Sunan Abu Dawood 3566

خرید وفروخت کا بیان

3566Sunan Abu Dawood

مستعار چیز کے ضمان کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُصْفُرِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي فَأَعْطِهِمْ ثَلَاثِينَ دِرْعًا وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَارِيَةً مَضْمُونَةٌ، أَوْ عَارِيَةً مُؤَدَّاةٌ ؟، قَالَ: بَلْ مُؤَدَّاةٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَبَّانُ خَالُ هِلَالٍ الرَّأْيِ.

یعلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تمہارے پاس میرے فرستادہ پہنچیں تو انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا میں نے کہا: کیا اس عاریت کے طور پر دوں جس کا ضمان لازم آتا ہے یا اس عاریت کے طور پر جو مالک کو واپس دلائی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مالک کو واپس دلائی جانے والی عاریت کے طور پر ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان ہلال الرائی کے ماموں ہیں۔

Narrated Yala ibn Umayyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: When my messengers come to you, give them thirty coats of mail, and thirty camels. I asked: Messenger of Allah, is it a loan with a guarantee of its return, or a loan to be paid back? He replied: It is a loan to be paid back.

Notes · وضاحت
١ ؎: أعارية مضمونة یہ ہے کہ اگر وہ چیز ضائع ہوجائے گی تو اس کی قیمت ادا کی جائے گی، اور أعارية مؤداة یہ ہے کہ اگر چیز بعینہٖ موجود ہے تو اسے واپس دینا ہوگا، اور اگر وہ چیز ضائع ہوگئی تو قیمت ادا کرنے کی ذمہ داری نہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٨٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢) (صحیح )