تثویب کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ،قَالَ: اخْرُجْ بِنَا فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ.
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب ١ ؎ کی، تو ابن عمر ؓ نے کہا: ہمیں یہاں سے لے چلو، اس لیے کہ یہ بدعت ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Mujahid reported: I was in the company of Ibn Umar. A person invited the people for the noon or afternoon prayer (after the adhan had been called). He said: Go out with us (from this mosque) because this is an innovation (in religion).
Notes · وضاحت
١ ؎: اذان کے بعد دوبارہ نماز کے لئے اعلان کرنے کا نام ” تثویب “ ہے، اور ” تثویب “ کا اطلاق اقامت پر بھی ہوتا ہے اور فجر کی اذان میں الصلاة خير من النوم کہنے پر بھی، لیکن یہاں پہلا معنی مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٣٩٥) (حسن )