حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 19 of 31

3150Sahih Muslim

قصر سے حلق کی زیادہ فضلیت ہے اور قصر کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً وَلَمْ يَقُلْ وَکِيعٌ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابوداؤد، شعبہ، حضرت یحییٰ بن حصین ؓ اپنی دادی سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں حلق کرانے والوں کے بارے میں تین مرتبہ دعا فرمائی اور قصر یعنی بال کٹوانے والوں کے لئے ایک مرتبہ دعا فرمائی اور وکیع نے فی حجہالوداع نہیں کہا۔

Yahya bin al-Husain reported on the authority of his grandfather that Allahs Apostle ﷺ invoked blessing on the occasion of the Farewell Pilgrimage three times for those who got their heads shaved and once for those who got their hair clipped. In the narration transmitted by Waki there is no mention of the Farewell Pilgrimage

3151Sahih Muslim

قصر سے حلق کی زیادہ فضلیت ہے اور قصر کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ کِلَاهُمَا عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

قتیبہ بن سعید، یعقوب، ابن عبدالرحمن، حاتم، موسیٰ بن عقبہ، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجہالوداع میں اپنے سر کا حلق کرایا یعنی منڈایا۔

Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ got his head shaved on the occasion of the Farewell Pilgrimage.

3152Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی مِنًی فَأَتَی الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَی مَنْزِلَهُ بِمِنًی وَنَحَرَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ خُذْ وَأَشَارَ إِلَی جَانِبِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ الْأَيْسَرِ ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ

یحییٰ بن یحیی، حفص بن غیاث، ہشام، بن محمد بن سیرین، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منیٰ تشریف لائے تو پہلے جمرہ عقبہ پر آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر آپ ﷺ منٰی میں اپنی ٹھہرنے کی جگہ تشریف لائے اور قربانی کی پھر حجام سے فرمایا کہ استرہ پکڑ اور دائیں جانب کی طرف اشارہ فرمایا کہ دائیں طرف سے شروع کرو پھر بائیں طرف سے پھر آپ ﷺ نے وہ بال لوگوں کو عطاء فرمائے۔

Anas bin Malik (RA) (Allah be pleased wish him) reported that Allahs Messenger ﷺ came to Mina; he went to the Jamra and threw pebbles at it, after which he went to his lodging in Mina, and sacrificed the animal. He then called for a barber and, turning his right side to him, let him shave him; after which he turned his left side. He then gave (these hair) to the people.

3153Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ لِلْحَلَّاقِ هَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَی الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ هَکَذَا فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ قَالَ ثُمَّ أَشَارَ إِلَی الْحَلَّاقِ وَإِلَی الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ وَأَمَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ قَالَ فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الْأَيْمَنِ فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ ثُمَّ قَالَ بِالْأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ قَالَ هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ فَدَفَعَهُ إِلَی أَبِي طَلْحَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوکریب، حفص، ابن غیاث، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے حجام سے فرمایا اور آپ ﷺ نے ہاتھ کے ساتھ دائیں جانب کی طرف سے شروع کرنے کا اشارہ فرمایا اور آپ ﷺ نے ان بالوں کو جو کہ آپ ﷺ کے قریب تھے ان میں تقسیم فرمایا آپ ﷺ نے پھر حجام کو بائیں جانب کی طرف اشارہ فرمایا تو اس نے وہ مونڈے تو آپ ﷺ نے وہ بال حضرت ام سلیم ؓ کو عطاء فرمائے اور ابوکریب کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے دائیں طرف سے شروع فرمایا اور ایک ایک اور دو دو بال لوگوں کے درمیان تقسیم فرمائے پھر آپ ﷺ نے بائیں طرف سے بھی اسی طرح کیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہاں ابوطلحہ ؓ ہیں تو وہ بال ابوطلحہ ؓ کو عطاء فرما دئیے۔

Abu Bakr (RA) reported: (He called for) the barber and, pointing towards the right side of his head, said: (Start from) here, and then distributed his hair among those who were near him. He then pointed to the barber (to shave) the left side and he shaved it, and he gave (these hair) to Umm Sulaim (Allah be pleased with her). And in the narration of Abu Kuraib (the words are): "He started from the right half (of his head), and he distributed a hair or two among the people, and then (asked the barber) to shave the left side and he did similarly, and he (the Holy Prophet) said: Here is Abu Talha and he gave these (hair) to Abu Talha."

3154Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ فَحَلَقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ ثُمَّ قَالَ احْلِقْ الشِّقَّ الْآخَرَ فَقَالَ أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ

محمد بن مثنی، عبدالاعلی، ہشام، محمد، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر آپ ﷺ اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور ان کو قربان کیا اور حجام بیٹھے تھے اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنے سر کے بارے میں فرمایا تو اس نے دائیں طرف سے بال مونڈ دئیے تو آپ ﷺ نے ان بالوں کو جو آپ ﷺ کے قریب تھے ان میں تقسیم فرما دیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ دوسری طرف سے مونڈ دے اور فرمایا کہ ابوطلحہ ؓ کہاں ہے تو آپ ﷺ نے یہ بال ان کو عطا فرما دئیے۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ threw stones at Jamrat al-Aqabahh. He then want to his sacrificial animal and sacrificed it, and there was sitting the barber, and he pointed with his hand towards his head, and he shaved the right half of it, and he (the Holy Prophet) distributed them (the hair) among those who were near him. And he again said: Shave the other half, and said: Where is Abu Talha and gave it (the hair) to him.

3155Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ يُخْبِرُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا رَمَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُکَهُ وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ فَقَالَ احْلِقْ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ

ابن ابی عمر، سفیان، ہشام بن حسان، ابن سیرین، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے جمرہ کو کنکریاں ماریں اور قربانی ذبح کرلی تو آپ ﷺ نے اپنی دائیں جانب حجام کے سامنے کی تو اس نے وہ مونڈ دی پھر آپ ﷺ نے حضرت ابوطلحہ انصاری کو بلوایا اور انہیں یہ بال عطا فرمائے پھر آپ ﷺ نے اپنی بائیں جانب حجام کے سامنے کی اور اسے فرمایا کہ اسے مونڈ دے تو اس نے مونڈ دیئے تو آپ ﷺ نے یہ بال حضرت ابوطلحہ کو دے کر فرمایا کہ ان کو لوگوں کے درمیان تقسیم کردو۔

Anas bin Malik (RA) reported: When Allahs Messenger ﷺ had thrown pebbles at the Jamra and had sacrificed the animal, he turned (the right side) of his head towards the barber, and i. e shaved it. He then called Abu Talha al-Ansari and gave it to him. He then turned his left side and asked him (the barber) to shave. And he (the barber) shaved. and gave it to Abu Talha and told him to distribute it amongst the people.

3156Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًی لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ فَقَالَ اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ ثُمَّ جَائَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَقَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ حجہ الوداع میں منٰی میں ٹھہرے تاکہ لوگ آپ ﷺ سے مسائل وغیرہ پوچھ سکیں تو ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے قربانی کرنے سے پہلے حلق یعنی سر منڈا لیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب قربانی ذبح کرلو پھر ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے جس عمل کو بھی آگے پیچھے کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کرلو۔

Abdullah bin Amr bin al-As said that Allahs Messenger ﷺ stopped during the Farewell Pilgrimage at Mina for people who had something to ask. A man came and said: Messenger of Allah, being ignorant. I shaved before sacrificing, whereupon he (the Holy Prophet) said: Now sacrifice (the animal) and there is no harm (for you). Then another man came and he said: Messenger of Allah, being ignorant, I sacrificed before throwing the pebbles, whereupon he (the Holy Prophet) said: (Now) throw the pebbles, and there is no harm (for you). Allahs Messenger ﷺ was not asked about anything which had been done before or after (its proper time) but he said: Do it, and no harm is there (for you).

3157Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَاحِلَتِهِ فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَکُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ الرَّمْيِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ فَيَقُولُ انْحَرْ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ يَوْمَئِذٍ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَی الْمَرْئُ وَيَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الْأُمُورِ قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا إِلَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلُوا ذَلِکَ وَلَا حَرَجَ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عیسی، ابن طلحہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر ٹھہرے ہوئے تھے تو لوگوں نے آپ ﷺ سے پوچھنا شروع کردیا ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہیں تھا کہ کنکریاں قربانی سے پہلے ماری جاتی ہیں اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو اب کنکریاں مار لو اور کوئی حرج نہیں حضرت عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دوسرے آدمی نے آکر کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ قربانی سر منڈانے سے پہلے کی جاتی ہے اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا قربانی اب کرلو اور کوئی حرج نہیں عبداللہ فرماتے ہیں اس دن آپ ﷺ سے کسی بھی کام کو آگے پیچھے بھول کر یا جہالت کی بناء پر کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ان تمام کاموں کے بارے میں فرمایا کہ اب کرلو کوئی حرج نہیں۔

Abdullah bin Amr bin al-As (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ stopped while riding his camel and the people began to ask him. One of the inquirers said: Messenger of Allah, I did not know that pebbles should be thrown before sacrificing the animal, and by mistake I sacrificed the animal before throwing pebbles, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: (Now) throw pebbles and there is no harm in it. Then another (person) came saying: I did not know that the animal was to be sacrificed before shaving, but I got myself shaved before sacrificing the animal, whereupon he (the Holy Prophet) said: Sacrifice the animal (now) and there is no harm in it. He (the narrator) said: I did not hear that anything was asked on that day (about a matter) which a person forgot and could not observe the sequence or anything like it either due to forgetfulness or ignorance, but Allahs Messenger ﷺ said (about that): Do it; there is no harm in it.

3158Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ إِلَی آخِرِهِ

حسن حلوانی، یعقوب ابی صالح، ابن شہاب، حضرت زہری ؓ سے آخر تک اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri.

3159Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ طَلْحَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ مَا کُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ کَذَا وَکَذَا قَبْلَ کَذَا وَکَذَا ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ کَذَا قَبْلَ کَذَا وَکَذَا لِهَؤُلَائِ الثَّلَاثِ قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ

علی بن خشرم، عیسی، ابن جریج، ابن شہاب، عیسیٰ بن طلحہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمارے سامنے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں جانتا نہیں تھا کہ فلاں فلاں عمل فلاں عمل سے پہلے ہے پھر ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرا گمان ہے کہ فلاں عمل فلاں عمل سے پہلے ہے ان تینوں کو آپ ﷺ نے فرمایا اب کرلو کوئی حرج نہیں۔

Abdullah bin Amr (RA) bin al-As (RA) reported: As Allahs Apostle ﷺ was delivering sermon on the Day of Nahr, a man stood up before him and said: Messenger of Allah, I did not know that such and such (rite was to be performed) before such and such (rite). Then another man came and said: Messenger of Allah, I thought that such and such (rite) should precede such and such (rite), and then another man came and said: Messenger of Allah, I had thought that such and such was before such and such, and such and such (is the sequence) of the three (rites, viz. throwing of pebbles, sacrificing of animal and shaving of ones head). He said to all these three: Do now (if you have not observed the sequence); there is no harm in it.

3160Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ح و حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا رِوَايَةُ ابْنِ بَکْرٍ فَکَرِوَايَةِ عِيسَی إِلَّا قَوْلَهُ لِهَؤُلَائِ الثَّلَاثِ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ ذَلِکَ وَأَمَّا يَحْيَی الْأُمَوِيُّ فَفِي رِوَايَتِهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ وَأَشْبَاهُ ذَلِکَ

عبد بن حمید، محمد بن بکر، سعید بن یحیی، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ روایت ہے باقی اس میں تین کا ذکر نہیں اور یحییٰ اموی کی روایت میں یہ ہے کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے حلق کرایا اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters. And the narration of Ibn Bakr is like one transmitted by Isa but with this (variation): "There are not these words in it: To all these three rites (throwing of pebbles sacrificing of animal and shaving of ones head)." And so far as the narration of Yahya al-Umawi (the words are): I got (my head) shaved before I sacrificed the animal, and I sacrificed the animal before throwing pebbles, and like that.

3161Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَتَی النَّبِيَّ رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ فَاذْبَحْ وَلَا حَرَجَ قَالَ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، عیسیٰ بن طلحہ، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے قربانی ذبح کرنے سے پہلے حلق کرلیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اب قربانی کرلو اور کوئی حرج نہیں اسی طرح ایک اور آدمی نے آکر عرض کیا کہ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اب کنکریاں مار لو اور کوئی حرج نہیں۔

Abdullah bin Amr bin al-As (RA) said: As Allahs Messenger ﷺ was standing near the jamra, a person came to him on the Day of Nahr and said: Messenger of Allah, I got (my head shaved) before throwing pebbles, whereupon he (the Holy Prophet) said: Throw pebbles (now); there is no harm in it. Another man (then) came and said: I have sacrificed before throwing the stones. He said: Throw stones (now) and there is no harm. Another came to him and said: I have observed the circumambulation of Ifada of the House before throwing pebbles. He said: Throw pebbles (now); there is no harm in it. He (the narrator) said: I did not see that he (the Holy Prophet) was asked about anything on that day, but he said: Do, and there is no harm in it.

3162Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی نَاقَةٍ بِمِنًی فَجَائَهُ رَجُلٌ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

ابن ابی عمرو، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اس میں ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہیں کہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی آیا آگے ابن عیینہ کی حدیث کی طرح ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters (and the words are): "I saw Allahs Messenger ﷺ on the back of the camel at Mina, and a person came to him," and the rest of the hadith is like that transmitted by Ibn Uyaina.

3163Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَقَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي أَفَضْتُ إِلَی الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْئٍ إِلَّا قَالَ افْعَلُوا وَلَا حَرَجَ

محمد بن عبداللہ بن قہزاد علی بن حسن، عبداللہ بن مبارک، محمد بن ابی حفصہ، عیسیٰ بن طلحہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ایک آدمی قربانی کے دن آیا اور آپ ﷺ جمرہ کے پاس کھڑے تھے تو اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے حلق کرلیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اب کنکریاں مار لو اور کوئی حرج نہیں اور ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی ذبح کرلی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو اسی طرح ایک تیسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف افاضہ کرلیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو راوی کہتے ہیں کہ اس دن میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ سے کسی بھی عمل کے بارے میں پوچھا گیا ہو سوائے اس کے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کرلو۔

Adullah bin Amr (b. al-As) (RA) reported that a person came to Allahs Apostle ﷺ and said: I got (my head) shaved before sacrificing the animal, whereupon be (the Holy Prophet) said: Sacrifice the animal (now); there is no harm in it. He (the person said): I sacrificed the animal before throwing pebbles, whereupon he said: Throw pebbles (now); there is no harm in it.

3164Sahih Muslim

قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق وائیں جانب سے سر منڈا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ فِي الذَّبْحِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْيِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ لَا حَرَجَ

محمد بن حاتم، بہز، وہیب، عبداللہ بن طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے ذبح اور حلق کرانے اور کنکریاں مارنے کے بارے میں آگے پیچھے یعنی ترتیب کے بارے میں پوچھا گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی گناہ نہیں۔

Ibn Abbas (RA) reported that it was said to Allahs Apostle ﷺ about sacrificing of animals, shaving of ones head, throwing of pebbles, and (the order of) precedence and succession, and he said: There is no harm in it.

3165Sahih Muslim

قربانی والے دن طواف افاضہ کے استح میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّی الظُّهْرَ بِمِنًی قَالَ نَافِعٌ فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًی وَيَذْکُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے قربانی والے دن طواف افاضہ کیا پھر آپ ﷺ لوٹے اور منٰی میں ظہر کی نماز پڑھی حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ بھی قربانی والے دن طواف افاضہ کرتے تھے پھر لوٹتے اور منٰی میں ظہر کی نماز پڑھتے اور فرماتے کہ نبی ﷺ نے بھی اسی طرح کیا ہے۔

Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ observed the circumambulation of Ifada on the Day of Nahr (10th of Dhul-Hijja), and then came back and observed the noon prayer at Mina. Nafi (one of the narrators) said that Ibn Umar (RA) used to observe the circumambulation of Ifada on the Day of Nahr, and then return and observe the noon prayer at Mina, and mentioned that Allahs Apostle ﷺ did that.

3166Sahih Muslim

وادی محصب میں اتر نے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْئٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّی الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنًی قُلْتُ فَأَيْنَ صَلَّی الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالْأَبْطَحِ ثُمَّ قَالَ افْعَلْ مَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُکَ

زہیر بن حرب، اسحاق، حضرت عبدالعزیز بن رفیع ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے پوچھا میں نے عرض کیا کہ مجھے خبر دیں کہ ترویہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز کہاں پڑھی؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ منٰیٰ میں میں نے عرض کیا کہ روانگی والے دن عصر کی نماز آپ ﷺ نے کہاں پڑھی؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ وادی ابطح میں پھر فرمایا کہ تو وہی کر جو تیرے حکمران تجھے کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

Abdul Aziz bin Rufai (RA) said: I asked Anas bin Malik (RA) to tell me about something he knew about Allahs Messenger ﷺ , viz. where he observed the noon prayer on Yaum al-Tarwiya. He said: At Mina. I said: Where did he observe the afternoon prayer on the Yaum an-Nafr? and he said: It was at al-Abtah. He then said: Do as your rulers do.

3167Sahih Muslim

وادی محصب میں اتر نے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ کَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ

محمد بن مہران، عبدالرزاق، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ ابطح کی وادی میں اترا کرتے تھے۔

Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ and Abu Bakr (RA) and Umar observed halt at al-Abtah.

3168Sahih Muslim

وادی محصب میں اتر نے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ يَرَی التَّحْصِيبَ سُنَّةً وَکَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ قَالَ نَافِعٌ قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْخُلَفَائُ بَعْدَهُ

محمد بن حاتم، ابن میمون، روح بن عبادہ، صخر بن جویریہ، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ وادی محصب میں ٹھہرنے کو سنت خیال کرتے تھے اور وہ قربانی کے دن ظہر کی نماز وادی محصب میں پڑھا کرتے تھے حضرت نافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے خلفاء محصب کی وادی میں جاتے تھے۔

Nafi reported that Ibn Umar regarded halt at Muhassab as Sunnah (of the Holy Prophet) and observed the noon prayer on Yaum al-Nahr at that place. Nafi said: Allahs Messenger ﷺ halted at Muhassab and the Caliphs did the same after him.

3169Sahih Muslim

وادی محصب میں اتر نے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ کَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ إِذَا خَرَجَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، عبداللہ بن نمیر، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ وادی محصب میں اترنا کوئی سنت نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺ وہاں اس لئے ٹھہرے کہ مکہ جاتے وقت آپ ﷺ کے لئے اس جگہ سے نکلنا آسان تھا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported.: Halt at al-Abtah is not the Sunnah. Allahs Messenger ﷺ halted there simply because it was easier for him to depart from there, when he left.