عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا
یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ observed the sunset and Isha prayers together at Muzdalifa.
عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ وَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَکَعَاتٍ وَصَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَيْنِ فَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ کَذَلِکَ حَتَّی لَحِقَ بِاللَّهِ تَعَالَی
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب یونس، حضرت ابن شہاب ؓ سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن ابن عمر ؓ انہیں خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھا اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی سجدہ نہیں کیا یعنی کوئی سنن وغیرہ نہیں پڑھیں اور آپ ﷺ نے مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں اور عشاء کی نماز کی دو رکعتیں تو حضرت عبداللہ ؓ بھی اسی طرح اکٹھی نمازیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ اللہ سے جا ملے۔
Ubaidullah bin Abdullah bin Umar reported on the authority of his father (RA) that Allahs Messenger ﷺ combined the sunset and Isha prayers at Muzdalifa and there was no prostration (i. e. any rakahs of Sunan or Nawafil prayers) in between them. He observed three rakahs of the sunset prayer and two rakahs of the Isha prayer, and Abdullah (b. Umar) observed the prayers in this very manner (at Muzdalifa) until he met his Lord.
عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ وَسَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ صَلَّی الْمَغْرِبَ بِجَمْعٍ وَالْعِشَائَ بِإِقَامَةٍ ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صَلَّی مِثْلَ ذَلِکَ وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِکَ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، حکم، سلمہ بن کہیل، حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ہی اقامت کے ساتھ پڑھیں تو انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ انہوں نے بھی اسی طرح نمازیں پڑھیں اور حضرت ابن عمر نے بیان کیا کہ نبی ﷺ اسی طرح کرتے تھے۔
Said bin Jubair reported that he observed the sunset and Isha prayers at Muzdalifa with (one) iqama. He narrated on the authority of Ibn Umar (RA) that he observed prayers like this. And Ibn Umar (RA) narrated that Allahs Apostle ﷺ did like this.
عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ صَلَّاهُمَا بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ
زہیر بن حرب، وکیع، حضرت شعبہ اس سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک ہی اقامت کے ساتھ نمازیں پڑھیں۔
Shubahh reported this hadith with the same chain of transmitters and said: He (the Holy Prophet) observed the two prayers (together) with one iqama.
عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ صَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَائَ رَکْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، ثوری، سلمہ بن کہیل، سعید بن جبیر، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کے درمیان اکٹھی نمازیں پڑھیں مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعت نماز ایک ہی اقامت کے ساتھ پڑھیں۔
Ibn Umar reported that Allahs Messenger ﷺ combined the sunset and Isha prayers at Muzdalifa. He observed three rakahs of the sunset prayer and two rakahs of the Isha prayer with one Iqama.
عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَتَّی أَتَيْنَا جَمْعًا فَصَلَّی بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ هَکَذَا صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَکَانِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، اسماعیل بن ابی خالد، ابن اسحاق، حضرت سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ چلے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آگئے تو انہوں نے ہمیں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ہی اقامت کے ساتھ پڑھائیں پھر وہ پھرے اور فرمایا کہ یہ نمازیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس مقام پر اسی طرح پڑھائیں۔
Said bin Jubair reported: We came back along with Ibn Umar till we reached Muzdalifa. There he led us in the sunset and Isha prayers with one iqama and we then proceeded and he said: This is how Allahs Messenger ﷺ led us in prayer at this place.
مزدلفہ میں نحر کے دن صبح کی نماز جلدی پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ وَصَلَّی الْفَجْرَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابی معاویہ، اعمش، عمارہ عبدالرحمن، ابن یزید، حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کوئی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ اس نماز کو اپنے مقررہ وقت میں پڑھتے سوائے دو نمازوں کے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اور فجر اس دن اس نمازوں کے مقررہ وقت سے پہلے پڑھتے تھے۔
Abdullah (b. Umar) reported: I have never seen Allahs Messenger ﷺ but observing the prayers at their appointed times except two players, sunset and Isha, at Muzdalifa (where he deferred the sunset prayer to combine it with Isha and he observed the dawn prayer before its stipulated time on that day (10th of Dhul-Hijja).
مزدلفہ میں نحر کے دن صبح کی نماز جلدی پڑھنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ قَبْلَ وَقْتِهَا بِغَلَسٍ
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، حضرت اعمش ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز کے عام وقت سے پہلے غلس یعنی اندھیرے میں پڑھی۔
This badith has been transmitted by Amash with a slight variation of words, i. e. he said before its time when it was still dark.
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ وَکَانَتْ امْرَأَةً ثَبِطَةً يَقُولُ الْقَاسِمُ وَالثَّبِطَةُ الثَّقِيلَةُ قَالَ فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ وَحَبَسَنَا حَتَّی أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ وَلَأَنْ أَکُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأَکُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، افلح، ابن حمید، قاسم، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ ؓ نے مزدلفہ کی رات رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی کہ وہ آپ ﷺ سے پہلے منیٰ چلی جائیں اور لوگوں کے ہجوم سے پہلے نکل جائیں کیونکہ وہ بھاری بدن کی عورت تھیں آپ ﷺ نے حضرت سودہ کو اجازت دے دی اور وہ آپ ﷺ سے پہلے نکل گئیں اور ہم رکے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اگر میں بھی رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے لیتی جیسے حضرت سودہ ؓ نے آپ ﷺ سے اجازت لی تو آپ ﷺ کی اجازت سے جانا مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ جس سے میں خوش ہو رہی تھی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Sauda (the wife of the Holy Prophet) who was bulky sought the permission of Allahs Messenger ﷺ on the night of Muzdalifa to move from (that place) ahead of him and before the multitude (set forth). He (Allahs Apostle) ﷺ gave her the permission. So she set forth before his (Holy Prophets) departure. But we stayed there until it was dawn and we moved on when he departed. And if I were to seek the permission of Allahs Messenger ﷺ as Sauda had sought permission, I could have also gone with his permission and it would have been better for me than that for which I was happy.
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلَيْتَنِي کُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ وَکَانَتْ عَائِشَةُ لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، ثقفی ابن مثنی، عبدالوہاب، ایوب، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ ؓ بھاری بدن کی عورت تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مزدلفہ سے رات ہی کو واپس آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت عطا فرما دی حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ کاش میں بھی رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگتی جیسا کہ حضرت سودہ ؓ نے آپ ﷺ سے اجازت مانگی اور حضرت عائشہ ؓ مزدلفہ سے واپس نہیں آتی تھیں سوائے امام کے ساتھ۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that (hadrat) Sauda was a bulky lady, so she sought permission from Allahs Messenger ﷺ to proceed from Muzdalifa (to Mina) in the (latter part of the) night. He granted her permission. Aisha said: I wish I had also sought permission from Allahs Messenger ﷺ as Sauda had sought permission from him. Aisha did not proceed but with the Imam.
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًی فَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ فَقِيلَ لِعَائِشَةَ فَکَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ قَالَتْ نَعَمْ إِنَّهَا کَانَتْ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا
ابن نمیر، عبیداللہ بن عمر، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگوں جیسا کہ حضرت سودہ ؓ نے اجازت مانگی اور صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی تھی اور لوگوں کے آنے سے پہلے جمرہ کو کنکریاں مار لیتی تھیں تو حضرت عائشہ ؓ سے کہا گیا کیا حضرت سودہ ؓ نے آپ ﷺ سے اجازت مانگی تھی؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ ہاں کیونکہ وہ ایک بھاری جسم کی عورت تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت سودہ ؓ کو اجازت عطا فرما دی۔
Aisha said: I wish I had sought permission from Allahs Messenger ﷺ as Sauda had sought, and observed the dawn prayer at Mina and stoned at al-Jamra before the people had come there. It was said to Aisha (Allah be pleased with her): Did Sauda seek permission from him (the Holy Prophet)? She said: Yes. She was a bulky lady and so she sought permission from Allahs Messenger ﷺ (to proceed to Mina from Muzdalifa ahead of him), and he granted her permission.
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، زہیر بن حرب، عبدالرحمن، سفیان، حضرت عبدالرحمن بن قاسم ؓ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے۔
A hadith like this has been narrated by Abdul Rahman bin al-Qasim with the same chain of transmitters.
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَی أَسْمَائَ قَالَ قَالَتْ لِي أَسْمَائُ وَهِيَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ لَا فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ يَا بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ ارْحَلْ بِي فَارْتَحَلْنَا حَتَّی رَمَتْ الْجَمْرَةَ ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا أَيْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا قَالَتْ کَلَّا أَيْ بُنَيَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ
محمد بن ابی بکر مقدامی، یحیی، قطان، ابن جریر، حضرت عبداللہ ؓ، حضرت اسماء کے غلام بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت اسماء ؓ نے فرمایا حالانکہ وہ دار مزدلفہ کے پاس تھیں کیا چاند غروب ہوگیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں تو حضرت اسماء ؓ نے کچھ وقت نماز پڑھی پھر فرمایا اے میرے بیٹے! کیا چاند غروب ہوگیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں حضرت اسماء ؓ نے فرمایا کہ چلو میرے ساتھ تو ہم چلے یہاں تک کہ حضرت اسماء نے جمرہ کو کنکریاں ماریں پھر انہوں نے اپنی جگہ میں نماز پڑھی میں نے عرض کیا کہ ہم نے بہت جلدی کی ہے حضرت اسماء نے فرمایا ہرگز نہیں اے میرے بیٹے کیونکہ نبی ﷺ نے عورتوں کے جلدی جانے کی اجازت دی ہے۔
Abdullah, the freed slave of (Hadrat) Asma, reported: Asma (Allah be pleased with her), as she was in the house at Muzdalifa, asked me whether the moon had set. I said: No. She prayed for some time, and again said: My son has the moon set? I said: Yes. And she said: Set forth along with me, and so we set forth until (we reached Mina) and the stoned at al-Jamra. She then prayed in her place. I said to her: Respected lady, we set forth (in the very early part of dawn) when it was dark, whereupon she said: My son, there is no harm in it; Allahs Apostle ﷺ had granted permission to women. This hadith has been narrated by Ibn Juraij with the same chain of transmitters, and In his narration (the words are): "She (Asma) said: My son, Allahs Apostle ﷺ granted permission to women."
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
و حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَتْ لَا أَيْ بُنَيَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِظُعُنِهِ
علی بن خشرم، عیسی، بن یونس، حضرت ابن جریج ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور ایک روایت میں حضرت اسماء ؓ نے فرمایا کہ نہیں اے میرے بیٹے! اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی زوجہ مطہرہ کو سفر کی اجازت دے دی تھی۔
It is narrated from Umm Habiba: We used to set forth from Muzdalifa to Mina, (very early in the dawn) when it was dark. And in the narration of Naqid (the words are): "We set from Muzdalifa in the darkness (of the dawn)."
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّ ابْنَ شَوَّالٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی أُمِّ حَبِيبَةَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، علی بن خشرم، عیسی، ابن جریج، عطاء، حضرت ابن شوال خبر دیتے ہیں کہ وہ ام حبیبہ ؓ کی خدمت میں آئے انہوں نے خبر دی کہ نبی ﷺ نے انہیں (حضرت ام حبیبہ ؓ رات کے وقت ہی مزدلفہ بھیج دیا تھا۔
Ibn Shawwal (the freed slave of Umm Habiba) reported that he went to Umm Habiba (the wife of Allahs Apostle) ﷺ who informed him that Allahs Apostle ﷺ sent her from Muzdalifa during the night.
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ کُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُغَلِّسُ مِنْ جَمْعٍ إِلَی مِنًی وَفِي رِوَايَةِ النَّاقِدِ نُغَلِّسُ مِنْ مُزْدَلِفَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار، عمرناقد، سفیان، عمرو بن دینار سالم بن شوال، حضرت ام حبیبہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح اندھیرے میں ہی روانہ ہوجاتی تھیں۔
It is narrated from Umm Habiba: We used to set forth from Muzdalifa to Mina, (very early in the dawn) when it was dark. And in the narration of Naqid (the words are): "We set from Muzdalifa in the darkness (of the dawn)."
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ أَوْ قَالَ فِي الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ، بن سعید، حماد، یحیی، حماد بن زید، عبداللہ بن یزید، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بوجھل لوگوں میں بھیجا یا فرمایا کہ وہ کمزور لوگ جن کو رات کے وقت ہی مزدلفہ سے بھیج دیا تھا میں بھی انہی میں سے تھا۔
Ibn Abbas reported: Allahs Messenger ﷺ sent me from Muzdalifa ahead (of the caravan) along with the luggage or with the weak ones during (the latter part of the) night.
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عبیداللہ بن ابی یزید، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں کے جن کمزوروں کو پہلے بھیج دیا تھا میں بھی انہی میں سے تھا۔
Ibn Abbas (RA) reported: I was among those (i. e. women and children) whom Allahs Messenger ﷺ sent forth with the weak members of his family.
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو عطاء، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا کہ اپنے گھر کے جن ضعیف لوگوں کو رسول اللہ ﷺ نے پہلے بھیجا تھا۔
This hadith has been transmitted by Ibn Abbas (RA) with a slight variation of words.
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَبَلَغَکَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ بِي بِلَيْلٍ طَوِيلٍ قَالَ لَا إِلَّا کَذَلِکَ بِسَحَرٍ قُلْتُ لَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ وَأَيْنَ صَلَّی الْفَجْرَ قَالَ لَا إِلَّا کَذَلِکَ
عبد بن حمید، محمد بن بکر ابن جریج، عطاء ابن عباس، حضرت ابن جریج ؓ خبر دیتے ہیں کہ مجھے حضرت عطاء ؓ نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مجھے اللہ کے نبی ﷺ نے اپنا سامان دے کر مزدلفہ سے صبح سحری کے وقت بھیجا ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ کیا تجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مجھے آپ ﷺ نے رات کو بہت پہلے بھیج دیا تھا انہوں نے کہا کہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ سحری کا وقت تھا ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ کیا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ ہم نے فجر سے پہلے جمرہ کو کنکریاں ماریں اور فجر کی نماز کہاں پڑھی انہوں نے کہا کہ نہیں سوائے اس کے (یعنی صرف اتنی بات کہی)۔
Ata reported from Ibn Abbas (RA) : Allahs Messenger ﷺ sent me from Muzdalifa along with his luggage (in the very early part of the dawn). I (Ibn Juraij, one of the narrators) said (to Ata): Has this (news) reached you that Ibn Abbas (RA) had said: "He (Allahs Messenger) had sent me in the latter part of the night"? Thereupon he said: No, it was the dawn. I (again) said to him: (Did you hear) Ibn Abbas (RA) having said this (too): "We stoned al-Jamra before the dawn prayer"? So where did he observe the dawn prayer? He said: No. But he said only so much (as described above).