حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 18 of 31

3130Sahih Muslim

کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استح کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِاللَّيْلِ فَيَذْکُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًی لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِکَ فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوْا الْجَمْرَةَ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ أَرْخَصَ فِي أُولَئِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر، حضرت ابن شہاب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سالم بن عبداللہ ؓ نے انہیں خبر دی کہ حضرت ابن عمر ؓ اپنے گھر والوں میں سے کمزرو لوگوں کو پہلے بھیج دیا کرتے تھے اور وہ رات ہی کو مزدلفہ میں مشعر الحرام کے پاس وقوف کرتے تھے اور اللہ کا ذکر کرتے جتنا چاہتے پھر وہ امام کے وقوف اور اس کے آنے سے پہلے ہی واپس ہوتے تھے اور ان میں سے کچھ لوگ فجر کی نماز کے وقت منیٰ میں پہنچتے اور کچھ اس کے بعد تو جب وہ پہنچ جاتے تو جمرہ کو کنکریاں مارتے اور حضرت ابن عمر ؓ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کمزوروں کے بارے میں رخصت دی ہے۔

Salim bin Abdullah reported that Abdullah bin Umar (RA) used to send ahead of him the weak members of his household to stay during the night at Mashar al-Haram at Muzdalifa. They remembered Allah so long as they could afford, and then they proceeded before the stay of the Imam, and before his return. So some of them reached Mina for the dawn prayer and some of them reached there after that; and as they reached there, they stoned al-Jamra; and Ibn Umar (RA) used to say: Allahs Messenger ﷺ has granted this concession to them.

3131Sahih Muslim

وادی بطن سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے اور ہر ایک کنکری مارنے کے ساتھ تکبیر کہنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ رَمَی عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاةٍ قَالَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أُنَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، عبدالرحمن، ابن یزید، حضرت عبدالرحمن بن یزید ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن بطن وادی یعنی وادی کا بطن یا وادی کی گھاٹی سے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور وہ ہر کنکری کے ساتھ اَللَّهُ أَکْبَرُ کہتے تھے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ سے کہا گیا کہ لوگ تو اس کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں یہ ان کا مقام ہے کہ جن پر سورت البقرہ نازل کی گئی۔

Abdul Rahman bin Yazid reported that Abdullah bin Masud (RA) threw seven pebbles at Jamrat al-Aqabahh from the heart of the valley. He pronounced Takbir with every pebble. It was said to him that people fling stones from the upper side (of the valley), whereupon Abdullah bin Masud (Allah he pleased with them) said: By him, besides Whom there is no other God, that is the place (of flinging stones) of one upon whom Surah al-Baqarah was revealed (the Holy Prophet).

3132Sahih Muslim

وادی بطن سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے اور ہر ایک کنکری مارنے کے ساتھ تکبیر کہنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ أَلِّفُوا الْقُرْآنَ کَمَا أَلَّفَهُ جِبْرِيلُ السُّورَةُ الَّتِي يُذْکَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْکَرُ فِيهَا النِّسَائُ وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْکَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ قَالَ فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِ فَسَبَّهُ وَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ کَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَتَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِي فَاسْتَعْرَضَهَا فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاةٍ قَالَ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا فَقَالَ هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ

منجاب بن حارث، تمیمی، ابن مسہر، حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حجاج بن یوسف سے سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ تم قرآن کو ایسے جمع کرو جیسا قرآن کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے جمع کیا ہے وہ سورت کہ جس میں بقرہ کا ذکر کیا گیا اور وہ سورت کہ جس میں النساء کا ذکر کیا گیا اور وہ سورت کہ جس میں اٰل عمران کا ذکر کیا گیا ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر میں ابراہیم سے ملا تو میں نے ان کو حجاج کے اس قول کی خبر دی تو انہوں نے حجاج کو برا بھلا کہا اور کہنے لگے کہ عبدالرحمن بن یزید نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ تھے تو وہ جمرہ عقبہ پر آئے اور اس کے بطن وادی یعنی وادی کا بطن یا وادی کی گھاٹی سے جمرہ عقبہ پر سات کنکریاں ماریں اور وہ ہر کنکری کے ساتھ اَللَّهُ أَکْبَرُ کہتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے ابوعبدالرحمن! لوگ تو اس کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں یہی وہ مقام ہے (کنکریاں مارنے کی جگہ) جس پر سورت البقرہ نازل کی گئی۔

Amash reported: I heard Hajjaj bin Yusuf saying as he was delivering sermon on the pulpit: Observe the order of the (Holy) Quran which has been observed by Gabriel (علیہ السلام). (Thus state the surahs in this manner) "one in which mention has been made of al-Baqarah,", "one in which mention has been made of women (Surah al-Nisa)" and then the surah in which mention has been made of the Family of Imran. He (the (narrator) said: I met Ibrahim and informed him about these words of his (the statement of Hajjaj bin Yusuf). He cursed him and said: Abdul Rahman bin Yazid has narrated to me that when he was in the company of Abdullah bin Masudd (RA) he came to Jamrat al-Aqabahh and then entered the heart of the valley and faced towards it (the Jamra) and then flung seven pebbles at it from the heart of the valley pronouncing Takbir with every pebble. I said: Abu Abdul Rahman, people fling pebbles at it (Jamra) from the upper side, whereupon he said: By Him besides Whom there is no God, that is the place (of flinging pebbles of one) upon whom Surah al-Baqarah was revealed;

3133Sahih Muslim

وادی بطن سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے اور ہر ایک کنکری مارنے کے ساتھ تکبیر کہنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَقُولُ لَا تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَاقْتَصَّا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ

یعقوب، ابن ابی زائدہ، ابن ابی عمر، سفیان، حضرت اعمش ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حجاج کہتا ہے کہ تم نہ کہو سورت البقرہ اس کے بعد باقی حدیث اس طرح سے ہے۔

Amash reported: I heard Hajjaj saying: I do not say Surah al-Baqarah. The rest of the hadith is the same.

3134Sahih Muslim

وادی بطن سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے اور ہر ایک کنکری مارنے کے ساتھ تکبیر کہنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَرَمَی الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًی عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم بن ابراہیم، حضرت عبدالرحمن بن یزید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ کے ساتھ حج کیا راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے سات کنکریوں کے ساتھ رمی جمار کی اور بیت اللہ کو اپنے بائیں طرف کیا اور منیٰ کو اپنے دائیں طرف کیا اور فرمایا کہ یہ اس ذات ﷺ کے رمی کرنے کا مقام ہے کہ جس پر سورت البقرہ نازل ہوئی۔

Abdul Rahman bin Yazid reported that he performed Hajj along with Abdullah (RA) and he flung seven pebbles at al-Jamra (from a position) that the House was on his left and Mina was on his right and said: That is the place (of flinging pebbles of one) upon whom Surah al-Baqarah was revealed.

3135Sahih Muslim

وادی بطن سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے اور ہر ایک کنکری مارنے کے ساتھ تکبیر کہنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا أَتَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ جب وہ جمرہ عقبہ آئے۔

This hadith nas been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters except with this variation of (words): As he came to Jamrat al-Aqabah."

3136Sahih Muslim

وادی بطن سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے اور ہر ایک کنکری مارنے کے ساتھ تکبیر کہنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُحَيَّاةِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ يَعْلَی أَبُو الْمُحَيَّاةِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ مِنْ فَوْقِ الْعَقَبَةِ قَالَ فَرَمَاهَا عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ قَالَ مِنْ هَا هُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَاهَا الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومحیاہ، یحییٰ بن یحیی، سلمہ بن کہیل، حضرت عبدالرحمن بن یزید ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت عبداللہ ؓ سے کہا گیا کہ لوگ عقبہ کے اوپر سے جمرہ کو کنکریاں مارتے ہیں راوی کہتے ہیں۔ کہ حضرت عبداللہ ؓ نے وادی بطن سے کنکریاں ماریں پھر حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ یہاں سے قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہی وہ جگہ ہے جن پر سورت البقرہ نازل کی گئی۔

Abdul Rahman bin Yazid reported: It was said to Abdullah (RA) that people threw pebbles at the Jamra from the upper side of Aqabahh, whereas he threw stones at it from the heart of the valley, whereupon he said: By Him besides Whom there is no god, it is at this very place that one upon whom was revealed Surah al-Baqarah, threw stones at it.

3137Sahih Muslim

قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر کنکریاں مارنے کے استح اور نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ تم مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جَمِيعًا عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَی رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَقُولُ لِتَأْخُذُوا مَنَاسِکَکُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ

اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، جریج، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے یوم نحر کو یعنی قربانی کے دن اپنی سواری پر (جمرہ عقبہ) کو کنکریاں مار رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ تم مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو کیونکہ میں نہیں جانتا شاید کہ اس حج کے بعد میں حج نہ کرسکوں۔

Jabir (RA) reported: I saw Allahs Apostle ﷺ flinging pebbles while riding his camel on the Day of Nahr, and he was saying: Learn your rituals (by seeing me performing them), for I do not know whether I would be performing Hajj after this Hajj of mine.

3138Sahih Muslim

قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر کنکریاں مارنے کے استح اور نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ تم مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو

و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَی رَاحِلَتِهِ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَأُسَامَةُ أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَی رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الشَّمْسِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا کَثِيرًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنْ أُمِّرَ عَلَيْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُهَا قَالَتْ أَسْوَدُ يَقُودُکُمْ بِکِتَابِ اللَّهِ تَعَالَی فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، زید بن ابی انیسہ، حضرت یحییٰ بن حصین ؓ اپنی دادی حضرت ام الحصین ؓ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ام الحصین ؓ سے سنا وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حجہالوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا تو میں نے آپ ﷺ کو دیکھا جس وقت کہ آپ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار رہے ہیں اس حال میں کہ آپ ﷺ اپنی سواری پر سوار تھے حضرت بلال ؓ اور حضرت اسامہ ؓ آپ ﷺ کے ساتھ تھے ان دونوں میں سے ایک سواری کی مہار پکڑے جارہا تھا اور دوسرے نے رسول اللہ ﷺ کے سر پر اپنا کپڑا بلند کیا ہوا تھا تاکہ آپ ﷺ گرمی کی شدت سے بچ رہیں حضرت ام الحصین ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں پھر میں نے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ اگر ایک حبشی غلام بھی تم پر حاکم مقرر ہو حضرت ام الحصین ؓ فرماتی ہیں کہ وہ سیاہ فام اللہ کی کتاب سے تمہاری راہنمائی کرے تو اس سے سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

Umm al-Husain (Allah be pleased with her) reported: I performed Hajj along with Allahs Messenger ﷺ on the occasion of the Farewell Pilgrimage and saw him when he flung pebbles at Jamrat al-Aqabahh and returned while he was riding the camel, and Bilal (RA) and Usama were with him. One of them was leading his camel, while the other was raising his cloth over the head of Allahs Messenger ﷺ to protect him from the sun. She (further) said: Allahs Messenger ﷺ said so many things, and I heard him saying: If a slave having some limb of his missing and having dark complexion is appointed to govern you according to the Book of Allah the Exalted, listen to him and obey him.

3139Sahih Muslim

قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر کنکریاں مارنے کے استح اور نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ تم مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ جَدَّتِهِ قَالَتْ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ وَبِلَالًا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنْ الْحَرِّ حَتَّی رَمَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ قَالَ مُسْلِم وَاسْمُ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ وَهُوَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ رَوَی عَنْهُ وَکِيعٌ وَحَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ

احمد بن حنبل، محمد بن سلمہ، ابی عبدالرحیم، زید بن انیسہ، یحییٰ بن حصین، حضرت ام الحصین ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حجہ الوداع کے موقعے پر نبی ﷺ کے ساتھ حج کیا تو میں نے حضرت اسامہ ؓ اور حضرت بلال ؓ کو دیکھا کہ ان دونوں میں سے ایک نے نبی ﷺ کی اونٹنی کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور دوسرے نے اپنا کپڑا بلند کیا ہوا تھا تاکہ آپ ﷺ گرمی سے محفوظ رہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔

Umm al-Husain (Allah be pleased with her) reported: I performed Hajj along with Allahs Messenger ﷺ on the occasion of the Farewell Pilgrimage and saw Usama and Bilal (RA) (too), one of whom had caught hold of the lose string of the she-camel of Allahs Apostle ﷺ while the other one was raising his cloth (over his head) protecting him from the heat, till he flung pebbles at Jamrat al-Aqabahh.

3140Sahih Muslim

ٹھیکری کے بقدر کنکریاں مارنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَی الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ

محمد بن حاتم، عبد بن حمید، محمد بن بکر، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے ٹھیکری کے برابر جمرہ پر کنکریاں ماریں۔

Jabir bin Abdullah reported: I saw Allahs Apostle ﷺ throwing stones (at Jamrat al Aqabahh) like pelting of small pebbles.

3141Sahih Muslim

کنکریوں مارنے کے مستحب وقت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَمَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًی وَأَمَّا بَعْدُ فَإِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، ابن ادریس، ابی جریج، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن چاشت کے وقت جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں اور بعد کے دنوں میں سورج کے ڈھلنے کے بعد کنکریاں ماریں۔

Jabir (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ flung pebbles at jamra on the Day of Nahr after sunrise, and after that (i. e. on the 11th, 12th and 13th of Dhul-Hijja when the sun had declined.

3142Sahih Muslim

کنکریوں مارنے کے مستحب وقت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اس طرح کنکریاں مارتے تھے۔

Jabir binAbdullah (RA) reported a hadith like this from Allahs Apostle ﷺ .

3143Sahih Muslim

جمرات کو سات کنکریاں مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِاسْتِجْمَارُ تَوٌّ وَرَمْيُ الْجِمَارِ تَوٌّ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَوٌّ وَالطَّوَافُ تَوٌّ وَإِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُکُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ بِتَوٍّ

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابن عبیداللہ، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ڈھیلہ سے استنجاء طاق عدد اور جمرات کو کنکریاں بھی طاق اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی طاق عدد ہے اور طواف بھی طاق عدد ہے اور جب بھی تم میں سے کوئی استنجاء کرے تو اسے چاہیے کہ طاق عدد کرے۔

Jabir (b. Abdullab) (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Odd number of stones are to be used for cleaning (the private parts after answering the call of nature), and casting of pebbles at the Jamras is to be done by odd numbers (seven), and (the number) of circuits between al-Safa and al-Marwah is also odd (seven), and the number of circuits (around the Ka’bah) is also odd (seven). Whenever any one of you is required to use stones (for cleaning the private parts) he should use odd number of stones (three, five or seven).

3144Sahih Muslim

قصر سے حلق کی زیادہ فضلیت ہے اور قصر کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ وَالْمُقَصِّرِينَ

یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، لیث، نافع، عبداللہ، حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حلق کرایا (سر منڈایا) اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے ایک جماعت نے حلق کرایا اور کچھ نے قصر یعنی بال کٹوائے حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ حلق کرانے والوں پر رحم فرمائے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اور قصر یعنی بال کٹوانے والوں پر بھی۔

Abdullah reported that Allahs Messenger ﷺ got his head shaved (after slaughtering the sacrificial animal on the 10th of Dhul-Hijja), and so did a group of Companions, while some of them got their hair clipped.Abdullah said: Allahs Messenger ﷺ observed once or twice: "May Allah have mercy upon those who get their heads shaved." And he also said: "Upon those too who got their hair clipped."

3145Sahih Muslim

قصر سے حلق کی زیادہ فضلیت ہے اور قصر کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالْمُقَصِّرِينَ

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! حلق کرانے والوں پر رحم فرما صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اور قصر کرانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور قصر کرانے والوں پر بھی۔

Abdullah bin Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as having observed: O Allah, have mercy upon those who get their heads shaved. They (the Companions) said: Messenger of Allah, (what about those) who have got their hair clipped? He said: O Allah, have mercy upon those who have got their heads shaved. They (again) said: Allahs Messenger, (what about those) who have got their hair clipped? Thereupon he said: (O Allah, have mercy upon those) who have got their hair clipped.

3146Sahih Muslim

قصر سے حلق کی زیادہ فضلیت ہے اور قصر کے جواز کے بیان میں

أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالْمُقَصِّرِينَ

ابو اسحاق، ابراہیم، بن محمد بن سفیان، مسلم بن حجاج، ابن نمیر، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ حلق کرانے والوں پر رحم فرمائے صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اور قصر کرانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور قصر کرانے والوں پر بھی۔

Ibn Umar reported that Allahs Messenger ﷺ said: May Allah have mercy upon those who have got their heads shaved. They said: Messenger of Allah, (what about) those who got their hair clipped? He said: May Allah have mercy upon those who have got their heads shaved. They said: Messenger of Allah, (what about those who have got their hair clipped)? He said: May Allah have mercy upon those who got their hair shaved. They said: Messenger of Allah, (what about) those who got their hair clipped? He said: (O Allah, have mercy upon) those who got their hair clipped.

3147Sahih Muslim

قصر سے حلق کی زیادہ فضلیت ہے اور قصر کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَلَمَّا کَانَتْ الرَّابِعَةُ قَالَ وَالْمُقَصِّرِينَ

ابن مثنی، عبدالوہاب، عبیداللہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اس طرح ہے اس میں آپ ﷺ نے چوتھی مرتبہ فرمایا اور قصر کرانے والوں یعنی بال کٹوانے والوں پر بھی رحم فرما۔

Ubaidullah reported this hadith with the same chain of transmitters and (it is said) that it was on the fourth turn that he (the Holy Prophet) said: "(May Allah have mercy upon) those who got their hair clipped."

3148Sahih Muslim

قصر سے حلق کی زیادہ فضلیت ہے اور قصر کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلْمُقَصِّرِينَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلْمُقَصِّرِينَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلْمُقَصِّرِينَ قَالَ وَلِلْمُقَصِّرِينَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، ابوکریب، ابن فضیل، زہیر، عمار، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ! حلق کرانے والوں کی مغفرت فرما صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! اور قصر کرانے والے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! حلق کرانے والوں کی مغفرت فرما صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اور قصر کرانے والے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور قصر کرانے والوں کی بھی مغفرت فرما۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as having said: O Allah, grant pardon to those who got their heads shaved. They (Companions of the Holy Prophet) said: Messenger of Allah, (what about those) who get their hair cut? He said: O Allah, grant pardon to those who get their heads shaved. They said: Messenger of Allah, (what about those) who got their hair clipped? He said: O Allah, grant pardon to those who get their heads shaved. They said: Messenger of Allah, (what about those) who get their hair clipped? He said: O Allah, grant pardon to those who get their heads shaved. They said: (What about those) who get their hair clipped? He said: (O Allah, grant pardon to) those who get their hair clipped.

3149Sahih Muslim

قصر سے حلق کی زیادہ فضلیت ہے اور قصر کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

امیہ بن بسطام، یزید بن زریع، روح، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اس طرح حدیث مبارکہ نقل فرمائی۔

A hadith like this is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) .