Explained with ayahs 34–38
ابدی لعنت
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جاسکے کہ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہوجا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قسامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتدا سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اسکی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
سورة الْحِجْر 21
یعنی قیامت تک تو ملعون رہے گا، اسکے بعد جب روز جزا قائم ہوگا تو پھر تجھے تیری نافرمانیوں کی سزا دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
حکم سجدہ فرشتوں کو ہوا تھا ابلیس اس میں تبعا شامل قرار دیا گیا
سورة اعراف میں ابلیس کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا ہے مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی دیا گیا تھا اسی لئے اس سورت کی جو آیات ابھی آپ نے پڑھی ہیں جن سے بظاہر اس حکم کا فرشتوں کے لئے مخصوص ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اصالۃً یہ حکم فرشتوں کو دیا گیا مگر ابلیس بھی چونکہ فرشتوں کے اندر موجود تھا اس لئے تبعا وہ بھی اس حکم میں شامل تھا کیونکہ آدم ؑ کی تعظیم و تکریم کے لئے جب اللہ تعالیٰ کی بزرگ ترین مخلوق فرشتوں کو حکم دیا گیا تو دوسری مخلوق کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
تفسیر آیات 32 تا 35: قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ (32) قَالَ لَمْ أَكُنْ لأسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (33) قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ (34) وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ (35)
یہ حکم ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں اور جنوں کے لیے امتحان تھا جس میں فرشتے کامیاب رہے لیکن ابلیس جو جنوں میں سے تھا، اپنے غرور وتکبر کے سب سے اس میں ناکام رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اس سرکشی کے جرم میں اس کو ملعون و مردود قرار دے کر وہاں سے نکلنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تیرے اوپر یہ لعنت جزا کے دن تک مسلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
33۔ 1 شیطان نے انکار کی وجہ حضرت آدم ؑ کا خاکی اور بشر ہونا بتلایا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اور بشر کو اس کی بشریت کی بنا پر حقیر اور کم تر سمجھنا یہ شیطان کا فلسفہ ہے، جو اہل حق انبیاء (علیہم السلام) کی بشریت کے منکر نہیں، اس لئے کہ ان کی بشریت کو خود قرآن کریم نے وضاحت سے بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں بشریت ان کی عظمت اور شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–38
14: شیطان نے مہلت تو روز حشر تک کے لئے مانگی تھی ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے بجائے ایک اور معین وقت تک کے لئے اسے مہلت دی، اکثر مفسرین کے مطابق وہ پہلے صور کے پھونکنے تک ہے جس کے بعد ساری مخلوقات کو موت آئے گی، اس وقت شیطان کو بھی موت آجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت نمبر 34 تا 35
اب اس کا حسد ، بغض اور شرارت کا مزاج سامنے آتا ہے۔
Read the full tafseer →6 یعنی قیامت کے دن تک خدا کی پھٹکار اور بندوں کی طرف سے لعنت پڑتی رہے گی۔ اس طرح آناً فاناً خیر سے بعید تر ہوتا رہے گا۔ جب قیامت تک توفیق خیر کی نہ ہوگی تو اس کے بعد تو کوئی موقع ہی نہیں کیونکہ آخرت میں ہر شخص وہ ہی کاٹے گا جو یہاں بویا ہے۔ یا یوں کہو کہ قیامت کے دن تک لعنت رہے گی۔ اس کے بعد جو بیشمار قسم کے عذاب ہوں گے وہ لعنت سے کہیں زیادہ ہیں، یا " اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ " کا لفظ دوام سے کنایہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
آیت 34 قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌ
آدم کو سجدہ کرنے کے حکم الٰہی کا انکار کر کے تم راندہ درگاہ ہوچکے ہو۔ اب یہاں سے فی الفور نکل جاؤ !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–37
9 1 فرشتوں کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم :۔ جب انسان کا پتلا تیار ہوگیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے لگا ہوں۔ جب میں اس کی نوک پلک درست کرکے اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم اسی وقت اس کے سامنے سجدہ میں گرپڑنا روح پھونکنے سے مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ہلکا سا پر تو انسان میں پیدا ہوجائے اور انسان کو جو دوسری تمام جانداروں سے زیادہ عقل وتمیز، قوت ارادہ و اختیار، مختلف اشیاء کے خواص معلوم کرنے کا علم نیز غور و فکر کے ذریعہ استنباط یا تنائج حاصل کرنے کا علم دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اسی نفخہ کا نتیجہ ہے اور اسی بنا پر انسان زمین…
Read the full tafseer →30۔ (اور تو نہ راہ راست پر آئے گا، نہ تجھے توفیق توبہ ہوگی) لعنت کے معنی اوپر گزر چکے ہیں کہ رحمت سے مہجوری کے ہیں۔ (آیت) ” الی یوم الدین “۔ قیامت تک “ سے محاورہ میں مراد دوام ہوتی ہے، یہ مراد نہیں کہ قیام قیامت کے بعد ابلیس کی ملعونیت جاتی رہے گی۔ المراد منہ التابید وذکر القیامۃ ابعد غایۃ یذکرھا الناس فی کلامھم (کبیر) اور محاورۂ زبان سے قطع نظر تو بھی ظاہر ہے کہ جو محل رحمت قیامت تک نہ ہو اس کے لیے بعد قیامت محل رحمت ہونے کی گنجائش کیا ہے ؟ دارالجزاء میں تو دارالعمل کا صرف تکملہ ہی ہوتا ہے نہ کہ اس سے قطع نظر کرکے کسی جدید شے کی پیدائش۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
آیت نمبر 26 تا 44
ترجمہ : بیشک ہم نے انسان (یعنی) آدم کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا یعنی ایسی خشک مٹی جب اس کو نجایا جائے تو اس کی آواز سنی جائے اور اس سے پہلے (یعنی) تخلیق آدم سے پہلے ہم نے جنات (یعنی) ابو الجن کو کہ وہ ابلیس ہے شعلے سے کہ جس میں دھواں نہ ہو اور وہ مسامات (یعنی بدن کے مسامات) میں نفوذ کر جائے پیدا کیا اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو کالی سڑی ہوئی کھنکھناے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر چکوں اور اس میں اپنی روح ڈال چکوں اور وہ زندہ ہوجائے اور روح کی نسبت اللہ کی طرف آدم کیلئے کرامت کے طور پر…
Read the full tafseer →وان علیک اللعنۃ الی یوم الدین اور روز جزاء تک تجھ پر لعنت یقینی ہے۔ روز جزاء پر پھٹکار اور لعنت کی انتہاء ہے ‘ اس کے بعد اعمال کی (اُخروی) سزا و جزا ہوگی اور لعنت اخروی کے عذاب کا وقت آجائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ روز جزاء تک تو لعنت ہوگی اور اس کے بعد ایسی سخت سزا دی جائے گی کہ اس کی موجودگی میں دنیوی لعنت بھول جائے گی۔
بعض نے کہا : (لعنت کو یوم الدین تک جاری رکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد لعنت ختم ہوجائے گی بلکہ یہ ایک محاورہ کی بات ہے) طویل ترین مدت کیلئے کہا جاتا ہے کہ قیامت تک یہ بات ہوتی رہے گی یا نہ ہوگی (اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت کے بعد اس کے خلاف ہوگا بلکہ کام کے ہونے ‘ نہ ہونے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
(35۔ 36۔ 37۔ 38) اور قیامت تک تجھ پر میری اور تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت رہے گی، ابلیس نے کہا تو پھر قیامت تک مجھ کو مہلت دیجیے، اس مردود نے چاہا کہ موت کا مزہ بھی نہ چکھے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، جا تجھ کو ایک وقت تک مہلت دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
اس آیت سے آیت (39) تک کی مفصل تفسیر کے لیے سورة اعراف (11 تا 18) اور سورة بقرہ (30 تا 34) تک کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
وَّاِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ : اس کا ترجمہ ”خاص لعنت“ الف لام کی و جہ سے کیا گیا ہے اور اس کی وضاحت سورة ص (78) میں آئی ہے، فرمایا : (وَّاِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِی) یعنی تجھ پر میری لعنت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
آیت نمبر 32 تا 35
قولہ تعالیٰ : قال یا بلیس ما لک اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ابلیس ! تیرے لئے کون سی شے مانع اور رکاوٹ تھی ؟ الا تکون مع السجدین یعنی اس بارے میں کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیا۔ قال لم اکن لاسجد لبشر خلقتہ من صلصال من حما مسنون یعنی اس نے اپنا تکبر اور اپنا حسن بیان کیا، اور یہ کہ وہ اس (آدم علیہ السلام) سے بہتر ہے، کیونکہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ مٹی کو کھا جاتی ہے ؛ جیسا کہ اس کا بیان سورة الاعراف میں گز چکا ہے قال فاخرج منھا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا (اے بےادب ! ) تو نکل جا آسمانوں سے، یا جنت عدن سے، یا تمام ملائکہ سے۔ فانک رجیم یعنی نوشبابوں کے ساتھ بھگایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ جان جنوں کی مسخ شدہ صورت ہے جیسے بندر اور خنزیر انسانوں کی مسخ شدہ صورت ہے۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولجآن خلقنہ من قبل “ اور وہ ابلیس ہے جو آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا کیا گیا۔
3:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس فرشتوں کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جن کو جن کہا جاتا ہے وہ فرشتوں میں سے ایسی آگ سے پیدا کئے گئے تھے جس میں دھواں نہیں ہے اور وہ جنات جن کا قرآن میں ذکر کیا گیا وہ آگ کے شعلہ سے پیدا کئے گئے تھے۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[وَّان : اور بیشک ] [عَلَيْكَ : تجھ پر ] [ اللَّعْنَةَ : لعنت ہے ] [ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ : بدلے کے دن تک ]
نوٹ۔ 1: یہاں قرآن اس امر کی صاف تصریح کرتا ہے کہ انسان حیوانی منازل سے ترقی کرتا ہوا بشریت کے حدود میں نہیں آیا، جیسا کہ نئے دور کے ڈارون سے متاثر کچھ مفسرین قرآن ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بلکہ اس کی تخلیق کی ابتدا براہ راست ارضی مادوں سے ہوئی ہے جن کی کیفیت اللہ تعالیٰ نے صَلْصَالِ مِّنْ حَمَاِ مَّسْنُوْنِ کے الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ خمیر اٹھی ہوئی مٹی کا ایک پتلا بنایا گیا تھا جو بننے کے بعد خشک ہوا اور پھر اس کے اندر روح پھونکی گئی۔ (فہیم القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
ابلیس کا سجدہ کرنے سے انکاری ہونا
انسان اور جن کی تخلیق کا تذکرہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم سے پہلے ہی فرشتوں سے فرما دیا تھا کہ میں ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں جو بجتی ہوئی کالی سڑی ہوئی مٹی سے بنایا جائے گا جب وہ بن جائے اور میں اس میں روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ ریز ہوجانا یعنی اسے تعظیمی سجدہ کرنا چناچہ فرشتوں نے حکم مانا فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا اور سب نے بیک وقت مجتمع ہو کر آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کردیا یہ سجدہ تعظیمی تھا سجدہ عبادت نہیں تھا عبادت تو غیر اللہ کے لیے کبھی بھی جائز نہیں تھی البتہ سجدہ تعظیمی بعض شرائع سابقہ میں جائز تھا شریعت محمدیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
ذکر پیدائش انس و جن و قصہ پیدائش آدم (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ : ولقد خلقنا الانسان من صلصال .... الیٰ .... لکل باب منھم جزء مقسوم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں حق جل شانہ نے حیوانات کی پیدائش سے اپنی قدرت اور خالقیت کا ذکر فرمایا اب یہاں جن و انس سے اسی مقصود پر استدلال فرماتے ہیں اور جان سے مراد یہاں جنوں کا باپ ہے جس طرح اوپر کی آیتوں میں انسان سے تمام انسانوں کے باپ مراد ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ آدمیوں کا باپ، ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ترابی غالب تھا اور جنوں کا باپ ایسے مادہ سے پیدا کیا گیا جس میں عنصر ناری کا غلبہ تھا۔ ابلیس اسی قسم میں سے تھا اللہ تعالیٰ نے ان دو مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–38
15:۔ ابلیس نے جواب دیا کہ جس بشر کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے اسے سجدہ کرنا میرے شایانِ شان نہیں تھا کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے اور آگ بہرحال مٹی سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اراد ابلیس انہ افضل من ادم لان ادم طینی الاصل وابلیس ناری الاصل والنار افضل من الطین (خازن ج 4 ص 66) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابلیس سب سے پہلا شخص ہے جس نے بشر کو حقارت کی نظر سے دیکھا اس کے بعد ہر زمانہ میں اس نے مشرکین کو بہکایا اور بشر کے حقیر ہونے کا خیال ان کے دلوں میں ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو نافرمانی اور تحقیر بشر کی یہ سزا دی کہ اس کا نام فرشتوں کی فہرست سے خارج کر کے تاقیامت اس کو ملعون و مغضوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے دلائل بیان ہوئے ، پہلے بیرونی دلائل کا ذکر ہوا جن میں آسمانوں کی تخلیق ، اس میں ستاروں اور سیاروں کو چلانا ، پھر زمین کو پھیلانا اور اس میں طرح طرح کی چیزیں پیدا کرنا ، پھر زمین وآسمان کے درمیان فضاؤں میں ہواؤں کو چلانا ، بادلوں کو اٹھانا ، باران رحمت کا نزول ، انسانوں ، جانوروں اور نباتات کے لیے پانی کی بہم رسانی اور اس کے نتیجے میں خوراک کا مہیا کرنا وغیرہ بیرونی دلائل تھے ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے قیامت کا ذکر بھی فرمایا (آیت) ” ان ربک ھو یحشرھم “۔ تیرا پروردگار ان سب کو اس دن اکٹھا کریگا وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر…
Read the full tafseer →وَّاِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ 35
لعن
اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18]
( ل ع ن ) اللعن
۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–44
جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔
خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–38
فَسَجَدَالْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلاَّ ٓاِبْلِیْسَ ط اَبٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔ قَالَ یٰٓاِبْلِیْسَ مَالَکَ اَلاَّ تَکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔ قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ۔ وَّاِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْ ٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۔ (سورۃ الحجر : 30 تا 38)
(تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کردیا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
اللہ تعالیٰ نے جونہی حکم صادر فرمایا تو تمام کے تمام ملائکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سر بسجود ہوگئے۔ سوائے ابلیس کے وہ اکڑا رہا اور اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے استفسار فرمایا۔ تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ سجدہ نہیں کیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اس نافرمانی اور سرکشی پر رب ذوالجلال سے معافی طلب کرتا لیکن اس نے یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کی گستاخی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی عیب جوئی کی کہ میں ایک بشر کو کیوں سجدہ کروں جس کو تو نے بدبودار اور کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔
مسائل
1۔ ابلیس نے حضرت آدم (علیہ…
Read the full tafseer →سزائے انکار :
35: وَّ اِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ (اور روز جزاء تک تم پر لعنت یقینی ہے) یوم الدین کو لعنت کی حد کے طور پر بیان کیا کیونکہ کلام میں سب سے بعیدترین غایت لوگ یہی بیان کرتے ہیں مراد ؔ اس سے یہ ہے کہ تو قابل مذمت ہے۔ آسمانوں اور زمین میں قیامت تک ملعون پکارا جائے گا بغیر اس کے کہ تمہیں سزا دی جائے۔ جب وہ دن آجائے گا تو تمہیں ایسی سزا دی جائے گی جس سے لعنت کو بھول جائے گا۔
Read the full tafseer →35۔” وان علیک اللعنۃ الی یوم الدین “ کہ آسمان والے ابلیس پر لعنت بھیجتے ہیں جیسے اہل زمین والے اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ گویا یہ زمین و آسمان دونوں جگہ ملعون ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
34۔ 38۔ جب شیطان نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور تکبر کی راہ سے اپنے کو آدم سے افضل سمجھا تو اللہ پاک کا یہ حکم اس کے حق میں صادر ہوا کہ تو فرشتوں کے زمرہ سے نکل جا اور اگر کبھی ادھر کا قصد کرے تو تجھ پر انگارے برسیں گے اور قیامت تک تجھ پر پھٹکار ہوتی رہے گی یہاں مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ قیامت تک پھٹکار ہونے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ قیامت کے بعد پھر اس پر لعنت نہ ہوگی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک صرف لعنت ہی لعنت ہے اور بعد قیامت کے لعنت سے بڑھ کر اس پر عذاب بھی ہوگا۔ اس عذاب کے سامنے وہ اس پھٹکار کو بھول جائے گا بہر حال جب اس کو یہ معلوم ہوگیا کہ خدا نے قیامت تک عذاب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–44
آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت ا ہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چناچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ “ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے “ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
33۔ ابلیس پر قیامت تک کے لئے لعنت و پھٹکار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حق تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا کہ تجھ پر لعنت ہے قیامت کے دن تک، کہ قیامت تک تجھ پر ہر طرف لعنت وپھٹکارہی پڑتی رہے گی، اور اس کے بعد تو ہمیشہ کے لئے دوزخ میں داخل ہوجائے گا جہاں تو اپنے کئے کا بھگتان ہمیشہ کے لئے بھگتتا رہے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو تجھے نفخئہ اولی تک مہلت دے دی گئی۔ اس کے بعد جب نفخئہ اولی سے سب مخلوق فنا ہوجائے گی تو ان کے ساتھ تو بھی فنا ہوجائے گا۔ پھر چالیس سال تک نفخئہ ثانیہ پھونکا جائے گا تو بھی باقی مخلوق کے ساتھ موت کی آغوش میں رہے گا۔ اس کے بعد نفخئہ ثانیہ کے ذریعے سب مخلوق دوبارہ زندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
انسان کی پیدائش اور ابلیس کی نافرمانی
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ اور شیطان کا ملعون ہونا سورة بقرہ رکوع 4، سورة نساء رکوع 18 اور سورة اعراف رکوع 2 میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں سورة الحجر میں کیونکہ ان آیات سے پہلے تمام کائنات اور ہر چیز کے ناپ تول کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے یہاں انسان کی پیدائش، جسم، نفس، روح اور زندگی کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب بھی اللہ نے بڑے حساب کتاب اور ناپ تول سے بنائے ہیں۔ یہاں وہ تمام راز کھول کر بیان کردیے گئے ہیں جو انسانی سائنسی تحقیقات سے بہت بلند ہیں۔ پچھلی آیات سے جو کچھ معلوم ہوا وہ تو تمام تخلیقات کے بارے میں تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
خود انسان کو بھی تو ہم نے ہی پیدا کیا سڑے ہوئے مٹی گارے سے جو خشک ہوچکا تھا ۔
(جنات کو پہلے پیدا کیا گیا)
قبل ازیں ہم جنات کو آگ کی لو سے پیدا کرچکے تھے یعنی آگ کی وہ تپش جو ایک گرم ہوا کی صورت میں تھی کہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کی ملاوٹ سے ہوتا ہے ورنہ وہ بہت لطیف ہوتی ہے تو گویا جنات کا وجود اسی سے پیدا ہوا جو نظر نہیں آتا ، اور جنات پہلے سے زمین پر آباد کئے گئے تھے ،۔
پھر وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں کھنکتے اور سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر تخلیق کر رہا ہوں جب وہ بن چکے اور میں اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب کے سب اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ف 4 ۔ یعنی دنیا کے خاتمے تک مہلت دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(15:34) منھا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع یا سماء ہے یا جنۃ ہے یا زمرۂ ملائکہ (محذوف ) ہے۔
رجیم۔ مردود۔ راندہ ہوا۔ ملاحظہ ہو (15:17) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–44
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 44
صلصال وہ مٹی جو سوکھ کر سخت ہوجائے اور بجنے لگے ۔ مسنون گوندھی گئی۔ السموم لو۔ نفخت میں نے پھونک دیا۔ پھونک ماردی، حما سڑی ہوئی مٹی، کیچڑ۔ جان جن۔ سویت میں نے برابر کردیا۔ ٹھیک کرلیا۔ روحی میری روح ، قعوا گرپڑو۔ ابی انکار کیا۔ ان یکون یہ کہ وہ ہو۔ مالک تجھے کیا ہوا۔ لم اکن میں نہیں ہوں بشر انسان۔ اخرج نکل جا۔ لعنت لنت، اللہ کی رحمت سے دوری۔ انظرنی تو مجھے مہلت دیدے۔ یبعثون (اٹھائے جائیں گے) ۔ اغویت (اغوائ) تو نے سیدھی راہ سے ہٹا دیا ۔ سلطن قوت، زور الغوین بہکنے والے۔ موعد وعدہ کی جگہ۔ سبعۃ ابواب سات دروازے۔ جزاء حصہ۔ مقسوم تقسیم کیا گیا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
شیطان کو آسمان سے نکال دینے اور اس کے قسم کھانے کا ذکر
جب شیطان نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے نکار کردیا اور تکبر کی راہ سے اپنے کو آدم (علیہ السلام) سے افضل سمجھا تو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اس کے حق میں صادر ہوا کہ فرشتوں کے زمرہ سے نکل جا اور اگر کبھی ادھر کا قصد کرے گا تو تجھ پر انگارے برسیں گے اور قیامت تک تجھ پر پھٹکار ہوتی رہے گی اور بعد قیامت کے لعنت سے بڑھ کر عذاب ہوگا۔ اس عذاب کے سامنے وہ اس پھٹکار کو بھول جائے گا۔ بہرحال جب اس کو یہ معلوم ہوگیا کہ خدا نے قیامت تک عذاب کو اس کے حق میں موقوف رکھا ہے تو اس نے خدا سے یہ سوال کیا کہ مجھے اس وقت مقررہ تک ڈھیل دی جائے اور میں اس روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
[14] انسان کے اندر جو روح پھونکی گئی ہے وہ دراصل صفات الٰہی کا ایک عکس یا پرتو ہے اور اس پرتو کی وجہ سے انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ قرار پایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
(ف 1) حضرت آدم کے قصے کو قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر بیان کیا ہے ، غرض یہ ہے کہ انسان اپنے شرف ومجد سے آگاہ ہو ، اسے معلوم ہو ، کہ اللہ نے اس کا درجہ کتنا بلند بنایا ہے آدم (علیہ السلام) کے سامنے فرشتے جھکتے ہیں ، اس لئے چاہئے کہ اس کا سر ہمیشہ اونچا رہے ، وہ اس جبین پر وقار کو جو مسجود ملائک رہ چکی ہے ، بجز رب العالمین کے اور کسی کے آگے نہ جھکائے ،
اللہ نے فرشتوں کو اسی لئے جھکایا ، اور سجدہ کا حکم دیا ، تاکہ ابتداء ہی سے آدم کے دل میں خود شناسی کا مادہ پیدا ہو ، اور وہ اپنے مرتبت سے واقف ہو ، اسے معلوم ہو کہ میں فرشتوں کو اپنے سامنے جھکا سکتا ہوں ، اور اللہ نے مجھے تمام مخلوقات میں اشرف…
Read the full tafseer →35 ۔ اور بیشک تجھ پر انصاف کے دن تک یعنی قیامت کے دن لعنت و پھٹکار ہے۔ یعنی جس پر قیامت کے دن تک لعنت رہے قیامت کے دن اس کو کسی خیر کی کیا امید ہو کستی ہے نہ مقبول ہوگا نہ توبہ کی توفیق ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
ف 3۔ یعنی قیامت تک تو میری رحمت سے بعید رہے گا مقبول و مرحوم و موفق للتوبة نہ ہوگا، اور ظاہر ہے کہ قیامت تک جو محل رحمت نہ ہوگا، پھر قیامت میں تو مرحوم ہونے کا احتمال ہی نہیں، پس جس وقت تک احتمال تھا اسی کی نفی کردی۔
Read the full tafseer →ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت طلب کرلی کہ اے اللہ مجھے ڈھیل دے دے :
36۔ اس سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے جو غیر اللہ کے دو رازوں کی طرف دھکے کھاتے پھرتے ہیں کہ اللہ ہماری تو نہیں سنتا اس لئے انکے پاس کوئی سفارش لے جانا ضروری ہے کیونکہ وہ اپنے خاص بندوں کی دعاؤں کو خوب سننے والا ہے ، اس آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو وہ ہے جو شیطان کی پکار سن کر بھی اس کو پورا کردیتا ہے جب کہ وہ شیطان ہونے کے باوجود اس کو پکارتا ہے ، پھر ایک انسان جب ہریاں دل لے کر رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوگا اور اس کو اپنا رب سمجھ کر پکارے گا تو وہ اس کی فریاد ضرور سنے گا کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
The Command to Prostrate was Given to Angels - Iblis was to Follow Suit
Addressing Iblis in Surah Al-A` raf, it was said: مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ (What stopped you from prostrating when I ordered you? - 7:12). This shows that the command to prostrate was given, along with the angels, to Iblis as well. However, the verses you have gone through a little earlier apparently give the sense that the command was particular to the an-gels. This could mean that the command was originally given to the angels but, as Iblis too was present among the angels, therefore, he too was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
21. That is, you shall remain accursed up to the Resurrection. Then you shall be punished for your disobedience on the Day of Judgment.
Read the full tafseer →