عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا يَکُونُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوهَا أَوْ ابْنُهَا أَوْ زَوْجُهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابی معاویہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی عورت کے لئے جو کہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہوں حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ سفر کرے مگر یہ کہ اس کا باپ یا اس کا بیٹا یا اس کا خاوند یا اس کا بھائی یا اس کا کوئی محرم اس کے ساتھ ہو۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is not lawful for a woman believing in Allah and the Hereafter to undertake journey extending over three days or more, except when she is in the company of her father, or her son, or her husband, or her brother, or any other Mahram.
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار، ابی معبد، حضرت اعمش ؓ اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Amash with the same chain of transmitters.
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ وَلَا تُسَافِرْ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً وَإِنِّي اکْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ کَذَا وَکَذَا قَالَ انْطَلِقْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِکَ
ابوبکر بن ابی شبیہ، زہیر بن حرب، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ خطبہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے سوائے اس کے کہ اس کا محرم اس کے ساتھ ہو اور نہ کوئی عورت سفر کرے سوائے اس کے کہ اس کا محرم اس کے ساتھ ہو۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میری بیوی حج کے لئے نکلی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں لکھ دیا گیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔
Ibn Abbas (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ delivering a sermon and making this observation: "No person should be alone with a woman except when there is a Mahram with her, and the woman should not undertake journey except with a Mahram." A person stood up and said: Allahs Messenger, my wife has set out for pilgrimage, whereas I am enlisted to fight in such and such battle, whereupon he said: "You go and perform Hajj with your wife."
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرٍو بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوربیع، حماد، عمرو، حضرت عمرو اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Amr on the authority of the same chain of transmitters.
عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ
ابن ابی عمر، ہشام، ابن سلیمان، ابن جریج، حضرت ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور یہ ذکر نہیں کیا کہ کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے مگر یہ کہ اس کا محرم اس کے ساتھ ہو۔
Ibn Juraij narrated this hadith with the same chain of transmitters, but he made no mention of it: "No person should be alone with a woman except when there is a Mahram with her."
سفر حج وغیرہ کے موقع پر ذکر کے نے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اسْتَوَی عَلَی بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَی سَفَرٍ کَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا کُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُکَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَی وَمِنْ الْعَمَلِ مَا تَرْضَی اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوئِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت ابن عمر ؓ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر کسی سفر کے لئے نکلتے تو تین مرتبہ اَللَّهُ أَکْبَرُ کہتے پھر فرماتے ( سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا کُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ) (الزخرف) ترجمہ: پاک ہے وہ ذات کہ جس نے ہمارے لئے اسے مسخر فرما دیا اور ہم اسے مسخر کرنے والے نہ تھے اور ہم اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں، (پھر یہ دعا مانگے) اے اللہ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا اور ان اعمال کا سوال کرتے ہیں کہ جن سے تو راضی ہوتا ہے اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہم پر آسان فرما اور اس کی مسافت کو تہہ فرما دے، اے اللہ! تو ہی اس سفر میں ہمارا رفیق ہے اور گھر والوں کا نگہبان ہے اے اللہ! میں سفر کی تکلیفوں اور رنج وغم سے اور اپنے مال اور گھر والوں کے برے انجام سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب آپ ﷺ سفر سے واپس آتے تو یہی دعا پڑھتے اور ان میں ان کلمات کا اضافہ فرماتے ہم واپس آنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔
Ibn Umar (RA) reported that whenever Allahs Messenger ﷺ mounted his camel while setting out on a journey, he glorified Allah (uttered Allah-o-Akbar) thrice, and then said: Hallowed is He Who subdued for us this (ride) and we were not ourselves powerful enough to use It as a ride, and we are going to return to our Lord. O Allah, we seek virtue and piety from Thee in this journey of ours and the act which pleaseth Thee. O Allah, lighten this journey of ours, and make its distance easy for us. O Allah, Thou art (our) companion during the journey, and guardian of (our) family. O Allah, I seek refuge with Thee from hardships of the journey, gloominess of the sights, and finding of evil changes in property and family on return. And he (the Holy Prophet) uttered (these words), and made this addition to them: We are returning, repentant, worshipping our Lord and praising Him.
سفر حج وغیرہ کے موقع پر ذکر کے نے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْنِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیہ، عاصم، حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر پر جاتے تھے تو سفر کی تکلیفوں اور بری چیزوں کے دیکھنے اور برے انجام اور آرام کے بعد تکلیف اور مظلوم کی بد دعا اور اہل اور مال میں برے انجام سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔
Abdullah bin Sarjis (RA) reported that when Allahs Messenger ﷺ set forth on a journey, he sought refuge (with Allah) from the hardships of the travelling, and finding of evil changes on return, and disgrace after honour, and the curse of the oppressed and a gloomy sad scene in family and property.
سفر حج وغیرہ کے موقع پر ذکر کے نے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ کِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ خَازِمٍ قَالَ يَبْدَأُ بِالْأَهْلِ إِذَا رَجَعَ وَفِي رِوَايَتِهِمَا جَمِيعًا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ
یحییٰ بن یحیی، زہیر بن حرب، ابومعاویہ، حامد بن عمر، عبدالواحد، حضرت عاصم ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے صرف لفظی فرق ہے۔
A hadlth like this has been narrated on the authority of Asim With the same chain of transmitters except (this difference) that the hadith transmitted by Abdul Wahid (one of the narrators) the (word) "property" precedes the family, and in the hadith transmitted by Mahammad bin Khazim (the word) "family" precedes (the word "Property"), on returning home, in the narrations of both the narrators (these words are found): "O Allah I seek refuge with Thee from the hardships of the journey."
اس بات کے بیان میں کہ جب حج وغیرہ کے سفر سے واپس لوٹا جائے تو کیا دعائیں پڑھے
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ الْجُيُوشِ أَوْ السَّرَايَا أَوْ الْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ إِذَا أَوْفَی عَلَی ثَنِيَّةٍ أَوْ فَدْفَدٍ کَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، عبیداللہ، نافع، ابن عمر، عبیداللہ بن سعید، یحیی، قطان، عبیداللہ، نافع، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی کسی لشکر یا جہاد یا حج یا عمرہ سے واپس لوٹتے تو کسی ٹیلے پر یا کسی ہموار میدان میں آتے تو تین مرتبہ اَللَّهُ أَکْبَرُ کہتے پھر فرماتے (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ ) یعنی اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور کوئی شریک نہیں اسی کے لئے سلطنت اور اسی کے لئے تعریف ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے ہم لوٹنے والے رجوع کرنے والے سجدہ کرنے والے اپنے رب کی خاص حمد کرنے والے ہیں سچ کیا اپنے وعدہ کو اللہ نے اپنے بندے کی مدد کی اور اسی اکیلے نے تمام لشکروں کو شکست دی۔
Abdullah bin Umar reported that whenever Allahs Messenger ﷺ came back from the battle or from expeditions or from Hajj or Umrah and as he reached the top of the hillock or upon the elevated hard ground, he uttered Allah-o-Akbar thrice, and then said: There is no god but Allah. He is One, there is no partner with Him, His is the sovereignty and His is the praise and He is Potent over everything. (We are) returning, repenting, worshipping, prostrating before our Lord, and we praise Him Allah fulfilled His promise and helped His servant, and routed the confederates Alone.
اس بات کے بیان میں کہ جب حج وغیرہ کے سفر سے واپس لوٹا جائے تو کیا دعائیں پڑھے
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ عَنْ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا حَدِيثَ أَيُّوبَ فَإِنَّ فِيهِ التَّکْبِيرَ مَرَّتَيْنِ
زہیر بن حرب، اسماعیل، ابن علیۃ، ایوب، ابن ابی عمر، معن، مالک، ابن رافع، حضرت ابن عمر ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے سوائے ایوب کی حدیث کے کہ اس میں دو مرتبہ تکبیر ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) through another chain of transmitters (but with one alteration) that here Allah-o-Akbar is mentioned twice.
اس بات کے بیان میں کہ جب حج وغیرہ کے سفر سے واپس لوٹا جائے تو کیا دعائیں پڑھے
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَی نَاقَتِهِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ قَالَ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِکَ حَتَّی قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیۃ، یحییٰ بن ابی اسحاق، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت ابوطلحہ ؓ نبی ﷺ کے ساتھ واپس آرہے تھے اور حضرت صفیہ ؓ آپ ﷺ کے پیچھے آپ ﷺ کی اونٹنی پر سوار تھیں یہاں تک کہ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم لوٹ کر آنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی عبادت کرنے والے ہیں حمد بیان کرنے والے ہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ یہی کلمات فرماتے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔
Anas bin Malik (RA) reported: I and Abu Talha (both) came back along with Allahs Apostle ﷺ . Safiyyah (the wife of the Holy Prophet) rode behind him on his camel and as we came to the out-skirts of Madinah he said: (We are those) who return, who repent, who worship our Lord, who praise (Him), and he went on uttering this until we entered Madinah.
اس بات کے بیان میں کہ جب حج وغیرہ کے سفر سے واپس لوٹا جائے تو کیا دعائیں پڑھے
و حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
حمید بن مسعدہ بشر بن مفضل، یحییٰ بن ابی اسحاق، حضرت انس بن مالک ؓ نے نبی سے اسی حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters.
حج اور عمرہ وغیرہ کی غرض سے گزرنے والوں کے لئے ذی الخلیفہ میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ بِالْبَطْحَائِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّی بِهَا وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِکَ
یحییٰ بن یحییٰ مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذی الحلیفہ کی وادی میں اپنا اونٹ بٹھایا اور اس کے ساتھ نماز پڑھی راوی نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ made (his camel) kneel down (i, e. halt at the stony ground of Dhul-Hulaifa) and prayed there, and so didAbdullah bin Umar (RA) .
حج اور عمرہ وغیرہ کی غرض سے گزرنے والوں کے لئے ذی الخلیفہ میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ قَالَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ يُنِيخُ بِالْبَطْحَائِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنِيخُ بِهَا وَيُصَلِّي بِهَا
محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، قتیبہ، لیث، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ ذی الخلیفہ کی وادی میں اپنا اونٹ بٹھاتے تھے جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ اپنا اونٹ بٹھاتے تھے اور اس کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔
Nafi reported that Abdullah bin Umar (RA) used to halt his camel in the stony ground at Dhul-Hulaifa, where Allahs Messenger ﷺ used to make a halt (and pray).
حج اور عمرہ وغیرہ کی غرض سے گزرنے والوں کے لئے ذی الخلیفہ میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي أَبَا ضَمْرَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا صَدَرَ مِنْ الْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَائِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ الَّتِي کَانَ يُنِيخُ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن اسحاق، انس یعنی ابوضمرہ، موسی، ابن عقبہ، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ جب حج یا عمرہ سے واپسی پر ذی الحلیفہ کے وادی میں اپنا اونٹ بٹھاتے تھے اسی جگہ جس جگہ رسول اللہ ﷺ اپنا اونٹ بٹھاتے تھے۔
Nafi reported that when Abdullah bin Umar returned from Hajj or Umrah he made his camel kneel down (i. e. halted) in the stony ground of Dhul-Hulaifa where Allahs Messenger ﷺ had made his camel halt.
حج اور عمرہ وغیرہ کی غرض سے گزرنے والوں کے لئے ذی الخلیفہ میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُوسَی وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مُعَرَّسِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّکَ بِبَطْحَائَ مُبَارَکَةٍ
محمد بن عباد، حاتم، ابن اسماعیل، موسی، ابن عقبہ، حضرت سالم ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی الحلیفہ میں رات کے آخری حصہ میں پہنچے تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ یہ بطحاء مبارکہ ہے۔
Salim (b.Abdullah bin Umar) reported on the authority of his father (RA) that Allahs Apostle ﷺ was visited by (someone, i. e. an angel) during the fag end of the night at Dhul-Hulaifa, and it was said to him: Verily it is a blessed stony-ground.
حج اور عمرہ وغیرہ کی غرض سے گزرنے والوں کے لئے ذی الخلیفہ میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسِهِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي فَقِيلَ إِنَّکَ بِبَطْحَائَ مُبَارَکَةٍ قَالَ مُوسَی وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ بِالْمُنَاخِ مِنْ الْمَسْجِدِ الَّذِي کَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ بِهِ يَتَحَرَّی مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَسْفَلُ مِنْ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَسَطًا مِنْ ذَلِکَ
محمد بن بکار بن ریان، سریج بن یونس، اسماعیل، بن جعفر، موسیٰ بن عقبہ، حضرت سالم بن عبداللہ بن عمرہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ایک فرشتہ آیا اس حال میں کہ آپ ﷺ ذی الحلیفہ کی وادی میں رات کے آخری حصہ میں پہنچے ہوئے تھے آپ ﷺ سے کہا گیا کہ آپ ﷺ بطحاء مبارکہ میں ہیں موسیٰ راوی کہتے ہیں کہ سالم نے ہمارے ساتھ مسجد کے قریب اس جگہ اونٹ بٹھایا جس جگہ حضرت عبداللہ ؓ اونٹ بٹھاتے تھے اور اس جگہ کو تلاش کرتے تھے کہ جس جگہ رسول اللہ ﷺ رات کے آخری حصہ میں اترتے تھے اور وہ جگہ اس مسجد کی جگہ سے نیچی ہے جو کہ بطن وادی میں ہے اور وہ جگہ مسجد اور قبلہ کے درمیان میں ہے۔
Salim binAbdullah bin Umar (RA) reported on the authority of his father (RA) that Allahs Apostle ﷺ came to Dhul- Hulaifa in the heart of the valley at the fag end of the night, and it was said to him: It is a blessed stony ground. Musa (one of the narrators) said: Salim made his came) halt at the mosque where Abdullah made his camel halt as seeking the place of stay of Allahs Messenger ﷺ . It is, in fact, situated at a lower plain than the mosque, which stands in the heart of the valley, and it is between it (the mosque) (and Qibla) that place (where Allahs Apostle ﷺ used to get down for rest and prayer) is situated.
اس بات کے بیان میں کہ مشرک نہ تو بیت اللہ کا حج کرے اور نہ ہی بیت اللہ کا کوئی برہنہ ہو کر طواف کرے اور حج اکبر کے دن کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَنِي أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُونَ فِي النَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَکَانَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ يَوْمُ النَّحْرِ يَوْمُ الْحَجِّ الْأَکْبَرِ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ مجھے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بھیجا اس حج میں کہ جس پر حضرت ابوبکر ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے امیر بنا کر بھیجا یہ کہ حجہ الوداع سے پہلے قربانی کے دن لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ یہ اعلان کرانے کے لئے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ ہی کوئی برہنہ (ننگا) بیت اللہ کا طواف کرے ابن شہاب کہتے ہیں کہ حمید بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث کی وجہ سے کہتے تھے کہ قربانی کا دن ہی حج اکبر کا دن ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: Abu Bakr Siddiq (RA) sent me during Hajj before the Farewell Pilgrimage for which Allahs Messenger ﷺ had appointed him an Amir, among a group of people whom he had ordered to make announcement to the people on the Day of Nahr: "After this year no polytheist may perform the Pilgrimage and no naked person may circumambulate the House." Ibn Shihab stated that Humaid bin Abdul Rahman said that according to this narration of Abu Hurairah (RA) the day of Hajj al-Akbar (Great Hajj) is this Day of Nahr (10th of Dhul-Hijja).
عرفہ کے دن کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ يَقُولُ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ يَوْمٍ أَکْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنْ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمْ الْمَلَائِکَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلَائِ
ہارون بن سعید، احمد بن عیسی، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، یونس بن یوسف، حضرت ابن مسیب ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن اپنے بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں کرتا اور اللہ اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ سارے بندے کس ارادہ سے آئے ہیں؟
Aisha (Allah be pleased with her) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is no day when God sets free more servants from Hell than the Day of Arafa. He draws near, then praises them to the angels, saying: What do these want?
حج اور عمرہ کے فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَةُ إِلَی الْعُمْرَةِ کَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَائٌ إِلَّا الْجَنَّةُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی بکر بن عبدالرحمن، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور یعنی نیکیوں والے حج کا بدلہ تو صرف جنت ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: An Umrah is an expiation for the sins committed between it and the next, and Hajj which is accepted will receive no other reward than Paradise.