احرام کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ أَخْبَرَنَا شَرِيکٌ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَکَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَائُ
علی بن حکیم، شریک، عمار، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ ﷺ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔
Jabir binAbdullah (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ entered on the day of Victory of Makkah wearing a black turban on his head.
احرام کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَائُ
یحییٰ بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، مساور الوراق، حضرت جعفر بن عمر بن حریث اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو اس حال میں خطبہ دیا کہ آپ ﷺ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔
Amr bin Huraith (RA) reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ addressed the people (on the day of the Victory of Makkah) with a black turban on his head.
احرام کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ قَالَ حَدَّثَنِي وَفِي رِوَايَةِ الْحُلْوَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَائُ قَدْ أَرْخَی طَرَفَيْهَا بَيْنَ کَتِفَيْهِ وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَکْرٍ عَلَی الْمِنْبَرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن حلوانی، ابواسامہ، مساور، حضرت جعفر بن عمر بن حریث ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ کے سر پر سیاہ عمامہ ہے اور اس عمامہ کے دونوں کنارے آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکے ہوئے ہیں اور ابوبکر نے منبر کا لفظ نہیں کہا۔
Jafar bin Amr bin Huraith reported his father as saying: As if I am seeing Allahs Messenger ﷺ on the pulpit with a black turban on his head, and its two ends hanging between his shoulders. Abu Bakr (RA) (another narrator) did not make mention of: "Upon the pulpit".
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَکَّةَ وَدَعَا لِأَهْلِهَا وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَکَّةَ وَإِنِّي دَعَوْتُ فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَکَّةَ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، ابن محمد، عمرو بن یحیی، عباد بن تمیم، عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور مکہ میں رہنے والوں کے لئے دعا فرمائی تھی اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ کے صاع اور اس کے مد میں اس سے دوگنی برکت کی دعا کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ والوں کے لئے کی تھی۔
Abdullah bin Zaid bin Asim (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Verily Ibrahim علیہ السلام declared Makkah sacred and supplicated (for blessings to be showered) upon its inhabitants, and I declare Madinah to be sacred as Ibrahim had declared Makkah to be sacred. I have supplicated (Allah for His blessings to be showered) in its sa and its mudd (two standards of weight and measurement) twice as did Ibrahim for the inhabitants of Makkah.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ کُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی هُوَ الْمَازِنِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا حَدِيثُ وُهَيْبٍ فَکَرِوَايَةِ الدَّرَاوَرْدِيِّ بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ وَأَمَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ فَفِي رِوَايَتِهِمَا مِثْلَ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ
ابوکامل، عبدالعزیز، ابن مختار، ابوبکر بن ابی شبیہ، حضرت عمر بن یحییٰ سے ان سندوں سے اس طرح روایت نقل کی گئی ہے ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ان دعاؤں سے دوگنا دعائیں کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعائیں مانگیں تھیں۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَکْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَکَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يُرِيدُ الْمَدِينَةَ
قتیبہ بن سعید، بکر، ابن مضر، ابن ہاد، ابی بکر بن محمد، عبداللہ بن عمرو بن عثمان، حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں اس کے دونوں پتھریلے کناروں والی جگہ یعنی مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔
Rafi bin Khadij reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Ibrahim declared Makkah as sacred and I declare sacred the area between its two stony grounds (lava lands by which he meant Madinah).
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ خَطَبَ النَّاسَ فَذَکَرَ مَکَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَلَمْ يَذْکُرْ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ مَا لِي أَسْمَعُکَ ذَکَرْتَ مَکَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَلَمْ تَذْکُرْ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا وَذَلِکَ عِنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُکَهُ قَالَ فَسَکَتَ مَرْوَانُ ثُمَّ قَالَ قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِکَ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال عتبہ، بن مسلم، حضرت نافع بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے مکہ اور مکہ کے رہنے والوں اور مکہ کی حرمت کا تذکرہ کیا تو رافع بن خدیج ؓ نے مروان کو پکارا اور فرمایا کہ میں تجھ سے کیا سن رہا ہوں کہ تو مکہ اور مکہ والوں کا اور مکہ کی حرمت کا ذکر کر رہا ہے اور تو مدینہ اور مدینہ کے رہنے والوں اور مدینہ کی حرمت کا ذکر نہیں کر رہا رسول اللہ ﷺ نے اس پتھریلے علاقے کے دونوں کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیا ہے اور یہ حکم نامہ ہمارے پاس خولانی چمڑے پر لکھا ہوا موجود ہے اگر تو چاہے تو میں اس سے پڑھ کر سناؤں راوی کہتے ہیں کہ مروان خاموش ہوگیا پھر کہا میں نے کچھ اسی طرح سنا ہے۔
Nafi bin Jubair reported that Marwan bin al-Hakam (RA) addressed people and made mention of Makkah and its inhabitants and its sacredness, but he made no mention of Madinah, its inhabitants and its sacredness. Rafi bin Khadij called to him and said: What is this that I hear you making mention of Makkah and its inhabitants and its sacredness, but you did not make mention of Madinah and its inhabitants and its sacredness, while the Apostle of Allah ﷺ has also declared sacred (the area) between its two lava lands (Madinah)? And (we have record of this) with us written on Khaulani parchment. If you like, I can read it out to you. Thereupon Marwan became silent, and then said: I too have heard some part of it.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أَحْمَدَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَکَّةَ وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا
ابوبکر بن ابی شبیہ، عمرو، ابی احمد، ابوبکر، محمد بن عبداللہ، سفیان، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں مدینہ کے دونوں طرف کے پتھریلے علاقے کے درمیانی حصہ میں سے نہ کوئی درخت کاٹا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی جانور کا شکار کیا جاسکتا ہے۔
Jabir (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Ibrahim declared Makkah as sacred; I declare Madinah, that between the two mountains, as inviolable. No tree should be lopped and no game is to be molested.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا وَقَالَ الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَی لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عثمان بن حکیم، حضرت عامر بن سعد ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیتا ہوں نہ تو مدینہ کے خاردار درختوں کو کاٹا جائے گا اور نہ ہی مدینہ کے شکار کو قتل کیا جائے گا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ یہ جان لیں تو جو آدمی مدینہ سے اعراض کر کے یہاں رہنے کو چھوڑ دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں یہاں ایسے آدمی کو جگہ عطا فرمائیں گے جو اس سے بہتر ہوگا اور جو آدمی بھی مدینہ کی بھوک پیاس اور محنت ومشقت پر صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔
Amir bin Sad reported on the authority of his father (RA) that Allahs Messenger ﷺ said: I have declared sacred the territory between the two lava plains of Madinah, so its trees should not be cut down, or its game killed; and he also said: Madinah is best for them if they knew. No one leaves it through dislike of it without Allah putting in it someone better than he in place of him; and no one will stay there in spite of its hardships and distress without my being an intercessor or witness on behalf of him on the Day of Resurrection.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَلَا يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوئٍ إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرَّصَاصِ أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَائِ
ابن ابی عمر مروان بن معاویہ، عثمان بن حکیم، حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث ذکر فرمائی اور اس حدیث میں یہ زائد ہے کہ کوئی آدمی مدینہ والوں کو کوئی تکلیف دنیے کا ارادہ نہ کرے ورنہ اللہ تعالیٰ اسے آگ میں اس طرح پگھلائے گا جیسا کہ سیسہ پگھلتا ہے یا فرمایا کہ جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے مدینہ والوں کو تکلیف دینے والا آگ میں اسی طرح پگھلے گا۔
Amir bin Sad bin Abu Waqqas reported on the authority of his father (RA) that Allahs Messenger ﷺ said, and then the (above-mentioned) hadith was narrated with this addition: "None should nurse ill-will towards the people of Madinah, or Allah will melt him in fire like the melting of lead or the dissolution of salt in water.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ الْعَقَدِيِّ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا رَکِبَ إِلَی قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَائَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ فَکَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَی غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَی أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ
اسحاق بن ابراہیم، حمید، عقدی عبدالملک، بن عمرو، عبداللہ بن جعفر، اسماعیل بن محمد، حضرت عامر بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سعد ؓ اپنے مکان عقیق کی طرف گئے تو انہوں نے وہاں ایک غلام کو درخت کاٹتے ہوئے پایا یا اس درخت کے کانٹے کاٹتے ہوئے پایا یا اس درخت کے کانٹے توڑ رہا تھا تو حضرت سعد ؓ نے اس کا سامان چھین لیا تو جب حضرت سعد ؓ واپس آئے تو اس غلام کے گھر والوں نے آپ سے بات کی تاکہ وہ سامان اس غلام کو یا اس کے گھر والوں کو واپس کردیں تو حضرت سعد نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ کہ میں وہ چیز واپس کر دوں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے دی ہے حضرت سعد ؓ نے ان کو سامان واپس کرنے سے انکار کردیا۔
Amir bin Sad reported that Sad rode to his castle in al-Aqiq and found a slave cutting down the trees, or beating off their leaves, so he stripped him off his belongings. When Sad returned, there came to him the masters of the slave and negotiated with him asking him to return to their slave or to them what he had taken from their slave, whereupon he said: God forbid that I should return anything which Allahs Messenger ﷺ has given me as spoil, and refused to return anything to them.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِکُمْ يَخْدُمُنِي فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَائَهُ فَکُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلَّمَا نَزَلَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّی إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَی الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَکَّةَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ
یحییٰ بن ایوب بن سعید، قتیبہ ابن حجر، اسماعیل، ابن ایوب، ابن جعفر، عمرو بن ابی عمرو، مطلب بن عبداللہ بن حنظب، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوطلحہ ؓ سے فرمایا کہ تم اپنے غلاموں میں سے کوئی غلام تلاش کرو تاکہ وہ میری خدمت کرے تو حضرت ابوطلحہ ؓ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کرلے آئے تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتا تھا جب بھی آپ ﷺ اترتے اور راوی نے کہا کہ اس حدیث میں ہے کہ جب آپ ﷺ تشریف لا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کے سامنے احد پہاڑ ظاہر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور آپ ﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ مدینہ والوں کے لئے ان کے مد اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said to Abu Talha (RA) : Find for me a servant from amongst your boys to serve me. Abu Talha went out along with me and made me sit behind him. And I used to serve Allahs Messenger ﷺ whenever he got down from the camel. And in one hadith he said: He proceeded and when (the mountain of) Uhud was within sight, he said: This is the mountain which loves us and we love it. And as he came close to Madinah he said: O Allah, I declare (the area) between the two mountains of it (Madinah) sacred just as Ibrahim declared Makkah as sacred. O Allah, bless them (the people of Madinah) in their mudd and sa.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، یعقوب، ابن عبدالرحمن، عمرو ابن ابی عمرو، حضرت انس ؓ بن مالک ؓ نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported a hadith like this from Allahs Apostle ﷺ except with this variation that he said: "I declare sacred the area between its two lava mountains."
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ مَا بَيْنَ کَذَا إِلَی کَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي هَذِهِ شَدِيدَةٌ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا قَالَ فَقَالَ ابْنُ أَنَسٍ أَوْ آوَی مُحْدِثًا
حامد بن عمر، عبدالواحد، عاصم، انس بن مالک، حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ ہاں فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک تو جو آدمی مدینہ میں کوئی نیا کام یعنی کوئی جرم وغیرہ کرے گا حضرت عاصم کہتے ہیں کہ پھر حضرت انس ؓ نے مجھ سے فرمایا کہ یہ بہت سخت گناہ ہوگا کہ جو آدمی مدینہ میں کوئی نیا کام یعنی کوئی گناہ وغیرہ کرے گا تو اس پر اللہ کی لعنت اور فرشتوں کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت بر سے گی قیامت کے دن اس آدمی سے نہ کوئی فرض اور نہ ہی کوئی نفل عبادت قبول کی جائے گی حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ یا کسی نے ایسے آدمی کو پناہ دی تو وہ بھی اسی سزا کی زد میں ہوگا۔
Asim reported: I asked Anas bin Malik (RA) whether Allahs Messenger ﷺ had declared Madinah as sacred. He said: Yes. (the area) between so and so. He who made any innovation in it, and further said to me: It is something serious to make any innovation in it (and he who does it) there is upon him the curse of Allah, and that of the angels and of all the people, Allah will not accept from him on the Day of Resurrection either obligatory acts or the surpererogatory acts. Ibn Anas said: Or he accommodates an innovator.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ هِيَ حَرَامٌ لَا يُخْتَلَی خَلَاهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، عاصم، انس، حضرت عاصم احول ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! مدینہ کی گھاس تک کاٹنا حرام ہے اور جو اس طرح کرے گا اس پر اللہ کی لعنت اور فرشتوں کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔
Asim reported: I asked Anas (RA) whether Allahs Messenger ﷺ had declared Madinah as sacred. He said: Yes, it is sacred, so its tree is not to be cut; and he who did that let the curse of Allah and that of the angels and of all people be upon him.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِي مِکْيَالِهِمْ وَبَارِکْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَبَارِکْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ
قتیبہ بن سعید، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ان کے لئے ان کے پیمانے میں برکت عطاء فرما اور ان کے لئے ان کے صاع میں اور ان کے لئے ان کے مد میں بھی برکت عطا فرما۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: Allah bless them in their measurements, bless them in their sas and bless them in their mudd.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّامِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَکَّةَ مِنْ الْبَرَکَةِ
زہیر بن حرب، ابراہیم بن محمد، وہب بن جریر، یونس، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ مدینہ میں اس سے دو گنا برکتیں فرما جتنی برکتیں مکہ میں تو نے نازل فرمائیں۔
Anas bin Malik (RA) (Allah he pleased with him) reported that Allahs Messenger ﷺ said: O Allah, increase in Madinah twice the blessings (Thou showered) on Makkah.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا کِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ قَالَ وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ فَقَدْ کَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ وَأَشْيَائُ مِنْ الْجِرَاحَاتِ وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَی ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ وَمَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَی إِلَی غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَانْتَهَی حَدِيثُ أَبِي بَکْرٍ وَزُهَيْرٍ عِنْدَ قَوْلِهِ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ وَلَمْ يَذْکُرَا مَا بَعْدَهُ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ و زہیر بن حرب و ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، حضرت ابراہیم تیمی اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ بن ابی طالب نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا کہ جو آدمی یہ خیال کرتا ہے کہ ہمارے پاس وہ چیز جسے ہم پڑھتے ہیں سوائے اللہ کی کتاب اور اس صحیفے کے اس صحیفے کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو آپ کی تلوار کی نیام کے ساتھ لٹکا ہوا تھا اس طرح کا خیال کرنے والا آدمی جھوٹا ہے اس صحیفے میں تو اونٹوں کی عمروں اور کچھ زخموں کی دیت کا ذکر ہے اور اس میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عیر پہاڑ اور ثور پہاڑ تک کے درمیان مدینہ کو جو علاقہ ہے یہ حرم ہے تو جو آدمی اس حرم میں کوئی گناہ کرے گا یا کسی مجرم آدمی کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی لعنت اور فرشتوں کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے دن اللہ اس سے نہ کوئی فرض اور نہ کوئی نفل قبول کریں گے اور پناہ دینا تمام مسلمانوں کو ایک ہی ہے ان میں سے ادنیٰ مسلمان کی پناہ دینے کو بھی اعتبار کیا جاتا ہے اور جس آدمی نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کی طرف کی یا جس غلام نے اپنے آپ کو اپنے مالک کے غیر کی طرف منسوب کیا اس پر اللہ کی لعنت اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی بھی لعنت اللہ اس سے قیامت کے دن نہ کوئی اس کا فرض اور نہ کوئی اس کا نفل قبول کرے گا ابوبکر کی حدیث یہاں پوری ہوگئی ہے اور زبیر کی روایت اس قول تک تھی جہاں ادنیٰ مسلمانوں کی پناہ کا ذکر آتا ہے اور اس کے بعد کا بھی اس میں ذکر نہیں اور ان دونوں حدیثوں میں صحیفہ کا تلوار کی نیام میں لٹکے ہوئے ہونے کا بھی ذکر نہیں۔
Ibrahim al-Taimi reported on the authority of his father: Ali Ibn Abi Talib (RA) addressed us and said: He who thought that we have besides the Holy Quran anything else that we recite, he told a lie. And this document which is hanging by the sheath of the sword contains but the ages of the camels, and the nature of the wounds. He (Hadrat Ali) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Madinah is sacred from Air to Thaur; So if anyone makes an innovation or accommodates an innovator, the curse of Allah, the angels, and all persons will fall upon him, and Allah will not accept any obligatory or supererogatory act as recompense from them. And the protection granted by the Muslims is one and must be respected by the humblest of them. If anyone makes a false claim to paternity, or being a client of other than his own masters, there is upon him the curse of Allah, the angels, and all the people. Allah will not accept from him any recompense in the form of obligatory acts or supererogatory acts. The hadith transmitted on the authority of Abu Bakr (RA) and Zubair ends with (these words): The humblest among them should respect it; and what follows after it is not mentioned there, and in the hadith transmitted by them (these words are) not found: (The document was hanging) on the sheath of his sword.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي کُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ إِلَی آخِرِهِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا مَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ وَکِيعٍ ذِکْرُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ
علی بن حجر، سعد، علی بن مسہر، ابوسعید، وکیع، اعمش، ابوکریب، ابومعاویہ سے ان سندوں کے ساتھ ابوکریب کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس حدیث میں یہ زائد ہے کہ جو آدمی کسی مسلمان کی پناہ توڑے گا تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے دن نہ اس سے اس کا کوئی فرض اور نہ ہی کوئی نفل قبول کیا جائے گا۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters (but at the end) these words are added: "He who violated the covenant with a Muslim, there is upon him the curse of Allah, of angels and of all people. Neither an obligatory act nor a supererogatory act would be accepted from him as recompense on the Day of Resurrection; and in the hadith transmitted by two other narrators these words are not found: "He who claimed false paternity." And in the hadith transmitted by Waki there is no mention of the Day of Resurrection.
مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَوَکِيعٍ إِلَّا قَوْلَهُ مَنْ تَوَلَّی غَيْرَ مَوَالِيهِ وَذِکْرَ اللَّعْنَةِ لَهُ
عبیداللہ بن عمرو، محمد بن ابی بکر، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، حضرت اعمش ؓ سے ان سندوں کے ساتھ ابن مسہر اور وکیع کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated with the same chain of transmitters by Amash with a slight variation of words.