Ayah 2:230حلالہ
گزشتہ درس میں طلاق کا مسئلہ بیان ہوا تھا۔ اور اس کے بعد خلع کا بیان آیا۔ آج کی آیت کا تعلق بھی مسئلہ طلاق سے ہے ۔ وہاں یہ بیان ہوا تھا کہ طلاق دو مرتبہ ہے جس کے بعد خاوند رجوع کرسکتا ہے۔ اس درس میں تیسری طلاق اور اس کے نتائج کا ذکر آ رہا ہے۔ فرمایا فان طلقھا یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تیسری مرتبہ طلاق دے دے ۔ تو اب رجوع کا حق ختم ہوگیا۔ فلا تحل لہ من بعد حتی تکح زوجاً غیرہ اب اس مرد کے لئے عورت حلال نہیں ہے۔ جب تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔ اب یہ عورت پہلے خاوند کے لئے مغلظ ہوگئی۔ اگرچہ یہاں پر عدت کا ذکر نہیں ہوا۔ تاہم یہ بات پہلے آ چکی ہے کہ طلاق یا بیوگی کے بعد عورت کے لئے عدت کا پورا کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر نکاح ثانی نہیں کرسکتی۔ یہاں پر بھی وہی صورت ہے۔ جب کوئی شخص تیسری طلاق دے دے ، تو پھر وہ عورت عدت کے ایام پورے کریگی اور اس کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے کی مجاز ہوگی۔ فان طلقھا اور اگر اب دوسرا خاوند بھی اس کو طلاق دے دے یا فوت ہوجائے۔ تو عورت کو پھر دوسری عدت گزارنا ہوگی۔ اس کے بغیر تیسرا نکاح نہیں کرسکتی جب یہ دوسری عدت بھی پوری ہوجائے فلا جناح علیھمآ ان یتراجعا تو پہلے خاوند اور عورت پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ پھر رجوع کرلیں بشرطیکہ ان ظنآ ان یقیما حدود اللہ وہ گمان کریں کہ اللہ کی حدود کو قائم کریں گے مطلب یہ کہ ان دونوں کو اس بات کا احساس ہوجائے کہ انہوں نے علیحدگی اختیار کر کے سخت پریشانی اٹھائی ہے۔ لہٰذا ایسی صورت نہیں پیدا ہونے دیں گے تو وہ دوبارہ نکاح کر کے زوجین کی حیثیت سے زندگی گزار سکتے ہیں۔
طلاق کی مختلف صورتیں
جیسا کہ گزشتہ درس میں بیان آ چکا ہے ۔ ” الطلاق مرتن “ طلاقیں دراصل دو ہی ہیں۔ جن میں رجوع کی گنجائش ہے اور اس کی آخر حد تین ہے۔ جس کے بعد جدائی لازمی ہوجاتی ہے۔ اسی لئے امام مالک تیسری طلاق کو پسند نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ تیسری طلاق دینی ہی نہیں چاہئے تاہم طلاق کا احسن طریقہ یہ ہے کہ ایسے طہر میں ایک طلاق دی جائے جس میں مباشرت نہ کی ہو۔ جب تین حیض یا تین ماہ (جیسی بھی صورت ہو) گزر جائیں گے تو عورت آزاد ہوجائے گی۔ لہٰذا دوسری اور تیسری طلاق دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ایک یا دو طلاق کی صورت میں عدت کے دوران بغیر دوبارہ نکاح کئے رجوع ہو سکتا ہے اور اگر عدت گزر جائے۔ تو پھر بھی دوبارہ نکاح کر کے رجوع ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی وقت نہیں اور کوئی قباحت نہیں۔ اس طریقہ طلاق کے مطابق اگر ایک طلاق کے بعد رجوع کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو دوسرے طرح میں دوسری طلاق دی جاسکتی ہے۔ اب بھی سوچنے سمجھنے کا موقعہ موجود ہے۔ انسان ٹھنڈے دل سے غور کر کے متنازعہ امور کا تصفیہ کرسکتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص تیسری طلاق ضرور ہی دنیا چاہتا ہے۔ تو پھر تیسرے طہر میں تیسری طلاق دیدے۔ بہرحال بہترین طریقہ یہ ہے کہ تین طہر میں تین طلاق دے۔ حیض کی حالت میں طلاق دینے سے اگرچہ طلاق تو واقع ہوجاتی ہے۔ مگر انسان گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ یہ طلاق بدعت کہلاتی ہے بیک وقت تین طلاق دینا بھی بدعت ہے۔ آدمی گنہگار ہوتا ہے ۔ سنت کے خلاف ہے۔
طلاق ثلاثہ کی تحقیق
حیض کی حالت میں طلاق دینے ، تین طلاقیں بیک وقت دینے یا ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دینے کے متعلق فقہائے کرام کے تین مختلف مسلک ہیں۔ شیعہ حضرات کے نزدیک حیض کی حالت میں تین طلاقیں اکٹھی دینے سے طلاق واقع ہی نہیں ہوتی ، فرقہ ظاہر یہ جن میں اہل حدیث بھی شامل ہیں ، ان کا مسلک یہ ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں۔ ان میں طائوس ، مقاتل ، نحفی وغیرہ شامل ہیں اور تیسرا مسلک ائمہ رابعہ کا ہے جسے اکثر صحابہ اور تقریباً تمام تابعین اور جمہورائمہ کی تائید حاصل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تین طلاق بیک وقت دینے کا طریقہ تو بلاشبہ غلط ہے اور ایسا کرنے والا گنہگار بھی ہوتا ہے مگر تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔
جو حضرات تین طلاق کو ایک تصور کرتے ہیں وہ مسلم شریف میں منقول حضرت عبداللہ بن عباس کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر کے ابتدائی زمانہ تک تین طلاقیں ایک ہی طلاق تصور ہوتی تھی۔ بعد میں حضرت عمر نے حکم جاری کیا۔ جو شخص بیک وقت تین طلاقیں دے گا۔ وہ تین ہی سمجھی جائیں گی۔ اس حدیث کے متعلق جمہور فقاء اور آئمہ کرام فرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث مرفروع نہیں بلکہ موقوف ہے۔ یہ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ فلاں فلاں زمانہ میں ایسا ہوتا تھا ، یہ خود حضور ﷺ کا فرمان نہیں ہے اس استدلال میں کمزوری یہ ہے کہ اس حدیث کے برخلاف خود حضرت عبداللہ بن عباس کا مذہب یہ ہے کہ تین طلاقیں دینے سے تینوں واقع ہوجاتی ہیں اور یہ اصول حدیث کا کلیہ ہے کہ جب کوئی راوی خود اپنی روایت کے خلاف فتویٰ دے یا عمل کرے تو وہ روایت ناقابل عمل ہوجاتی ہے۔ اس کی مثال حضرت ابوہریرہ والی حدیث ہے جس میں حضور خاتم النبین ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر کتا برتن میں منہ ڈال دے تو برتن سات دفعہ دھونا چاہئے جس میں ایک مرتبہ مٹی مل کر دھونا بھی شامل ہو۔ اب حضرت ابوہریرہ کا اپنا فتویٰ یہ ہے کہ صرف تنی دفعہ دھونے سے برتن پاک ہوجاتا ہے۔
چونکہ کتے کے دہن کا لعاب جراثیم آلود ہوتا ہے۔ اس لیے ایک دفعہ مٹی بھی مَل لی جائے تو بہتر ہے۔ ورنہ تین دفعہ پانی کے ساتھ دھو لینا کافی ہے۔ لہٰذا سات مرتبہ دھونے والی حدیث ناقابل عمل ہوگئی۔ اتنی دفعہ دھونا ضروری نہ رہا۔ بلکہ اگر احتیاطاً کوئی سات دفعہ بھی دھولے تو وہ استحباب کے درجہ میں آئیگا ، لازم نہیں رہا۔ لہٰذا حضرت ابن عباس ؓ کی تین طلاقوں کو ایک طلاق تصور کرنے والی روایت کے استدلال میں کمزوری واقع ہوگئی۔
اگرچہ حضرت ابن عباس ؓ کے اکثر شاگرد و مذکورہ روایت ہی بیان کرتے ہیں۔ جسمیں تین طلاق کو ایک تصور کیا گیا ہے۔ مگر ابودائود شریف کی روایت کے مطابق آپ کے ایک شاگرد ایک دوسری روایت بھی بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں بیک وقت دے دی ہیں۔ آپ نے برجستہ فرمایا عصیت ربک وبانت منک امراتک یعنی تو نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور تیری عورت بھی تجھ سے جدا ہوگئی۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ خود حضرت ابن عباس ؓ تین طلاق کو تین ہی تصور کرتے تھے۔ جبھی تو فرمایا کہ اگرچہ تو گنہگار ہوا ہے مگر طلاق واقع ہوگئی اور تیری بیوی تجھ سے علیحدہ ہوگئی۔
طحاوی شریف میں ایک اور روایت بھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی طرف منسوب ہے۔ ایک شخص آپ کے پاس آیا۔ اور کہنے لگا کہ میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ اس کا کیا حکم ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ان عمک عصی اللہ تیرے چچا نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ واطاع الشیٰطن اور شیطان کی بات مانی۔ ولم یجعل لہ مخرجاً مگر اب خلاصی کی صورت بھی باقی نہیں رہی۔ عورت کو طلاق واقع ہوگئی۔
موطا امام مالک (رح) میں محمود بن لبید ؓ سے روایت منقول ہے۔ آپ چھوٹی عمر کے صحابی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک شخص نے اپنی عورت کو تین طلاقیں اکٹھی دے دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ کہ اللہ کی کتاب کو کھیل اور مشغلہ بنانا درست نہیں۔
آپ سخت ناراض ہوئے۔ اتنے میں ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی ، حضور ! کیا میں اس کو مار نہ ڈالوں۔ مگر آپ خاموش رہے۔ آپ نے مزید کچھ نہیں فرمایا۔ مگر ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس سے بھی معلوم ہوا۔ کہ بیک وقت طلاق ثلاثہ سے آدمی گنہگار ضرور ہوتا ہے مگر طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
موطا امام مالک میں حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا طلقت مائتہً میں نے اپنی عورت کو سو طلاقیں دیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تین طلاقوں کے ساتھ تو عورت علیحدہ ہوگئی ، باقی ستانویں 97 طلاقیں دیکر تم نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ تین طلاقیں دینے سے تینوں واقع ہوجاتی ہیں۔
لہٰذا تین طلاقوں کے ایک طلاق واقع ہونے والی روایت قابل عمل نہیں رہی۔ البتہ اس کے متعلق فقہائے کرام یہ توجیہہ بیان کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہحضور ﷺ ، حضرت صدیق اکبر ؓ اور عمر فاروق ؓ کے ابتدائی دور تک لوگ ایک ہی طلاق دیتے ہوں۔ تین کا رواج ہی نہ تھا۔ پھر جب لوگوں نے تین طلاقیں دینا شروع کیں تو حضرت عمر ؓ نے حکم صادر کیا۔ کہ جو شخص بیک وقت تین طلاقیں دے گا۔ وہ تین ہی شمار ہوں گی۔ لہٰذا کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے سے ایک ہی واقع ہوگی اور وہ رجوع کرسکے گا۔ لہذا لوگ خبردار رہیں۔
ابودائود شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ تین طلاقوں کا ایک طلاق شمار کرنا اس عورت کے لیے ہے جس کا نکاح ہوا مگر خاوند سے خلوت نہیں ہوتی۔ وہ شخص اگر ایک وقت میں تین طلاق بدیں الفاظ دیتا ہے کہ تجھ کو طلاق ہے۔ تجھ کو طلاق ہے۔ تجھ کو طلاق ہے۔ تو ایسی عورت پہلی طلاق پر ہی جدا ہوجائے گی۔ اس کی دوسری اور تیسری طلاقیں لغو ہیں کیونکہ عورت کے غیر مدخولہ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے ایک طلاق ہی کافی ہے۔ یہاں دوسری اور تیسری طلاق کا کوئی موقع محل نہیں ہے۔
الغرض ! تین طلاقوں کو ایک تصور کرنے کے متعلق صرف حضرت عبداللہ بن عباس ؓ والی روایت سے استدلال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی خاص روایت نہیں۔ اس روایت کے متعلق معلوم ہوگیا کہ یہ استدلال کمزور ہے اور روایت مؤول ہے البتہ مسلم شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی ایک روایت آتی ہے۔ کہ کسی شخص نے حضور ﷺ سے دریافت کیا حضرت ! اگر کوئی حیض کی حالت میں عورت کو طلاق دیدے تو اس کا کیا حکم ہے۔ فرمایا اگر کوئی ایسی بیوقوفی کرلے تو عورت تو جدا ہوجائیگی البتہ دینے والا گنہگار ہوگا۔ کہ اس نے غلط موقع پر طلاق دی۔ ابن حزم (رح) اور بعض دوسرے ائمہ یہ نکتہ بھی بیان کرتے ہیں۔ کہ پہلی آیت میں فرمایا الطلاق مرتن یعنی طلاق دو مرتبہ ہے ۔ جس میں رجوع ہوسکتا ہے۔ اس آیت میں فرمایا فان طلقھا پس اگر اس نے ( تیسری) طلاق دیدی۔ فرماتے ہیں کہ یہاں پر فان کی بجائے ثم کا لفظ بھی آسکتا تھا۔ مگر اس میں حکمت یہ ہے کہ فا اتصال کے لیے آتا ہے۔ جب کہ ثم میں یہ معنی نہیں پایاجاتا۔ تو یہاں پر فان طلقھا کا معنی یہ ہوگا کہ دو طلاق کے بعد اگر متصلاً تیسری طلاق دیدے یعنی بیک وقت تین طلاقیں دیدے۔ تو عورت حرام ہوجائیگی۔ جب تک وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرکے طلاق حاصل نہ کرلے۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ متصل تین طلاقیں تین ہی تصور ہوں گی۔
مشرو ط نکاح
اس وقت مروجہ حلالہ کی جو صورت ہے وہ کبیرہ نگاہ کا ارتکاب ہے۔ یہ حلالہ مشروط نکاح کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ جب دیکھتے ہیں کہ اب رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ تو کسی دوسرے شخص کے ساتھ اس شرط پر نکاح کردیا کہ وہ طلاق دیدے گا۔ اور پھر پہلے خاوند سے نکاح ہوسکے گا۔ اگر جہ اس طرح قانونی جواز تو پیدا ہوجاتا ہے مگر اس شرط کے تحت نکاح گناہ کبیرہ ہے۔ ایسے حلالے پر لعنت کی گئی ہے۔ العن اللہ المحلل والمحلل لہ۔ حضور ﷺ نے فرمایا حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا گیا۔ دونوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔
بہرحال یہ حلال حرام کا مسئلہ ہے۔ اور اگر حلال و حرام میں اختلاف پیدا ہوجائے لو کلیہ یہ ہے کہ حرام کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا اس مسئلہ میں تین طلاق پر عورت حرام ہوجائیگی ، خواہ بیک وقت تین طلاق دی ہوں۔ ایک ہی طہر میں دی ہوں یا حیض کے دوران دی ہوں۔ اب عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہوسکتی۔ جب تک کہ وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کردے۔ پھر وہ خاوند فوت ہوجائے یا طلاق دے دے تو دوبارہ پہلے خاوند سے نکاح ہوسکتا ہے۔
فرمایا تلک حدود اللہ یہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدیں ہیں۔ یبینہا لقومٍ یعلمون جو کہ اہل قوم کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ مسئلہ نکاح کا ہو ، طلاق یا عدت کا ہو۔ ایلاء یا ظہار کا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے واضح حدیں مقرر کردیں ک ہیں۔ ان حدود کا احترام کرنا چاہئے اور ان کو عبور نہیں کرنا چاہئے۔ ورنہ انسان گنہگار ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجائے گا۔
Ayahs 2:231–232طلاق برائے ایذاء رسانی
گذشتہ درس میں یہ مسئلہ بیان ہوچکا ہے کہ طلاقیں اصل میں دو ہی ہیں۔ جب تیسری طلاق دیدی جائے تو پھر بغیر حلالہ کے پہلے خاوند کے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا آیت زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے نکاح و طلاق اور عدت سے متعلقہ دو اور مسائل بیان فرمائے ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ دوسری طلاق کے بعد جب عدت پوری ہوجائے تو پھر عورتوں کو بلاوجہ تنگ نہ کرو۔ اگر انہیں روکنا ہے تو معروف طریقے سے اور اگر رخصت ہی کرنا ہے تو بھی اچھے طریقے سے انہیں رخصت کر دو ۔ اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کسی مطلقہ یا بیوہ کو نکاح ثانی کرنے سے منع نہ کرو۔ یہ اچھی بات نہیں ہے بلکہ انہیں اپنی مرضی کے مطابق نکاح کی اجازت دو ۔
زمانہ جاہلیت میں ایک غلط رسم جاری ہوگئی تھی کہ عورتوں کو تنگ کرتے تھے طلاق دے دیتے ، جب عدت قریب الاختتام ہوتی تو رجوع کرلیتے۔ کچھ عرصہ بعد کہ نہ تو عورت کو معقول طریقے سے آباد کرتے اور نہ اسے رخصت کرتے کہ وہ دوسری جگہ نکاح کرسکے۔ یہ سلسلہ سال ہا سال تک جاری رہتا۔ جس کی وجہ سے بےگناہ عورتوں کو سخت اذیت ہوتی۔ اس قسم کی قباحت کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ واذا طلقتم النساء اجلھن جب تم عورتوں کو طلاق دیدو اور پھر ان کی عدت پوری ہوجائے۔ فامسکوھن بمعروفٍ پھر یا انہیں دستور کے مطابق روک لو یعنی رجوع کرلو یعنی اگر تمہیں اپنے سابقہ فعل پر واقعی ندامت ہوئی ہے تو اپنا گھر دوبارہ آباد کرلو اور اس میں نیت اصلاح کی ہونی چاہئے محض ایذا رسانی اور عورت کو حق سے محروم کرنے کے لیے ایسا مت کرو۔ بالکل نیک نیتی سے رجوع کرلو۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو ۔ صلح صفائی کی صورت نظر نہ آتی ہو۔ اوسرحوھن بمعروفٍ تو پھر انہیں معروف طریقے سے رخصت کردو تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح کرسکیں سرَحَ کا معنی چھوڑ دینا یا آزاد کردینا ہے جانوروں کو چنگل میں چرنے کے لیے چھوڑ دینا تسریح کہلاتا ہے۔ اور جب جانور شام کے وقت جنگل سے واپس پلٹتے ہیں تو اس وقت تریح کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ حین تریحون وحین تسرحون یعنی جب تم جانوروں کو واپس پلٹاتے ہو اور جب انہیں چرنے کے لیے بھیجتے ہو کنگھی کرنے کو بھی تسریح کہتے ہیں۔ اس سے بالوں کی الجھن دور ہوجاتی ہے۔ بہرحال اگر علیحدگی کا حتمی فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر مطلقہ عورتوں کو بلاوجہ مت روکو بلکہ انہیں احسن طریقہ سے کچھ دے دلا کر رخصت کردو۔ انہیں طعن تشنیع کا نشانہ نہ بنائو۔ گالی گلوچ نہ کرو بلکہ خوش اسلوبی کے ساتھ علیحدہ کرو۔ فرمایا ولا تمسکو ھن ضرارا لتعتدوا اور انہیں تکلیف پہنچانے کی خاطر مت روکو یہ زیادتی کی بات ہے۔ عورتوں پر زیادتی مت کرو۔ اس طریقہ سے انہیں روکنا حرام ہے اور گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہے۔ اس سے بچ جائو۔ ومن یفعل ذلک جو ایسا کریگا فقد ظلم نفسہ اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اور اللہ تعالیٰ ظلم کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ دوسری جگہ واضح طور پر آتا ہے واللہ لا یحب الظلمین ہاں اللہ تعالیٰ بعض اوقات ظالموں کو مہلت دے دیتا ہے مگر بالآخر وہ گرفت میں آجاتے ہیں۔ اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ فرمایا کہ اللہ کے احکام کی صریحاً خلاف ورزی کرکے ولا تتخذواٰیت اللہ ھزوا اللہ کی آیات کو تمسخر کا نشانہ نہ بنائو۔ یہ بہت بُری بات ہے تمسخر کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص غلام کو کہہ دے کہ جا میں نے تجھے آزاد کیا۔ اور پھر کہے کہ یہ تو میں نے مذاقاً کہا تھا۔ میری نیت تو آزاد کرنے کی نہ تھی۔ یاد رکھو اگر کوئی دل لگی کے لیے بھی غلام کی آزادی کا اعلان کرتا ہے تو غلام آزاد ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی ٹھٹا کے طور پر کہتا ہے کہ میں نے طلاق دی تو بھی طلاق ہوجائے گی۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ کی آیتوں کو ہنسی مذاق نہ بنائو۔ بلکہ ان پر سختی سے عمل کرو۔
تذکیر باحسانِ اللہ
فرمایا واذکرو ا نعمت اللہ علیکم اللہ تعالیٰ کا وہ احسان یاد کرو۔ جب اس نے تم پر کیا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان کی دولت سے نوازا ہے۔ تمہارے درمیان عظیم الشان رسول مبعوث فرمایا ہے۔ جو تمہاری تربیت کرتا ہے اجتماعی لحاظ سے تمہیں حکومت عطا کی ہے۔ مال و دولت دیا ہے۔ جاہ و اقتدار بخشا ہے۔ عزت و آبرو دی ہے۔ ان احسانات کو یاد کرکے اس کے شکرگزار بن جائو۔ اور پھر ایک خاص احسان یہ کیا وما انزل علیکم من الکتب والحکمۃ تم پر ایک عظیم الشان کتاب نازل فرمائی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا آخری پروگرام ہے جس کے بعد کوئی کتاب نہیں۔ کوئی نبی نہیں اور کوئی پروگرام نہیں۔ اور پھر اس کتاب کے ساتھ حکمت بھی نازل کی۔ قرآن پاک خود سراسر حکمت ہے۔ مگر اس کے ساتھ نبی کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ارشادات پرازحکمت ہیں۔ حکمت کا لفظ حضور ﷺ کے ارشادات پر بھی بولا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں دو جگہ پر موجود ہے کہ اس انعام کو یاد کرو جو اس نے تم پر کتاب و حکمت کی صورت میں کیا ہے۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی سنت اور اس کا اتباع حکمت ہے اور یہ نہایت بصیرت افروز اور حکمت آمیز باتیں ہیں ، دانش وری کی باتیں ہیں اسی لیے فرمایا ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیراً کثیراً جسے حکمت عطا کردی گئی ، وہ خیر کثیر یعنی بہت زیادہ بھلائی سے نوازا گیا۔ آگے اسی سورة میں اس کی مزید وضاحت آئیگی۔ فرمایا یعظکم بہ اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ بری چیزوں کی طرف راغب نہ ہو بلکہ واتقو اللہ اللہ تعالیٰ سے ڈر جائو کہیں اس کے احکام کی خلاف ورزی نہ کر بیٹھو۔ کسی کی حق تلفی نہ کرنا۔ اپنی نیت کو پاک صاف رکھو واعلمو اور یاد رکھو خوب اچھی طرح ذہن نشین کرلو ان اللہ بلک شئی علیم اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں وہ تمہارے دلوں کے ارادے اور نیتوں کو بھی جانتا ہے تم خدا کو کسی طرح دھوکہ نہیں دے سکتے۔
نکاح میں عورت کی رضا مندی
آگے دوسرے مسئلہ کا بیان ہے۔ واذا طلقتم النساء جب تم عورتوں کو طلاق دے دو قبلغن اجلھن اپنی عدت کو پہنچ جائیں یعنی عدت ختم ہوجائے فلا تعضلو ھن تو انہیں اس بات سے مت روکو ان ینکحن ازواجھن کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کرلیں اذا تراضو ابینھم بالمعروف جب ان کے درمیان دستور کے مطابق راضی نامہ ہوجائے۔ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ حضرت معقل بن یسار ؓ کی بہن کا نکاح ایک شخص سے ہوا۔ کچھ عرصہ بعد اس شخص نے طلاق دیدی۔ صحابی رسول نے اسے رجوع کے لیے کہا مگر وہ واضی نہ ہوا۔ اور مدت پوری ہوگئی۔ تاہم یہ طلاق مغلظ نہیں تھی دوبارہ نکاح ہوسکتا تھا۔ جب عورت آزاد ہوگئی۔ تو بعض دوسرے لوگوں نے بھی نکاح کے پیغام بھیجے۔ اتنے میں اس شخص کو اپنے کئے پر ندامت ہوئی اور اس نے بھی دوبارہ نکاح کی خواہش کا اظہار کیا۔ عورت بھی اس پر رضامند ہوگئی۔ کہ چلو کسی غیر کا منہ نہ دیکھنا پڑیگا۔ حدیث شریف میں یہ الفاظ آتے ہیں فھوی ماھویت یعنی دونوں کی خواہش تھی کہ ان کا دوبارہ نکاح ہوجائے۔ مگر حضرت معقل ؓ کو یہ بات پسند نہ آئی۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ جس شخص نے اس کی بہن کو طلاق دی اور پھر کہنے کے باوجود رجوع نہ کیا۔ ایسے کمینے شخص کے ساتھ دوبارہ نکاح نہیں ہونے دوں گا۔ اسی دوران یہ آیت نازل ہوئی۔ اور حضور ﷺ نے انہیں بلا کر اللہ تعالیٰ کا حکم سنایا۔ کہ اگر مرد اور عورت نکاح پر رضامند ہیں۔ تو پھر ولی کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے جب حضرت معقل بن یسار ؓ نے یہ حکم سنا تو کہا سمعاً لربی وطاعۃً ہم اپنے رب کی بات سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا یہی منشاء ہے تو میں اپنے رب کی اطاعت کروں گا۔ چناچہ ان دونوں کا دوبارہ نکاح ہوگیا۔ اسی لیے فرمایا کہ اگر کوئی مرد اور عورت نکاح پر رضامند ہوں تو بلاوجہ انہیں اس کام سے نہ روکو۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت سے یہ مراد نہیں کہ عورت صرف پہلے خاوند سے ہی نکاح کرسکتی ہے بلکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ عاقل بالغ عورت اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ درمیان میں بلاوجہ رکاوٹ نہیں بنناچاہئے بشرطیکہ وہ دونوں دستور کے مطابق صحیح طریقہ سے نکاح ر ضا مند ہوں۔ اگر عورت کی رضا مندی کے خلاف دوسری جگہ نکاح کردیاجائے تو کئی قسم کی معاشرتی خرابیاں پیدا ہونے کا احتمام ہے جن کی وجہ سے یہ گنہگار ہوں گے۔ لہٰذا اسے اپنی مرضی سے نکاح کر نیکی آزادی حاصل ہونی چاہئے۔ صرف ایک شرط ہے کہ عورت کا مجوزہ خاوند اس کا کفو ( ہمسر) بھی ہو۔ اور اسے حق مہر بھی پورا میسر آتا ہو اور بھی کوئی چیز باعث تحقیر نہ ہو۔ تو انہیں نکاح کی اجازت دے دینی چاہئے۔
مسئلہ ولایت
اس موقع پر مسئلہ ولایت کا مختصر بیان بھی ہوجائے۔ اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) کا اختلاف ہے کہ آیا عاقلہ بالغہ عورت بغیر ولی کے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کے حق میں ہیں۔ جب کہ امام شافعی (رح) کا فتویٰ اس کے خلاف ہے دونوں طرف دلائل موجود ہیں۔ تاہم امام اعظم (رح) کی رائے زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ نابالغ عورت کا نکاح تو بغیر ولی کے نہیں ہوسکتا۔ البتہ عاقلہ اور بالغہ عورت باکرہ ہو یا ثیبہ بغیر ولی کے نکاح کرسکتی ہے۔ فرمایا یہ نکاح تو ہوجائے گا مگر یہ ناپسندیدہ فعل ہوگا۔ اس سلسلہ میں ایک چیز کی گنجائش ہے۔ اگر عورت نے اپنی مرضی سے غیر کفو کے ساتھ نکاح کیا ہے تو ولی یا سرپرست ایسے معاملہ کو عدالت میں لے جاسکتا ہے۔ اور اگر عدالت مناسب سمجھتے تو نکاح فسخ کرسکتی ہے۔
شاہ صاحب کی یہ بات بڑی قیمتی ہے اگر عورتیں خودبخود نکاح کرنے لگیں تو پھر تو یہ دھاندلی ہوگی۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ نکاح سرپرست کی معرفت سے ہوناچاہئے۔ لڑکی کا باپ یا بڑا بھائی یا چچا ہے ، وہ خود دیکھ بھال کر نکاح کا فیصلہ کریں۔ تاہم نکاح کے لیے عور ت کی رضا مندی بھی ضروری ہے بہرحال اگر عورت اپنی مرضی سے نکاح کرلیتی ہے تو نکاح جائز ہوگا مگر یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے لا نکاح الا بولی یعنی ولی کے بغیر نکاح ہی نہیں ہوتا ہے۔ بعض فقہائے کرام کہتے ہیں کہ اس رویت کی رو سے بغیر ولی کے نکاح باطل ہوگا۔ پوری روایت اس طرح ہے لا نکاح الا بولی وبشاھدی عدل ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کے لیے دو عادل گواہ ضروری ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ولی کا ہونا لازمی نہیں۔ دو گواہ ضروری ہیں۔ تاہم وہ فرماتے ہیں کہ ولی کی رضا مندی اور اسکی سرپرستی بہتر ہے۔
نکاح ثانی میں رکاوٹ نہ بنو
اب آگے دوسرا مسئلہ بیان ہورہا ہے کہ اگر کوئی عورت بیوہ یا مطلقہ ہوجائے اور وہ دوسرا عقد کرنا چا ہے تو اسے اجازت دے دینی چاہئے۔ نکاح میں رکاوٹ نہیں بنناچاہئے فرمایا واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں فلا تعضلو ھن ان ینکحن ازواجھن انہیں اس بات سے مت روکو کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کریں۔ اذا ترضوابینھم بالمعروف جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق راضی ہوجائیں۔ امام شافعی (رح) یہاں بھی پہلے لفظ تعضلو ھن سے استدلال کرتے ہیں کہ یہ ولی کو کہا جارہا ہے کہ نکاح میں رکاوٹ نہ بنیں۔ گویا ولی کا دخل ضروری ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) لفظ ینکحن سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ نکاح کرنا عورت کا حق ہے یہ اسے اختیار ہے کہ وہ اپنی حسب منشاء نکاح کرے۔ اس کی مثال حتیٰ ینکح زوجاً غیرہ میں بھی ملتی ہے کہ وہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے اور پھر یہاں آگے آتا ہے ذلک یوعظ بہ اس بات کی نصیحت کی جاتی ہے من کان یومن باللہ ولیوم الاخرہ تم میں سے اس شخص کو جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے کہ وہ عورت کے معاملہ میں دخیل نہ بنے۔ ذلک ازکی لکم واطھر یہ چیز تمہارے لیے زیادہ شائستگی اور زیادہ پاکیزگی والی ہے۔ عورتوں کو نکاح ثانی سے مت روکو۔ ورنہ کئی طرح کی خرابیاں پیدا ہوں گی۔ اور اس کے ذمہ دار تم ہو گے۔ یہاں پر طہارت سے مراد ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی پاکیزگی ہے۔ نکاح کرلینے سے ان کے دل بھی مطمئن ہو کر پاک ہوجائیں گے اور ظاہراً کسی گناہ میں ملوث ہونے کا احتمال بھی نہیں ہوگا۔ فرمایا واللہ یعلم وانتم لا تعلمون اللہ تعالیٰ جو ایسے احکام نازل کرتا ہے۔ ان کی حکمت کو بھی وہی جانتا ہے۔ تم اس کی گہرائی سے واقف نہیں ہو۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق عورت کو نکاح ثانی کی اجازت دو ۔ اس میں رکاوٹ نہ بنو۔
Ayah 2:233مسئلہ رضاعت
اس درس میں طلاق ہی کے ضمن میں مسئلہ رضاعت بیان ہوا ہے۔ یعنی طلاق کے بعد اگر عورت کی گود میں بچہ ہو ، تو اس کی پرورش کس طرح ہوگی۔ بچے کی ذاتی دیکھ بھال کون کریگا اور اس کا خرچہ کون برداشت کریگا۔ رضاعت کا لفظی معنی دودھ پلانا ہے۔ چونکہ بچہ مرد کا حق ہوتا ہے اور دودھ عورت پلاتی ہے۔ اس لیے یہ سوال پیدا ہوا کہ مردوزن کی علیحدگی کی صورت میں بچے کی پرورش کیسے ہوگی۔ جب کہ اصولاً بچے کو مرد کی تحویل میں چلے جاناچاہئے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین اور مائیں دودھ پلائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال لمن ارادان یتم الرضاعۃ یہ اس شخص کے لیے حکم ہے جو دودھ پلانے کی مدت کو پورا کرنا چاہتا ہے ۔ علیحدگی کی صورت میں اپنی ماں کا دودھ پلانے میں خاص حکمت کارفرما ہے اگر بچہ اپنی ماں کی بجائے کسی دوسری عورت کا دودھ پئے گا۔ تو وہ عورت اس کی رضا عی ماں بن جائے گی۔ نکاح کے متعلق رضاعی ماں کے بھی وہی احکام ہیں جو حقیقی ماں کے ہیں۔ لہٰذا جب بچہ نکاح کے قابل ہوگا تو جس طرح اس کا نکاح حقیقی ماں کی رشتہ داری کی وجہ سے بعض عورتوں سے حرام ہے ، اسی طرح رضا عی ماں کی وجہ سے جو رشتہ دار بہن ، چچی ، بھتیجی ، خالہ ، بھانجی وغیرہ ہوں گے۔ ان سے بھی نکاح نہیں ہوسکے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ترغیب دی کہ طلاق کی صورت میں جہاں تک ممکن ہو مطلقہ عورت کا بچہ اپنی ماں کا دودھ پئے۔ لہٰذا اس کے لیے احکام نازل فرمائے۔ اس کی تفصیل آگے سورة نساء میں آئیگی حرمت علیکم امھتکم۔
مدت رضاعت
رضاعت یعنی دودھ پلانے کی مدت کے متعلق فقہائے کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ جن فقہائے کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے۔ وہ رضاعت کی مدت دو سال بتاتے ہیں حولین کاملین مگر امام مالک (رح) دو سال تین ماہ کے قائل ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ رضاعت کی انتہائی مدت اڑھائی سال ہے۔ وہ سورة احقاف کی آیت وحملہ وفضلہ ثلثون شھراً یعنی حمل اور دودھ پلانے کی مدت تیس ماہ ہے جو کہ اڑھائی سال بنتے ہیں۔ امام صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جو دو سال کا ذکر آیا ہے تو یہ قانونی مدت رضاعت ہے۔ قانونی حیثیت سے دو سال تک دودھ پلانا ضروری ہے تاہم زیادہ سے زیادہ مدت اڑھائی سال ہے۔ تاہم کسی کو دو سال سے زیادہ عرصہ کے لیے دودھ پلانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اخلاقی طور پر اگر ماں رضامند ہو تو ایسا ہوسکتا ہے ۔
رضاعت اور خرچہ کی ذمہ داری
اس آیت کریمہ میں دودھ پلانے کا حکم سب سے پہلے حقیقی مائوں کو دیا گیا والوالدت یرضعن اولادھن اور حقیقی ماں کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ عورت اپنے خاوند کے نکاح میں ہے۔ دودھ بھی ٹھیک ٹھاک ہے کوئی بیماری بھی لاحق نہیں تو ایسی حالت میں دودھ پلانا ماں پر واجب ہے اور اس کے خرچہ کی ذمہ داری باپ پر ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ عورت کو طلاق ہوچکی ہے مگر ابھی عدت میں ہے تو اس حالت میں بھی دودھ پلانے کی ذمہ داری ماں پر ہے۔ البتہ ماں اور بچے کا خرچہ مرد کے ذمے ہے۔ جب تک عدت ختم نہ ہو ہر قسم کا خرچہ خوراک ، لباس ، رہائش علاج وغیرہ سب آدمی کی ذمہ داری ہے۔ اب تیسری صورت یہ ہے کہ عورت کو طلاق ہو کر عدت ختم ہوچکی ہے تو اس حالت میں عورت کی ذمہ داری ساقط ہوجاتی ہے بچے کی پرورش کی ساری ذمہ داری اسکے باپ پر عائد ہوتی ہے اگر بچے کی حقیقی ماں دودھ پلانے پر رضا مند ہو تو باپ کو چاہئے کہ اسے اولیت دے اور اس کا خرچہ معمول کے مطابق برداشت کرے ہاں اگر عورت معمول سے زیادہ خرچہ طلب کرے تو پھر اس کی خدمات حاصل کرنا ضروری نہیں۔ مرد کسی دوسری عورت کو اجرت دے کر بچے کو دودھ پلوا سکتا ہے۔ بعض اوقات حقیقی ماں کادودھ کسی عارضہ کی وجہ سے مضر صحت ہوتا ہے۔ یا دودھ اتنا کم ہے کہ بچے کی پرورش ٹھیک طور سے نہیں ہوسکتی۔ تو ایسی صورت میں بھی باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مناسب معاوضہ ادا کرکے کسی دوسری عورت سے دودھ پلوائے۔
فرمایا وعلی المولو دلہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف جب یہ طے ہوجائے کہ ماں ہی دودھ پلائے گی تو پھر ایسی مائوں کی خوراک اور لباس کی ذمہ داری دستور کے مطابق بچے کے باپ پر ہوگی۔ عورت خواہ مرد کے نکاح میں ہے یا مطلقہ ہو کر عدت گزار رہی ہے۔ اس کے اخراجات مرد برداشت کریگا۔ اور اگر عورت عدت پوری کرکے بالکل جدا ہوچکی ہے تو پھر اس کو اسی طرح اجرت دی جائیگی جس طرح کسی غیر عورت کو دی جاتی ہے اور یہ اجرت یا معاوضہ دستور کے مطابق معقول ہوناچاہئے ، نہ کم نہ زیادہ اور اس معاملہ میں لا تکلف نفس الا وسعھا کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دینی جائیگی۔ مثلاً عورت کو کوئی عارضہ ہے اور دودھ پلانے کے قابل نہیں ہے یا دودھ پلانے سے اس کی صحت کو خطرہ ہے تو ایسی صورت میں اسے دودھ پلانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر مرد کی مالی حالت کمزور ہے تو اس کی حیثیت سے زیادہ اجرت طلب نہیں کی جائیگی اسی لیے فرمایا لا تضار والدۃ بولدھا والدہ کو اس کا اپنا بچہ ہونے کی بناء پر نقصان نہیں پہنچایاجائے گا۔ چونکہ اس کو بچے سے محبت ہے اور اس کی مامتا کا تقاضا ہے کہ اسے خود دودھ پلائے تو اس کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ماں کو کم اجرت پر مجبور نہیں کرنا چاہئے۔ والا مولودلہ بولدہ اور نہ باپ کو محض اس وجہ سے تکلیف دی جائیگی کہ وہ بچے کا باپ ہونے کی وجہ سے اس کی پرورش کرنے پر مجبور ہے۔ مگر وہ اپنی حیثیت سے زیادہ اجرت نہیں دے سکتا۔ لہٰذا ماں کو اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر بچے کے باپ کو تنگ نہیں کرنا چاہئے بلکہ یہ معاملہ افہام و تفہیم کے ذریعے دستور کے مطابق اور باپ کی مالی حالت کے پیش نظر طے کرنا چاہئے۔ اسلام میں یہ ایک عام قانون ہے کہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنا دستور بھی یہ ہے کہ یکلف اللہ نفساً الا وسعھا اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ عبادات میں دیکھ لیں اگر کوئی شخص معذور ہے یا مجبور ہے کھڑے ہو کر نمازادا نہیں کرسکتا تو بیٹھ جائے ۔ لیٹ کر پڑھ سکتا ہے ، اشاروں سے نماز ادا کرسکتا ہے۔ اسی طرح اگر بیمار ہے یا مسافر ہے تو روزہ کو قضا کرسکتا ہے ۔ دودھ پلانے کے معاملہ میں بھی فرمایا کہ کوئی فریق دوسرے فریق کو تنگ نہ کرے ، بلکہ معمول کے مطابق احسن طریقہ سے یہ کام انجام دیاجائے۔
یتیم بچے کی رضاعت
یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بچے کا باپ فوت ہوچکا ہو تو اس کی رضاعت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔ فرمایا وعلی الوارث مثل ذلک جس طرح باپ بچے کی پرورش کا ذمہ دار تھا اسی طرح اسکی عدم موجودگی میں وارث اس کی ذمہ داری قبول کرے گا۔ اب وارث سے کون سا وارث مراد ہے۔ اس ضمن میں مختلف اقوام ہیں وارث اگر بطور اسم جنس لیاجائے تو اس کے معنی تمام وارث ہوں گے۔ ہر وارث ترکہ سے جس قدر وراثت کا حق دار ہے اسی نسبت سے وہ یتیم بچے کی پرورش کا خرچ بھی برداشت کریگا۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ وارث سے مراد باپ کے وار ث ہیں اور ان میں خود بچہ بھی شامل ہے۔ اس لحاظ سے بچے کی پرورش یعنی اس کی ماں کا نان نفقہ بچے کی جائیداد سے ادا کیا جائیگا۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ وارث سے مراد بچے کے وارث بھی ہوسکتے ہیں۔ یعنی اگر بچہ فوت ہوجائے تو اس کا ترکہ کن کن وارثوں کو پہنچتا ہے اس لحاظ سے جو وارث بنتے ہیں۔ وہی رشتہ داربحساب حصہ رسدی وارثت بچے کی کفالت کے ذمہ دار ہوں گے۔ یعنی جس وارث کو بچے کی جائیداد سے آدھا حصہ مل سکتا ہے۔ وہ بچے کے نصف خرچہ کا ذمہ دار ہوگا اور جس کو ایک تہائی ، چھٹا حصہ یا آٹھواں حصہ پہنچتا ہے۔ وہ اسی قدر بچے کا خرچہ برداشت کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ مولانا تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر بچے کی اپنی جائیداد نہ ہو تو پھر اس کے مالد عزیزوں میں سے جو اس کے وارث اور محروم ہوں وہ اس کی کفالت کے ذمہ دار ہوں گے۔ محرم سے مراد یہ ہے کہ اگر بچے اور اس کے عزیزوں میں سے ایک کو مرد اور دوسرے کو عورت فرض کرلیاجائے تو دونوں کا نکاح درست نہ ہو اس لحاظ سے بچے کی ماں پر بھی ذمہ داری آتی ہے مثلاً یتیم بچے کی ماں موجود ہے اور اس کا دادا بھی ہے تو وراثت کے حصہ رسدی کے مطابق بچے کی کفالت ایک تہائی ماں کے ذمہ اور دو تہائی دادا کے ذمہ ہوگی۔ اس لحاظ سے بچے کے بھائی ، چچا ، تایا وغیرہ بھی بحیثیت وارث اور محرم اس کی پرورش کے ذمہ دار ہیں تفسیر روح البیان کے مطابق متوفی کے عصبات بھی ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔ اس لحاظ سے بھی چچا ، تایا ، دادا وغیرہ کو یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
یہاں پر مطلق وارث کا لفظ استعمال کرنے میں یہ حکمت کارفرما ہے کہ حالات کے مطابق شرعی عدالت یتیم بچے کی پرورش کی ذمہ داری کسی بھی وارث پر ڈال سکتی ہے تاہم عدالت کو یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ سب سے پہلے یہ ذمہ داری بچے کی اپنی جائیداد پر ڈالی جائے پھر بچے کے قریبی وارثوں پر اور پھر متوفی کے عصبات پر کیونکہ یہ مسلمہ اصول ہے کہ حق ادا کرنے کا حق بھی اسی پر عائد ہوتا ہے جو حق وصول کرنے کا حق رکھتا ہے۔
ایک صورت اور بھی ہوسکتی ہے کہ نہ تو بچے کی اپنی کوئی جائیدا ہو اور نہ اس کا کوئی وارث ہو۔ ایسی صورت میں بچے کی پرورش کی ذمہ داری حکومت وقت پر ہوگی۔ اگر دین سے بےبہرہ حکومت یہ ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہ ہو تو پھر یہ ذمہ داری مسلمانوں کی عام جماعت کے سر پر ہے کیونکہ اگر مناسب دیکھ بھال کے بغیر بچہ ضائع ہوگیا تو مسلمانوں کی پوری جماعت عند اللہ ماخوذ ہوگی۔
مدت رضاعت میں رعایت
فرمایا اگرچہ رضاعت کی مدت عام طور پر دو سال مقرر کی گئی ہے تاہم فان ارادا فصالاً تراض منھما وتشاورٍ فلا جناح علیھما اگر بچے کی ماں باپ باہمی رضا مندی اور مشاورت سے بچے کا دودھ دو 2 سال سے پہلے چھڑاناچا ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ بچے کی بہتری مطلوب ہو۔ اگر وہ دونوں سمجھتے ہیں کہ ایک سال بعد یا ڈیڑھ سال بعد بچہ ماں کے بغیر بخیر و خوبی پرورش پاسکتا ہے تو باپ کو حق ہے کہ وہ اسے لے جائے۔
اجنبی عورتوں سے رضاعت
فرمایا وانا اردتم ان تسترضعو اولادکم اگر تم بچے کی حقیقی ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت سے بچے کو دودھ پلاناچاہو۔ فلا جناح علیکم تو اس کے لیے تم پر کوئی گناہ نہیں یہ بھی جائز ہے بشرطیکہ اذا سلمتم ما اتیتم بالمعروف جو کچھ ان سے مقرر کیا ہے۔ اسے دستور کے مطابق ادا کرو۔ اس میں کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ کرو۔ جو اجرت طے کرلو ، وہ ادا کردو۔ تاہم دودھ پلانے کا اولین حق ماں کو ہے کیونکہ جو مامتا حقیقی ماں کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ دوسری کے دل میں پیدا نہیں ہوسکتی۔ تاہم اگرچہ خاص مجبوری کی وجہ سے حقیقی ماں سے دودھ پلانا ممکن نہ ہو ، تو دوسری عورت کو مقرر کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ماں بیمار ہے اور اس کا دودھ مضر صحت ہے یا دودھ بالکل کم ہے جس سے بچے کی خوراک پوری نہیں ہوتی۔ تو ایسی صورت میں غیر عورتوں سے دودھ پلانا درست ہوگا۔
فرمایا اس معاملہ میں واتقو اللہ اللہ سے ڈرتے رہو کہیں اس کی نافرمانی نہ کر بیٹھنا ، اس کے احکام بلاوجہ نہیں ہیں ، بلکہ اس نے یہ احکام اپنی خاص حکمت اور انسان کی بہتری کے لیے دیے ہیں ان کے مطابق عمل کرو۔ اور پھر یہ نہ سمجھ لینا کہ کسی ہیرا پھیرای سے اللہ تعالیٰ کے احکام کو ٹال سکوگے۔ واعلمو ا خوب یاد رکھو ان اللہ بما تعملون بصیر تم جو کچھ بھی عمل کرتے ہو ، اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ تمہاری نیتوں تک سے واقف ہے تم اسے دھوکہ نہیں دے سکتے لہٰذا اس کے احکام کی نافرمانی کا ارادہ کرتے وقت اس کے عذاب کو بھی نگاہ میں رکھ لینا۔
Ayahs 2:234–235ربطہ آیات
گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے رضاعت کا مسئلہ بیان فرمایا تھا کہ اگر ماں کو طلاق ہوجائے تو بچے کو دودھ کون پلائے گی۔ رضاعت کی مدت اور دودھ پلانے والی عورت کے حق کا بیان تھا۔ یہ بھی آچکا ہے کہ اگر بچے کا باپ موجود ہے تو رضاعت کا خرچہ وغیرہ اس کی ذمہ داری ہے۔ اور اگر باپ نہیں ہے تو یہ ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو بچے کے وارث بن سکتے ہیں۔ اگر بچے کی اپنی ماں دودھ پلانے سے قاصر ہے ، وہ خود بیمار ہے۔ یا اس کا دودھ مضر صحت ہے تو پھر کسی دوسری عورت سے دودھ پلانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ تاہم ایسی عورت کے ساتھ جو اجرت طے ہوجائے اسے دستور کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔ ایک دوسرے پر زیادتی نہیں ہونی چاہئے ۔ ماں کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ لازماً بچے کو دودھ پلائے۔ اگرچہ بغیر عذر بچے کو دودھ پلانا ماں ہی کے ذمہ واجب ہے اسی طرح با پ کو بھی مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ صرف بچے کی ماں سے ہی دودھ پلوائے۔ وہ کسی اور عورت کی طرف بھی رجوع کرسکتا ہے اور بلاوجہ بچے کو ماں سے چھیننا بھی درست نہیں۔ یہ ساری باتیں سابقہ آیت میں واضح کردی گئی ہیں۔
عدت کی مختلف اقسام
دوسرا مسئلہ عدت کا ہے۔ بعض قسم کی صورت کی عدت پہلے بیان ہوچکی ہے مثلاً جن مطلقہ عورتوں کو ماہواری آتی ہے ان کی عدت اللہ تعالیٰ نے تین حیض مقرر فرمائی ہے اور جن کو حیض نہیں آتا۔ ابھی چھوٹی عمر ہے یا کبرسنی کی وجہ سے خون آنا بند ہوگیا ہے۔ ایسی عورتوں کی مدت تین مہینے ہے جس عورت کا نکاح ہوگیا مگر میاں بیوی میں خلوت نہیں ہوئی اور طلاق واقع ہوگئی۔ ایسی عورت کے لیے کوئی عدت نہیں۔ اس کا بیان سورة احزاب میں ہے۔ ایسی عورت طلاق کے بعد فوراً نکاح کرسکتی ہے۔ سورة طلاق میں اللہ نے حاملہ عورتوں کی مدت بھی بیان فرمائی ہے وان کن اولات حملٍ فانفقوا علیھن حتی یضعن حملھن ایسی عورت کی عدت وضع حمل ہے۔ جب بچہ پیدا ہوگا عدت ختم ہوجائے گی اس بات کا کوئی لحاظ نہیں کہ بچہ چند دن میں پیدا ہواتا ہے یا نو دس مہینے لگ جاتے ہیں۔
بیوہ کی عدت
آج کے درس والی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کی عدت بیان فرمائی ہے جن کے خاوند فوت ہوجاتے ہیں۔ متوفیٰ عنہا زوجہا کی عدت کے بیشتر مسائل قرآن پاک میں بیان ہوئے ہیں۔ حدیث میں بھی بہت سی تفصیلات موجود ہیں۔ اب بیوہ بھی دو قسم کی ہوسکتی ہیں۔ اگر بیوہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل تک ہے خواہ بچہ جلدی پیدا ہوجائے یا نو ماہ بعد ، حضرت سعد ابن خولہ ؓ حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹنی سے گر کر شہید ہوگئے تھے۔ ان کی بیوی حاملہ تھی وفات کے 22 دن بعد اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا ، اس کی عدت ختم ہوگئی ہے۔ اب اس کا نکاح ثانی کی اجازت ہے۔ ہاں نفاس کا گزرنا ضروری ہے ( مقاربت کے لیے)
اور اگر عورت حاملہ نہیں ہے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے ۔ اس کے اندر مصلحت یہ ہے کہ اگر اس کو حمل ہے تو اس عرصہ میں ظاہر ہوجائے گا۔ اگر معلوم ہوجائے کہ عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت جیسا کہ پہلے بیان ہوا وضع حمل ہوگی۔ اگر حمل نہیں ہے تو اسے چار ماہ اور دس دن تک عدت پوری کرنا ہوگی۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاً تم میں سے جن کو وفات دی جاتی ہے اور وہ پیچھے بیویاں چھوڑ جاتے ہیں یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھرٍ وعشراً وہ روکے رکھیں اپنے آپ کو چار ماہ اور دس دن ، یہ ان کی عدت ہے۔
غیر مذاہب میں قباحتیں
یہودیوں میں عدت کا کوئی نظریہ نہیں۔ ان کی عورتیں طلاق یا بیوگی کی صورت میں فوراً دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہیں۔ ہندوئوں میں ایسی عورتیں ساری عمر سوگ مناتی ہیں۔ انہیں نکاح ثانی کی اجازت نہیں اوّل تو وہ خاوند کے ساتھ ہی زندہ جل جاتی ہیں اگر ایسا نہیں کیا تو ساری عمر یونہی بیٹھی رہیں گی۔ بہرحال یہ افراط وتفریط ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اور افراط وتفریط سے پاک ہے۔ اس میں نکاح کے حقوق اور نسب کا لحاظ رکھا گیا ہے اسلام نے ایسے احکام جاری کیے ہیں کہ نہ تو انسان کا نسب خراب ہو نہ اخلاق میں بگاڑ پیدا ہو۔ اور نہ ہی کوئی چیز حیا کے خلاف ہو۔
جاہلیت کے زمانہ میں بیوہ سال بھر تک سوگ مناتی تھی ، بیوہ عورت عام لوگوں کے ساتھ مکان میں نہیں رہ سکتی تھی بلکہ اسے کسی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا تھا۔ نہ وہ غسل کرسکتی تھی اور نہ کپڑے تبدیل کرنے کی مجاز تھی۔ اس کو منحوس خیال کیا جاتا تھا۔ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا بھی نہیں کھا سکتی تھی۔ ایک سال گزرنے کے بعد اسے کھوٹھڑی سے نکالاجاتا اور گدھے یا اونٹ پر سوار کیا جاتا مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ مرغ یا کوئی دوسرا جانور ایسی عورت کو لا کر دیاج اتا جسے وہ اپنے اعضائے تناسلیہ کے ساتھ ملتی۔ اکثر اوقات وہ جانور تعفن اور زہریلے جراثیم پیدا ہوجانے کی وجہ سے مر جاتے۔ نہ استنجا نہ طہارت ، پھر اس عورت کے ہاتھ میں اونٹ یا بکری کی مینگنیاں پکڑواتے ، وہ اپنے ہاتھ سے مینگنیاں پھینکتی ، تو اس کے لواحقین کہتے کہ اب اس کی عدت پوری ہوگئی ہے۔ اب یہ نہا دھو کو صاف لباس پہن سکتی ہے۔ خوشبو استعمال کرسکتی ہے۔ گویا جاہلیت کے زمانہ میں اس قسم کا بُرا دستور تھا۔
حضور ﷺ کے پاس ایک عورتی آئی اور عرض کیا ، حضور ! میری بیٹی کا خاوند فوت ہوگیا ہے۔ اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے۔ آپ نے فرمایا ، بڑے افسوس کا مقام ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں تم سال بھر سخت مشقت اٹھاتی تھیں مگر اسلام کی عائد کردہ چار ماہ دس دن کی معمولی پابندی برداشت نہیں کرسکتی۔ مقصد یہ کہ عورت عدت کے دوران سرمہ نہیں لگا سکتی۔ رنگین کپڑے نہیں پہن سکتی۔ خوشبو نہیں لگا سکتی۔ زیور نہیں پہن سکتی زینت کا سامان استعمال نہیں کرسکتی۔ البتہ صاف لباس پہن سکتی ہے غسل کرسکتی ہے ، نماز پڑھ سکتی ہے دوسرے لوگوں کے ساتھ ایک مکان میں رہ کر اکٹھا کھا پی سکتی ہے۔ یہ سب جائز ہے۔
حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جو عورت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قیامت پر ایمان رکھتی ہے وہ کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے مگر خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ منانے کا حکم ہے۔ ام المومنین حضرت زینت ؓ اور ام حبیبہ ؓ کے واقعات ملتے ہیں۔ ایک کے والد فوت ہوگئے اور دوسری کے بھائی انہوں نے تین دن گزرنے کے بعد خوشبو منگائی۔ اور کچھ بچی کے سر پر لگادی اور کچھ اپنے ہاتھوں کو مل لی۔ عورتوں کے مجمع میں فرمایا۔ مجھے خوشبو کی حاجت نہ تھی۔ مگر میں تمہیں مسئلہ سمجھاناچاہتی تھی۔ کہ حضور نبی کریم ؓ ﷺ نے فرمایا ہے کہ کسی عورت کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے خاوند کی فوتیدگی پر جب کہ چار ماہ دس دن تک سوگ ہے۔
نکاح کی اجازت
فرمایا فاذا بلغن اجلھن جب انکی عدت پوری ہوجائے۔ فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف تو اب تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔ کہ وہ عورتیں اپنے بارے میں دستور شریعت کے مطابق فیصلہ کریں یعنی اگر وہ نکاح کرنا چا ہیں تو کرسکتی ہیں۔ کہیں نکاح کا پیغام بھیجناچا ہیں تو کوئی حرج نہیں ، وہ ایسا کرسکتی ہیں کسی دوسرے شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کو اس کام سے منع کرے یا ان کے کام میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالے۔ فرمایا واللہ بما تعملون خبیر جو کچھ تم کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کی خبر رکھتے ہیں۔
عدت میں اشارے کنائے کی اجازت
اگر عورت مطلقہ ہے۔ تو دوران عدت کسی دوسرے شخص کو اجازت نہیں کہ وہ اشارہ کنایہ سے بھی مطلقہ کے ساتھ بات کرے۔ صرف اس کے خاوند کو اجازت ہے وہ بھی اس صورت میں کہ اطلاق مغلظہ نہ ہو۔ بیوہ کے لیے حکم یہ ہے کہ عدت کے دوران نکاح کا وعدہ کرنا حلال نہیں ہے۔ اگر اسے کوئی ایسا پیغام بھی ملے تو وہ کہلا بھیجے کہ عدت کے اختتام کا انتظام کرو۔ البتہ عدت کے دوران اشارے کنائے سے بات ہوسکتی ہے جبکہ اس میں صراحت نہ ہو۔ اس قسم کا ایک واقعہ ملتا ہے۔ ایک عورت بیوہ ہوگئی۔ امام جعفر صادق (رح) کے فرزند نے اس سے کہا کہ تم جانتی ہو کہ میرا تعلق حضور ﷺ کے ساتھ کیا ہے۔ اور جو میری قرابت حضرت علی ؓ سے ہے اس کو بھی جانتی ہو عام لوگوں میں میرا جو مقام ہے۔ اس سے بھی تم واقف ہو۔ اس عورت نے کہا ، خدا کا خوف کھائو میں عدت میں ہوں اور تم مجھے نکاح کا پیغام دے رہے ہو۔ انہوں نے کہا میں پیغام نکاح تو نہیں دے رہا ہوں۔ میں تو صرف اپنی حیثیت واضح کر رہا ہوں کہ میرا فلاں فلاں ہستی سے کیا رشتہ ہے۔ اس کو کنایہ کہتے ہیں کہ صراحتاً نکاح کی بات نہ کرے۔ صرف اشارے سے دل کی بات کردے۔ مثلاً یوں کہہ دے کہ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی اچھی دین اور عورت مل جائے تو نکاح کرلوں۔ یا کوئی متدین اور صالح عورت مل جائے تو اس کے ساتھ نکاح کرلوں یا تیسری جیسی خوش بخت کسی نصیب والے ہی کو میسر ہوسکتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ تاہم صریح الفاظ میں نکاح کا وعدہ لینا حرام ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ والا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ عورتوں کے ساتھ پیغام نکاح کے سلسلہ میں اشارہ کرو خطبہ عورتوں کے لیے نکاح کے پیغام کو کہتے ہیں مقصد یہ کہ تم اشارے کنائے سے بات کرسکتے ہو۔ ایک اور لفظ خطبہ ہے جس کا معنی خطاب کرنا ہے ، وعط نصیحت وغیرہ کرنا۔ ان دونوں لفظوں کا باب ایک ہی ہے جب یہ مصدر کے طور پر آتا ہے تو اس سے مراد خطاب کرنا ہوتا ہے۔
فرمایا اشارے کنائے سے اپنا مقصد بیان کردو۔ اوا کنتم فی انفسکم یا اس کو دل میں پوشیدہ رکھو۔ اس کا بھی کوئی گناہ نہیں ہے فرمایا علم اللہ انکم ستذکرونھن اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم ان پر عورتوں کا ذکرو کرو گے کیونکہ فطرتاً مرد کو عورت کی اور عورت کو مرد کی ضرورت ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدوں کو قائم رکھو۔ ولکن لا تواعدو ھن سراً ان سے خفیہ طور پر نکاح کا وعدہ نہ لے لینا۔ یہ بالکل جائز نہیں عدت کے دوران عورت سے یہ کہنا کہ عدت کے بعد میرے ساتھ ہی نکاح کرنا ، کسی اور کے ساتھ نہ کرنا ، یہ جائز نہیں ہے۔ اس کی قطعاً ممانعت ہے۔ الا ان تقولو قولاً معروفاً ہاں اچھے طریقے سے دستور کے مطابق بات کرسکتے ہو۔ اشارے کنائے کے ذریعے مدعا بیان کردو۔ جس میں شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو۔
فرمایا ولا تعزمو عقدۃ النکاح حتیٰ یبلغ الکتب اجلہ جب تک عدت پوری نہ ہوجائے۔ نکاح کی گرہ باندھنے کا ارادہ بالکل نہ کرو۔ یہاں کتاب سے مراد وہ نوشتہ عدت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے قانون میں مقرر ہے۔ عدت کے اندر تو ویسے ہی نکاح نہیں ہوسکتا۔ ایسا کرنا تو زنا کا ارتکاب کرنا ہے۔ اور قطعی حرام ہے فرمایا واعلمو جان لو ان اللہ یعلم ما فی انفسکم کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اگر دل میں قانون کی خلاف ورزی کا خیال ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے۔ فاخذوہ لہٰذا اس سے ڈرتے رہو۔ اس کے قانون کی خلاف ورزی نہ کر بیٹھنا۔ واعلموا اور یاد رکھو ان اللہ غفور حلیم اللہ تعالیٰ غفور یعنی بخشنے والا بھی ہے اور بردبار بھی ہے۔ تحمل کرنے والا ہے۔ بسا اوقات وہ گرفت نہیں کرتا مگر جب مجرموں کو پکڑتا ہے تو پھر خوب پکڑتا ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کے تحمل کی وجہ سے لاپرواہ نہیں ہو جاناچاہئے کہ ایک دفعہ بچ گیا تو ہمیشہ ہی بچتا رہیگا بلکہ وہ اپنے وقت پر ضرور پکڑا جائیگا۔ اگر خدا کے قانون کو توڑو گے تو اسکی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔