Sahih Muslim 3111

حج کا بیان

3111Sahih Muslim

عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ وَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَکَعَاتٍ وَصَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَيْنِ فَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ کَذَلِکَ حَتَّی لَحِقَ بِاللَّهِ تَعَالَی

حرملہ بن یحییٰ ابن وہب یونس، حضرت ابن شہاب ؓ سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن ابن عمر ؓ انہیں خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھا اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی سجدہ نہیں کیا یعنی کوئی سنن وغیرہ نہیں پڑھیں اور آپ ﷺ نے مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں اور عشاء کی نماز کی دو رکعتیں تو حضرت عبداللہ ؓ بھی اسی طرح اکٹھی نمازیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ اللہ سے جا ملے۔

Ubaidullah bin Abdullah bin Umar reported on the authority of his father (RA) that Allahs Messenger ﷺ combined the sunset and Isha prayers at Muzdalifa and there was no prostration (i. e. any rakahs of Sunan or Nawafil prayers) in between them. He observed three rakahs of the sunset prayer and two rakahs of the Isha prayer, and Abdullah (b. Umar) observed the prayers in this very manner (at Muzdalifa) until he met his Lord.