علی ؓ کہتے ہیں کہ جب مستحاضہ کا حیض آنا بند ہوجائے تو ہر روز (وقت کی تخصیص کے بغیر) غسل کرے اور گھی یا روغن زیتون لگا ہوا روئی کا ٹکڑا شرمگاہ میں رکھ لے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The woman who has a prolonged flow of blood should wash herself every day when her menstrual period is over and take a woollen cloth greased with fat or oil (to tie over the private parts).
محمد بن عثمان سے روایت ہے کہ انہوں نے قاسم بن محمد سے مستحاضہ کے بارے میں پوچھا تو قاسم بن محمد نے کہا: وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی اور نماز پڑھے گی، پھر باقی ایام میں غسل کرتی رہے گی۔
Muhammad bin Uthman asked al-Qasim bin Muhammad about the woman who has a prolonged flow of blood. He replied: She should abandon prayer during her menstrual period, then wash and pray ; then she should wash during her menstrual period.
فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ کی شکایت تھی تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون ہو (جو کہ بالکل سیاہ ہوتا ہے اور پہچان لیا جاتا ہے) تو تم نماز سے رک جاؤ اور جب دوسری طرح کا خون آنے لگے تو وضو کرو اور نماز پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابن مثنی نے کہا ہے کہ ابن ابی عدی نے اسے ہم سے زبانی بیان کیا تو اس میں انہوں نے عن عروة عن عائشة أن فاطمة کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز یہ حدیث علاء بن مسیب اور شعبہ سے مروی ہے انہوں نے حکم سے اور حکم نے ابو جعفر سے روایت کیا ہے مگر علاء نے اسے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً اور شعبہ نے ابو جعفر سے موقوفاً بیان کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے۔
Urwah bin al-Zubair said the Fatimah daughter of Abu Hubaish had a prolonged flow of blood. The Prophet ﷺ said to her: When the blood of menses comes, it is black blood with can be recognized; so when that comes, refrain from prayer, but when a different type comes, perform ablution and pray. Abu Dawud said: Ibn al-Muthanna said: Ibn Adi narrated this tradition from his memory on the authority of Urwah from Aisha (RA) . Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by al-Ala bin al-Musayyab and Shubah from al-Hakam on the authority of Abu Jafar. Al-Ala reported it as a statement of the Prophet ﷺ , and Shubah as a statement of Abu Jafar, saying: She should perform ablution for every prayer.
عکرمہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش ؓ کو استحاضہ ہوگیا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے ایام حیض (کے ختم ہونے) کا انتظار کریں پھر غسل کریں اور نماز پڑھیں، پھر اگر اس میں سے کچھ ١ ؎ انہیں محسوس ہو تو وضو کرلیں اور نماز پڑھیں۔
Narrated Umm Habibah daughter of Jahsh (RA) : Ikrimah said: Umm Habibah daughter of Jahsh had a prolonged flow of blood. The Prophet ﷺ commanded her to refrain (from prayer) during her menstrual period; then she should wash and pray, if she sees anything (which renders ablution void) she should perform ablution and pray.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد حدث ہے نہ کہ مستحاضہ سے خارج ہونے والا خون، اس لئے کہ استحاضہ کے خون سے وضو واجب نہیں ہوتا کیونکہ یہ خون بند ہی نہیں ہوتا ہے برابر جاری رہتا ہے اور اگر اس سے خون مراد لیا جائے تو جملہ شرطیہ کا کوئی مفہوم ہی نہیں رہ جاتا ہے کیونکہ مستحاضہ تو برابر خون دیکھتی ہے یہ اس سے بند ہی نہیں ہوتا ہے اسی وضاحت سے یہ حدیث باب کے مطابق ہوسکتی ہے۔
ربیعہ سے روایت ہے کہ وہ مستحاضہ کے لیے ہر نماز کے وقت وضو ضروری نہیں سمجھتے تھے سوائے اس کے کہ اسے خون کے علاوہ کوئی اور حدث لاحق ہو تو وہ وضو کرے گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہی مالک بن انس کا قول ہے۔
Rabiah said: Umm Habibah daughter of Jahsh had a prolonged flow of blood. The Prophet ﷺ commander her to refrain (from prayer) during her menstrual period; then she should wash and pray. If she sees anything (which renders ablution void) she should perform ablution and pray. Abu Dawud said: This is the view held by Malik bin Anas.
اس سند سے بھی ام عطیہ ؓ سے اسی کے مثل مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ام ہذیل حفصہ بنت سیرین ہیں، ان کے لڑکے کا نام ہذیل اور شوہر کا نام عبدالرحمٰن ہے ١ ؎۔
Umm Atiyyah has narrated this tradition through a different chain of transmitters. Abu DAwud said: The name of Umm al-Hudhail is Hafsah daughter os Sirin. The name of her son was Hudhail and his husband Abdur-Rahman.
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف نے یہاں اس بات کا تذکرہ اس مناسبت سے کیا ہے کہ ام ہذیل محمد بن سیرین کی بہن ہیں، ان کی ام عطیہ سے اور بھی دیگر روایات ہیں۔
عکرمہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ ؓ کو استحاضہ کا خون آتا تھا اور ان کے شوہر ان سے صحبت کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ معلی ثقہ ہیں اور احمد بن حنبل ان سے اس لیے روایت نہیں کرتے تھے کہ وہ قیاس و رائے میں دخل رکھتے تھے۔
Ikrimah said: Umm Habibah had a prolonged flow of blood ; her husband used to cohabit with her. Abu Dawud said: Yahya bin Main has pronounced Mualla (a narrator of this tradition) as trustworthy. But Ahmad bin Hanbal would not report (traditions) from him because he exercised personal opinion.
Takhrij · تخریج
أنظر حدیث رقم (٣٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٢١) (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نفاس والی عورتیں زچگی کے بعد چالیس دن یا چالیس رات تک بیٹھی رہتی تھیں ١ ؎، ہم اپنے چہروں پر ورس ٢ ؎ ملا کرتے تھے یعنی جھائیوں کی وجہ سے۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The woman having bleeding after delivery (puerperal haemorrhage) would refrain (from prayer) for forty days or forty nights; and we would anoint our faces with an aromatic herb called wars to remove dark spots.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نماز اور روزے سے رکی رہتی تھیں۔ ٢ ؎: ایک خوشبودار گھاس ہے جسے رنگنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ١٠٥ (١٣٩)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٨ (٦٤٨) (تحفة الأشراف: ١٨٢٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠٠، ٣٠٣، ٣٠٤، ٣١٠) (حسن صحیح )
مسہازدیہ (ام بسہ) سے روایت ہے کہ میں حج کو گئی تو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے ہاں حاضر ہوئی، میں نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین! سمرہ بن جندب عورتوں کو حیض کی نمازیں قضاء کرنے کا حکم دیتے ہیں، اس پر انہوں نے کہا: وہ قضاء نہ کریں (کیونکہ) عورت جو نبی اکرم ﷺ کی بیویوں میں سے ہوتی ١ ؎ حالت نفاس میں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھی اور نبی اکرم ﷺ اسے نفاس کی نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔
Al-Azdiyyah, viz. Mussah, said: I performed Hajj and came to Umm Salamah and said (to her): Mother of the believers, Samurah bin Jundub commands women to complete the prayers abandoned during their menstrual period. She said: They should not do so. The wives of the Prophet ﷺ would refrain (from prayer) for forty nights (i. e. days) during the course of bleeding after child birth. The Prophet ﷺ would not command them to complete the prayers abandoned during the period of bleeding. Muhammad bin Hatim said: The name of Al-Azdiyyah is Mussah and her patronymic name is Umm Busrah. Abu Dawud said: The patronymic names of Kathir bin Ziyad s Abu Sahl.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے صرف ازواج مطہرات ہی مراد نہیں ہیں بلکہ یہ عام ہے اس میں بیٹیاں، لونڈیاں اور خاندان اور رشتہ کی عورتیں بھی داخل ہیں۔
ایک غفاری عورت ؓ کہتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیچھے اپنے کجاوے کے حقیبہ ١ ؎ پر بٹھایا پھر اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ صبح تک مسلسل چلتے رہے، پھر آپ ﷺ نے اونٹ بٹھا دیا، میں کجاوے کے حقیبہ پر سے اتری تو اس میں حیض کے خون کا نشان پایا، یہ میرا پہلا حیض تھا جو مجھے آیا، وہ کہتی ہیں: میں شرم کی وجہ سے اونٹنی کے پاس سمٹ گئی، جب رسول اللہ ﷺ نے یہ حال دیکھا اور خون بھی دیکھا تو فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ شاید حیض آگیا ہے ، میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے آپ کو ٹھیک کرلو (کچھ باندھ لو تاکہ خون باہر نہ نکلے) پھر پانی کا ایک برتن لے کر اس میں نمک ڈال لو اور حقیبہ میں لگے ہوئے خون کو دھو ڈالو، پھر اپنی سواری پر واپس آ کر بیٹھ جاؤ ۔ وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو فتح کیا تو مال فی میں سے ہمیں بھی ایک حصہ دیا۔ وہ کہتی ہیں: پھر وہ جب بھی حیض سے پاکی حاصل کرتیں تو اپنے پاکی کے پانی میں نمک ضرور ڈالتیں، اور جب ان کی وفات کا وقت آیا تو اپنے غسل کے پانی میں بھی نمک ڈالنے کی وصیت کر گئیں۔
Narrated Woman of Banu Ghifar (RA) : Umayyah, daughter of AbusSalt, quoted a certain woman of Banu Ghifar, whose name was mentioned to me, as saying: The Messenger of Allah ﷺ made me ride behind him on the rear of the camel saddle. By Allah, the Messenger of Allah ﷺ got down in the morning. He made his camel kneel down and I came down from the back of his saddle. There was a mark of blood on it (saddle) and that was the first menstruation that I had. I stuck to the camel and felt ashamed. When the Messenger of Allah ﷺ saw what had happened to me and saw the blood, he said: Perhaps you are menstruating. I said: Yes. He then said: Set yourself right (i. e. tie some cloth to prevent bleeding), then take a vessel of water and put some salt in it, and then wash the blood from the back of the saddle, and then return to your mount. When the Messenger of Allah ﷺ conquered Khaybar, he gave us a portion of the booty. Whenever the woman became purified from her menses, she would put salt in water. And when she died, she left a will to put salt in the water for washing her (after death).
Notes · وضاحت
١ ؎: ہر وہ چیز جو اونٹ کے پیچھے کجاوہ کے آخر میں باندھ دی جائے حقیبہ کہلاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٣٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٨٠) (ضعیف) (اس کی راویہ امیہ بنت ابی الصلت مجہول ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اسماء (اسماء بنت شکل انصاریہ) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہو تو وہ کس طرح غسل کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے کر وضو کرے، پھر اپنا سر دھوئے، اور اسے ملے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہائے، پھر روئی کا پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرے ۔ اسماء نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس (پھا ہے) سے طہارت کس طرح حاصل کروں؟ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے جو بات کنایۃً کہی وہ میں سمجھ گئی، چناچہ میں نے ان سے کہا: تم اسے خون کے نشانات پر پھیرو۔
Aishah reported: Asma entered upon the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, how should one of us take bath when she is purified from her menses ? He said: She should take water mixed with the leaves of lote-tree; then should perform ablution and wash her head and rub it so much so that water reaches the roots of the hair; she should then our water upon her body. Then she should take a piece of cloth (or cotton or wool) and purify with it. She asked: Messenger of Allah, how should I purify with it ? Aisha (RA) said: I understood what he (the Prophet) said metaphorically. I, therefore, said to her: Remove the marks of blood.
ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں بھلی بات کہی اور بولیں: ان میں سے ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی ، پھر راوی نے سابقہ مفہوم کی حدیث بیان کی، مگر اس میں انہوں نے فرصة ممسکة (مشک میں بسا ہوا پھاہا) کہا۔ مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ فرصة (پھاہا) کہتے تھے اور ابوالاحوص قرصة (روئی کا ٹکڑا) کہتے تھے۔
Aishah made a mention of the women of the Ansar and admired them stating that they had obliged (all Muslims). She then said: One of their women came upon the Messenger of Allah ﷺ . She then reported the rest of the tradition to the same effect; but this version she said the words: a musk-scented piece of cloth. Musaddad said: Abu Awanah used the word firsah (i. e. a piece of cloth), but Abu Al-Ahwas used the word qasrah (i. e. a small piece of cloth).
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اسماء ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: مشک لگا ہوا روئی کا پھاہا (لے کر اس سے پاکی حاصل کرو) ، اسماء نے کہا: اس سے میں کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل کرو ، اور آپ ﷺ نے کپڑے سے (اپنا چہرہ) چھپالیا۔ اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ اسماء ؓ نے غسل جنابت کے بارے میں بھی دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم پانی لے لو، پھر اس سے خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرو، پھر اپنے سر پر پانی ڈالو، پھر اسے اتنا ملو کہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی بہاؤ ۔ راوی کہتے ہیں: عائشہ ؓ نے کہا: انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں انہیں دین کا مسئلہ دریافت کرنے اور اس کو سمجھنے میں حیاء مانع نہیں ہوتی۔
Aishah said: Asma asked the Prophet ﷺ and then narrated the rest of the tradition to the same effect. He (the Prophet) said: a musk-scented piece of cloth. She (Asma) said: How should I purify with it ? He said: By glory of Allah! Purify with it, and he covered his face with the cloth. This version also adds: She asked about the washing because of sexual defilement. He said: Take your water and purify yourself as best as possible. Then pour water over yourself. Aisha (RA) said: The best of the women are the women of the Ansar. Shyness would not prevent them from inquiring about religion and from acquiring deep understanding in it.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسید بن حضیر ؓ اور ان کے ساتھ کچھ لوگوں کو وہ ہار ڈھونڈنے کے لیے بھیجا جسے عائشہ نے کھو دیا تھا، وہاں نماز کا وقت ہوگیا تو لوگوں نے بغیر وضو نماز پڑھ لی، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت اتاری گئی۔ ابن نفیل نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسید بن حضیر ؓ نے عائشہ ؓ سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! آپ کو جب بھی کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اور آپ کے لیے اس میں ضرور کشادگی پیدا کردی ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent Usayd ibn Hudayr and some people with him to search the necklace lost by Aisha (RA) . The time of prayer came and they prayed without ablution. When they returned to the Prophet ﷺ and related the fact to him, the verse concerning tayammum was revealed. Ibn Nufayl added: Usayd said to her: May Allah have mercy upon you! Never has there been an occasion when you were beset with an unpleasant matter but Allah made the Muslims and you come out of that.
عمار بن یاسر ؓ بیان کرتے تھے کہ لوگوں نے فجر کی نماز کے لیے پاک مٹی سے تیمم کیا، یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو انہوں نے مٹی پر اپنا ہاتھ مارا اور منہ پر ایک دفعہ پھیرلیا، پھر دوبارہ مٹی پر ہاتھ مارا اور اپنے پورے ہاتھوں پر پھیرلیا یعنی اپنی ہتھیلیوں سے لے کر کندھوں اور بغلوں تک ١ ؎۔
Narrated Ammar ibn Yasir: They (the Companions of the Prophet) wiped with pure earth (their hands and face) to offer the dawn prayer in the company of the Messenger of Allah ﷺ . They struck the ground with their palms and wiped their faces once. Then they repeated and struck the ground with their palms once again and wiped their arms completely up to the shoulders and up to the armpits with the inner side of their hands.
Notes · وضاحت
١ ؎: تیمم کا طریقہ آگے حدیث نمبر (٣٢٠) میں آ رہا ہے، جس میں ہاتھ کو صرف ایک بار مٹی پر مار کر منہ اور ہتھیلی پر مسح کرنے کا بیان ہے اس حدیث کے سلسلہ میں علامہ محمد اسحاق دہلوی فرماتے ہیں کہ ابتداء میں صحابہ کرام ؓ نے اپنی سمجھ اور قیاس سے ایسا کیا، لیکن جب نبی اکرم ﷺ نے تیمم کا طریقہ بتایا تو وہ اس کو سیکھ گئے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ امام شافعی نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ عمار ؓ نے فرمایا: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مونڈھے تک تیمم کیا، اور آپ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے تیمم کے لئے چہرہ اور دونوں ہتھیلی تک مسح کا حکم دیا، تو گویا زیر نظر واقعہ میں مذکور تیمم نبی اکرم ﷺ کے حکم سے نہیں تھا (ملاحظہ ہو: عون المعبود ١ ؍ ٣٥٠ و ٣٥١ )
اس سند سے ابن وہب سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ مسلمان کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا اور مٹی بالکل نہیں لی ، پھر راوی نے اسی جیسی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے المناکب والآباط (کندھوں اور بغلوں) کا ذکر نہیں کیا ۔
The tradition has also been reported through a different chain of narrators. This version has: The Muslims stood up and struck the earth with their palms, but did not get any earth (in their hands). He (Ibn Wahb) then narrated the rest of the tradition in like manner, but he did not mention the words shoulders and armpits. Ibn al-Laith said: (They) wiped above the elbows.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطھارة ١٩٧ (٣١٤)، مسند احمد (٤/٢٦٣، ٢٦٤) (صحیح )
عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اولات الجیش ١ ؎ میں رات گزارنے کے لیے ٹھہرے، آپ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ ؓ بھی تھیں، ان کا ہار جو ظفار کے مونگوں سے بنا تھا ٹوٹ کر گرگیا، چناچہ ہار کی تلاش کے سبب لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ صبح روشن ہوگئی اور لوگوں کے پاس پانی موجود نہیں تھا، چناچہ ابوبکر ؓ عائشہ ؓ پر ناراض ہوگئے اور کہا: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے، حالانکہ ان کے پاس پانی نہیں ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی رخصت نازل فرمائی، مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے، اپنے ہاتھ زمین پر مار کر اسے اس طرح اٹھا لیا کہ مٹی بالکل نہیں لگی، پھر اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مونڈھوں تک اور ہتھیلیوں سے بغلوں تک مسح کیا۔ ابن یحییٰ نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں کہا: لوگوں کے نزدیک اس فعل کا اعتبار نہیں ہے ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسی طرح ابن اسحاق نے روایت کی ہے اس میں انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہوئے دو ضربہ ٣ ؎ کا ذکر کیا ہے جس طرح یونس نے ذکر کیا ہے، نیز معمر نے بھی زہری سے دو ضربہ کی روایت کی ہے۔ مالک نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے اپنے والد عبداللہ سے، عبداللہ نے عمار ؓ سے روایت کی ہے، اور اسی طرح ابواویس نے زہری سے روایت کی ہے، اور ابن عیینہ نے اس میں شک کیا ہے: کبھی انہوں نے عن عبيد الله عن أبيه کہا، اور کبھی عن عبيد الله عن ابن عباس یعنی کبھی عن أبيه اور کبھی عن ابن عباس ذکر کیا۔ ابن عیینہ اس میں ٤ ؎ اور زہری سے اپنے سماع میں ٥ ؎ مضطرب ہیں نیز زہری کے رواۃ میں سے کسی نے دو ضربہ کا ذکر نہیں کیا ہے سوائے ان لوگوں کے جن کا میں نے نام لیا ہے ٦ ؎۔
Narrated Ammar ibn Yasir: The Messenger of Allah ﷺ encamped at Ulat al-Jaysh and Aisha (RA) was in his company. Her necklace of onyx of Zifar was broken (and fell somewhere). The people were detained to make a search for that necklace until the dawn broke. There was no water with the people. Therefore Abu Bakr became angry with her and said: You detained the people and they have no water with them. Thereupon Allah, the Exalted, sent down revelation about it to His Messenger ﷺ granting concession to purify themselves with pure earth. Then the Muslims stood up with the Messenger of Allah ﷺ and struck the ground with their hands and then they raised their hands, and did not take any earth (in their hands). Then they wiped with them their faces and hands up to the shoulders, and from their palms up to the armpits. Ibn Yahya added in his version: Ibn Shihab said in his tradition: The people do not take this (tradition) into account. Abu Dawud said: Ibn Ishaq also reported it in a similar way. In this (version) he said on the authority of Ibn Abbas. He mentioned the words two strikes (i. e. striking the earth twice) as mentioned by Yunus. And Mamar also narrated on the authority of al-Zuhri two strikes. And Malik said: From al-Zuhri from Ubaid Allah bin Abdullah from his father on the authority of Ammar. Abu Uwais also reported it in a similar way on the authority of al-Zuhri. But Ibn Uyainah doubted it, he sometimes said: from his father, and sometimes he said: from Ibn Abbas. Ibn Uyainah was confused in it and in his hearing from al-Zuhri. No one has mentioned two strikes in this tradition except those whose names I have mentioned.
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے، اسے ذات الجیش بھی کہا جاتا ہے۔ وضاحت: کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے پہلے اپنی رائے و قیاس سے انہوں نے ایسا کیا تھا۔ ٢ ؎: ابن حجر کے قول کے مطابق صفت تیمم کے سلسلہ میں ابوجہیم اور عمار ؓ کی حدیث کو چھوڑ کر باقی ساری روایات یا تو ضعیف ہیں یا ان کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے، یہی وجہ ہے کہ امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں التيمم للوجه والکفين کے ساتھ باب باندھا ہے ( ملاحظہ ہو: فتح الباری )۔ ٣ ؎ علامہ البانی دو ضربہ والی روایات کو واہی اور معلول کہتے ہیں، اس لئے دو ضربہ کی ضرورت ہی نہیں صرف ایک ضربہ کافی ہے (ارواء الغلیل)۔ ٤ ؎: یعنی کبھی تو انہوں نے عن أبيه کہا اور کبھی اسے ساقط کرکے اس کی جگہ عن ابن عباس کہا۔ ٥ ؎: کبھی انہوں نے اسے زہری سے بلاواسطہ روایت کیا ہے اور کبھی اپنے اور زہری کے درمیان عمرو بن دینار کا واسطہ بڑھا دیا۔ ٦ ؎: وہ نام یہ ہیں: یونس، ابن اسحاق اور معمر، زہری کے رواۃ میں صرف انہیں تینوں نے ضربتین کے لفظ کا ذکر کیا ہے، رہے زہری سے روایت کرنے والے باقی لوگ جیسے صالح بن کیسان، لیث بن سعد، عمرو بن دینار، مالک، ابن ابی ذئب وغیرہم تو ان میں سے کسی نے ضربتین کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ١٩٧ (٣١٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٦٣) (صحیح )
ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری ؓ کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ ابوموسیٰ ؓ نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! (یہ عبداللہ بن مسعود کی کنیت ہے) اس مسئلے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص جنبی ہوجائے اور ایک مہینے تک پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کرتا رہے؟ عبداللہ بن مسعود نے کہا: تیمم نہ کرے، اگرچہ ایک مہینہ تک پانی نہ ملے۔ ابوموسیٰ ؓ نے کہا: پھر آپ سورة المائدہ کی اس آیت: فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: اگر تیمم کی رخصت دی جائے تو قریب ہے کہ جب پانی ٹھنڈا ہو تو لوگ مٹی سے تیمم کرنے لگیں۔ اس پر ابوموسیٰ ؓ نے ان سے کہا: آپ نے اسی وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے؟ ابن مسعود ؓ نے کہا: ہاں، تو ابوموسیٰ ؓ نے ان سے کہا: کیا آپ نے عمار ؓ کی بات (جو انہوں نے عمر ؓ سے کہی) نہیں سنی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا تو میں جنبی ہوگیا اور مجھے پانی نہیں ملا تو میں مٹی (زمین) پر لوٹا جیسے جانور لوٹتا ہے، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں تو بس اس طرح کرلینا کافی تھا ، اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اسے جھاڑا، پھر اپنے بائیں سے اپنی دائیں ہتھیلی پر اور دائیں سے بائیں ہتھیلی پر مارا، پھر اپنے چہرے کا مسح کیا، تو عبداللہ ؓ نے ان سے کہا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ عمر ؓ، عمار ؓ کی اس بات سے مطمئن نہیں ہوئے؟!۔
Shaqiq said: While I was sitting between Abdullah and Abu Musa, the latter said: Abu Abdur-Rahman, what do you think if a man becomes defiled (because of seminal omission) and does not find water for a month; should he not perform tayammum ? He replied: No, even if he does not find water for a month. Abu Musa then said: How will you do with the Quranic version (about tayammum) in the chapter al-Maidah which says: . . . and you find no water, then go to clean, high ground (5: 6)? Abdullah (bin Masud) then said: If they (the people) are granted concession in this respect, they might perform tayammum with pure earth when water is cold. Abu Musa said: For this (reason) you forbade it ? He said: Yes. Abu Musa then said: Did you not hear what Ammar said to Umar ? (He said): The Messenger of Allah ﷺ sent me on some errand. I had seminal emission and I did not find water. Therefore, I rolled on the ground just as an animal rolls down. I then came to the Prophet ﷺ and made a mention of that to him. He said: It would have been enough for you to do thus. Then he struck the ground with his hands and shook them off and then stuck the right hand with his left hand and his left hand with his right hand (and wiped) over his hands (up to the wrist) and wiped his face. Abdullah then said to him: Did you not see that Umar was not satisfied with the statement of Ammar ?