ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ انہوں نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کا ذکر اچھے انداز میں کیا اور کہا کہ جب سورة النور نازل ہوئی تو وہ پردوں یا تہ بندوں کی طرف بڑھیں اور انہیں پھاڑ کر اوڑھنی اور دوپٹہ بنا لیا۔
Safiyyah, daughter of Shaybah, said that Aisha (RA) mentioned the women of Ansar, praised them and said good words about them. She then said: When Surat an-Nur came down, they took the curtains, tore them and made head covers (veils) of them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر القرآن (النور) ١٢ (٤٧٥٨، ٤٧٥٩)، مسند احمد (٦/١٨٨) (صحیح الإسناد )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ جب آیت کریمہ يدنين عليهن من جلابيبهن وہ اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کریں (سورۃ الاحزاب: ٥٩) نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں نکلتیں تو سیاہ چادروں کی وجہ سے ایسا لگتا گویا ان کے سروں پر کوئے بیٹھے ہوئے ہیں۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : When the verse That they should cast their outer garments over their persons was revealed, the women of Ansar came out as if they had crows over their heads by wearing outer garments.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابتدائے اسلام میں ہجرت کرنے والی عورتوں پر رحم فرمائے جب اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ وليضربن بخمرهن على جيوبهن اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں (سورۃ النور: ٣١) نازل فرمائی تو انہوں نے اپنے پردوں کو پھاڑ کر اپنی اوڑھنیاں اور دوپٹے بنا ڈالے۔ ابن صالح نے أكنف کے بجائے أكثف کہا ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : May Allah have mercy on the early immigrant women. When the verse That they should draw their veils over their bosoms was revealed, they tore their thick outer garments and made veils from them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر رقم حدیث: (٤١٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٦٧، ١٦٥٧٧) (صحیح )
ابن سرح کہتے ہیں میں نے اپنے ماموں کی کتاب میں عقيل عن ابن شهاب کے طریق سے اسی مفہوم کی روایت دیکھی ہے۔
Ibn al-Sarh said: I saw (this tradition) in the writing of my maternal uncle from Aqil, from Ibn Shihab through a different chain of narrators and to the same effect.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم:( ٤١٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٦٧، ١٦٥٧٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، وہ باریک کپڑا پہنے ہوئے تھیں آپ ﷺ نے ان سے منہ پھیرلیا اور فرمایا: اسماء! جب عورت بالغ ہوجائے تو درست نہیں کہ اس کی کوئی چیز نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے آپ ﷺ نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی جانب اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے خالد بن دریک نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو نہیں پایا۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Asma, daughter of Abu Bakr, entered upon the Messenger of Allah ﷺ wearing thin clothes. The Messenger of Allah ﷺ turned his attention from her. He said: O Asma, when a woman reaches the age of menstruation, it does not suit her that she displays her parts of body except this and this, and he pointed to her face and hands. Abu Dawud said: This is a mursal tradition (i. e. the narrator who transmitted it from Aisha (RA) is missing) Khalid bin Duraik did not see Aisha (RA) .
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سینگی لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں سینگی لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ جابر ؓ نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔
Narrated Jabir: Umm Salamah asked the Messenger of Allah ﷺ permission for getting herself cupped. He commanded Abu Tibah to cup her. The transmitter said: I think he was her foster-brother or a boy not yet of age.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢٠٦)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢٠ (٣٤٨٠)، (تحفة الأشراف: ٢٩٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فاطمہ ؓ کے پاس ایک غلام لے کر آئے جس کو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا، اس وقت فاطمہ ؓ ایک ایسا کپڑا پہنے تھیں کہ جب اس سے سر ڈھانکتیں تو پاؤں کھل جاتا اور جب پاؤں ڈھانکتیں تو سر کھل جاتا، فاطمہ ؓ جن صورت حال سے دو چار تھیں اسے نبی اکرم ﷺ نے دیکھا تو فرمایا: تم پر کوئی مضائقہ نہیں، یہاں صرف تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ brought Fatimah a slave which he donated to her. Fatimah wore a garment which, when she covered her head, did not reach her feet, and when she covered her feet by it, that garment did not reach her head. When the Prophet ﷺ saw her struggle, he said: There is no harm to you: Here is only your father and slave.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث (ہجڑا) آتا جاتا تھا اسے لوگ اس صنف میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی تو ایک دن نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے وہ مخنث آپ کی ایک بیوی کے پاس تھا، اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں پڑجاتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خبردار! میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتوں کی باتیں جانتا ہے، اب یہ تمہارے پاس ہرگز نہ آیا کرے، تو وہ سب اس سے پردہ کرنے لگیں ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A mukhannath (eunuch) used to enter upon the wives of Prophet ﷺ . They (the people) counted him among those who were free of physical needs. One day the Prophet ﷺ entered upon us when he was with one of his wives, and was describing the qualities of a woman, saying: When she comes forward, she comes forward with four (folds in her stomach), and when she goes backward, she goes backward with eight (folds in her stomach). The Prophet ﷺ said: Do I not see that this (man) knows what here lies. Then they (the wives) observed veil from him.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ١٣ (٢١٨١)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٣٤، ١٧٢٤٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٩٢٣٧)، مسند احمد (٦/١٥٢) (صحیح )
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی مفہوم کی (حدیث) مروی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators to the same effect. The tradition mentioned about has also been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators. This version has: He (the Prophet) exiled him and he lived in a desert (outside Madina). He would come every Friday asking for food.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٦٦٣٤) (صحیح )
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ ﷺ نے اسے نکال دیا، اور وہ بیداء میں رہنے لگا، ہر جمعہ کو وہ کھانا مانگنے آیا کرتا تھا ۔
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: ٤١٠٧، (تحفة الأشراف: ١٦٧٤١) (صحیح )
اوزاعی سے اس واقعہ کے سلسلہ میں مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تب تو وہ بھوک سے مرجائے گا تو آپ نے اسے ہفتہ میں دو بار آنے کی اجازت دے دی، وہ آتا اور کھانا مانگ کرلے جاتا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Auzai through a different chain of narrators. This version adds: He was told: Messenger of Allah, in that case he will of starvation. So he allowed him to visit (the cit) twice a week so that he might ask for food and go back.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم:( ٤١٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٥١٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (سورۃ النور: ٣١) کے حکم سے والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نکاحا بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو (سورۃ النور: ٦٠) کو منسوخ و مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The verse: And say to the believing women that they should lower gaze was partly abrogated by the verse: Such elderly women as are past the prospect of marriage.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٦٦) (حسن الإسناد )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ ؓ بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم ؓ کے پاس فاطمہ بنت قیس ؓ کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فاطمہ بنت قیس ؓ سے فرمایا تھا: تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو ۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : I was with the Messenger of Allah ﷺ while Maymunah was with him. Then Ibn Umm Maktum came. This happened when we were ordered to observe veil (purdah). The Prophet ﷺ said: Observe veil from him. We asked: Messenger of Allah! is he not blind? He can neither see us nor recognise us. The Prophet ﷺ said: Are both of you blind? Do you not see him? Abu Dawud said: This was peculiar to the wives of the Prophet ﷺ . Do you not see that Fatimah daughter of Qays passed her waiting period with Ibn Umm Maktum. The Prophet ﷺ said to Fatimah daughter of Qays: Pass your waiting period with Ibn Umm Maktum, for he is a blind man. You can put off your clothes with him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٢٩ (٢٧٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٦) (ضعیف) (سند میں نبہان مولی ام سلمہ مجہول ہیں )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی اپنی لونڈی سے شادی کر دے تو پھر اس کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے ۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: When one of you marries his male-slave to his slave-woman, he should not look at her private parts.
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح سوار بن داود مزنی صیرفی ہے وکیع کو ان کے نام میں وہم ہوا ہے۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: When one of you marries his female servant to his slave or to his employee, he should not look at her private part below the navel and above the knees. Abu Dawud said: The correct name is Sawwad bin Dawud al-Muzani al-Sairafi (and not Dawud bin Sawwad as mentioned in the chain). The narrator Waki misunderstood it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٧١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٧) (حسن )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: بس ایک ہی پیچ رکھو دو پیچ نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لية لا ليتين کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح پگڑی نہ باندھو کہ اس کے ایک یا دو پیچ کو دہرا کرو۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ came to visit her when she was veiled, and said: use one fold and not two. Abu Dawud said: Use one fold and not two means: Do not fold it like the turban of a man. Do not double it up manifolds.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٣، ٢٩٤، ٢٩٦، ٢٩٧، ٣٠٧) (ضعیف )
دحیہ بن خلیفہ کلبی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ سفید اور باریک مصری کپڑے لائے گئے تو ان میں سے آپ نے مجھے بھی ایک باریک کپڑا دیا، اور فرمایا: اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کرلو ان میں ایک کا کرتہ بنا لو اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنا لے پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہو اس کے نیچے ایک اور کپڑا کرلے تاکہ اس کا بدن ظاہر نہ ہو ۔
Narrated Dihyah ibn Khalifah al-Kalbi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was brought some pieces of fine Egyptian linen and he gave me one and said: Divide it into two; cut one of the pieces into a shirt and give the other to your wife for veil. Then when he turned away, he said: And order your wife to wear a garment below it and not show her figure. Abu Dawud said: Yahya bin Ayyub transmitted it and said: Abbas bin Ubaid Allah bin Abbas
صفیہ بنت ابی عبید خبر دیتی ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عورت (کتنا دامن لٹکائے) آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ایک بالشت لٹکائے ام سلمہ نے کہا: تب تو ستر کھل جا یا کرے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے ۔
Safiyyah, daughter of Abu Ubayd, said: When the Messenger of Allah ﷺ mentioned lower garment, Umm Salamah, wife of the Messenger of Allah ﷺ , asked him: And a woman, Messenger of Allah? He replied: She may hang down a span. Umm Salamah said: Still it (foot) will be uncovered. He said: Then a forearms length, nor exceeding it.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٥١ (٥٣٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٨٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ٩ (١٧٣١)، سنن ابن ماجہ/اللباس ١٣ (٣٥٨٠)، موطا امام مالک/اللباس ٦ (١٣)، مسند احمد (٦/٢٩٣، ٢٩٦، ٣٠٩، ٣١٥)، سنن الدارمی/الاستئذان ١٦ (٢٦٨٦) (صحیح )
اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Umm Salamah from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. Abu Dawud said: Ibn Ishaq and Ayyub bin Musa transmitted it from Nafi from Safiyyah.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الزینة من المجتبی ٥١ (٥٣٤١)، سنن ابن ماجہ/ اللباس ١٣ (٣٥٨٠)، سنن النسائی/ اللباس ١٣ (٣٥٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٨١٥٩، ١٨٢٨٢)، وانظر ما قبلہ (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے امہات المؤمنین (ؓن) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چناچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ gave licence to others of the believers (i. e. the wives of the Prophet) to hang down their lower garment a span. Then they asked him to increase it, and he increased one span for them. They would send (the garment) to us and we would measure it one forearms length for them.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ اللباس ١٣ (٣٥٨١)، (تحفة الأشراف: ٦٦٦١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس ٩ (١٧٣١)، مسند احمد (٢/١٨، ٩٠) (صحیح )
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی جسے میں نے آزاد کردیا تھا کو صدقہ کی ایک بکری ہدیہ میں ملی تو وہ مرگئی، نبی اکرم ﷺ اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا: تم اس کی کھال کو دباغت دے کر اسے اپنے کام میں کیوں نہیں لاتے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو مردار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے (نہ کہ اس کی کھال سے نفع اٹھانا) ۔
Ibn Abbas said - (Musaddad and Wahb transmitted from Maimunah) Maimunah said: A sheep was given in alms to a female client of ours, but it died. The Prophet ﷺ passed it and said: Why did you not tan its skin and get some good out of it ? They replied: Messenger of Allah, it died a natural death. He said: It is only the eating of it that is prohibited.