حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَی الْحَجَرِ ثَلَاثًا وَمَشَی أَرْبَعًا
ابن عمر بن ابان، ابن مبارک، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود سے حجر اسود تک پہلے تین چکروں میں رمل فرمایا اور باقی چار چکروں میں عام چال چلے۔
Nafi reported on the authority of Ibn Umar (RA) that Allahs Messenger ﷺ walked swiftly from stone to stone in three circuits and walked (normally) in four.
حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَی الْحَجَرِ وَذَکَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ
ابوکامل حجدری، سلیم بن اخضر، عبیداللہ بن عمر، حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
Nafi reported that Ibn Umar (RA) (Allah he pleased with them) walked swiftly from stone to stone, and stated that Allahs Messenger ﷺ did like this.
حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ حَتَّی انْتَهَی إِلَيْهِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، مالک، یحییٰ بن یحیی، جعفر بن محمد، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل فرمایا یہاں تک کہ اس تک تین چکر ہوگئے۔
Jabir binAbdullah (RA) reported: I saw Allahs Messenger ﷺ walking swiftly from the Black Stone till he completed three circuits up to it.
حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ الثَّلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنْ الْحَجَرِ إِلَی الْحَجَرِ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک، ابن جریج، جعفر بن محمد، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود سے حجر اسود تک پہلے تین چکروں میں رمل فرمایا۔
Jabir binAbdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ walked swiftly in three circuits from stone to stone.
حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشْيَ أَرْبَعَةِ أَطْوَافٍ أَسُنَّةٌ هُوَ فَإِنَّ قَوْمَکَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ قَالَ فَقَالَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ قُلْتُ مَا قَوْلُکَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَکَّةَ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنْ الْهُزَالِ وَکَانُوا يَحْسُدُونَهُ قَالَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثًا وَيَمْشُوا أَرْبَعًا قَالَ قُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رَاکِبًا أَسُنَّةٌ هُوَ فَإِنَّ قَوْمَکَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ قَالَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ قُلْتُ وَمَا قَوْلُکَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ يَقُولُونَ هَذَا مُحَمَّدٌ هَذَا مُحَمَّدٌ حَتَّی خَرَجَ الْعَوَاتِقُ مِنْ الْبُيُوتِ قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ النَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمَّا کَثُرَ عَلَيْهِ رَکِبَ وَالْمَشْيُ وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ
ابوکامل فضیل بن حسین جحدری، عبدالواحد بن زیاد، جریری، حضرت ابوالطفیل ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ بیت اللہ کا طواف پہلے کے تین چکروں میں رمل اور چار چکروں میں عام چال چلنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کیا یہ سنت ہے؟ کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ اسے سنت سمجھ رہے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ سچے ہیں اور جھوٹے بھی ہیں اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ دبلے پتلے ہونے کی وجہ سے بیت اللہ کا طواف کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور انہوں نے کہا کہ مشرک آپ ﷺ سے حسد کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم فرمایا کہ وہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کریں یعنی سینہ نکال کر کندھے ہلا ہلا کر تھوڑا تیز چلیں اور باقی چار چکروں میں عام چال چلیں راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ آپ مجھے صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بارے میں خبر دیں کہ کیا سوار ہو کر کرنا سنت ہے؟ کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ اسے سنت سمجھ رہے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ سچے بھی ہیں اور جھوٹے بھی راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ آپ کے اس قول کہ سچے بھی ہیں اور جھوٹے بھی ہیں کا کیا مطلب ہے؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بہت سے لوگوں کا ہجوم ہوگیا اور وہ کہنے لگے کہ یہ محمد ﷺ ہیں یہ محمد ﷺ ہیں یہاں تک کہ نوجوان عورتیں بھی اپنے گھروں سے باہر نکل آئیں اور رسول اللہ ﷺ اپنے سامنے سے لوگوں کو نہیں ہٹاتے تھے تو جب بہت زیادہ لوگ ہوگئے تو آپ ﷺ سوار ہو کر گئے اور پیدل چلنا اور دوڑنا یہ زیادہ بہتر ہے۔
Abu Tufail reported: I said to Ibn Abbas (RA) : Do you think that walking swiftly round the House in three circuits, and just walking in four circuits is the Sunnah (of the Holy Prophet), for your people say that it is Sunnah? Thereupon he (Ibn Abbas) said: They have told the truth and the lie (too). I said: What do your words "They have told the truth and the lie (too)" imply? Thereupon he said: Allahs Messenger ﷺ came to Makkah and the polytheists said that Muhammad and his Companions had emaciated and would, therefore, be unable to circumambulate the House; and they felt jealous of him (the Holy Prophet). (It was due to this) that Allahs Messenger ﷺ commanded them to walk swiftly in three (circuits) and walk (normally) in four. I said to him: Inform me if it is Sunnah to observe Tawaf between al-Safa and al-Marwah while riding, for your people look upon it as Sunnah. He ( Ibn Abbas (RA) ) said: They have told the truth and the lie too. I said: What do your words "They have told the truth and the lie too", imply? He said: as Allahs Messenger ﷺ had come to Makkah, there was such a large gathering of people around him that even the virgins had come out of their houses (to catch a glimpse of his face), and they were saying: He is Muhammad; He is Muhammad. Allahs Messenger ﷺ (was so gentle and kind) that the people were not beaten back (to make way) in front of him. When there was a throng (of people) around him, he rode (the she-camel) but walking and trotting is, however, better.
حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَکَانَ أَهْلُ مَکَّةَ قَوْمَ حَسَدٍ وَلَمْ يَقُلْ يَحْسُدُونَهُ
محمد بن مثنی، یزید، حضرت جریری اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے کہا کہ مکہ کی قوم کے لوگ حسد کرنے والے تھے۔
This hadith has been narrated on the authority of Jurairi with the same chain of transmitters but with a slight variation of words (and this is) that he (the narrator) did not say:"They felt jealous of him. but said: The people of Makkah, were jealous people."
حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ قَوْمَکَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهِيَ سُنَّةٌ قَالَ صَدَقُوا وَکَذَبُوا
ابن ابی عمر، سفیان، ابن ابی حسین، حضرت ابوالطفیل ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کے لوگ خیال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی اور یہی سنت ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی کہا۔
Abu Tufail reported: I said to Ibn Abbas (RA) : People are of the view that Allahs Messenger ﷺ moved quickly round the House and between al-Safa and al-Marwah, and (thus) it is Sunnah. He said: They told the truth and they told the lie.
حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَبْجَرِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أُرَانِي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصِفْهُ لِي قَالَ قُلْتُ رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ عَلَی نَاقَةٍ وَقَدْ کَثُرَ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَاکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُمْ کَانُوا لَا يُدَعُّونَ عَنْهُ وَلَا يُکْرَهُونَ
محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، زہیر، عبدالملک بن سعید بن ابجر، حضرت ابوالطفیل ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مجھ سے بیان کر کہ حضرت ابوالطفیل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مروہ کے پاس اونٹنی پر دیکھا اور آپ ﷺ کے پاس بہت سے لوگ تھے راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ تھے کیونکہ وہ لوگ یعنی صحابہ ؓ نہ تو آپ ﷺ کو چھوڑتے تھے اور نہ ہی آپ ﷺ سے دور ہوتے تھے۔
Abu Tufail reported; I said to Ibn Abbas (RA) : I think that I saw Allahs Messenger ﷺ . He (Ibn Abbas) said Give a description of him to me. I said: I saw him near al-Marwah on the back of a she- camel, and people had thronged around him. Thereupon IbnAbbas said: It was Allahs Messenger ﷺ for they (the Companions of the Holy Prophet) were neither pushed aside from him, nor were they turned away.
طواف میں دویمانی رکنوں کے استلام کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَکَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّی يَثْرِبَ قَالَ الْمُشْرِکُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْکُمْ غَدًا قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمْ الْحُمَّی وَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً فَجَلَسُوا مِمَّا يَلِي الْحِجْرَ وَأَمَرَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ وَيَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّکْنَيْنِ لِيَرَی الْمُشْرِکُونَ جَلَدَهُمْ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ هَؤُلَائِ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّ الْحُمَّی قَدْ وَهَنَتْهُمْ هَؤُلَائِ أَجْلَدُ مِنْ کَذَا وَکَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ کُلَّهَا إِلَّا الْإِبْقَائُ عَلَيْهِمْ
ابوربیع زہرانی، حماد یعنی ابن زید، ایوب، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ مکہ تشریف لائے حال یہ کہ یثرب (مدینہ) کے بخار نے ان کو کمزور کردیا تھا تو مشرکوں نے کہا کہ کل تمہارے پاس ایسی قوم کے لوگ آئیں گے کہ جنہیں بخار نے کمزور کردیا ہے اور انہیں اس سے سخت تکلیف ملی ہے مشرک حجر کے قریب حطیم میں بیٹھے تھے نبی ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کو حکم فرمایا کہ تین چکروں میں رمل کریں اور دو رکنوں کے درمیان عام چال چلیں تاکہ مشرکوں کو ان کی طاقت دیکھائی جائے تو مشرکوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے بارے میں تمہارا یہ خیال تھا کہ یہ بخار کی وجہ سے کمزور ہوگئے ہیں یہ تو فلاں فلاں سے زیادہ طاقتور لگتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ان کے تھک جانے کی وجہ سے ان کو تمام چکروں میں رمل کرنے کا حکم نہیں فرمایا۔
Ibn Abbas (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ and his Companions came to Makkah and the fever in Madinah had weakened them. Thereupon the polytheists (of Makkah) said: There would come to you a people whom the fever has made weak and they have suffered severely from it. They sat in Hateem. Thereupon Allahs Apostle ﷺ commanded them to walk quickly in three circuits and walk (in four) between the two corners so that the polytheists should see their endurance. The polytheists then said (to one another: You were under the impression that fever had emaciated them, whereas they are stronger than so and so. Ibn Abbas (RA) said: He (the Holy Prophet) did not command them (the Muslims) to walk quickly in all the circuits out of kindness to them.
طواف میں دویمانی رکنوں کے استلام کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا سَعَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَمَلَ بِالْبَيْتِ لِيُرِيَ الْمُشْرِکِينَ قُوَّتَهُ
عمر ناقد، ابن ابی عمر، احمد بن عبدہ، ابن عیینہ، ابن عبدہ، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں رمل اس لئے کیا تاکہ مشرکوں کو اپنی طاقت دکھائیں۔
Ibn Abbas (RA) reported: Allahs Messenger (peace be upon him) observed Sai and walked quickly round the House with a view to showing his strength to the polytheists.
طواف میں دویمانی رکنوں کے استلام کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنْ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّکْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ
یحییٰ بن یحیی، لیث، قتیبہ، لیث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دو یمانی رکنوں کے علاوہ بیت اللہ کی کسی چیز کو بوسہ دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔
Ahdullah bin Umar (reported) that he had not seen Allahs Messenger (may peace he upon him) touching anything in the House, except the two Yamani corners.
طواف میں دویمانی رکنوں کے استلام کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمْ يَکُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْکَانِ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّکْنَ الْأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ
ابوطاہر، حرملہ، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے رکنوں کا استلام نہیں کرتے تھے سوائے رکن اسود (حجر اسود) اور اس کے ساتھ والے اس رکن کے جو کہ بن جمح کے گھروں (جو اب موجود نہیں ہیں) کی طرف ہے۔
Salim reported on the authority of his father (Allah he pleased with him) that Allahs Messenger ﷺ did not touch any of the corners of the House except that of Black Corner (in which the Black Stone is embedded and that (portion) near it, towards the houses of the tribe of Jumuhi.
طواف میں دویمانی رکنوں کے استلام کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ذَکَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا يَسْتَلِمُ إِلَّا الْحَجَرَ وَالرُّکْنَ الْيَمَانِيَ
محمد بن مثنی، خالد بن حارث، عبیداللہ، نافع، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ استلام نہیں کرتے تھے سوائے حجر اسود اور رکن یمانی کے۔
Nafi reported on the authority of Abdullah (RA) that Allahs Messenger ﷺ did not touch but the Stone and the Yamani corner.
طواف میں دویمانی رکنوں کے استلام کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی الْقَطَّانِ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَا تَرَکْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّکْنَيْنِ الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ مُذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَائٍ
محمد بن مثنی، زہیر بن حرب، عبیداللہ بن سعید، یحیی، قطان، ابن مثنی، یحیی، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے ان دو رکنوں یمانی اور حجر اسود کا استلام نہیں چھوڑا جس وقت سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کو استلام کرتے دیکھا ہے سختی میں اور نہ ہی آسانی میں۔
Ibn Umar (RA) reported: I have not abandoned touching of Yamani corners (and kissing of) the Stone since I saw Allahs messneger ﷺ touching them both in hardship and ease.
طواف میں دویمانی رکنوں کے استلام کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي خَالِدٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ وَقَالَ مَا تَرَکْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابی خالد، حضرت نافع ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے حجر اسود کا اپنے ہاتھ سے استلام کیا پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کو بوسہ دیا اور فرمایا کہ میں نے اس کا استلام اور ہاتھ کو بوسہ دینا جس وقت سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا میں نے اس طرح کرنا نہیں چھوڑا۔
Nafi (RA) reported: I saw ibn Umar (RA) touching the Stone with his hand and then kissing his hand and he said: I have never abandoned it since I saw Allahs Messenger ﷺ doing it.
طواف میں دویمانی رکنوں کے استلام کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ الْبَکْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ غَيْرَ الرُّکْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ
ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، قتادہ بن دعامہ، ابوالطفیل، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو استلام کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے دو رکن یمانیوں کے۔
Ibn Abbas (RA) is reported to have said that he did not see Allahs Messenger ﷺ touching other than the Yamani corners.
طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کو استح کے بیان میں۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ وَعَمْرٌو ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ ثُمَّ قَالَ أَمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّکَ حَجَرٌ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُکَ مَا قَبَّلْتُکَ زَادَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، عمرو، ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو ابن شہاب، حضرت سالم سے روایت ہے کہ ان کے باپ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ بن خطاب نے حجر اسود کو بوسہ دیا پھر حجر اسود کر مخاطب کرکے فرمایا اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔
Salim narrated on the authority of his father (RA) that Umar bin al-Khattib (RA) kissed (the Black Stone) and then said: By Allah, I know that you are a stone and if I were not to see Allahs Messenger ﷺ kissing you, I would not have kissed you. Harun said in his narration: A hadith like this has been transmitted to me by Zaid bin Aslam on the authority of his father Aslam.
طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کو استح کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَقَالَ إِنِّي لَأُقَبِّلُکَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّکَ حَجَرٌ وَلَکِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُکَ
محمد بن ابی بکر مقدمی، حماد بن زید، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا کہ میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں اور میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے لیکن میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ تجھے بوسہ دیتے ہیں۔
Ibn Umar (RA) reported that Umar (RA) kissed the Stone and said: I am kissing you, whereas I know that you are a stone, but I saw Allahs Messenger ﷺ kissing you (that is why I kiss you).
طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کو استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَالْمُقَدَّمِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ رَأَيْتُ الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُقَبِّلُکَ وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّکَ حَجَرٌ وَأَنَّکَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَکَ مَا قَبَّلْتُکَ وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ وَأَبِي کَامِلٍ رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ
خلف بن ہشام، مقدمی، ابوکامل، قتیبہ بن سعید، حماد، حماد بن زید، حضرت عبداللہ بن سرجس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں اللہ کی قسم! اے حجر اسود میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ تو نقصان دے سکتا ہے اور نہ ہی تو نفع دے سکتا ہے اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔
Abdullah bin Sarjis reported: I saw the bald one, i. e. Umar bin Khattib (RA) kissing the Stone and saying: By Allah. I am kissing with full consciousness of the fact that you are a stone and that you can neither do any harm nor good; and if I had not seen Allahs Messenger ﷺ kissing you, I would not have kissed you. The rest of the hadith is the same.
طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کو استح کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ إِنِّي لَأُقَبِّلُکَ وَأَعْلَمُ أَنَّکَ حَجَرٌ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُکَ لَمْ أُقَبِّلْکَ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، ابومعاویہ، یحیی، اعمش، ابراہیم، حضرت عابس بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اے حجر اسود! میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے دیکھا نہ ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔
Abbas bin Rabia reported: I saw Umar (RA) kissing the Stone and saying: I am kissing you and I know that you are a stone. And if I had not seen Allahs Messenger ﷺ kissing you, I would not have kissed you.