Sunan Abu Dawood 4671

سنت کا بیان

4671Sunan Abu Dawood

انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے کا بیان

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى، فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ فِي جَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ ابْنِ يَحْيَى أَتَمُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چن لیا، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کردیا، یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: مجھے موسیٰ (علیہ السلام) پر فضیلت نہ دو، (پہلا صور پھونکنے سے) سب لوگ بیہوش ہوجائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہوگئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔

Abu Hurairah said: A man from among the Jews said: By him who chose Moses above the universe. So a Muslim raised his hand and slapped the Jew on his face. The Jew went to the Messenger of Allah ﷺ and informed him. The Prophet ﷺ said: Do not make me superior to Moses, for mankind (on the Day of Resurrection) will swoon and I will be the know whether he was among those who swooned and had recovered before me, or he was among those of whom Allah had made an exception. Abu Dawud said: The tradition of Ibn yahya is more perfect.

Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ اس یہودی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام عالم سے افضل قرار دیا تھا اس لئے مسلمان نے اسے طمانچہ رسید کردیا، رسول اکرم ﷺ نے جس چیز سے منع کیا وہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ایک دوسرے پر حمیت و عصبیت کی بنا پر فضیلت دینا ہے، ورنہ اس میں شک نہیں کہ نبی اکرم ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) سے افضل ہیں، آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بےہوش نہ ہونے وغیرہ کی بات صرف اس لئے فرمائی کہ ہر نبی کو اللہ نے کچھ خصوصیات عنایت فرمائی ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر دوسرے انبیاء کی کسر شان درست نہیں، ہمارے لئے سارے انبیاء (علیہ السلام) قابل احترام ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخصومات ١ (٢٤١٢)، الأنبیاء ٣٢ (٢٣٩٨)، التفسیر ٤ (٤٦٣٨)، والرقاق ٤٣ (٦٥١٧)، التوحید ٣١ (٧٤٧٢)، صحیح مسلم/الفضائل ٤٢ (٢٣٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٥٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤٠ (٣٢٤٥)، مسند احمد (٢/٢٦٤) (صحیح )