حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 28 of 31

3330Sahih Muslim

مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین، بن علی زائدہ، سلیمان، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ حرم ہے تو جو آدمی اس حرم میں کوئی نیا کام یعنی گناہ وغیرہ کرے گا یا ایسے کرنے والے کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے دن نہ اس سے کوئی فرض اور نہ ہی کوئی نفل قبول کیا جائے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Madinah is a sacred territory, so he who made any innovation in it or gave protection to an innovator, there is upon him the curse of Allah, that of the angels and that of all the people. There would not be accepted on the Day of Resurrection either obligatory acts or supererogatory acts from him.

3331Sahih Muslim

مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزَادَ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ

ابوبکر بن نضر بن ابونضر، عبیداللہ، سفیان، حضرت اعمش ؓ سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے لیکن اس میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے اور ایک عام مسلمان کے پناہ دینے کا اعتبار کیا جاسکتا ہے تو جو آدمی کسی مسلمان کی پناہ کو توڑے گا اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی قیامت کے دن اس سے کوئی نفل اور نہ کوئی فرض قبول کیا جائے گا۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters, but no mention has been made of the Day of Resurrection. But this addition is made: "The protection granted by Muslims is one and must be respected by the humblest of them. And he who broke the covenant made by a Muslim, there is a curse of Allah, of his angels, and of the whole people upon him, and neither an obligatory act nor a supererogatory act would be accepted from him as recompense on the Day of Resurrection."

3332Sahih Muslim

مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَائَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مدینہ میں ہر نیوں کو چرتا ہوا دیکھوں تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو پتھریلے کناروں کی درمیانی جگہ حرم ہے

Abu Hurairah (RA) reported: If I were to see deer grazing in Madinah, I would have never molested them, for Allahs Messenger ﷺ has stated: There is between the two lava mountains a sacred territory.

3333Sahih Muslim

مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَائَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا وَجَعَلَ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حَوْلَ الْمَدِينَةِ حِمًی

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، اسحاق، عبدالرزاق، معمر، زہری، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے دو پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اگر میں مدینہ کے دو پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ میں ہر نیوں کو چرتا ہوا دیکھوں تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا اور آپ ﷺ نے مدینہ کے اردگرد بارہ میل کو حرم قرار دیا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ declared sacred the territory between two lava mountains of Madinah. Abu Hurairah (RA) said: If I were to find deer in the territory between the two mountains, I would not molest them, and he (the Holy Prophet) declared twelve miles of suburb around Madinah as a prohibited pasture.

3334Sahih Muslim

مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَائُوا بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُکَ وَخَلِيلُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنِّي عَبْدُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنَّهُ دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوکَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِکَ الثَّمَرَ

قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب لوگ شروع کا پھل دیکھتے تو وہ اسے نبی ﷺ کی طرف لے آتے تو رسول اللہ ﷺ اسے پکڑتے اور دعا فرماتے اے اللہ ہمارے لئے ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے مد میں برکت عطا فرما اے اللہ! ابراہیم (علیہ السلام) تیرے بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی ہیں اور میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں اور انہوں نے مکہ کے لئے تجھ سے دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لئے تجھ سے ان دعاؤں کا دو گنا کی دعا کرتا ہوں جو کہ تجھ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کے لئے کی تھیں پھر آپ ﷺ کسی چھوٹے بچے کو بلا کر اسے یہ پھل عطا فرماتے۔

Abu Hurairah (RA) reported that when the people saw the first fruit (of the season or of plantation) they brought it to Allahs Apostle ﷺ . When he received it he said: O Allah, bless us in our fruits; and bless us in our city; and bless us in our sas and bless us in our mudd. O Allah, Ibrahim was Thy servant, Thy friend, and Thy apostle; and I am Thy servant and Thy apostle. He (Ibrahim) made supplication to Thee for (the showering of blessings upon) Makkah, and I am making supplication to Thee for Madinah just as he made supplication to Thee for Makkah, and the like of it in addition. He would then call to him the youngest child and give him these fruits.

3335Sahih Muslim

مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُؤْتَی بِأَوَّلِ الثَّمَرِ فَيَقُولُ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَفِي ثِمَارِنَا وَفِي مُدِّنَا وَفِي صَاعِنَا بَرَکَةً مَعَ بَرَکَةٍ ثُمَّ يُعْطِيهِ أَصْغَرَ مَنْ يَحْضُرُهُ مِنْ الْوِلْدَانِ

یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن محمد، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہلا پھل لایا جاتا تھا تو آپ ﷺ فرماتے اے اللہ! ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں اور ہمارے پھلوں میں اور ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت در برکت عطا فرما پھر آپ ﷺ وہ پھل جو آپ ﷺ کے پاس موجود ہوتا لڑکوں میں سے سب سے چھوٹے کو عطا فرماتے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ was given the first fruit and he said: O Allah, shower blessings upon us in our city, and in our fruits, in our mudd and in our sas, blessings upon blessings, and he would then give that to the youngest of the children present there.

3336Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ وُهَيْبٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ وَأَنَّهُ أَتَی أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ لَهُ إِنِّي کَثِيرُ الْعِيَالِ وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَی بَعْضِ الرِّيفِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لَا تَفْعَلْ الْزَمْ الْمَدِينَةَ فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ حَتَّی قَدِمْنَا عُسْفَانَ فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ فَقَالَ النَّاسُ وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْئٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِکُمْ مَا أَدْرِي کَيْفَ قَالَ وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّی أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَکَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَمًا وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَکَةِ بَرَکَتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَکَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّی تَقْدَمُوا إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ ارْتَحِلُوا فَارْتَحَلْنَا فَأَقْبَلْنَا إِلَی الْمَدِينَةِ فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ الشَّکُّ مِنْ حَمَّادٍ مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّی أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِکَ شَيْئٌ

حماد بن اسماعیل بن علیۃ، وہیب، یحییٰ بن ابی اسحاق، حضرت ابوسعید ؓ مولیٰ مہری سے روایت ہے جب مدینہ کے لوگ قحط سالی اور تنگی میں مبتلا ہوئے تو وہ حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ میرے بچے بہت زیادہ ہیں اور تنگی میں مبتلا ہوں تو میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے بچوں کو کسی خوشحال جگہ کی طرف لے جاؤں تو حضرت ابوسعید ؓ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرنا اور مدینہ میں رہنا کیونکہ ہم ایک مرتبہ نبی ﷺ کے ساتھ نکلے تھے تو راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ عسفان کے مقام پر آئے تو آپ ﷺ نے اس مقام پر کچھ راتیں قیام فرمایا تو لوگ کہنے لگے اللہ کی قسم یہاں ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے اور پیچھے ہمارے بچوں کی نگرانی کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے اور ہم ان کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں تو یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری یہ کس طرح کی باتیں مجھ تک پہنچی ہیں؟ راوی کہتے ہے کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے کس طرح فرمایا اور اس کے ساتھ آپ ﷺ نے حلف اٹھایا یا فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر تم چاہتے ہو تو میں اپنی اونٹنی پر زین کسنے کا حکم کروں اور جب تک مدینہ نہ پہنچ جاؤں اس کی گرہ نہ کھولوں پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم بنایا تھا اور میں مدینہ کو حرم بناتا ہوں مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کا حصہ حرم ہے اس حرم میں خون نہ بہایا جائے اور نہ اس میں جنگ کے لئے ہتھیار اٹھائے جائیں اور نہ ہی یہاں کے درختوں کے پتے توڑے جائیں سوائے جانوروں کے چارہ کے۔ اے اللہ ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما اے اللہ ہمارے صاع میں برکت عطا فرما اے اللہ ہمارے مد میں برکت عطا فرما اے اللہ ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما اے اللہ مدینہ میں مکہ کی بنسبت دو گنا برکت فرما اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے کہ مدینہ کی ہر گھاٹی اور درہ پر دو فرشتے مقرر ہیں اور تمہارے واپس آنے تک اس کی حفاظت کرتے ہیں پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ اب نکلو پھر ہم چلے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے قسم ہے اس ذات کی کہ جس کی ہم قسم کھاتے ہیں کہ ابھی ہم نے مدینہ میں داخل ہو کر سامان نہیں اتارا تھا کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کردیا حالانکہ اس سے قبل ان میں کسی طرح کی کوئی بےچینی نہیں پائی جاتی تھی۔

Abu Said Maula al-Mahri reported that they were hard pressed by the distress and hardship of Madinah, and he came to Abu SaId al-Khudri and said to him: I have a large family (to support) and we are enduring hardships; I have, therefore, made up my mind to take my family to some fertile land. Thereupon Abu Said said: Dont do that, stick to Madinah, for we have come out with Allahs Apostle ﷺ , and (I think that he also said) until we reached Usfan, and he (the Holy Prophet ﷺ along with his Companions) stayed there for some nights. There the people said: By Allah, we are lying here idle, whereas our children are unprotected behind us, and we do not feel secure about them. This (apprehension of theirs) reached Allahs Apostle ﷺ , whereupon he said: What is this matter concerning you that has reached me? (I do not retain how he said it, whether he said like this:) By Him (in the name of Whom) I take oath, (or he said like this:) By Him in Whose Hand is my life, I made up my mind or if you like (I do not retain what word he actually said), I should command my camel to proceed and not to let it halt until it comes to Madinah and then said: Ibrahim declared Makkah as the sacred territory and it became sacred, and I declare Madinah as the sacred territory-the area between the two mountains (Air and Uhud). Thus no blood is to be shed within its (bounds) and no weapon is to be carried for fighting, and the leaves of the trees there should not be beaten off except for fodder. O Allah, bless us in our city; O Allah, bless us in our sa; O Allah, bless us in our mudd; O Allah, bless us in our sa; O Allah, bless us in our mudd. O Allah, bless us in our city. O Allah, bless with this blessing two more blessings. By Him in Whose Hand is my life, there is no ravine or mountain path of Madinah which is not protected by two angels until you reach there. (He then said to the people:) Proceed, and we, therefore, proceeded and we came to Madinah. By Him (in Whose name) we take oath and (in Whose name) oath is taken (Hammad is in doubt about it), we had hardly put down our camel saddles on arriving at Madinah that we were attacked by the people of the tribe of Abdullah bin Ghatafan but none dared to do it before.

3337Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَکَةِ بَرَکَتَيْنِ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیہ، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ ہمارے لئے ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت عطا فرما اور ایک برکت کے ساتھ دو برکتیں کر دے۔

Abu Said al-Kbudri (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: O Allah, bless us in our sa and mud and shower with its blessings two other blessings (multiply blessings showered upon it).

3338Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ بن موسی، شیبان اسحاق بن منصور، عبدالصمد، حرب، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر ؓ سے ان سندوں کے ساتھ اسی حدیث کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Yahya bin Abu Kathir with the same chain of transmitters.

3339Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ جَائَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَائِ مِنْ الْمَدِينَةِ وَشَکَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا وَکَثْرَةَ عِيَالِهِ وَأَخْبَرَهُ أَنْ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَی جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا فَقَالَ لَهُ وَيْحَکَ لَا آمُرُکَ بِذَلِکَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَی لَأْوَائِهَا فَيَمُوتَ إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا کَانَ مُسْلِمًا

قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابی سعید، حضرت ابوسعید مولیٰ مہری سے روایت ہے کہ وہ حرہ کی رات میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس آئے اور ان سے مدینہ سے واپس چلے جانے کے بارے میں مشورہ طلب کیا اور شکایت کی کہ مدینہ میں مہنگائی بہت ہے اور ان کی عیال داری بال بچے زیادہ ہیں اور میں مدینہ کی مشقت اور اس کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرسکتا تو حضرت ابوسعید ؓ نے اس سے کہا کہ تجھ پر افسوس ہے میں تجھے اس کا حکم (مشورہ) نہیں دوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں پر صبر کرے اور اسی حال میں اس کی موت آجائے تو میں اس کی سفارش کروں گا یا فرمایا کہ میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا جبکہ وہ مسلمان ہو۔

Abu Said Maula al-Mahri reported that he came to Abu Said al-Khudri during the nights (of the turmoil) of al-Barrah, and sought his advice about leaving Madinah, and complained of the high prices prevailing therein and his large family, and informed him that he could not stand the hardships of Madinah and its rugged surrounding. He said to him: Woe to you; I will not advise you to do it, for I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: No one will endure hardships of Madinah without my being an intercessor or a witness on his behalf on the Day of Resurrection), if he is a Muslim.

3340Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ وَابْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَکَّةَ قَالَ ثُمَّ کَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ فَيَفُکُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ ابن نمیر، ابوکریب، ابواسامہ، ابوبکر ابن انمیر، ابواسامہ، ولید بن کثیر، سعید بن عبدالرحمن، حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر ابوسعید ؓ کسی کے ہاتھ میں مدینہ میں پرندہ دیکھ لیتے تو اس کے ہاتھ سے اس کو چھڑا لیتے اور آزاد کردیتے۔

Abdul Rahman reported on the authority of his father Abu Said (RA) that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: I have declared sacred what is between the two lava grounds of Madinah just as Ibrahim (peace be upon him) declared Makkah as sacred. He (the narrator) then said: Abu Said caught hold of (Abu Bakr, another narrator, used the word "found") a bird in his hand and then released it from his hand and set it free.

3341Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ أَهْوَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَی الْمَدِينَةِ فَقَالَ إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ولی بن مسہر، یسیر بن عمرو، حضرت سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے مدینہ کی طرف اشارہ فرمایا اور فرمایا کہ یہ حرم ہے اور امن کی جگہ ہے۔

Sahl bin Hunaif reported that Allahs Messenger ﷺ pointed with his hands towards Madinah and said: That is a sacred territory and a place of safety.

3342Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ فَاشْتَکَی أَبُو بَکْرٍ وَاشْتَکَی بِلَالٌ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَکْوَی أَصْحَابِهِ قَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ کَمَا حَبَّبْتَ مَکَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَی الْجُحْفَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو وہاں بخار کی وبا آئی ہوئی تھی تو حضرت ابوبکر اور حضرت بلال ؓ بیمار ہوگئے تو جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کی بیماری دیکھی تو فرمایا اے اللہ جیسا کہ تو نے ہمارے لئے مکہ کو محبوب فرمایا مدینہ کو بھی ہمیں محبوب فرمایا اس سے بھی زیادہ محبوب فرما دے اور مدینہ کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمارے لئے مدینہ کے صاع میں اور ان کے مد میں برکت عطا فرما اور مدینہ کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: When we came to Madinah, and it was an unhealthy, uncogenial place, Abu Bakr (RA) fell sick and Bilal (RA) also fell sick; and when Allahs Messenger ﷺ saw the illness of his Companions he said: O Allah, make Madinah as congenial to us as you made Makkah congenial or more than that; make it conducive to health, and bless us in its sa and in its mudd, and transfer its fever to al-Juhfa.

3343Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوکریب، ابواسامہ، ابن نمیر، ہشام، حضرت ہشام بن عروہ ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت منقول ہے۔

This hadith has been narrated by Hisham bin Urwa with the same chain of transmitters.

3344Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَبَرَ عَلَی لَأْوَائِهَا کُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

زہیر بن حرب، عثمان بن عمر، عیسیٰ ابن حفص بن عاصم، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں پر صبر کرے گا تو میں اس کے لئے سفارش کروں گا یا قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who patiently endures the hardships of it (of this city of Madinah), I would be an intercessor or a withness on his behalf on the Day of Resurrection.

3345Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَی الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَقَالَتْ إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ اقْعُدِي لَکَاعِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَصْبِرُ عَلَی لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

یحییٰ بن یحیی، مالک، قطن بن وہب بن عویمربن اجدع، حضرت یحنس مولیٰ زبیر ؓ سے روایت ہے وہ خبر دیتے ہیں کہ میں فتنہ کے دور میں حضرت ابن عمر ؓ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کی آزاد کردہ باندی ان کے پاس آئی اور اس نے آپ کو سلام کیا اور عرض کرنے لگی کہ اے ابوعبدالرحمن ہم پر زمانے کی سختی ہے معاشی حالات کی تنگی جس کی وجہ سے میں نے یہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا ہے تو حضرت عبداللہ ؓ نے اس عورت سے فرمایا کہ یہیں بیٹھی رہو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا تو میں اس کی سفارش کروں گا یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا۔

Yuhannis, the freed slave of Zubair, narrated that when he was sitting withAbdullah bin Umar (RA) during the days of turmoil, his freed slave-girl came to him. After saluting him she said: Abu Abdul Rahman, I have decided to leave (Madinah) for the time is hard for us, whereuponAbdullah said to her: Stay here, foolish lady, for I have heard Allahs Messenger ﷺ as saying: For one who shows endurance on the hardships and rigour of it (of Madinah) I would be an intercessor or a witness on his behalf on the Day of Resurrection.

3346Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ عَنْ قَطَنٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَی مُصْعَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَبَرَ عَلَی لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا کُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَعْنِي الْمَدِينَةَ

محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، قطن، یحنس، مصعب، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا یا فرمایا کہ میں اس کے لئے سفارش کروں گا۔

Abdullah bin Umar (RA) said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He who patiently endured the hardships and rigours of (this city, i. e. Madinah), I would be his witness and intercessor on the Day of Resurrection.

3347Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَصْبِرُ عَلَی لَأْوَائِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ شَهِيدًا

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل، حعفر، علاء بن عبدا لرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری اُمّت میں سے جو کوئی بھی مدینہ کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا تو میں اس کے لئے قیامت کے دن سفارش کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔

Abu Hurairah (RA) reported the Apostle of Allah ﷺ as saying: For one among my Ummah who shows endurance against the hardships and rigours of Madinah, I would be an intercessor or a witness on his behalf on the Day of Resurrection.

3348Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَی بْنِ أَبِي عِيسَی أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِه

ابن ابی عمر، سفیان، ابوہارون، موسیٰ بن ابی عیسی، ابوعبد اللہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا ہے۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.

3349Sahih Muslim

مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَی لَأْوَائِ الْمَدِينَةِ بِمِثْلِهِ

یوسف بن عیسی، فضل بن موسیٰ ہشام، عروہ، صالح بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی بھی مدینہ کی تکلیفوں پر صبر کرے گا پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: None who shows endurance on the hardships of Madinah,... (the rest of the hadith is the same).