مستحاضہ کو ہر نماز کے وقت وضو کرنا ضروری نہیں مگر یہ کہ جب کوئی حدث لاحق ہو
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةِ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْتَظِرَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، فَإِنْ رَأَتْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ تَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ.
عکرمہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش ؓ کو استحاضہ ہوگیا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے ایام حیض (کے ختم ہونے) کا انتظار کریں پھر غسل کریں اور نماز پڑھیں، پھر اگر اس میں سے کچھ ١ ؎ انہیں محسوس ہو تو وضو کرلیں اور نماز پڑھیں۔
Narrated Umm Habibah daughter of Jahsh (RA) : Ikrimah said: Umm Habibah daughter of Jahsh had a prolonged flow of blood. The Prophet ﷺ commanded her to refrain (from prayer) during her menstrual period; then she should wash and pray, if she sees anything (which renders ablution void) she should perform ablution and pray.