عمر ؓ کے مسروح نامی مؤذن سے روایت ہے کہ انہوں نے صبح صادق سے پہلے اذان دے دی تو عمر ؓ نے انہیں حکم دیا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے نافع سے یا کسی اور سے روایت کیا ہے کہ عمر ؓ کا ایک مؤذن تھا (جس کا نام مسروح یا کچھ اور تھا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے دراوردی نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ عمر ؓ کا مسعود نامی ایک مؤذن تھا، اور دراوردی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
Nafi reported: A muadhdhin of Umar, named Masruh, called the Adhan for the morning prayer before the break of dawn; Umar commanded him (to repeat). The narrator reported the tradition in a similar way. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Darawardi from Ubaid Allah on the authority of Ibn Umar, saying: there was a muadhdhin of Umar, named Masud. He then narrated the rest of the tradition. This version is more correct than one.
بلال ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہوجائے ، اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال ؓ کو نہیں پایا ہے۔
Narrated Bilal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to Bilal (RA) : Do not call adhan until the dawn appears clearly to you in this way, stretching his hand in latitude. Abu Dawud said: Shaddad did not see Bilal.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٠٣٤) (حسن) (اس کے راوی شدّاد مجہول ہیں، حافظ ابن حجر نے انہیں مقبول یرسل کہا ہے، لیکن اس کی تقویت ابو ذر ؓ کی حدیث ہے، ملاحظہ ہو مسند احمد: ٥/١٧١- ١٧٢، و صحیح ابی داود: ٣/٤٥ )
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ ؓ کے ساتھ مسجد میں تھے کہ ایک شخص مؤذن کے عصر کی اذان دینے کے بعد نکل کر (مسجد سے باہر) گیا تو آپ نے کہا: اس نے ابوالقاسم (رسول اللہ ﷺ کی کنیت ہے) کی نافرمانی کی ہے۔
Abu al-Shatha said: we were sitting with Abu Hurairah in the mosque. A man went out of the mosque after the ADHAN for the afternoon prayer had been called. Abu Hurairah said: As regards this (man), he disobeyed Abu al-Qasim, the prophet ﷺ .
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ اذان دیتے تھے پھر رکے رہتے تھے، پھر جب نبی اکرم ﷺ کو دیکھ لیتے کہ آپ نکل چکے ہیں تو نماز کی اقامت کہتے تھے۔
Jabir bin Samurah said: Bilal would call the Adhan, then he used come to wait. When he would see that the prophet ﷺ had come out (of his house), he would pronounce the iqama.
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب ١ ؎ کی، تو ابن عمر ؓ نے کہا: ہمیں یہاں سے لے چلو، اس لیے کہ یہ بدعت ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Mujahid reported: I was in the company of Ibn Umar. A person invited the people for the noon or afternoon prayer (after the adhan had been called). He said: Go out with us (from this mosque) because this is an innovation (in religion).
Notes · وضاحت
١ ؎: اذان کے بعد دوبارہ نماز کے لئے اعلان کرنے کا نام ” تثویب “ ہے، اور ” تثویب “ کا اطلاق اقامت پر بھی ہوتا ہے اور فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم کہنے پر بھی، لیکن یہاں پہلا معنی مراد ہے۔
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو جب تک تم مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ایوب اور حجاج الصواف نے یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ اور ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ مجھے یحییٰ نے یہ حدیث لکھ کر بھیجی، نیز اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے بھی یحییٰ سے روایت کیا ہے، ان دونوں کی روایت میں ہے: یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو، اور سکون اور وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دو ۔
Abu Qatadah reported on the authority of his father: the prophet ﷺ said; When the Iqamah for prayer is pronounced, do not stand until you see me. Abu Dawud said: this has been narrated by Ayyub and Hajjaj al-Sawwaf from Yahya and Hisham al-Duatawa’i in a similar way, saying: Yahya wrote to me (in this way). And this has been narrated by Muawiyah bin Sallam and Ali bin al-Mubarak from Yahya: “Until you see me and show tranquility”.
یحییٰ سے اسی سند سے گذشتہ حدیث کے ہم مثل حدیث مروی ہے، اس میں ہے یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں نکل چکا ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر کے علاوہ کسی نے قد خرجت کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ ابن عیینہ نے بھی اسے معمر سے روایت کیا ہے، اس میں بھی انہوں نے قد خرجت نہیں کہا ہے۔
This tradition has also been reported through a different chain of narrators in a similar way. This version says: “Until you see me that I have come out”. Abu dawud said: No one except Mamar has narrated the words “that I have come out”. And the version transmitted by Ibn ‘Uyainah from Mamar does not mention the words “that I have come out”.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے جب نماز کی تکبیر کہی جاتی تھی تو لوگ اپنی اپنی جگہیں لے لیتے قبل اس کے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی جگہ لیں۔
Abu Hurairah reported: when the Iqamah was pronounced for prayer during the time of the Messenger of Allah ﷺ , the people would take their seats before the prophet ﷺ came to his seat.
حمید کہتے ہیں میں نے ثابت بنانی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز کی تکبیر ہوجانے کے بعد بات کرتا ہو، تو انہوں نے مجھ سے انس ؓ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نماز کی تکبیر کہہ دی گئی تھی کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے سامنے آیا اور اس نے آپ کو تکبیر ہوجانے کے بعد (باتوں کے ذریعے) روکے رکھا۔
Humaid reported: I asked Thabit al-Bunani whether it was permissible for a man to talk after the qamah had been pronounced. He narrated a tradition on the authority of Anas (RA) : (once) the Iqamah was pronounced, and a person came to the Messenger of Allah ﷺ and detained him after the Iqamah had been pronounced.
کہمس کہتے ہیں کہ ہم منیٰ میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے، امام ابھی نماز کے لیے نہیں نکلا تھا کہ ہم میں سے کچھ لوگ بیٹھ گئے، تو کوفہ کے ایک شیخ نے مجھ سے کہا: تمہیں کون سی چیز بٹھا رہی ہے؟ میں نے ان سے کہا: ابن بریدہ کہتے ہیں: یہی سمود ١ ؎ ہے، یہ سن کر مذکورہ شیخ نے مجھ سے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے براء بن عازب ؓ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ کے تکبیر کہنے سے پہلے صفوں میں دیر تک کھڑے رہتے تھے ٢ ؎۔ براء ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ ان لوگوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں، جو پہلی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور صف میں شامل ہونے کے لیے جو قدم اٹھایا جائے اس سے بہتر اللہ کے نزدیک کوئی قدم نہیں ۔
Awn bin Kahmas reported on the authority of his father Kahmas (RA) : we stood for praying at Mina when the Imam had not come out. Some of us sat down (and I too). An old man from Kufah said to me: Why did you down? I said: Ibn Buraidah, this is Sumud (i. e., waiting for the Imam in the standing condition). The old man then narrated a tradition from Abdur-Rahman bin ‘Awaajah on the authority of al-Bara bin Azib: We would stand in rows during the time of the Messenger of Allah ﷺ for a long time before he pronounced Takbir. He further said; Allah, the Exalted and Mighty, sends blessings and the angles invoke blessings for those who are nearer to the front rows. No step is more liking to Allah than a step which one takes to join the row (of the prayer).
Notes · وضاحت
١ ؎: امام کے انتظار میں کھڑے رہنے کو سمود کہتے ہیں جو منع ہے، ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ صحابہ ؓ سمود کو مکروہ سمجھتے تھے۔ ٢ ؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لئے اس کو کسی صحیح حدیث کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧) (ضعیف) (اس کی سند میں شیخ من أہل الکوفة مبہم راوی ہے )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نماز (عشاء) کی تکبیر کہی گئی اور رسول اللہ ﷺ مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے۔
Anas reported: the Iqamah was pronounced (for the night prayer) and the Messenger of Allah ﷺ remained engaged in talking (to a person) in the corner of the mosque. He did not begin prayer until the people slept.
سالم ابوالنضر کہتے ہیں جب نماز کی تکبیر کہہ دی جاتی اور رسول اللہ ﷺ دیکھتے کہ (مسجد میں) لوگ کم آئے ہیں تو آپ بیٹھ جاتے، نماز شروع نہیں کرتے اور جب دیکھتے کہ جماعت پوری ہے تو نماز پڑھاتے تھے۔
Abu al-Nadr said: when the Iqamah was pronounced and the Messenger of Allah ﷺ saw that they (the people) were small in number, he would sit down, nd would not pray; but when he saw them (the people) large in number, he would pray.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٣٣٤، ١٨٦٦٨) (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے، سالم ابوالنضر بہت چھوٹے تابعی ہیں اور ارسال کرتے ہیں )
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے ۔ زائدہ کا بیان ہے: سائب نے کہا: جماعت سے مراد نماز باجماعت ہے۔
Narrated Abud Darda: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If there are three men in a village or in the desert among whom prayer is not offered (in congregation), the devil has got the mastery over them. So observe (prayer) in congregation), for the wolf eats only the straggling animal. Saib said: By the word Jamaah he meant saying prayer in company or in congregation.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے سوچا کہ نماز کھڑی کرنے کا حکم دوں، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں چند آدمیوں کو لے کر جن کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھر ہوں، ان لوگوں کے پاس جاؤں، جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں میں آگ لگا دوں ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; I thought to give orders for arranging prayer in congregation, and then to have the Iqamah called for it, then to order a man to lead the people in prayer, then to go off in company of the people who have bundles of firewood to those people who are not present at the prayer and then to burn down their houses with fire.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو لکڑیوں کے گٹھر جمع کرنے کا حکم دوں، پھر میں ان لوگوں کے پاس جو بغیر کسی عذر کے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، جاؤں اور ان کے گھروں کو ان کے سمیت آگ لگا دوں ۔ یزید بن یزید کہتے ہیں: میں نے یزید بن اصم سے پوچھا: ابوعوف! کیا اس سے آپ ﷺ کی مراد جمعہ ہے، یا اور وقتوں کی نماز؟ فرمایا: میرے کان بہرے ہوجائیں اگر میں نے ابوہریرہ ؓ کو اسے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے نہ سنا ہو، انہوں نے نہ جمعہ کا ذکر کیا، نہ کسی اور دن کا۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: I thought about giving orders to some youths for gathering a bundle of firewood, then going off to some people who their prayers in their homes without any excuse, and burning down their houses over them. I (Yazid bin Yazid) said: I asked Yazid bin al-Asamm (RA) : Abu Awf did he mean Friday (prayer) or any other? He replied: may my ears become deaf if I have not heard Abu Hurairah narrating it from the Messenger of Allah ﷺ ; He did not mention Friday (prayer) or any other.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٢ (٦٥١)، سنن الترمذی/الطہارة ٤٨ (٢٧١)، (تحفة الأشراف: ١٤٨١٩) (صحیح) حدیث میں واقع یہ اضافہ: ليست بهم علة صحیح نہیں ہے
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں تم لوگ ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرو جہاں ان کی اذان دی جائے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کے لیے ہدایت کے طریقے اور راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ نماز باجماعت سے وہی غیر حاضر رہتا تھا جو کھلا ہوا منافق ہوتا تھا، اور ہم یہ بھی دیکھتے تھے کہ آدمی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر چلایا جاتا، یہاں تک کہ اس آدمی کو صف میں لا کر کھڑا کردیا جاتا تھا، تم میں سے ایسا کوئی شخص نہیں ہے، جس کی مسجد اس کے گھر میں نہ ہو، لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہے اور مسجدوں میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا، تو تم نے اپنے نبی کریم ﷺ کا طریقہ ترک کردیا اور اگر تم نے اپنے نبی کریم ﷺ کا طریقہ ترک کردیا تو کافروں جیسا کام کیا۔
Abdullah bin Masud said: Persevere in observing these five times of prayer where the announcement for them is made, because they are from the paths of right guidance. And Allah, the Might, the Majestic, has laid down for his prophet ﷺ the paths of right guidance. I have seen the time when no one stayed away from prayer except a hypocrite whose hypocrite was well known. I witnessed the time when a man would be brought swaying between two men till he was set up in the row (of the prayer). Every one of us has a mosque of his in his house. If you were to pray in your houses and stay from your mosques. You would abandon the Sunnah (practice) of your prophet, and if you were Abandon the Sunnah (Practice) of your Prophet, you would become an unbeliever.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٤ (٦٥٤) بلفظ: ” ضللتم “، سنن النسائی/الإمامة ٥٠ (٨٥٠)، (تحفة الأشراف: ٩٥٠٢)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٤ (٧٨١)، مسند احمد (١/٣٨٢، ٤١٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اذان کی آواز سنے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے اسے کوئی عذر مانع نہ ہو (لوگوں نے عرض کیا: عذر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: خوف یا بیماری) تو اس کی نماز جو اس نے پڑھی قبول نہ ہوگی ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : If anyone hears him who makes the call to prayer and is not prevented from joining the congregation by any excuse--he was asked what an excuse consisted of and replied that it was fear or illness--the prayer he offers will not be accepted from him.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٧ (٧٩٣)، (تحفة الأشراف: ٥٥٦٠) (صحیح) (لیکن ما العذر والا جملہ صحیح نہیں ہے، نیز صحیح لفظ لا صلاة له ہے) (ابن ماجہ وغیرہ کی سند سے یہ حدیث صحیح ہے ورنہ مؤلف کی سند میں ابوجناب کلبی اور مغراء ضعیف راوی ہیں )
عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نابینا آدمی ہوں، میرا گھر بھی (مسجد سے) دور ہے اور میری رہنمائی کرنے والا ایسا شخص ہے جو میرے لیے موزوں و مناسب نہیں، کیا میرے لیے اپنے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ ، انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: (پھر تو) میں تمہارے لیے رخصت نہیں پاتا ۔
Narrated Amr ibn Zadah, Ibn Umm Maktum (RA) : Ibn Umm Maktum asked the Prophet ﷺ saying: Messenger of Allah, I am a blind man, my house is far away (from the mosque), and I have a guide who does not follow me. Is it possible that permission be granted to me for saying prayer in my house? He asked: Do you hear summons (adhan)? He said: Yes. He said: I do not find any permission for you.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٧ (٧٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٨٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة ٥٠ (٨٥١)، مسند احمد (٣/٤٢٣) (حسن صحیح )