حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 26 of 31

3290Sahih Muslim

حج اور عمرہ کے فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ سُهَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ

سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان، بن عیینہ، محمد بن عبدالملک، عبدالعزیز، بن مختار، سہیل، ابن نمیر، عبیداللہ، ابوکریب، وکیع، محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، اس سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مالک بن انس ؓ کی حدیث کی طرح نقل فرمایا۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.

3291Sahih Muslim

حج اور عمرہ کے فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَی هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ کَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ

یحییٰ بن یحیی، زہیر بن حرب، یحیی، زہیر، جریر، منصور، حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی بیت اللہ آئے اور پھر نہ تو وہ بےہودہ گفتگو کرے اور نہ ہی وہ گناہ کے کام کرے تو وہ بیت اللہ سے واپس اس حال میں لوٹے گا جیسا کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے ابھی پیدا ہوا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying. He who came to this House (Ka’bah) (with the intention of performing Pilgrimage), and neither spoke indecently nor did he act wickedly, would return (free from sin) as on the (very first day) his mother bore him.

3292Sahih Muslim

حج اور عمرہ کے فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ وَأَبِي الْأَحْوَصِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ

سعید بن منصور، ابی عوانہ، ابی احوص، ابوبکر بن ابی شبیہ، وکیع، مسعر، سفیان، ابن مثنی، حضرت منصور ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے اور ان ساری حدیثوں میں ہے کہ جس آدمی نے حج کیا اور پھر نہ تو کوئی بیہودہ باتیں کیں اور نہ ہی کوئی گناہ کا کام کیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters (and the words are): "He who performed Pilgrimage but neither spoke indecently nor acted wickedly."

3293Sahih Muslim

حج اور عمرہ کے فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

سعید بن منصور، ہشیم، سیار، ابی حازم، ابوہریرہ اس سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی حدیث کی طرح روایت نقل فرمائی۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) .

3294Sahih Muslim

حجاج کا مکہ میں اتر نے اور مکہ کے گھروں کی وراثت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَخْبَرَهُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْزِلُ فِي دَارِکَ بِمَکَّةَ فَقَالَ وَهَلْ تَرَکَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ وَکَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلَا عَلِيٌّ شَيْئًا لِأَنَّهُمَا کَانَا مُسْلِمَيْنِ وَکَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ کَافِرَيْنِ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، علی بن حسین، عمرو بن عثمان، حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا آپ ﷺ مکہ میں اپنے گھر میں اتریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے مکہ میں کوئی زمین یا کوئی گھر چھوڑا ہے؟ عقیل اور طالب، ابوطالب کے وارث تھے اور حضرت جعفر ؓ اور حضرت علی ؓ کو ان کے ترکہ میں سے کچھ نہیں ملا تھا کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے اور عقیل اور طالب کافر تھے۔

Usama bin Zaid bin Haritha (RA) said to Allahs Messenger ﷺ : Will you stay in your house at Makkah (which you abandoned at the time of migration)? Thereupon he said: Has Aqil left for us any land or house? And Aqil and Talib became the Inheritors of Abu Talibs (property), and neither Jafar nor Ali inherited anything from him, for both (Jafar and Ali) were Muslims whereas Aqil and Talib were non-Muslims.

3295Sahih Muslim

حجاج کا مکہ میں اتر نے اور مکہ کے گھروں کی وراثت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا وَذَلِکَ فِي حَجَّتِهِ حِينَ دَنَوْنَا مِنْ مَکَّةَ فَقَالَ وَهَلْ تَرَکَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا

محمد بن مہران، ابن ابی عمر، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ابن مہران، عبدالرزاق، معمر، زہری، علی بن حسین، عمر بن عثمان، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! کل ہم کہاں اتریں گے؟ اور جس وقت کہ ہم اپنے حج کے سلسلہ میں مکہ کے قریب تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا ہمارے لئے عقیل نے کوئی گھر چھوڑا ہے؟

Usama bin Zaid (RA) said: Allahs Messenger, where will we stay tomorrow? And it was at the time when we were close to Makkah for hajj). Thereupon he (the Holy Prophet) said: Has Aqil left any accommodation for us?

3296Sahih Muslim

حجاج کا مکہ میں اتر نے اور مکہ کے گھروں کی وراثت کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّهُ وَذَلِکَ زَمَنَ الْفَتْحِ قَالَ وَهَلْ تَرَکَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ

محمد بن حاتم، روح بن عبادہ، محمد بن ابی حفصہ، رمعہ، بن صالح، ابن شہاب، علی بن حسین، عمرو بن عثمان، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر اللہ نے چاہا تو کل آپ ﷺ کہاں اتریں گے؟ اور یہ فتح مکہ کا زمانہ تھا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی گھر چھوڑا ہے؟

Usama bin Zaid (RA) said: Allahs Messenger, God willing, where will you stay tomorrow? And it was at the time of the Conquest (of Makkah). Thereupon he (the Holy Prophet) said: Has Aqil left any accommodation for us?

3297Sahih Muslim

مہاجر کے مکہ مکرمہ میں قیام کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ هَلْ سَمِعْتَ فِي الْإِقَامَةِ بِمَکَّةَ شَيْئًا فَقَالَ السَّائِبُ سَمِعْتُ الْعَلَائَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلْمُهَاجِرِ إِقَامَةُ ثَلَاثٍ بَعْدَ الصَّدَرِ بِمَکَّةَ کَأَنَّهُ يَقُولُ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان یعنی ابن بلال، حضرت عبدالرحمن بن حمید ؓ سے روایت ہے انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے سنا وہ سائب بن یزید سے پوچھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کیا تو نے مکہ میں قیام کرنے کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ حضرت سائب کہنے لگے کہ میں نے حضرت علاء بن حضرمی ؓ سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ مہاجر کے لئے فرماتے ہیں کہ وہ منیٰ سے واپسی کے بعد مکہ میں تین دن تک قیام کرسکتا ہے گویا کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ اس سے زیادہ نہ کرے۔

Al-Ali bin al-Hadrami reported Allahs Messenger (may peace he upon as saying: For a Muhajir, it is only three (days) stay at Makkah, after completing (the Hajj or Umrah) that is allowed, and it seemed as if he was saying that he should not (stay) beyond this (period).

3298Sahih Muslim

مہاجر کے مکہ مکرمہ میں قیام کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ لِجُلَسَائِهِ مَا سَمِعْتُمْ فِي سُکْنَی مَکَّةَ فَقَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ سَمِعْتُ الْعَلَائَ أَوْ قَالَ الْعَلَائَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُ الْمُهَاجِرُ بِمَکَّةَ بَعْدَ قَضَائِ نُسُکِهِ ثَلَاثًا

یحییٰ بن یحیی، سفیان بن عیینہ، عبدالرحمن، ابن حمید، عمر بن عبدالعزیز، حضرت عبدالرحمن بن حمید ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے سنا وہ اپنے ہم نشینوں سے فرماتے ہیں کہ تم نے مکہ میں قیام کے بارے میں کیا سنا ہے؟ حضرت سائب بن یزید ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علاء یا فرمایا کہ حضرت علاء بن حضرمی ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مہاجر مناسک حج کی ادائیگی کے بعد مکہ میں تین دن قیام کرسکتا ہے۔

Al-Ali bin al-Hadrami reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Muhajir should stay at Makkah after performing the rituals (of Hajj) but for three (days) only.

3299Sahih Muslim

مہاجر کے مکہ مکرمہ میں قیام کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ فَقَالَ السَّائِبُ سَمِعْتُ الْعَلَائَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَلَاثُ لَيَالٍ يَمْکُثُهُنَّ الْمُهَاجِرُ بِمَکَّةَ بَعْدَ الصَّدَرِ

حسن، عبد بن حمید، یعقوب، بن ابراہیم، ابن سعد، صالح، عبدالرحمن، بن حمید، عمر بن عبدالعزیز، حضرت علاء بن حضرمی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ منٰی سے واپسی کے بعد مہاجر تین رات تک مکہ مکرمہ میں ٹھہر سکتا ہے۔

Al-Ala bin al-Hadrami reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is only for three nights that a Muhajir should stay at Makkah after the completion of the rituals of Hajj.

3300Sahih Muslim

مہاجر کے مکہ مکرمہ میں قیام کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَائً أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْعَلَائَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ أَخْبَرَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَکْثُ الْمُهَاجِرِ بِمَکَّةَ بَعْدَ قَضَائِ نُسُکِهِ ثَلَاثٌ

اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، حضرت علاء بن حضرمی ؓ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مناسک حج کی ادائیگی کے بعد مہاجر مکہ میں تین دن تک ٹھہر سکتا ہے۔

Al-" Ala bin al-Hadrami reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The stay at Makkah after the completion of his rituals (of Hajj) is only for three days.

3301Sahih Muslim

مہاجر کے مکہ مکرمہ میں قیام کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

حجاج بن شاعر، ضحاک بن مخلد، حضرت ابن جریج ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث منقول ہے۔

Ibn Juraij narrated this hadith with the same chain of transmitters.

3302Sahih Muslim

مکہ مکرمہ میں شکار کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّةَ لَا هِجْرَةَ وَلَکِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا وَقَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْکُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَی خَلَاهَا فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، مجاہد، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن مکہ فتح ہوا تو فرمایا کہ ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تمہیں (جہاد کے لئے) بلایا جائے تو جاؤ اور آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن مکہ فتح ہوا تو فرمایا کہ اس شہر کو اللہ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے دن حرم قرار دیا تھا تو یہ اللہ کے حرم قرار دینے کی وجہ سے قیامت تک حرم رہے گا اور اس حرم میں میرے لئے بھی ایک دن میں تھوڑی دیر کے لئے قتال حلال ہوا تھا تو اب یہ اللہ کے حرم قرار دینے کی وجہ سے قیامت تک حرم رہے گا نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں اور نہ ہی اس کے شکار کو بھگایا جائے اور کوئی بھی یہاں گری پڑی چیز کو نہ اٹھائے سوائے اس کے کہ اسے اس کے مالک کو پہنچائی جائے اور نہ اس کی گھاس کاٹی جائے تو حضرت عباس ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول سوائے گھاس کے یعنی گھاس کو مستثنی قرار دے دیں کیونکہ یہ گھاس لوہاروں اور زرگروں (سنار) کے کام آتی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا سوائے گھاس کے آپ ﷺ نے گھاس کو مستثنی فرما دیا کیونکہ یہ جلانے کے کام آتی ہے

Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying on the Day of Victory over Makkah: There is no Hijra (emigration) but only Jihad and good intention; and when you are called to battle, then go forth. He also said on the Day of Victory over Makkah: Allah made this town sacred on the day He created the earth and the heavens; so it is -sacred by the sacredness conferred on it by Allah until the Day of Resurrection and fighting in it was not lawful to anyone before me, and it was made lawful for me only during an hour on one day, for it is sacred by the sacredness conferred on it by Allah until the Day of Resurrection. Its thorns are not to be cut, its game is not to be molested, and the things dropped are to be picked up only by one who makes a public announcement of it, and its fresh herbage is not to be cut. Abbas (RA) said: Messenger of Allah, exception may be made in case of rush, for it is useful for their blacksmiths and for their houses. He (the Holy Prophet) conceding the suggestion of Abbas) said: Except rush.

3303Sahih Muslim

مکہ مکرمہ میں شکار کی حرمت کا بیان

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَقَالَ بَدَلَ الْقِتَالِ الْقَتْلَ وَقَالَ لَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا

محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، مفضل، حضرت منصور ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت منقول ہے اور اس حدیث میں ( يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ) کا ذکر نہیں اور اس کے علاوہ الفاظ کا رد وبدل ہے۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Mansur, but he did not mention: "On that very day He created the heavens and the earth," and he (the narrator) substituted the word "fighting" (qital) for "killing" (qatl), and further said: "No one is to pick up the dropped thing except one who makes a public announcement of it."

3304Sahih Muslim

مکہ مکرمہ میں شکار کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَی مَکَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَکَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مَکَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِکَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَکُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ کَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَکَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِکَ مِنْکَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ

قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابی سعید، ابی شریح، عمرو بن سعید، حضرت ابوشریح عدوی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمرو بن سعید ؓ سے کہا جس وقت کہ وہ مکہ کی طرف اپنی فوج بھیج رہے تھے اے امیر! آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ کے سامنے وہ حدیث بیان کروں جسے یوم فتح کی صبح رسول اللہ ﷺ سے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے دیکھا جس وقت کہ آپ ﷺ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمدوثنا بیان فرمائی پھر فرمایا کہ مکہ کو اللہ نے حرم بنایا اور لوگوں نے اسے حرم نہیں بنایا تو ایسے آدمی کے لئے حلال نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو یہ کہ وہ مکہ میں خون بہائے اور نہ ہی وہ یہاں کے درخت کاٹے تو اگر کوئی اللہ اور رسول ﷺ کی جنگ کی وجہ سے حرم میں قتال جائز سمجھتا ہو تو تم اسے کہہ دو کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اجازت دی تھی اور تمہارے لئے اجازت نہیں اور مجھے بھی صرف ایک دن کے کچھ وقت کے لئے اجازت ملی تھی اور آج پھر مکہ کی حرمت پہلے کی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کل تھی اور جو اس وقت یہاں موجود ہے وہ غائبین تک یہ بات پہنچا دے حضرت ابوشریح سے کہا گیا کہ عمرو نے تجھے کیا کہا تھا اس نے کہا کہ اے ابوشریح میں اس بارے میں تجھ سے زیادہ جانتا ہوں کہ حرم کسی نافرمان کو پناہ نہیں دیتا اور نہ ہی قتل اور چوری کر کے نکلنے والے کو بھاگنے دیتا ہے۔

Abu Shuraih al-Adawi reported that he said to Amr bin Said when he was sending troops to Makkah: Let me tell you something. O Commander, which Allahs Messenger ﷺ said on the day following the Conquest which my ears heard and my heart has retained, and my eyes saw as he spoke it. He praised Allah and extolled Him and then said: Allah, not men, has made Makkah sacred; so it is not permissible for any person believing in Allah and the Last Day to shed blood in it, or lop a tree in it. If anyone seeks a concession on the basis of fighting of Allahs Messenger ﷺ, tell him that Allah permitted His Messenger, but not you, and He gave him permission only for an hour on one day, and its sacredness was restored on the very day like that of yesterday. Let him who is present convey the information to him who is absent. It was said to Abu Shuraih: What did Amr say to you? He said: I am better informed of that than you, Abu Shuraih, but the sacred territory does not grant protection to one who is disobedient, or one who runs away after shedding blood, or one who runs away after committing

3305Sahih Muslim

مکہ مکرمہ میں شکار کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ الْوَلِيدِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَکَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ کَانَ قَبْلِي وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُخْتَلَی شَوْکُهَا وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُفْدَی وَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اکْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اکْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ قَالَ الْوَلِيدُ فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ مَا قَوْلُهُ اکْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زہیر بن حرب، عبیداللہ بن سعید، ولید، زہیر، ولید بن مسلم، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، ابن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے اپنے رسول ؓ پر مکہ کو فتح فرمایا تو آپ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا کہ اللہ نے مکہ سے ہاتھ والوں کو روکا تھا اور اللہ نے مکہ پر اپنے رسول ﷺ اور مومنوں کو غلبہ عطا فرمایا اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے بھی مکہ حلال نہیں تھا اور میرے لئے بھی ایک دن کے کچھ وقت کے لئے حلال ہوا تھا اور اب میرے بعد بھی کسی کے لئے حلال نہیں ہوگا اس لئے یہاں سے شکار بھگایا نہ جائے اور نہ ہی یہاں کے کانٹے کاٹے جائیں اور نہ ہی یہاں کی گری ہوئی چیز کسی کے لئے حلال ہے سوائے اعلان کرنے والے کے یعنی گمشدہ چیز کو اٹھا کر اگر اس کا اعلان کرے اسے اس تک پہنچائے تو اس کے لئے حلال ہے اور جس آدمی کو کوئی قتل کر دے تو اس کے لواحقین کے لئے دو چیز میں سے ایک کا اختیار ہے یا اس کی دیت لے لے یا اسے قصاصاً قتل کر دے حضرت ابن عباس ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول گھاس کو مستثنی فرما دیں کیونکہ ہم اسے اپنی قبروں اور گھروں میں استعمال کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے گھاس کو مستثنی فرما دیا (یعنی حرم کی حدود میں گھاس کاٹنے کی اجازت ہے) تو ابوشاہ کھڑا ہوا جو کہ یمن کا ایک آدمی تھا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے یہ لکھوا دیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوشاہ کو لکھ دو ولید کہتے ہیں کہ میں نے اوزاعی سے کہا کہ ابوشاہ کے اس کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اے اللہ کے رسول مجھے لکھوا دیں انہوں نے کہا کہ وہ خطبہ کہ جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا۔

Abu Hurairah (RA)reported. When Allah, the Exalted and Majestic, granted Allahs Messenger ﷺ victory over Makkah, he stood before people and praised and extolled Allah and then said: Verily Allah held back the elephants from Makkah and gave the domination of it to His Messenger and believers, and it (this territory) was not violable to anyone before me and it was made violable to me for an hour of a day, and it shall not be violable to anyone after me. So neither molest the game, nor weed out thorns from it. And it is not lawful for anyone to pick up a thing dropped but one who makes public announcement of it. And it a relative of anyone is killed he is entitled to opt for one of two things. Either he should be paid blood-money or he can take life as (a just retribution). Abbas (RA) said: Allahs Messenger, but Idhkhir (a kind of herbage), for we use it for our graves and for our houses, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: With the exception of Idhkhir. A person known as Abu Shah, one of the people of Yemen, stood up and said: Messenger of Allah, (kindly) write it for me. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said I Write it for Abu Shah. Walid said: I asked al-Auzai: What did his saying mean: "Write it for me, Messenger of Allah"? He said: This very address that he had heard from Allahs Messenger ﷺ .

3306Sahih Muslim

مکہ مکرمہ میں شکار کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا إِنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَکَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ فَأُخْبِرَ بِذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَکِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَکَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي أَلَا وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ النَّهَارِ أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لَا يُخْبَطُ شَوْکُهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُعْطَی يَعْنِي الدِّيَةَ وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ اکْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ اکْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ

اسحاق بن منصور، عبیداللہ بن موسی، شیبان، یحیی، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ بنو خزاعہ نے بنی لیث کا ایک آدمی قتل کیا ہوا تھا فتح مکہ کے دن بنی لیث نے اپنے مقتول کے بدلہ میں بنوخزاعہ کا ایک آدمی قتل کردیا تو اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو دی گئی تو آپ نے اپنی سواری پر سوار ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ نے مکہ سے ہاتھی والوں کو روکا تھا اور اللہ نے مکہ پر اپنے رسول اللہ ﷺ کو غلبہ عطا فرمایا تھا آگاہ رہو کہ مکہ مجھ سے پہلے بھی کسی کے لئے حلال نہیں تھا اور میرے بعد بھی کسی کے لئے حلال نہیں ہوگا اور میرے لئے بھی مکہ دن کے کچھ وقت کے لئے حلال ہوا تھا اور اب اس وقت کے لئے بھی حرام ہے مکہ کے کانٹے نہ کاٹے جائیں اور نہ مکہ کے درختوں کو کاٹا جائے اور نہ ہی یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا جائے سوائے اعلان کرنے والے کے اعلان کے ذریعے اس کے مالک تک پہنچائے اور جس کا کوئی قتل کردیا جائے تو اسے دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہے ایک یہ کہ یا تو اسے دیت دی جائے اور دوسرا یہ کہ یا پھر وہ قاتل سے قصاص لے گا راوی کہتے ہیں کہ پھر یمن کا ایک آدمی آیا جسے ابوشاہ کہا جاتا ہے اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے یہ خطبہ لکھوا دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابوشاہ کو لکھ دو تو قریش کے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مکہ کی گھاس کو مستثنی فرما دیں کیونکہ گھاس کو ہم اپنے گھروں میں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے گھاس کو مستثنی فرما دیا۔

Abu Hurairah (RA) reported: The people of the Khuzaah tribe killed a man of the tribe of Laith in the Year of Victory as a retaliation for one whom they had killed (whom the people of the tribe of Laith had killed). It was reported to Allahs Messenger ﷺ. He mounted his camel and delivered this address: Verily Allah, the Exalted and Majestic, held back the Elephants from Makkah, and gave its domination to His Messenger and believers. Behold, it was not violable for anyone before me and it will not be violable for anyone after me. Behold, it was made violable for me for an hour of a day; and at this very hour it has again been made inviolable (for me as well as for others). So its thorns are not to be cut, its trees are not to be lopped, and (no one is allowed to) pick up a thing dropped, but the one who makes an announcement of it. And one whose fellow is killed is allowed to opt between two alternatives: either he should receive blood-money or get the life of the (murderer) in return. He (the narrator said): A person from the Yemen, who was called Abu Shah, came to him and said: Messenger of Allah, write it down for me, whereupon he (Allahs Messenger) said: Write it down for Abu Shah. One of the persons from among the Quraish also said: Except Idhkhir, for we use it in our houses and our graves. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Except Idhkhir.

3307Sahih Muslim

مکہ مکرمہ میں ضرورت کے بغیر اسلحہ اٹھانے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدِکُمْ أَنْ يَحْمِلَ بِمَکَّةَ السِّلَاحَ

سلمہ بن شیب، ابن اعین، معقل، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کسی کے لئے حلال نہیں کہ مکہ مکرمہ میں اسلحہ اٹھائے۔

Jabir (RA) reported: I heard Allahs Apostle ﷺ say: It is not permissible for any one of you to carry weapons in Makkah.

3308Sahih Muslim

احرام کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ وَيَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَمَّا الْقَعْنَبِيُّ فَقَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ وَأَمَّا قُتَيْبَةُ فَقَالَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ و قَالَ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قُلْتُ لِمَالِکٍ أَحَدَّثَکَ ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَکَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَی رَأْسِهِ مِغْفَرٌ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ فَقَالَ مَالِکٌ نَعَمْ

عبداللہ بن مسلمہ، قعنبی، یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، قعنبی، مالک بن انس، حضرت یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے امام مالک سے پوچھا کہ کیا آپ سے حضرت ابن شہاب نے حضرت انس ؓ بن مالک سے روایت کردہ یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی ﷺ فتح مکہ والے سال مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ ﷺ کے سر پر خود تھا تو جب آپ ﷺ نے اسے اتارا تو ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردے کو پکڑے ہوئے ہے تو آپ ﷺ نے کہا اسے قتل کردو مالک نے کہا ہاں مجھ سے ابن شہاب نے یہ حدیث بیان کی ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ entered Makkah in the Year of Victory with a helmet on his head; and when he took it off, a man came to him and said: Ibn Khatal is hanging on to the curtains of the Ka’bah, whereupon he said: kill him. Malik (one of the narrators) attested this statement having been made.

3309Sahih Muslim

احرام کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ و قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ الدُّهْنِيُّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَکَّةَ وَقَالَ قُتَيْبَةُ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَکَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَائُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ

یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، قتیبہ، معاویہ بن عمار، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور قتیبہ نے کہا کہ آپ ﷺ فتح مکہ کے دن اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ ﷺ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا اور آپ ﷺ احرام کے بغیر تھے۔

Jabir bin Abdullah al-Ansari (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ entered Makkah and Qutaiba (another narrator) stated that he entered Makkah in the Year of Victory, wearing a black turban, but not wearing the Ihram.