2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 2:151–152

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جس طرح کہ ہم نے تم میں سے تمہارے درمیان ایک رسول بھیجا ، جو تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے اور تم کو پاک کرتا ہے اور تم کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور تمہیں وہ سکھاتا ہے ، جو تم نہیں جانتے تھے

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

پس مجھے یاد کرو ، میں تم کو یاد رکھوں گا۔ اور میرا شکریہ ادا کرو اور تم ناشکر گزار نہ بنو۔

ربط آیات اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہت قبلہ کے متعلق فرمایا کہ تم جہاں کہیں ہو ، اپنا رخ بوقت نماز بیت اللہ شریف کی طرف کرلو۔ مگر یہود و نصاریٰ جو ظالم لوگ ہیں اور بات بات پر بےجا اعتراض کرتے ہیں ، ان سے خوفزدہ نہ ہوں۔ ان کے طعن وتشنیع اور اعتراضات کی پروا نہ کریں۔ بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ لہٰذا آپ ہر قسم کی مخالفت سے بےنیاز ہو کر بیت اللہ شریف کو اپنا قبلہ اپنا لیں۔ فرمایا اس کی غایت یہ ہے کہ ولا تم نعمتی علیکم تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں۔ ولعلکم تھتدون اور تاکہ تم ہدایت پا جائو۔ مقصد یہ کہ قبلہ کی طرف رخ کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ شریف کو زیادہ فضیلت والا قبلہ مقرر فرمایا ہے۔ جو کسی خاص قوم اور علاقے کے لئے نہیں بلکہ اقوام عالم کے لئے بین الاقوامی نوعیت کا قبلہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس خطہ کو یہ شرافت بخشی ہے کہ اس جگہ عبادت اور ریاضت کا اجر وثواب دوسرے کسی بھی مقام کی نسبت بہت زیادہ ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے اور پھر اس انعام کے دو حصے ہیں یعنی مادی اور روحانی پیغمبر خدا ﷺ کا وجود مبارک مادی انعام ہے اور قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا روحانی انعام ہے۔ اتمام نعمت اتمام نعمت کے متعلق حضرت علی کی روایت میں آتا ہے۔ حضور علی السلام کا ارشاد گرامی ہے۔ انسان کے لئے اتمام نعمت یہ ہے من دخل الجنۃ کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے۔ جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مقام ہے۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے اتمام نعمت یہ ہے کہ انسان کا خاتمہ ایمان پر ہوجائے۔ کیونکہ صحیح معنوں میں مومن وہی ہے جس کا خاتمہ بالایمان ہو۔ اسی لئے خود ابنیائے کرام بھی یہی دعا کرتے رہے۔ توفنی مسلماً والحقی بالصلحین یعنی اے مولا کریم مجھے اسلام اور ایمان کی حالت میں موت دینا اور میرا حشر صالح لوگوں کے ساتھ کرنا۔ اسی طرح خلافت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عطا فرماتا ہے۔ بعث رسول فرمایا کما ارسلنا فیکم رسولا منکم جس طرح ہم نے تم میں سے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا۔ یہاں پر لفظ کما تشبیہ کے لئے آیا ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے بیت اللہ شریف کو قبلہ مقرر کر کے تم کو فضیلت بخشی اور اتمام نعمت کیا۔ اسی طرح ہم نے تمہاری طرف عظیم الشان رسول بھیج کر تم پر احسان کیا اور اپنی نعمت کو کامل بنایا۔ رسول کا بھیجنا بھی اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے انعامات میں سے ہے دوسری جگہ قرآن پاک نے حضور ﷺ کے وجود مباک کو نعمت سے تعبیر کیا ہے۔ الم ترالی الذین بدلوا نعمۃ اللہ کفراً کیا آپ نے قریش مکہ اور مشرکین عرب کو نہیں دیکھا۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے انعام کی ناقدری کی۔ گویا نعمت کو کفر کے ساتھ تبدیل کیا۔ مراد یہ ہے کہ خود حضور ﷺ جن کا وجود پاک اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ اس کی ناقدری کا مقصد یہ کہ جس طرح ہم نے تمہاری طرف تمہیں میں سے ایک رسول مبعوث کیا۔ کما کا یہ کاف علمت کے لئے بھی ہو سکتا ہے اس لحاظ سے کم اسے مراد یہ ہوگا ۔ تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کروں اور تاکہ تم ہدایت کے راستے پر قائم رہو۔ اور اس طرح یہ کاف تشبیہ کا نہیں بلکہ تعلیل کا ہوگا اور معنی یہ ہوگا کہ ہم نے تمہارے درمیان ایک عظیم الشان رسول اس لئے بھیجا تاکہ اتمام نعمت ہوجائے اور ہدایت کا راستہ بھی واضح ہوجائے۔ اس لحاظ سے یہ لفظ کما بالکل اسی طرح ہے۔ جس طرح حضور ﷺ نے دعا میں سکھایا۔ اللھم ربنا لک الحمد کما کسوتنی کہ جب لباس پہنو تو یوں کہو کہ اے اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں لباس پہنایا۔ یہ لباس بھی تو نے ہی عطا کیا ہے گویا اس لحاظ سے یہ کاف تشبیہ کی بجائے تعلیل کے لئے ہے یعنی جو علت کا معنی دیتا ہے۔ یہاں پر بھی لفظ رسولاً بطور اسم نکرہ آیا ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے تمہاری طرف ایک عظیم الشان رسول بھیجا ہے۔ بڑا رسول بھیجا ہے جو کہ منکم تم میں سے ہی اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں بھی گ ذر چکا ہے ربنا وابعث فیھم رسولاً منھم “ یعنی اے ہمارے رب مہاری اولاد میں سے امت مسلمہ برپا کر اور پھر ان کے اندر ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرما۔ تلاوت اور تزکیہ فرمایا ایک ایسا رسول یتلوا علیکم ایتنا جو تمہارے سامنے ہماری آیتیں پڑھتا ہے۔ لفظ آیت مختلف معانی کے لئے آتا ہے۔ اس سے مراد معجزہ ، نشانی ، حکم یا فرمان ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہمارا مبعوث کردہ رسول ہماری آیات یعنی ہمارا کلام جو بذریعہ وحی نال ہوتا ہے وہ پڑھ کر سناتا ہے۔ ویزکیکم اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے یعنی پاک صاف کرتا ہے۔ رذیل اور گندے اعتقادات سے بچا کر تمہارے اندر اچھے اخلاق اچھے اعمال اور اچھے عقائد کرتا ہے۔ کتاب و حکمت کی تعلیم یہ ایسا عظیم ا لشان رسول ہے۔ جو تلاوت و تزکیہ کے ساتھ ساتھ ویعلمکم اللکتب والحکمۃ تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ اس تعلیم کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں بھی آ چکا ہے وہاں بھی انہوں نے یہی دعا کی تھی کہ اے ہمارے رب اس امت مسلمہ میں ایسا رسول بھیج جو انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔ وہاں پر تزکیہ کا ذکر کتاب و حکمت کی تعلیم کے بعد کیا تھا۔ مگر یہاں پر اس کا ذکر پہلے آیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس تقدم و تاخر میں بھی نکتہ پنہاں ہے۔ وہاں پر دعا کا مقام تھا کہ مولا کریم ! ایسا رسول مبعوث فرما جو ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ ان کا تزکیہ ہوجائے وہ ظاہری اور باطنی طور پر ہر لحاظ سے پاک صاف ہوجائیں اور یہ مقام عمل کا مقام ہے۔ تعلیم کتاب و حکمت کی غرض وغایت یہ ہے کہ انسان کا تزکیہ ہوجائے۔ اب جب کہ امت مسلمہ پیدا ہوچکی ۔ عظیم الشان رسول مبعوث ہوچکا تو اب کتاب و حکمت کی تعلیم کی اصل غرض وغایت یعنی تزکیہ کو پہلے بیان فرمایا کہ جس طرح ہم نے تم میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ہماری آیات پڑھتا ہے۔ تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ الغرض ! ابراہیم (علیہ السلام) کی داع کا مقام تعلیم اور پیش گوئی کا مقام تھا اور یہ عمل کا مقام ہے۔ لہٰذا کتاب و حکمت کی تعلیم کی غرض وغایت یعنی تزکیہ کو پہلے بیان فرمایا جب تک مقصد حاصل نہ ہو ، عمل کا کچھ فائدہ نہیں تعلیم اسی وقت مفید ہوگی۔ جب اس کا مقصد تزکیہ حاصل ہوجائے۔ تعلیم مقصود بالذات نہیں بلکہ مقصود بالذات تزکیہ ہے جس کا تذکرہ اس مقام پر پہلے کیا ہے۔ ان جانی چیزوں کی تعلیم فرمایا کتاب و حکمت کی تعلیم کے علاوہ ہمارا رسول ویعلمکم مالم تکونوا تعلمون۔ تمہیں وہ چیزیں بھی سکھاتا ہے۔ جو تم نہیں جانتے تھے۔ مثلاً لوگ وضو اور طہارت کا طریقہ نہیں جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیغمبر (علیہ السلام) کی تعلیم کے ذریعے سکھایا۔ لوگ غسل جنابت کے طریقہ سے ناواقف تھے۔ انہیں تعداد رکعات معلوم نہ تھیں ۔ نماز اور دیگر عبادات کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔ حلال و حرام کی تمیز نہ تھی۔ یہ سب چیزیں اللہ نے نبی کے ذریعے سکھائیں۔ اسی کو فریاد کہ ہمارا رسول تمہیں وہ چیزیں سکھاتا ہے۔ جو تمہارے علم میں نہ تھیں۔ حضرت جعفر کی روایت میں آتا ہے کہ جب کچھ مسلمان قریش مکہ کی ایذا رسانیوں سے تنگ آ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے اور کفار نے وہاں بھی مسلمانوں کا پیچھا کیا تو حضر جعفر نے نجاشی کے دربار میں جو تقریر کی اس کا لب لباب یہ تھا کہ اے بادشاہ ! ہم بت پرستی کرتے تھے۔ ہمارے اندر ہر قسم کی برائیاں موجود تھیں۔ حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتے تھے۔ ظلم و جور کرنے کے عادی ہوچکے تھے۔ حق و انصاف کے تقاضوں سے نا آشنا تھے ، اللہ تعالیٰ نے ہم میں نبی آخر الزمان مبعوث فرما کر سب سے پہلا حکم یہ دیا کہ خدا کے ساتھ شرک نہ کرو ، بت پرستی سے باز آ جائو۔ صرف اسی وحدئہ لاشریک کی عبادت کرو۔ حلال و حرام میں تمیز پیدا کرو کسی کو ظلم کا نشانہ نہ بنائو۔ اللہ کے نبی نے ہمیں عبادت کا صحیح طریقہ سکھایا۔ تہذیب و تمدن کے اصول بتلائے اور معیشت کے نکات سمجھائے۔ آپ نے عقائد کی اصلاح کے اصول بتائے اور پھر پیش آنیوالے واقعات کو بیان فرمایا مثلاً یہ کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ قبر کی زندگی ، قیامت کو دوبارہ جی اٹھنا پل صراط پر سے گزرنا اور آخر میں محاسبے کی منزل ، میزان عدل کا قیام اور پھر رب العزت کا آخری فیصلہ ، یہ سب باتیں حضور ﷺ نے امت کو بتلا دیں گویا انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ سورة اعراف میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا اے لوگو ! آئو میں تم کو نہ بتلائو کہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے کس کس چیز کو حلال اور کس کس کو حرام قراردیا ہے۔ مطلب یہی ہے کہ میں تمہیں وہ چیزیں بتلائو ، جو تم نہیں جانتے۔ اسی طرححضور ﷺ نے مظالم سے بچنے کا طریقہ بتلایا۔ مولانا عبید اللہ سندھی فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام یہ ہے کہ اس نے بہترین نظام حکومت قائم کرنے کے اصول بتلائے اور پھر انہی اصولوں کے مطابق نظام خلافت قائم ہوا۔ عرب کے لوگ ہزاروں سال تک نظام حکومت سے نابلد رہے ، حالانکہ دیگر اقوام مثلاً رومی اور ایرانی نظام حکومت سے بخوبی واقف تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا کہ اپنے پیغمبر کے ذریعے نظام حکومت کی تعلیم دی جس کی وجہ سے تھوڑے ہی عرصہ میں پرچم اسلام آدھی دنیا پر لہرانے لگا۔ یہ سب چیزیں ویعلمکم تنالم تکونوا تعلمون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تہذیب اخلاق کے پانچ اصول ذکر ، شکر ، صبر ، دعا تعظیم شعائر اللہ ان انعامات کا تذکرہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جب میں نے اتنے بڑے بڑے انعامات تم پر کئے ہیں تو پھر تمہارا بھی فرض ہے کہ فاذکرونی مجھے یاد کرو۔ گویا یہاں سے تہذیب کا باب شروع ہوتا ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی قباحتیں بیان کیں۔ پھر ملت ابراہیمی کی بنیاد کا ذکر کیا۔ خانہ کعبہ کے مرکز ہدایت ہونے کا بیان ہوا۔ پیغمبر (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ کتاب کا بیان آیا اور اب یہاں سے تہذیب اخلاق یا تہذیب نفس کے احکام شروع ہوتے ہیں۔ جن کی بدولت انسان میں تہذیب اور شائستگی پیدا ہوتی ہے۔ اس ضمن میں اس مقام پر دو اصول بیان ہوئے ہیں اور باقی تین اصول آئندہ رکوع میں بیان ہوں گے۔ پہلا اصول ذکر الٰہی تہذیب نفس کا پہلا اصول جو یہاں بیان ہوا ، وہ ذکر الٰہی ہے۔ گویا ہمارا نصاب تعلیم اللہ تعالیٰ کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔ یہ ذکر زبان ، عمل ، قلب اور روح کے ذریعے ہوتا ہے۔ ذکر کا عام فہم طریقہ زبان کے ذریعہ سے ہے۔ انسان زبان کے ساتھ خدا تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے۔ اس کی تعریف و توصیف کرتا ہے۔ تلاوت کلام پاک کرتا ہے۔ یہ سب ذکر کی زبانی صورتیں ہیں۔ ایک صحابی نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا۔ حضور ای الاعمال افضل کونسا عمل افضل ہے۔ فرمایا لایزال لسانک رطباً من ذکر اللہ یعنی تمہاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہئے۔ ایک دوسری روایت میں فرمایا افضل عمل ایمان باللہ ہے۔ کہیں فرمایا کہ نماز سب سے افضل عمل ہے اور کہیں جہاد فی سبیل اللہ کو افضل عمل قرار دیا تاہم یہ بھی ارشاد فرمایا کہ انسان کی زبان ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہنی چاہئے ۔ ذکر الٰہی ایک ایسی عبادت ہے۔ جس کی کوئی حد نہیں ، نماز ، روزہ ، جہاد وغیرہ سب محدود ہیں مگر ذکر الٰہی غیر محدود ہے اسی لئے فرمایا اذکروا اللہ ذکر اکثیراً اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس قدر کثرت سے یاد کرو ، ذکر الٰہی میں اتنے محور ہو کہ لوگ دیوانہ کہنے لگیں۔ اور پھر ذکر الٰہی کا صلہ یہ ملے گا۔ کہ ” لعلکم تفلحون “ تاکہ تم فلاح پا جائو۔ الغرض ذکر الٰہی کثرت سے کرو ، کیونکہ اس کی کوئی حد مقرر نہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی کی حکمت کے مطابق جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر اخلاص ، نیک نیتی اور اچھی کیفیت کے ساتھ کرتا ہے۔ تو اس کا رخ خطیرۃ القدس کی طرف ہوجاتا ہے۔ پھر اس کا تعلق روح اعظم کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے جو کہ خطیرۃ القدس میں ایک بڑی روح ہے۔ بنی نوع انسان کی یہ چھوٹی چھٹوی روحیں بڑی روح کے اعضاء وجوارح ہیں۔ اس طرح گویا ذکر الٰہی کرنے والے کا تعلق براہ راست خدا تعالیٰ کی تجلی اعظم کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ اس طرح ذاکر کی نفسیاتی کیفیت جس قدر روح اعظم کے مطابق ہوگی اسی قدر اس کو قرب الٰہی حاصل ہوگا تو ظاہر ہے کہ اس سے انسان کے اندر شائستگی پیدا ہوگی ، جس کے بغیر وہاں داخلہ ممکن نہیں۔ اگر جسم ، روح قلب یا نفس میں کسی قسم کی نجاست ہوگی تو قرب الٰہی نصیب نہیں ہو سکتا۔ یہ ملت ابراہیم کا اہم اصول ہے ۔ جس سے انسان کو تہذیب نصیب ہوتی ہے۔ الغرض ! فرمایا فاذکرونی اذکرکم پس تم مجھے یاد کرو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ یعنی میں تمہیں اس ذکر کی ہدایت اجر وثواب عطا کرتا رہوں گا ، تقریب نصیب کرتا رہوں گا حدیث شریف میں آتا ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص مجھے اپنے جی میں یاد کریگا میں بھی اس کو اپنے جی میں یاد کروں گا جس کو اللہ جل شانہ اپنے جی میں یاد کرے اس کی عظمت و فوقیت کس قدر قابل رشک ہوگی پھر فرمایا جو مجھے کسی مجمع میں یاد کرے گا ، میں اس کا ذکر اس سے بہتر مجمع میں کروں گا۔ جو شخص میری طرف چل کر آئے گا ، میں اس کی طرف دوڑ کر آئوں گا۔ یہ سب ذکر الٰہی کی برکات ہیں ۔ حضور ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا ، اے معاذ ! جب بھی نماز پڑھو۔ تو اس کے بعد یوں کہا کرو اللھم اعنی علی ذکرک وشکرک و حسن عبادتک یعنی اے اللہ ! مجھے اپنا ذکر کرنے ، شکر کرنے اور اچھے طریقے سے عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ دوسرا اصول شکر الٰہی تہذیب نفس کا دوسرا اصول یہاں پر یہ بیان فرمایا واشکرولی اور میرا شکریہ ادا کرو ولات کفرون اور میرے ناشکرگزار نہ بنو۔ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی مختلف صورتیں ہیں شکریہ زبان سے بھی ادا ہوتا ہے اور عمل سے بھی ادا ہوتا ہے ۔ مثلاً جب کوئی انسان کھانا کھاتا ہے۔ تو زبان سے الحمد للہ کہتا ہے۔ گویا اللہ کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اس سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ اگر اللہ نے اولاد دی ہے۔ تو انسان عقیقہ کر کے اللہ کا شکر گزار بنتا ہے۔ اللہ کی نعمت کا شکر یہ ادا کرتا ہے۔ اگر انسان کو حج نصیب ہو ، تو قربانی کر کے شکریہ ادا کرتا ہے۔ اگر انسان کو نیا لباس میسر آجائے تو اس کا شکریہ یہ ہے کہ پرانا لباس فی سبیل اللہ دیدے ۔ حضور ﷺ کی عادت مبارک یہی تھی۔ جب نیا کپڑا پہنا ، دعا کی اور پرانا کپڑا کسی محتاج کو دے دیا۔ اگر کسی کو اللہ نے دودھ دینے والا جانور دیا ہے۔ تو اس کا شکریہ یہ ہے کہ اس کا دودھ کبھی کبھی محتاجوں کو بھی دے دیا کرے۔ ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ اگر جانور نے کسی دن دودھ نہیں دیا تو پیڑا دم کرانے کے لئے لے آتے ہیں۔ بھائی ! تم نے اس کا دودھ محتاج کو دیکر اس کا شکریہ تو ادا ہی نہیں کیا۔ کرنے کا اصل کام تو وہ تھا۔ الغرض زبان جوارح ، مال اور عمل سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا تہذیب نفس کا دوسرا اصول ہے۔ فرمایا ولاتکفرون ناشکر گزار نہ بنو۔ ظاہر ہے کہ اگر حصول نعمت پر شکریہ ادا نہیں کیا تو گویا انسان نے اللہ کی ناشکری کی۔ ایسا شخص اتصال خطیرۃ القدس سے محروم رہ گیا۔ لہٰذا گر کامیابی کی خواہش ہے تو ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرو اور کسی صورت میں بھی ناشکر گزار نہ بنو۔
Ayahs 2:153–154

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو صبر اور نماز کے ساتھ مدد حاصل کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور نہ کہو ان لوگوں کے بارے میں مردہ جو اللہ کے راستے میں مارے گئے ہیں۔ بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تم شعور نہیں رکھتے۔

گزشتہ سے پیوستہ بنی اسرائیل کا شکوہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور خانہ کعبہ کی تعمیر کا ذکر کیا۔ پھر حضور ﷺ کی رسالت کا تذکرہ فرمایا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور ” کما ارسلنا فیکم رسلواً منکم “ اور ملت ابراہیم کا ذکر فرمایا اور اس کے بنیادی اصول بیان کئے۔ بیت اللہ شریف کے قبلہ مقرر ہونے پر یہودیوں کے اعتراضات کا تذکرہ ہوا۔ اس کا مزید بیان آگے بھی آئے گا۔ ” فاذ کرونی اذکرکم واشکروالی ولا تکفرون “ سے ایک نیا باب شروع ہوا۔ شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی اسے اپنی حکمت میں تہذیب الاخلاق سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس باب میں تہذیب الاخلاق کے بڑے بڑے اصول بیان ہوئے ہیں۔ برسر اعروج قوم کی پانچ منازل شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی کی حکمت کے مطابق کوئی بھی قوم ترقی کی پانچ منازل طے کئے بغیر برسر عروج نہیں پہنچ سکتی ۔ ترقی یافتہ قوم کی پہلی منزل تہذیب الاخلاق ہے اور دوسری تدبیر منزل تدبیر منزل کے آگے چار قانون ہوتے ہیں۔ پہلا قانون شادی بیاہ سے متعلق ہے۔ جس میں میاں بیوی کے حقوق و فرائض آتے ہیں ، دوسرا قانون والدین اور اولد کی اصلاح سے متعلق ہے۔ تیسرا قانون مالک اور مملوک کے تعلقات پر مبنی ہوتا ہے اور چوتھے قانون میں اقربا اور دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات اور ان کی اصلاح کی تدبیر ہوتی ہے۔ تہذیب الاخلاق اور تدبیر منزل کے بعد ترقی یافتہ قوم کی تیسری منزل تدبیر مدینہ ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے شہر ، بستی یا محلہ کی اصلاح مطلوب ہوتی ہے۔ اس کے بعد چوتھی منزل اصلاح ملک سے متعلق ہوتی ہے۔ اور پانچویں منزل خلافت کبریٰ کی ہے جس کے ذریعے تمام جہاد کی اصلاح مطلوب ہوتی ہے۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کو ارتفاق رابع کے اصول کے مطابق مبعوث فرمای اور اس سے مراد بین الاقوامی یعنی تمام عالم کی اصلاح ہے۔ الغرض جو قوم ترقی کے بام پر پہنچتی ہے۔ اسے بہرحال یہ پانچ منازل طے کرنا پڑتی ہیں۔ ترقی کے آخری زینہ پر پہنچنے کا مطل بیہ ہے کہ انسان میں اس قدر صلاحیت پیدا ہوجائے کہ وہ خطیرہ القدس یا بہشت بریں کا ممبر بن جائے۔ یہ انسان کی انتہائی ترقی کا مقام ہے۔ اگر وہ خطیرۃ القدس کی منزل تک نہیں پہنچ سکا تو وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ گزشتہ درس میں تہذیب الاخلاق کے پانچ اصولوں کا تذکرہ اجمالاً آ چکا ہے۔ ان میں سے دو اصول ذکر الٰہی اور شکر کا بیان گزشتہ رکوع میں آ چکا ہے ظاہر ہے کہ ان پانچ اصولوں پر عمل کئے بغیر کوئی شخص مہذب نہیں کہلا سکتا۔ موجودہ زمانے میں جس شخص کے لئے مہذب کا ہم معنی لفظ کلچرڈ (Cultured) بولا جاتا ہے۔ وہ اسلام کے اصول سے قطعاً مطابق ت نہیں رکھتا۔ بلکہ صحیح معنوں میں کلچرڈ یا مہذب اسے کہیں گے ۔ جو سالام کے قائم کردہ ان پانچ اصولوں پر پورا اترے گا۔ تہذیب الاخلاق کا تیسرا اصول صبر آیت زیر درس میں تہذیب الاخلاق کا تیسرا اصول صبر بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر و الصلوۃ اے ایمان والو صبر اور نماز کے ساتھ استعانت پکڑو۔ صبر ملت ابراہیمی کا ایک اہم اصول ہے۔ کنز العمال میں یہ حدیث موجود ہے ، جسے امام غزالی نے احیاء العلوم میں اور دوسرے علماء نے بھی نقل کیا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ صبر کا معنی کسی چیز سے رک جانا یا کسی شے کو برداشت کرنا ہے اور اس کے تین مادے ہیں ، صبر علی المصیبت ، صبر علی الطاعتہ اور صبر عن المعصیۃ صبر علی المصیبت یہ ہے کہ اہل ایمان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے۔ کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو وہ اسے من جانب اللہ سمجھ کر اس پر صبر کرتے ہیں اور اس کے جواب میں ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کہتے ہیں ، ایسے شخص کا تعلق باللہ مضبوط ہوتا ہے۔ اسی لئے ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے۔ ومن الیقین ماتھون بہ علینا مصائب الدنیا حضور ﷺ نے امت کو یہ دعا سکھائی کہ اے اللہ یقین میں اس قدر درجہ عطا کر کہ دنیا کی مصیبتیں ہلکی ہوجائیں۔ ایسا شخص ہر تکلیف پر یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اسی میں ہے۔ اسی کا ارادہ اور مشیت کام کر رہی ہے۔ وہ ہر تکلیف کو خوشی سے برداشت کرے گا ، اس پر جزع فزع نہیں کرے گا۔ نہ چیخے چلائے گا اور نہ کوئی واویلا کریگا۔ یہ اس کے تعلق باللہ کی نشانی ہے۔ اس کی مزید تشریح یوں بیان فرمائی الصبر عند صدمۃ الاولی کسی مصیبت کی ابتداء میں صبر کرنا ہی صبر کی علامت ہے۔ وگرنہ جب تکلیف کا سامنا کرتے ہوئے انسان تھک جاتا ہے اور تمام وسائل سے مایوس ہوجاتا ہے ، تو پھر صبر کرنا ہی پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی اطاعت پر صبر کرنا صبر علی الطاعتہ کہلاتا ہے ظاہر ہے کہ کوئی کام بھی بغیر حوصلہ اور برداشت کے انجام نہیں پا سکتا۔ گرمی سردی میں وضو کے لئے تکلیف اٹھانا پڑتی ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ بہت بڑی مشقت کا کام ہے۔ حج وعمرہ میں تکالیف برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ غرضیکہ اطاعت کا کوئی بھی کام صبر کے بغیر پایہ تکمیل نہیں پہنچ سکتا۔ صبر عن المعصیت یہ کہ جب نفسانی خواہشات سامنے آئیں تو انسان ان پر کنٹرول کرے اور اپنے نفس کو معصیت سے روکے جو شخص حرص و ہوا کا بندہ ہوجاتا ہے۔ وہ ہر نفسانی خواہش کے آگے جھک جاتا ہے۔ اور اس طرح معصیت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ یہی وہ موقع ہے۔ جب انسان صبر عن المعصیت کا دامن پکڑ لیتا ہے اور کامیابی سے ہم کنار ہوجاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے انما یو فی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ یعنی اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بغیرحساب اجر عطا کرے گا۔ طبرانی شریف کی روایت میں آتا ہے۔ الصبر نصف الایمان صبر نصف ایمان ہے۔ بعض روایات 1 ؎ میں آتا ہے الصبر من الایمان بمنزلۃ الراس من الجسہ صبر کا تعلق ایمان کے ساتھ ایسا ہے جیسا سر کا تعلق جسم کے ساتھ ہے ، جسم سے سر علیحدہ ہوجائے تو جسم بیکار ہوجاتا ہے اسی طرح اگر صبر کا مادہ مفقود ہوجائے تو ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ صبر ایسا قیمتی اصول ہے کہ اس کے متعلق فرمایا لا ایمان لمن لا صبرلہ جس نے صبر کا دامن چھوڑ دیا ، اس کا ایمان باقین ہیں رہا۔ اس کا ایمان ڈانواں ڈول ہوگیا۔ اسی لئے فرمایا کہ اے ایمان والو ! صبر کے ساتھ مدد حاصل کرو ، یعنی اس پر کاربند ہو جائو۔ کوئی مشکل درپیش ہو ، اطاعت کا محل ہو یا معصیت سے رکنے کا موقع ہو ، ہر حالت میں صبر کا دامن تھامے رکھو۔ تہذیب الاخلاق کا یہ تیسرا اصول ہے۔ تہذیب الاخلاق کا چوتھا اصول نماز فرمایا اے ایمان والو ! استعانت حاصل کرو صبر اور نماز کے ساتھ ظاہر ہے کہ جس شخص میں نماز کی روح پیدا ہوگی اس میں توحید کا اعلیٰ مقام پیدا ہوگا۔ ایسے شخص کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست ہوجائے گا۔ اس کو بلند مقام حاصل ہوگا۔ نماز کے متعلق اللہ نے فرمایا اقم الصلوۃ لذکری “ میری یاد آوری کے لئے نماز قائم کرو۔ اس سے اخبات حاصل ہوگا۔ فرمایا وربک فکبر اپنے رب کی تکبیر بیان کرو ورثیابک فطھر “ اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھو طہارت قائم رکھنا فرشتوں سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ نماز کے لئے 1 ؎ قرطبی 373/ج 1 (فیاض) بمنزلہ شرط کے ہے۔ ” اخبتوآ الی ربھم “ نماز میں اخبات پایا جاتا ہے جو کہ بہت بڑی صفت ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم ہوتا ہے۔ نماز افضل العبادات ہے۔ جب انسان دنیوی امور میں پڑ کر اللہ سے غافل ہوجاتا ہے تو نماز اس کا تعلق اللہ سے پھر قائم کردیتی ہے۔ انسان کا تعلق خطیرۃ القدس سے جڑ جاتا ہے۔ نماز کو بار بار قائم کرنے سے انسان کی غفلت دور ہوجاتی ہے۔ اور تعلق باللہ قائم رہتا ہے۔ فرمایا اللہ مع الصبرین بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا ، خوشنودی اور اعانت صابروں کے ساتھ ہے الغرض ! ذکر ، شکر ، صبر ، دعا اور تعظیم شعائر اللہ تہذیب الاخلاق کے بڑے بڑے اصول ہیں ۔ ان میں سے ہر اصول اہم ہے۔ فرمایا یہود و نصاریٰ کے اعتراضات کی پروا نہ کریں ” فلا تخشوھم واخشونی “ آپ ان سے خوف نہ کھائیں۔ بلکہ صرف میرا خوف دل میں رکھیں۔ ان کے باطل اعتراض پر صبر سے کام لیں۔ ” واصبر وما صبرک الا باللہ “ صبر بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی حاصل ہوگا۔ دوسری جگہ فرمایا۔ ” ان تصبروا وتتقوا “ اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ کی راہ اختیار کرو گے ” ان ذلک من عزم الامور “ یہ پختہ بات ہے ۔ فلاح نصیب ہو جائیگی۔ جس شخص یا جماتع میں صبر کی روح پیدا ہوجائے گی۔ نماز پر استقامت ہو جائیگی وہ شخص یا جماعت کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوگی۔ اسی طرح جب دشمن سے ٹکر انے کا موقع آئے گا۔ تو جذبہ جہاد کام آئے گا اور اس موقع پر اگر جان بھی چلی جائے ، تو انسان فنا نہیں ہوتا بلکہ اسے دائمی حیات نصیب ہوجاتی ہے۔ انسان اس خلفشار کی زندگی سے نکل کر بلند تر زندگی میں داخل ہوجاتا ہے جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر اور اس کے دین کی تقویت کے لئے مارا گیا ، وہ شہید ہوگیا اور کامیاب ہوگیا۔ شہادت فی سبیل اللہ کے راستے میں جان دینے والوں کو مردہ مت کہو بل احیاء بلکہ وہ زندہ ہیں اس میں شک نہیں کہ ان کا ظاہری جسم تو مر جاتا ہے۔ اس کی مادی حیات ختم ہوجاتی ہے۔ مگر شہید کو اگلے جہان میں اعلیٰ تر زندگی حاصل ہوجاتی ہے۔ انہیں انبیاء (علیہ السلام) جیسی اعلیٰ زندگی نصب ہوتی ہے۔ دنیا کی زندگی تو بہرحال ختم ہونے والی ہے۔ وہ نہایت فائق اور اعلیٰ تر ہوتی ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ انسان جسم اگرچہ بالطبع فانی ہے۔ مگر بعض اوقات شہدا کے جسم میں بھی محفوظ رہتے ہیں اور ان پر زمانے کے تغیر و تبدل اور مٹی کا اثر نہیں ہتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کے اجسام کے متعلق تو واضح طور پر موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے جسموں کو کھا جائے۔ مگر بعض اوقات شہداء کے جسم بھی اللہ کے حکم سے محفوظ رہتے ہیں۔ چند سال پہلے تاتاریوں کے علاقہ میں چھ سات سو سال پرانے شہدا کے جسم بالکل صحیح وسالم برآمد ہوئے ہیں۔ جو اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ چاہے تو شہد ا کے اجسام کو بھی آنچ نہ آنے دے۔ تاہم یہ کلی اصول نہیں ہے۔ البتہ عالم برزخ میں شہدا کو اعلیٰ درجے کی زندگی نصیب ہوتی ہے ، برزخ کی زندگی تو ہر نیک و بد اور مومن و کافر کو حاصل ہے۔ مگر شہداء کی زندگی نہایت اعلیٰ وا ارفع ہے سورة آل عمران میں آتا ہے کہ شہدا کو عیش کے سامان نصیب ہوتے ہیں۔ اعلیٰ درجے کی خوراک حاصل ہوتی ہے۔ اس لئے انہیں مردہ مت کہو۔ انہیں اعلیٰ درجہ کی زندگی حاصل ہوتی ہے۔ اگر چہ مادی زندگی کے اعتبار سے انہیں مردہ بھی کرسکتے ہیں۔ مگر اپنی اعلیٰ وارفع اور دائمی زندگی کی بنا پر وہ زندہ جاوید ہیں۔ شعور کا فقدان فرمایا ولکن لاتشعرون اے لوگو ! تم شہداء کی زندگی کا شعور نہیں رکھتے ۔ وجہ یہ ہے کہ انہیں جو دائمی زندگی حاصل ہوئی ہے وہ اس جہاں سے الگ ایک دوسرا جہان ہے جو تمہارے فہم و ادراک سے بالا ہے۔ آپ اس مادی جہاں کی چیزوں سے واقف ہیں۔ اس کی اشیاء آپ آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں کان سے سن سکتے ہیں۔ عقل سے سمجھ سکتے ہیں۔ مگر اگلے جہان کی چیزوں کو نہ تم دیکھ سکتے ہو ، نہ تمہارے اکن اس کی سماعت کی تاب لاسکتے ہیں اور نہ تمہاری عقل انہیں سمجھنے کے قابل ہے۔ اس جہان کی چیزوں کو وہاں جا کر ہی دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ امام غزالی فرماتے ہیں لوگ کہتے ہیں عذاب قبر سمجھ میں نہیں آتا حالانکہ یہ آنکھ اس قابل نہیں ہے کہ عالم ملکوت کی چیزوں کو دیکھ سکے۔ یہ تمام چیزیں اگلے جہان میں موجود ہیں ، مگر ہمیں نظر نہیں آتیں۔ ان کا ادراک وہاں پہنچ کر ہی ہوگا اب تو صرف آسمان نظر آتا ہے مگر قیامت والے دن اوپر کی تمام اشیاء نظر آنے لگیں گی ، اوپر کے تمام پردے کھول دیئے جائیں۔ عرش الٰہی نظر آجائے گا جن اور فرشتے بھی نظر آئیں گے۔ اسی لئے فرمایا کہ تمہاری مادی نظریں اور دماغ اگلے جہان کی چیزوں کے ادراک کا شعور نہیں رکھتے۔
Ayahs 2:155–157

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور البتہ ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ خوف ، بھوک ، مالوں ، جانوں ، اور پھلوں کے گھاٹے سے اور آپ صبر کرنیوالوں کو خوشخبری سنا دیں

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ کے لئے اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانیوالے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں کہ ان پر عنایتیں ہیں ان کے رب کی طرف سے اور مہربانی ہے اور یہی لوگ ہیں ( ہدایت پانے والے)

گزشتہ سے پیوستہ ترقی کے لئے جن منزلوں کو طے کرنا پڑتا ہے ، اس میں تہذیب اخلاق اور اس کے اصولوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے اللہ کے ذکر اور شکر کا تذکرہ ہوا اور پھر تیسرے بڑے اصول صبر کا بیان ہے ، چوتھا اصول۔ دعا ہے جس کا ذکرانا للہ وانا الیہ راجعون میں اجمالی طور پر کیا گیا ہے اور اصل دعا اور نماز کا تعلق بھی اسی سلسلے سے ہے۔ صبر کی قوت اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے صبر کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے اور اس کی فضیلت بیان ہے ان اللہ مع الصبرین ارشاد ہوا کہ ان کو مردہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا شعور نہیں۔ یہ صبر کی عظمت سے ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ کے راستے میں موت جیسی بڑی مصیبت کو بھی بخوبی برداشت کرنا ہے۔ تو یقین ہے کہ ایسے شخص کو حیات جاوداں نصیب ہوجاتی ہے اور یہ بڑی راحت والی زندگی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہید کے لواحقین بھی یہ صدمہ برداشت کرتے ہیں جس کے بدلے میں انہیں زندگی میں عزت حاصل ہوتی ہے اور وہ ترقی کے منازل طے کرتے ہیں۔ گویا تہذیب الاخلاق کے ضمن میں صبر کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ لہٰذا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق موت جیسی بڑی مصیبت کو برداشت کیا وہ تہذیب الاخلاق کا مالک بن گیا۔ آزمائش مقتضائے ایمان ہے موت جیسی بڑی عصیبت کے تذکرہ کے بعد درس آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعض چھوٹی چھوٹی مصیبتوں کا ذکر فرمایا کا ذکر فرمایا کہ ہم ان کے ذریعے بھی تمہیں آزمائیں گے فرمایا ولنبلونکم ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے اور یہ آزمائش مفتضائے ایمان ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے مومن لوگ یہ تصور کریں کہ وہ محض کلمہ پڑھ کر بغیر امتحان کے کامیابی حاصل کرلیں گے بلکہ فرمایا ہم ضرور انہیں امتحان سے گذاریں گے۔حضور ﷺ کا بھی ارشاد مبارک ہے۔ یبتلی الرجل بقدر دینہ آدمی کا امتحان اس کے دین کے مرتبہ کے مطابق ہوتا ہے۔ جس قدر اس کا دین مضبوط ہوگا اسی قدر اس کی آزمائش بھی کڑی ہوگی اور اگر دین کمزور ہے تو آزمائش بھی کمزور ہوگی ۔ مگر آزمائش سے خالی کوئی نہیں۔ بہرحال ایمان کا تقاضا ہے کہ آزمائش آئے اب یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر منحصر ہے کہ وہ کسی شخص کی آزمائش کس طریقہ سے کرتا ہے ۔ اس کے مختلف طریقے ہیں ۔ جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ ذرائع آزمائش فرمایا ولنبلونکم بشیء ہم تمہیں کسی نہ کسی چیز سے ضرور آزمائیں گے اور وہ کون سی چیزیں اور کون سے ذرائع ہیں جن سے آزمائش ہوتی ہے۔ خوف فرمایا من الحخوف منجملہ ان ذرائع کے ایک ذریعہ خوف ہے۔ یعنی تم پر خوف طاری کردیں گے۔ جس سے انسان مصیبت میں مبتلا ہوجائے گا۔ خوف بالعموم بیرونی اسباب سے ہوتا ہے ۔ مثلاً کسی بیرونی دشمن کا خوف مسلط کردیں گے۔ جس سے زندگی کا لطف برباد ہوجائے گا۔ اہل مکہ کے متعلق سورة قریش میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قریش پر اتنا احسان فرمایا کہ ” اطعمھم من جوع وامنھم من خوف یعنی انہیں بھوک سے نجات دلانے کے ساتھ ساتھ انہیں خوف سے بھی مامون رکھا وہ لوگ نہایت امن وامان کی زندگی بسر کرتے تھے۔ بیت اللہ شریف کے متولی ہونے کی بناء پر نہایت با عزت مقام حاصل تھا اور وہ ہر قسم کے بیرونی خطرات سے محفوظ تھے۔ خوف ایک ایسی چیز ہے ۔ جس کی موجودگی میں زندگی کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔ تجارت ، زراعت ، صنعت و حرفت ہر چیز خوف کی زد میں آ کر اپنا مقام کھو بیٹھتی ہے ۔ جنگ کے موقع پر دیکھ لیں۔ دھیان ہر وقت اسی طرف رہتا ہے۔ کہیں گولہ باری کا خطرہ ہے کہیں ہوائی حملہ ہو رہا ہے۔ سائرن بج رہے ہیں۔ لوگ پناہ گاہوں کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ عجیب افراتفری کا عالم ہوتا ہے پوری زندگی معطل ہو کر رہ جاتی ہے ۔ جس سے ملکی معیشت تباہ ہوجاتی ہے۔ زندگی کا سکون ختم ہوجاتا ہے اور لوگ ہر آن نئی مصیبت کے منتظر رہتے ہیں اسی کو فرمایا کہ ہم خوف کے ذریعے تمہاری آزمائش کریں گے۔ بھوک والجوع آزمائش کا دوسرا ذریعہ بھوک ہے۔ انسان زندگی کا انحصار اس کی خوراک پر ہے۔ غذا کا حصول انسان کا طبعی اور فطری حق ہے۔ انسانوں کے علاوہ حیوانات ، کیڑے مکوڑے ، چرند ، پرند ، خشکی اور پانی کے تمام جانداروں کی زندگی خوراک سے وابستہ ہے۔ حتیٰ کہ انبیاء علیہم اسللام جیسی مقدس ترین ہستیوں کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” وما جعلنھم جسدالایاکلون الطعام “ یعنی ہم نے انبیاء کے جسم بھی ایسے نہیں بنائے جنہیں غذا کی ضرورت نہ ہو۔ بلکہ وہ بھی کھانا کھاتے ہیں۔ ان کو بھی بھوک احساس ہوتا ہے بھوک کی وجہ سے بعض اوقات وہ بھی مضطرب ہوجاتے ہیں۔ غزوہ خندق کے موقع پر خود خاتم النبین ﷺ نے بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھے۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ بھوک کی وجہ سے ہم نے حضور ﷺ کو بےچین ہوتے ہوئے بھی دیکھا بعض اوقات بھوک کا اتنا غلبہ ہوتا کہ سیدھے بیٹھ بھی نہ سکتے بلکہ ٹیک لگانا پڑتی ۔ الغرض چونکہ خوراک ہر ذی جان کے لئے لازمی ہے۔ لہٰذا اس کے بغیر اس کا اضطرار بھی ضرو ری ہے۔ ……… اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بسا اوقات ہم انسان و حیوان کی خوراک روک کر اور اسے بھوک میں مبتلا کر کے اس کی آزمائش کرتے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بھوک دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک اضطراری اور دوسری اختیاری ، پانی اور خوراک کی قلت اضطراری بھوک ہے ، اور اس کا مظاہرہ دنیا میں ہوتا رہتا ہے۔ قحط سالی کی وجہ سے خوراک پیدا ہی نہیں ہوتی یا کوئی بیرونی آفت مثلاً طوفان یا زلزلہ وغیرہ کے ذریعے اس کے ذخائر تباہ ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے خوراک کا حصول ممکن نہیں رہتا اور لوگ آزمائش میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ قریبی زمانہ میں بنگال کا مشہور قحط واقع ہوا۔ آج سے تقریباً 35 سال قبل اس قحط کی وجہ سے نوے لاکھ انسان لقمہ اجل بنے۔ چھوٹے چھوٹے سیلاب تو اکثر ساحلی علاقوں میں آتے رہتے ہیں۔ جس سے سینکڑوں اور ہزاروں جانیں تلف ہوجاتی ہیں۔ یہ اضطراری بھوک ہے اور آزمائش کے لئے وارد ہوتی ہے۔ بھوک کی دوسری صورت اختیاری ہے جیسے اہل ایمان کے لئے ماہ رمضان میں روزوں کی فرضیت مسلمان خود اس بھوک کو اختیار کر کے آزمائش خداوندی پر پورا اترتے ہیں۔ جان و مال کا نقصان فرمایا آزمائش کی تیسری صورت ونقص من الاموال والانفس یعنی مال و جان کا نقصان ہے۔ انسانی معیشت کا دار و مدار انہی دو چیزوں پر ہے۔ انسان مال کے ساتھ کاروبار کرتا ہے۔ تجارت ، حرفت یا زراعت کرتا ہے اور یہ امور انجام دینے کے لئے افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا اگر جان یعنی افرادی قوت اور مال یعنی روپیہ پیسہ ، گائے بیل ، بھینس ، اونٹ بکری وغیرہ میں کمی آجائے گی تو انسانی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ لہٰذا یہ بھی آزمائش کا ذریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم جان و مال میں کمی کر کے بھی لوگوں کا امتحان لیتے ہیں۔ آفات ارضی و سمادی مال و جان میں نقصان کا ذریعہ ہیں۔ بسا اوقات مہلک وبائی امراض مثلاً طاعون ، ہیضہ ، تپ محرقہ وغیرہ انسانی زندگی کے اتلاف کا سبب بنتی ہیں۔ یا پھر زلزلہ ، طوفان اور سیلاب وغیرہ کے ذریعے جانی و مالی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کا ذریعہ ہیں۔ ثمرات کی کمی آزمائش کا چوتھا ذریعہ فرمایا والتمرات پھل ہیں کہ بعض اوقات پھلوں میں کمی کے ذریعے بھی آزمائش آتی ہے۔ کسی سال فصلوں میں غلہ یا درختوں پر پھل زیادہ آتا ہے ، کسی سال کم آتا ہے اور کسی سال بالکل نہیں آتا۔ غلہ اور پھلوں کی فراوانی یا کمی قبضہ قدرت میں ہے۔ لہٰذا یہ بھی آزمائش کا ایک ذریعہ ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ خوف سے مراد دشمن کا خوف ہے۔ بھوک سے مراد اختیاری بھوک یعنی عبادت ، ریاضت اور روزہ کا حکم ہے اور مال و جان کی کمی سے مراد راس المال کی کمی ہے۔ جس کے ذریعے انسان کام کاج کرتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ پھلوں میں کمی سے مراد انسانی اولاد میں کمی ہے۔ اولاد انسان کا ثمرہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات افزائش نسل انسانی میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ پھل سے مراد درختوں کا پھل بھی ہے اس میں بھی کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ تاہم امام شافعی نے پہلی تاویل کو اختیار کیا ہے۔ یعنی ثمرات میں کمی سے مراد نسل انسانی میں کمی ہے۔ اور اس کی تصدیق حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے۔ حضور ﷺ فرماتے کہ جب کسی کا بیٹا فوت ہوجاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ قبضتم روح ابن عبدی کہ تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کرلی ہے فرشتے عرض کرتے ہیں کہ یا مولا کریم ہم نے تیرے حکم کے مطابق ایسا کیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اخذتم ثمرۃ قلبہ تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا ہے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں۔ ہاں ہم نے لے لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ پھر پوچھتے ہیں کہ ایسا کرنے پر میرے بندے نے کیا کہا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ بندے نے حمد واسترجع تیری تعریف کی اور انا للہ کہا۔ اس پر اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہو کر کہتا ہے کہ اس کے لئے بہشت میں ایک خاص کوٹھی اور ایک جگہ بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو ۔ یہ اس بندہ مومن کا انعام ہے اس سے معلوم ہوا کہ ثمرہ سے مراد اولاد بھی ہے۔ صابروں کے لئے بشارت اللہ تعالیٰ نے ان مختلف قسم کی آزمائشوں کا ذکر فرمایا اور مقصود اس سے یہ ہے کہ ان آزمائشوں میں پورا اترنا یعنی ہر مصیبت پر صبر و شکر کا دامن تھامے رکھنا ہی انسانیت کی معراج ہے جو شخص تکلیف آنے پر اسے برداشت کرتا ہے جزع و فزع یا کوئی خلاف شرع حرکت نہیں کرتا ، صبر کا پورا پورا حق ادا کرتا ہے تو ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وبشر الصبرین ایسے صابر و شاکر لوگوں کو خوشخبری سنا دو کہ فلاح و کامیابی ان کے مقدر میں ہوچکی ہے اور وہ کون لوگ ہیں جنہیں یہ بشارت دی جا رہی ہے۔ الذین اذا اصابتھم مصیبۃ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے قالوا تو کہتے ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون ہم سب خدا کا مال ہیں اور پھر لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے ۔ مقصد یہ کہ ہم سب اللہ کی مخلوق ہیں ہماری جانیں اور مال اللہ ہی کا دیا ہوا ہے یہ سب اسی کی مہربانی کا مرہون منت ہے اور نہ ہمارا تو کچھ بھی نہیں ہے دوسری جگہ فرمایا ” للہ ما فی السموت وما فی الارض “ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی عطا کردہ ہے۔ بقول اکبر الہ آبادی ہمارا تو صرف وہم و گمان ہی ہے۔ باقی ہر چیز اللہ کی ہے۔ وہ مالک و مختار ہے اپنی ملکیت میں جب اور جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ان للہ ما اعطی ولہ ما اخذرکل شیء عندہ باجل مسمی سب کچھ اسی کا ہے۔ جب چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اٹھا لیتا ہے زندگی ایک غیر اختیاری چیز ہے وہ جب اور جتنی چاہتا ہے دیتا ہے اور جب چاہتا ہے لے لیتا ہے۔ جسم و جان اور موت وحیات کا مالک تو وہی ہے لہٰذا جب کسی مومن کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ انا للہ کہہ کر اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ یہ مال و دولت اسی کا عطا کردہ ہے ، وہ جب چاہے لے لے۔ لہٰذا وہ کسی قسم کے نقصان پر چیخ و پکار یا واویلا نہیں کرتا ، بلکہ صبر سے کام لیتا ہے اور ایسے یہ صابرین کے لئے اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہے۔ مصیبت کے وقت رونا پیٹنا ، نوحہ کرنا ، بالوں کو نوچنا یا گا لیں پیٹنا ہرگز ایمان کا جزو نہیں ہے حضور ﷺ نے عورتوں سے بیعت لیتے وقت عہد لیا تھا کہ رونا پیٹنا ناجائز ہے ، نوحہ کرنا حرام ہے ، ایسا ہرگز نہ کرنا ، البتہ غم واندوہ سے کسی کے آنسو بہہ نکلیں تو یہ ایک فطری امر ہے اور درست ہے مگر چیخ و پکار کرنا خلاف طبع اور ناجائز ہے۔ اس سے بچنا چاہئے۔ مصیبت کے وقت صبر کرنا اور انا للہ کہ دنیا گویا اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر رضا مندی کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے جو بھی پسند فرمایا ہے میں اس پر راضی ہوں۔ اگر اللہ ہم سے راضی ہوگیا ، تو یہ اجر وثواب کا باعث ہوگا۔ اور وہ ناراض ہوگیا۔ تو ہم یقینا تباہ و برباد ہوجائیں گے کیونکہ لوٹ کر بھی اسی کے پاس جانا ہے اسی کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے اس کے علاوہ اور کوئی مقام نہیں چناچہ صبر کا قانون بتلا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر رضای ہوجانا چاہئے حضرت عبداللہ بن معسود فرماتے ہیں کہ میں آسمان سے گر جائوں ، زمین پر ہلاک ہو جائوں یہ بات میرے لئے اس بات سے بہتر ہے کہ خدا تعالیٰ کے کسی فیصلہ کے متعقل میں یوں کہوں کہ یہ مجھے پسند نہیں۔ بلکہ اللہ کے ہر فیصلے پر رضای ہوجانا چاہئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ جو خدا کے فیصلے پر راضی ہوجائے گا ، اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوگا اور جو شخص خدا کے کسی فیصلہ پر ناراض ہوگا ، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ناراض ہوجائے گا۔ ظاہر ہے کہ جس شخص سے اللہ ناراض ہوگا ، اس کا حشر کیا ہوگا۔ امام ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ ان آیات سے واضح ہے کہ رضا بالقضا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر راضی ہوجانا چاہئے اور صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ فرماتے ہیں کہ ان آیات سے دو احکام مترشح ہوتے ہیں یعنی فرض اور نفل ۔ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر رضای ہوجانا فرض حکم ہے اور ہر مصیبت پر انا للہ وانا الیہ راجعون کہنا نفلی حکم ہے۔ حضور ﷺ نے یہ دعا سکھائی اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلفی خیرامنھا یعنی اے اللہ ! مصیبت میں مجھے اجر عطا فرما اور سا کا مجھے بہتر بدلہ عطا کر۔ یہ ایمان والوں کی نشانی ہے کہ وہ ہر مصیبت پر اس طرح کے کلمات کہ کہ راضی برضا ہوجاتے ہیں تکلیف خواہ چھوٹی ہو یا بڑی ، اس پر صبر کرنا اور کلمات خیر کہنا ایمان کی نشانی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے یا ٹھوک لگ جائے تو اس پر بھی انا للہ پڑھنا چاہئے تاکہ اللہ کی رضا پر راضی ہونے کی سند حاصل ہوجائے۔ صلہ صبر فرمایا صبر کرنے والے اور اللہ کی رضا پر راضی ہونے والے لوگوں کا صلہ یہ ہے اولئک علیھم صلون من ربھم و رحمۃ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر رب تعالیٰ کی عنایتیں اور مہربانی ہے مولانا شاہ اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ صلوۃ سے مراد خاص رحمت اور مہربانی ہے اور رحمت سے مراد عام مہربانیاں ہیں۔ شاہ رفیع الدین فرماتے ہیں کہ صلوت سے مراد وہ عنایتیں اور مہربانیاں ہیں جو انسانوں کو انبیاء (علیہم السلام) کی وساطت سے پہنچتی ہیں اور رحمت وہ مہربانی ہے جو انسانوں کو اللہ کے فضل سے پہنچتی ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کی حکمت کے مطابق صلوۃ جیسی بلند پایہ رحمت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بندے کا اتصال خطیرۃ القدس جیسے بلند پایہ مقدس مقام سے ہوجاتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی تجلی اعظم پڑتی ہے۔ اس طرح گویا اس کا رابطہ خدا تعالیٰ سے قائم ہوجاتا ہے اور اسے بڑی بلندی اور ترقی نصیب ہوتی ہے۔ واولئک ھم المھتدون اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ انہیں یہ مقام اسی لئے حاصل ہوتا ہے کہ وہ صراط مستقیم کے رایہ ہوتے ہیں اور اسی سیدھے راستے پر چل کر اعلیٰ مقام حاصل کرتے ہیں۔