سمجھے کہ ان کے آنے کی اگر اصل غرض اگر خوشخبری پہچانی ہوتی تو آتے ہی بشارت دیتے۔ بشارت تو انہوں نے خوف کو دور کرنے کیلئے ذیلی اور ضمنی طور پردے دی (شروع میں تو مہمان بن کر آئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(57) حضرت ابراہیم ؑ کو جب قرائن سے معلوم ہوگیا تو حضرت جبرائیل ؑ اور ان کے ساتھیوں سے فرمایا کہ یہ تو بتاؤ اب تمہیں کیا مہم در پیش ہے اور کس مقصد کے تحت آئے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 57–61

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ : غالباً ابراہیم ؑ قرائن سے سمجھ گئے کہ فرشتوں کے آنے کا مقصد محض مجھے خوش خبری دینا نہیں، کیونکہ عموماً فرشتے کسی بڑی مہم ہی کے لیے آیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ) [ الحجر : 8 ] ”ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 57–60

آیت نمبر 57 تا 60 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: جب آپ نے جان لیا کہ یہ ملائکہ ہیں کیونکہ انہوں نے آپ کو خارق عادت امر کے بارے خبر دی اور وہ ان کے بچے کی ولادت کے بارے خوشخبری دینا ہے۔ تو آپ نے کہا : تم کس اہم کام کے لئے آئے ہو ؟ اور الخطب کا معنی ہے الامر الخطیر اہم ذی مرتبہ کام، یعنی تمہارا کام اور مقصد کیا ہے اور کس کام کی غرض سے تم آئے ہو ؟ قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین انہوں نے کہا : بیشک ہم مشرک اور گمراہ قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ اور کلام میں اضمار ہے : ای أرسلنا الی قوم مجرمین لنھلکم (ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ہم انہیں ہلاک کردیں) ۔ الا ال لوط سوائے آپ کی پیروی کرنے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–77

1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔ 4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] [ فَمَا : تو کیا ] [ خَطْبُكُمْ : تم لوگوں کا مدعا ہے ] [ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ : اسے بھیجے ہوئے لوگو (یعنی فرشتوں)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–71

یہ مہمان فرشتے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دے کر فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا یہ فرشتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد یہ کام بھی کیا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں ان کی ہلاکت کا قصہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے ان لوگوں کو یہ عادت بد پڑی ہوئی تھی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے سورة عنکبوت میں ہے کہ جب ان کو عذاب آنے کی وعید سنائی جاتی تھی تو اس پر یقین نہیں کرتے تھے اور نصیحت کا الٹا اثر لیتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–77

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 57–66

22:۔ ” قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ “ تا ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ “ رکوع 5) ۔ یہ تخویف دنیوی کا پہلا نمونہ ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ اپنی واقعی ترتیب کے ساتھ سورة ہود میں مذکور ہے یہاں قصہ کی مختلف کڑیوں میں تقدیم و تاخیر ہے ” فَلَمَّا جَاءَ اٰلَ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلُوْنَ “ یہ قصہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ ” قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ الخ “ سے پہلے حذف ہے ای ماجئنٰک لضرک۔ یعنی ہم تیرے پاس تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچانے نہیں آئے بلکہ ہم تیری سرکش قوم کے لیے وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس سے تم ان کو ڈراتے رہے ہو اور جس کی آمد میں وہ شک کرتے رہے ہیں۔” فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ “ لہذا تم اپنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–60

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی نعمت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں شیطان کے اغواء اور اس کی طرف سے اللہ کے حکم کی سرتابی کا ذکر کیا اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا ، پھر اس نے مہلت طلب کی تو اللہ نے قیامت تک کے لیے مہلت بھی دے دی شیطان نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا رہے گا ، البتہ مخلص بندوں پر اس کا وار کارگر نہیں ہوسکے گا ، اللہ نے فرمایا یہ اخلاص ہی میرا سیدھا راستہ ہے ، میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا ، البتہ گمراہ لوگ تیری پیروی کرکے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیں گے جو ان کے وعدے کی جگہ ہے ، پھر فرمایا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اور ہر دروازے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ 57؀ خطب ( حال) الخَطْبُ «2» والمُخَاطَبَة والتَّخَاطُب : المراجعة في الکلام، والخَطْبُ : الأمر العظیم الذي يكثر فيه التخاطب، قال تعالی: فَما خَطْبُكَ يا سامِرِيُّ [ طه/ 95] ، فَما خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ [ الذاریات/ 31] ( خ ط ب ) الخطب والمخاطبۃ والتخاطب ۔ باہم گفتگو کرنا ۔ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹانا ۔ الخطب ۔ اہم معاملہ جس کے بارے میں کثرت سے تخاطب ہو ۔ قرآن میں ہے :۔ فَما خَطْبُكَ يا سامِرِيُّ [ طه/ 95] پھر سامری سے کہنے لگے ) سامری تیرا کیا حال ہے ۔ فَما خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ [ الذاریات/ 31] کہ فرشتوں تمہارا مدعا کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–60

ترکیب : بسلام حال ہے فاعل ادخلوا سے۔ ای سالمین اومسلما علیھم۔ اخوانا حال ہے ھم سے علی سرر بھی حال ہے اور متقابلین بھی۔ علٰی ان موضع حال میں ہے ای بشر تمونی کبیرا۔ تبشرون کے نون کو مکسور پڑھا ہے نون وقایہ ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ اَیُّھَاالْمُرْسَلُوْن۔ (سورۃ الحجر : 57) (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے فرستادگانِ الٰہی ! تمہاری مہم کیا ہے ؟ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اندیشہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیٹے کی خوشخبری سن کر اپنے تئیں مطمئن بھی ہوئے اور مسرور بھی۔ لیکن ایک بات مسلسل ان کے دل میں کھٹک رہی تھی کہ اگر آپ صرف بیٹے کی خوشخبری کے لیے آئے ہیں تو اس کے لیے انسانی شکلوں میں باجماعت آنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی ان کے سامنے کوئی مہم ہے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–60

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کا عملی ثبوت پیش کیا گیا ہے اور اب حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں اس کے غضب کی ایک مثال پیش کی جا رہی ہے۔ تاکہ ملائکہ کے نزول کا مطالبہ کرنے والے ملائکہ کے نزول کا پوری طرح فرق سمجھ لیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے خوشخبری سننے اور اس پر اطمینان کا اظہار کرنے کے بعد ان سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری آمد کا اور مقصد کیا ہے ؟ ملائکہ نے عرض کیا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ سوائے حضرت لوط (علیہ السلام) اور اس کی آل کے ان کو عذاب سے بچا لیا جائے گا۔ البتہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

57: قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ (ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے فرشتو ! تمہارا کیا معاملہ ہے) کیا مقصد ہے اَیُّھَا الْمُرْسَلُوْنَ (اے قاصدو ! ) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(57)” قال “ ان کو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا۔ ” فما خطبکم “ تمہارا معاملہ کیا ہے۔” ایھا المرسلون “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–62

57۔ 60۔ جب فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اولاد کی خوشی سنادی اور ان کے دل سے خوف جاتا رہا تو انہوں نے فرشتوں سے پوچھا کہ اے خدا کے بھیجے ہوئے فرشتوں تمہارا ارادہ کس کام کا ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ فقط بشارت ہی دینے کو نہیں آئے ہیں ان کا آنا کسی اور کام کی غرض سے ہوا ہے اگر خوشی صرف سنانی تھی تو ایک آتا ابراہیم (علیہ السلام) کے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی مجرم قوم پر عذاب لے کر بھیجے گئے ہیں سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے سب لوگ گاؤں کے گاؤں ہلاک ہوجائیں گے اسی میں لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی ہلاک ہوں گی یہ دل میں منافق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–78

آیت 57 (قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 56–57

47۔ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا گمراہوں کا کام : سو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنے رب کی رحمت سے گمراہوں کے سوا اور کون مایوس ہوسکتا ہے۔ تو پھر میں اس واہب مطلق جل جلالہ۔ کی رحمت و عنایت سے مایوس ونا امید کیسے ہوسکتا ہوں ؟ سو میں اس کی قدرت و عنایت سے مایوس نہیں۔ بلکہ مجھے اس کی قدرت و عنایت پر پورا یقین و اعتماد ہے کہ وہ قادر مطلق جب ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کرنے پر قادر ہے تو پھر اس کے لیے بڑھاپے میں کسی کو اولاد سے نوازنا کیونکر اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ بلکہ میں تو صرف عالم اسباب کے اعتبار سے اپنے تعجب کا ذکر اور اظہار کرتا ہوں۔ (المراغی اور البیضاوی وغیرہ) سو حضرت ابراہیم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 45–60

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں اور زندگی اطاعت الہی میں بسر کرتے ہیں یقینا باغوں اور چشموں کی بہترین سرزمین میں رہیں گے ایک ایسی جگہ جہاں کا داخلہ ہی ہر طرح کے امن کی ضمانت ہے اور جہاں داخلے پر کہہ دیا جائے گا جاؤ یہاں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ نیز اگر دنیا میں کبھی ایک دوسرے کے درمیان رنجش بھی رہی ہوگی تو اس کا طبعی اثر یا خفگی جنت میں داخلے کے وقت دور کردی جائے گی ۔ (مزاج برزخ میں وہی رہتا ہے جو دنیا میں ہو) گویا انسانی مزاج کو موت تبدیل نہیں کرتی نہ علم کو فنا کرتی ہے لہذا برزخ میں وہی مزاج رہتا ہے جو دنیا میں رہا ہو اور محبت وناراضگی کے اثرات دل میں موجود…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 غالباً حضرت ابراہیم قرائن سے سمجھ گئے کہ فرشتوں کے آنے کا مقصد محض مجھے خوشخبری دینا نہیں ہے بلکہ کوئی بڑی مہم ہے جس کے لئے انہیں بھیجا گیا ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:57) خطبکم۔ تمہاری مہم۔ تمہارا کام۔ تمہارا معاملہ۔ المرسلون ۔ اسم مفعول۔ جمع مذکر۔ بھیجے ہوئے۔ فرستادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–60

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 ضعیف مہمان۔ وجلون (وجل) ۔ ڈرنے والے لاتوجل تو خوف نہ کر۔ تو نہ ڈر۔ نبشرک ہم خوش خبری دیتے ہیں تم کو۔ غلام علیم علم رکھنے والا لڑکا۔ الکبر بڑھاپا۔ القانطین مایوس ہونے والے۔ الضالون بہکنے والے، گمراہ ۔ ماخطب کیا اصل کام ہے ؟ المرسلون بھیجے ہوئے ۔ منجوھم ہم ان کو بچا لیں گے قدرنا ہم نے فیصلہ کرلیا۔ اندازہ کرلیا۔ الغبرین پیچھے رہ جانے والے ۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ ہزاروں گناہوں اور مسلسل خطاؤں کے باوجود وہ کسی کو ہر خطا پر نہیں پکڑتا لیکن جب کوئی بندہ یا کوئی قوم گناہ پر گناہ اور اللہ کی نافرمانیوں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–60

جب فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اولاد کی خوشی سنادی اور ان کے دل سے خوف جاتا رہا تو انہوں نے فرشتوں سے پوچھا کہ اے خدا کے بھیجے ہوئے فرشتو ! تمہارا ارادہ کس کام کا ہے، فرشتوں نے کہا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی مجرم قوم پر عذاب لے کر بھیجے گئے ہیں سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے سب لوگ یعنی بستی کی بستی ہلاک ہوجائے گی۔ اسی میں لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی ہلاک ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–62

[17] دروازوں کی یہ تعداد ممکن ہے کہ استحقاق عذاب کے لحاظ سے سات طبقوں کے اظہار کے لئے ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مقصود دوزخ میں داخل ہونے والوں کی کثرت تعداد کا اظہار ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 55–65

(ف 1) قرآن حکیم کا یہ مخصوص شیوہ بیان ہے کہ احکام کا ذکر کرتے ہوئے عبروبصائر کا انبار لگا دیتا ہے ، اور درمیان میں قوام وملل کے قصص بھی بیان کرتا جاتا ہے کہ حالات کا موازنہ ہوتا رہے ۔ اس سے قبل دعوت رسالت کا ذکر تھا ، پھر مکہ والوں کے تعصب کو بیان کیا ، پھر نوع انسانی کو اپنے ابتدائی حالات کی جانب توجہ دلائی ، تاکہ وہ اپنے اصلی مقام کو پہچانیں ، اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم لوط (علیہ السلام) کے حالات ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں (آیت) ” انی انا الغفور الرحیم “۔ کی تشریح ہے ، اور قوم لوط (علیہ السلام) کی داستان میں (آیت) ” وان عذابی وھو ال عذاب الالیم “۔ کی ۔ بات یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

57 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا یا خدا کے بھیجے ہوئے فرشتو ! اب تم کو کیا مہم در پیش ہے اور بشارت کے بعد اب کیا کرو گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 56–58

ف 5۔ یعنی نبی ہو کر گمراہ ہونے کی صت سے کب موصوف ہوسکتا ہوں، محض مقصود اس امر کا عجیب ہونا ہے باقی اللہ کا وعدہ سچا اور مجھ کو امید سے بڑھ کر اس کا کامل یقین ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : اے فرستگان تم تو بہت اہم خبر لے کر آئے ہو : 57۔ ” اے آمدنت باعث آبادی ما “ اے آنے والو ! تم نے بہت ہی اہم خبر ہم کو پہنچائی ہے اس خبر کے متعلق قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ (آیت) ” وبشروہ بغلم علیم ‘ ، فاقبلت امراتہ فی صرۃ فصکت وجھھا وقالت عجوز عقیم “۔ (الذاریات 51 : 28 ‘ 29) اور اسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا ‘ یہ سن کر اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنے منہ پر زور دار ہاتھ مارا اور کہنے لگی ” میں تو بوڑھی بانھ ہوں ۔ “ ظاہر ہے کہ سارہ کو تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی اور ان دونوں کے ملنے سے جو صورت حال واقع ہوئی اس کا بیان اس آیت میں کیا گیا ہے لیکن اس خوشی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–71

From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَ‌جِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

33. It appears from the question of Prophet Abraham (peace be upon him) that angels are sent down in human shape only on extraordinary occasions and on some important expedition.

Read the full tafseer →