Ayahs 2:198–199ربط آیات
آیت کے پہلے حصے میں سفر حج کے دوران تجارت کی اجازت دی گئی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ ایسا کرتے تھے۔ مگر مسلمانوں کو تردد پیدا ہوا کہ کہیں یہ چیز حج جیسے مقدس فریضہ کے منافی نہ ہوا اور حج کے ثواب میں کمی کا باعث نہ بن جائے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ سفر حج کے دوران اگر تجارت کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ نیت خالص حج کی ہو اور ضمناً لین دین بھی ہوجائے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا ہے اور جائز ہے۔
وقوف عرفہ
آیت کے اس حصہ میں وقوف عرفہ اور وہاں سے واپسی کے متعلق احکام بیان کئے گئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ فاذا افضتم من عرفت پس جب تم عرفات سے …د واپس پلٹو فاذکرو اللہ عند لمشعر الحرام پس یاد کرو اللہ تعالیٰ کو مشعر الحرام کے پاس میدان عرفات میں وقوف کرنا حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے الحج عرفۃ حج دراصل نام ہی وقوف عرفہ کا ہے۔ لہٰذا جو شخص لو ذی الحج کو بعد انہ زوال سے لے کر دس تاریخ کی صبح صادق طلوع ہونے تک آیات لمحہ کے لئے بھی میدان عرفات پہنچ گیا اس نے حج کو پا لیا اور جو شخص ان اوقات میں وہاں نہیں پہنچ سکا۔ وہ حج سے محروم رہا۔ اسے اگلے سال قضا کرنا ہوگا۔ کیونکہ وقوف عرفہ کا کوئی بدل نہیں۔ حج کے دیگر ارکان مثلاً طواف ، قربانی ، رمی جمرات وغیرہ میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے اور کوئی چھوٹ بھی سکتا ہے۔ پھر اس کی تلافی دم ، صدقہ یا روزے کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ مگر وقوف عرفہ ایک ایسا اہم رکن ہے جس کی کوئی تلافی نہیں۔ میدان عرفات مکہ مکرمہ سے نو دس میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ میدان تین اطراف سے پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس کے اندر جبل رحمت نامی پہاڑ ہے جس کے دامن میں حضور ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر وقوف فرمایا تھا۔ تاہم آپ نے واضح فرما دیا کہ وفقت ھھنا وکل عرفۃ موقف یعنی میں نے یہاں قیام کیا ہے ۔ مگر سارا عرفات مئوقف ہے۔ جہاں کسی کو جگہ ملے وقوف کرسکتا ہے۔ سوائے بطن عرنہ کے جو مسجد نمرہ کی پچھلی طرف ہے ، وہاں وقوف جائز نہیں۔ چناچہ آج کل پورا میدان عرفات حاجیوں سے بھر جاتا ہے۔ وقوف عرفہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے حج کا رکن چلا آ رہا ہے۔ اسی طرح واپسی پر مزدلفہ کا وقوف اور پھر منیٰ میں ٹھہرنا سب حج کے لوازمات ہیں۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
فقوا علی مشاعرکم اپنے مشاعر پر ٹھہرو۔ اور پھر بتائے گئے طریقے کے مطابق اللہ کا ذکر کرو فانہ ارث من ارث ابیکم ابرھیم کیونکہ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی وراثت میں سے ایک ورثہ ہے۔
وقوف عرفات کے لئے آدمی کا احرام میں ہونا لازمی ہے۔ اگر بغیر احرام کی تعریف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اسے کن کہتے ہیں اور بعض شرط کہتے ہیں۔ بہرحال جس طرح وضو نماز کے لئے شرط ہے اور اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ اسی طرح نماز کے لئے تکبیر تحریہ بھی بمنزلہ شرط کے ہے۔ اس کے بغیر نماز درست نہیں۔ اسی طرح حج کے لئے احرام شرط ہے۔ اور اس کے بغیر حج ادا نہیں ہوتا۔
عرفات کے معانی
عرفات جمع ہے عرفہ کی اور عرفہ کا معنی پہچان ہے۔ اس ضمن میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔ اکثر تفسیروں میں اسے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ جب ان دونوں میاں بیوی کو زمین پر اتارا گیا تو حضرت حوا کو جدہ میں نازل کیا گیا جدہ کے معنی ہی دادی یا نانی کے ہیں حضرت حوا تمام بنی انسان کی دادی یا نانی ہیں اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو جزائر شرق الہند کے ایک جزیرہ مالدیپ یا سرنمدیپ میں اتارا گیا یہ جزیرہ سری لنکا کے قریب ہے۔ زمین پر اترنے کے بعد دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی تلاش میں مکہ مکرمہ پہنچے اور پھر ان کی ملاقات اسی میدان عرفات میں ہوئی اور انہوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا اس لحاظ سے اسے عرفات کا نام دیا گیا۔ اس دوران دونوں پر کیسا وقت گذرا اور کتنا عرصہ ہوا یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ عرفات کا معنی پہچان اور عرف کا معنی نیکی ہوتا ہے اور عرف گھوڑی کی گردن کے بالوں کو بھی کہتے ہیں۔ عرف اگر عین کی فتح کے ساتھ ہو تو اس کا معنی خوشبو بھی ہوتا ہے اور عرف پہچان کو بھی کہتے ہیں۔ اسی سے معرفت ہے۔ تاہم اس مقام پر پہچان والا معنی ہی زیادہ موزوں ہے۔ جب کوئی مسلمان ان جگہوں پر پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں فریضہ حج ادا کرتا ہے۔ … حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اللہ کو یاد کرتا ہے۔ تو وہ خدا کو پہچان لیتا ہے۔ یہ تمام چیز اللہ تعالیٰ کی پہچان کے لئے ہی کی جا رہی ہیں۔ کہیں وقوف ہو رہا ہے کہیں قربانی دی جا رہی ہے ، کہیں ذکر ہو رہا ہے اور کہیں مدزیں پڑھی جا رہی ہیں۔ کبھی دست بدعا بندہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہے اور گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا ہے۔ دعائیں کر رہا ہے۔ یہ سب معرفت الٰہی کے لئے ہی کیا جاتا ہے۔ اس لئے اس مقام کو عرفہ کہا جاتا ہے۔
عرفات کی مصروفیات
میدان عرفان ایک سنسان میدان ہے۔ جو سارا سال غیر آبا د رہتا ہے۔ تاہم ذی الحج کی نویں تاریخ کو سارے سال کی کسر نکل جاتی ہے ۔ جب پورا میدان حاجیوں سے بھر جاتا ہے۔ ہر طرف مخلوق خدا نظر آتی ہے۔ عجیب منظر ہوتا ہے۔ حضور ﷺ لیہ السلام کا فرمان ہے کہ شیطان جس قدر عرفہ کے دن ذلیل ہوتا ہے۔ اور کسی دن نہیں ہوتا۔ یہ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی باران رحمت کو اترتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے ۔
یوم عرفہ کی بعض خصوصیات ہیں کہ ذی الحج کی نویں تاریخ ہو اور انسان احرام کی حالت میں ہو۔ امام حج کے پیچھے ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی ظہر کے وقت میں ادا کی جاتی ہیں ردال کے فوراً بعد امام حج کا خطبہ دیتا ہے۔ اس کے بعد اذان ہوتی ہے۔ پھر اقامت ہوتی ہے۔ اور ظہر کے دو فرض ادا کئے جاتے ہیں۔ پھر اقامت ہوتی ہے اور عصر کی نماز دو رکعت ادا کی جاتی ہے۔ دونوں نمازوں کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔ نیز دو دو فرائض کے علاوہ سنن نوافل وغیرہ بھی ادا نہیں کئے جاتے اس کے بعد جبل رحمت کے قریب وقوف ہوتا ہے۔ یہ بڑا قیمتی وقت ہوتا ہے غروب آفتاب تک انسان کھڑے ہو کر دعائیں کرتے ہیں۔ ذکر و تلاوت میں مشغول رہتے ہیں۔ رو رو کر اللہ مالک الملک سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں یہ وقوف عرفات ہے پھر غروب آفتاب کے بعد یہاں سے نکل جانے کا حکم ہے …… مغرب سے پہلے میدان سے نکل جانا درست نہیں …” مشرکین مکہ کی بعض خرابیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ سورج ابھی کھڑا ہوتا تھا اور وہ عرفات سے نکل جاتے تھے۔ اس سے منع فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ میدان عرفان میدان عرفات یا مزدلفہ کے راستہ میں نماز مغرب ادا کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جاتی ہیں۔ خواہ رات کا آخری حصہ ہی کیوں نہ ہو۔
عرفات سے واپسی
الغرض ! میدان عرفات سے حاجیوں کی واپسی بعد غروب شمس مزدلفہ کے لئے ہوتی ہے۔ اسی کو کہا گیا ہے فاذا افضتم من عرفت پھر جب تم عرفات سے واپس پلٹو۔ افاضہ دراصل طواف کے لئے واپس لوٹنے کو کہتے ہیں اور یہ لفظ خاص طور پر کثرت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لوگ کثیر تعداد میں گروہ در گروہ عرفات سے واپس آتے ہیں۔ اس لئے یہاں پر افضتم کا لفظ لایا گیا ہے۔ اور اسی لئے اس طواف کو طواف افاضہ یا طواف زیادہ بھی کہتے ہیں۔
یہاں پر مشرکین کی ایک اور خرابی کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بعض لوگ تو غروب آفتاب سے پہلے ہی عرفات سے چل دیتے تھے اور بعض عرفات تک پہنچتے ہی نہیں تھے۔ بلکہ مزدلفہ میں قیام کرتے اور واپس آجاتے تو اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ نویں ذی الحج کو سب لوگ میدان عرفات میں وقوف کریں اور پھر وہاں سے سے غروف آفتاب کے بعد واپس پلٹیں۔ راستہ میں مزدلفہ کا قیام ہوتا ہے اور پھر دی تاریخ کو بیت اللہ شریف کا طواف کیا جاتا ہے۔ سورة حج میں اسی طواف کے متعلق فرمایا ” ولیطوفوا بالبینت العتیق “ پھر چاہئے کہ قدیم گھر کا طواف کریں۔ یہ وہی طواف ہے جو عرفات سے واپسی پر کیا جاتا ہے اور یہ حج کا رکن ہے۔
وقوف مزدلفہ
عرفات سے واپسی پر راستہ میں مزدلفہ کی منزل آتی ہے ۔ جہاں پر حاجی رات بسر کرتے ہیں۔ قرآن پاک نے اس جگہ کو مشعر الحرام یعنی حرمت والی نشانیاں کہا ہے یہاں پر دو پہاڑیاں ہیں جن کی درمیانی جگہ کو مشعر الحرام کہتے ہیں۔ فرمایا فاذکرو اللہ عند المشعر الحرام پس مشعرالحرام کے نزدیک اللہ کا ذکر کرو۔ رات وہاں بسر کر کے اگلی صبح فجر کی نماز اول وقت ادا کر کے وہاں وپوف کیا جاتا ہے جسے وقوف مزدلفہ کہتے ہیں۔ وقوف عرفہ تو فرض ہے ۔ مگر وقوف مزدلفہ واجب کے حکم میں آتا ہے۔ بہرحال نماز فجر کے بعد وہاں پر وقوف کرنا اور دعائیں کرنا واجب ہے۔ حضور ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر ایسا ہی کیا تھا اور پھر سورج نکلنے سے پہلے ہی واں سے منیٰ کی طرف چل دیئے تھے۔ آج بھی حاجیوں کے لئے یہی حکم ہے کہ رات مزدلفہ میں قیام کریں۔ فجر کی نماز وہیں ادا کریں۔ اور پھر ذکر الٰہی میں مصروف ہوجائیں۔ اس کے بعد طلوع آفتاب سے قبل ہی منیٰ کو روانہ ہوجائیں۔ امام ابوحنیفہ کے مطابق جو شخص مزدلفہ میں وقوف نہیں کرے گا اسے دم دینا ہوگا۔ کیونکہ یہ واجب کا درجہ رکھتا ہے۔ البتہ بیمار اور ضعیف حاجیوں کو اجازت ہے کہ وہ مزدلفہ میں تھوڑی دیر قیام کے بعد رتا کو ہی منی کو چلے جائیں اور صبح کی نماز منی میں جا کر ادا کرلیں ۔ حضور ﷺ نے حضرت سودہ جو بیمار تھیں ان کو اور بعض دوسرے ضعیف اہل خاندان اور بچوں کو اجازت دیدی تھی کہ وہ مزدلفہ میں رات کے وقت تھوڑی دیر وقوف کریں دعائیں کریں اور پھر منی کے لئے روانہ ہوجائیں تاکہ وہ عام لوگوں کے پہنچنے سے پہلے پہلے آسانی کے ساتھ رمی کرلیں کیونکہ رمی کرنا بھی بہت کٹھن کام ہے آپ نے ضعیف اور بیماروں کو اول وقت میں رمی کی اجازت مرحمت فرما دی۔
بہرحال حضور ﷺ نے فرمایا کہ مزدلفہ کلھا موقف یعنی سارا مزدلفہ موقف ہے۔ جہاں کسی کو جگہ میسر آئے ٹھہر جائے البتہ وادی محسر جو منیٰ کی طرف ہے۔ وہاں نہیں ٹھہرنا چاہئے۔ باقی ہر جگہ قیام کرسکتا ہے۔
ذکر الٰہی
فرمایا مشعر الحرام کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کما ھدلکم جس طرح اس نے تمہیں ہدایت دی ۔ لفظ کما مشبہ بھی بن سکتا ہے اور تعلیلہ بھی اور زائد بھی بن سکتا ہے۔ جیسے یاد کرو اللہ کو لانہ ھدلکم اس لئے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے۔ یہ کما تعلیلیہ ہے۔ اللہ نے تمہیں ایمان کی دولت بخشی ہے اس لئے اس کو یاد کرو۔ اسی قسم کا کاف تعلیلیہ حضور ﷺ کی بعثت کے ضمن میں پہلے گزر چکا ہے۔ نیا کپڑا پہننے کی دعا بھی حضور ﷺ نے ایسی ہی سکھائی ہے ۔ اللھم للک الحمد کما کسوتنی اے اللہ میں تیری حمد بیان کرتا ہوں اس لئے کہ تو نے مجھے کپڑا پہنایا ہے۔ تیری عطا کردہ اس نعمت پر تیرا شکر ادا کرتا ہوں ۔ اسی طرح یہاں بھی کا فعلت استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو ، اس لئے کہ اس نے تمہیں ہدایت بخشی ہے۔
اور اگر یہ کاف تشبیہ کا ہے۔ تو پھر اس کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت دی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد کے لئے وہ طریقہ اختیار کرو ، جس کی طرف اس نے تمہاری راہنمائی کی ہے ۔ مقصد یہ کہ اس کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق ذکر الٰہی کرو اپنے من گھڑت طریقے استعمال نہ کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو بدعت میں شمار ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل نہیں ہوگی۔ ذکر عبادت الٰہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی عبادت ہو اس کے لئے وہی طریقہ اختیار کرنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول ﷺ نے بنایا ہے۔ بنی (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا من عمل عملاً لیس علیہ امرنا فقررذ جس نے کوئی ایسا عمل کیا ، جو ہمارے عمل کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے۔ ایسا عمل مقبول نہیں ہو سکتا۔ یہ شریعت کا بڑا اہم اصول ہے اور ہمیشہ ہمیشہ نظر رہنا چاہئے۔ اپنی طرف سے نئے نئے طریقے ایجاد کرنا بدعت کو روان دینا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینا ہے۔ ایسا کام کما ھدکم کی روح کے منافی ہے۔ لہٰذا بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ منجملہ دیگر شرعی طریقوں کے ایصال ثواب کا بھی ایک طریقہ ہے۔ اگر اس کے مطابق عمل کرو گے تو مفید ہوگا اور اگر اپنی طرف سے نئے نئے طریقے گھڑوگے تو ثواب کے بجائے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی حاصل ہوگی۔
فرمایا اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقے اختیار کرو ، حقیقت یہ ہے کہ وان کنتم من قبلہ لمن الضآلین اور اس سے پہلے تم گمراہوں میں تھے۔ یہاں پر لفظ ان شرطیہ نہیں جس کا معنی اگر ہتا ہے۔ بلکہ اسے ان مخفعہ من المثقلہ کہتے ہیں اور اس کا مطلب یوں ہوتا ہے۔ وانہ شان یہ ہے کہ کنتم من قبلہ لمن الضآلین تم اس سے پہلے گمراہوں میں تھے۔ یعنی کفر اور شرک میں مبتلا تھے۔ اس نے تمہارے لئے نبی مبعوث کیا کتاب اور شریعت اتاری تاکہ حق کو پہچان سکو ، تم نے گھر گھر بت خانہ بنایا ہوا تھا۔ اللہ کے گھر … کو بھی منبع توحید کی بجائے … بت خانہ میں بدل دیا گیا تھا۔ رسومات باطلہ کی بھرمار تھی۔ ننانویں فیصد لوگ ضلالت و گمراہی کے گڑھے میں گرے ہوئے تھے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت سے نوازا۔ لہٰذا اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس کا ذکر کرو۔
قریش مکہ کا تشخص
حج کے متعلق قریش مکہ اور ان کے رشتہ داروں بنو خزعہ اور بنو کنانہ نے اپنا علیحدہ تشخص قائم کر رکھا تھا ۔ یہ لوگ نو ذی الحج کو مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے حالانکہ عرفات کی حاضری تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے رائج تھی۔ مگر یہ اپنے آپ کو دوسروں سے اعلیٰ سمجھتے تھے اور کہتے تھے ہم احمس ہیں۔ دوسروں سے بلند تر ہیں اس لئے ہم عرفات میں نہیں جائیں گے۔ شیطان رحیم نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال دیا تھا کہ میدان عرفات حدود حرم سے باہر ہے اور ہم خانہ کعبہ کے مجاور ہونے کے سبب حرم سے باہر کیوں جائیں۔
قریش کے اس باطل نظریے کو توڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ثم افیضوا من حیث افاض الناس پھر تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے دوسرے لوگ پلٹ کر آتے ہیں۔ یعنی عرفات سے ۔ مزدلفہ سے واپس آجانے کا تمہارا نظریہ غلط ہے۔ تم اسے نیکی سمجھ رہے ہو ، حالانکہ یہ بالکل غلط بات ہے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ نسا سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور آپ کے لئے جمع کا صیغہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو پوری امت قرار دیا ہے۔ ” ان ابرھیم کان امۃ فانتاً للہ حنیفاً آپ مجموعہ امت کے قائم مقام ہیں۔ تمام امت کے خواص آپ میں پائے جاتے تھے۔
اس حکم کے ذریعے قریش کے تفاخر کی نفی کی گئی ہے اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے افضل اور برتر سمجھنا درست نہیں ہے۔ خاص طور پر عبادت و ریاضت کے معاملہ میں تو اونچ نیچ اور اعلیٰ و ادنی کا تصور ہی غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو تمام لوگ برابر ہیں۔ اس کے ہاں اگر کوئی برتری ہے تو محض تقویٰ کی بنیاد پر عدم مساوات شیطانی عمل ہے۔ حج کا عمل تو مساوات کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔ وہاں پر ہر امیر غریب ، گورا اور کالا ایک ہی لباس اور ایک ہی وضع قطع برہنہ سر لبیک لبیک پکارتے ہیں۔ وہاں پر تفاخر کی بات ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ اسی طرح نماز بھی مساوات کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ آقا و غلام سب ایک ہی صف میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ تم بھی وہیں سے واپس پلٹو جہاں سے باقی لوگ پلٹتے ہیں اور اپنے لئے علیحدہ طریقہ نہ بنائو۔
استغفار کا حکم
فرمایا جاہلیت کے طریقوں کو ترک کر دو اور واستغفر واللہ اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ اس لے لغزشیں ہوتی رہتی ہیں۔ ان کا ازالہ استغفار کے ذریعے ہوتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا کلکم خطائون تم سب خطا کار ہو اور خیر الخطائین التوابون اور بہترین خطا کار وہ ہیں۔ جو سچے دل سے توبہ کرلیں۔ کیونکہ التآئب من الذنب کمن لاذنب لہ ایسے لوگ خطائوں سے بالکل پاک ہوجاتے ہیں۔ گویا کہ انہوں نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ استغفار بہت ، بلند پایہ وظیفہ ہے۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ حضور ایک مجلس میں سو مرتبہ سے زیادہ استغفار کرتے۔ اللھم اغفرلی وتب علی استغفر اللہ مجلس کے اختتام پر جو شخص استغفار کرے گا۔ اس کی کوتاہیاں معاف ہوجائیں گی۔ یہ کلمات کہنے سے تمام مجلس کی خطائوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ سبحانک اللھم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے ساری کوتاہیاں معاف فرما دیتے ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ سے ہر وقت استغفار کرنا چاہئے۔ اس کی بخشش کے طلبگار بننا چاہئے۔ ان اللہ غفور رحیم۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور بیحد مہربان ہے۔ وہ کسی معافی مانگنے والے کو محروم نہیں کرتا بلکہ اس کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے۔
Ayahs 2:200–203منیٰ کی مصروفیات
حج سے متعلق عرفات اور مزدلفہ کے احکام بیان ہوچکے ہیں۔ اب آخری مرحلہ منیٰ کے قیام کا ہے۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ فاذا قضیتم مناسکم پھر جب تم مناسک حج کو پورا کر چکو۔ فاذکرو اللہ تو اللہ کا ذکر کرو۔ مقصد یہ ہے کہ جب تم عرفات اور مزدلفہ کے مناسک ادا کرلو تو پھر منیٰ آ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ کہ حج کے تمام ارکان منیٰ میں آ کر ختم ہوجاتے ہیں اور یہاں کا قیام حج کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔
حج کے جملہ مناسک آٹھ ذی الحجہ کو احرام باندھنے سے شروع ہوتے ہیں اس دن حاجی منیٰ میں پہنچتے ہیں اور سنت کے مطابق وہاں پر پانچ نمازیں یعنی ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور نویں تاریخ کی فجر ادا کرتے ہیں۔ سورج نکلنے کے بعد عرفات کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔ وقوف عرفہ حج کا رکن اعلیٰ ہے۔ وہاں پر نویں تاریخ کو زوال کے بعد مسجد نمرہ میں امام حج کا خطبہ پڑھتا ہے۔ اس کے بعد اذان ہوتی ہے۔ پھر تکبیر اور امام دو رکعت نماز ظہر پڑھاتا ہے۔ معاً بعد پھر تکبیر ہوتی ہے اور دو رکعت نماز عصر ادا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد غروب آفتاب تک میدان عرفات میں وقوف ہوتا ہے۔ پھر سرشام ہی واپس مزدلفہ کی طرف چل دیتے ہیں ۔ اور مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں آ کر ایک ساتھ ادا کی جاتی ہیں ۔ دسویں تاریخ کی نماز فجر اول وقت میں مزدلفہ میں ادا کر کے وہاں وقوف ہوتا ہے۔ ذکر و دعائیں ہوتی ہیں اور پھر طلوع شمس سے پہلے ہی منیٰ کے لئے روانگی ہوتی ہے۔
منیٰ پہنچ کر سب سے پہلے جمرہ عقبیٰ پر رمی کی جاتی ہے۔ دس تاریخ کو صرف ایک ہی شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اس کے بعد دوسری منزل قربانی کی آتی ہے یہ دونوں کام بڑے مشکل ہوتے ہیں۔ بےپناہ رش کی وجہ سے قدم قدم پر رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ قربانی کے لئے حکومت نے قربان گاہ کے طور پر جگہ متعین کردی ہے۔ تمام حاجی وہیں پر قربانی کرتے ہیں۔ یہ وہی مقام ہے۔ جہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قربانی کی تھی۔ آج کل وہاں پر ہر قسم کے قربانی کے جانور مل جاتے ہیں۔ لوگ وہیں سے جانور خریدتے ہیں اور وہیں ذبح کردیتے ہیں تو انا آدمی قربان گاہ پہنچ جاتے ہیں اور ضعیف حاجی اور عورتیں اس کام کے لئے دوسروں کو مامور کردیتے ہیں۔
قربانی کے بعد اگلا کام حجامت بنوانا ہے۔ رش کی وجہ سے یہ کام بھی بڑی مشکل سے انجام پاتا ہے۔ بال منڈائے یا کترائے جاتے ہیں اور پھر احرام کھول دیا جاتا ہے (لیکن عورت کے پاس جانا منع ہوتا ہے طواف تک)
طوف زیارت
حج کا اگلا رکن بیت اللہ شریف کا طواف ہے۔ اسے طواف زیارت کہا جاتا ہے اور یہ فرض ہے۔ اسی طواف کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ” ثم لیقضوا تفثھم ولیوفوا نذورھم ولیطوفوا بالبیت العتیق۔ “ پھر چاہئے کہ اپنا میل کچیل صاف کریں ، اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر (بیت اللہ شریف) کا طواف کریں۔ یہ طواف بھی دس تاریخ کو ہی کیا جاتا ہے اگر کسی وجہ سے سے کوئی شخص آج کے دن طواف زیارت کے لئے مکہ مکرمہ نہ جاسکے تو گیارہ تاریخ کو کرے۔ اسے بارہ تاریخ تک بھی بوجوہ مئوخر کیا جاسکتا ہے۔ اگر بارہ تاریخ کے بعد طواف کریگا تو اسے ساتھ دم پڑے گا اور یہ فرض ادا ہوجائے گا۔ یہ طواف چونکہ عازمین حج نے مقرر اوقات میں لازمی کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے اس موقع پر بھی بڑا سخت ہجوم ہوتا ہے۔ طواف کے بعد صفا و مردہ کی سعی بھی ہے۔ اس کے بعد کہ میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں بلکہ واپس منی آنا ہوتا ہے ۔ گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ایام منی کہلاتے ہیں۔ ان ایام میں منی میں قیام کیا جاتا ہے۔ البتہ معذور لوگوں کو استثناء حاصل ہوتا ہے۔ یہ ہیں وہ تمام مناسک حج جو مختلف مقامات پر پورے کرنے ہوتے ہیں۔
خاندانی تفاخر
زمانہ جاہلیت میں ایام منی کے دوران بہت بڑی منڈی یا میلہ لگتا تھا۔ جس میں خریدو فروخت کے علاوہ مختلف قبیلے اپنے اپنے خاندان کی مدح سرائی کرتے اپنی اپنی خوبیاں بیان کرتے ، بڑوں کے کارنامے دہراتے اور اس طرح اپنے آبائو اجداد کا نام زندہ رکھتے حضور ﷺ نے اس خاندانی تفاخر کی ممانعت فرمائی اور لوگوں کو تعلیم دی کہ خاندان پر فخر کرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ کلکم ابنآء ادم تم سب آدم کی اولاد ہو وادم ابن تراب اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کئے گئے۔ آپ کا سلسلہ تو مٹی سے ملتا ہے۔ تم کس بات پر فخر کرتے ہو لا فخر العصر فی علی المحصی اور کسی عربی کو عجمی پر کوئی فخر نہیں ولا للعجمی علی العسربی اور نہ کسی عجمی کو عربی پر فضیلت ہے۔ الا بالتقوی سوائے تقویٰ کے اور کوئی چیز فضیلت کی بنیاد نہیں بن سکتی ہے خاندانی اور نسلی تفاخر جاہلیت کی باقیات میں سے ہے۔ حضور ﷺ نے قریش کو مخاطب کر کے فرمایا ان اللہ اذھب عنکم عبیۃ الجاھلیۃ اے لوگو ! تم سے اللہ تعالیٰ نے خاندانی نحوست اور غرور سب ختم کردیا ہے اور اللہ کے نزدیک عزت کا معیار مروت تقویٰ ہے ان اکرمکم عند اللہ اتقکم اللہ کے نزدیک شرافت اور بزرگی والا انسان وہ ہے جو اس سے زیادہ ڈرتا ہے ۔ زیادہ متقی ہے اللہ کے ہاں خاندانی تفاخر برتری کی کوئی قیمت نہیں۔
ذکر الٰہی
اس تاریخ پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جب تم حج کے باقی مناسک ادا کر چکو فاذکرو اللہ تو مٹی میں آ کر اللہ کا ذکر کرو کذکر کہ اباء کم جس طرح اپنے آبائو اجداد کا ذکر کرتے ہو۔ اواشدذکراً یا اس سے بھی زیادہ ذکر مقصد یہ کہ اس موقع پر خاندانی قصیدہ خوانی کی بجائے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرو جس نے تمہیں ہدایت دی۔ ایمان کی دولت سے نوازا اور پھر حج جیسی نعمت سے مشرف کیا لہٰذا جہاں تک ممکن ہو ، اللہ تعالیٰ کا کثرت کے ساتھ ذکر اور اب دیکھ لیجیے مناسک حج بذات خود ذکر الٰہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ قربانی کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ شیطان کو کنکریاں مارتے وقت بھی یہی الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ جب نماز پڑھی جاتی ہے تو تکسیرات تشریق بلند ہوتی ہیں۔ عرفات اور مزدلفہ میں اللہ کا ذکر کثرت سے ہوتا ہے اور تبیہ کے الفاظ لبیک اللھم لبیک تو ذکر الٰہی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔
دنیا کی خواہش
آگے اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے لوگوں کا ذکر فرمایا۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو اللہ تعالیٰ سے صرف دنیا کی خواہش رکھتے ہیں۔ فمن الناس من یقول ربنا اتنا فی الدنیا بعض لوگ یوں کہتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمیں جو کچھ دینا ہے دنیا میں ہی عطا کر دے۔ ایسے لوگ آخرت کے طلبگار نہیں ہوتے دوسرے مقام پر اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا کہ وہ کہتے ہیں ” عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب “ یعنی جو کچھ ہمارا حصہ ہے وہ ہمیں یوم حساب سے پہلے ہی مل جائے ۔ ہمیں آخرت کی کوئی فکر نہیں۔ مطلب یہ کہ ہمیں دنیا کا مال و دولت جاہ و مرتبہ ، آرام و آسائش ، صحت اور تندرستی حاصل ہوجائے تو کافی ہے۔ اس قسم کے لوگ آج بھی موجود ہیں۔ جو حج پر جا کر بھی دنیا ہی طلب کرتے ہیں۔ بیماری سے نجات ، قحط سالی سے پناہ ، اولاد اور کاروبار ہی چاہتے ہیں اور آخرت کی کوئی پروا نہیں کرتے۔
فرمایا ومالہ فی الاخرۃ من خلاق دنیا کے طالبوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ وہ لوگ جنت کی نعمتوں سے محروم رہیں گے۔ کیونکہ انہوں نے آخرت کی خواہش ہی نہیں کی۔
دنیا اور آخرت
فرمایا ومنھم انہی میں سے بعض ایسے بھی ہیں من یقول جو کہتے ہیں ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ اے مہارے پروردگار ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر وفی الاخرۃ حسنۃ اور ہمیں آخرت میں بھی بھلائی نصیب فرما اور پھر دوزخ سے پناہ بھی مانگتے ہیں۔ وقنا عذاب النار اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ دوزخ سے بچنے کا مطلب یہ ہے دنیا میں گناہ اور برائی سے بچ جائے۔ اگر اس مقصد میں کامیاب ہوگیا تو آخرت میں دوزخ سے بھی بچ جائے گا۔ غرضیکہ جو نیک لوگ ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت دونوں کے طلبگار ہوتے ہیں۔
کفر و شرک ادیان کو تسلیم کریں۔ اللہ کے علاوہ کونسی ذات ہے۔ جس کی اطاعت تمام مخلوق پر لازم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو خود فرمایا ولہ اسلم من فی السموت والارض آسمان و زمین کی ہر مخلوق اسی خدائے وحدہ لاشریک کی فرمانبرداری کرتی ہے۔ ہاں ! طوعاً وکرھاً کچھ لوگ اس کی اطاعت خوشی سے کرتے ہیں اور بعض دوسرے مجبوری اور لاچاری کی بناء پر کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احکام دو قسم کے ہیں۔ تکوینی احکام وہ احکام ہیں جو انسان کو اپنی خواہش اور اختیار کے بغیر کرنے پڑتے ہیں۔ جیسے زندگی ، موت ، بیماری ، حادثات ، بارش ، خشک سالی ، سیلاب ، زلزلہ وغیرہ ایسی چیزیں ہیں ، جو انسان پر بغیر خواہش اور بغیر اختیار کے وارد ہوتی ہیں۔ انسان کو ان احکام پر مجبوراً عمل پیرا ہونا پڑتا ہے۔ یہ تکوینی احکام ہیں۔ دوسری قسم کے احکام شرعی احکام کہلاتے ہیں۔ یہ احکام اللہ تعالیٰ انبیاء کے ذریعے انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ ان پر عمل انسان اپنی خواہش اور اختیار سے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتنی مخلوق ہے جو ان احکام کو احکام الٰہی سمجھ کر خوشی سے تسلیم کرتی ہے اور بعض بدبخت ایسے بھی ہیں ، جو انہیں ماننے کے لئے تیار نہیں تو فرمایا کہ ایسی ہستی جس کے تمام تکوینی اور شرعی احکام مانے جائیں وہ صرف خدا کی ذات ہے۔ اور ماننے والے آسمان میں بھی ہیں اور زمین میں بھی ہیں۔ آسمانی مخلوق میں فرشتے ہیں یہ اللہ کی مطیع اور فرمانبردار مخلوق ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ آسمان میں چار بالشت بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ اپنے مالک کی عبادت میں مصروف نہ ہو۔ زمینی مخلوق میں انسانوں کے علاوہ شجر ، حجر ، چرند ، پرند ، نباتات ، جمادات سب اللہ کے تکوینی احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ رہے انسان تو ان میں بہت سے ایسے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے شرعی احکام قبول کرتے ہیں۔ اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں۔ ” وکثیر حق علیہ العذاب “ اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی سزا ثابت ہوچکی ہے۔ تکوینی احکام تو وہ بھی مجبوراً مانتے ہیں مگر شرعی سے سعادت مندی ہے۔ مسند احمد کی رویات میں ہے کہ اچھی بیوی ، اچھی سواری ، اچھا مکان دنیا کے اعتبار سے انسان کی نیک بختی ہے۔ انسان کے لئے صحت بھی ضروری ہے کہ عبادت اور دیگر امور کا مداراسی پر ہے۔ یہ سب چیزیں حسنہ ہیں۔ مگر بالتبع ، مقصود بالذات ایمان باللہ ، خدا کی عبادت اور اعمال صالحہ ہیں۔ جو چیز ان کے تابع ہو کر آئیگی وہ حسنہ ہی کہلائے گی۔
ذخیرہ آخرت
فرمایا اولئک لھم نصیب مما کسبوا ان لوگوں کے لئے اس چیز میں سے حصہ ہے۔ جو انہوں نے کمایا دنیا کی کمائی کے متعلق تو دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” ذلک مبلغھم من العلم “ ان کا علم ، ان کا جغرافیہ تو دنیا میں ہی ختم ہوگیا ، آگے ان کے لئے کچھ نہیں اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، ان کے اعمال آخرت کا ذخیرہ بنتے ہیں فرمایا ان کے لئے حصہ ہے ۔ جو انہوں نے کمایا ، واللہ سریع الحساب اور اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے جب قیامت برپا ہوگی۔ حساب کی منزل شروع ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ اس کو طے کردیں گے۔
ایام تشریق
منیٰ کے احکام کے ساتھ فرمایا تھا ” فاذکرو اللہ کذکر کم آباء کم “ اپنے آبائو اجداد کی طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو اور غرور وتکبر کو چھوڑ دو ۔ اب آگے ارشاد ہوتا ہے۔ واذکرو اللہ فی ایام معدودت اللہ تعالیٰ کو یاد کرو چند گنتی کے دنوں میں ان چند ایام سے مراد ایام تشریق ہیں اور یہ چار دن ہوتے ہیں یعنی ذی الحجہ کی دسویں تاتیرہویں تاریخ تشریق کا لفظی معنی گوشت کو خشک کرنا ہے ان ایام میں قربانی کا گوشت وافر مقدار میں میسر آتا ہے اور لوگ آئندہ استعمال کے لئے خشک کر کے رکھ لیتے ہیں۔ اس لئے ان دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں۔
سورۃ حج میں ” فی ایام معلومت “ آیا ہے اور اس سے مراد قربانی کے تنی دن یعنی ذی الحجہ کی دسویں گیارہویں اور بارہویں تاریخ میں حضرت علی ، ابن عباس ، ابن عمر وغیرہم ہم سے منقول ہے کہ یہ دن یوم النحر و نازل کی گئی ہے۔ لوگوں کے سامنے اس کی تشریح بیان کرے۔ تاہم یہ تشریح بھی منجانب اللہ ہوتی ہے ۔ قرآن پاک وحی جلی ہے اور جو تشریح پیغمبر کی زبان سے ہوتی ہے۔ وہ وحی خفی ہے مسلم شریف کی روایت میں ہے حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے فرمایا کہ ایمان وہ چیز ہے ماجئت بہ جو کچھ میں لے کر آیا ہوں۔ یعنی جو بھی چیز اللہ کی طرف سے نبی لایا ہے ، اس پر ہم ایمان لائے ہیں۔
فرمایا وما انزل علی ابراہیم ہم اس چیز پر بھی ایمان لائے جو ابراہیم (علیہ السلام) پر اتاری گئی ہے۔ قرآن میں موجود ہے کہ اللہ جل جلالہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر صحیفے نازل فرمائے جیسا کہ سورة اعلیٰ میں آتا ہے ” صحف ابراہیم و موسیٰ اللہ تعالیٰ نے ان کو دین دیا ، شریعت دی ، احکام دیے اور تمام مخلوق کا امام بنایا۔ فرمایا و اسمعیل و اسحاق و یعقوب والاسباط ہم اس چیز پر بھی ایمان لائے جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر اتاری گئی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دو بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ پہلے حضرت حاجرہ کے بطن سے اور دوسرے حضرت سارۃ سے دونوں اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ اللہ نے ان کو مستقل شریعت دی۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے پوتے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ وہ بھی اللہ کے صاحب شریعت نبی ہیں اور پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اسباط یعنی اولاد ہے۔ اس میں سے اللہ نے جس کو نبوت دی ، ان پر وحی نازل فرمائی اور ان کو شریعت بھی دی۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اللہ نے چار ہزار نبی اور رسول مبعوث فرمائے۔ یہ اتنا عظیم خاندان ہے۔ اسباط سے یہی انبیاء اور رسل مراد ہیں جن میں حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسے عظیم پیغمبر مبعوث ہوئے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) بھی آپ کی اولاد میں سے ہیں تاہم بعض انبیاء کا ذکر قرآن میں موجود ہے ، اکثر کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ ان تمام قانون خداوندی کی کس حد تک پابندی کرتا ہے۔ قانون شکن کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اسی لئے فرمایا کہ جس عازم حج میں تقویٰ یعنی قانون کی پابندی کا جذبہ پیدا ہوگیا۔ وہ دو دن ٹھہر کر بھی چلا جائے تو اس کا حج صحیح ہے۔ اس میں کوئی حج نہیں۔
تقویٰ کیا ہے
فرمایا واتقوا اللہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ چھوٹی چھوٹی لغزشوں کو بھی خاطر میں لائو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ امتحان میں فیل ہو جائو۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ متقی وہ ہے جو کفر ، شرک اور معصیت سے بچ جائے ، حتی کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بھی پرہیز کرے۔ اللہ والے چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی فکر کرتے ہیں کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہوجائے۔ واعلموا انکم الیہ تحشرون یاد رکھو ! ایک وقت آنے والا ہے۔ جب تم سب اللہ تعالیٰ کے سامنے اکٹھے جائو گے بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک دن انسان کو اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر جواب دینا ہے اس وقت حالت یہ ہوگی کہ مابینہ وبینہ ترجمان “ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان بھی نہیں ہوگا۔ ” تاتی کل نفس تجادل “ ہر شخص کو اپنی طرف سے اللہ کے سامنے براہ راست جواب دینا پڑے گا۔
یہاں تک اللہ تعالیٰ نے حج کے احکام بیان فرما دیئے ہیں اس کے بعد منافقین کا تذکرہ اور بعض دوسری باتیں آئیں گی۔ حج کے تمام ضروری اجزاء اسی رکوع میں مکمل طور پر بیان کردیئے گئے ہیں۔
Ayahs 2:204–207ربط آیات
حج کے بیان کے آخری حصے میں دو قسم کے لوگوں کا تذکرہ ہوا ، ایک گروہ وہ ہے۔ جو آخرت کا بالکل منکر ہے۔ ایسے لوگ محض دنیا کے طلبگار ہوتے ہیں اور ان کی دعا بھی یہ ہوتی ہے ” ربنا اتنا فی الدنیا “ یعنی اے اللہ ! ہمیں جو کچھ دینا ہے اس دنیا میں ہی عطا کر دے۔ یہ لوگ یقینا کافر ہیں کیونکہ آخرت پر یہ ایمان ہی نہیں رکھتے۔ دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو دنیا اور آخرت ہر دو کے طالب ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی دنیوی زندگی بھی خوشحالی میں بسر ہو ، اور آخرت میں بھی نجات حاصل ہوجائے۔ اسی لئے وہ اللہ تعالیٰ سے یوں سوال کرتے ہیں۔ ” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار “ یہ ایماندار لوگ ہیں۔ گزشتہ آیات میں ان دو قسم کے لوگوں کا بیان آیا۔
مخلص اور منافق
اب ان آیات میں بھی دو قسم کے لوگوں کا تذکرہ ہے۔ یہاں پر مومن اور کافر کا تقابل نہیں ، بلکہ مخلص اور منافق کا حال ہے۔ بظاہر یہ دونوں گروہ ایماندار ہیں۔ مگر ان کی بھی دو قسمیں ہیں۔ مخلص وہ لوگ ہیں ۔ جو انتہائی درجے کے پکے سچے اور مخلص ہیں اور دوسرے وہ ہیں۔ جو ظاہر میں تو ایمان والے ہیں مگر ان کے باطن میں کفر بھرا ہوا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق ارشاد ہتا ہے۔ ومن الناس من یعجیک قولہ فی الحیوۃ الدنیا یعنی بعض لوگ ایسے ہیں جن کی بات دنیوی زندگی میں آپ کو پسند آتی ہے۔ جب بات کرتے ہیں ، تو بڑے پتے کی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اونچے درجے کے لوگ ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ ان کی چرب زبانی اور مکاری ہوتی ہے۔ محض زبان سے آپ کے روبرو میٹھی میٹھی اور آپ کے لئے خوش کن باتیں کرتے ہیں اور آپ کو وفاداری کا یقین دلاتے ہیں۔ ویشھد اللہ علی مافی قلبہ اور جو کچھ اس کے دل میں ہے ، اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہے اور قسمیں کھا کر کہتا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ مجھے آپ کے ساتھ بڑی محبت ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے ۔ وھوالدالخصام کہ وہ سخت جھگڑا کرنے والا ہے ایسے ہی لوگوں کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ ابغض الرجال الی اللہ الدالخصم یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ترین وہ لوگ ہیں ، جو سخت جھگڑالو ہوتے ہیں۔
بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے متعلق نازل ہوئی۔ یہ منافق تھا۔ مگر حضور ﷺ کی مجلس میں اکثر حاضر ہوتا اور اپنے آپ کو بڑا محب ظاہر کرتا بڑے مودب طریقے سے پیش آتا اور باور کرانا چاہتا کہ میں آپ کا بڑا جاں نثار ہوں اور پھر قسم کھا کر کہتا کہ میں آپ کی ہر بات پر جان قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مگر یہ شخص پرلے درجے کا منافق اور سخت جھگڑالو تھا۔
اصل قلب
اللہ تعالیٰ نے منافقین کی یہ ایک عام صفت بیان کی ہے کہ بات بڑی دانشمندی کی کرتے ہیں اور اس پر اللہ کو گواہ بھی بناتے ہیں یعنی قسم کھا کر بات کرتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا اتخذوآ ایصانھم جنۃ “ یہ لوگ قسموں کو ڈھال کے طرو پر استعمال کرتے ہیں تاکہ مسلمان ان کی بات پر یقین کرلیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا ” واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون خود میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دل کی بات پر اللہ کو گواہ بنانا جھوٹی قسم کھانا ہے جب کہ زبان پر کچھ اور ہو ، اور باطن میں کچھ اور معلوم ہوا کہ حق و باطل کا مدار قلب پر ہے۔ جب تک اس کی اصلاح نہ ہو ، زبانی بات کا کچھ اعتبار نہیں ، اسی لئے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔ اگر وہ درست ہے۔ تو سارا جسم درست ہے اور اگر وہ لوتھڑا خراب ہے۔ تو سارا جسم خراب ہے فرمایا الا وھی القلب اس سے مراد دل ہے۔ جس کی درستگی پر سارے جسم کی درستگی کا انحصار ہے۔ اگر دل میں حسد ، بغض ، کفر ، شرک اور نفاق کا فاسد مادہ موجود ہے تو پھر اس کی اصلاح ممکن نہیں۔ حدیث شریف میں اس کی مثال اس زخم کے ساتھ دی گئی ہے۔ جس میں پیپ بھری ہوئی ہو۔ منافقین کا دل بھی اسی طرح غلاظت کی آما جگاہ ہوتا ہے۔ جب تک دل کی اصلاح نہیں ہوگی۔ اعمال درست نہیں ہو سکتے۔
حضور ﷺ کی مجلس میں آ کر چکنی چپڑی باتیں کرنے والے منافق کے کردار کا دوسرا پہلو بیان فرمایا واذا تولی جب وہ اس مجلس سے پیٹھ پھیر کر علیحدہ ہوتا ہے۔ سعی فی الارض لیفسدفیھا پھر اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ زمین پر فساد برپا کیا جائے۔ پہنچانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ لہٰذا اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو تلاش نہ کرو۔ جو ایسا کرے گا ، اس کا دین ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ وھو فی الاخرۃ من الخسرین ایسا شخص آخرت میں نقصان میں پڑے گا۔ اسلام کے علاوہ کوئی دین بھی کامیابی کی طرف نہیں لے جائے گا۔ بلکہ اس کے متبعین سراسر خسارے کا سودا کریں گے۔
مسلمانوں کی بدقسمتی
یہود و نصاریٰ کی اسلامی دشمنی تو قابل فہم ہے ، وہ تو دوسرا دین ہی تلاش کریں گے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ آج کا مسلمان بھی اپنے دین پر اعتماد نہیں کرتا۔ آج کے مسلمان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جب تک غیر اقوام کی شاگردی اختیار نہیں کریں گے ، ترقی نصیب نہیں ہوگی۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جب مسلمان اپنے دین پر یقین کرتے تھے ، عروج کی بلندیوں پر تھے۔ کوئی قوم ان کا مقابلہ نہ کرسکتی تھی۔ مگر اب خود مسلمان انگریزوں سے مرعوب ہیں۔ ان کی تہذیب اختیار کر رہے ہیں انہی کے لہو و لعب میں مشغول ہیں اور اسی میں اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پیروان اسلام کے سوا کسی کو فلاح نصیب نہیں ہو سکتی۔ آخرت میں تو سخت نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے۔
اسلامی قوانین
تہذیب و تمدن کے علاو ہ آج کا مسلمان اسلامی قوانین سے بھی مطمئن نظر نہیں آتا۔ اسی لئے وہ غیر اسلامی قوانین کی طرف دیکھ رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اسلام ایک فرسودہ دین بن چاک ہے۔ لہٰذا وہ اقتصادی نظام کے لئے روس ، جرمنی ، امریکہ اور فرانس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ ان کے پاس تعزیرات کا کوئی قانون موجود نہیں ان کے تمام قوانین بناوٹی ہیں۔ برخلاف اس کے کہ اسلام کے پاس اپنے قوانین موجود ہیں۔ صحابہ کرام کا دستور العمل مشعل راہ ہے۔ مگر اب قوانین اس مجلس شوریٰ سے بنوائے جا رہے ہیں۔ جس میں ہندو اور عیسائی بھی شامل ہیں۔ کیا اسلام کا قانون یہ لوگ بنائیں گے ؟ ممبران شوریٰ کے لئے تو خصوصی اہلیت مقرر ہونی چاہئے تھی۔ جس سے پتہ چلتا کہ واقعی یہ لوگ اسلامی قانون سازی کے قابل ہیں۔ حضرت عمر اور فساد سے مراد مسلمانوں کے خلاف سازش کرنا اور انہیں مالی و جانی نقصان پہنچانا ہے مزید برآں یہ شخص ویھلک الحرث کھیتی کو ہلاک کرتا ہے اور والنسل اور نسل کو ضائع کرتا ہے۔ کھیتی کو ہلاک کرنے کی صورت یہ ہے کہ مسلمانوں کی تیار تفصل کو نقصان پہنچایا جائے۔ پکی ہوئی کھیتی کو آگ لگا دی جائے۔ درختوں کا پھل ضائع کردیا جائے۔ یا سرے سے درخت ہی کاٹ دیئے جائیں اور نسل کشی سے مراد مطلق نسل کشی بھی ہے جیسا کہ منافقین کا وطیرہ ہے اور اس سے مراد مویشی بھی ہو سکتے ہیں جنہیں ہلاک کردیا جائے یا انہیں معذور بنا دیا جائے۔
فساد اصلاح کے مقابلے میں آتا ہے۔ اصلاح کا معنی درستگی اور فساد سے مراد بگاڑ ہے۔ اس کا بیان پہلے بھی آ چکا ہے ۔ ” واذا قیل لھم لاتفسدوا فی الارض جب منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں ” انما نحن مصلحون “ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ہم کافروں سے محض اس لئے ملتے ہیں تاکہ صلح صفائی کا پہلو نکل سکے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا واللہ لایحب الفساد مجھے فساد بالکل پسند نہیں۔ یہ منافق تو ادھر کی بات ادھر اور ادھر کی بات ادھر کر کے آپس میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا مقصد تو لڑائی جھگڑا کرانا ہے۔
فساد کی ایک اور صورت لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف بدظن کرنا ہے اور سب سے بڑا فساد شرک اور کفر ہے۔ جو ان کے دلوں میں موجود ہے کفر اور شرک سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے جب کہ ایمان اور نیکی سے اصلاح کا پہلو نکلتا ہے۔ شرک و بدعات اور منکرات کے ذریعے ضمیر کی اصلاح ممکن نہیں ہے۔ شرائع الہیہ کو توڑنا فساد ہے۔ لوگوں کو غلط باتوں کی تلقین کرنا فساد ہے۔ امام بیضاوی فرماتے ہیں کہ یہ سب چیزیں فساد ہی کا حصہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔
تولی بمعنی حاکم
حضرت شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ تولیٰ کا ایک معنی پشت پھیرنا ہے اور دوسرا معنی والی یعنی حاکم بن جانا بھی ہے۔ اگر یہ معنی لیا جائے۔ تو مطلب ہوگا کہ جب منافق آدمی حاکم بن جاتا ہے۔ برسر اقتدار آجاتا ہے۔ تو زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی من مانی کرے گا۔ لوگوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کریگا۔ لاقانونیت کا دور دورہ ہوگا یا غلط قانون جاری ہوں گے۔
شیخ سعدی کہتے ہیں۔
مدبر کہ قانون بدمی نہد ترامی برد تآباتش وہد
جو شخص برا قانون جاری کرتا ہے وہ خود بھی جہنم رسید ہونے والا ہوتا ہے غلط قانون بنانا۔ اس کو جاری کرنا اور پھر اس پر عمل کرنا لوگوں کے حقوق ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ تو قتل و غارت کا بازار گرم کرنا اور سیاست کو خراب کرنے والی بات ہے۔ ایسے ہی قوانین عیاشی اور فحاشی کو تقویت دیتے ہیں۔ منافق حکومتیں یہی کچھ کرتی ہیں کسی کو قتل کرا دیا ، کسی کے خلاف مقدمہ کھڑا کردیا۔ کسی کو ڈرایا و دھمکایا یہی تو فساد فی الارض ہے۔ تعمیر اخلاق کی بجائے تخریب اخلاق کی باتیں کی جائیں ، شراب نوشی کو عام کیا جائے تاکہ لوگوں کے ذہن مائوف ہوجائیں۔ حلال و حرام کی تمیز اٹھ جائے راگ و رنگ اور ناچ گانے کی محفلیں منعقد ہوں۔ رشوت کا بازار گرم ہو۔ غنڈے بدمعاشوں کی سرپرستی ہو۔ تصویر سازی عام ہوجائے اور برائی برائی نہ رہے۔ یہ سب فساد فی الارض کے مختلف حصے ہیں۔
جرائم کی سرپرستی
ایک اخباری خبر کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کے نو میں سے سات ججوں نے فیصلہ دیا کہ۔ عریاں ڈانس کرنا جرم نہیں ہے۔ انہوں نے لکھا کہ عورتوں کا برہنہ رقص محض جذبات کی عکاسی ہوتی ہے اور آئین ساز اسمبلی اس کا احترام کرتی ہے۔ یہ اس قوم کا حال ہے۔ جو آج کی دنیا میں سب سے زیادہ مہذب تصور کی جاتی ہے اگر برہنہ رقص عیب نہیں تو دنیا میں برائی نام کی کون سی چیز ہے۔ وہ لوگ توزنا کو بھی فیشن سمجھتے ہیں۔ برطانیہ نے لواطت کو قانوناً جائز قرار دے دیا ہے۔ اسی لئے بعض مفسرین نے یہاں لطیف نکتہ بیان کیا ہے کہ یھلک الحرث یعنی کھیتی تباہ کرنے سے مراد فعل زنا ہے جس کی وجہ سے کھیتی تباہ ہوتی ہے۔
منکوحہ عورت کے متعلق اللہ نے فرمایا۔ ” نسآء کم حرث لکم “ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ انہیں سے فضل یعنی اولاد پیدا ہوتی ہے اور جب زنا کیا جاتا ہے تو کھیتی کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو اپنی منکوحہ بیوی یا لونڈی کے علاوہ کسی دوسری عورت سے تمتع کی اجازت نہیں دی۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے متعلق فرمایا اولئک ھم العدون یہ لوگ زیادتی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ لہٰذا اسے ہر لحاظ سے ناپسندیدہ فعل قرار دیا گیا ہے۔ باقی رہا یھلک النسل تو اس سے مراد لواط سے (Sodomy) بھی ہو سکتی ہے ۔ جس سے نسل ضاء عہوتی ہے۔ ایسا فعل جانوروں سے بھی حرام ہے حتی کہ جلق (Masturbation) کو بھی ملعون فعل قرار دیا گیا ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو دین اخلاق اور ہر چیز کو تباہ کردیتی ہیں۔
برطانیہ میں زنا کی وہ صورت حرام ہے جو بالجبرد (Rape) کیا گیا ہو اور اگر کوئی مرد اور عورت باہمی رضا مندی سے اس فعل کا ارتکاب کرتے ہیں تو قانون کی نظر میں کوئی جرم نہیں۔ ایسے امور میں پولیس کو مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اسی طرح امریکہ میں برہنہ رقص بھی جائز ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب منافق برسر اقتدار آئیں گے۔ تو یہی کچھ ہوگا اسی کو فساد فی الارض سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔
تکبر بڑا گناہ ہے
آگے ارشاد فرمایا واذا قیل لہ اتق اللہ اور جب ایسے منافق کو کہا جائے کہ اللہ سے ڈر جائو ، ایسی باتیں نہ کرو ، کسی کو ناحق قتل نہ کرو۔ گندے قانون جاری نہ کرو۔ جس سے لوگوں کے اخلاق بگڑتے ہوں تو اس کا جواب یہ دیتے ہیں۔ اخذتہ العزۃ بالاثم تو اسی گناہ پر تکبر کرتے ہیں۔ اتراتے ہیں۔ کہتے ہیں ہمارا تو قانون ہی یہ ہے اور فخر یہ اندازہ میں کہتے ہیں کہ ہم تو اس قانون کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے ۔ یہ ہماری اسمبلی کا ہماری اکثریت کا بنایا ہوا قانون ہے فرمایا ایسے لوگو کا حال یہ ہوگا فحسبہ جھنم کہ ان کے لئے جہنم کا فی ہے۔ ولیس المھاد اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ اس قسم کے اعتقادی اور عملی منافقوں کا علاج جہنم کے گڑھوں میں ہوگا۔ یہ لوگ اچھی بات کو قبول نہیں کرتے اور الٹا غرور اور تکبر کرتے ہیں اگر ان کو کہو کہ اسرائیل کی پشت پناہی نہ کرو ۔ لوگوں پر ظلم نہ کرو ان کی سلطنتوں کے تختے نہ الٹو ، مگر وہ حق بات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہونگے۔ یہ اعتقادی منافقوں کا حال ہے۔
مسلمان مگر منافق
آج کا مسلمان اگر اعتقادی منافق نہیں تو عملی منافق ضرور ہے۔ اس کے قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے۔ ظاہر اور باطن مختلف ہیں۔ بڑے بڑے جلسے منعقد کریں گے۔ حضور ﷺ کی سیرت کو کامیابی کا ذریعہ بتائیں گے۔ قرآن پاک سے راہنمائی کے دعویٰ کریں گے۔ مگر عملی طور پر صفر ہیں۔ نہ قرآن پاک سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور نہ سیرت پاک کو اپناتے ہیں ۔ محض زبانی دعوے ہیں۔ حکومتوں کا بھی یہی حال ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ برائی کا خاتمہ ہوگا۔ فتنہ و فساد کی بیخ کنی ہوگی۔ معاشی اور معاشرتی اصلاحات ہوں گی۔ مگر عملی طور پر کچھ نہیں کرتے۔ یہ سب منافقت کی باتیں ہیں۔
سعودی عرب میں اجرائے حدود
خاندان سعود کے برسر اقتدار آنے سے پہلے یہاں بھی چوری عام تھی اور ترکوں کے زمانہ سے چلی آ رہی تھی۔ جب ابن سعود جیسے بدوحاکم نے عنان حکومت سنبھالی تو اس سے چوری کی شکایت کی گئی۔ اس نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ نہیں۔ میں صرف اڑھائی دن میں چوری بند کر کے دکھاتا ہوں اور پھر ایسا ہی ہوا۔ جب حدود اللہ کا نفاذ ہوا اس پر عمل کر کے دکھایا تو چوری کیا ہر جرم نیست و نابود ہوگیا۔ اب سعودی عرب والے چوری نہیں کرتے تاہم اقتصادی نظام کی بنیاد وہاں بھی سرمایہ داری پر ہے۔ اب امریکہ بلکہ ساری دنیا کو تسلیم کرنا پڑا ہے کہ سعودی عرب ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں چوری نہیں ہوتی۔ جہاں زنا کا ارتکاب نہیں ہوتا۔ وجہ یہی ہے۔ کہ وہاں حدود اللہ کا نفاذ ہے اور ان پر سختی سے عملدرآمد ہو رہا ہے۔
جاں نثاران اسلام
منافقین کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مخلص لوگوں کا حال بھی بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہتا ہے ۔ ومن الناس من یشریٰ نفسہ ابتغآء مرضات اللہ اور لوگوں میں ایسا شخص بھی ہے۔ جو رضائے الٰہی کی تلاش میں اپنی جان کو بچتا ہے شراء کا معنی بیچنا اور خریدنا دونوں طرح آتا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں حضرت صہیب رومی کی طرف اشارہ ہے آپ جب ہجرت پر روانہ ہونے لگے تو مشرکین نے راستہ روک لیا۔ آپ نے کمان کو درست کیا۔ ترکش سے تیر نکالے اور فرمانے لگے۔ اے قریش ! تم مجھ سے واقف ہو کہ میں تیر انداز ہوں۔ جب تک میرے پاس ایک بھی تیرے ہے۔ تم میرے قریب نہیں آسکتے اور تلوار بھی میرے پاس موجود ہے۔ میں تمہارا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا۔ بہتر ہے کہ تم میرا راستہ نہ روکو ۔ میرا اتنا مال فلاں جگہ موجود ہے۔ جائو وہ لے لو ، تمہارے لئے مباح کرتا ہو۔ چناچہ مشرکین نے اس پر اکتفا کرتے ہوئے راستہ چھوڑ دیا۔ جب مدینہ پہنچے تو حضور ﷺ نے فرمایا اے ابو یحییٰ ! تیری تجارت نفع مند ہے۔ وہ لوگ نہ مال کی پروا کرتے تھے۔ نہ جان کی۔ انہیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب تھی کہ کسی طرح ایمان بچ جائے یہی وہ لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں اپنی جان کو بیچتے تھے۔
اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان ضعفاء نے بڑی بڑی تکالیف برداشت کیں۔ عمار کی والدہ سمیہ نے ایک عورت ذات ہوتے ہوئے اتنی بڑی قربانی دی۔ عمار کا باپ یاسر بھی شہید ہوا اور ماں بھی شہید ہوئی۔ ظالم ابوجہل نے حضرت سمیہ کی دونوں ٹانگیں مختلف اونٹوں سے باندھ کر مخالف سمتوں میں چلا دی اور اس طرح انہیں بےرحمی سے شہید کیا۔ حضرت خباب بن ارت ، حضرت بلال اور اس قسم کے کتنے ضعفاء تھے جنہوں نے بڑی سے بڑی تکلیفیں اٹھائیں۔ جان اور مال قربان کردیئے۔ مگر ایمان کو بچا گئے تاکہ اللہ کی خوشنودی حاصل ہوجائے۔
فرمایا واللہ رئوف بالعباد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ شفقت کرنے اولا ہے۔ جو لوگ اپنا مال اور جان اللہ کی رضا کی تلاش میں صرف کردیتے یہاں تو اللہ بھی ان کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑیگا۔ وہ تو بڑا ہی مہربان ہے یہ بھی اس کی خاص مہربانی ہے کہ ان کے دلوں کو نیکی کی طرف پھیر دیا اور وہ ہر قربانی کے لئے تیار ہوگئے۔ چناچہ ان کے حق میں نتیجہ بھی خوب ہی نکلے گا۔ وہ لوگ یقینا مراتب عالیہ پر فائز ہونگے۔ اللہ تعالیٰ خاص مہربانی کرنے والا ہے۔