خرید وفروخت کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 20 · 244 hadiths · Page 12 of 13

3547Sunan Abu Dawood

عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر ہدیہ دے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز نہیں ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: It is not permissible for a woman to present a gift (from her husbands property) except with the permission of her husband.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الدیات ٣ (١٣٩٠)، سنن النسائی/ الزکاة ٥٨ (٢٥٤١)، العمری ١ (٣٧٨٧، ٣٧٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٠، ٨٦٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٩، ١٨٠، ٢٠٧، ٢١٢)، دی/ الدیات ١٦ (٢٤١٧)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٥٦٦) (حسن صحیح )
3548Sunan Abu Dawood

عمرٰی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمر بھر کے لے عطیہ دینا جائز ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: Life tenancy is permissible.

Notes · وضاحت
١ ؎: عمرى ہبہ ہی کی ایک قسم ہے اس میں ہبہ کرنے والا ہبہ کی جانے والی چیز کو جسے ہبہ کر رہا ہے اس کی زندگی بھر کے لئے ہبہ کردیتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٣٢ (٢٦٢٦)، صحیح مسلم/الھبات ٤ (١٦٢٦)، سنن النسائی/العمری ٤ (٣٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٧، ٤٢٩، ٤٦٨، ٤٨٩، ٣/٣١٩) (صحیح )
3549Sunan Abu Dawood

عمرٰی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

سمرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

A similar tradition has also been transmitted by Samurah from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ١٥ (١٣٤٩)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨، ١٣، ٢٢) (صحیح )
3550Sunan Abu Dawood

عمرٰی کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ فرماتے تھے: زندگی بھر کے لیے دی ہوئی چیز کا وہی مالک ہے جس کو چیز دے دی گئی ہے ۔

Narrated Jabir: The Prophet ﷺ has saying: What is given in life-tenancy belongs to the one to whom it was given.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٣٢ (٢٦٢٥)، صحیح مسلم/الھبات ٤ (١٦٢٥)، سنن الترمذی/الأحکام ١٥ (١٣٥٠)، سنن النسائی/العمری ٢ (٣٧٧٢)، سنن ابن ماجہ/الھبات ٣ (٢٣٨٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٠٤، ٣٦٠، ٣٩٣، ٣٩٩) (صحیح )
3551Sunan Abu Dawood

عمرٰی کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ، وَلِعَقِبِهِ يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے عمر بھر کے لیے کوئی چیز دی گئی تو وہ اس کی ہوگی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے اولاد کی ہوگی ١ ؎، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس چیز کے بھی وارث ہوں گے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone is given life-tenancy, it belongs to him and to his descendants. His descendants who inherit him will inherit from it.

Notes · وضاحت
١ ؎: امام مالک کے نزدیک موہوب لہ کے مرنے کے بعد موہوب واہب کے پاس واپس آجائے گی اس لئے کہ اس نے منفعت کا اختیار دیا تھا نہ کہ اس چیز کا مالک بنادیا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ العمری (٣٧٧١)، (تحفة الأشراف: ٢٣٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٠٤، ٣٦٠، ٣٩٣، ٣٩٩) (صحیح )
3552Sunan Abu Dawood

عمرٰی کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُرْوَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ.

اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد نے زہری سے زہری نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے جابر ؓ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

The tradition mentioned above has also been narrated by Jabir from the Prophet ﷺ to the same effect through a different chain of narrators. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by al-Laith bin Saad from al-Zuhri, from Abu Salamah from Jabir.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٥٥٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٤٨) (صحیح )
3553Sunan Abu Dawood

جس شخص نے عمری کرتے وقت ورثاء کا بھی تذکرہ کیا اس کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ، عَنِابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا، لِأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز دے دی گئی اور اس کے بعد اس کے آنے والوں کے لیے بھی کہہ دی گئی ہو تو وہ عمریٰ اس کے اور اس کی اولاد کے لیے ہے، جس نے دیا ہے اسے واپس نہ ہوگی، اس لیے کہ دینے والے نے اس انداز سے دیا ہے جس میں وراثت شروع ہوگئی ہے ١ ؎۔

Narrated Jabir: The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone has property given him in life-tenancy for the use of himself and his descendants, it belongs to the one to whom it is given and does not return to the one who gave it, because he gave a gift which may be inherited.

Notes · وضاحت
١ ؎: عمری کرنے والے کو اب واپس لینے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا کوئی عذر مقبول ہوگا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٥٥٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٤٨) (صحیح )
3554Sunan Abu Dawood

جس شخص نے عمری کرتے وقت ورثاء کا بھی تذکرہ کیا اس کا بیان

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَقِيلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَاخْتُلِفَ عَلَى الْأَوْزَاعِيِّ فِي لَفْظِهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَرَوَاهُ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِثْلَ حَدِيثِ، مَالِكٍ.

ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے عقیل اور یزید ابن حبیب نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے، اور اوزاعی پر اختلاف کیا گیا ہے کہ کبھی انہوں نے ابن شہاب سے ولعقبه کے الفاظ کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں اور اسے فلیح بن سلیمان نے بھی مالک کی حدیث کے مثل روایت کیا ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Shihab (Al-Zuhri) through a different chain of narrators and to the same effect. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Aqil from Ibn Shihab and by Yazid bin Abi Habib from Shihab. Al-Auzais wordings vary from those of Ibn Shihab. Fulaih bin Sulaiman also narrated the tradition like that of Malik.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٥٥٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٤٨) (صحیح )
3555Sunan Abu Dawood

جس شخص نے عمری کرتے وقت ورثاء کا بھی تذکرہ کیا اس کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ: هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِك، فَأَمَّا إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں جس عمریٰ کی رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی ہے وہ ہے کہ دینے والا کہے کہ یہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی ہے (تو اس میں وراثت جاری ہوگی اور دینے والے کی ملکیت ختم ہوجائے گی) لیکن اگر دینے والا کہے کہ یہ تمہارے لیے ہے جب تک تم زندہ رہو (تو اس سے استفادہ کرو) تو وہ چیز (اس کے مرنے کے بعد) اس کے دینے والے کو لوٹا دی جائے گی۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The life-tenancy which the Messenger of Allah ﷺ allowed was only that one should say: It is for you and your descendants. When he says: It is yours as long as you live, it returns to its owner.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣١٦٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الھبات ٤ (١٦٢٦)، مسند احمد (٣/٢٩٦) (صحیح )
3556Sunan Abu Dawood

جس شخص نے عمری کرتے وقت ورثاء کا بھی تذکرہ کیا اس کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُرْقِبُوا، وَلَا تُعْمِرُوا، فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا، أَوْ أُعْمِرَهُ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رقبیٰ اور عمریٰ نہ کرو جس نے رقبیٰ اور عمریٰ کیا تو یہ جس کو دیا گیا ہے اس کا اور اس کے وارثوں کا ہوجائے گا ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not give property to go to the survivor and do not give life-tenancy. If anyone is given something to the survivor or given life-tenancy, it goes to his heirs.

Notes · وضاحت
١ ؎: رقبیٰ یہ ہے کہ کسی مکان وغیرہ کو یہ کہہ کر دے کہ اگر میں پہلے مرگیا تو یہ مکان تمہارا ہوجائے گا اور اگر تم پہلے مرگئے تو میں واپس لے لوں گا اور عمری بھی قریب قریب یہی ہے کہ کسی کو مکان، زمین وغیرہ عمر بھر کے لئے دے، یہ روکنا غالباً دینے والوں اور ورثاء کے درمیان فتنے اور لڑائی کے ڈر سے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العمري (٣٧٦٢)، (تحفة الأشراف: ٢٤٥٨) (صحیح )
3557Sunan Abu Dawood

جس شخص نے عمری کرتے وقت ورثاء کا بھی تذکرہ کیا اس کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ طَارِقٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَعْطَاهَا ابْنُهَا حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ، فَمَاتَتْ، فَقَالَ ابْنُهَا: إِنَّمَا أَعْطَيْتُهَا حَيَاتَهَا، وَلَهُ إِخْوَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ لَهَا حَيَاتَهَا وَمَوْتَهَا، قَالَ: كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا عَلَيْهَا، قَالَ: ذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی ایک عورت کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ دیا تھا پھر وہ مرگئی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ یہ میں نے اسے اس کی زندگی تک کے لیے دیا تھا اور اس کے اور بھائی بھی تھے (جو اپنا حق مانگ رہے تھے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ باغ زندگی اور موت دونوں میں اسی عورت کا ہے پھر وہ کہنے لگا: میں نے یہ باغ اسے صدقہ میں دیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو یہ (واپسی) تمہارے لیے اور بھی ناممکن بات ہے (کہیں صدقہ بھی واپس لیا جاتا ہے) ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ decided a case of a woman from the Ansar to whom an orchard of date-palms was given by her son. She then died. Her son said: I gave it to her for her life, and she has brothers. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: It belongs to her during her life and after death. He then said: I gave a sadaqah (charity to her. He replied: It is more unexpected from you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٢٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٩) (ضعیف) (حبیب مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور حمید کے بارے میں بھی بعض کلام ہے، ملاحظہ ہو: الارواء ٦ ؍٥١ )
3558Sunan Abu Dawood

رقبیٰ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا، وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا.

جابر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہوجاتا ہے، اور رقبیٰ ١ ؎ (بھی) اسی کے اہل کا حق ہے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: Life-tenancy is lawful for the one to whom it is given and donation of property to go to the survivor is lawful to whom it is given.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ کہنا کہ میں پہلے مرا تو یہ چیز تیری ہوگی اور تو پہلے مرا تو یہ میری ہوگی، ایسی شرط بیکار ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ١٦ (١٣٥١)، سنن النسائی/العمری (٣٧٦٩)، سنن ابن ماجہ/الھبات ٤ (٢٣٨٣)، (تحفة الأشراف: ٢٧٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الھبات ٤ (١٦٢٦)، مسند احمد (٣/٣٠٢، ٣٠٣، ٣١٢) (صحیح )
3559Sunan Abu Dawood

رقبیٰ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ، وَمَمَاتَهُ وَلَا تُرْقِبُوا، فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُهُ.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز اسی کی ہوگئی جسے دی گئی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی ۔ اور فرمایا: رقبی نہ کرو جس نے رقبیٰ کیا تو وہ میراث کے طریق پر جاری ہوگی (یعنی اس کے ورثاء کی مانی جائے گی دینے والے کو واپس نہ ملے گی) ۔

Narrated Zayd ibn Thabit (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone gives something in life-tenancy, it belongs to the one to whom it is given, in his life and after his death; and do not give property to go to the survivor, for if anyone gives something to to to the survivor, it belongs to him.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الرقبی ١ (٣٧٤٦)، سنن ابن ماجہ/الہبات ٣ (٢٣٨١)، (تحفة الأشراف: ٣٧٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٠) (حسن صحیح الإسناد )
3560Sunan Abu Dawood

رقبیٰ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: هُوَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ: فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ، وَالرُّقْبَى هُوَ أَنْ يَقُولَ: الْإِنْسَانُ هُوَ لِلْآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ.

مجاہد کہتے ہیں: عمری یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے کہ یہ چیز تمہاری ہے جب تک تم زندہ رہے، تو جب اس نے ایسا کہہ دیا تو وہ چیز اس کی ہوگئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ہوگی، اور رقبی یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کسی کو دے کر کہے کہ ہم دونوں میں سے جو آخر میں زندہ رہے یہ چیز اس کی ہوگی ١ ؎۔

Mujahid said: Umra means that a man says to another man: It belongs to you so long as you live. When he says that, it belongs to him and to his heirs. Ruqba means that a man says to another: From me and from you.

Notes · وضاحت
١ ؎: میں پہلے مرگیا تو یہ تم پاس ہے اور رہے گی اور تم پہلے مرگئے اور میں بچا تو وہ چیز میرے پاس واپس آجائے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٢٧١) (صحیح الإسناد )
3561Sunan Abu Dawood

مستعار چیز کے ضمان کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ، ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ نَسِيَ، فَقَالَ هُوَ: أَمِينُكَ لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ.

سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لینے والے ہاتھ کی ذمہ داری ہے کہ جو لیا ہے اسے واپس کرے پھر حسن بھول گئے اور یہ کہنے لگے کہ جس کو تو مانگنے پر چیز دے تو وہ تمہاری طرف سے اس چیز کا امین ہے (اگر وہ چیز خود سے ضائع ہوجائے تو اس پر کوئی تاوان (معاوضہ و بدلہ) نہ ہوگا۔

Narrated Samurah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: The hand which takes is responsible till it pays. Then al-Hasan forgot and said: (If you give something on loan to a man), he is your depositor ; there is no compensation (for it) on him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٣٩ (١٢٦٦)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٥ (٢٤٠٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢، ١٣)، سنن الدارمی/البیوع ٥٦ (٢٦٣٨) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
3562Sunan Abu Dawood

مستعار چیز کے ضمان کے بیان میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيب، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعًا يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَقَالَ: أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ: لَا، بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذِهِ رِوَايَةُ يَزِيدَ، بِبَغْدَادَ، وَفِي رِوَايَتِهِ بِوَاسِطٍ تَغَيُّرٌ عَلَى غَيْرِ هَذَا.

صفوان بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کی لڑائی کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریۃً لیں تو وہ کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ زبردستی لے رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں عاریت کے طور پر لے رہا ہوں، جس کی واپسی کی ذمہ داری میرے اوپر ہوگی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کی بغداد کی روایت ہے اور واسط ١ ؎ میں ان کی جو روایت ہے وہ اس سے مختلف ہے۔

Narrated Safwan ibn Umayyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ borrowed coats of mail from him on the day of (the battle of) Hunayn. He asked: Are you taking them by force. Muhammad? He replied: No, it is a loan with a guarantee of their return. Abu Dawud said: This tradition narrated by Yazid (b. Harun) at Baghdad. There is some change in the tradition narrated by him at Wasit, which is something different.

Notes · وضاحت
١ ؎: واسط عراق کا ایک مشہور شہر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٩٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠١، ٦/٤٦٥) (صحیح )
3563Sunan Abu Dawood

مستعار چیز کے ضمان کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ آلِ عَبدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا صَفْوَانُ، هَلْ عِنْدَكَ مِنْ سِلَاحٍ ؟ قَالَ: عَارِيَةً، أَمْ غَصْبًا ؟ قَالَ: لَا بَلْ عَارِيَةً، فَأَعَارَهُ مَا بَيْنَ الثَّلَاثِينَ إِلَى الْأَرْبَعِينَ دِرْعًا، وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَلَمَّا هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ جُمِعَتْ دُرُوعُ صَفْوَانَ، فَفَقَدَ مِنْهَا أَدْرَاعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَفْوَانَ: إِنَّا قَدْ فَقَدْنَا مِنْ أَدْرَاعِكَ أَدْرَاعًا، فَهَلْ نَغْرَمُ لَكَ ؟ قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّه، لِأَنَّ فِي قَلْبِي الْيَوْمَ مَا لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ أَعَارَهُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ، ثُمَّ أَسْلَمَ.

عبداللہ بن صفوان کے خاندان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے صفوان! کیا تیرے پاس کچھ ہتھیار ہیں؟ انہوں نے کہا: عاریۃً چاہتے ہیں یا زبردستی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: زبردستی نہیں عاریۃً چناچہ اس نے آپ کو بطور عاریۃً تیس سے چالیس کے درمیان زرہیں دیں اور رسول اللہ ﷺ نے حنین کی لڑائی لڑی، پھر جب مشرکین ہار گئے اور صفوان ؓ کی زرہیں اکٹھا کی گئیں تو ان میں سے کچھ زرہیں کھو گئی تھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صفوان! تمہاری زرہوں میں سے ہم نے کچھ زرہیں کھو دی ہیں، تو کیا ہم تمہیں ان کا تاوان دے دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کے رسول! آج میرے دل میں جو بات ہے (جو میں دیکھ رہا اور سوچ رہا ہوں) وہ بات اس وقت نہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسلام لانے سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو وہ زرہیں عاریۃً دی تھیں پھر اسلام لے آئے (تو اسلام لے آنے کے بعد رسول اللہ ﷺ سے کون تاوان لیتا؟ ) ۔

Narrated Some people: Abdul Aziz ibn Rufay narrated on the authority of some people from the descendants of Abdullah ibn Safwan who reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Have you weapons, Safwan? He asked: On loan or by force? He replied: No, but on loan. So he lent him coats of mail numbering between thirty and forty! The Messenger of Allah ﷺ fought the battle of Hunayn. When the polytheists were defeated, the coats of mail of Safwan were collected. Some of them were lost. The Messenger of Allah ﷺ said to Safwan (RA) : We have lost some coats of mail from your coats of mail. Should we pay compensation to you? He replied: No. Messenger of Allah, for I have in my heart today what I did not have that day. Abu Dawud said: He lent him before embracing Islam. Then he embraced Islam.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٤٥) (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں مجہول رواة ہیں )
3564Sunan Abu Dawood

مستعار چیز کے ضمان کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ نَاسٍ مِنْ آلِ صَفْوَانَ، قَالَ: اسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

اس سند سے بھی آل صفوان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کچھ زرہیں عاریۃً لیں، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ata from some people of the descendants of Safwan saying: The Prophet ﷺ borrowed. He then transmitted the rest of the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٥٦٢)، (تحفة الأشراف: ٤٩٤٥) (صحیح) ( روایت نمبر ٣٥٦٢ سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں مجہول رواة ہیں )
3565Sunan Abu Dawood

مستعار چیز کے ضمان کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَلَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الطَّعَامَ، قَالَ: ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا، ثُمَّ قَالَ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب وارث کے واسطے وصیت نہیں ہے، اور عورت اپنے گھر میں شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی نہ دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ہم مردوں کا بہترین مال ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا: عاریۃً دی ہوئی چیز کی واپسی ہوگی (اگر چیز موجود ہے تو چیز، ورنہ اس کی قیمت دی جائے گی) دودھ استعمال کرنے کے لیے دیا جانے والا جانور (دودھ ختم ہوجانے کے بعد) واپس کردیا جائے گا، قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور کفیل ضامن ہے (یعنی جس قرض کا ذمہ لیا ہے اس کا ادا کرنا اس کے لیے ضروری ہوگا) ۔

Narrated Abu Umamah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ Said: Allah, Most Exalted, has appointed for everyone who has a right what is due to him, and no will be made to an heir, and a woman should not spend anything from her house except with the permission of her husband. He was asked: Even foodgrain, Messenger of Allah? He replied: That is the best of our property. He then said: A loan must be paid back, a she-camel lent for a time for milking must be returned, a debt must be discharged, one who stands surety is held responsible.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٣٤ (١٢٦٥)، الوصایا ٥ (٢١٢٠)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٦ (٢٧١٣)، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٧) (صحیح )
3566Sunan Abu Dawood

مستعار چیز کے ضمان کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُصْفُرِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ ثَلَاثِينَ دِرْعًا وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَارِيَةً مَضْمُونَةٌ، أَوْ عَارِيَةً مُؤَدَّاةٌ ؟، قَالَ: بَلْ مُؤَدَّاةٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَبَّانُ خَالُ هِلَالٍ الرَّأْيِ.

یعلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تمہارے پاس میرے فرستادہ پہنچیں تو انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا میں نے کہا: کیا اس عاریت کے طور پر دوں جس کا ضمان لازم آتا ہے یا اس عاریت کے طور پر جو مالک کو واپس دلائی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مالک کو واپس دلائی جانے والی عاریت کے طور پر ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان ہلال الرائی کے ماموں ہیں۔

Narrated Yala ibn Umayyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: When my messengers come to you, give them thirty coats of mail, and thirty camels. I asked: Messenger of Allah, is it a loan with a guarantee of its return, or a loan to be paid back? He replied: It is a loan to be paid back.

Notes · وضاحت
١ ؎: أعارية مضمونة یہ ہے کہ اگر وہ چیز ضائع ہوجائے گی تو اس کی قیمت ادا کی جائے گی، اور أعارية مؤداة یہ ہے کہ اگر چیز بعینہٖ موجود ہے تو اسے واپس دینا ہوگا، اور اگر وہ چیز ضائع ہوگئی تو قیمت ادا کرنے کی ذمہ داری نہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٨٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢) (صحیح )