حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 15 of 31

3071Sahih Muslim

طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کو استح کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَ حَفِيًّا

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، ابوبکر، وکیع، سفیان، ابراہیم، عبدالاعلی، حضرت سوید ؓ بن غفلہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ تجھے بہت چاہتے تھے۔

Suwaid bin Ghafala reported: I saw Umar (RA) kissing the Stone and clinging to it and saying: I saw Allahs Messenger ﷺ having great love for you.

3072Sahih Muslim

طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کو استح کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَلَکِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَ حَفِيًّا وَلَمْ يَقُلْ وَالْتَزَمَهُ

محمد بن مثنی، عبدالرحمن، حضرت سفیان ؓ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بہت چاہتے تھے اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ وہ حجر اسود سے چمٹ گئے ہوں۔

This hadith has been narrated on the authority of Sufyan with the same chain of transmitters (and the words are): "That he (Umar) said: But I saw Abul-Qasim ﷺ having great love for you." And he did not mention about clinging to it.

3073Sahih Muslim

اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَی بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّکْنَ بِمِحْجَنٍ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجہ الوداع میں اونٹ پر طواف کیا اور چھڑی کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا۔

Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ circumambulated the House on the occasion of the Farewell Pilgrimage on the back of his camel and touched the Corner (of Black Stone) with a stick.

3074Sahih Muslim

اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَی رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ لِأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابن جریج، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجہ الوداع میں بیت اللہ کا طواف اپنی سواری پر کیا اور اپنی چھڑی کے ساتھ حجر اسود کا استلام فرمایا اس وجہ سے تاکہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھ لیں اور لوگ آپ ﷺ سے مسائل وغیرہ پوچھ سکیں اس لئے لوگوں نے آپ ﷺ کو گھیر رکھا تھا۔

Jabir (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ circumambulated the House on the back of his riding camel on the occasion of the Farewell Pilgrimage and touched the Stone with his stick so that the people should see him, and he should be conspicuous, and they should be able to ask him (questions pertaining to religion) as the people had crowded round him.

3075Sahih Muslim

اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَکْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا طَافَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَی رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ وَلَمْ يَذْکُرْ ابْنُ خَشْرَمٍ وَلِيَسْأَلُوهُ فَقَطْ

علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن جریج، عبدہ بن حمید، محمد یعنی ابن بکر، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حجہ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کو طواف اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی یہ بلند ہونا اس وجہ سے تاکہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھ سکیں اور آپ ﷺ سے مسائل وغیرہ پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ ﷺ کو گھیر رکھا تھا۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ circumambulated the House (and ran) between al-Safa and al-Marwah on the back of his she-camel, at the occasion of the Farewell Pilgrimage so that the people should see him and he should be conspicuous, and they should be able to ask him (questions pertaining to religion), and the people had crowded round him. In the hadith transmitted on the authority of Ibn Khashram no mention is made of: "So that they should ask him."

3076Sahih Muslim

اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی الْقَنْطَرِيُّ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَافَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْکَعْبَةِ عَلَی بَعِيرِهِ يَسْتَلِمُ الرُّکْنَ کَرَاهِيَةَ أَنْ يُضْرَبَ عَنْهُ النَّاسُ

حکم بن موسی، شعیب بن اسحاق، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے حجہ الوداع میں کعبۃ اللہ کے گرد اپنے اونٹ پر طواف کیا اور حجر اسود کا استلام کیا آپ ﷺ ناپسند فرماتے تھے کہ لوگوں کو اس سے ہٹایا جائے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Apostle ﷺ circumambulated the Ka’bah on the back of his camel on the occasion of the Farewell Pilgrimage and touched the corner and he did not like that the people should be pushed away from him.

3077Sahih Muslim

اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يَقُولُا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْتَلِمُ الرُّکْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ وَيُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ

محمد بن مثنی، سلیمان بن داود، معروف بن خربوذ، حضرت ابوالطفیل ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا اور آپ ﷺ کے پاس ایک چھڑی تھی جس سے حجر اسود کا استلام کرتے اور پھر اس چھڑی کو بوسہ دیتے۔

Abu Tufail reported: I saw Allahs Messenger ﷺ circumambulating the House and touching the corner with a stick that he had with him, and then kissing the stick.

3078Sahih Muslim

اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ شَکَوْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَکِي فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَرَائِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاکِبَةٌ قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَی جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَکِتَابٍ مَسْطُورٍ

یحییٰ بن یحیی، مالک، محمد بن عبدالرحمن ابن نوفل، عروہ، زینب بنت ابی سلمہ، حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کرلے حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ نماز میں (وَالطُّورِ وَکِتَابٍ مَسْطُورٍ ) پڑھ رہے تھے۔

Umm Salamah reported: I made a complaint to Allahs Messenger ﷺ of my ailment, whereupon be said: Circumambulate behind the people while riding. She said: So I circumambulated and Allahs Messenger ﷺ was at that time praying towards the side of the House and he was reciting al-Tur and a Book Inscribed (i. e. Sura Iii. of the Quran).

3079Sahih Muslim

اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ لَهَا إِنِّي لَأَظُنُّ رَجُلًا لَوْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مَا ضَرَّهُ قَالَتْ لِمَ قُلْتُ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَی يَقُولُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَتْ مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَوْ کَانَ کَمَا تَقُولُ لَکَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَهَلْ تَدْرِي فِيمَا کَانَ ذَاکَ إِنَّمَا کَانَ ذَاکَ أَنَّ الْأَنْصَارَ کَانُوا يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمَيْنِ عَلَی شَطِّ الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُمَا إِسَافٌ وَنَائِلَةُ ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يَحْلِقُونَ فَلَمَّا جَائَ الْإِسْلَامُ کَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا لِلَّذِي کَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ إِلَی آخِرِهَا قَالَتْ فَطَافُوا

یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، حضرت ہشام بن عروہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ کوئی آدمی اگر صفا ومروہ کے درمیان طواف سعی نہ کرے تو کوئی نقصان نہیں حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کیوں میں نے عرض کیا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں تو جو آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں کہ صفاومروہ کے درمیان طواف سعی کرے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ کسی آدمی کا حج اور نہ ہی عمرہ پورا ہوگا جب تک کہ وہ صفا مروہ کے درمیان طواف ( سعی) نہ کرے اور اگر اس طرح سے ہے جیسا کہ تو کہتا ہے تو اللہ اس طرح فرماتے ترجمہ کوئی حرج نہیں جو صفا ومروہ کے درمیان طواف (سعی) نہ کرے اور کیا تجھے معلوم ہے کہ اس کا شان نزول کیا ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں سمندر کے ساحل پر انصار دو بتوں کے نام کا احرام باندھتے تھے ان بتوں کو اساف اور نائلہ کہا جاتا ہے پھر وہ آتے اور صفا ومروہ کے درمیان طواف سعی کرتے پھر حلق کراتے یعنی سر منڈاتے تو جب اسلام آیا تو انہوں نے ناپسند کیا کہ صفاومروہ کے درمیان طواف (سعی) کریں اس وجہ سے کہ جاہلیت کے زمانہ میں وہ اس طرح کرتے تھے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ترجمہ صفا مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے آخر تک حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ پھر انہوں نے سعی کی۔

Hisham bin Urwa reported on the authority of his father who narrated from Aisha. He said to Aisha: I think if a person does not run between al- Safa and al-Marwah, It does not do any harm to him (so far as Hajj is concerned). She said: Why (do you think so)? I said: For Allah says: "Verily al-Safa and al-Marwahh are among the Signs of Allah" (ii. 158) (to the end of the verse), whereupon she said: Allah does not complete the Hajj of a person or his Umrah if he does not observe Sai between al-Safa and al-Marwahh; and if it were so as you state, then (the wording would have been (fala janah an la yatufu biha) [" There is no harm for him if he does not circumambulate between them]. Do you know in what context (this verse was revealed)? (It was revealed in this context) that the Ansar in the Days of Ignorance pronounced the Talbiya for two idols. (fixed on the bank of the river which were called Isaf and Naila. The people went there, and then circumambulated between al-Safa and al-Marwahh and then got their heads shaved. With the advent of Islam they (the Muslims) did not like to circumambulate between them as they used to do during the Days of Ignorance. It was on account of this that Allah the Exalted and Majestic, revealed: "Verily al-Safe and al-Marwahh are among the Signs of Allah" to the end of the verse. She said: Then people began to observe Sai.

3080Sahih Muslim

اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا أَرَی عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَتْ لِمَ قُلْتُ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ الْآيَةَ فَقَالَتْ لَوْ کَانَ کَمَا تَقُولُ لَکَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ کَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَجِّ ذَکَرُوا ذَلِکَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی هَذِهِ الْآيَةَ فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، حضرت ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ اگر میں صفا ومروہ کے درمیان طواف سعی نہ کروں تو مجھ پر کوئی گناہ نہیں حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کیوں میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَا ى ِرِاللّٰهِ ) 2۔ البقرۃ: 158) کہ صفا مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان طواف سعی کرے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جیسے تم کہتے ہو کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ صفا مروہ کے درمیان طواف سعی نہ کرے تو یہ آیت انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل کی گئی کہ وہ جاہلیت کے زمانہ میں مناہ بت کے نام کا احرام باندھتے تھے تو صفا مروہ کے درمیان طواف کرنا ان کے لئے حلال نہیں تھا تو جب وہ نبی ﷺ کے ساتھ حج کے لئے آئے تو انہوں نے آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی میری عمر کی قسم! اللہ اس کا حج پورا نہیں کرے گا کہ جو صفا مروہ کے درمیان طواف سعی نہیں کرے گا۔

Hisham bin Urwa narrated on the authority of his father who reported: I said to Aisha: I do not see any harm to me if I do not circumambulate between al-Safa and al-Marwah. She said: On what ground do you say so? (I said:) Since Allah, the Exalted and Majestic, says: "Verily al-Safa and al-Marwah are among the Signs of Allah." If (your assertion) were (correct), it would have been said like this: "There is no harm for him, that he should not circumambulate between them." It (this verse) has been revealed about the people of Ansar. Whenever they pronounced the Talbiya, they pronounced it in the name of al-Manat during the Days of Ignorance; so they (thought) that it was not permissible for them (for the Muslims) to circumambulate between and al-Marwah. When they (the Muslims) came with Allahs Apostle ﷺ (may peace he upon him) for Hajj, they mentioned it to him. So Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse. By my life, Allah will not complete the Hajj of one who has not circumambulated between al-Safa and al-Marwah.

3081Sahih Muslim

اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَی عَلَی أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا وَمَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا قَالَتْ بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ فَکَانَتْ سُنَّةً وَإِنَّمَا کَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا کَانَ الْإِسْلَامُ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَوْ کَانَتْ کَمَا تَقُولُ لَکَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا قَالَ الزُّهْرِيُّ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِأَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَأَعْجَبَهُ ذَلِکَ وَقَالَ إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ إِنَّمَا کَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنْ الْعَرَبِ يَقُولُونَ إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ و قَالَ آخَرُونَ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ قَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلَائِ وَهَؤُلَائِ

عمرو ناقد، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، ابن ابی عمر، سفیان، زہری، حضرت عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا میری یہ رائے ہے کہ اگر کوئی صفا ومروہ کے درمیان طواف نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور میں بھی صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کرنے کی پرواہ نہیں کرتا۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اے میرے بھانجے! جو تو نے کہا برا کہا رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی طواف (سعی) کیا اور یہی سنت ہے اور جو لوگ مُشَلَل میں منات (بت) کا احرام باندھتے تھے وہ لوگ صفامروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے تو جب اسلام آیا اور اس بارے میں ہم نے نبی ﷺ سے پوچھا تو اللہ نے آیت نازل فرمائی ترجمہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تو جو آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کا طواف کرے اور اگر اس طرح ہوتا جیسا کہ تم کہتے ہو تو یہ آیت اس طرح آتی کہ ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کریں زہری کہتے ہیں کہ اس نے حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے اس کا ذکر کیا تو وہ اس سے خوش ہوئے اور فرمایا کہ یہی دراصل علم ہے اور میں نے اہل علم میں سے بہت سے لوگوں سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ عرب کے لوگ صفا مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان دو پتھروں کے درمیان ہمارا طواف کرنا جاہلیت کے زمانہ کے کاموں میں سے تھا اور دوسرے انصار لوگوں نے کہا کہ ہمیں صفا مروہ کے درمیان طواف کا حکم نہیں دیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے (البقرہ) حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میری رائے یہ ہے کہ یہ آیت ان سب لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔

Urwa bin Zabair reported: I said to Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ : I do not see any (fault) in one who does not circumambulate between al-Safa and al-Marwah, and I do not mind if I do not circumambulate between them, whereupon she said: O, the son of my sister, what you say is wrong. Allahs Messenger ﷺ observed Sai and so did the Muslims. So it is a Sunnah (of the Prophet ﷺ. And it was a common practice (with the pagan Arabs) that those who pronounced Talbiya for the wretched al-Manat, situated at Mushalla, did not observe Sai between al-Safa and al-Marwah. With the advent of Islam, we asked Allahs Apostle ﷺ about this practice, and (it was on this occasion) that Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse: "Verily al-Safa and al-Marwah are among the Signs of Allah" ; so he who performed Hajj or Umrah it is no sin on him if he circumambulates them. And if it were as you state, (then the wording would have been): "There is no harm for him, that he should not circumambulate round them." Zuhri said: I made a mention of that to Abu Bakr (RA) bin Abdul Rahman bin al-Harith bin Hisham; he was impressed by that and said: This is what is called knowledge. And I have heard many a scholar saying: Many of the Arabs who did not circumambulate between al-Safa and al-Marwah said: Our circumambulation between these two hills is an act of ignorance; whereas others among the Ansar said: We have been commanded to circumambulate the House, and not Commanded to run between al-Safa and al-Marwah. So Allah, the Exalted and Majestic, revealed thia verse: "Verily al-Safa and al-Marwah are among the Signs of Allah." Abu Bakr (RA) bin Abdul Rahman said: I think that this (verse) has been revealed for such and such (persons).

3082Sahih Muslim

اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُکَ الطَّوَافَ بِهِمَا

محمد بن رافع، حجین بن مثنی، لیث، عقیل، ابن شہاب، حضرت عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا اور پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی اور اس حدیث میں ہے کہ جب انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے میں حرج خیال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ترجمہ۔ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تو جو کوئی آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ صفا مروہ کے درمیان طواف کرے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو مسنون قرار دیا ہے تو اب کسی کے لئے بھی جائز نہیں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو چھوڑ دے۔

Urwa bin Zubair reported: I asked Aisha (Allah be pleased with her); the rest of the hadith is the same. And in this hadith (these words are also found): "When they (the Companions of the Holy Prophet ﷺ) asked Allahs Messenger ﷺ about this, they said: Messenger of Allah, we felt reluctant to circumambulate between al-Safa and al-Marwah. Then Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse:" Verily al-Safa and al-Marwah are among the Signs of Allah so he who perform Hajj or Umrah it is no sin on him if he should circumambulate between them. Aisha (Allah be pleased with her) said: Allahs Messenger ﷺ laid down this Sai between them as Sunnah (of the Holy Prophet ﷺ). So it is not advisable for anyone to abandon this Sai between them.

3083Sahih Muslim

اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔

و حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الْأَنْصَارَ کَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَکَانَ ذَلِکَ سُنَّةً فِي آبَائِهِمْ مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ حِينَ أَسْلَمُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِکَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاکِرٌ عَلِيمٌ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت عروہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ خبر دیتی ہیں کہ انصار کے لوگ اسلام لانے سے پہلے غسان اور مناہ (بتوں کے نام) کے لئے احرام باندھتے تھے تو وہ اس وجہ سے صفا مروہ کے درمیان طواف کرنے کا گناہ سمجھتے تھے اور یہ ان کے آباواجداد کا طریقہ تھا کہ جو مناہ کے لئے احرام باندھتا تو وہ صفا مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتا تھا جس وقت وہ لوگ اسلام لے آئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ترجمہ کہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تو جو کوئی آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرے اور جو کوئی نفلی نیکی کرے گا تو اللہ قدر دان اور جاننے والا ہے۔

Urwa bin Zabair narrated on the authority of Aisha (Allah be pleased with her) who informed him that the Ansar and the people of the tribe of Ghassan before embracing Islam pronounced Talbiya for Manat, and so they avoided circumambulating between al-Safa and al-Marwah, and it was a common practice with their forefather, that he who put on Ihram for Manat did not circumambulate between al-Safa and al-Marwah. And when they embraced Islam, they asked Allahs Messenger ﷺ about it, and then Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse: "Verily al-Safa and al-Marwah are among the Signs of Allah"; so he who performs Hajj or Umrah, for him there is no harm if he should circumambulate between them, and he who does good spontaneously-surely Allah is Bountiful in rewarding and Knowing.

3084Sahih Muslim

اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَتْ الْأَنْصَارُ يَکْرَهُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّی نَزَلَتْ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، عاصم، حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ انصار صفا اور مروہ کے درمیان طواف سعی کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے یہاں تک کہ آیت نازل ہوئی ترجمہ کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے تو جو آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف سعی کرے۔

Anas (RA) reported that the Ansar felt reluctant that they should circumambulate between al-Safa and al-Marwah until it was revealed: "Verily al-Safa and al-Marwah are among the Signs of Allah"; so whoever performs Hajj or Umrah, for him there is no harm that he should circumambulate between them.

3085Sahih Muslim

سعی مکرر نہ کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا

محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ صفا اور مروہ کے درمیان طواف (سعی) نہیں کرتے تھے مگر ایک مرتبہ

Jabir bin Abdullah reported that Allahs Apostle ﷺ and his Companions did not observe Sai between al-Safa and al-Marwah but only one Sai.

3086Sahih Muslim

سعی مکرر نہ کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الْأَوَّلَ

عبد بن حمید، محمد بن بکر، ابن جریج سے اس سند کے ساتھ اس طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں ہے کہ سوائے ایک طواف کے اور وہ بھی پہلے طواف کے۔

Ibn Juraij reported on the same authority a hadith like that, and said: But one Tawaf and that was the first Tawaf.

3087Sahih Muslim

حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الْأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ فَبَالَ ثُمَّ جَائَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوئَ فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا خَفِيفًا ثُمَّ قُلْتُ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ فَرَکِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّی ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍقَالَ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر، اسماعیل، یحییٰ بن یحیی، اسماعیل بن جعفر، محمد بن ابی حرملہ، کریب مولیٰ ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں عرفات سے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا تو جب رسول اللہ ﷺ مزدلفہ کے بائیں طرف ایک گھاٹی پر پہنچے تو آپ ﷺ نے اپنا اونٹ بٹھایا اور پھر آپ ﷺ نے پیشاب کیا پھر آپ ﷺ آئے اور میں نے آپ ﷺ کو وضو کروایا تو آپ ﷺ نے ہلکا مختصر وضو کیا پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہوگیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز آگے ہے پھر رسول اللہ ﷺ سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ آگیا تو آپ ﷺ نے نماز پڑھی پھر رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ کی صبح فضل ؓ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا۔

Usama bin Zaid (RA) reported: I was sitting behind Allahs Messenger ﷺ on the riding animal from Arafat. As Allahs Messenger ﷺ reached the left side of the mountain which was situated near Muzdalifa, he made the camel kneel down and made water and then came back. I poured water and he performed light ablution. I then said: Messenger of Allah, it is time for prayer. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: The prayer awaits you (at the next station, Muzdalifa). Allahs Messenger ﷺ rode on until he came to Muzdalifa and observed prayer. Then al-Fadl (RA) sat behind Allahs Messenger ﷺ and reached (Muzdalifa) in the morning. Kuraib said: Abdullah bin Abbas (RA) narrated from al-Fadl (RA) that Allahs Messenger ﷺ continued pronouncing Talbiya until he reached al-Jamara (al-Aqabahh).

3088Sahih Muslim

حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں

کُرَيْبٌ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّی بَلَغَ الْجَمْرَةَ

راوی کریب کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے مجھے حضرت فضل کے بارے میں خبر دی کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ جمرہ تک پہنچ گئے۔

This English text is part of previous Hadeeth and not translated there.

3088Sahih Muslim

حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ کِلَاهُمَا عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ قَالَ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّی رَمَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ ابن یونس، ابن خشرم، عیسی، ابن جریج، عطاء، حضرت ابن عباس ؓ خبر دیتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت فضل ؓ کو مزدلفہ سے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا حضرت فضل خبر دیتے ہیں کہ نبی ﷺ تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ تک کنکریاں مارنے کے لئے پہنچ گئے۔

Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ made al-Fadl sit behind him (on the camel back) from the place (where the two prayers) are combined (Muzdalifa). Ibn Abbas (RA) also informed that Allahs Apostle ﷺ did not stop pronouncing Talbiya till he threw pebbles at Jamrat al-Aqabahh.

3089Sahih Muslim

حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَلَيْکُمْ بِالسَّکِينَةِ وَهُوَ کَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّی دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًی قَالَ عَلَيْکُمْ بِحَصَی الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَی بِهِ الْجَمْرَةُ وَقَالَ لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّی رَمَی الْجَمْرَةَ

قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، ابی زبیر، ابی معبد مولیٰ ابن عباس، حضرت فضل بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے حضرت فضل کہتے ہیں کہ آپ ﷺ عرفہ کی شام اور اگلے دن یعنی مزدلفہ کی صبح لوگوں سے فرماتے کہ آہستہ چلو اور آپ ﷺ اپنی اونٹنی کو روکتے ہوئے جاتے یہاں تک کہ آپ ﷺ وادی محسر میں داخل ہوگئے اور محسر منٰی میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم پر لازم ہے کہ جمرہ کو کنکریاں مارنے کے لئے کنکریاں اٹھا لاؤ حضرت فضل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمرہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پڑھتے رہے۔

Ibn Abbas narrated from al-Fadl bin Abbas (RA) who sat behind Allahs Messenger ﷺ that he (the Holy Prophet) said to the people on the evening of Arafa and on the morning to the gathering of people (at Muzdalifa) as they were pushing on to proceed slowly. And he himself drove his she-camel with restraint until he entered Muhassir (it is a place in Mina), and further told them to take up pebbles which were to be thrown at Jamra. And Allahs Messenger ﷺ continued pronouncing Talbiya till he stoned the Jamra. This hadith has been narrated on the authority of Abd Zubair with the same chain of transmitters but with this variation that in the hadith no mention is made of (this) that Allahs Messenger ﷺ continued pronouncing Talbiya till he stoned the Jamra, and he made this addition in his hadith: "The Apostle ﷺ pointed with his hand how a person should catch hold of pebbles (in order to throw them)."