عمر بن خطاب ؓ کے مؤذن اقرع کہتے ہیں مجھے عمر نے ایک پادری کے پاس بلانے کے لیے بھیجا، میں اسے بلا لایا، تو عمر نے اس سے کہا: کیا تم کتاب میں مجھے (میرا حال) پاتے ہو؟ وہ بولا: ہاں، انہوں نے کہا: کیسا پاتے ہو؟ وہ بولا: میں آپ کو قرن پاتا ہوں، تو انہوں نے اس پر درہ اٹھایا اور کہا: قرن کیا ہے؟ وہ بولا: لوہے کی طرح مضبوط اور سخت امانت دار، انہوں نے کہا: جو میرے بعد آئے گا تم اسے کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: میں اسے نیک خلیفہ پاتا ہوں، سوائے اس کے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دے گا، عمر نے کہا: اللہ عثمان پر رحم کرے، (تین مرتبہ) پھر کہا: ان کے بعد والے کو تم کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: وہ تو لوہے کا میل ہے (یعنی برابر تلوار سے کام رہنے کی وجہ سے ان کا بدن اور ہاتھ گویا دونوں ہی زنگ آلود ہوجائیں گے) عمر نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، اور فرمایا: اے گندے! بدبودار (تو یہ کیا کہتا ہے) اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ ایک نیک خلیفہ ہوگا لیکن جب وہ خلیفہ بنایا جائے گا تو حال یہ ہوگا کہ تلوار بےنیام ہوگی، خون بہہ رہا ہوگا، (یعنی اس کی خلافت فتنہ کے وقت ہوگی) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: الدفر کے معنی نتن یعنی بدبو کے ہیں۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Al-Aqra, the muadhdhin (announcer) of Umar ibn al-Khattab said: Umar sent me to a bishop and I called him. Umar said to him: Do you find me in the Book? He said: Yes. He asked: How do you find me? He said: I find you (like a) castle. Then he raised a whip to him, saying: What do you mean by castle? He replied: An iron castle and severely trustworthy. He asked: How do you find the one who will come after me? He said: I find him a pious caliph, except that he will prefer his relatives. Umar said: May Allah have mercy on Uthman: He said it three times. He then asked: How do you find the one who will come after him? He replied: I find him like rusty iron. Umar then put his hand on his head, and said: O filthy! O filthy! He said: Commander of the Faithful! He is a pious caliph, but when he is made caliph, the sword will be unsheathed and blood will be shed. Abu Dawud said: Al-dafr means filth or evil smell.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٤٠٨) (ضعیف الإسناد) (عیسائی پادری کے قول کا کیا اعتبار؟ )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن میں مجھے مبعوث کیا گیا، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں، پھر کچھ لوگ رونما ہوں گے جو بلا گواہی طلب کئے گواہی دیتے پھریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے، خیانت کرنے لگیں گے جس سے ان پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا، اور ان میں موٹاپا عام ہوگا ١ ؎۔
Imran bin Husain reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: the best of my people is the generation in which I have been sent, then their immediate followers, then their immediate followers. Allah knows best whether he mentioned the third or not. After them will be people who will give testimony without being asked, who will make vows which they do not fulfill, who will be treacherous and not to be trusted, among whom fatness will appear.
Notes · وضاحت
وضاحت ١ ؎: کیونکہ جواب دہی کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، عیش و آرام کے عادی ہوجائیں گے اور دین و ایمان کی فکر جاتی رہے گی جو ان کے مٹاپے کا سبب ہوگی۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہوگا ١ ؎۔
Abu Saeed (al-Khudri) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not revile my Companions; by him in whose hand my soul is, if one of you contributed the amount of gold equivalent to Uhud, it would not amount to as much as the mudd of one of them, or half of it.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا شان ورود یہ ہے کہ ایک بار عبدالرحمن بن عوف ؓ اور خالد بن ولید ؓ کے درمیان کچھ کہا سنی ہوگئی جس پر خالد نے عبدالرحمن کو کچھ نامناسب الفاظ کہہ دیئے، جس پر رسول اکرم ﷺ نے یہ فرمایا، اس سے پتہ چلا کہ مخصوص اصحاب کے مقابلہ میں دیگر صحابہ کرام کا یہ حال ہے تو غیر صحابی کا کیا ذکر، غیر صحابی کا احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنا صحابی کے ایک مُد غلہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا، اس سے صحابہ کرام ؓ کے مقام عالی کا پتہ چلتا ہے، اور یہیں سے ان بدبختوں کی بدبختی اور بدنصیبی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جن کے مذہب کی بنیاد صحابہ کرام کو سب وشتم کا نشانہ بنانا اور تبرا بازی کو دین سمجھنا ہے۔
عمرو بن ابی قرہ کہتے ہیں کہ حذیفہ ؓ مدائن میں تھے اور وہ ان باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے، جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے بعض لوگوں سے غصہ کی حالت میں فرمائی تھیں، پھر ان میں سے کچھ لوگ جو حذیفہ سے باتیں سنتے چل کر سلمان ؓ کے پاس آتے اور ان سے حذیفہ ؓ کی باتوں کا تذکرہ کرتے تو سلمان ؓ کہتے: حذیفہ ہی اپنی کہی باتوں کو بہتر جانتے ہیں، تو وہ لوگ حذیفہ کے پاس لوٹ کر آتے اور ان سے کہتے: ہم نے آپ کی باتوں کا تذکرہ سلمان سے کیا تو انہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی اور نہ تکذیب، یہ سن کر حذیفہ سلمان کے پاس آئے، وہ اپنی ترکاری کے کھیت میں تھے کہنے لگے: اے سلمان! ان باتوں میں میری تصدیق کرنے سے آپ کو کون سی چیز روک رہی ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہیں؟ تو سلمان نے کہا: رسول اللہ ﷺ بلاشبہ کبھی غصے میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے اور کبھی خوش ہوتے تو خوشی میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے، تو کیا آپ اس وقت تک باز نہ آئیں گے جب تک کہ بعض لوگوں کے دلوں میں بعض لوگوں کی محبت اور بعض دوسروں کے دلوں میں بعض کی دشمنی نہ ڈال دیں اور ان کو اختلاف میں مبتلا نہ کردیں، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: میں نے اپنی امت کے کسی فرد کو غصے کی حالت میں اگر برا بھلا کہا یا اسے لعن طعن کی تو میں بھی تو آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، لیکن اللہ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے تو (اے اللہ) میرے برا بھلا کہنے اور لعن طعن کو ان لوگوں کے لیے قیامت کے روز رحمت بنا دے اللہ کی قسم یا تو آپ اپنی اس حرکت سے باز آجائیں ورنہ میں عمر بن الخطاب (امیر المؤمنین) کو لکھ بھیجوں گا۔
Amr bin Abl Qurrah said: Hudhaifah was in al-Mada’in. He used to mention things which the Messenger of Allah ﷺ said to some people from among his Companions in anger. The people who heard from Hudhaifah would go to Salman and tell him what Hudhaifah said. Salman would say: Hudhaifah knows best what he says. Then they would come to Hudhaifah and tell him: We mentioned Salman what you said, but he neither testified you nor falsified you. So Hudhaifah came to salman who was in his vegetable farm, and said: Salman, what prevents you from testifying me of what I heard from the Messenger of Allah ﷺ ? Salman said: The Messenger of Allah ﷺ sometimes would be angry, and said in anger something to some of his Companions; he would be sometimes pleased and said in pleasure something to some of his Companions. Would you not stop until you create love of some people in the hearts of some people, and hatred of some people in the hearts of some people, and until you generate disagreement and dissension? You know that the Messenger of Allah ﷺ addressed, saying: If I abused any person of my people, or cursed him in my anger. I am one of the children of Adam: I become angry as they become angry. He (Allah) has sent me as a mercy for all worlds. (O Allah!) make them (Abuse or curse) blessing for them on the day of judgment! I swear by Allah. You should stop (mentioning these traditions), otherwise I shall writ to Umar.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٥٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٧، ٤٣٩) (صحیح )
حارث بن ہشام عبداللہ بن زمعہ ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری سخت ہوئی اور میں آپ ہی کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا تو بلال ؓ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا، آپ ﷺ نے فرمایا: کسی سے کہو جو لوگوں کو نماز پڑھائے عبداللہ بن زمعہ نکلے تو دیکھا کہ لوگوں میں عمر ؓ موجود ہیں، ابوبکر ؓ موقع پر موجود نہ تھے، میں نے کہا: اے عمر! اٹھیے نماز پڑھائیے، تو وہ بڑھے اور انہوں نے اللہ اکبر کہا، وہ بلند آواز شخص تھے، رسول اللہ ﷺ نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا: ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی، اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی تو ابوبکر ؓ کو بلا بھیجا، وہ عمر کے نماز پڑھا چکنے کے بعد آئے تو انہوں نے لوگوں کو (پھر سے) نماز پڑھائی ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Zamah (RA) : When the illness of the Messenger of Allah ﷺ became serious while I was with him among a group of people, Bilal called him for prayer. He said: Ask someone to lead the people in prayer. So Abdullah ibn Zamah went out and found that Umar was present among the people and Abu Bakr was not there. I said: Umar, get up and lead the people in prayer. So he came forward and uttered Allah is Most Great. When the Messenger of Allah ﷺ heard his voice, as Umar had a loud voice, he said: Where is Abu Bakr? Allah does not allow that, and the Muslims too; Allah does not allow that, and the Muslims too. So he sent for Abu Bakr. He came after Umar had led the people in that prayer. He then led the people in prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے خلافت صدیقی کا صاف اشارہ ملتا ہے کیونکہ امامت صغریٰ امامت کبریٰ کا پیش خیمہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٢٢) (حسن صحیح )
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زمعہ ؓ نے انہیں یہی بات بتائی اور کہا: جب نبی اکرم ﷺ نے عمر ؓ کی آواز سنی تو آپ نکلے یہاں تک کہ حجرے سے اپنا سر نکالا، پھر فرمایا: نہیں، نہیں، نہیں، ابن ابی قحافہ (یعنی ابوبکر) کو چاہیئے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں آپ ﷺ یہ غصے میں فرما رہے تھے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abdullah bin Zam’ah through a different chain. He said: When the Prophet ﷺ heard Umar’s voice, Ibn Zam’ah said: The Prophet ﷺ came out until he took out his head of his apartment. He then said: No, no, no; the son of Abu Quhafah should lead the people in prayer. He said it angrily.
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علی ؓ کو فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا ۔ حماد کی روایت میں ہے: شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ١ ؎۔
Narrated Abu Bakrah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to al-Hasan ibn Ali. This son of mine is a Sayyid (chief), and I hope Allah may reconcile two parties of my community by means of him. Hammads version has: And perhaps Allah may reconcile two large parties of Muslims by means of him.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ کی اس طرح سچ ثابت ہوئی کہ حسن ؓ نے معاویہ ؓ سے صلح کرلی اور ایک عظیم فتنہ کو ختم کردیا یہ سال اتحاد ملت کا سال تھا۔
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ حذیفہ ؓ نے کہا: لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا ۔
Narrated Hudhayfah (RA) : There is no one who will be overtaken by trial regarding whom I do not fear except Muhammad ibn Maslamah, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Trial will not harm you.
ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ ؓ کے پاس گئے تو آپ نے کہا: میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے، ہم اندر گئے تو اس میں محمد بن مسلمہ ؓ ملے، ہم نے ان سے پوچھا (کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں؟ ) تو فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے، اس لیے جب تک فتنہ فرو نہ ہوجائے اور معاملہ واضح اور صاف نہ ہوجائے شہر کو نہیں جاؤں گا۔
Thalabah bin Dubaiah said: We entered upon Hudhaifah. He said: I know a man whom the trails will not harm. We came out and found that a tent was pitched. We entered and found in it Muhammad bin Maslamah. We asked him about it. He said: I do not intent that any place of your towns should occupy me until that which is prevailing is removed.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٣٨١) (صحیح) (اس کے راوی ثعلبہ یا ضبیعہ مجہول ہیں لیکن سابقہ حدیث کی تقویت سے صحیح ہے )
ضبیعہ بن حصین ثعلبی سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Dubaiah bin Husain al-Tha’labi through a different chain of narrators to the same effect.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٣٨١) (صحیح) ( ثعلبہ بن ضبیعہ اور ضبیعہ بن حصین ایک ہی ہیں جو مجہول ہیں اور سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ سے کہا: ہمیں آپ (معاویہ ؓ سے جنگ کے لیے) اپنی اس روانگی کے متعلق بتائیے کہ آیا رسول اللہ ﷺ کا کوئی حکم ہے جو انہوں نے آپ کو دیا ہے یا آپ کا اپنا خیال ہے جسے آپ درست سمجھتے ہیں، وہ بولے: مجھے رسول اللہ ﷺ نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ میری رائے ہے۔
Qais bin Abbad said: I said to ‘All (Allah be pleased with him): Tell me about this march of yours. Is this an order that the Messenger of Allah ﷺ had given you, or is this your opinion that you have? He said: The Messenger of Allah ﷺ did not give me any order; but this is an opinion that I have.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٢٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٤٢، ١٤٨) (صحیح الإسناد )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں میں اختلاف کے وقت ایک فرقہ نکلے گا جسے دونوں گروہوں میں سے جو حق سے قریب تر ہوگا قتل کرے گا ۔
Abu Saeed reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: In the event of the dissension among Muslims an emerging sect will emerge ; one of the two parties that is nearer to the truth will kill it.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٤٧ (١٠٦٤)، (تحفة الأشراف: ٤٤٣٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢، ٩٧) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو ١ ؎۔
Abu Saeed Al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not distinguish between the Prophets.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے یہ معنی نہیں کہ انبیاء فضیلت میں برابر ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے ایسا مت کرو، یا مطلب یہ ہے کہ ایک کو دوسرے پر ایسی فضیلت نہ دو کہ دوسرے کی تنقیص لازم آئے، یا یہ ہے کہ نفس نبوت میں سب برابر ہیں، خصائص اور فضائل میں ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں، جیسا کہ اللہ نے فرمایا: تلک الرسل فضلنا بعضهم على بعض۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی بندے کے لیے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ١ ؎۔
Ibn Abbas reported the Prophet ﷺ as saying: It is not fitting for a servent to say that I (The Prophet) is better than Jonah son of Matta.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے کو یونس (علیہ السلام) سے افضل کہے، کیونکہ غیر نبی کبھی کسی بھی نبی سے افضل نہیں ہوسکتا، یا یہ کہ یونس (علیہ السلام) پر نبی اکرم ﷺ کو فضیلت دے اس صورت میں آپ کا یہ فرمانا بطور تواضع ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٢٤ (٣٣٩٥)، و تفسیر القرآن ٤ (٤٦٣٠)، صحیح مسلم/الفضائل ٤٣ (٢٣٧٧)، (تحفة الأشراف: ٥٤٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٢، ٢٥٤، ٣٤٢، ٣٤٨) (صحیح )
عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۔
Abdullah bin Jafar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: It is not fitting for a prophet to say: I am better than Jonah son of matta.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٢٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٥) (صحیح لغیرہ) (اس میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں، لیکن سابقہ شاہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چن لیا، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کردیا، یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: مجھے موسیٰ (علیہ السلام) پر فضیلت نہ دو، (پہلا صور پھونکنے سے) سب لوگ بیہوش ہوجائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہوگئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
Abu Hurairah said: A man from among the Jews said: By him who chose Moses above the universe. So a Muslim raised his hand and slapped the Jew on his face. The Jew went to the Messenger of Allah ﷺ and informed him. The Prophet ﷺ said: Do not make me superior to Moses, for mankind (on the Day of Resurrection) will swoon and I will be the know whether he was among those who swooned and had recovered before me, or he was among those of whom Allah had made an exception. Abu Dawud said: The tradition of Ibn yahya is more perfect.
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ اس یہودی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام عالم سے افضل قرار دیا تھا اس لئے مسلمان نے اسے طمانچہ رسید کردیا، رسول اکرم ﷺ نے جس چیز سے منع کیا وہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ایک دوسرے پر حمیت و عصبیت کی بنا پر فضیلت دینا ہے، ورنہ اس میں شک نہیں کہ نبی اکرم ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) سے افضل ہیں، آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بےہوش نہ ہونے وغیرہ کی بات صرف اس لئے فرمائی کہ ہر نبی کو اللہ نے کچھ خصوصیات عنایت فرمائی ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر دوسرے انبیاء کی کسر شان درست نہیں، ہمارے لئے سارے انبیاء (علیہ السلام) قابل احترام ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہوگی ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: I shall be pre-eminent among the descendants of Adam, the first from whom the earth will be cleft open the first intercessor, and the first whose intercession will be accepted.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الفضائل ٢ (٢٢٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٩٥، ٢٨١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: میں ابن مریم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء (علیہم السلام) علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ١ ؎۔
Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: I am the nearest of kin among the people to (Jesus) son of Mary. The Prophet are brothers, sons of one father by co-wives. There is no Prophet between me and him.
Notes · وضاحت
١ ؎: انبیاء (علیہم السلام) علاتی بھائی ہیں، علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کی مائیں مختلف ہوں اور باپ ایک ہو، انبیاء کی شریعتیں مختلف اور دین ایک تھا، یا یہ مراد ہے کہ زمانے مختلف ہیں اور دین ایک ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٤٠ (٢٣٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٢٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٤٨ (٣٤٤٢)، مسند احمد (٢/٤٨٢، ٥٤١) (صحیح )