انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی کسی بیوی کے پاس تھے، امہات المؤمنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ آپ کے پاس ایک پیالے میں کھانا رکھ کر بھیجا، تو اس بیوی نے (جس کے گھر میں آپ تھے) ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا (وہ دو ٹکڑے ہوگیا) ، ابن مثنیٰ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا لیا اور ایک کو دوسرے سے ملا کر پیالے کی شکل دے لی، اور اس میں کھانا اٹھا کر رکھنے لگے اور فرمانے لگے: تمہاری ماں کو غیرت آگئی ابن مثنیٰ نے اضافہ کیا ہے (کہ آپ نے فرمایا: کھاؤ تو لوگ کھانے لگے، یہاں تک کہ جس گھر میں آپ موجود تھے اس گھر سے کھانے کا پیالہ آیا (اب ہم پھر مسدد کی حدیث کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ اور خادم کو (جو کھانا لے کر آیا تھا) اور پیالے کو روکے رکھا، یہاں تک کہ لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے صحیح و سالم پیالہ قاصد کو پکڑا دیا (کہ یہ لے کر جاؤ اور دے دو ) اور ٹوٹا ہوا پیالہ اپنے اس گھر میں روک لیا (جس میں آپ قیام فرما تھے)۔
Anas said: The Messenger of Allah ﷺ was with one of his wives. One of the Mothers of faithful sent a bowl containing food through a servant of hers. She struck with her hand and broke the bowl. Ibn al-Muthannas version has: The Prophet ﷺ took the pieces of the bowl, and joined one with the other, and began to collect the food in it, saying: Your mother is jealous. Ibn al-Muthanna added: Eat. They ate till a bowl of the one in whose house he was brought. Abu Dawud said: We then returned to the version of the tradition of Musaddad: He said: Eat. He detained the servant and the bowl till they were free. Then he returned the sound bowl to the messenger and detained the broken one (bowl) in his house.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٣٤ (٢٤٨١)، والنکاح ١٠٧ (٥٢٢٥)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٣ (١٣٥٩)، سنن النسائی/عشرة النساء ٤ (٣٤٠٧)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٤ (٢٣٣٤)، (تحفة الأشراف: ٦٣٣، ٨٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٥، ٢٦٣)، سنن الدارمی/البیوع ٥٨ (٢٦٤٠) (صحیح )
جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے صفیہ ؓ جیسا (اچھا) کھانا پکاتے کسی کو نہیں دیکھا، ایک دن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے کھانا پکا کر آپ کے پاس بھیجا (اس وقت آپ میرے یہاں تھے) میں غصہ سے کانپنے لگی (کہ آپ میرے یہاں ہوں اور کھانا کہیں اور سے پک کر آئے) تو میں نے (وہ) برتن توڑ دیا (جس میں کھانا آیا تھا) ، پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے جو حرکت سرزد ہوگئی ہے اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: برتن کے بدلے ویسا ہی برتن اور کھانے کے بدلے ویسا ہی دوسرا کھانا ہے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I saw no one cooking food like Safiyyah. She cooked food for the Messenger of Allah ﷺ and sent it. I became angry and broke the vessel. I then asked: Messenger of Allah, what is the atonement for what I have done? He replied: A vessel like (this) vessel and food like (this) food.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عشرة النساء ٤ (٣٤٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٨، ٢٧٧) (ضعیف) اس کی روایہ جسرة لین الحدیث ہیں، صحیح یہ ہے کہ کھانا بھیجنے والی ام سلمہ ؓ تھیں جیسا کہ نسائی کی ایک صحیح روایت (نمبر ٣٤٠٨) میں ہے )
محیصہ ؓ کہتے ہیں کہ براء بن عازب ؓ کی اونٹنی ایک شخص کے باغ میں گھس گئی اور اسے تباہ و برباد کردیا، آپ ﷺ نے اس کا فیصلہ کیا کہ دن میں مال والوں پر مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور رات میں جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری جانوروں کے مالکان پر ہے ١ ؎۔
Narrated Muhayyisah (RA) : The she-camel of Bara ibn Azib entered the garden of a man and did damage to it. The Messenger of Allah ﷺ gave decision that the owners of properties are responsible for guarding them by day, and the owners of animals are responsible for guarding them by night.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر اونٹنی نے رات میں باغ کو نقصان پہنچایا ہے تو اونٹنی کا مالک اس نقصان کو پورا کرے گا، اور اگر دن میں نقصان پہنچائے تو باغ کا مالک اس نقصان کو برداشت کرے، کیونکہ باغ کی حفاظت خود اسی کی اپنی ذمہ داری تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٣ (٢٣٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣، ٢٣٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٦)، موطا امام مالک/الأقضیة ٢٨(٣٧) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں میرے پاس ایک ہر ہٹ اونٹنی تھی، وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اسے برباد کردیا، اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا: دن میں باغ کی حفاظت کی ذمہ داری باغ کے مالک پر ہے، اور رات میں جانور کی حفاظت کی ذمہ داری جانور کے مالک پر ہے ۔ (اگر جانور کے مالک نے رات میں جانور کو آزاد چھوڑ دیا) اور اس نے کسی کا باغ یا کھیت چر لیا تو نقصان کا معاوضہ جانور کے مالک سے لیا جائے گا۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: Al-Bara had a she-camel which was accustomed to graze the standing crop belonging to the people. She entered a garden and did damage to it. The Messenger of Allah ﷺ was informed about it. So he gave decision that the owners of gardens are responsible for guarding them by day, and the owners of the animals are responsible for guarding them by night. Any damage done by animals during the night is a responsibility lying on their owners.
میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ان دونوں کے درمیان کچھ شبہے کی چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، جو شبہوں سے بچا وہ اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لے گیا، اور جو شبہوں میں پڑا وہ حرام میں پھنس گیا۔
Narrated Al-Numan bin Bashir: I heard Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: But between them are certain doubtful things which many people do not recognize. He who guards against doubtful things keeps his religion and his honor blameless, but he who falls into doubtful things falls into what is unlawful.