عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے سنا کہ لوگ زمین کو کرائیے پر دینے کے سلسلے میں کثرت سے گفتگو کر رہے ہیں، تو سبحان اللہ کہہ کر تعجب کا اظہار کیا، اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تو یوں فرمایا تھا: تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کو زمین مفت کیوں نہیں دے دی آپ ﷺ نے اسے کرائے پر دینے سے منع نہیں کیا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that he heard that people were leasing au t land more. He said: "Subhan-Allah, the Messenger of Allah ﷺ said: Why does not one of you lend it to his brother? But he did not forbid leasing it out.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رافع ؓ کو حدیث کا مطلب سمجھنے میں دھوکہ ہوا۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت دے تو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اتنی اور اتنی یعنی کوئی متعین رقم لے۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہی حقل ہے، اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "If one of you were to lend his brother his land, it would be better for him than taking such and such rent for it." Ibn Abbas said: "It is Haql (i.e., leasing land for cultivation), and in the dialect of Ansar, it is called Muhaqalah
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٢١ ١٥٥٠)، (تحفة الأشراف: ٥٧١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٣) (صحیح )
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم زمین کو اس شرط پر کرایہ پر دیتے تھے کہ فلاں جگہ کی پیداوار میری ہوگی، اور فلاں جگہ کی تمہاری، تو ہم کو پیداوار پر زمین کرائے پر دینے سے منع کردیا گیا، البتہ چاندی کے بدلے یعنی نقد کرائے پر دینے سے ہمیں منع نہیں کیا گیا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Hanzalah bin Qais said: "I asked Rafi bin Khadij and he said: We used to lease out land on the basis that you would have what is produced by this piece of land, and I would have what is produced by this (other) piece of land, and we were forbidden to lease it out on the basis of crop-sharing but he did not forbid us to rent out land for silver.’”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس قسم کی شرط بٹائی کی زمین میں درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں اس بات کا خطرہ ہے کہ کسی قطعہ زمین کی پیداوار خوب ہوا، اور دوسرے قطعہ میں کچھ پیدا نہ ہو، دراصل اسی قسم کی بٹائی سے رسول اکرم ﷺ نے منع فرمایا تھا، صحابی رسول رافع بن خدیج ؓ نے اس سے مطلق بٹائی کی ممانعت سمجھ لی۔
رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا ظہیر ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے جو ہمارے لیے مفید تھا منع فرمایا، رافع ؓ کہتے ہیں کہ، تو میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا ہے وہی حق ہے، کہا: رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو ؟ تو ہم نے عرض کیا: ہم اسے تہائی اور چوتھائی پیداوار پر اور گیہوں یا جو کے چند وسق پر کرائے پر دیتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو، تم یا تو خود اس میں کھیتی کرو یا دوسرے کو کھیتی کرنے دو ۔
Rafi bin Khadij narrated that his paternal uncle Zuhair said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade us from doing something that was convenient for us.” I said: "What the Messenger of Allah ﷺ said is true." He said that the Messenger of Allah ﷺ said: "What do you do with your farms?" We said: "We rent them out for one third or one quarter of their yield, and a certain amount of wheat and barley." He said “Do not do that; cultivate them or let others cultivate them.”
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ کسی کو زمین کی حاجت نہیں ہوتی تھی تو اسے تہائی یا چوتھائی یا آدھے کی بٹائی پردے دیتا، اور تین شرطیں لگاتا کہ نالیوں کے قریب والی زمین کی پیداوار، صفائی کے بعد بالیوں میں بچ جانے والا غلہ اور فصل ربیع کے پانی سے جو پیداوار ہوگی وہ میں لوں گا، اس وقت لوگوں کی گزر بسر مشکل سے ہوتی تھی، وہ ان میں پھاؤڑے سے اور ان طریقوں سے جن سے اللہ چاہتا محنت کرتا اور اس سے فائدہ حاصل کرتا، آخر رافع بن خدیج ؓ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایک کام سے جو تمہارے لیے مفید تھا منع فرما دیا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ ﷺ تمہیں زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کرتے ہیں، اور فرماتے ہیں: جس کو اپنی زمین کی ضرورت نہ ہو وہ اسے اپنے بھائی کو مفت (بطور عطیہ) دیدے، یا اسے خالی پڑی رہنے دے ۔
It was narrated from Usaid bin Zuhair, the paternal nephew of Rafi bin Khadij, that Rafi bin Khadij said: "If one of us did not need his land, he would give it (to someone else to cultivate) in return for one third, or one quarter, or one half of the yield, and he would stipulate (that he should receive) the produce
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت ؓ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج ؓ کو بخشے، اللہ کی قسم! یہ حدیث میں ان سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ کے پاس دو شخص آئے، ان دونوں میں لڑائی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارا یہی حال ہے تو کھیتوں کو کرائے پہ نہ دیا کرو ، رافع ؓ نے صرف اتنا ہی سنا کہ کھیتوں کو کرائے پر نہ دیا کرو ١ ؎۔
Zaid bin Thabit said: "May Allah forgive Rafi bin Khadij. By Allah I have more knowledge of Ahadith than he does. Two men who had quarreled came to the Prophet ﷺ and he said: If this is your situation,do not lease farms, and what Rafi bin Khadij heard was Do not lease arms’
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ ممانعت اس وقت ہوگی جب لڑائی اور جھگڑے کا سبب بنے، ورنہ ملطلقاً کھیت بٹائی پر دینے سے آپ ﷺ نے نہیں روکا ہے۔
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کاش آپ اس بٹائی کو چھوڑ دیتے، اس لیے کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ بولے: عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں، اور ان کو (زمین بٹائی پر) دیتا ہوں، اور معاذ بن جبل ؓ نے ہماری موجودگی میں لوگوں سے ایسا معاملہ کیا ہے، اور ان کے سب سے بڑے عالم یعنی ابن عباس ؓ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع نہیں کیا، بلکہ یوں فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یوں ہی بغیر کرایہ کے دیدے، تو وہ اس سے بہتر ہے کہ زمین کا ایک معین کرایہ لے ۔
It was narrated that Amr bin Dinar said: I said to Tawus: "O Abu Abdur-Rahman, why do you not give up this Mukhabarah because they claim that the Messenger of Allah ﷺ forbade it." He said: "O Amr, I help them by taking their land and cultivating it, and giving them something in return, and Muadh bin Jabal allowed people here to do that. The most knowledgeable of them - meaning Ibn Abbas - told me that the Messenger of Allah ﷺ did not forbid it, rather he said: For One of you to give (land) to his brother is better for him than if he were to take a set amount in rent for it.”
طاؤس سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل ؓ نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکرو عمر اور عثمان ؓ عنہم کے عہد میں زمین کو تہائی اور چوتھائی کرائے پر دیا، اور آج تک اسی پر عمل کیا جا رہا ہے ۔
It was narrated from Tawus that Muadh bin Jabal leased some land during the time of the Messenger of Allah ﷺ , Abu Bakr, "Umar and Uthman, in return for one third or one fourth (of the yield), and he was still doing that until this day of yours.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٣١٧، ومصباح الزجاجة: ٨٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٣٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تو صرف یہ فرمایا تھا: کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین یوں ہی مفت کھیتی کے لیے دیدے، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے کوئی معین محصول لے ۔
It was narrated from Tawus that Ibn Abbas (RA) told that the Messenger of Allah ﷺ merely said: "For one of you to give (land) to his brother is better for him than if he were to take a set amount in rent for it."
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں محاقلہ کیا کرتے تھے، پھر ان کا خیال ہے کہ ان کے چچاؤں میں سے کوئی آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جس کے پاس زمین ہو وہ اس کو متعین غلے کے بدلے کرائے پر نہ دے ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: We used to give land in return for food at the time of the Messenger of Allah ﷺ , and some of my paternal uncles came to them and said “The Messenger of Allah ﷺ said Whoever has land he should not rent it out for a set amount of food”’.
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی کی زمین میں بغیر اس کی اجازت کے کھیتی کرے تو اس میں سے اس کو کچھ نہیں ملے گا، البتہ اس کا خرچ دلا دیا جائے گا ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever cultivates peoples land without their permission, he has no right to any of the produce, but he should be recompensed for his expenditure”’.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٣ (٣٤٠٣)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٩ (١٣٦٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٥، ٤/١٤١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے پھل اور غلہ کی نصف پیداوار پر (بٹائی کا) معاملہ کیا۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ entered into a contract with the people of Khaibar for one half of the fruits or crops yielded.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں کو خیبر کی زمین اور درختوں کو نصف پیداوار کی بٹائی پر دیا۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ gave Khaibar to its people in return for one half of the yield of its palm trees and land.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٨٣، ومصباح الزجاجة: ٨٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٠) (صحیح) (حکم بن عتیبہ نے مقسم سے صرف چار احایث سنی ہیں، اور محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، کما تقدم )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر کو فتح کیا، تو اسے نصف پیداوار کی بٹائی پردے دیا۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ conquered Khaibar, he gave it (to its people) in return for half (of its yield)."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٩٠، ومصباح الزجاجة: ٨٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٨) (صحیح) (سند میں مسلم بن کیسان کوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے حدیث صحیح ہے )
طلحہ بن عبیداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھجور کے باغ میں گزرا، تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ نر کھجور کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: نر کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس سے کوئی فائدہ ہوگا ، یہ خبر جب ان صحابہ کو پہنچی تو انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا، لیکن اس سے درختوں میں پھل کم آئے، پھر یہ بات نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ میرا گمان تھا، اگر اس میں فائدہ ہے تو اسے کرو، میں تو تمہی جیسا ایک آدمی ہوں گمان کبھی غلط ہوتا ہے اور کبھی صحیح، لیکن جو میں تم سے کہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (تو وہ غلط نہیں ہوسکتا ہے) کیونکہ میں اللہ تعالیٰ پر ہرگز جھوٹ نہیں بولوں گا ۔
It was narrated from Simak that he heard Musa bin Talhah bin Ubaidullah narrating that his father said: "I passed by some palm trees with the Messenger of Allah ﷺ and he saw some people pollinating the trees. He said: What are these people doing? They said: They are taking something from the male part (of the plant) and putting it in the female part. He said: I do not think that this will do any good. News of that reached them, so they stopped doing it, and their yield declined. News of that reached the Prophet ﷺ and he said: That was only my thought. If it will do any good, then do it. I am only a human being like you, and what I think may be right or wrong. But when I tell you: “Allah says,” I will never tell lies about Allah.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٣٨ (٢٣٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٠١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کچھ آوازیں سنیں تو پوچھا: یہ کیسی آواز ہے ؟ لوگوں نے کہا: لوگ کھجور کے درختوں میں پیوند لگا رہے ہیں ١ ؎، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کریں تو بہتر ہوگا چناچہ اس سال ان لوگوں نے پیوند نہیں لگایا تو کھجور خراب ہوگئی، لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری دنیا کا جو کام ہو، اس کو تم جانو، البتہ اگر وہ تمہارے دین سے متعلق ہو تو اسے مجھ سے معلوم کیا کرو ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ heard some sounds and said: "What is this noise?" They said: "Palm trees that are being pollinated." He said: "If they did not do that it would be better." So they did not pollinate them that year, and the dates did not mature properly. They mentioned that to the Prophet ﷺ and he said: "If it is one of your worldly matters then it is your affair, but if it is one of the matters of your religion, then refer to me.”
Notes · وضاحت
١ ؎: تأبیر یا تلقیح: نر کھجور کے شگوفے (کلی) مادہ کھجور میں ڈالنے کو تلقیح یا تأبیر کہتے ہیں، ایسا کرنے سے کھجور کے درخت خوب پھل لاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٣٨ (٢٣٦٣)، (تحفة الأشراف: ٣٣٨، ١٦٨٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٢٣، ١٥٢) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت (ساجھے داری) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ١ ؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Muslims are partners in three things: water, pasture and fire, and their price is unlawful."Abu Saeed said: "This means flowing water."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤١٨، ومصباح الزجاجة: ٨٦٩) (صحیح) (سند میں عبداللہ بن خراش ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، وثمنہ حرام کا جملہ شاہد نہ ہونے سے ضعیف ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سی ایسی چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی، نمک اور آگ میں نے کہا: اللہ کے رسول! پانی تو ہمیں معلوم ہے کہ اس کا روکنا جائز اور حلال نہیں؟ لیکن نمک اور آگ کیوں جائز نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اے حمیراء! ١ ؎ جس نے آگ دی گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جو اس پر پکا، اور جس نے نمک دیا گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جس کو اس نمک نے مزے دار بنایا، اور جس نے کسی مسلمان کو جہاں پانی ملتا ہے، ایک گھونٹ پانی پلایا گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا، اور جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو گویا اس نے اس کو نئی زندگی بخشی ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "O Messenger of Allah, what are the things which are not permissible to withhold?" He said: "Water, salt and fire." She said: "I said: O Messenger of Allah, we know what water is, but what about salt and fire?" He said: "O Humaira, whoever gives fire (to another), it is as if he has given in charity all the food that is cooked on that fire. And whoever gives salt, it is as if he has given in charity all that the salt makes good. And whoever gives a Muslim water to drink when water is available, it is as if he freed a slave; and whoever gives a Muslim water to drink when there is no water available, it is as if he brought him back to life."
Notes · وضاحت
١ ؎: حمیراء: حمراء کی تصغیر ہے یعنی اے گوری چٹی سرخی مائل رنگت والی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٢١، ومصباح الزجاجة: ٨٧١) (ضعیف) (علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٣٨٤ )
ابیض بن حمال ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس نمک کو جو نمک سدمآرب کے نام سے جانا جاتا ہے رسول اللہ ﷺ سے بطور جاگیر طلب کیا، تو آپ ﷺ نے اسے انہیں جاگیر میں دے دیا، پھر اقرع بن حابس تمیمی ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: میں زمانہ جاہلیت میں اس نمک کی کان پر سے گزر چکا ہوں، وہ ایسی زمین میں ہے جہاں پانی نہیں ہے، جو وہاں جاتا ہے، وہاں سے نمک لے جاتا ہے، وہ بہتے پانی کی طرح ہے، جس کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہوتا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے ابیض بن حمال سے نمک کی اس جاگیر کو فسخ کردینے کو کہا، ابیض ؓ نے عرض کیا: میں اس کو اس شرط پر فسخ کرتا ہوں کہ آپ ﷺ اسے میری طرف سے صدقہ کردیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھا وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے اور وہ جاری پانی کے مثل ہے، جو آئے اس سے لے جائے ۔ فرج بن سعید کہتے ہیں: اور وہ آج تک ویسے ہی ہے، جو وہاں جاتا ہے اس میں سے نمک لے جاتا ہے۔ ابیض ؓ کہتے ہیں: پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس جاگیر کے عوض جو آپ نے فسخ کردی تھی جرف یعنی جرف مراد (ایک مقام کا نام ہے) میں زمین اور کھجور کے کچھ درخت جاگیر کے طور پر دیے۔
It was narrated from Abyad bin Hammal that he asked for a salt flat called the salt flat of the Marib Dam to be given to him, and it was given to him. Then Aqra bin Habis At·Tamimi came to the Messenger of Allah ﷺ and said: "O Messenger of Allah, I used to come to the salt flat during the Ignorance period and it was in a land in which there was no water, and whoever came to it took from it. It was (plentiful) like flowing water." So the Messenger of Allah ﷺ asked Abyad bin Hammal to give back his share of the salt flat. He said: "I give it to you on the basis that you make it charity given by me." The Messenger of Allah ﷺ said: "It is a charity from you, and it is like flowing water, whoever comes to it may take from it." (One of the narrators) Faraj said: "That is how it is today, whoever comes to it takes from it." He said: "The Prophet ﷺ gave him land and palm trees in Murad instead, when he took back the salt flat from him."