جس شخص نے عمری کرتے وقت ورثاء کا بھی تذکرہ کیا اس کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُرْقِبُوا، وَلَا تُعْمِرُوا، فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا، أَوْ أُعْمِرَهُ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ.
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رقبیٰ اور عمریٰ نہ کرو جس نے رقبیٰ اور عمریٰ کیا تو یہ جس کو دیا گیا ہے اس کا اور اس کے وارثوں کا ہوجائے گا ١ ؎۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not give property to go to the survivor and do not give life-tenancy. If anyone is given something to the survivor or given life-tenancy, it goes to his heirs.
Notes · وضاحت
١ ؎: رقبیٰ یہ ہے کہ کسی مکان وغیرہ کو یہ کہہ کر دے کہ اگر میں پہلے مرگیا تو یہ مکان تمہارا ہوجائے گا اور اگر تم پہلے مرگئے تو میں واپس لے لوں گا اور عمری بھی قریب قریب یہی ہے کہ کسی کو مکان، زمین وغیرہ عمر بھر کے لئے دے، یہ روکنا غالباً دینے والوں اور ورثاء کے درمیان فتنے اور لڑائی کے ڈر سے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/العمري (٣٧٦٢)، (تحفة الأشراف: ٢٤٥٨) (صحیح )