2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 2:43–46

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 2:43 in the Quran reader

اور قائم کرو نماز کو اور دو زکوۃ اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:44 in the Quran reader

کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو۔ اور اپنی جانوں کو فراموش کرتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو۔ کیا تم نہیں سمجھتے

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ Open ayah 2:45 in the Quran reader

اور مدد طلب کرو صبر اور نماز کے ساتھ۔ اور بیشک یہ نماز البتہ بھاری ہے۔ مگر ان لوگوں پر جو عاجزی کرنے والے ہیں

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 2:46 in the Quran reader

وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ بیشک رہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں۔ اور بیشک وہ اسی پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

گزشتہ سے پیوستہ : اس رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت کا ذکر فرمایا ۔ پھر زمین پر اترنے کا حکم دیا۔ اور ہدایت و راہنمائی کا وہ اصول ہی بتلا دیا۔ جس پر جنت میں دوبارہ داخلے کا دار و مدار ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل سے خطاب ہوا۔ دوسری قوموں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کو مدت دراز تک فضیلت حاصل رہی۔ نبوت اور حکومت ان میں رہی۔ ان میں بڑے بڑے عابد و زاہد لوگ پیدا ہوئے۔ مگر ایک طویل عرصہ کے بعد اس قوم میں خرابیاں پیدا ہوگئیں ۔ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خلافت ارضی بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں منتقل کردی۔ گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کو خطاب کرکے ان پر کیے گئے انعامات یاد دلائے گئے اور انہیں قرآن پاک پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی۔ اور انہیں نصیحت کی گئی کہ وہ بنی اسرائیل میں اولین کا فر نہ بنیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے آئندہ نسلیں بھی نبی کے قدموں پر چلیں گی اور اس طرح ان کا وبال بھی کفر میں پہل کرنے والوں پر پڑے گا۔ انہیں حق و باطل کی تلبیس سے اور کتمان حق سے منع کیا گیا اور ترغیب دی گئی۔ کہ تمہاری اپنی کتابوں میں قرآن پاک اور خاتم النبین ﷺ کے متعلق جو پیشن گوئیاں موجود ہیں انہیں ظاہر کریں۔ قبول حق سے انکار کی وجوہات : مدینہ طیبہ کے اطراف میں رہنے والے اہل کتاب یعنی یہود نسلی برتری کے زعم میں مبتلا تھے۔ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے دوسری اقوام کو کم تر سمجھتے تھے۔ ، عربوں کو وہ جاہل ، ان پڑھ اور امی خیال کرتے تھے۔ اس قسم کے اشارات آگے اسی سورة میں ، سورة ال عمران میں اور دیگر سورتوں میں بھی ملتے ہیں۔ بنی اسرائیل کا دوسرا باطل زعم یہ تھا کہ نبوت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انہی کے خاندان میں جاری رہے گی۔ مگر جب نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بنی اسمعیل میں آگئے تو ان کی ساری برتری ختم ہوگئی اور وہ حسد کی بیماری میں مبتلا ہوگئے۔ چناچہ ان کے قبول حق سے انکار کی ایک بڑی وجہ یہ تھی ۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اس وقت انہیں جو مالی اور منصبی برتری حاصل تھی۔ ایمان لانے سے وہ ضائع ہوجاتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اب ان کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔ اور انہیں حضور نبی کریم ﷺ کی تابعداری کرنی پڑے گی۔ چناچہ ایسی ہی چیزیں ان کے ایمان لانے میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔ حب مال وحب جاہ کی بیماریاں : حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ بیان القرآن ج 1 ص 24 مطبع مجتبائی دہلی) کہ یہود کو حب مال اور حب جاہ کی دو ایسی بیماریاں لاحق تھیں ۔ جن کی وجہ سے وہ ایمان لانے سے گریز کرتے تھے۔ اس زمانے میں بھی اکثر لوگ انہی دو بیماریوں میں مبتلا ہو کر خیر سے محروم ہوجاتے ہیں۔ حب مال کی بیماری کی شدت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : “ وانہ لحب الخیر لشدید ” مال کی محبت انسان میں فطرۃ بڑی شدید ہے۔ دوسری جگہ فرمایا “ وتحبون المال حبا جما ” تم جی بھر کر مال سے محبت کرتے ہو۔ جس کی وجہ سے بہت سے خرابیاں پید اہوتی ہیں اور لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں۔ اس قسم کی چیزیں بنی اسرائیل کے قبول حق میں مانع تھیں۔ ان بیماریوں کا علاج : ان دو بیماریوں کا علاج اللہ تعالیٰ نے یہ تجویز کیا “ واقیموالصلوۃ ” نماز قائم کرو۔ “ واتوا الزکوۃ ” اور زکوٰۃ ادا کرو۔ یعنی حب جاہ کی بیماری کے لیے نماز شافی ہے۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے غرور ، تکبر اور بڑائی کا علاج رکھا ہے۔ جو شخص نماز قائم کرے گا ، اس کا مطلب سمجھے گا۔ وہ حب اجہ کی بیماری سے شفا یاب ہوجائے گا۔ اسی طرح حب مال کی بیماری کا علاج ادائیگی زکوٰۃ میں ہے۔ اور اس میں بہت سی حکمتیں ہیں منجملہ ان کے بخل دور کرنا بھی ہے۔ چناچہ جب کوئی شخص ہر سال مال کی زکوٰۃ ادا کرے گا۔ تو وہ بخل کی لعنت سے پاک ہوجائے گا۔ پھر یہ بھی ہے کہ صرف مقررہ مقدار میں زکوٰۃ ادا کردینا ہی کافی نہیں بلکہ فرمایا “ لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون ” یعنی تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو یہی وہ جذبہ ہے۔ جو مال کی محبت کو کم کرکے بخل سے نجات دلاتا ہے۔ گویا نماز اور زکوٰۃ حب جاہ اور حب مال کی بیماری کا علاج ہے نماز جامع عبادت ہے : امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر بیضاوی ج 1 ص 53) کہ اللہ تعالیٰ نے “ واستعینوا بالصبر والصلوۃ ” میں نماز کے ساتھ توسل پکڑنے کا اس لیے حکم دیا ہے کہ نماز تمام عبادات کی جامع ہے۔ نماز میں روحانی ، نفسانی اور جسمانی ہر قسم کی عبادات جمع ہیں۔ مثلاً نماز طہارت پر موقوف ہے اور طہارت اسلام میں ایک بہت بڑا اصول ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات کا حصہ ہے اسی طرح ستر کا ڈھانپنا نماز کے لیے شرط ہے۔ ستر پوشی تو ہر حالت میں لاز ہے مگر نماز کے دوران تو اور زیادہ مؤکدہ ہے۔ انسان برہنگی کی حالت میں نماز ادا نہیں کرسکتا۔ عبادت کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ مال بھی صرف کرنا پڑتا ہے۔ تو گویا نماز میں انفاق جیسی عبادت بھی شامل ہے۔ پھر نماز کے لیے قبلہ شریف کی طرف رخ کرنا بھی ضروری ہے۔ نماز کی حالت میں انسان معتکف ہوتا ہے۔ اور اعتکاف ایک مستقل عبادت ہے لہٰذا نماز میں عکوف بھی شامل ہے نماز کے دوران انسان کے اعضا اور جو ارع خشوع کا اظہار کرتے ہیں۔ دل سے نیت اور اخلاص بھی ضروری ہے۔ اگر نیت اور خلوص نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی اسی طرح نماز میں شیطان کے ساتھ مجاہدہ بھی شامل ہے۔ نماز میں انسان رب العزت کے سامنے مناجات کرتا ہے۔ اور قرآن کریم کی تلاوت جیسی بہترین عبادت سے فیضیاب ہوتا ہے۔ نماز میں انسان شہادتیں کا تکلم کرتا ہے اور کہتا ہے “ اشھد ان لا لہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ ” یہ بہت بڑی حقیقت ہے۔ جس کی انسان گواہی دیتا ہے۔ نماز میں انسان کھانے پینے سے بھی اجتناب کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ الغرض امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں ، کہ نماز ایک ایسی اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ کہ اس میں بہت سی دوسری عبادات بھی شامل ہیں۔ نماز باجماعت : نماز و زکوٰۃ کا حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا “ ورکعوا مع الراکعین “ اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ ۔ مطلب یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ مل کر نماز ادا کرو۔ اسی لیے تو نماز باجماعت ہمارے مذہب میں تقریباً وجوب کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ حضور ﷺ کی ایسی سنت مؤکدہ ہے۔ کہ اگر بلاعذر ترک کر دے تو انسان منافقوں میں شمار ہونے لگتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں ہے (1 ۔ مسلم ج 1 ص 232) کہ اگر تم بلاعذر نماز سے تخلف کروگے تو پیغمبر (علیہ السلام) کی سنت کو چھوڑنے والے بن جاؤ گے۔ اور اگر ایسا کروگے تو “ نضللتم ” گمراہ ہوجاؤ گے۔ صرف معذور افراد کو گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ وگرنہ تندرست آدمی کو بغیر جماعت کے نماز پڑھنے کی قطعا اجازت نہیں۔ صحابہ کرام ؓ فرماتے ہیں (2 ۔ مسلم ج 1 ص 232) کہ ہم لوگ جماعت میں شریک ہوتے تھے اور جماعت سے پیچھے وہی رہتا تھا جس کا نفاق معلوم ہوتا ہے۔ یا وہ معذور ہوتا تھا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں (3 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 213 ، معالم التنزیل ج 1 ص 24) کہ یہودیوں کی نماز میں رکوع نہیں تھا۔ صرف سجدہ ہی ہوتا تھا۔ اس لیے حکم ہوا کہ رکوع بھی کرو۔ اگرچہ یہ سجدہ سے کم درجے کا رکن ہے۔ مگر بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ جس نماز میں رکوع نہ ہو۔ وہ نماز باطل ہوجاتی ہے بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں (4 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 213 ، تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 85) کہ بیشک رکوع نماز کا ایک اہم رکن ہے۔ مگر “ مع الراکعین ” سے صاف واضح ہے کہ اس سے مراد نماز باجماعت ہے ۔ کیونکہ اس میں انسان کے لیے بیشمار فوائد ہیں۔ اسی سے اجتماعیت کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ بہت سی بیماریوں کا علاج ہے۔ قول و فعل میں تضاد : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو انعامات یاد دلائے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے آخری پیغام پر ایمان لانے کی تلقین کی پھر ان کی خامیاں ظاہر کرکے انہیں تلبیس اور کتمان حق سے منع فرمایا۔ ان بیماریوں کا علاج نماز اور زکوٰۃ بتلایا۔ اور اس کے بعد بنی اسرائیل کی بہت بڑی کمزوری کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا “ اتامرون الناس بالبر ” کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو۔ “ وتنسون انفسکم ” اور اپنی جانوں کو فراموش کردیتے ہو۔ “ اتنسون انفسکم ” اور اپنی جانوں کو فراموش کردیتے ہو۔ “ وانتم تتلون الکتب ” حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو۔ مقصد یہ کہ جس نیکی کی طرف تم دوسرے لوگوں کو دعوت دیتے ہو۔ خود جانتے بوجھتے بھی اس پر عمل نہیں کرتے بلکہ ظاہر ہے۔ کہ یہودی توارۃ کے عالم تھے اور وہ لوگوں کو توراۃ کے حقائق سے روشناس کراتے تھے۔ ان میں اللہ تعالیٰ کے آخری کلام قرآن پاک اور آخری نبی محمد رسول اللہ کے متعلق پیشن گوئیاں بھی موجود تھیں۔ جو انہوں نے لوگوں کو بتا رکھی تھیں۔ مگر جب یہ حقائق سامنے آگئے تو دوسروں کو وعظ کرنے والے یہودی علماء خود ان حقائق سے منحرف ہوگئے۔ گویا انہوں نے اپنے آپ کو فراموش کردیا۔ بعض علماء فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر معالم تنزیل ج 1 ص 24 ، مظہری ج 1 ص 62) کہ یہودی عالم اپنے مسلمان رشتہ داروں کو کہا کرتے تھے۔ کہ تم جس شخص پر ایمان لائے ہو ۔ وہ بلاشبہ سچا اور آخری نبی ہے۔ اس کا دامن نہ چھوڑنا ۔ مگر خود اس پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ایمان لانے سے ان کے مالی فوائد ضائع ہوتے تھے ان کے اسی رویہ کے متعلق فرمایا کہ دوسروں کو تلقین کرتے ہیں اور خود کو فراموش کرتے ہیں ۔ محض دنیوی لالچ کے بدلے جہنم کے کندہ ناتراش بنتے ہیں۔ آگے سورة آل عمران میں ذکر آئے گا۔ کہ نصاریٰ کا ایک وفد حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔ مگر دنیا کے مال کی خاطر ایمان سے محروم رہا سیرت کی۔ اور دوسری کتابوں میں موجود ہے (2 ۔ تفسیر عثمانی مع ترجمہ شیخ الہند ص 64) کہ اس وفد کے لوگوں نے کہا۔ کہ اگر ہم ایمان قبول کرلیں۔ تو ہمارے وظیفے اور تنخواہیں بند ہوجائیں گی۔ لہٰذا ہم ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ تم دوسروں کو تو نیکی کی طرف دعوت دیتے ہو۔ مگر خود اس سے بچتے رہو یہ کہا کا انصاف اور عقلمندی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (1 ۔ تفسیر کبیر ج 1 ص 86) کہ معراج کی رات میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا ۔ جن کے ہونٹ جہنم کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے۔ میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا۔ یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا کہ حضور ! یہ آپ کی امت کے خطیب ہیں۔ جو لوگوں کو امر بالمعروف یعنی نیکی کا حکم کرتے تھے۔ مگر اپنے آپ کو فراموش کردیتے تھے۔ امام رازی (رح) نے بھی ایک روایت بیان کی ہے (2 ۔ تفسیر کبیر ج 3 ص 47) کہ جہنم میں ایک ایسا شخص بھی ہوگا۔ جس کی بدبو سے جہنم والے بھی بیزار ہوں گے لوگوں نے عرض کیا ۔ حضور ! ایسا بدبخت شخص کون ہوگا ؟ آپ نے فرمایا وہ صاحب علم شخص جو اپنے علم سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ ایک دوسری حدیث میں اس طرح آتا ہے (3 ۔ تفسیر کبیر ج 3 ص 47 ، ابن کثیر ج 1 ص 85) کہ جو شخص دوسروں کو نیکی سکھلاتا ہے۔ اور خود اس پر عمل نہیں کرتا۔ اس کی مثال ایسی ہے۔ جیسے چراغ جو دوسروں کو روشنی مہیا کرتا ہے۔ مگر خود جلتا رہتا ہے۔ بخاری اور مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے (4 ۔ مسلم ج 1 ص 412 ، بخاری ، تفسیر خازن ج 1 ص 55 ، درمنثور ج 1 ص 65) کہ قیامت کے روز ایک شخص کو لایا جائے گا۔ اور اسے اس حالت میں جہنم رسید کیا جائے گا۔ کہ اس کی آنتیں پیٹ سے نکل کر نیچے کی طرف لٹک رہی ہوں گی۔ وہ شخص آنتوں کو اس طرح کھینچے گا۔ جیسا گدھا خراس کو کھینچتا ہے لوگ اس کے اردگرد جمع ہوجائیں گے۔ اور پوچھیں گے کہ اے فلاں ! تجھے یہ مصیبت کس طرح پہنچی۔ حالانکہ تو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتا تھا۔ اور برائیوں سے منع کرتا تھا۔ وہ کہے گا۔ ہاں میں تم کو نیکی کا حکم کرتا تھا۔ مگر خود نیکی نہیں کرتا تھا۔ تمہیں برائیوں سے منع کرتا تھا مگر خود باز نہیں آتا تھا۔ اس لیے آج مجھے یہ سزا مل رہی ہے۔ تو فرمایا اے بنی اسرائیل ! تم لوگوں کو نیکی کی تلقین کرتے ہو۔ بڑے مسائل بیان کرتے ہو قرآن کی حقانیت کا اقرار کرتے ہو۔ نبی آخر الزمان کے اوصاف حمیدہ بھی بتلاتے ہو۔ مگر خود ایمان نہیں لاتے۔ اپنے آپ کو فراموش کیے بیٹھے ہو “ افلا تعقلون ” کیا تم میں عقل و شعور کا مادہ نہیں ہے کیا تم سمجھتے نہیں۔ صبر و صلوٰۃ کی برکات : فرمایا “ واستعینوا بالصلوٰۃ والصلوۃ ” یعنی مدد طلب کرو صبر اور نماز کے ساتھ ۔ صبر و صلوٰۃ کو اختیار کرو گے۔ تو برائیاں دور ہوجائیں گی ۔ حب مال و جاہ کا علاج بھی تم صبر کے ذریعے کرسکتے ہو۔ نماز پڑھو گے تو عجزو انکساری پیدا ہوگی اور اس میں مختلف بیماریوں کی شفا ہے۔ پھر فرمایا “ وانھا لکبیرۃ ” اور یہ نماز بیشک بڑی بوجھل اور بھاری ہے۔ “ الا علی الخشعین ” مگر عاجزی کرنے والوں کے لیے یہی نماز راحت کا سامان بنتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے (1 ۔ ابن کثیر ج 1 ص 87 ، طبری ج 1 ص 260) کہ حضور ﷺ کو “ اذا حزبہ امر فزع الی الصلوۃ ” جب کوئی پریشانی لاحق ہوتی۔ تو نماز کی طرف رجوع فرماتے ۔ کیونکہ نماز سے تعلق باللہ کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ اور انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس قدر مضبوط ہوگا۔ اسی قدر مشکلات کم ہوجائیں گی۔ انسان کو مصائب کا احساس اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا تعلق باللہ کمزور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نماز کئی ظاہری بیماریوں کی شفا کا سبب بھی بنتی ہے۔ امام ابن کثیر (رح) اور ابن جریر (رح) نے روایت بیان کی ہے (2 ۔ تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 87 ، تفسیر طبری ج 1 ص 260) کہ حضرت ابوہریرہ ؓ ایک دفعہ پیٹ کے درد میں مبتلا ہوگئے ۔ شدت درد کی وجہ سے آپ لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ حضور ﷺ کا آپ پر گزر ہوا۔ تو فارسی لہجہ میں فرمایا “ اشکم درد ” کیا تمہارے پیٹ میں درد ہو رہا ہے شکم فارسی میں پیٹ کو کہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے عرض کیا “ نعم ” کہ حضور ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا۔ “ قم فصل فان الصلاۃ شفآء ” اٹھو اور نماز پڑھو کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے شفا رکھی ہے۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نماز پڑھی۔ تو پیٹ کا درد دور ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے شفا عطا کردی۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے۔ رجوع الی اللہ : تو فرمایا یہ نماز بوجھل ہے۔ مگر عاجزی کرنے والوں پر نہیں اور وہ کون لوگ ہیں “ الذین یظنون ” جو یقین کرتے ہیں “ انھم ملقوا ربھم ” کہ وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کرنے والے ہیں لفظ ظن اضداد معانی میں استعمال ہونے والا لفظ ہے ، اس کا معنی گمان بھی ہوتا ہے۔ اور یقین بھی۔ مگر یہاں پر ظن کا معنی یقین ہے۔ عربی زبان میں بعض دوسرے کئی الفاظ بھی متضاد معانی رکھتے ہیں۔ جیسے جون کا معنی سیاہ بھی اور سفید بھی۔ اسی طرح حمیم کا معنی گرم اور سرد دونوں طرح ہوتا ہے۔ فرمایا یہ نماز ان لوگوں پر بوجھل نہیں ہے جنہیں یقین ہے کہ انہیں ایک دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ۔ وہاں اعمال کی باز پرس ہوگی۔ اور نماز جیسی نعمت کی قدر وہاں جا کر معلوم ہوگی۔ اور انہیں یہ بھی یقین ہے “ وانھم الیہ رجعون ” کہ انہیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا “ والی اللہ ترجع الامور ” تمام چیزوں کا رجوع اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے۔ “ وان الی ربک المنتھی ” اور ہر چیز کی انتہا بھی وہیں ہوگی۔ چونکہ عاجزی کرنے والوں کا ان باتوں پر یقین ہے۔ اس لیے وہ نہایت خوشی اور ذوق و شوق کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ ان پر یہ بھاری نہیں ہوتی۔
Ayahs 2:47–50

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اے اسرائیل کی اولاد ! یاد کرو میری اس نعمت کو جو میں نے تم پر انعام کی اور یہ کہ میں نے تم کو فضیلت بخشی جہان والوں کے مقابلے میں

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اور ڈرو اس دن سے کہ نہیں بچائے گا کوئی نفس دوسرے نفس سے کچھ بھی ، اور نہ قبول کی جائے گی اس سے سفارش اور نہ لیا جائے گا اس سے فدیہ اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو۔ جب ہم نے تم کو نجات دی فرعون والوں سے ۔ وہ چکھاتے تھے۔ تم کو بہت بری سزا۔ وہ ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو ۔ اور زندہ چھوڑتے تھے۔ تمہاری عورتوں کو اور اس بات میں آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:50 in the Quran reader

اور اس بات کو یاد کرو جن ہم نے تمہارے لئے دریا کو پھاڑ دیا تھا۔ اور ہم نے تمہیں نجات دی اور ال فرعون کو غرق کیا۔ اور تم دیکھ رہے تھے

ربط آیات : پہلے رکوع میں اجمال تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ بنی اسرائیل کا ذکر کیا ہے۔ اور انہیں وہ انعامات یاد دلائے ہیں جو ان پر ظاہر کیے گئے تھے ، نزول قرآن کے زمانے کے بنی اسرائیل کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ایمان قبول کرلیں۔ نیز اس قوم میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ساتھ ساتھ اہل ایمان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی روش سے بچتے رہیں۔ کہیں ان کی خرابیوں میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ فرعون کی غلامی میں عرصہ دراز تک رہنے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بیشمار خربیاں اور سرکشی کا مادہ پیدا ہوگیا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بیشمار انبیاء (علیہم السلام) تشریف لائے مگر سرکشی کا جو مادہ اس قوم میں پیدا ہوچکا تھا۔ وہ برقرار رہا یہ سب باتیں ان آیات سے واضح ہوں گی ۔ بنی اسرائیل کی فضیلت : اسرائیل کا معنی اللہ کا بندہ ہے۔ اور یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ارشاد ہوتا ہے “ یبنی اسرآء یل ” اے فرزندان یعقوب “ اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم ” اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں بنی اسرائیل کی غلامی سے آزادی بحیثیت قوم انہیں برتری دنیا اور ان میں کثرت سے نبی بھیجنا وغیرہ شامل ہیں اور دوسری بات یہ کہ “ وانی فضلتکم علی العلمین ” تمہیں جہان والوں پر فضیلت بخشی ۔ سورة مائدہ میں آتا ہے “ اذجعل فیکم انبیآء وجعلکم ملوکا ” یاد کرو اس احسان کو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر بڑے بڑے بادشاہ پیدا کیے اور کثرت سے انبیاء مبعوث فرمائے۔ اور تم کو وہ چیز عطا کی جو جہان والوں میں سے کسی دوسری قوم کو عطا نہیں کی ۔ یہاں پر بنی اسرائیل کی جہان والوں پر فضیلت سے یہ مراد نہیں ہے کہ انہیں حضور اکرم ﷺ کی امت پر بھی فضیلت حاصل ہے قرآن پاک میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو سب سے زیادہ فضیلت بخشی ہے۔ اور اس فضیلت کا تعلق دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی گویا دونوں جہانوں میں امت محمدیہ کی فضیلت مسلم ہے۔ بنی اسرائیل کی فضیلت سے مراد یہ ہے کہ انہیں اپنے دور میں دینی اور دنیوی ہر دو لحاظ سے باقی قوام عالم پر برتری حاصل تھی۔ اس زمانے میں اس قوم میں صلاحیت بھی پائی جاتی تھی۔ اور ان کی علمی حیثیت بھی مستند تھی۔ ایک خاص چیز جو بنی اسرائیل میں پائی جاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس قوم نے اپنی تاریخ کو محفوظ رکھا ہے۔ چناچہ بائیبل کا ایک بڑا حصہ تاریخ بنی اسرائیل پر مشتمل ہے۔ برخلاف اس کے ہندو قوم ہزاروں برس تک برسراقتدار رہی ہے۔ مگر سوائے چھوٹے موٹے قصے کہانیوں کے ہندوؤں کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ اپنی یہ خامی خود ہندو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ گویا بنی اسرائیل کے دور میں جو دوسری اقوام موجود تھیں ان میں سے کسی کی تاریخ بھی محفوظ نہیں ہے۔ بنی اسرائیل ہی ایک واحد قوم ہے جس کی تاریخ ملتی ہے۔ اسلامی تاریخ کی حفاظت : البتہ جب حضور خاتم النبین ﷺ کی امت کا زمانہ آیا تو انہیں علمی لحاظ سے بھی برتری حاصل ہوئی اور انہوں نے اپنی تاریخ کو بھی محفوظ کرلیا۔ انہیں زمانے میں بڑا عروج حاصل ہوا ۔ مگر جب یہ امت بھی زوال پذیر ہوئی تو اس کی حیثیت بھی دنیا کی دیگر زوال پذیر اقوام سے مختلف نہ رہی۔ موجودہ دور کے مسلمان کو اپنی تاریخ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ نہ اپنی تاریخ کی حفاظت کی کوشش کرتا ہے۔ اور نہ اپنی کتاب کی تشریح اور تفسیر معلوم کرنے کی سعی کرتا ہے۔ مسلمانوں کے زمانہ عروج کی تاریخ تو آج بھی موجود ہے۔ اسلام نے بڑے بڑے مؤرخ پیدا کئے۔ جنہوں نے اپنے زریں دور کے ایک ایک لمحے کو اپنی کتابوں کے اوراق میں محفوظ کرلیا۔ ان مؤرخین میں علامہ طبری (رح) تیسری صدی ہجری میں ہوئے ہیں۔ ابن خلدون (رح) اور ابن کثیر ، آٹھویں صدی کے مؤرخ ہیں۔ ابن اثیر (رح) جنہوں نے تاریخ اور دیگر علوم کو محفوظ کیا۔ جو مفسر بھی ہیں اور تاریخ دان بھی۔ مگر آج ہم ہیں جو اپنے اکابر کے جمع کردہ علمی ذخیرہ سے بھی خاطر خواہ مستفید نہیں ہوپاتے ۔ جب سے انگریز کی جدت پیدا ہوئی ہے۔ اس نے مسلمانوں کو ان کی اپنی تاریخ سے بےبہرہ کردیا ہے آج مسلمان اپنی تاریخ کو فراموش کرچکا ہے۔ اسے اب یورپ کے افراد پر فخر ہے۔ ان کی تاریخ کو حفظ کرتے ہیں۔ اپنی تاریخ سے نہ تو واقفیت پیدا کی جاتی ہے ۔ اور نہ اسے محفوظ کرنے کی تگ و دو ہوتی ہے۔ امت مسلمہ کی برتری : بہرحال یہ چیز بنی اسرائیل کے خصائل میں سے ہے۔ کہ انہوں نے اپنی تاریخ کو محفوظ رکھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں فضیلت بخشی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں عالمین پر فضیلت بخشی۔ یہ بات قابل ذکر ہے۔ کہ عالمین سے مراد اقوام عالم ہیں۔ اور اس سے صرف انسان مراد ہیں۔ کیونکہ دنیا کی باقی اشیاء تو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا فرمائی ہیں “ خلق لکم ما فی الارض جمیعا ” زمین کی ہر چیز تمہارے لیے پیدا کی۔ لہٰذا برتری صرف انسان کو ہی حاصل ہے۔ چناچہ بنی اسرائیل کو اپنے زمانہ میں اقوام عالم پر فضیلت مطلقا ہر زمانے کے لیے نہیں تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا (1 ۔ بخاری ج 1 ص 120 ومسلم ج 1 ص 182) بعد میں انے والی ہے۔ مگر قیامت کے دن سب سے آگے ہوگی ان کا حساب و کتاب بھی باقی امتوں سے پہلے ہوگا۔ اور جنت میں بھی سب سے پہلے جائیں گے۔ انہیں باقی تمام امتوں پر برتری حاصل ہوگی۔ برتری کا معیار تقویٰ ہے : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان پر کیے گئے انعامات یاد دلانے کے بعد فرمایا “ واتقوا یوما لا تجزی نفس عن نفس شیئا ” اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی نفس نہ بچائے گا دوسرے نفس سے کچھ بھی۔ بہت ہی خوفناک اور خطرناک دن آنے والا ہے۔ ہر نفس کو اپنے عقیدے اور عمل کے مطابق بھگتنا پڑے گا ۔ یاد رکھو اس دن انسان کی برتری تقویٰ کے اعتبار سے ظاہر ہوگی۔ تقویٰ کی تشریح میں شیخ عبد القادر جیلانی (رح) نے یہ آیت پڑھی تھی (1 ۔ غلبۃ الطالبین ج 1 ص 142 مطبوعہ مصر) ۔ “ ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتآئ ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر ” تقویٰ یہ ہے کہ انسان دل و احسان کا دامن تھام لے۔ قربت داروں کے حق ادا کرے اور فحش اور بےحیائی کی باتوں سے بچتا رہے۔ عقیدے اور عمل میں اپنوں اور بیکانوں سے عدل لازم ہے۔ اور احسان تو بڑی منزل ہے۔ حقوق کی ادائیگی اس سے بھی آگے ہے۔ یہ تمام چیزیں تقوے میں شامل ہیں ۔ مسئلہ شفاعت : ولا یقبل منھا شفاعۃ اور نہ اس نفس سے سفارش قبول کی جائیگی ۔ شاہ رفیع الدین (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں مطلق سفارش کی نفی کی گئی ہے ، حالانکہ سفارش برحق ہے۔ قرآن و سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ سفارش ہوگی اس مقام پر جس سفارش کی نفی کی گئی ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی کافر کے حق میں سفارش مفید نہیں ہوگی۔ کسی کافر سے سفارش قبول نہیں کی جائیگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا (2 ۔ ترمذی ص 251 ، مسلم ج 1 ص 113) میری سفارش برحق ہے۔ اور یہ میری امت کے ہر اس شخص کو پہنچے گی “ من لایشرک باللہ شیئا ” جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا۔ مگر کافر کے حق میں یہ بالکل قبول نہیں ہوگی البتہ اگر کسی کی فطرت پاک ہوگی ۔ عقیدہ صحیح ہوگا۔ مشرک اور کافر نہیں ہوگا تو سفارش مفید ہوگی۔ “ من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ ” اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر بھی کوئی سفارش نہیں ہوگی۔ سفارش کی دوسری شرط یہ ہے “ ورضی لہ قولا ” سفارش اس کے حق میں ہوگی۔ جس کا عقیدہ اور بات اللہ تعالیٰ کو پسند ہوگی فاسد العقیدہ انسان کے بارے میں سفارش کا کوئی مکان نہیں۔ حضرت شاہ رفیع الدین (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر شاہ رفیع الدین ص 25) کہ ایک وقت ایس ابھی آئے گا جس وقت بالکل کوئی چیز مفید نہیں ہوگی حشر میں بڑی بڑی منزلیں آئیں گی۔ جب قہری تجلی زور سے نازل ہو رہی ہوگی تو انبیاء (علیہم السلام) بھی گھبرا جائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے (2 ۔ مسلم ج 1 ص 111) کہ نفسی نفسی پکاریں گے۔ اس موقع پر سفارش کہاں ہوگی ۔ ہاں بعض دوسرے مواقع پر دو شرائط کے ساتھ سفارش ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت ہو اور جس کے حق میں سفارش کی جا رہی ہے۔ اس کا عقیدہ صحیح ہو۔ فرمایا اس دن سے ڈرو جس دن سفارش بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ “ ولا یؤخذ منھا عدل ” اور جس دن فدیہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ کہ کوئی شخص فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا سکے۔ یہ بھی ممکن نہیں ہوگا۔ دوسری جگہ صاف موجود ہے۔ کہ اگر کوئی شخص سونے کی بھری ہوئی پوری زمین بھی فدیہ دیکر اپنی جان بچانا چاہے گا ۔ تو ایسا نہیں ہوسکے گا۔ اول تو اتنا مال و دولت ، سونا ، چاندی مہیا ہونا ہی ناممکن ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو اتنا بڑا فدیہ بھی کسی کام نہ آئے گا ۔ “ ولا ھم ینصرون ” اور نہ کسی طرف سے ان کی مدد ہوگی۔ دنیا میں کسی کو چھڑانے کے یہی طریقے ہیں۔ کہیں سفارش چل گئی۔ کہیں فدیہ یا نذرانہ دے دیا یا کہیں جتھا بندی کرلی۔ مگر میدان حشر میں ان میں سے کوئی چیز بھی کارگر نہیں ہوگی۔ بعض لوگوں نے سفارش کا عقیدہ بالکل ایسا بنا لیا ہے جیسے عیسائیوں نے کفارے کا عقیدہ بنا رکھا ہے۔ یہ غلط عقیدہ ہے۔ سفارش حقیقت میں انسان کے عقیدے اور اعمال کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ یہودیوں نے بھی غلط امید لگا رکھی ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دوزخ کے دروازے پر کھڑے ہوں گے۔ اور وہ کسی ختبہ کئے ہوئے اسرائیل کو دوزخ میں نہیں گرنے دیں گے۔ ہم جو چاہیں کرتے رہیں ، دوزخ میں نہیں جاسکتے۔ آگے آرہا ہے کہتے تھے “ وقالوا لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ” اگر ہم دوزخ میں گئے بھی تو صرف اتنے دن کے لیے جتنے دن ہمارے بڑوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔ وہ کہتے ہیں “ لن یدخل الجنۃ ومن کان ھود و نصری ” یعنی جنت کے وارث صرف یہودی اور عیسائی ہیں ۔ ان کے علاوہ اور کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ سراسر غلط عقیدہ ہے سفارش کے متعلق بھی لوگوں نے اسی قسم کا عقیدہ بنا لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو یا ناراض ، عقیدہ درست ہو یا باطل ، اعمال کا کوئی حصہ ہو یا نہ ہو۔ ہمارے سفارشی ہمیں بچا لیں گے۔ نبیوں کی شریعتیں بتاتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکلف بنایا ہے۔ مکلف ۔۔۔ ہوتا ہے۔ اس سے باز پرس ہوتی ہے۔ عقیدے اور اعمال کے متعلق پوچھا جائے گا۔ قرآن پاک میں صاف موجود ہے ۔ “ تاتی کل نفس تجاول عن نفسھا ” ہر نفس اپنی طرف سے دفاع کرے گا۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے (1 ۔ بخاری ج 2 ص 968) کہ وہ دن بھی آنے والا ہے۔ جس دن اللہ تعالیٰ انسان سے براہ راست خطاب کرے گا۔ “ ولیس بینہ وبینہ ترجمان ” جب خدا تعالیٰ اور انسان کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ براہ راست سوال و جواب ہوں گے۔ انسان مسؤل ہے اور جس سفارش کے عیسائی یا مشرک اور یہودی قائل ہیں ۔ ایسی سفارش کا اسلام میں کوئی مقام نہیں ہے۔ بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے مزید ارشاد ہوتا ہے “ واذنجینکم من ال فرعون ” اور یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی۔ فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے تھے۔ اس کے حواری بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔ اور ظلم و ستم میں فرعون کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ وہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے۔ “ یسومونکم سوء العذاب ” وہ تمہیں ذلت ناک بت سری سزا دے رہے تھے “ یذبحون ابنآء کم ” تمہارے بچوں کو ذبح کرتے تھے “ ویستحیون نسآء کم ” اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ مردوں کے قتل اور عورتوں کے زندہ رکھنے کا عمل بنی اسرائیل کے ساتھ دو دفعہ پیش آیا۔ پہلی دفعہ یہ ظلم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے ڈھایا گیا جب نجومیوں نے پیشگوئی کی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ جو فرعون کی سلطنت کے زوال کا باعث بنے گا۔ اس وقت فرعون نے حکم دے دیا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی بچہ پیدا ہو۔ اسے ذبح کردیا جائے اور اسے زندہ نہ چھوڑا جائے مگر جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے گھر میں ہی ان کی پرورش کی اور وہ سارے واقعات پیش آئے جو سورة قصص میں مذکور ہیں۔ ظلم کی اس چکی میں کتنے بچے پسے۔ اس کے متعلق مختلف روایات آتی ہیں۔ بعض کہتے ہیں (1 ۔ تفسیر ابو السعود ج 1 ص 80 ، معالم التنزیل ج 1 ص 25) کہ اس وقت نوے ہزار بچے ذبح کئے گئے ۔ ظلم و جور کی یہ انتہا تھی۔ ان والدین کے دل پر کیا گذرتی ہوگی۔ جن کے سامنے ان کے نومولود بچوں کو قتل کردیا جائے۔ ایسے والدین کی پریشانی کا کیا حال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے اس احسان کو یدا کرو۔ جب میں نے تمہیں اس ظلم سے نجات دی۔ بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کا دوسری دفعہ حکم فرعون نے اس زمانے میں دیا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی بن کر آئے اور تبلیغ کا کام شروع ہوا۔ اس وقت فرعون کو دوبارہ خطرہ پیدا ہوا۔ کہ بنی اسرائیل کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اسے کسی طرح کم کرنا چاہئے۔ چناچہ اس نے حکم دے دیا۔ کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہوئے پیدا ہوتے ہی قتل کردیا جائے۔ اور اگر لڑکی پیدا ہو تو اسے زندہ چھوڑ دیا جائے۔ لڑکیاں ہماری خدمت گزاری کے کام آسکیں گی۔ فرمایا “ وفی ذلکم بلاء من ربکم عصیم ” اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑا امتحان تھا۔ بنی اسرائیل کے لیے واقعہ یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔ کہ اپنے سامنے بچوں کو ذبح کرا کر وہ کسی طرح اس امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جب بنی اسرائیل اس امتحان میں کامیاب ہوئے ۔ ہمت اور حوصلہ نہ چھوڑا۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس ظلم سے نجات دے دی۔ فرعون کی غرقابی : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دوسرا بڑا احسان یہ جتلایا “ واذفرقنا بکم البحر فانجینکم ” اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا۔ اور تم کو نجات دی بنی اسرائیل جب ہجرت کرکے مصر آئے تھے تو اس وقت یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کے بہتر آدمی تھے۔ چار پانچ صدیوں کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکلے تو اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد تقریباً چھ لاکھ ستر ہزار ہوچکی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ کہ میرے ان بندوں کو لے کر یہاں سے نکل چلیں۔ آپ نے اپنی قوم سے مشورہ کیا اور طے یہ پایا کہ بغیر اطلاع یہاں سے نکلنا درست نہیں بلکہ فرعون سے اجازت حاصل کر لینی چاہئے ۔ چناچہ انہوں نے فرعون سے اجازت طلب کی کہ ہم باہر کسی تقریب میں جانا چاہتے ہیں۔ اجازت مل گئی۔ انہوں نے فرعونیوں سے زیورات وغیرہ بھی حاصل کرلیے کہ ایک خاص تقریب میں شامل ہونا ہے۔ چناچہ بنی اسرائیل سفر پر روانہ ہوگئے۔ سارا دن گزر گیا۔ اگلی رات فرعونیوں کو احساس ہوا کہ کہیں بنی اسرائیل بالکل ہی چلے جائیں۔ ان کا پتا کرنا چاہئے۔ فرعون نے تعاقب کا حکم دے دیا۔ ایک دن لشکر کی تیاری میں گزر گیا۔ اور دوسری رات بھی گزر گئی۔ بنی اسرائیل مسلسل چلتے رہے۔ مصر سے مشرق کی جانب بحیرہ قلزم آتا ہے۔ اس کو عبور کرنے کے بعد صحرائے سینا آتا ہے۔ یہ بارہ کوس کی مسافت ہے تفسیری روائتوں میں آتا ہے (1 ۔ ) کہ فرعون کا لشکر بارہ لاکھ افراد پر مشتمل تھا۔ شاہ رفیع الدین (رح) فرماتے ہیں (2 ۔ تفسیر شاہ رفیع الدین ص 26 طبع 1272 ھ) کہ لشکری اور بازاری لوگ ملا کر کل نفری ساٹھ لاکھ کے قریب تھی۔ ادھر جب بنی اسرائیل بحیرہ قلزم کے کنارے پر پہنچے تو پتا چلا کہ پیچھے فرعون لشکر لے کر آرہا ہے بڑے گھبرائے کہ اب تو ہم پکڑے جائیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی زندہ نہیں بچے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو تسلی دی کہ گھبراؤ مت “ ان معی ربی سیھدین ” بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ ضرور راہنمائی کرے گا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا “ ان اضرب بعصاک البحر ” یعنی اے موسیٰ اپنی لاٹھی سے سمندر میں بارہ جگہ ضرب لگاؤ ۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارہ مقامات پر ضرب لگائی اور بارہ راستے سمندر میں بن گئے۔ بارہ کوس کے لمبے راستے میں پانی کی دیواریں کھڑی ہوگئیں۔ گویا پانی منجمد ہوگیا۔ اور ان بارہ راستوں کے درمیانی دیواروں میں کھڑکیاں بھی بن گئیں۔ تاکہ دوران سفر ایک قبیلے کے لوگ دوسرے قبیلے والوں کو دیکھ بھی سکیں۔ یہ سب کچھ معجزانہ طور پر ہوا جس کی تصریح قرآن پاک اور تفاسیر میں موجود ہے۔ مگر سرسید اور پرویزی فرقے اس کا انکار کرتے ہیں ۔ بہرحال تمام قبیلے اپنے اپنے راستوں پر روانہ ہوئے پیچھے سے فرعون کا لشکر بھی آپہنچا۔ انہوں نے دیکھا کہ پانی میں راستے بنے ہوئے ہیں اور بنی اسرائیل ان راستوں پر رواں دواں ہیں۔ فرعونی گھوڑے پر سوار تھے۔ مگر ان کے گھوڑے پانی میں اترنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو گھوڑی پر سوار کرکے بھیجا۔ آپ آگے چلے۔ گھوڑی کی بو سونگھ کر فرعون کا گھوڑا بھی پیچھے پیچھے چل پڑا (1 ۔ تفسیر خازان ج 1 ص 54 ، مضطری ج 1 ص 68 ، معالم التنزیل ج 1 ص 26) میکائیل (علیہ السلام) کا حکم ہوا۔ کہ فرعون کے سارے لشکر کو پیچھے لاؤ۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ دیکھو بنی اسرائیل تمہارے ہاتھوں سے نکلے جا رہے ہیں۔ تعاقب کرکے ان کو پکڑ لو۔ چناچہ سارا لشکر پانی میں بنے ہوئے راستوں پر چل نکلا بنی اسرائیل بارہ کوس مسافت طے کر کے سمندر سے پار ہوگئے۔ اور فرعون کا سارا لشکر پانی میں بنے ہوئے راستوں کے درمیان آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا “ فغشیھم من انیم ما غشیھم ” پھر پانی کی موجوں نے انہیں اس طرح گھیرا کہ ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچا۔ صرف فرعون کی لاش کو پانی نے عبرت کے لیے باہر پھینک دیا۔ اسی واقعہ کو یاد دلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ واغرقنا ال فرعون ” ہم نے تمام فرعونیوں کو غرق کردیا “ وانتم تنضرون ” اور یہ سب کچھ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوا۔ میرے اس احسان کو یاد کرو۔ جب تمہارے لئے سمندر میں راستے بنا دیے جن کے ذریعے تم نے سمندر کو عبور کرلیا اور فرعونیوں سے نجات پالی۔ مگر اس پانی میں فرعون کے سارے لشکر کو تمہارے سامنے غرق کردیا۔ ان احسانات کو یاد دلانے کا مقصد یہ تھا کہ اب بھی اپنی برائیوں سے باز آجاؤ۔ اور اس دن سے ڈر جاؤ۔ جس دن نہ کوئی سفارش کام آئیگی اور نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا۔ اور جو کچھ میں نے تمہارے اوپر نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ۔
Ayahs 2:51–54

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:51 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس رات کا وعدہ کیا۔ پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ اور تم ظلم کرنے والے تھے

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:52 in the Quran reader

پھر ہم نے معاف کیا تم کو اس کے بعد تاکہ تم شکر ادا کرو

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:53 in the Quran reader

اور اس بات کو یاد کرو جب ہم نے دی موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور فرقان تاکہ تم ہدایت پاجاؤ

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

اور اس واقعہ کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا۔ اے میری قوم کے لوگو ! بیشک تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ بوجہ بنا لینے کے بچھڑے کو معبود۔ پس توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے ۔ پس قتل کرو ایک دوسرے کو۔ یہ بہتر ہے تمہارے پیدا کرنے والے کے پاس۔ پس اس نے رجوع کیا تمہارے اوپر بیشک وہ تو نہ قبول کرنے والا مہربان ہے

نزول توراۃ : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر انعامات فرمائے ان کا ذکر مسلسل آرہا ہے ۔ فرعون کی غلامی سے نجات دلانے۔ دریا کو پھاڑ کر معجزانہ طور پر پانی میں راستے بنانا اور بنی اسرائیل کو بچانا اور پھر فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت وغیرہ کا ذکر آچکا ہے۔ اس درس میں بعض مزید انعامات کا تذکرہ ہے۔ منجملہ ان کے بنی اسرائیل کو کتاب اور شریعت عطا کرنا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ “ واذ وعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ ” اس بات کو دھیان میں لاؤ جب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ کوہ طور پر چالیس رات تک تنہائی میں اعتکاف کریں۔ قرآن پاک میں ہے کہ اصل وعدہ ایک مہینہ کا تھا۔ مگر بعد میں بڑھا کر چالیس رات کردیا گیا۔ وعدہ یہ تھا کہ مسلسل چالیس رات کے اعتکاف کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جائے گی۔ اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے۔ جب بنی اسرائیل فرعون کی غلامی سے نجات حاصل کرچکے تھے “ وعدنا ” باب مناعلہ کا صیغہ ہے۔ اور اس کا معنی بھی “ وعدنا ” ہی ہوتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے عظیم اور جلیل القدر پیغمبر تھے نبی ، رسول اور صاحب شریعت تھے خدا تعالیٰ کے خلیفہ بی تھے لفظ موسیٰ عبرانی زبان کا لفظ ہے۔ جسے عربی میں ڈھال لیا گیا ہے عبرانی زبان کا اصل لفظ میث تھا “ می ” کا معنی پانی اور شا کا معنی درخت ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بچپن میں پانی میں بہتے چلے آ رہے تھے۔ جب انہیں اٹھایا گیا۔ وہاں درخت بھی موجود تھے اس بنا پر آپ کا نام میشا اور پھر عربی میں موسیٰ بن گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے سولہ سو سال پہلے ہوئے ہیں۔ آپ کی عمر مبارک ایکسوبیس سال تھی۔ اسی عمر میں یہ سارے واقعات پیش آئے۔ آپ کے والد کا نام عمران تھا آپ کا شجرہ نسب اس طرح ہے موسیٰ بن عمران بن بعہر بن فاہث بن لادی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم لادی (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پ 1 ص 240) یعقوب (علیہ السلام) کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور عرف عام میں بڑا بیٹا ہی ریاست اور نیابت کا وارث ہوتا ہے اس لحاظ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو دونوں حیثیتیں حاصل تھیں۔ حقیقی ریاست یعنی نبوت بھی ان کو حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی اور رسول بنایا۔ اور عام ریاست یعنی نیابت بھی بڑا ہونے کی حیثیت سے آپ کو ہی حاصل تھی۔ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کو احساس ہوا۔ کہ وہ اب آزاد ہوچکے ہیں۔ غلامی کی زنجیریں ٹوٹ چکی ہیں۔ لہٰذا ان کے پاس اپنا قانون ہونا چاہئے۔ جس سے وہ راہنمائی حاصل کریں۔ اور اس کے مطابق زندگی بسر کریں۔ چناچہ قوم کی خواہش پر موسیٰ (علیہ السلام) نے رب العزت کی بارگاہ میں عرض کی کہ ہمیں کوئی قانون عطا کیا جائے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ۔ کہ طور پر آکر چالیس دن کا اعتکاب کرو تو تمہیں کتاب دی جائے گی۔ جو تمہارے لئے مکمل قانون ہوگی۔ تفسیر معالم التنزیل اور بعض دیگر تفاسیر میں یہ روایت بیان کی گئی ہے (1 ۔ معالم التنزیل ج 1 ص 278) ۔ کہ بنی اسرائیل بحر قلزم کو عبور کرکے صحرائے سینا میں وارد ہوئے اور انہوں نے چالیس سال میدان تیر میں گزارے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات بھی وہیں ہوئی۔ ہارون (علیہ السلام) بھی اسی مقام پر فوت ہوئے۔ تاریخ سے بھی یہ چیز ثابت ہے کہ چالیس سال تک بنی اسرائیل صحرائے سینا میں ہی صحرا نوردی کرتے رہے۔ یہ لوگ مصر کی طرف نہیں کئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ کہ ارض مقدس پر حملہ کرو۔ وہاں پر تمہیں قبضہ دلایا جائے گا۔ مگر یہ لوگ اس کے لیے تیار نہ ہوئے ۔ چالیس سال بعد نئی نسل نے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے ارض مقدس پر حملہ کیا اور کامیاب ہوئے اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نائب حضرت یوشع (علیہ السلام) منصب نبوت پر فائز تھے۔ انبیائے بنی اسرائیل میں حضرت یوشع (علیہ السلام) کا ذکر آتا ہے۔ تو ان کے زمانے میں شام اور فلسطین پر بنی اسرائیل قابض ہوئے۔ اس زمانے میں اس علاقے میں قوم عمالقہ کی حکومت تھی۔ معالم التنزیل کی روایت سے معلوم ہوتا ہے (2 ۔ ) کہ بحر قلزم کو پار کرتے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے قوم کے کچھ آدمیوں کو مصر کی طرف بھی بھیجا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ وہاں کا انتظام کریں ۔ ایسا نہ ہو کہ چور ، ڈاکو ، قزاق ، مفسد وغیرہ ملک میں بدامنی پھیلائیں ۔ یہ بات اگرچہ عام روایتوں کے خلاف ہے تاہم اس بات کا امکان ہو سکتا ہے۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض لوگوں کو وہاں بھیجا ہو۔ مگر آپ خود وہاں نہیں گئے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کوہ طور پر معتکف ہوئے تو وہاں سے اللہ تعالیٰ کی کتاب توراۃ ملی ۔ توراۃ کا لفظی معنی قانون ہے اور اس سے مراد قانون شریعت ہے۔ اپنے زمانے میں توارۃ بڑی عظیم المرتبت کتاب تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا۔ کہ ایسی کتاب عنایت کروں گا جس کی شریعت اور قانون قرنوں تک جاری رہے گا۔ آسمانی کتب میں سب سے اعلیٰ مرتبہ قرآن پاک کا ہے اور اس کے بعد توراۃ کا ۔ جس طرح قرآن پاک میں قانون فوجداری ، دیوانی ، اخلاق ، عبادات ، معاملات وغیرہ موجود ہیں۔ اسی طرح توراۃ میں بھی ہر قسم کے قوانین موجود ہیں۔ جس طرح توراۃ کا معنی قانون ہے۔ انجیل کا معنی بشارت ہے۔ زبور کا معنی صحیفہ ہے۔ اور ا س میں زیادہ تر دعائیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن ہے۔ جس کا معنی پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ چناچہ آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآن پاک ہی ہے۔ حکمت خاص نعمت ہے : مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ معالم التنزیل ج 1 ص 27 ، ابن کثیر ج 1 ص 91) کہ موسیٰ (علیہ السلام) ذوالقعدہ کی ابتداء میں کوہ طور پر معتکف ہوئے اور ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے توراۃ عطا کی۔ گویا پورا ماہ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن آپ نے اعتکاف کیا۔ یہ چالیس دن کا بھی خاص اثر ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے (2 ۔ فیض القدیر شرح جامع صغیر ج 2 ص 43) “ من اخلص للہ اربعین یوما ظھرت ینابیع الحکمۃ من قلبہ علی لسانہ ” جس نے چالیس دن تک اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کیا۔ حکمت اسکے دل سے نکل کر اس کی زبان پر ظاہر ہوجائے گی۔ حکمت دانشوری کو کہتے ہیں اور یہ بڑی گہری بات ہے جسے نصیب ہوجائے “ ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا ” جسے حکمت عطا کردی گئی۔ اسے خیر کثیر مل گئی دوسری جگہ فرمایا “ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ ” ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی۔ یہ لقمان اللہ والے ایک بزرگ تھے۔ نبی نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑی دانائی عطا کی تھی۔ تو مقصد یہ ہے کہ چالیس دن تک اخلاص برتنے سے حکمت زبان پر جاری ہوجائے گی۔ حدیث شریف کا یہ مطلب ہے۔ عدد چالیس کی حکمت : ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے (3 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 229) “ خمس طین ادم اربعین صباحا ” یعنی آدم (علیہ السلام) کی بھی چالیس روز تک خمیر کی گئی اور پیدائش کے سلسلہ میں بھی آتا ہے کہ جب حمل قرار پاتا ہے تو چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے۔ اس کے بعد علقہ میں تبدیل ہوجاتا ہے اس کے چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے۔ پھر چالیس د ن بعد اس میں روح انسانی ڈالی جاتی ہے (1 ۔ مسلم ج 2 ص 232 ، بخاری ج 2 ص 976) اس سے پہلے روح حیوانی ہوتی ہے۔ صوفیائے کرام عام طور پر چالیس دن کا چلہ کرتے ہیں ۔ چالیس دن روزہ بھی رکھواتے ہیں۔ اور عبادت بھی کرواتے ہیں جس کا خاص اثر ہوتا ہے ۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ کا مشہور واقعہ ہے (2 ۔ ) کہ ایک خوبصورت عورت باجماعت نماز پڑھا کرتی تھی۔ کسی نوجوان کی نظر پڑی تو اس پر عاشق ہوگیا۔ اس نے عورت کو ملاقات کا پیغام بھیجا۔ وہ بھی سمجھ گئی۔ کہ یہ شخص فتنے میں مبتلا ہوگیا ہے۔ وہ عورت کامل الایمان تھی کہنے لگی کہ میں تجھے ملاقات کا موقع اس شرط پر دینے کو تیار ہوں کہ تم حضرت عمر ؓ کے پیچھے چالیس دن تک نماز ادا کرو۔ اور یہ اس حالت میں ہو کہ تمہاری تکبیر اولیٰ فوت نہ ہو۔ اس شخص نے اسے نہایت آسان کام سمجھتے ہوئے نماز باجماعت شروع کردی۔ ابھی بارہ روز ہی گزرے تھے کہ اس میں تغیر آنا شروع ہوگیا۔ جب چالیس دن مکمل ہوئے تو اس شخص کی کایا ہی پلٹ چکی تھی۔ اب اس عورت نے پیغام بھیجا کہ تمہاری شرط پوری ہوچکی ہے۔ تم آکر ملاقات کرسکتے ہو۔ نوجوان نے جواب بھیجا کہ اب میری ملاقات اللہ تعالیٰ سے ہوچکی ہے۔ تمہاری ملاقات کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ چالیس دن کے چلے کا اس نوجوان پر یہ اثر ہوا۔ اس کے بعد اس عورت نے اس واقعہ کا ذکر اپنے خاوند سے کیا۔ اور اس نے سارا واقعہ حضرت عمر ؓ کو سنا دیا۔ آپ نے فرمایا “ صدق اللہ تعالیٰ ” اللہ تعالیٰ نے بالکل سچ فرمایا “ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر ” بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ اور پھر نماز بھی ایسی جو امیر المؤمنین ؓ کے پیچھے ادا کی گئی ہو سبحن اللہ اس کا کیا ہی اثر ہوگا۔ بہرحال چالیس کے عدد کا یہ خاص اثر ہے۔ بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی : جب موسیٰ (علیہ السلام) چالیس روز کے لیے کوہ طور پر معتکف ہوگئے “ ثم اتخذتم العجل من بعدہ ” تم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ “ وانتم ظلمون ” اور تم بڑے ظلم کرنے والے تھے۔ تم نے کچھ خیال نہ کیا۔ تمہارے پاس ایک پیغمبر بھی موجود تھے۔ مگر اس کے باوجود تم گوسالہ پرستی میں مبتلا ہوگئے۔ شرک میں ملوث ہوگئے۔ حالانکہ “ ان الشرک لظلم عظیم ” شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ دوسری جگہ فرمایا “ والکفرون ھم الظلمون ” کفر کرنے والے بہت بڑے ظالم ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے حق میں دخل اندازی کرتے ہیں۔ اس کی صفات میں شرک کرتے ہیں۔ یا اس کی عبادت میں شریک ٹھہراتے ہیں۔ سورة طہٰ میں آتا ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو گوسالہ پرستی سے منع کرتے رہے۔ انہوں نے ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن اس قوم نے کوئی بات نہ مانی۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 241) کہ گوسالہ پرستی ہر قوم میں پائی جاتی ہے۔ یہ مت سمجھو کہ صرف بچھڑے کی پوجا ہی مشرکانہ فعل ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا جس کی بھی پوجا کی جائے گی۔ وہ شرک ہی ہوگا۔ ترمذی شریف میں حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (2 ۔ تفسیر عزیزی پارہ 1 ص 241) “ تعس عبد الدنیار ” تباہ ہو دینار کا بندہ تباہ ہو درہم کا بندہ تباہ ہو کمبل کا بندہ۔ “ ان اعطی رضی وان لم یعط سخط ” اگر اسے دے دیا جائے تو راضی ہوجاتا ہے۔ اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہوتا ہے۔ یہ دراصل درہم و دینار کی عبادت ہی تو ہے۔ اس کو بھی گوسالہ پرستی سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ ایک عام مقولہ ہے کہ جو چیز تجھے خدا تعالیٰ کی عبادت سے غافل کردیتی ہے ۔ وہ تیرا طاغوت ہے۔ مختلف قوموں کے ایک دوسرے پر اثرات : اس مقام پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ہارون (علیہ السلام) جیسے نبی کی موجودگی میں بنی اسرائیل گوسالہ پرستی میں کیسے مبتلا ہوگئے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (3 ۔ قصص القرآن ج 1 ص 442) کہ اس کی غالب وجہ یہ ہے کہ مصر میں صدیوں تک رہتے ہوئے بنی اسرائیل نے مصریوں کے اثرات قبول کرلیے تھے۔ مصری لوگ سانپ کی پوجا کرتے تھے۔ گائے کی پوجا کرتے تھے۔ اور سورج کی پوجا کرتے تھے۔ فرعون کا معنی ہی بڑا دیوتا ہے۔ اور یہ سورج کے نام پر بنایا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ مظاہر فدرت کی پوجا کرتے تھے۔ یہی چیز بنی اسرائیل میں بھی سرایت کرچکی تھی۔ لہٰذا انہوں نے بھی بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ اقوام عالم کے ایک دوسرے پر اثرات تاریخی طور پر ثابت ہیں۔ برصغیر کے مسلمان ہندوں کے آثار سے بہت متاثر ہوئے۔ ہندوؤں کی بہت سی رسمیں مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مرنے والے کا تیجا ، ساتواں ، چالیسواں وغیرہ ہندو وانہ رسوم ہیں۔ ورنہ مسلمانوں کا ان رسموں سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح بنی اسرائیل چونکہ مصریوں کے غلام تھے۔ لہٰذا مصریوں کے اثرات بنی اسرائیل میں بھی سرایت کر گئے۔ موجودہ زمانے میں دیکھ لیں جو قومیں انگریز کی غلامی میں رہی ہیں۔ وہ سب ان کی تہذیب و تمدن سے متاثر ہیں۔ مشرقی ممالک میں سے ایرانیوں ، ہندوستانیوں اور پاکستانیوں نے ان کا بڑا اثر قبول کیا ہے۔ یہی حال عربوں ، مصریوں اور شامیوں کا ہے۔ بعینہ مصریوں کی عادات بنی اسرائیل میں سرایت کو چکی تھیں۔ لہٰذا موقع ملتے ہی انہوں نے گوسالہ شرستی شروع کردی۔ مسئلہ حلول : بعض اسرائیلی حلول عقیدہ رکھتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز میں حلول کرجاتا ہے۔ اور اس شکل میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ جیسے ہندوؤں میں اوتار کا عقیدہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ فلاں کی شکل میں ظاہر ہوگیا ہے۔ یا فلاں جہنم میں اس نے ظہور کرلیا ہے۔ تو اسی قسم کے غلط عقیدہ کی بنا پر سامری بدبخت انہیں گمراہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ جیس ا کہ قرآن میں موجود ہے۔ سامری نے کہا “ ھذا الھکم والہ موسیٰ ” یعنی تمہارا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا الٰہ یہی ہے اللہ تعالیٰ اس بچھڑے میں حلول کر آیا ہے۔ اور اس کی پوجا شروع کر دو ۔ بچھڑے نے بولنا تو شروع کر ہی دیا تھا۔ جہال قسم کے بنی اسرائیل سامری کی باتوں میں آگئے ۔ اور انہوں نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ باقی رہ ایہ سوال کہ سامری نے یہ کرشمہ کیسے ظاہر کردیا۔ تو یہ شخص میجک ماسٹر یا مداری یا جادوگر تھا۔ دو مختلف قسم کے ٹرک جانتا تھا۔ چناچہ اس نے چال بازی سے کام لیا۔ جب فرعون کا لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں بحیرہ قلزم پر پہنچا اور ان کے گھوڑے سمندر میں اترنے سے ہچکچائے تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو گھوڑی پر سوار کرکے بھیجا جو لشکر فرعون کے آگے آگے چل نکلی۔ سامری نے دیکھا کہ جس جگہ پر جبرائیل (علیہ السلام) کی گھوڑی کا پاؤں لگتا ہے وہاں فوراً سبزہ اُگ آتا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ اس میں کوئی کرشمہ ہے ، اس نے گھوڑی کے پاؤں والی جگہ کی تھوڑی سی مٹی محفوظ کرلی۔ وہ سنار تو تھا ہی اس نے سونے کا بچھڑا بنایا۔ اور اس کے منہ میں وہ مٹی رکھ دی ۔ جس کی وجہ سے بچھڑے نے بولنا شروع کردیا۔ چناچہ اس نے مشہور کردیا۔ کہ خدا تعالیٰ اس میں حلول کر آیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی : موسیٰ (علیہ السلام) چالیس روزہ اعتکاف کے بعد اللہ تعالٰٰ کی کتاب لے کر واپس آئے تو دیکھا کہ کئی لوگ شرک میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ آپ سخت ناراض ہوئے۔ مشرکین کو زجر کیا۔ اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے بھی بڑے ناراض ہوئے کہ آپ نے قوم کو شرک میں مبتلا ہونے سے کیوں نہ روکا۔ بھائی نے عذر پیش کیا کہ میرا قصور نہیں ہے۔ میں نے تو انہیں ہر چند شرک سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ مگر یہ تو میرے قتل کے درپے ہوگئے تھے ۔ “ وکادوا یقتلوننی ” یہ سارا واقعہ سورة اعراف میں موجود ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر یہ لوگ آپ کی بات نہیں مانتے تھے تو آپ ان کو چھوڑ کر الگ ہوجاتے اس کے جواب میں ہارون (علیہ السلام) نے کہا کہ میں نے تفریق کو پسند نہ کیا۔ کہ آپ واپس آکر اعتراض کرتے کہ قوم کو دو ٹکڑوں میں کیوں تقسیم کردیا ان میں پارٹی بازی پیدا کردی ہے۔ لہٰذا میں نے انہیں کے درمیان رہتے ہوئے انہیں سمجھانے کی کوشش کی ۔ مگر ان بدبختوں نے میری بات نہ مانی۔ بچھڑے کے پجاریوں کا قتل عام : جب موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو خوب ڈانٹا تو وہ پشیمان ہوگئے۔ انہیں احساس ہوگیا کہ انہوں نے غلط کام کیا ہے۔ اور اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔ تو عرض کیا کہ ہمارے اس جرم کا ازالہ کس طرح ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا “ ثم عفونا عنکم من بعد ذلک لعلکم تشکرون ” ہم نے تمہیں معاف کردیا۔ تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔ تمہاری توبہ قبول کرلی مگر بڑے سخت طریقے سے جیسا کہ آگے آیت میں آتا ہے “ واذا اتینا موسیٰ الکتب والفرقان جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ اور فرقان یعنی فیصلہ کن طاقت یا معجزات عطا کیے “ لعلکم تھتدون ” تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا “ واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم انکم ظلمتم انفسکم ” اے میری قوم کے لوگو ! تم نے اپنی جانوں پر بڑا ظلم کیا ہے۔ “ باتخاذکم العجل ” کہ ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا ہے۔ “ فتوبوا الی بارئکم ” پس توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے اور یہ توبہ صدق دل سے ہونی چاہئے۔ محض زبانی توبہ قابل قبول نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے توبہ کا طریق کا ر یہ متعین فرمایا کہ “ فاقتلوا انفسکم ” اپنی ہی جانوں کو قتل کرو۔ مقصد یہ تھا کہ جب لوگوں نے شرک کا ارتکاب نہیں کیا۔ وہ شرکوں کو قتل کردیں۔ اس کے بغیر توبہ قبول نہیں ہوگی فرمایا یہ بظاہر بہت بڑا امتحان ہے کہ تم خود ہی ایک دوسرے کو قتل کرو۔ مگر یاد رکھو “ ذلکم خیر لکم عند بارہکم ” یہ بات تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر ہے۔ الغرض حضرت ہارون (علیہ السلام) اپنے ان بارہ ہزار ساتھیوں کو لے کر آگئے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا سے اجتناب کیا تھا اور دوسروں کو بھی منع کرتے تھے ، ان کے ہاتھوں میں برہنہ تلواریں تھیں۔ ہارون (علیہ السلام) ایک اونچی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔ اور کہا (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 245) “ یامعاشر بنی اسرائیل ان اخوانکم اتوکم شاھرین سیوفھم یریدون ان یقتلوکم فاتقوا اللہ واصبروا ”۔ یعنی اے بنی اسرائیل کے گروہ۔ یہ تمہارے بھائی برہنہ تلواریں لیے تمہارے قتل کے لئے آئے ہیں لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔ اپنے قتل میں مزاحم نہ ہونا۔ چناچہ ہارون (علیہ السلام) کے ہمراہیوں نے تلواریں چلانا شروع کردیں ان کے اپنے عزیز و اقارب مارے گئے۔ بیشمار لوگ قتل ہوئے۔ فرمایا جب یہ شرط پوری ہوگئی تو “ فتاب علیکم ” اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کرلی “ انہ ھو التواب الرحیم ” بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے تو بہ کی قبولیت کا فائدہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل قتل ہو کر آخرت کے دائمی عذاب سے بچ گئے ۔