عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا شَاهِدٌ أَوْ قَالَ سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ قُلْتُ کَيْفَ کَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ قَالَ کَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ
ابوربیعم قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، حضرت ہشام ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ ؓ سے سوال کیا گیا اور میں بھی وہاں موجود تھا یا فرمایا کہ میں نے حضرت اسامہ ؓ سے پوچھا کہ اسامہ ؓ عرفات سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ کی سواری پر آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھے کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے جس وقت واپس ہوئے تو کیسے چل رہے تھے؟ حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ آہستہ چل رہے تھے تو جب روشنی پاتے تو تیز رفتار ہوجاتے تھے۔
Hisham (RA) reported from his father: Usama (RA) was asked in my presence or I asked Usama bin Zaid and he rode behind Allahs Messenger ﷺ as he came back from Arafat. I said (to him): How did Allahs Messenger ﷺ journey as he came back from Arafat? Thereupon he said: He made it (his riding camel) walk at a slow speed, and when he found an open space, he made it walk briskly.