علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص چار چیزوں پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہوسکتا: اللہ واحد پر جس کا کوئی شریک نہیں، میرے اللہ کے رسول ہونے پر، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر، اور تقدیر پر ۔
It was narrated that ‘Ali said:“The Messenger of Allah ﷺ s.a.w.w said: ‘No slave truly believes until he believes in four things: in Allah alone with no partner; that I am the Messenger of Allah; in the resurrection after death; and in the Divine Decree (Qadar).’” (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القدر ١٠ (٢١٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٧، ١٣٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک بچے کے جنازے میں بلائے گئے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بچہ کے لیے مبارک باد ہو، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نہ تو اس نے کوئی برائی کی اور نہ ہی برائی کرنے کا وقت پایا، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ بات یوں نہیں ہے، بلکہ اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے، اور جہنم کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) me Mother of the Believers said: “The Messenger of Allah ﷺ s.a.w.w. was called to the funeral of a child from among the Ansar. I said: ‘O Messenger of Allah, glad tidings for him! He is one of the little birds of Paradise , who never did evil or reached the age of doing evil (i.e., age of accountability).’ He said: it may not be so, O ‘ Aisha (RA) l For Allah has created people for Paradise , He created them for it when they were still in their fathers’ loins. And He has created people for Hell, He created them for it when they were still in their fáthers’ loins.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ام المؤمنین عائشہ ؓ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ اس بچے نے کوئی گناہ نہ کیا اس لئے یہ تو یقینا جنتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس یقین کی تردید فرمائی کہ بلا دلیل کسی کو جنتی کہنا صحیح نہیں، جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ تو اللہ تعالیٰ نے انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی کردیا ہے، اور وہ ہمیں معلوم نہیں تو ہم کسی کو حتمی اور یقینی طور پر جنتی یا جہنمی کیسے کہہ سکتے ہیں، یہ حدیث ایک دوسری حدیث سے معارض معلوم ہوتی ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان بچے جو بچپن ہی میں مرجائیں گے اپنے والدین کے ساتھ ہوں گے، نیز علماء کا اس پر تقریباً اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے بچے جنتی ہیں، اس حدیث کا یہ جواب دیا گیا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کو جنتی یا جہنمی کا فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے روکنا مقصود تھا، بعض نے کہا: یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اللہ ﷺ کو بتایا نہیں گیا تھا کہ مسلم بچے جنتی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ سے تقدیر کے سلسلے میں جھگڑنے لگے، تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا کل شيء خلقناه بقدر یعنی: جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا: جہنم کی آگ لگنے کے مزے چکھو، بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے پر پیدا کیا ہے (سورۃ القمر: ٤٩ ) ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The idolators of Quraish came and disputed with the Prophet ﷺ concerning the Divine Decree. Then the following Verse was revealed: ‘The Day they will be dragged on their faces into the Fire (it will be said to them): “Taste you the touch of Hell!” Verily, We have created all things with Qadar. (Divine Decree)’“‘ (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بغوی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ جو چیز ہم نے پیدا کی ہے وہ تقدیر سے ہے یعنی وہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے، حسن بصری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی ہر چیز کا اندازہ کیا کہ اس کے موافق وہ پیدا ہوتی ہے، اور عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے پچاس ہزار سال پہلے مخلوق کی تقدیر لکھی، اور فرمایا: رب العالمین کا عرش اس وقت پانی پر تھا، اور عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر چیز قدر سے ہے یہاں تک کہ نادانی و دانائی بھی، فتح البیان میں ہے کہ اثبات قدر سے جو بعضوں کے خیال میں آتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کا مجبور و مقہور کردینا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کے علم قدیم کی خبر ہے کہ بندے کیا کمائیں گے، اور ان کے افعال کا صدور خیر ہو یا شر اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ہوتا ہے۔
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے تقدیر کے سلسلے میں کچھ ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو تقدیر کے سلسلے میں ذرا بھی بحث کرے گا اس سے قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کیا جائے گا، اور جو اس سلسلہ میں کچھ نہ کہے تو اس سے سوال نہیں ہوگا ۔
Abdullda bin Abi Mulaikah narrated that his father entered upon ‘ Aisha (RA) and said something to her about the Divine Decree. She said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Whoever says anything about the Divine Decree will be questioned about that on the Day of Resurrection, and whoever does not say anything about it will not be questioned about it.’” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٦٥، ومصباح الزجاجة: ٢٨) (ضعیف) (سند میں واقع دو راوی یحییٰ بن عثمان منکر الحدیث اور یحییٰ بن عبد اللہ لین الحدیث ہیں، ملاحظہ: المشکاة: ١١٤ )
ابوالحسن القطان نے کہا: ہمیں خازم بن یحیٰی نے انہیں عبدالملک بن سنان نے انہیں یحیٰی بن عثمان نے اسی (مالک بن اسماعیل) کی مثل روایت بیان کی۔
انظر ما قبلہ (ضعیف) (سبب ضعف کے لئے ملاحظہ ہو: اس سے پہلے کی حدیث )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس آئے، وہ لوگ اس وقت تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے، آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سخت غصہ کی وجہ سے سرخ ہوگیا، گویا کہ آپ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا تم اسی لیے پیدا کیے گئے ہو؟ تم قرآن کے بعض حصہ کو بعض حصہ سے ٹکرا رہے ہو، اسی وجہ سے تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوئی ہیں ١ ؎۔ عبداللہ بن عمرو ؓ کا بیان ہے: میں نے کبھی بھی آپ ﷺ کی مجلس سے غیر حاضر ہونے کی ایسی خواہش اپنے جی میں نہیں کی جیسی اس مجلس سے غیر حاضر رہنے کی خواہش کی۔
‘Amr bin Shu’aib narrated from his father that his grandfather said: “The Messenger of Allah ﷺ came out to his Companions when they were disputing about the Divine Decree, and it was as if pomegranate seeds had burst on his face (i.e., it turned red) because of anger. He said: ‘Have you been commanded to do this, or were you created for this purpose? You are using one part of the Qur’ân against another part, and this is what led to the doom of the nations who came before you.”‘Abdullâh bin ‘Anir said: “I was never so happy to have missed a gathering with the Messenger of Allah ﷺ as I was to have missed that gathering.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ تقدیر کے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں کرنی چاہیے، جتنی اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی ہے اسی پر ایمان کافی ہے، اور اس کے بارے میں زیادہ غور و خوض اور قیل و قال، باطل میں قیل و قال کرنا ہے، اور اس طرح باقی امور جس میں شارع نے اجمال و اختصار سے کام لیا ہے اس کی شرح و تفصیل کی بھی ہمیں ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٠٤، ومصباح الزجاجة: ٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٩٦، ١٧٨) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام میں چھوا چھوت کی بیماری، بدفالی اور الو سے بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، ایک دیہاتی شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اونٹ کو (کھجلی) ہوتی ہے، اور پھر اس سے تمام اونٹوں کو کھجلی ہوجاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی تقدیر ہے، اگر ایسا نہیں تو پہلے اونٹ کو کس نے اس میں مبتلا کیا؟ ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no ‘Adwa (contagion) no Tiyarah (evil omen) and no Hamah.’ A Bedouin man stood up and said: ‘O Messenger of Allah, what do you think about a camel that suffers from mange and then all the other camels get mange?’ He said: ‘That is because of the Divine Decree. How else did the first one get mange?’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: چھوا چھوت کی بیماری کو عربی میں عدوى: کہتے ہیں یعنی ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جائے، اور زمانہ جاہلیت میں عربوں کا عقیدہ تھا کہ کھجلی وغیرہ بعض امراض ایک دوسرے کو لگ جاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس عقیدہ کو باطل قرار دیا، اور فرمایا کہ یہ تقدیر سے ہے، جیسے پہلے اونٹ کو کسی کی کھجلی نہیں لگی، بلکہ یہ تقدیر الہٰی ہے، اسی طرح اور اونٹوں کی کھجلی بھی ہے۔ طيرة: بدفالی اور بدشگونی کو کہتے ہیں جیسے عورتیں کہتی ہیں کہ یہ کپڑا میں نے کس منحوس کے قدم سے لگایا کہ تمام ہی نہیں ہوتا، یا گھر سے نکلے اور بلی سامنے آگئی، یا کسی نے چھینک دیا تو بیٹھ گئے، یا کوئی چڑیا آگے سے گزر گئی تو اب اگر جائیں گے تو کام نہ ہوگا، اس اعتقاد کو بھی نبی اکرم ﷺ نے باطل فرما دیا، اور اس کو شرک قرار دیا۔ هامة: ایک معروف و مشہور جانور ہے جسے الو کہتے ہیں، عرب اس سے بدفالی لیتے تھے، اور کفار و مشرکین کا آج بھی عقیدہ ہے کہ وہ جہاں بولتا ہے وہ گھر ویران اور برباد ہوجاتا ہے، اور بعض عربوں نے سمجھ رکھا تھا کہ میت کی ہڈیاں سڑ کر الو بن جاتی ہیں، یہ تفسیر اکثر علماء نے کی ہے، غرض جاہل لوگ جو ان چیزوں کو خیر و شر کا مصدر و منبع جانتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے اس اعتقاد کا رد و ابطال کر کے خیر و شر کا مصدر تقدیر الٰہی کو بتایا، اور مسلمان کو یہی عقیدہ رکھنا چاہیے کہ نفع و نقصان اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٥٨٠، مصباح الزجاجة: ٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤، ٢٢٢) (صحیح) (سند میں یحییٰ بن أبی حیہ ابو جناب الکلبی ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بنا پر صحیح ہے، صرف ذلکم القدر کا لفظ شاہد نہ ملنے کی بناء پر ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٨٢ ، و الضعیفة: ٤٨٠٨ )
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ عدی بن حاتم ؓ جب کوفہ آئے تو ہم اہل کوفہ کے چند فقہاء کے ساتھ ان کے پاس گئے، اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، تو وہ کہنے لگے: میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا: اے عدی بن حاتم! اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے ، میں نے پوچھا: اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور ساری تقدیر پر ایمان لاؤ، چاہے اچھی ہو، بری ہو، میٹھی ہو، کڑوی ہو ۔
Sha’bi said: “When ‘Adi bin Hátim came to Kufah, we came to him with a delegation of the Fuqahs’ of Kufah and said to him: ‘Tell us of something that you heard from the Messenger of Allah ﷺ .’ He said: ‘I came to the Prophet ﷺ and he said: “O ‘Adi bin Hâtim, enter Islam and you will be safe.” I said, “What is islam?” He said: “To testify to La ilahaa illallah (none has the right to be worshipped but Allah) and that I am the Messenger of Allah, and to believe in all the Divine Decrees, the good of them and the bad of them, the sweet of them and the bitter of them.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٨٦٤، مصباح الزجاجة: ٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٧، ٣٧٨) (ضعیف جدًا) (سند میں عبد الاعلیٰ منکر الحدیث بلکہ تقریباً متروک الحدیث راوی ہیں، ملاحظہ ہو: ظلال الجنة: ١٣٥ )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دل کی مثال اس پر کی طرح ہے جسے ہوائیں میدان میں الٹ پلٹ کرتی رہتی ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Musa Al-Ash’ari said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The likeness of the heart is that of a feather blown about by the wind in the desert.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو خیر و شر دل میں آتا ہے سب تقدیر الہٰی سے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٠٢٤، مصباح الزجاجة: ٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠٨، ٤١٩) (صحیح) (سند میں راوی یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت سعید بن ایاس الجریری نے کی ہے، مسند احمد: ٤ /٤١٩، والسنة لابن أبی عاصم: ٢٣٤ ، نیز مسند أحمد: ٤ /٤٠٨ نے عاصم الاحول عن أبی کبشہ عن ابی موسیٰ سے بھی روایت کی ہے، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے )
جابر ؓ کہتے ہیں: انصار کا ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ١ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: جو اس کے مقدر میں ہوگا وہ اس کے پاس آ کر رہے گا ، کچھ دنوں کے بعد وہ آدمی حاضر ہوا اور کہا: لونڈی حاملہ ہوگئی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ٢ ؎۔
It was narrated that Jabir said: “A man from among the Ansdr came to the Prophet ﷺ and said: ‘O Messenger of Allah, I have a slave girl. Should I do ‘Art (coitus interruptus) with her?’ He said: ‘Whatever is decreed for her shall come to her.” He (the Ansari) carrie to him later on and said: “That slave girl has become pregnant.” The Prophet ﷺ said: “Nothing is decreed for a person but it will surely come to pass.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر منی گرانے کا نام عزل ہے۔ ٢ ؎: اس سے بھی معلوم ہوا کہ لڑکا اور لڑکی کی پیدائش اللہ کی تقدیر سے ہوتی ہے، کسی پیر و فقیر اور ولی و مرشد کی نذر و نیاز اور منت ماننے سے نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٤٩، ومصباح الزجاجة: ٣٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٣٩)، سنن ابی داود/النکاح ٤٩ (٢١٧٣)، مسند احمد (٣/٣١٣، ٣٨٨) (صحیح )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز نہیں بڑھاتی ١ ؎، اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں بدلتی ہے ٢ ؎، اور آدمی گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم کردیا جاتا ہے ۔
It was narrated that Thawban said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Nothing extends one’s life span but righteousness, nothing averts the Divine Decree but supplication, and nothing deprives a man of provision but the sin that he conmijts’” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نیکی سے عمر میں برکت ہوتی ہے، اور وہ ضائع ہونے سے محفوظ رہتی ہے، یا نیکی کا ثواب مرنے کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: والباقيات الصالحات خير عند ربک ثوابا وخير أملا اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ازروئے ثواب اور آئندہ کی اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں (سورۃ الکہف: ٤٦ ) تو گویا عمر بڑھ گئی یا لوح محفوظ میں جو عمر لکھی تھی اس سے زیادہ ہوجاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يمحو الله ما يشاء ويثبت یعنی: اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے اور جو چاہے ثابت رکھے (سورۃ الرعد: ٣٩ )، یا ملک الموت نے جو عمر اس کی معلوم کی تھی اس سے بڑھ جاتی ہے، اگرچہ علم الہی میں جو تھی وہی رہتی ہے، اس لئے کہ علم الہی میں موجود چیز کا اس سے پیچھے رہ جانا محال ہے۔ ٢ ؎: تقدیر کو دعا کے سوا ... الخ یعنی مصائب اور بلیات جن سے آدمی ڈرتا ہے دعا سے دور ہوجاتی ہیں، اور مجازاً ان بلاؤں کو تقدیر فرمایا، دعا سے جو مصیبت تقدیر میں لکھی ہے آتی ہے مگر سہل ہوجاتی ہے، اور صبر کی توفیق عنایت ہوتی ہے، اس سے وہ آسان ہوجاتی ہے تو گویا وہ مصیب لوٹ گئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٩٣، ومصباح الزجاجة: ٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٠٢، ٥/٢٧٧) (حسن) (حدیث کے آخری ٹکڑے: وإن الرجل ليحرم الرزق بخطيئة يعملها یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: ١٥٤ ، یہ حدیث آگے ( ٤٠٢٢ ) نمبر پر آرہی ہے )
سراقہ بن جعشم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں آیا اس تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو لکھ کر قلم خشک ہوچکا ہے، اور جو جاری ہوچکی ہے؟ یا ایسے امر کے مطابق ہوتے ہیں جو آگے ہونے والا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو قلم لکھ کر خشک ہوچکا ہے، اور جو جاری ہوچکی ہے، اور پھر ایک شخص کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق وہی کام آسان کردیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔
It was narrated that Suriqáh bin Ju’shum said: “I said: ‘O Messenger of Allah ﷺ , is one’s deed in that which has already dried of the Pen and what has passed of the Divine decree, or is it in the future?’ He said: ‘No, it is in that which as already dried of the Pen and what has passed of the Divine Decree, and each person is facilitated for what he has been created.’” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨١٩، ومصباح الزجاجة: ٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٩٧) (صحیح) (اس حدیث میں مجاہد اور سراقہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن ابن عمر ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: السنة لابن ابی عاصم: ١٦٩ )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں، اگر وہ بیمار پڑجائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو، اگر مرجائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو ١ ؎۔
It was narrated that Jâbir bin ‘Abdullâh said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Magians of this Ummah are those who deny the decrees of Allah. if they fall sick, do not visit them; if they die, do not attend their funerals; and if you meet them, do not greet them with Salãm.’” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے تقدیر کے منکرین کو مجوس سے اس لئے تشبیہ دی کہ وہ دو خالق کے قائل ہیں: ایک خیر کا خالق ہے، اس کا نام یزدان ہے، اور دوسرا شر کا خالق ہے، اس کا نام اہرمن ہے، اور قدریہ خالق سے خلق کے اختیار کو سلب کرتے ہیں اور خلق کو ہر مخلوق کے لئے ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ شر کا خالق نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ پر اصلح (زیادہ بہتر کام) واجب ہے، اور اسی لئے علمائے اہل سنت نے کہا ہے کہ معتزلہ مجوس سے بدتر ہیں اس لئے کہ وہ دو ہی خالق اور الٰہ کے قائل ہیں اور معتزلہ بہت سے خالقوں کے قائل ہیں کہ وہ ہر انسان کو اپنے افعال کا خالق قرار دیتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٨٧٩، ومصباح الزجاجة: ٣٦) (حسن) (سند میں بقیہ بن الولید اور ابو الزبیر مدلس راوی ہیں، اور دونوں نے عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، اور وإن لقيتموهم فلا تسلموا عليهم کا جملہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: السنة لا بن أبی عاصم: ٣٣٧ )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگاہ رہو! میں ہر خلیل (جگری دوست) کی دلی دوستی سے بری ہوں، اور اگر میں کسی کو خلیل (جگری دوست) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل (مخلص دوست ہے) ١ ؎۔ وکیع کہتے ہیں: آپ ﷺ نے ساتھی سے اپنے آپ کو مراد لیا ہے۔
It was narrated that ‘Abdulláh said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I have no need of the friendship of any Khalil (close friend) but if I were to have taken anyone as a close friend, I would have taken Abu Bakr (RA) as a close friend, but your companion is the close friend of Allah.’” (One of the narrators) Waki’ said: (by the phrase ‘your companion’), he was referring to himself. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: خلیل ایسا جگری دوست ہے کہ جس کے سوا دل میں کسی کی جگہ نہ رہے، اس لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایسا خلیل (جگری دوست) میرا اللہ تعالیٰ ہی ہے کہ میرے دل میں اس کی محبت نے ذرہ برابر جگہ نہ چھوڑی کہ اب کسی کی محبت دل میں آسکے، اور اگر ذرا بھی دل میں گنجائش ہوتی تو میں ابوبکر کو اس میں اس خصوصی دوستی والے جذبہ میں جگہ دیتا، اس حدیث سے ابوبکر ؓ کی بڑی فضیلت ثابت ہوئی، اور معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ رسول اللہ ﷺ کے جگری دوستی اور خصوصی محبت کے قابل اور مستحق ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے کسی بھی مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر ؓ کے مال نے فائدہ پہنچایا ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابوبکر ؓ رونے لگے اور کہا: اللہ کے رسول! میں اور میرا مال سب صرف آپ ہی کا ہے، اے اللہ کے رسول! ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The wealth of none of you has benefited me as much as the wealth of Abu Bakr.” Abu Bakr (RA) wept and said: ‘O Messenger of Allah, I and my wealth are only for you, O Messenger of Allah.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: حقیقت میں ابوبکر ؓ کے مال و دولت اور جاہ و شخصیت سے اسلام کو بڑی تقویت ملی، چناچہ تاریخ میں مذکور ہے کہ انہوں نے ابتدائے اسلام میں اور مسلمانوں کی فقر و مسکنت اور قلت تعداد کی حالت میں چالیس ہزار درہم مسلمانوں کی تائید و تقویت میں خرچ کئے، اور قریش سے سات غلاموں کو آزاد کرایا، بلال اور عامر بن فہیرہ ؓ انہی میں سے تھے، اور آپ کے والد ابو قحافہ ؓ اس پر معترض ہوئے تو آپ نے کہا کہ میں اللہ عز وجل کی رضا حاصل کرنے کے لئے ایسا کرتا ہوں اور آیت: فأما من أعطى واتقى (٥) وصدق بالحسنى (٦) (سورة الليل: 5-6) اسی باب میں نازل ہوئی۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت بھر اسلام کی خدمت، کتاب و سنت کی نشر و اشاعت اور اہل علم و دین کی تائید و تقویت میں حصہ لے، صحابہ کرام ؓ کی ایمان پرور زندگی میں ہمارے لئے بڑی عبرت اور موعظت کا سامان ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٢٨، ومصباح الزجاجة: ٣٨)، وأخرجہ: سنن الترمذی/المناقب ١٦ (٣٦٥٥)، مسند احمد (٢/٢٥٣) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے ادھیڑ عمر والے جنتیوں کے سردار ہوں گے، علی! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا ١ ؎۔
It was narrated that ‘Ali said: “The Messenger of Allah ﷺ said:‘ Abu Bakr (RA) and ‘Umar are the leaders of the mature people of Paradise, the first and the last, except for the Prophets and Messengers, but do not tell them about that, O ‘Ali, as long as they are still alive.” (Da’If)
Notes · وضاحت
١ ؎: ادھیڑ عمر والے جنتیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ادھیڑ عمر ہو کر مرے ہیں کیونکہ جنت میں کوئی ادھیڑ عمر کا نہیں ہوگا سب جوان ہوں گے، كهول جمع ہے كهل کی، اور كهل مردوں میں وہ ہے جس کی عمر تیس سے متجاوز ہوگئی ہو، اور بعضوں نے کہا چالیس سے اور بعضوں نے تینتیس سے پچپن تک، اور اس سے مراد یہ ہے کہ جو مسلمان اس عمر تک پہنچ کر انتقال کر گئے ہیں یہ دونوں یعنی ابوبکر و عمر ؓ جنت میں ان کے سردار ہوں گے، یا کہولت سے کنایہ کیا عقل و شعور اور فہم و فراست کی پختگی پر یعنی جو دانا اور فہمیدہ لوگ جنت میں ہوں گے ابوبکر و عمر ؓ ان کے سردار ہوں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر نبی، نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا اور انبیاء کے بعد شیخین (ابوبکر و عمر ؓ) سب سے افضل ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر نبی معصوم نہیں ہوسکتا اور معلوم ہوا کہ نبی کے بعد خلافت کے مستحق یہی ہیں اس لئے کہ جب جنت میں یہ سردار ہوں گے تو دنیا کی سرداری میں کیا شک رہا، مگر واقع میں نبی اکرم ﷺ نے انہیں جنتیوں کا سردار فرمایا ہے، جہنمیوں کا نہیں، اس لئے گمراہ اور جاہل ان کی سرداری کا انکار کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ المنا قب ١٦ (٣٦٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٠) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلند درجے والوں کو (جنت میں) نیچے درجہ والے دیکھیں گے جس طرح چمکتا ہوا ستارہ آسمان کی بلندیوں میں دیکھا جاتا ہے، اور ابوبکرو عمر بھی انہیں میں سے ہیں، اور ان میں سب سے فائق و برتر ہیں ١ ؎۔
it was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The people of the highest degrees of Paradise will be seen by those beneath them as a rising star is seen on the horizon. Abu Bakr (RA) and ‘Umar will be among them, and how blessed they are.” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے شیخین (ابوبکر و عمر ؓ) کے درجات کی بلندی کا علم ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المنا قب ١٦ (٣٦٥٨)، (تحفة الأشراف: ٤٢٠٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحروف والقراء ات ١ (٣٩٨٧)، مسند احمد (٣/٢٧، ٧٢، ٩٣، ٩٨) (صحیح) (اس سند میں عطیة العوفی ضعیف ہیں، امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اور سنن ابی داود کا سیاق اس سے مختلف ہے ( ٣٩٧٨ )، شیخ البانی نے شواہد کی بناء پر اس کی تصحیح کی ہے، صحیح ابن ماجہ: ٩٦ )
حذیفہ بن الیمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ کب تک میں تمہارے درمیان رہوں، پس میرے بعد ان دونوں کی پیروی کرنا ، اور آپ ﷺ نے ابوبکرو عمر ؓ کی جانب اشارہ کیا۔
It was narrated that Hudhaifah bin Yamân said: “The Messenger of ALLAH ﷺ said: ‘I do not know how long I will stay among you, so follow the example of these two after I am gone,’ and he pointed to Abu Bakr (RA) and ‘Umar.” (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ١٦ (٣٦٦٢، ٣٦٦٣)، (تحفة الأشراف: ٣٣١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٨٥، ٣٩٩، ٤٠٢) (صحیح )
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو کہتے سنا کہ جب عمر ؓ کو (وفات کے بعد) ان کی چارپائی پہ لٹایا گیا تو لوگوں نے انہیں گھیر لیا، اور دعا کرنے لگے، یا کہا: تعریف کرنے لگے، اور جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے دعا کرنے لگے، میں بھی انہیں میں تھا، تو مجھے صرف اس شخص نے خوف زدہ کیا جو لوگوں کو دھکا دے کر میرے پاس آیا، اور میرا کندھا پکڑ لیا، میں متوجہ ہوا تو دیکھا کہ وہ علی بن ابی طالب ؓ ہیں، انہوں نے کہا: اللہ عمر ؓ پر رحم کرے، پھر بولے: میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑا جس کا عمل آپ کے عمل سے زیادہ مجھے عزیز و پیارا ہو کہ میں اس عمل کو لے کر اللہ سے ملوں، اور قسم ہے اللہ کی! میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں (نبی اکرم ﷺ و ابوبکر ؓ) کے ساتھ رکھے گا، اس وجہ سے کہ میں رسول اللہ ﷺ کو اکثر فرماتے ہوئے سنتا تھا: میں اور ابوبکرو عمر گئے، میں اور ابوبکرو عمر داخل ہوئے، میں اور ابوبکرو عمر نکلے ، لہٰذا میں آپ کے ان باتوں کی وجہ سے یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ (جنت میں) رکھے گا ١ ؎۔
It was narrated that lbn Abi Mulaikah said: “I heard Ibn ‘Abbàs say: ‘When ‘Umar was placed on his bed (i.e., his bier), the people gathered around him, praying and invoking blessings upon him, or he said, ‘praising him arid invoking blessings upon him before (the bier) was lifted up, and I was among them. No one alarmed me except a man companions, and that is because I often heard the Messenger of Allah ﷺ saying: ‘Abu Bakr, ‘Umar and I went; Abu Bakr, ‘Umar and I came in; Abu Bakr, ‘Umar and I went out.’ So I think that Allah will most certainly join you to your two companions. who crowded against me and seized me by the shoulder. I turned and saw that it was ‘Ali bin Abu Tâlib. He prayed for mercy for ‘Umar, then he said: “You have not left behind anyone who it is more beloved to me to meet Allah with the like of his deeds than yourself. By Allah, I think that Allah will most certainly unite you with your two (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے عمر ؓ کی بڑی فضیلت معلوم ہوئی، اور معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام ؓ کو ان سے خاص محبت تھی، وہ ان کے جنازے کو گھیرے ہوئے تھے، اور ان کے لئے دعائے خیر کر رہے تھے، اور معلوم ہوا کہ علی اور شیخین (ابوبکر و عمر) ؓ کے دلوں میں کسی طرح کا بغض و حسد اور کینہ نہ تھا جیسا کہ روافض اور شیعہ وغیرہ کا خیال باطل ہے، اور معلوم ہوا کہ شیخین نبی کریم ﷺ کے دوست اور رفیق تھے کہ اکثر آپ ﷺ نشست و برخاست اور جمیع حالات میں ان کی معیت اور رفاقت بیان فرماتے تھے، اور مرنے کے بعد بھی قیامت تک تینوں ایک ہی جگہ یعنی ام المؤمنین عائشہ ؓ کے حجرہ میں مدفون ہیں، اور جنت میں بھی بفضل الٰہی ساتھ ساتھ ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٤ (٣٦٧٧)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢ (٢٣٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٠١٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١١٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ابوبکرو عمر کے درمیان نکلے، اور فرمایا: ہم اسی طرح قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ , came out standing between Abu Bakr (RA) and ‘Umar and said: ‘Thus will I be rescurrected.” (Da’if)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ١٦ (٣٦٦٩)، (تحفة الأشراف: ٧٤٩٩) (ضعیف) (سند میں راوی سعید بن مسلمہ منکر الحدیث ہیں )
ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوبکرو عمر انبیاء و رسل کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں جنت کے ادھیڑ لوگوں کے سردار ہوں گے ۔
It was narrated from ‘Awn bin Abi Juhaifah that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘ Abu Bakr (RA) and ‘Umar are the leaders of the mature people of paradise, the first and the last, except for the Prophets and Messengers.” (Hasan)