حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 16 of 31

3090Sahih Muslim

حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّی رَمَی الْجَمْرَةَ وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ کَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ

زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، حضرت ابن جریج، ابوزبیر سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوالزبیر ؓ نے اس سند کے ساتھ حدیث کی خبر دی سوائے اس کے اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمرہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پڑھتے رہے اور اس حدیث میں یہ زیادہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ فرماتے جس طرح کہ چٹکی سے پکڑ کر انسان کنکری مارتا ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abd Zubair with the same chain of transmitters but with this variation that in the hadith no mention is made of (this) that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) continued pronouncing Talbiya till he stoned the Jamra, and he made this addition in his hadith: The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) pointed with his hand how a person should catch hold of pebbles (in order to throw them).

3091Sahih Muslim

حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ کَثِيرِ بْنِ مُدْرِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَنَحْنُ بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَقَامِ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، حصین، کثیر بن مدرک، حضرت عبدالرحمن بن یزید ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت عبداللہ اور ہم مزدلفہ میں تھے تو میں نے آپ ﷺ پر نازل کی گئی سورت البقرہ سنی آپ ﷺ اس مقام پر فرما رہے تھے لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ

Abdullah narrated to us as we had gathered (at Muzdalifa): I have heard from one upon whom Surah al-Baqarah was revealed (the Holy Prophet) pronouncing Talbiya at this place.

3092Sahih Muslim

حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ کَثِيرِ بْنِ مُدْرِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّی حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَکَانِ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ

سریج بن یونس، ہشیم، حصین، کثیر ابن مدرک اشجعی، حضرت عبدالرحمن بن یز ید ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ جس وقت مزدلفہ سے واپس ہوئے تو تلبیہ پڑھتے رہے تو لوگ کہنے لگے کہ کیا یہ دیہاتی آدمی ہیں؟ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ کیا لوگ بھول گئے یا گمراہ ہوگئے ہیں؟ میں نے اس ذات ﷺ سے سنا کہ جس پر سورت البقرہ نازل کی گئی ہے وہ اس جگہ فرما رہے تھے (لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ )

Abdul Rahman bin Yazid reported that Abdullah (b. Masud) pronounced Talbiya as he returned from the gathering of the people (at Muzdalifa). It was said: He might be a Bedouin (not knowing correctly the rituals of Hajj and, therefore, pronouncing Talbia at this stage), whereuponAbdullah said: Have the people forgotten (this Sunnah of the Holy Prophet) or have they gone astray? I heard him, upon whom Surah al-Baqarah was revealed, pronouncing Talbiya at the very place.

3093Sahih Muslim

حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

حسن حلوانی، یحییٰ بن آدم، سفیان، حضرت حصین سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے۔

This English text is part of previous Hadeeth and not translated there.

3094Sahih Muslim

حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَکَّائِيَّ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ کَثِيرِ بْنِ مُدْرِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَا سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا يَقُولُ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ ثُمَّ لَبَّی وَلَبَّيْنَا مَعَهُ

یوسف بن حماد، زیاد یعنی بکانی، حصین، کثیر بن مدرک اشجعی، حضرت عبدالرحمن بن یزید ؓ اور حضرت اسود بن یزید ؓ سے روایت ہے کہ دونوں فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبدالرحمن بن مسعود ؓ سے سنا کہ وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے کہ میں نے اس ذات سے سنا کہ جس پر یہاں سورت البقرہ نازل کی گئی آپ ﷺ فرما رہے تھے لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ پھر حضرت عبداللہ نے بھی تلبیہ پڑھا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پڑھا۔

Abdul Rahman bin Yazid and al-Aswad bin Yazid reported: We heard Abdullah bin Masud saying to the gathering of people (at Muzdalifa) that he had heard Talbiya from him, upon whom Surah al-Baqarah was revealed, at this very place. And so he (Abdullah bin Masud) pronounced Talbiya and we also pronounced it with him.

3095Sahih Muslim

عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُکَبِّرُ

احمد بن حنبل، محمد بن مثنی، عبداللہ بن نمیر، سعید بن یحییٰ اموی، یحییٰ بن سعید، عبداللہ بن ابی سلمہ، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم اگلے دن صبح کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف گئے تو ہم میں سے کوئی تلبیہ پڑھ رہا تھا اور ہم میں سے کوئی تکبیر پڑھ رہا تھا۔

Abdullah bin Umar reported on the authority of his father (RA) . He said: As we proceeded in the morning along with Allahs Messenger ﷺ from Mina to Arafat, some of us pronounced Talbiya, and some pronounced Takbir (Allah-o-Akbar).

3096Sahih Muslim

عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةِ عَرَفَةَ فَمِنَّا الْمُکَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ فَأَمَّا نَحْنُ فَنُکَبِّرُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَعَجَبًا مِنْکُمْ کَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ

محمد بن ابی حاتم، ہارون بن عبداللہ، یعقوب دورقی، یزید بن ہارون، عبدالعزیز بن ابی سلمہ، عمر بن حسین، عبداللہ بن ابی سلمہ، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم عرفہ کی صبح کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہہ رہا تھا اور ہم میں سے کوئی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہہ رہا تھا باقی ہم تکبیر کہہ رہے تھے راوی نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ ؓ سے کہا واللہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم نے ان سے کیوں نہ کہا کہ رسول اللہ کس طرح کرتے تھے۔

Abdullah bin Umar reported on the authority of his father (RA) : We were along with Allahs Messenger (may peace he upon him) in the morning of Arafa (9th of Dhul-Hijja). Some of us pronounced Takbir and some of us Tahlil (La ilaha ill-Allah). And to those of us who pronounced Takbir, I said: By Allah, how strange it is that you did not care to ask him: What did you see Allahs Messenger ﷺ doing (on this occasion)?

3097Sahih Muslim

عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَةَ کَيْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْکَرُ عَلَيْهِ وَيُکَبِّرُ الْمُکَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنْکَرُ عَلَيْهِ

یحییٰ بن یحیی، مالک، حضرت محمد بن ابی بکر ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے پوچھا جب کہ وہ دونوں منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے کہ تم اس دن یعنی عرفہ کے دن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا کرتے تھے؟ حضرت انس ؓ فرمانے لگے کہ کوئی تو ہم میں سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ پڑھتا تھا اور کوئی بھی اس پر نکیر نہیں کرتا تھا اور کوئی ہم میں سے اَللَّهُ أَکْبَرُ کہتا تھا تو اس پر بھی کوئی نکیر نہیں کرتا تھا۔

Muhammad bin Abu Bakr (RA) al-Thaqafi asked Anas bin Malik (RA) , while on their way from Mina to Arafa in the morning: What did you do on this day in the company of Allahs Messenger ﷺ ? Thereupon he said: One of us pronounced Tahlil, and he met with no disapproval, and one of us pronounced Takbir, and he also met with no disapproval.

3098Sahih Muslim

عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَائٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ قَالَ سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَمِنَّا الْمُکَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ وَلَا يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَی صَاحِبِهِ

سریج بن یونس، عبداللہ بن رجاء، حضرت موسیٰ بن عقبہ ؓ سے روایت ہے کہ مجھے حضرت محمد بن ابی بکر ؓ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے عرض کیا کہ آپ عرفہ کی صبح تلبیہ پڑھنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں اور آپ ﷺ کے صحابہ اس سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہہ رہا تھا اور ہم میں سے کوئی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہہ رہا تھا اور ہم میں سے کوئی بھی اپنے کسی ساتھی کو منع نہیں کرتا تھا۔

Muhammad bin Abu Bakr (RA) reported: I said to Anas bin Malik (RA) in the morning of Arafa: What do you say as to pronouncing Talbiya on this day? He said: I travelled with Allahs Apostle ﷺ (may peace he upon him) and his Companions in this journey. Some of us pronounced Takbir and some of us pronounced Tahlil, and none of us found fault with his companion.

3099Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوئَ فَقُلْتُ لَهُ الصَّلَاةَ قَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ فَرَکِبَ فَلَمَّا جَائَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ کُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتْ الْعِشَائُ فَصَلَّاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا

یحییٰ بن یحیی، مالک، موسیٰ بن عقبہ، کریب مولیٰ ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفہ سے واپس ہوئے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ ایک گھاٹی میں اترے تو آپ ﷺ نے پیشاب فرمایا پھر وضو فرمایا اور وضو میں آپ ﷺ نے پانی زیادہ نہیں بہایا مختصر وضو کیا حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ نماز آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز تیرے آگے ہے یعنی کچھ آگے چل کر پڑھیں گے آپ ﷺ سوار ہوئے تو جب مزدلفہ آیا تو آپ ﷺ اترے اور وضو فرمایا اور پورا وضو فرمایا پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو آپ ﷺ نے مغرب کی نماز پڑھائی پھر ہر انسان نے اپنے اونٹ کو ان جگہ میں بٹھا دیا پھر عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھائی اور مغرب اور عشاء کے درمیان آپ ﷺ نے کوئی نماز سنن ونوافل وغیرہ نہیں پڑھی۔

Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas (RA) , narrated from Usama bin Zaid (RA) that he had heard him saying: Allahs Messenger ﷺ proceeded from Arafa, and as he approached the creek of a hill, he got down (from his camel) and urinated, and then performed a light ablution. I said to him: Prayer, whereupon he said: The prayer awaits you (at Muzdalifa). So he rode again, and as he came to Muzdalifa, he got down and performed ablution well. Then Iqama was pronounced for prayer, and he observed the sunset prayer. Then every person made his camel kneel down there, and then Iqama was pronounced for Isha prayer and he observed it, and he (the Holy Prophet) did not observe any prayer (either Sunan or Nawafil) in between them (He observed the Fard of sunset and Isha prayers successively.)

3100Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَی الزُّبَيْرِ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَی بَعْضِ تِلْکَ الشِّعَابِ لِحَاجَتِهِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ الْمَائِ فَقُلْتُ أَتُصَلِّي فَقَالَ الْمُصَلَّی أَمَامَکَ

محمد بن رمح، لیث، یحییٰ بن سعید، موسیٰ بن عقبہ مولیٰ زبیر، کریب مولیٰ ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ عرفات کے بعد قضاء حاجت کے لئے کسی گھاٹی کی طرف گئے جب میں نے آپ ﷺ کو وضو کرایا تو میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ﷺ نماز پڑھیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز تیرے آگے ہے یعنی کچھ آگے چل کر نماز پڑھیں۔

Usama bin Zaid (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ on his way back from Arafat got down in one of these creeks (to answer the call of nature), and after he had done that I poured water (over his hands) and said: Are you going to pray? Thereupon he said: The place of prayer is ahead of you.

3101Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا انْتَهَی إِلَی الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ أَرَاقَ الْمَائَ قَالَ فَدَعَا بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ قَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ قَالَ ثُمَّ سَارَ حَتَّی بَلَغَ جَمْعًا فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ

ابوبکر بن ابی شیبہ عبداللہ بن مبارک، ابوکریب، ابراہیم بن عقبہ کریب، حضرت اسامہ بن زید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپس ہوئے تو جب آپ ﷺ ایک گھاٹی کی طرف اترے تو آپ ﷺ نے پیشاب کیا اور حضرت اسامہ ؓ نے وضو کرانے کا نہیں کہا پھر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور آپ ﷺ نے مختصر وضو فرمایا حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ نماز؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز تیرے آگے ہے یعنی نماز کچھ آگے چل کر پڑھیں گے حضرت اسامہ ؓ کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ چلے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ مزدلفہ پہنچے تو آپ ﷺ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔

Usama bin Zaid (RA) narrated: Allahs Messenger ﷺ was on his way back from Arafat and as he reached the creek (of a hillock) he got down and urinated (Usama did not say that he poured water), but said: He (the Holy Prophet) called for water and performed ablution, but it was not a thorough one. I said: Messenger of Allah, the prayer! Thereupon he said: Prayer awaits you ahead (at Muzdalifa). He then proceeded, until he reached Muzdalifa and observed sunset and Isha prayers (together) there.

3102Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي کُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ کَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَقَالَ جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَبَالَ وَمَا قَالَ أَهَرَاقَ الْمَائَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوئِ فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ فَرَکِبَ حَتَّی جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّی أَقَامَ الْعِشَائَ الْآخِرَةَ فَصَلَّی ثُمَّ حَلُّوا قُلْتُ فَکَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ قَالَ رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَی رِجْلَيَّ

اسحاق بن ابرہیم، یحییٰ بن آدم، زہیر، ابوخیمثہ، ابراہیم بن عقبہ، کریب، اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ کریب نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید ؓ سے پوچھا کہ جس وقت تم عرفہ کی شام کو رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار ہوئے تھے تو اس کے بعد آپ ﷺ نے کیا کیا تھا؟ حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم اس گھاٹی میں آئے جس میں لوگ مغرب کی نماز کے لئے اپنے اونٹوں کو بٹھاتے تھے رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور آپ ﷺ نے پیشاب کیا اور حضرت اسامہ ؓ نے وضو کرانے کا نہیں فرمایا پھر آپ ﷺ نے وضو کے لئے پانی منگوایا اور مختصر وضو کیا پھر میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نماز تیرے آگے ہے یعنی کچھ آگے چل کر پڑھتے ہیں پھر ہم سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آگئے تو مغرب کی اقامت ہوئی پھر لوگوں نے اونٹوں کو ان کی جگہوں پر بٹھا دیا اور پھر انہیں نہیں کھولا یہاں تک کہ عشاء کی نماز کی اقامت ہوئی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی پھر لوگوں نے اپنے اونٹوں کو کھولا راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ آپ ﷺ نے حضرت فضل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور میں قریش کے پہلے چلے جانے والوں میں سے پیدل جانے والا تھا۔

Kuraib reported that he asked Usama bin Zaid (RA) What did you do in the evening of Arafa as you rode behind Allahs Messenger ﷺ ? He said: We came to a valley where people generally halted their (camels) for the sunset prayer. Allahs Messenger ﷺ halted his camel and urinated (and he did not say that he had poured water). He then called for water and performed light ablution. I said: Messenger of Allah, the prayer! Thereupon he said: Prayer awaits you (at Muzdalifa), and he rode on until we came to Muzdalifa. Then he offered the sunset prayer and the people halted their camels at their places, and did not untie them until Iqama was pronounced for the Isha prayer and he observed the prayer, and then they untied (their camels). I said: What did you do in the morning? He said: Al-Fadl bin Abbas (RA) sat behind him (the Holy Prophet) in the morning, whereas I proceeded on foot with the Quraish who had gone ahead.

3103Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَی النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَائُ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ أَهَرَاقَ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا خَفِيفًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ

اسحاق بن ابراہیم وکیع، سفیان، محمد بن عقبہ، کریب، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اس گھاٹی پر آئے جس جگہ امراء لوگ اترتے ہیں آپ ﷺ اترے اور آپ ﷺ نے پیشاب کیا اور پانی بہانے کا نہیں کہا پھر آپ ﷺ نے وضو کے لئے پانی منگوایا تو آپ ﷺ نے وضو فرمایا مختصر وضو حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز تیرے آگے ہے یعنی نماز کچھ آگے چل کر پڑھیں گے۔

Usama bin Zaid (RA) reported that when Allahs Messenger ﷺ came to the valley where the rich (people of Makkah) used to get down, he got down and urinated (and he did not mention about pouring water); he then called for water and performed a light ablution. I said: Messenger of Allah, the prayer. Thereupon he said: Prayer awaits you ahead.

3104Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَائٍ مَوْلَی ابْنِ سِبَاعٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ کَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمَّا جَائَ الشِّعْبَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَی الْغَائِطِ فَلَمَّا رَجَعَ صَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَکِبَ ثُمَّ أَتَی الْمُزْدَلِفَةَ فَجَمَعَ بِهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عطاء، سباع، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات سے واپس آئے تو جب آپ ﷺ گھاٹی کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے اپنی سواری کو بٹھایا پھر آپ ﷺ قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے اور جب آپ ﷺ لوٹے تو میں نے برتن میں پانی لے کر آپ ﷺ کو وضو کروایا پھر آپ ﷺ سوار ہوئے اور مزدلفہ آئے اور وہاں آپ ﷺ نے مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کو اکٹھا پڑھا۔

Usama bin Zaid (RA) reported that he sat behind Allahs Messenger ﷺ on his ride as he came back from Arafa. And as he came to the valley, he halted his camel, and then went to the wilderness (to urinate). And when he came back, I poured water on him from the jug and he performed ablution, and then rode on until he came to Muzdalifa and there he combined the sunset and Isha prayers.

3105Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ قَالَ أُسَامَةُ فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَی هَيْئَتِهِ حَتَّی أَتَی جَمْعًا

زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، عبدالملک بن ابی سلیمان، عطاء، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عرفہ سے واپس لوٹے تو حضرت اسامہ ؓ آپ ﷺ کی سواری پر آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھے حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ آگئے۔

Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Messenger (may peace be upon, him) came back from Arafa and Usama (RA) was seated behind him. Usama said that he (the Holy Prophet) continued the journey in this very state until he came to Muzdalifa.

3106Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا شَاهِدٌ أَوْ قَالَ سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ قُلْتُ کَيْفَ کَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ قَالَ کَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ

ابوربیعم قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، حضرت ہشام ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ ؓ سے سوال کیا گیا اور میں بھی وہاں موجود تھا یا فرمایا کہ میں نے حضرت اسامہ ؓ سے پوچھا کہ اسامہ ؓ عرفات سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ کی سواری پر آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھے کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے جس وقت واپس ہوئے تو کیسے چل رہے تھے؟ حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ آہستہ چل رہے تھے تو جب روشنی پاتے تو تیز رفتار ہوجاتے تھے۔

Hisham (RA) reported from his father: Usama (RA) was asked in my presence or I asked Usama bin Zaid and he rode behind Allahs Messenger ﷺ as he came back from Arafat. I said (to him): How did Allahs Messenger ﷺ journey as he came back from Arafat? Thereupon he said: He made it (his riding camel) walk at a slow speed, and when he found an open space, he made it walk briskly.

3107Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُمَيْدٍ قَالَ هِشَامٌ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، عبداللہ بن نمیر، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ہشام بن عروہ ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Urwa with the same chain of transmitters. And in the hadith narrated by Humaid there is an addition (of these words): "Hisham said: Al-nass (speed of camel) is faster than al-anaq."

3108Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُزْدَلِفَةِ

یحییٰ بن یحییٰ سلیمان بن بلال، یحییٰ بن سعید، عدی بن ثابت عبداللہ بن یزید، حضرت ابوایوب خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجہالوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی۔

Abdullah bin Yazid al-Khatmi reported on the authority of Abu Ayyub (RA) that he prayed the sunset and Isha prayers (together) at Muzdalifa in the company of Allahs Messenger ﷺ on the occasion of the Farewell Pilgrimage.

3109Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ وَکَانَ أَمِيرًا عَلَی الْکُوفَةِ عَلَی عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ

قتیبہ، ابن رمح، لیث بن سعد، حضرت یحییٰ بن سعید ؓ اس سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں ابن رمح اپنی روایت میں حضرت عبداللہ بن یزید خطمی کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ حضرت ابن زبیر ؓ کے زمانہ میں کوفہ کے امیر تھے۔

This English text is part of previous Hadeeth and not translated there.