حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 29 of 31

3350Sahih Muslim

طاعون اور دجال سے مدینہ منورہ کا محفوظ رہنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِکَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ

یحییٰ بن یحیی، مالک، نعیم بن عبداللہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں مدینہ میں نہ طاعون داخل ہوگا اور نہ ہی دجال۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There are at the approaches of Madinah angels so that plague and the Dajjal shall not penetrate into it.

3351Sahih Muslim

طاعون اور دجال سے مدینہ منورہ کا محفوظ رہنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ هِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ حَتَّی يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلَائِکَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ وَهُنَالِکَ يَهْلِکُ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور مدینہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرے گا یہاں تک کہ احد پہاڑ کے پچھلی طرف اترے گا پھر فرشتے اس کا منہ وہیں سے شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہ وہیں ہلاک ہوجائے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Dajjal will come from the eastern side with the intention of attacking Madinah until he will get down behind Uhud. Then the angels will turn his face towards Syria and there he will perish.

3352Sahih Muslim

مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے پاک ہونے اور مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ وَقَرِيبَهُ هَلُمَّ إِلَی الرَّخَائِ هَلُمَّ إِلَی الرَّخَائِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ کَالْکِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا کَمَا يَنْفِي الْکِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنے چچازاد بھائیوں اور رشتہ داروں کو بلا کر کہیں گے کہ جس جگہ آسانی اور سہولت ہو اس جگہ کوچ کر چلو اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ وہ لوگ جان لیں قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اللہ وہاں سے کسی کو نہیں نکالے گا سوائے اس کے کہ جو وہاں سے اعراض کرے گا تو اللہ اس کی جگہ وہاں اسے آباد فرمائیں گے کہ جو اس سے بہتر ہوگا۔ آگاہ رہو کہ مدینہ ایک بھٹی طرح ہے جو خبیث چیز یعنی میل کچیل کو باہر نکال دیتا ہے اور قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مدینہ اپنے میں سے برے لوگوں کو باہر نکال پھینکے گا جس طرح کہ لو ہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو باہر نکال دیتی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A time will come for the people (of Madinah) when a man will invite his cousin and any other near relation: Come (and settle) at (a place) where living is cheap, come to where there is plenty, but Madinah will be better for them; would they know it! By Him in Whose Hand is my life, none amongst them would go out (of the city) with a dislike for it, but Allah would make his successor in it someone better than he. Behold. Madinah is like a furnace which eliminates from it the impurities. And the Last Hour will not come until Madinah banishes its evils just as a furnace eliminates the impurities of iron.

3353Sahih Muslim

مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے پاک ہونے اور مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھے جانے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْکُلُ الْقُرَی يَقُولُونَ يَثْرِبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ کَمَا يَنْفِي الْکِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس بستی کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا ہے کہ جو ساری بستیوں کو کھا جاتی ہے لوگ اسے یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے وہ برے لوگوں کو اس طرح دور کرے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کی چل کو دور کرتی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I have been commanded (to migrate) to a town (Madinah) which would overpower other towns. They (the people) call it Yathrib; its correct name is (in fact) Madinah. It eliminates (bad) people just as a furnace removes the alloy of iron.

3354Sahih Muslim

مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے پاک ہونے اور مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھے جانے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا کَمَا يَنْفِي الْکِيرُ الْخَبَثَ لَمْ يَذْکُرَا الْحَدِيدَ

عمرو ناقد، ابن ابی عمر، ابن مثنی، عبدالوہاب، حضرت یحییٰ بن سعید ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے اور اس میں حدید کا ذکر نہیں کیا۔

This hadith has been narrated by Yahya bin Said with the same chain of transmitters (and the words are): "Just as a furnace removes impurity," but no mention is made of iron.

3355Sahih Muslim

مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے پاک ہونے اور مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْکٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَائَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَی ثُمَّ جَائَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَی فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْمَدِينَةُ کَالْکِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا

یحییٰ بن یحیی، مالک، محمد، منکدر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تو اس دیہاتی کو مدینہ میں شدید بخار ہوگیا تو نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا اے محمد ﷺ میری بیعت واپس لوٹا دو تو رسول اللہ ﷺ نے انکار فرمایا وہ پھر آپ ﷺ کے پاس لوٹا تو رسول اللہ ﷺ نے انکار فرمایا وہ پھر آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میری بیعت واپس لوٹا دو تو آپ ﷺ نے انکار فرمایا تو وہ دیہاتی مدینہ سے نکل گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو کہ اس میں آئے میل کچیل وغیرہ کو دور کرتا ہے اور اس کے پاک کو خالص اور صاف ستھرا بناتا ہے۔

Jabir binAbdullah (RA) reported that a desert Arab swore allegiance to Allahs Messenger ﷺ . He suffered from a severe fever in Madinah (and) so he came to Allahs Messenger ﷺ saying: Muhammad, cancel my oath of allegiance, but Allahs Messenger ﷺ refused it. He again came and said: Cancel my oath of allegiance, but he (the Holy Prophet) refused it. He again came to him and said: Cancel my oath of allegiance, but he refused. The desert Arab, however, went away (cancelling the allegiance himself); thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Madinah is like a furnace which drives away its impurity and purifies what is good.

3356Sahih Muslim

مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے پاک ہونے اور مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھے جانے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ کَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، عدی، ابن ثابت، عبداللہ بن یزید، حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ طیبہ ہے یعنی مدینہ اور یہ مدینہ میل کچیل کو اس طرح دور کرتا ہے جیسے کہ چاندی کے میل کو آگ دور کرتی ہے۔

Zaid bin Thabit reported Allahs Apostle ﷺ as saying: It is Taiba, thereby meaning Madinah. It drives away impurity just as fire removes the impurity of silver.

3357Sahih Muslim

مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے پاک ہونے اور مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھے جانے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی سَمَّی الْمَدِينَةَ طَابَةَ

قتیبہ بن سعید، ہناد بن سری، ابوبکر بن ابی شبیہ، ابواحوص، سماک، حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل نے مدینہ منورہ کا نام طابہ رکھا ہے۔

Jabir bin ahadeeth (RA) reported that he heard Allahs Messenger ﷺ say: Allah named Madinah as Taaba.

3358Sahih Muslim

مدینہ والوں کو تکلیف پہچانے کی حرمت اور یہ کہ جو ان کو تکلیف دے گا اللہ اسے تکلیف میں ڈالے گا۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنَّسَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَی أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ هَذِهِ الْبَلْدَةِ بِسُوئٍ يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ

محمد بن حاتم، ابراہیم، بن دینار، حجاج بن محمد، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عبداللہ بن عبدالرحمن بن یحنس ابی عبداللہ، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی اس شہر مدینہ والوں کو تکلیف دینے کا ارادہ کرے گا تو اللہ اسے ایسے پگھلا دے گا جیسے کہ پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that AbuI-Qasim (Muhammad, may peace be upon him) said: He who intends to do harm to the people of this city (that is, Madinah) Allah would efface him as salt is dissolved in water.

3359Sahih Muslim

مدینہ والوں کو تکلیف پہچانے کی حرمت اور یہ کہ جو ان کو تکلیف دے گا اللہ اسے تکلیف میں ڈالے گا۔

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ح و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوئٍ يُرِيدُ الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ يُحَنَّسَ بَدَلَ قَوْلِهِ بِسُوئٍ شَرًّا

محمد بن حاتم، ابراہیم بن دینار، حجاج، ابن رافع، عبدارلزاق، ابن جریج، عمرو بن یحیی، عمارہ، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی مدینہ والوں کو تکلیف دینے کا ارادہ کرے گا تو اللہ اسے ایسے پگھلا دیں گے جیسے کہ پانی میں نمک پگھل جاتا ہے ابن حاتم نے ابن یُحنَّس کی حدیث میں بسوء شَرَّا کا قول نقل کیا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who intends to do harm to its people (he meant Madinah), Allah would efface him as salt is dissolved in water. Ibn Hatim (one of the narrators) substituted the word "harm" for "mischief".

3360Sahih Muslim

مدینہ والوں کو تکلیف پہچانے کی حرمت اور یہ کہ جو ان کو تکلیف دے گا اللہ اسے تکلیف میں ڈالے گا۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَی بْنِ أَبِي عِيسَی ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو جَمِيعًا سَمِعَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابن ابی عمر، سفیان، ابی ہارون، موسی، ابن ابی عیسی، ابن ابی عمر، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث نقل فرمائی۔

This hadith is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) by another chain of transmitters.

3361Sahih Muslim

مدینہ والوں کو تکلیف پہچانے کی حرمت اور یہ کہ جو ان کو تکلیف دے گا اللہ اسے تکلیف میں ڈالے گا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ أَخْبَرَنِي دِينَارٌ الْقَرَّاظُ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوئٍ أَذَابَهُ اللَّهُ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ

قتیبہ بن سعید، حاتم، ابن اسماعیل، عمر بن نبیہ، دینار، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی مدینہ والوں کو تکلیف دینے کا ارادہ کرے گا تو اللہ اسے ایسے پگھلا دے گا جیسا کہ پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔

Sad bin Abu Waqqas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who intends to do harm to the people of Madinah, Allah would efface him just as water dissolves salt.

3362Sahih Muslim

مدینہ والوں کو تکلیف پہچانے کی حرمت اور یہ کہ جو ان کو تکلیف دے گا اللہ اسے تکلیف میں ڈالے گا۔

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ الْکَعْبِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوئٍ

قتبہ بن سعید، اسماعیل، ابن جعفر، عمر بن نبیہ، ابی عبداللہ، سعد بن مالک، حضرت سعد بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا۔

Sad bin Malik heard Allahs Messenger ﷺ saying like this except (this variation) that he said: "Sudden attack or harm."

3363Sahih Muslim

مدینہ والوں کو تکلیف پہچانے کی حرمت اور یہ کہ جو ان کو تکلیف دے گا اللہ اسے تکلیف میں ڈالے گا۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَسَعْدًا يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مُدِّهِمْ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوئٍ أَذَابَهُ اللَّهُ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ بن موسی، اسامہ بن زید، ابی عبداللہ، حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت سعد ؓ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ! مدینہ والوں کے لئے ان کے مد میں برکت عطا فرما آگے حدیث اسی طرح ہے جیسے گزری اور اس حدیث میں ہے کہ جو آدمی مدینہ والوں کو تکلیف دینے کا ارادہ کرے گا تو اللہ اسے ایسے پگھلا دے گا جیسا کہ پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) and Sad reported Allahs Messenger ﷺ as saying: O Allah, bless the people of Madinah in their mudd, the rest of the hadith being the same, and in it (this is also mentioned): "He who intends to do harm to its people, Allah would efface him just as salt it dissolved in water."

3364Sahih Muslim

فتوحات کے دور میں مدینہ میں لوگوں کو سکونت اختیار کرنے کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُفْتَحُ الشَّامُ فَيَخْرُجُ مِنْ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ تُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَخْرُجُ مِنْ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ تُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَخْرُجُ مِنْ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام بن عروہ، عبداللہ بن زبیر، حضرت سفیان بن ابی زہیر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب ملک شام فتح کیا جائے گا تو مدینہ سے ایک قوم اپنے گھر والوں کو لے کر اپنے اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے نکلے گی اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ وہ لوگ جان لیں پھر یمن فتح کیا جائے گا تو پھر ایک قوم اپنے گھر والوں کو لے کر اپنے اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے نکلے گی اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ وہ لوگ جان لیں پھر عراق فتح کیا جائے گا تو مدینہ سے ایک قوم اپنے گھر والوں کو اور اپنے اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے نکلے گی اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ وہ لوگ جان لیں۔

Sufyan bin Abd Zuhair reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Syria will be conquered and some people will go out of Madinah along with their families driving their camels, and Madinah is better for them if they were to know it. Then Yemen will be conquered and some people will go out of Madinah along with their families driving their camels, and Madinah is better for them if they were to know it. Then Iraq will be conquered and some people will go out of it along with their families driving their camels, and Madinah is better for them if they were to know it.

3365Sahih Muslim

فتوحات کے دور میں مدینہ میں لوگوں کو سکونت اختیار کرنے کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ہشام بن عروہ، عبداللہ بن زبیر، حضرت سفیان بن ابی زہیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یمن فتح کیا جائے گا تو ایک قوم اپنے گھر والوں اور اپنے خادموں کے لئے ہوئے اور اپنا سامان اٹھائے ہوئے اپنے اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے چلی جائے گی اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ وہ لوگ جان لیں پھر شام فتح کیا جائے گا تو ایک قوم اپنے گھر والوں اور اپنے خادموں کو لئے ہوئے اپنے اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے چلی جائے گی اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ وہ لوگ جان لیں پھر عراق فتح کیا جائے تو ایک قوم اپنے گھر والوں اور اپنے خادموں کو لئے ہوئے اپنے اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے چلی جائے گی اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ وہ لوگ جان لیں۔

Sufyan bin Abu Zuhair heard Allahs Messenger ﷺ say: Yemen will be conquered and some people will go away (to that country) driving their camels and carrying their families on them and those who are under their authority, while Madinah is better for them if they were to know it. Then Syria will be conquered and some people will go away driving their camels along with them and carrying their families with them and those who are under their authority, while Madinah is better for them if they were to know it. Then lraq will be conquered and some people will go away (to that country) driving their camels and carrying their families with them and those who are under their authority, while Madinah is better for them if they were to know it.

3366Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کا یہ خبر دینے کے بیان میں کہ لوگ مدینہ ہی کو بخیر ہونے کے باوجود چھوڑیں گے۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِينَةِ لَيَتْرُکَنَّهَا أَهْلُهَا عَلَی خَيْرِ مَا کَانَتْ مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ قَالَ مُسْلِم أَبُو صَفْوَانَ هَذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ يَتِيمُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَشْرَ سِنِينَ کَانَ فِي حَجْرِهِ

زہیر بن حرب، ابوصفوان، عبداللہ بن عبدالملک، یونس بن یزید، حرملہ بن یحیی، ابن وہب یونس بن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ والوں کے لئے فرمایا کہ لوگ اسے خیر پر ہونے کے باوجود درندوں اور پرندوں کے لئے چھوڑ دیں گے صاحب مسلم فرماتے ہیں کہ ابوصفوان یتیم تھے اور وہاب بن جریج کی گود میں دس سال رہے۔

Salid bin Musayyib heard Abu Hurairah (RA) say that Allahs Messenger ﷺ said about Madinah: Its inhabitants will abandon it, whereas it is good for them and it will become the haunt of beasts and birds. (Imam Muslim said that Abu Safwan, one of the narrators whose name was Abdullah bin Abdul Malik, was an orphan and Ibn juraij took him under his care for ten years.)

3367Sahih Muslim

رسول اللہ ﷺ کا یہ خبر دینے کے بیان میں کہ لوگ مدینہ ہی کو بخیر ہونے کے باوجود چھوڑیں گے۔

و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَتْرُکُونَ الْمَدِينَةَ عَلَی خَيْرِ مَا کَانَتْ لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ ثُمَّ يَخْرُجُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا حَتَّی إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَی وُجُوهِهِمَا

عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ مدینہ کو خیر پر ہونے کے باوجود چھوڑ دیں گے اور درندے اور پرندے مدینہ میں رہیں گے پھر قبیلہ مزنیہ کے دو چرواہے مدینہ آنے کے ارادے سے اپنی بکریوں کو ہنکاتے ہوئے لائیں گے تو مدینہ میں وحشی جانوروں کو پائیں گے یہاں تک کہ جو وہ وداع پہاڑی کے پاس پہنچیں گے تو وہ اپنے چہروں کے بل گرپڑیں گے۔

Abu Hurairah (RA) heard Allahs Messenger ﷺ say: They (the residents of) Madinah will abandon Madinah whereas it is good for them and it will be haunted by beasts and birds, and two shepherds will come out from Muzainah intending (to go) towards Madinah and tending their herd, and will find nothing but wilderness there until when they will reach the mountain path of Wada, they will fall down on their faces.

3368Sahih Muslim

آپ ﷺ کی قبر مبارک اور آپ ﷺ کے منبر کی درمیانی جگہ ریاض الجنہ اور آپ ﷺ کے منبر والی جگہ کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ

قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، عبداللہ بن ابی بکر، عباد بن تمیم، حضرت عبداللہ بن زید مازنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا جو حصہ ہے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔

Abdullah bin Zaid al-Mazini (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: That which is between my house and my pulpit is a garden from the gardens of Paradise.

3369Sahih Muslim

آپ ﷺ کی قبر مبارک اور آپ ﷺ کے مبنر کی درمیانی جگہ ریاض الجنہ اور آپ ﷺ کے مبنر والی جگہ کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ مِنْبَرِي وَبَيْتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ

یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز، بن محمد، مدنی، یزید بن ہاد، ابوبکر، عباد بن تمیم، حضرت عبداللہ بن زید انصاری ؓ سے روایت ہے انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان کا جو حصہ ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔

Abdullah bin Zaid al-Ansari (RA) heard Allahs Messenger ﷺ as saying: That which exists between my pulpit and my house is a garden from the gardens of Paradise.